بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الأربعاء, 03 كانون1/ديسمبر 2014 13:44

’’بشارت ’’ خوشخبری ‘‘ کا تصور‘‘ قرآن و سنت کی روشنی میں

مولف/مصنف/مقرر  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبيتی

بسم الله الرحمن الرحيم

موضوع: 

’’ بشارت (خوشخبری) کا تصور‘‘

  قرآن و سنت کی روشنی میں

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبيتی حفظہ اللہ نے 05 محرم الحرام 1435کا خطبہ جمعہ" تصوّرِ "بشارت "قرآن و سنت کی روشنی میں"کے موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے اچھے کاموں پر بشارت دینے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اس بارے میں کتاب و سنت سے متعدد دلائل ذکرکئے۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں،جس نے اپنے بندوں پر فضل وکرم کرتے ہوئے انہیں مختلف بشارتیں سنائیں، میں اسکی نعمتوں، اور جودو سخا کی بناپر اُسی کا ثناء خواں اور شکر گزار ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، وہ ہر ڈھکی چھپی بات کو جانتا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اسکے بندے اور رسول ہیں، جس نے بھی انکی اتباع کی وہ جنت کی طرف بڑھتا جا ئے گا،اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل پر، اور صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائےجو کہ صاحبِ فضل و بصیرت تھے۔

حمد و ثناء کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں ہی آئے۔ [آل عمران: 102]

 

بشارت کی تعریف:

"بشارت" "بشری" اور "مبشرات" ایسے کلمات ہیں جن سے امیدکی کرنیں پھوٹتی ہیں، جوش و جذبہ کو نئی زندگی ملتی ہے، یہ الفاظ نا امیدی اور مایوسی کا علاج کرتے ہیں، یہی کلمات اللہ کے کئے ہوئے وعدوں پراعتماد کا سبب بنتے ہیں، جن سے تمام پریشانیاں زائل ہوجاتی ہیں۔

جب مطلق طور پر لفظ "بشارت" بولا جائے تو اسکا مطلب اچھا ہی ہوتا ہے، لیکن اگر اس سے اُلٹ معنی مراد ہو تو کسی قید کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر بشارت کی مختلف صورتیں ہیں، کیونکہ قرآن بشارتوں کا وسیع میدان ہے۔

بشارت کی مختلف صورتیں :

سب سے پہلی ہمارے لئے بشارت یہ کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو ہر چیز کے متعلق راہنمائی کیلئے نازل فرمایا، اور یہ قرآن: وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَاور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے [النحل: 89]، يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا یہ قرآن تو وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور جو لوگ ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں انھیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ [الإسراء: 9]

قرآنی آیات مؤمن کے لئے تسکینِ قلب کا باعث ہیں، دل میں ان بشارتوں کو سن کہ ٹھنڈ پڑ جاتی ہے، جبریل علیہ السلام نے ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: "یہ جو دروازہ آج آسمان میں کُھلا ہے ، اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا"، اُس سے ایک فرشتہ نیچے اترا، تو جبریل نے اس فرشتے کے بارے میں کہا: "یہ فرشتہ زمین پر جو نازل ہوا ہے، آج سے پہلے کبھی زمین کی طرف نہیں آیا" اُس فرشتے نے سلام کیا ، اور کہا: "آپ دو نوروں کے ملنے پر خوش ہو جائیں، یہ نور آپ سے پہلے کسی نبی کو عنائت نہیں کئے گئے، اور وہ ہیں، سورہ فاتحہ، اور سورہ بقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جو کچھ بھی پڑھیں گے اللہ تعالی آپکو عنائت فرمائے گا" مسلم

ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مبشر ہیں، وہ خوشخبری دیتے ہیں اور ڈراتے بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا اور (اے نبی) ہم نے تو آپ کو بس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔ [الفرقان: 56]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دینے کی ترغیب بھی دی اور نفرتیں پھیلانے سے منع فرمایااور کہا: (خوشخبریاں سُنانا ، نفرتیں مت ڈالنا، آسانی پیدا کرنا ، تنگی میں مت ڈالنا) اور اپنے صحابہ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (تم دونوں! لوگوں کو دعوت دینا، اور خوشخبری سنانا، نفرتیں مت ڈالنا، آسانیاں پیدا کرنا، اور تنگی میں مت ڈالنا)

ڈرانے اور خوشخبری دینے کے درمیان توازن قائم رکھنا سید المرسلین کا طریقہ ہے، یہی بہترین منہج ہے، کہ ہم اللہ کی رحمت سے پر امید رہیں، اور ساتھ ساتھ اسکے عذاب سے بھی ڈریں۔

کسی بھی خوشخبری سننے کے بعد نیکی ، اور اطاعت کے جذبات میں ولولہ پیدا ہوجاتا ہے؛ عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا: (آج کے بعد عثمان چاہے کوئی عمل نہ بھی کرے، اسے کبھی نقصان نہیں ہوگا) چنانچہ اس خوشخبری کے سننے کے بعد ان میں نیکی اور تقوی مزید بڑھتا چلا گیا۔

کسی کو خوشخبری دینے سے معنوی طور پر مضبوط قسم کی ڈھارس باندھی جاتی ہے، اسکی مثال خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ میں نظر آتی ہے جس میں انہوں نے اپنے خاوند صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: "آپ خوش ہوجائیں! اللہ کی قسم ، اللہ آپکو کبھی بھی رسوا نہیں کریگا"

کتنی اچھی بات ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے ایسی بات سنیں!، ایک فوجی اپنے کمانڈر سے، ایک ملازم اپنے افسر سے، ان الفاظ کے ساتھ خوف حراس اور مایوسی کی دیوراوں کو توڑا جا سکتا ہے۔

جو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کیلئے اللہ نے خوشخبری سنائی ہے، فرمایا: وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے لہذا میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے [الزمر: 17]

متقی افراد کیلئے کامیابی کی بشارت دی گئی ہے ، فرمایا: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے[63] ان کے لئے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ [يونس: 63، 64]

مجاہدین کیلئے رحمتِ الہی اور رضائے الہی کی خوشخبری دی گئی ہے، فرمایا: الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (20) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے اموال اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے ہاں ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں [20] ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت اور رضا مندی کی خوشخبری دیتا ہے اور ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کی نعمتیں دائمی ہیں [التوبة: 20، 21]

جبکہ صبر کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے [155] کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ : ہم (خود بھی) اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے[156] ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے عنایات اور رحمتیں برستی ہیں ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہوتے ہیں [البقرة: 155- 157]

مساجد کی طرف پیدل چل کر جانے والوں کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی اور فرمایا: (اندھیروں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو)

جو شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسکے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (خوش ہوجاؤ، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا: "یہ میری آگ ہے میں اپنے مؤمن بندے کے آخرت والے حصے کو دنیا ہی میں اُس پر مسلط کر دیتا ہوں")

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ خدیجہ کو جنت میں ایسے محل کی خوشخبری دے دیں ، جو موتی سے بنا ہوا ہے، وہاں کوئی شور شرابا نہیں ہوگا اور نہ ہی تھکاوٹ ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی اور فرمایا: (عمار خوش رہو! تمہاری شہادت ایک باغی جماعت کی وجہ سے ہوگی)

اولیاء اللہ کیلئے دونوں جہانوں میں خوشخبری ہے فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ سن لو ! جو اللہ کے دوست ہیں انھیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے[62] جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے[63] ان کے لئے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ [يونس: 62- 64]

مؤمن کیلئے ابتدائی خوشخبری ہوتی ہے کہ لوگ اس کے چھپے ہوئے کاموں کی تعریف کریں کہ اس نے چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن اللہ نے لوگوں کے سامنے واضح کردیا، چنانچہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: "اس شخص کے بارے میں بتائیں جو نیکی کا کام کرتا ہے اور لوگ اسکے اس عمل پر تعریفیں کرنے لگ جاتے ہیں"آپ نے فرمایا: (یہی تو مؤمن کیلئے ابتدائی خوشخبری ہے)

اچھے خواب بھی بشارتوں کی ایک شکل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نبوت میں سے صرف مبشرات ہی باقی رہ گئی ہیں) صحابہ نے عرض کیا: "مبشرات " کیا ہیں؟آپ نے فرمایا: (اچھے خواب مبشرات ہیں) بخاری ، مسلم

نرینہ اولاد کے حصول پر خوش ہونا اور دوسروں کو مبارک باد دینا مسنون ہے، جبکہ بیٹی کو اپنے لئےبوجھ سمجھنا اور اسے منحوس جاننا ، اللہ کے ہاں مذموم فعل ہے، اس لئے کہ : يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جسے چاہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے لڑکے[49] یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے [الشورى: 49، 50]، اور بیٹی کے بارے میں مشرکین کے مذموم فعل کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (58) يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے[58] اور دی ہوئی خبر سے عار کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) آیا اس لڑکی کو ذلت کے باوجود زندہ ہی رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے؟ دیکھو یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں [النحل: 58، 59]

ہواؤں کے چلنے کو بھی مبشرات میں سے شمار کیا گیا، فرمانِ باری تعالی ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے اور اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے، نیز اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں رواں ہوں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو۔ [الروم: 46]

اولیاء اللہ اور اسکے خاص بندوں کیلئے کچھ علامتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ان کے بارے میں اچھائی کا فیصلہ کرچکا ہے، مثلاً: جس شخص کو زندگی میں آسودگی، کامیابیاں ، آسانیاں، اور مشکلات سے نجات ملے امید ہے کہ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو، اس لئے کہ اللہ تعالی نے اسی بارے میں فرمایا: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىپھر جس نے (اللہ کی راہ میں) مال دیا اور پرہیز گاری اختیار کی [5] اور بھلی باتوں کی تصدیق کی [6] تو ہم اسے آسان راہ پر چلنے کی سہولت دیں گے [الليل: 5- 7]، ایک دوسرے مقام پر فرمایا: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًااور جو شخص اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کےلئے اس کے کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔ [الطلاق: 4]

چنانچہ جب آپکو اپنے معامالات آسان نظر آنے لگیں ، اور اللہ کی طرف سے خیر کا معاملہ ہو، تو واقعی یہ ایک خوشخبری ہےچاہےآپ کو اللہ سے اس کی امید ہو یا نہ ہو۔

اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ : تکالیف اور مصائب کو سکون میں تبدیل کردیا جائے، تنگی کو آسانی کا پیش خیمہ ثابت کیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے انبیاء اور اولیاء کے بارے میں یہی انداز اختیار کیا ہے، جب بھی انہیں حالات نے تنگ کیا، اور مشکلات میں پھنس گئے، تو اللہ کی طرف سے مشکل کشائی ہوئی، فرمایا: وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ان پر اس قدر سختیاں اور مصیبتیں آئیں جنہوں نے ان کو ہلا کے رکھ دیا۔ تاآنکہ رسول خود اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟(اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا) سن لو!اللہ کی مدد قریب ہی ہے [البقرة: 214]

مؤمن کیلئے کچھ بشارتیں، حالتِ نزاع،موت کے وقت، تکفین و تجہیز کے وقت بھی رو نما ہوتی ہیں، چنانچہ دنیا سے کوچ کرتے ہوئے بشارت کے متعلق اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي اے اطمینان پانے والی روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی[28] تو میرے (نیک) بندوں میں شامل ہوجا [29] اور میری جنت میں داخل ہوجا [الفجر: 27- 30]

مؤمن کیلئے بڑی خوشخبری یہ بھی ہے کہ اسکی توبہ قبول ہو جائے، جیسے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ کے واقعہ میں ہے، کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے تین افراد کے ساتھ مدنی معاشرے میں 50 دنوں کے سوشل بائیکاٹ کیا گیا اس کے بعد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اسی حالت میں بیٹھا تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے ہمارے بارے میں قرآن مجید میں بیان کی ہے کہ دل میں اتنی گھٹن محسوس ہوتی تھی کہ زمین بھی مجھ پر تنگ ہونے لگی ۔

میں نے کسی کی بلند آواز سنی وہ سلع پہاڑ پر کہہ رہا تھا: "کعب بن مالک! خوش ہوجاؤ!!" کعب کہتے ہیں: میں فوراً سجدے میں جا گرا، اور سمجھ گیا کہ سوشل بائیکاٹ ختم ہوگیا ہے، اس کے بعد لوگ بڑی بڑی ٹولیوں کی شکل میں آکر ملنے لگے اور میری توبہ قبول ہونے پر مجھے مبارکباد دینے لگے، وہ مجھے کہتے تھے: "مبارک ہو!! اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی "

کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا تو آپکا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، آپ نے فرمایا: (خوش ہوجاؤ! جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا ہے ابھی تک تمہاری زندگی میں ایسا دن نہیں آیا) کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ سے استفسار کیا: "اللہ کے رسول یہ آپکی طرف سے ہے ، یا اللہ تعالی کی طرف سے؟" آپ نے فرمایا: (نہیں یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو ایسے لگتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہے، اور اللہ تعالی نے کعب اور انکے ساتھیوں کے متعلق سورہ توبہ کی یہ آیات نازل فرمائیں: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ... اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار پر مہربانی کی جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت اس کا ساتھ دیا تھا اگرچہ اس وقت بعض لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچلے تھے۔ پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا کیونکہ اللہ مسلمانوں پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔۔۔[التوبة: 117]

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جوتمام راز اور ظاہری باتیں جانتا ہے،میں اسی کی تعریف بیان کرتا ہوں اور اسی سے مدد کا طلب گار ہوں ، اور اسی پر توکل کرتا ہوں، میں اُسکے قریب کرنے والے تمام کاموں میں کامیابی کا سوال کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں، آپکا مقام سیرت و صورت کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے بلند ہے، اللہ تعالی آپ پر آپکی آل اور تمام صحابہ کرام پر سلامتی اور درود نازل فرمائے۔

حمدو ثناء اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد!

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو [70] (اس طرح) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو درست کردے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ [الأحزاب: 70، 71]

مبشرات میں سے یہ بھی ہے کہ تھوڑے عمل پر زیادہ ثواب سے نوازا جائے، جیسے کہ ، یوم عاشوراء کا روزہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ سے امید ہے کہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا) مسلم

اور ایک روایت میں فرمایا: (اگر آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کا بھی روزہ رکھوں گا)مسلم

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انکا قول ثابت ہے کہ : "ایک دن دس محرم سے پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھو"

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتابِ عزیز میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

دعائیں:

یا اللہ اپنے بندے، اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم- پر درود و سلام بھیج، یا اللہ! خلفائے اربعہ ابو بکر ، عمر ، عثمان، اور علی سے راضی ہوجا، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہوجا، یا اللہ! انکے ساتھ ساتھ اپنے رحم و کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما،کافروں اور کفر کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے ۔

یا اللہ! ہرجگہ مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ ! غلبہ دین کیلئے کوشش کرنے والوں کی مدد فرما، یا اللہ! جو اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرنا چاہے تو اسے ذلیل کردے، یا اللہ! اپنے دین، قرآن، سنت نبوی، اور اپنے مؤمن بندوں کو غالب فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے یا رب العالمین!۔

یا اللہ ! ہم تجھ سے ہدایت ، تقوی، پاکدامنی، اور غنی کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ!ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے،ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کردے۔

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اور نیکی و تقوی کیلئے اسکی مکمل راہنمائی فرما، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ رب العالمین۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کی شریعت نافذ کرنے کی توفیق دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور تیری رضامندی کا سوال کرتے ہیں، اور تیری ناراضگی اور جہنم سے پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! تمام فوت شدگان پر رحم فرما، مریضوں کو شفا یاب فرما، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، تمام تنگیاں اور ترشیاں ختم فرما دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے بارش کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہمیں بارش عنائت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عنائت فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی ، اور غرق کرنے والی نہ ہو، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی ، اور غرق کرنے والی نہ ہو، یا اللہ! رحمت والی بارش ہو، عذاب، تباہی ، اور غرق کرنے والی نہ ہو۔

یا اللہ! اپنے بندوں کو بارش مہیا فرما، جس سے علاقے سیراب ہوں، اور سب لوگ اس پانی سے مستفید ہوں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! حجاج کرام کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں ہمہ قسم کے شر اور گناہوں سے بچا، یا اللہ! انہیں امن و سلامتی اور حج مقبول کے ساتھ وطنوں کو واپس لوٹا، یا اللہ! انکے حج کو مبرور بنا، انکی نیکی کیلئے کوششوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت نواز، اور انکے تمام اعمالِ صالحہ بھی قبول فرما، یا ارحم الراحمین! یا رب العالمین، یا کریم! یا رحیم! یا ودود! یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔

 رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِاے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی, اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔[البقرة: 201] رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے [الأعراف: 23] رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌاے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10]

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو اوہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ملاحظہ کیا گیا 2662 بار آخری تعدیل الإثنين, 29 كانون1/ديسمبر 2014 12:56

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم