بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 30 كانون1/ديسمبر 2014 12:40

حسبنا اللہ و نعم الوکیل

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکتر عبد الباری بن عواض ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبيتی  نے 04- ربیع الاول- 1436کا خطبہ جمعہ " عظیم ذکر: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے اس عظیم ذکر کا معنی اور مفہوم بیان کیا، اور بتلایا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ انکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی مشکل اوقات میں یہ ذکر کیا، اور آخر میں یہ بھی بتلایا کہ مسائل کے حل کیلئے اس ذکر کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں، وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، نعمتیں چاہیں تھوڑی ہو یا زیادہ حمد و شکر اسی کا بجا لاتا ہوں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے جسے چاہا اس مبارک دن میں وافر اجر حاصل کرنے کی توفیق دی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، آپ فرمایا کرتے تھے: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" ،اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل پر، اور حق کے بہترین راستے پر چلنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران : 102]

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" بہت ہی عظیم جملہ ہے، جلیل القدر معانی ، خوبصورت مضمون، اور طاقتور تاثیر پر مبنی ہے۔

"اَلْحَسِیْبُ" وہ ہے جو تمہارے سانس بھی گنتا ہے، جو اپنے فضل و کرم سے تمہاری مشکل کشائی فرما دے، جس سے خیر کی امید کی جائے، جس کے فضل و کرم کے بعد کسی کی ضرورت نہ ہو، جو اپنی طاقت سے ہر مصیبت ٹال دے۔

"اَلْحَسِیْبُ" وہ ذات جس کے سامنے ضروریات پیش کی جائیں تو فوراً پوری کر دے، اور جب کسی کے بارے میں فیصلہ کرے تو اٹل اور نا قابل تردید ہو۔

"وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيْباً" کا مطلب یہ ہے کہ: جن جزئیات اور مقداروں کے بارے میں لوگ حساب لگانے کے بعد سراغ لگا پاتے ہیں ، اللہ تعالی ان جزئیات اور مقداروں کو بغیر حساب کے جانتا ہے۔

"وَمَن يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی دین و دنیا کے تمام امور میں کافی ہے، وہ انسان کے ہر غم اور مستقبل کے منصوبوں کیلئے کافی ہے۔

کوئی بھی ضرورت پوری ہو؛ حقیقت میں اللہ کی وجہ سے ہوتی ہے، اگرچہ ظاہری طور پر کوئی مخلوق ہی ذریعہ بنتی ہے، لیکن حقیقت میں مخلوق ذریعے سے پوری ہونے والی ضرورت بھی اللہ کی طرف سے پوری ہوتی ہے۔

"وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" توکّل کیلئے وہی بہترین ہے، چاہے حاجت روائی ہو یا مشکل کشائی سب میں وہی بہتر سے بھی بہترین ہے۔

" اَلْوَكِيْلُ " اسے کہتے ہیں جو سب جہانوں کی تخلیق، تدبیر، رہنمائی، اور تقدیر کا ذمہ دار ہے۔

"اَلْوَكِيْلُ " وہ ذات ہے جو احسان کرتے ہوئے اپنے بندوں کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی انہیں ضائع نہیں ہونے دیتا، اور انہیں تنہا بھی نہیں چھوڑتا، بلکہ انہیں کسی اور کے سپرد بھی نہیں کرتا؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے: (اَللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُوْ، فَلَا تَكِلْنِيْ إِلَى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ) "یا اللہ! تیری ہی رحمت کا امیدوار ہوں، لہذا مجھے ایک لمحے کیلئے بھی میرے سپرد مت فرمانا" یعنی: مجھے میرے حوالے مت کرنا؛ کیونکہ جسے خود کے حوالے کر دیا گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔

" حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " یعنی : اللہ پر توکّل ، اور اسی کے سامنے گڑگڑانے والے کیلئے اللہ کافی ہے، وہی دہشت زدہ کو امن نصیب فرماتا ہے، طالبِ پناہ کو پناہ دیتا ہے، وہی بہترین والی، اور بہترین مدد گار ہے؛ لہذا جو بھی اسے اپنا والی بنائے، اسی سے مدد طلب کرے، اسی پر توکل ہو، اور مکمل طور پر اسی کی طرف یکسو ہو جائے ؛ تو اللہ بھی اسکا والی بن کر اسکی مکمل حفاظت فرماتا ہے، جو صرف اللہ سے ڈرے اور تقوی اختیار کرے؛ اسے ہر دہشت و ڈر سے امن فراہم کرتا ہے، اور اس کی ضرورت کے مطابق ہر مفید چیز مہیا کرتا ہے، اللہ تعالی کافرمان ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا[2] وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} جو کوئی تقوی الہی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اس کیلئے [ہر مشکل سے] نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے [2] اور اسے ایسی جگہ سے رزق عنائت فرماتا ہے، جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو شخص اللہ تعالی پر توکّل کرے، تو وہی اسے کافی ہے۔[الطلاق : 2-3] اس لئے اللہ تعالی کی طرف سے مدد، رزق، اور عافیت کو لیٹ مت سمجھو ؛ کیونکہ اللہ تعالی اپنے معاملات منطقی انجام تک ضرور پہنچاتا ہے، تاہم اللہ تعالی نے ہر چیز کیلئے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے جس وقت سے کوئی چیز آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ}اے نبی! آپکو اور آپکے مؤمن پیروکاروں کو اللہ تعالی ہی کافی ہے۔ [الأنفال : 64] یعنی: آپکو اور آپکے ماننے والوں کو اللہ تعالی کافی ہے۔

{أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ}کیا اللہ تعالی اپنے بندے کو کافی نہیں!؟ [الزمر : 36] اور اللہ تعالی کو اپنے لئے کافی سمجھنے کا راز بندگی ہے؛ چنانچہ جس قدر اللہ کی بندگی میں اضافہ ہوگا ، اللہ تعالی اپنے بندے کو اتنا ہی کافی ہوگا، لہذا تم اللہ کی بندگی زیادہ سے زیادہ کرو، اللہ تعالی تمہیں اتنا زیادہ کافی ہوگا، اور تمہاری حفاظت فرمائے گا۔

" حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " یہ جملہ بندے کیلئے سنگین بحرانوں ، اور شدید مصیبت کی صورتِ حال میں ملجا و ماوی ہے، یہ جملہ مادی قوت ، اور زمینی اسباب سے بھی طاقتور ہے، ایک مسلمان کا اگر مال چھن جائے ، واپس لینے کی سکت نہ ہو، کوئی مدد گاربھی نہ ہو، تو پریشانی میں یہی کام آتا ہے، یہی جملہ مصیبت بھلانے کا باعث ہے، اور تکالیف سے بچنے کا مضبوط قلعہ ہے، بشرطیکہ کہ پختہ یقین کے ساتھ یہ جملہ کہے، اور یہ عقیدہ اپنائے کہ : تکلیف سے بچنے کی طاقت صرف اللہ دے سکتا ہے، اور خیر حاصل کرنے کی طاقت بھی صرف اللہ دے سکتا ہے۔

اور اگر بندہ   مصیبتوں کے پہاڑ گرنے پر یہ کہہ دے: "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " تو اسکا دل اللہ کے سوا ہر چیز سے خالی ہو جاتا ہے، اور مصیبت زدہ شخص پختہ یقین کی فضا میں دل سے یہ محسوس کرتا ہے کہ تمام معاملات کی باگ ڈور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، (فَسُبْحَانَ ذِيْ الْمَلَكُوْتِ، وَسُبْحَانَ ذِيْ الْجَبَرُوْتِ، وَ سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ)یعنی: "پاک ہے بہت بڑی بادشاہت والا، پاک ہے وہ عظیم طاقت والا، پاک ہے ہمیشہ سے زندہ رہنے والا جسے کبھی موت نہیں آئے گی" تو اس پر مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ ٹوٹ جائیں سب ہوا ہو جاتے ہیں، اسی لئے آل فرعون کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے نے کہا تھا: {وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ}میں اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر رہا ہوں، بیشک اللہ تعالی اپنے بندوں کے بارے میں بصیرت رکھتا ہے [غافر : 44]

اور یعقوب علیہ السلام نے فرمایا تھا: { إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ} میں تو اپنے دکھ درد صرف اللہ کے سامنے رکھتا ہوں[يوسف : 86]

" حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " حاجت روائی کی دعا ہے، اور ایک مسلمان کیلئے دنیاوی و اخروی ہر پریشانی کا علاج ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے صبح شام "حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ"[یعنی: مجھے اللہ کافی ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے] سات بار کہا، تو اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت کی تمام پریشانیوں سے کافی ہو جائے گا)

" حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا جب آپکو آگ میں ڈالا گیا؛ تو آگ آپکے کیلئے سلامتی والی ٹھنڈی ہوگئی، اور یہی جملہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب آپکو بتلایا گیا کہ : { إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ}بیشک لوگ تمہارے خلاف جمع ہوگئے ہیں، اُن سے ڈر جاؤ۔[آل عمران : 173] تو اللہ تعالی نے انہیں مزید ایمان عطا فرمایا، اور اللہ کی رحمت و فضل سے بغیر کسی نقصان کے واپس لوٹے۔

جس وقت سب صحابہ کرام نے اپنے معاملات اللہ کے سپر د کر دیے، اور دلی اعتماد اللہ تعالی پر کر لیا؛ تو اللہ تعالی نے انہیں چار چیزیں بدلے میں عطا فرمائیں: نعمت، فضل، نقصان سے تحفظ، رضائے الہی کی تلاش، مزید برآں کہ اللہ تعالی ان سے راضی ہوگیا، اور وہ اللہ تعالی سے راضی ہوگئے۔

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ: اسباب اپنانے کے بعد تمام معاملات اللہ کے سپرد ہوں؛ لہذا وہ شفا صرف اسی سے طلب کرتے ہیں، تونگری کا سوال بھی اسی سے کرتے ہیں، عزت و شرف بھی اسی سے مانگتے ہیں، یعنی انکے تمام معاملات صرف اللہ کے ذمے ہوتے ہیں، [انکی اپنے تمام کاموں کے بارے میں ]امید، تمنا، اور رغبت صرف اسی سے ہوتی ہے۔

"حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" یہ الفاظ عائشہ رضی ا للہ عنہا نے اس وقت کہے جب آپ سواری پر سوار ہوئیں ، اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا سو ہوا؛ لیکن اللہ تعالی نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آیات براءت و پاکدامنی نازل فرما دیں، جو قیامت تک پڑھی جاتی رہیں گی۔

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" یہ کمزور لوگوں کی بجائے طاقتور لوگوں کی دعا ہے، یہ انکی دعا ہے جن کے دل مضبوط ہوں، جن پر وہمی باتوں کا اثر نہیں ہوتا، جنہیں حادثات متاثر نہیں کر سکتے، جہاں تک کمزوری اور خوف کی رسائی ممکن نہیں؛ کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالی نے توکّل کرنے والے کی مکمل ذمہ داری خود اٹھا رکھی ہے؛ تو وہ اللہ پر بھر پور بھروسہ کرتا ہے، اللہ کے وعدے کی وجہ سے مطمئن رہتا ہے، چنانچہ اس کی پریشانی اور ذہنی دباؤ زائل ہو جاتا ہے، اور تنگی آسانی میں ، دُکھ سُکھ میں، اور خوف امن میں بدل جاتا ہے۔

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" اللہ کی طرف بلانے والے کا اسلحہ ہے؛ چنانچہ زلزلے بھی سچے مؤمن کے زورِ بازوں کو کمزور نہیں کر سکتے؛ سچا مؤمن ثابت قدمی، خالص توکّلِ الہی، اور ٹھوس نظریات کا حامل ہوتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:{فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} اور اگر وہ رو گردانی کریں، تو آپ کہہ دیں: مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی پر میں توکل کرتا ہوں، اور وہی عرشِ عظیم کا پروردگار ہے۔ [التوبہ : 129] لہذا دینِ الہی کی تبلیغ کرنے والے، بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی انکا والی وارث ہے، وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں، کسی حوصلہ شکن کی پرواہ نہیں کرتے؛ انہیں بھرپور اعتماد ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہیں، انکا دین حق ہے، چاہے اس میں کچھ وقت ہی کیوں نہ لگ جائے اللہ تعالی انکی ضرور مدد فرمائے گا ۔

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" یہ جملہ اللہ کی طرف سے لکھی گئی تقدیر پر رضا مندی کا جملہ بھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ[58] وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ} اور ان میں کوئی ایسا ہے جو صدقات [کی تقسیم]میں آپ پر الزام لگاتا ہے، اگر انہیں کچھ مل جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں [58] کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا تھا اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل سے [بہت کچھ] دے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں [التوبہ : 58-59]

اگر مسلمان اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، اور حکمِ الہی پر راضی ہوجائے، تو یہی مسلمان کیلئے بہتر ہے، اور تقسیمِ الہی پر خوشی سے اظہارِ رضا مندی کرے، زبردستی اور مجبوری سمجھتے ہوئے رضا مندی کا اظہار نہ کرے، اللہ تعالی کو اپنے لئے کافی جانتے ہوئے خوش رہے، اور اللہ تعالی ہی اپنے بندے کو کافی ہے۔

"حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" یہ جملہ تکلیف کے اوقات میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کو وصیت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں کیسے چین سے بیٹھوں !؟ صور پھونکنے والے نے صور اپنے منہ میں لیا ہوا ہے، اور کان لگائے ہوئے ہے کہ کب اسے پھونکنے کا حکم دیا جائے تو صور پھونک دے) تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کیلئے بڑی گراں ثابت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: تم کہو:( حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ)

اور جسے اللہ تعالی کافی ہو؛ اسکا ذہن مکار لوگوں کی مکاریوں میں نہیں الجھتا، اور نہ ہی تاک میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی سازشیں اسے پریشانی سے دوچار کرتی ہیں۔ کافر، گمراہ، اور دھوکے باز اس کے بارے میں جتنی بھی ساز باز کر لیں[وہ پھر بھی مطمئن رہتا ہے]، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مطمئن کرتے ہوئے فرمایا: {وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ}اگر وہ آپکو کو دھوکہ دینا چاہیں تو اللہ تعالی آپکے لئے کافی ہے۔ [الأنفال : 62]

یزید بن حکیم کہا کرتے تھے: "مجھے کبھی کسی شخص سے اتنا ڈر نہیں لگا جتنا مجھے کسی ایسے شخص پر ظلم کرتے ہوئے ڈر لگا کہ اس کا مدد گار صرف اللہ ہے، اور وہ مجھے یہ کہہ دے: "میرے اللہ کافی ہے، میرے اور تمہارے درمیان اللہ فیصلہ کریگا"

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، اسکی حمد و ثنا کا کوئی کنارہ نہیں، انکا کوئی شمار بھی نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، ہمارے لئے رزق، صحت، عافیت، اسی کی طرف سے ملنے والی بھلائی، فضل و کرم، اور نعمتیں ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اسکے برگزیدہ ، حبیب، اور بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر آپکی آل ، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائےیہ دعا اللہ کے بندے کی طرف سے آخری سانس تک جاری رہے گی۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں۔

اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ انسان اپنی کمزوری کو "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" اور " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کرے، کیونکہ یہ نقاہت و بے بسی کی علامت ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو یہ دعا سیکھایا کرتے تھے: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَ الْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَ غَلَبَةِ الرِّجَالِ)یا اللہ! میں پریشانی اور غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں، عاجزی اور کاہلی ، بخیلی اور بزدلی سے ، میں قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

اس لئے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کا " حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ " کہتے ہوئے مقابلہ کرے، اور اس کا جلیل القدر، اور عظیم معنی و مفہوم ذہن میں بیٹھائے، اور حکمت و بصیرت کے ساتھ با مقصد کاروائی بھی عمل میں لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (طاقتور مؤمن بہتر ہے، اور اللہ کے ہاں کمزور مؤمن سے زیادہ محبوب بھی ہے، لیکن سب میں خیر ہے، تم فائدہ دینے والی چیزوں کا اہتمام کرو، اور اللہ سے مدد مانگو، سستی مت دیکھاؤ)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، اور تمام صحابہ کرام و آل سے راضی ہوجا، یا اللہ! اپنے رحم و کرم اور احسان و فضل کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے یا اسلام کے بارے میں برے عزائم رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسکی چالوں کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

یا اللہ! غلبہ دین کیلئے کاوشیں کرنے والوں کی مدد فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو ذلیل فرما دے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی، اور اپنے مؤمن بندوں کو غالب فرما ۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، جلدی ملنے والی ہو تاخیر سے ، ہمیں اسکا علم ہے یا نہیں ہے، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، چاہے وہ شر جلدی ملنے والا ہے یا دیر سے، ہمیں اس شر کے بارے میں علم ہے یا نہیں ہے،

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر آخر تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھے سے ہدایت ، تقوی، پاکدامنی، اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کر دے۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، اور عافیت کے خاتمے سے تیری پناہ چاہتے ہیں،   اور تیری اچانک سزا سے، تیری ہر قسم کی ناراضگی سے پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم اپنی برکت، رحمت، فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے، یا اللہ! ہم اپنی برکت، رحمت، فضل، اور رزق کے دروازے کھول دے۔

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور اسکو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے یا رب العالمین!، یا اللہ ! انکے نائب کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے ، یا ارحم الراحمین، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما،

}رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ { ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے [الأعراف: 23] }رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ{ اے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] }رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ{ ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 8905 بار آخری تعدیل الإثنين, 12 كانون2/يناير 2015 14:35

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم