بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الأربعاء, 24 كانون1/ديسمبر 2014 11:48

غریب اور غربت۔۔۔ آداب اور حکمت الہی

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبيتیحفظہ اللہ نے 03- رجب- 1435کا خطبہ جمعہ " غریب اور غربت ۔۔۔ فضائل، آداب، اور حکمتِ الہی"کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے امیری اور فقیری پر گفتگو کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کا رزق درجہ بندی کے اعتبار سے تقسیم کردیا ہے، اور یہ درجہ بندی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، پھر انہوں نے غریب طبقہ کیلئے ضروری آداب ذکر کئے، ساتھ میں صابر و شاکر غریب افراد کا اللہ کے ہاں مقام بھی بیان کیا، آخر میں غربت کے منفی اثرات اور اسکے علاج کیلئے طریقہ کار بھی بتلایا۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں،جس نے اپنے بندوں کو امیر یا غریب بنایا، تمام اوامر و نواہی پر اسی کا ثناء خواں اور شکر گزار ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنے بندوں کے فیصلے حق  و عدل کیساتھ کئے ہیں، اور عذاب کا حقدار بننے سے خبردار کیا، اور میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اسکے بندے اور رسول  ہیں، آپکی جود و سخا کی انتہا نہیں ہے، ،اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل پر، اور صحابہ کرام پر رحمتیں  نازل فرمائے جو کہ صاحب عزم و ہمت تھے۔

حمد و ثناء کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران: 102]

امیری اور فقیری بندوں کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے؛ اللہ تعالی کسی کو فراوانی سے اس لئے نوازتا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ بندہ حمد وشکر بجالاتا ہے یا سرکش بنتا ہے، اور کسی پر دنیاوی تنگی امتحان لینے کیلئے ڈالتا ہے کہ  بندہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے یا جزع فزع  کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں خیر وشر سے آزماتے ہیں، اور ہماری طرف ہی تم لوٹائے جاؤ گے۔[الأنبياء : 35]

لیکن مؤمن کی حالت تعجب خیز ہے؛ اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرکے اسے اپنے لئے بھلائی میں بدل لیتا ہے، اور اگر خوشی ملے تب شکر کرکے نیکی کما لیتا ہے؛ چنانچہ مؤمن زحمت و رحمت کیلئے  صبر و شکر سے کام لیتا نظر آتا ہے، جبکہ اللہ تعالی اسکی حالت کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہےاسی لئے فرمایا: {أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} خبردار! جس نے پیدا کیا ہے وہ انتہائی باریک بین اورباخبر ذات ہے[الملك : 14]

زندگی کے پہیے  میں اللہ کی جانب سے رزق کی کمی بیشی  سب کیلئے امیری یا فقیری  کا تعین کرتی ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا} اور ہم نے سب لوگوں کی ایک دوسرے پر درجہ بندی کردی ہے، تا کہ وہ ایک دوسرے کی خدمات حاصل کرسکیں۔[الزخرف : 32] یعنی : تم ایک دوسرے کو ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہو؛ جس سے الفت و انس  پیدا ہوتا ہے، اور مالدار لوگ اپنی دولت کی وجہ سے غریب لوگوں کو بطورِ مزدور رکھتے ہیں، اس سے دونوں ایک دوسرے کیلئے ذریعہ معاش ثابت ہوتے ہیں، ایک دولت  تو دوسرا محنت کی وجہ سے معاون ثابت ہوتا ہے۔

بسا اوقات غربت ہی انسان کیلئے بہتر ہوتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ} اگر اللہ تعالی اپنے بندوں کیلئے رزق کی فرا وانی کر دیتا تو سب زمین پر فساد بپا کر دیتے[الشورى : 27] یعنی لوگ اللہ کی اطاعت کیلئے وقت نہ نکالتے، جسکی وجہ سے لوگ بغاوت، سرکشی، اور مخلوق پر جبر کرنے لگتے، {وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ} لیکن اللہ تعالی اپنے اندازے کے مطابق رزق نازل فرماتا ہے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کے بارے میں خبر اور بصیرت  رکھتا ہے[الشورى : 27]

اور اگر بندے کو غربت میں مبتلا کر دیا جائے، تو ایسے وقت میں صبر عظیم ترین عبادت ہے، چنانچہ آمدن کم ہونے کی وجہ سے زندگی   میں کدورت آ جانے پر گھٹن محسوس ہو اور نہ ہی اس سے بد دل ہونا چاہیے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کرام کی  زندگیاں  گزر بسر پر مشتمل تھیں، حقیقت تو یہ ہے کہ دنیاوی رنگینیاں عارضی اور بے وقعت ہیں، انکے نا ملنے پر افسوس و ملال نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دل کو اطمینان بخشنے اور نعمتِ الہی کی قدر کروانے کیلئے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب کسی کی نظر جسمانی یا مادی نعمتوں سے مالا مال شخص پر پڑے تو وہ اپنے سے کم تر افراد پر اپنی نظریں دوڑائے) مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: (ایسا کرنے پر تم اللہ تعالی کی نعمتوں کی بے قدری نہیں کرو گے)

اسی لئے اسلام نے امیروں کیساتھ ساتھ غریب لوگوں کو خاص طور پر دعوت دی ہے کہ  اپنے دل کو غنی  بنانے کیلئے نفسانی خواہشات کو کچل دیں،  نعمت چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو دل کو اللہ کی تقسیم پر راضی رکھنے کیلئے قناعت پسند بنائیں، کیونکہ ازلی فیصلوں میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے لکھی ہوئی چیز تم سے کوئی چھین نہیں سکتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ تم سب سے بڑے سخی بن جاؤ گے) ترمذی

فقراء کیلئے باطنی، ظاہری، سلوکی، اور عملی  آداب ہیں ہر غریب شخص  کو انکا خیال کرنا چاہئے، چنانچہ:

باطنی ادب یہ ہے کہ: اللہ تعالی نے اسے غریب  بنایا ہے ، اس بات کو کراہت کی نگاہ سے مت دیکھے،  یعنی: اللہ تعالی کی مرضی کو برا مت جانے، کہ اللہ نے اسے غریب کیوں بنایا! جبکہ غربت کو برا سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ظاہری ادب یہ ہے کہ:عفت و سفید پوشی میں اپنی غربت کو چھپا کر رکھے، شکوی شکایت نہ کرتا پھرے، انہی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: { يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ} سفید پوشی کے باعث جاہل انہیں یہ سمجھے گا کہ بہت "امیر" آدمی ہے۔ [البقرة : 273]

سلوکی ادب یہ ہے کہ: کسی امیر شخص کی مالداری کی وجہ سے اسکے سامنے مت جھکے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: " اللہ تعالی سے ثواب لینے کی خاطر کسی امیر شخص کا کسی فقیر کے سامنے جھکنا کتنا اچھا عمل ہے"، اسی طرح غریب آدمی کو امیر لوگوں کے سامنے انکی جیب پر نظر رکھتے ہوئے حق بات کرنے سے گریز بھی نہیں کرنا چاہیے۔

جبکہ عملی ادب یہ ہے کہ :غربت کے باعث عبادت گزاری میں کمی نہ آنے دے، اور تھوڑا بہت  ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے یہی "جُہد ِ مقل" یعنی : کمی کے باوجود اللہ کی راہ میں دینا ہے، جسکی فضیلت ان صدقات سے کہیں زیادہ ہے جو فراوانی کے وقت دئیے جاتے ہیں۔

اللہ تعالی نے غریب لوگوں کی فضیلت کچھ ایسے بیان کی : {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ} غریب مہاجرین کے لئے (بھی) ہے جو اپنے گھروں اورجائیدادوں سے باہر نکال دیئے گئے ہیں[الحشر : 8] اور دوسرے مقام پر فرمایا: {لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ}(یہ صدقات) ان غریبوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے۔ [البقرة : 273] ان دونوں مقامات پر اللہ تعالی نے اپنے اولیاء  کی مدح میں ہجرت اور قید  سے بھی پہلے فقیری اور غربت کو ذکر کیا ہے، اور اللہ تعالی اپنے محبوب لوگوں کی مدح محبوب صفات کے  ساتھ ہی کرتا ہے، اگر فقیری اور غربت اللہ تعالی کو پسند نہ ہوتی تو اپنے محبوب بندوں کی کبھی ان الفاظ کیساتھ تعریف نہ کرتا۔

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے  ہیں کہ آپ نے فرمایا: (میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اکثر غریب لوگ ہی نظر آئے)بخاری و مسلم

فقراء کی جانب سے اللہ تعالی کی تقسیم پر اظہار رضا مندی اور فضیلتِ فقیری کے باوجود  اسلام نے امیر لوگوں کو غریب لوگوں کیساتھ نیکی و احسان  کی دعوت دیکر غربت کا حل نکالا ہے، چنانچہ  فقراء کی کفالت، انکے دکھ درد میں شرکت، اور انکی مدد کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرنے کی ترغیب دلائی، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیواؤں اور مساکین کی مدد کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے –راوی کہتا ہے: میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا- وہ مسلسل قیام اور روزے رکھنے والے شخص کی طرح ہے) مسلم

اسی طرح اسلام نے غربت کے خاتمے کیلئے بیروزگاری، اور سستی کو ایک طرف اتار پھینکنے کا حکم دیتے ہوئے کام کرنے کی دعوت دی، تا کہ غریب لوگ معاشرے اور اپنے اہل خانہ پر بوجھ مت بنیں۔

غربت کا خاتمہ، اور تلاشِ رزق کیلئے کوشش، اسباب و وسائل بروئے کار لانا، شرعی حکم کی پاسداری ہے، جو کہ ایک اچھی عادت بھی ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: {فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ}دنیا کے [معاشی]راستوں  میں  دوڑ دھوپ کرو، اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ، اسی کی طرف واپس جانا ہے[الملك : 15]

حکم اسی لئے دیا ہے کہ غریب آدمی خود سے معاشرے کا سرگرم رکن بن جائے، اپنی کمائی کھائے، کمر سیدھی رکھے، عزت وآبرو کی حفاظت کرے، اولاد کی عزت افزا تربیت کرے، جو اچھے معاشرے کی بنیاد بن سکیں، انکی تعمیر و ترقی کیلئے کوششیں کرتا رہے، تا کہ ایک دن اولاد اطاعت و معرفتِ الہی کیلئے ممد و معاون ثابت ہو، جس سے نظریں آخرت کیلئے گڑ جائیں، یہی آخرت کی زندگی اچھی اور باقی رہنے والی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ غربت کے بعد فراخی کو اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بطورِ احسان پیش کیا، اور فرمایا: {وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى} یعنی: آپ مالی طور پر کمزور تھے، تو اللہ تعالی نے غنی بنا دیا۔[الضحى : 8] اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا بھی کیا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالعَفَافَ وَالغِنَى) یعنی: یا اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت، اور تونگری کا سوال کرتا ہوں۔ مسلم

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی اور خادم انس رضی اللہ عنہ کیلئے مالی فراوانی کی دعا فرمائی: (یا اللہ! انس کو مال و اولاد کثرت سے عنایت فرما، اور اسکے لئے بابرکت بنا) بخاری و مسلم

اللہ کے بندو!

فراخ رزق نیک عمل کا پھل ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص اپنی عمر اور رزق زیادہ کروانا چاہتا ہے وہ صلہ رحمی کرے)بخاری و مسلم

ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا سوالی ہاتھ  ہے) بخاری و مسلم

اللہ کے بندو!

دستکاری، ہنر مندی، یا زراعت  ،شرف و عزت کا مقام ہے، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کسی نے بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا)بخاری

آپ سے یہ بھی پوچھا گیا: کونسا ذریعہ معاش بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا:(انسان اپنے ہاتھ سے کمائے، یا بیع مبرور) احمد

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: (ایک شخص اپنی رسی کے ذریعے [جنگل]سے اپنی کمر پر لکڑیاں لاد کر فروخت کرے؛ تو اللہ تعالی اسکے چہرے کو [شرمندگی]سے محفوظ کردیگا، [یہ کام] لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے، وہ چاہیں اُسے دیں یا نا دیں)

یہی بہترین طرزِ زندگی ، اور سیدھا راستہ ہے، جبکہ مال جمع کرنے کیلئے لوگوں سے مانگتے پھرنا مذموم صفت، اور قبیح فعل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو اسکے چہرے پر گوشت بالکل نہیں ہوگا) مسلم

ایسے ہی بھکاری پن کے خاتمے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو لوگوں سے اپنا مال زیادہ کرنے کیلئے مانگتاہے، وہ آگ کامطالبہ کرتا ہے، [اب اسکی ]مرضی کم لے یا زیادہ لے) مسلم

مذکورہ بالا تعلیمات کے ساتھ ساتھ صدقہ کرنے والے افراد کو بھی چاہئے کہ صرف ضرورت مند افراد کو صدقہ دیں، کسی اور کو مت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (صاحب حیثیت، اور تندرست و توانا شخص کیلئے مانگنا جائز نہیں ہے) ترمذی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  یہ بھی فرمایا: (تین قسم کے لوگ ہی مانگ سکتے ہیں: 1-بالکل کنگال شخص، 2- بہت بڑی چٹی پھرنے والا، 3- خون بہا ادا کرنے والا )ابو داود

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے اور وہی ہمیں کافی ہے، سلامتی ہو اللہ کے چنیدہ افراد پر، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ آخرت میں بھی اور دنیا میں بھی اکیلا اور یکتا ہے ، اور  میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے اور اسکے  برگزیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر آپکی آل ، تمام صحابہ کرام اور اطاعت گزاروں پر رحمت نازل فرمائے۔

حمدو ثناء کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔

کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام میں آج غربت کی شرح ترقی کے وسائل کے بارے میں سرد مہری، سودی قرضوں کے بوجھ،  اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کمزوری کی وجہ سے ہے۔

ایمانی کمزوری کی صورت میں غربت کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایسے ہی غربت کا شمار ان بڑے اسباب میں ہوتا ہے جن سے شرافت ختم، اور بے حیائی، چوری، رشوت، لوگوں کا مال ہڑپ کرنا عام ہوتا ہے، جبکہ جرائم کی شرح ، اور گھریلو لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، بلکہ بسا اوقات قتل تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا(تم اللہ کا ہمسر بناؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے)سائل نے کہا اسکے بعد؟ آپ نے فرمایا: (تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے)بخاری و مسلم

جبکہ اللہ تعالی نے بھی صاف فرمایا: {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ} تم اپنی اولاد کو فاقہ کشی کے ڈر سے مت قتل کرو، تمہیں بھی اور انکو بھی ہم ہی نے رزق دینا ہے۔[الأنعام : 151]

غربت کے معاشرے پر  بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے کینہ، اور بغض پروان چڑھتا ہے، بسا اوقات ناامید غریب شخص پورے معاشرے پر اپنا بوجھ ڈال دیتا ہے، یہاں پر اہل علم ، دانشوروں، اور صاحب حیثیت افراد کو اپنا کردار پیش کرنا چاہیے کہ وہ اجر پانے ، اور معاشرے کو غربت کے منفی اثرات سے پاک کرنے کیلئے غربت کے خاتمے پر خلوص دل کیساتھ کام کریں؛ چنانچہ غریب لوگوں کیلئے ملازمتیں پیدا کریں، انہیں اپنی کمپنیوں، کارخانوں میں کام کا موقع دیں، انکی صلاحتیوں اور ہنرمندی میں مزید اضافہ کریں، اور انکے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کریں، اس کیلئے فرمانِ الہی سن لیں: { وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا}  جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پآؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔[المزمل : 20]

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتابِ عزیز میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{اللہ اور اس کےفرشتے  نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود  و  سلام بھیجا کرو۔[الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد  پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت  و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد  -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر  برکتیں نازل فرما، جیسے توں نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! اپنے نبی کے چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا، یا اللہ! اپنے رحم و کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی، اور اپنے مؤمن بندوں کو غالب فرما ۔

یا اللہ! جو دین کی مدد کرے تو اسکی مدد فرما، اور جو اسلام و مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے، ان سب کو رسوا فرما، یا اللہ! تیرے کلمے کی بلندی کیلئے مجاہدین کی ہر جگہ مدد فرما، یا اللہ! انکی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، اور انکے دلوں ثابت قدم بنا، انکے نشانوں کو درست فرما، انکے دلوں کو آپس میں ملا دے، اور حق بات پر سب کو متحد فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے۔

یا اللہ ! ہم تجھ سے ہدایت ، تقوی، پاکدامنی، اور غنی کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت  آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا،  تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما،  اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں  ختم کر دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں، فضل و  رزق کھول دے، یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں، فضل و  رزق کھول دے، یا اللہ! ہمارے مال، اولاد، کاروبار، بیویوں، اولاد، صحت سب چیزوں میں برکت ڈال دے، اور ہم جہاں بھی جائیں یا اللہ ہمیں بابرکت بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے دکھ درد، اور تکالیف کو دھو ڈال، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو معاف فرما، یا رب العالمین، یا اللہ! انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما، یا اللہ! انہیں عافیت سے نواز اور انہیں معاف فرما، یا اللہ! انکی عزت افزائی فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور اسکو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب اور تیری شریعت کو نافذ کرنے کی توفیق دے۔

یا اللہ! ہم تیرے در کے سوالی ہیں، تو غنی ہے ہم فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما، اور ہمیں مایوس نہ کرنا، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! رحمت کی بارش ہو، عذاب، مشکلات، تباہی و بربادی کی بارش نہ ہو،  یا اللہ! تیری رحمت کا صدقہ  یا ارحم الراحمین!

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف  نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گےرَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ[الأعراف: 23] اے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے,  اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہےرَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [الحشر: 10]  ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو[النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 4313 بار آخری تعدیل الأربعاء, 24 كانون1/ديسمبر 2014 12:25

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم