بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 01 كانون1/ديسمبر 2014 10:27

ماہِ صفر اور بد فالی

مولف/مصنف/مقرر  جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ، ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

بسم الله الرحمن الرحيم

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ نے 06-صفر المظفر- 1436کا خطبہ جمعہ بعنوان " ماہِ صفر اور بد فالی" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے بتلایا کہ بد شگونی اور بد فالی قدیم غلط نظریات میں سے ہیں اور  یہ عقیدہ توحید کے مخالف و شرکیہ امور میں شامل ہے، انسان خود ہی نیکی کر کے وقت اور جگہ کو اپنے لیے خوش بخت ،ا ور گناہ کر کے وقت اور جگہ کو بد بخت بناتا ہے، بدشگونی دل میں پیدا ہونے کی صورت میں انہوں نے ایک مسلمان کا لائحہ عمل اور نبوی دعائیں بھی ذکر کیں۔

پہلا خطبہ:

یقینا تمام  تعریفیں اللہ عز وجل کیلئے ہیں ، اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کر سکتا، اور اسکے حکم پر تعاقب نہیں کر سکتا، اور ہر چیز اسی کے قضا و قدر کی مرہون  ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، اور اسکا ربوبیت، الوہیت ، اور اسماء و صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد  اللہ بندے اور اسکے رسول  ہیں، یا اللہ! آپ پر، آپکی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانو!
میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ جو شخص تقوی الہی اختیار کرے، اللہ تعالی اسے بچا لیتا ہے، اور جو شخص اللہ تعالی پر توکل کرے تو اللہ ہی اسے کافی ہے۔

مسلمانو!

وحی کے مطابق عقیدہ توحید کے اصولوں میں  یہ بھی شامل ہے کہ ہمہ قسم کے خرافات سے خبردار کیا جائے، اور ہر قسم کی گمراہی سے  سے متنبہ کیا جائے۔

بد شگونی زمانہ قدیم سے لیکر آج تک کچھ لوگوں میں پائی جانے والی خرافات میں سے ایک ہے، اسی  طرح کوئی نظر آنے والی چیز یا سنا جانے والا لفظ طبیعت  کو ناگوار گزرے یا موروثی طور پر کسی چیز کو نا پسند کیا جائے؛ ان چیزوں کے بارے میں بد شگونی لینا بھی انہی خرافات میں شامل ہے، مثال کے طور پر ماہِ صفر میں کسی خاص پرندے یا لفظ کو دیکھنے یا سننے کو بدشگونی سے منسلک کرنا ۔

چنانچہ کچھ لوگ اسی بد شگونی کی وجہ سے اپنے عزائم کو ختم کر  ڈالتے ہیں اور اپنے مقاصد سے ہٹ جاتے ہیں، امام احمد نے  شواہد کے ذریعے مضبوط ہونے والی سند کے ساتھ  مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ: ( بد شگونی یہ ہے  کہ جو آپکی پیش قدمی یا پسپائی کا باعث بنے)

عز بن عبد السلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: دل میں موجود بدگمانی کو  [عربی میں ]"تطیّر" [بد شگونی- اسم] اور اس بدگمانی پر مرتب ہونے والے عمل کو  [عربی میں] "طِیَرۃ" [بد شگونی- فعل] کہتے ہیں۔

اس قسم کی باطل بدفالی،  اور وہمی بد شگونی  پر مشتمل نظریات اسلام کی نظر میں کم عقلی اور کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں، اور صحیح عقیدہ کے منافی ہیں؛ جو کہ خالق، قادر، مختار کل ، نفع و نقصان کے مالک اللہ کی ذات پر توکل  کا نام ہے،  کیونکہ تقدیر میں لکھے گئے اسبابِ کونیہ کے مطابق کوئی بھی کام اللہ کے ارادے، قدرت، اور اجازت کے بغیر  ہو ہی نہیں سکتا۔

مسلمانو!

اسی لئے شرعی نصوص  نے غلط نظریات سے خبردار کیا، اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا، تا کہ عقیدہ توحید صحیح سلامت باقی رہے، چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کے مطابق قرآن کریم  نے بد شگونی کا ذکر  صرف رسولوں کے دشمنوں اور توحیدِ خالص و صاف عقیدہ کے مخالفین کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا ہے۔

ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں: (کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے،  اور اُلّو [کوئی منحوس چیز نہیں ہے] اور نہ ہی ماہِ صفر [میں کوئی نحوست ہے]) بخاری و مسلم
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان اشیاء کی بذاتہ خود کوئی تاثیر نہیں ہے، اور کسی بھی مسلمان کو انکے بارے میں غلط نظریات بنانے کی اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے بارے میں توجہ کرنی چاہیے، چنانچہ  ایک مؤمن پر یہ واجب ہے کہ وہ ان باطل امور کے سامنے ہتھیار مت پھینکے، اور اپنی سِمت سے ذرا بھی نہ ہٹے،  اور اپنے عزائم کی تکمیل ، اور ضرورت و حاجت کو مکمل کر کے ہی دم لے، کیونکہ  بد شگونی ایسا شرک ہے جو کہ  عقیدہ توحید کی کم ترین سطح کے بھی منافی ہے۔

چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ : (بدشگونی شرک ہے، بد شگونی شرک ہے) یہ حدیث  متعدد محدثین کے ہاں صحیح ہے۔

مسلمانو!

اگر بد شگونی لینے والے نے  یہ نظریہ رکھا کہ بد شگونی والی چیز  اختیار الہی کے بغیر بذاتہ خود نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، تو یہ -اللہ کی پناہ-شرک اکبر ہے، کیونکہ یہ نظریہ اس چیز کو تخلیق و ایجاد میں اللہ کے ساتھ شریک بنا رہا ہے۔

اسلامی بھائیو!

بدشگونی لینے والوں کی یہ بھی صورت ہے کہ: انسان کسی چیز سے بد شگونی لینے کے بعد اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے آگے بڑھے، لیکن اس کے ذہن پر گھبراہٹ، فکر، خوف سوار ہو، اور بدشگونی والی چیز سے ایذا رسانی کا خدشہ  دماغ میں رکھے،  ایسی سوچ رکھنا شرک ہے، عقیدہ توحید اور اللہ پر اعتماد  میں کمی کی علامت ہے۔

اور جس کسی کے دل میں  بدشگونی  آئے تو اس سے بچے، اور اس بدشگونی والی  رکاوٹ سے رو گردانی کرتے ہوئے اللہ تعالی پر  بھر پور بھروسہ و اعتماد کرے، چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (ہر کسی کے دل میں بد شگونی آتی ہے، لیکن اللہ تعالی توکل  کی وجہ سے اسے ختم کر دیتا ہے) اور ایک مسلمان پر بارگاہِ الہی  میں پناہ حاصل کرنا  اور دل کو صرف اللہ کے جوڑنا ضروری ہے، اس کیلئے وہ دعا میں گڑگڑا کر اللہ تعالی سے مانگے۔

[عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ]"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بد شگونی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (ان میں سے بہتر نیک فال ہے، اور بد شگونی کسی مسلمان کو پیش قدمی سے نہیں روک سکتی، اور اگر کسی کو غیر مرغوب چیز نظر بھی آئے تو وہ کہے: "اَللَّهُمَّ لَا يَأْتِيْ بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" یا اللہ! بھلائی کو تو ہی لانے والا ہے، اور برائی کو تو ہی دور کرنے والا ہے، اور نیکی کرنے  اور برائی سے بچنے کی طاقت صرف اللہ  کی طرف سے ہے)"

اسی طرح  وارد شدہ ادعیہ میں یہ بھی ہے کہ: (اَللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ) یا اللہ! بھلائی صرف تیری ہی طرف سے ہے، اور کوئی بھی پرندہ  تیری ملکیت سے باہر نہیں ہے، اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

اور جو شخص  شیطان کے بہکاوے میں آکر بد شگونی میں پڑ جائے، اور جس کام کی نیت سے چلا تھا اُسے چھوڑ دے، تو بسا اوقات کم ترین سطح سے بھی نچلے درجے  کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے سزا  کے طور پر  اسکے [بدشگونی والے]خدشات کو حقیقت میں بدل دیا جاتا ہے؛ کہ اس نے اللہ تعالی پر سچا توکل اور بھرپور بھروسہ نہیں کیا۔

چنانچہ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو!  واجبات میں خلل پیدا کرنے والے  اوہام سے بچو، رب ارض و سما  کے بارے میں عقیدہ توحید سے متصادم  نظریات سے دور رہو، کیونکہ سب معاملات اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں، اسکے فیصلوں  کو کوئی بدل نہیں سکتا، اور اسکے فضل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔

فضیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر تمہارے دل میں مخلوق  پر اعتماد کی کوئی جگہ نہ ہو تو اللہ تعالی جو  چاہو گے تمہیں عطا فرما دے گا"

اسی پر اکتفاء کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش  مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

میں اپنے رب کی تعریف اور شکر بجا لاتا ہوں،  اور میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی اُن پر ، اُنکی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

ہر مسلمان کیلئے اپنے دل کو صرف ایک اللہ کے ساتھ جوڑنا واجب ہے،  اسے چاہیے کہ اللہ پر اپنے اعتماد کو بڑھاتا رہے، مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلئے  اللہ تعالی سے گڑگڑا کر مانگے۔

یہ بات ذہن نشین  کر لیں!  انسان کا جتنا وقت اللہ کی اطاعت میں گزرے تو وہ اس کیلئے وقت ِ با برکت ہے، اور جتنا وقت اللہ کی نافرمانی میں گزرے وہ اس کے اور پورے معاشرے کیلئے وقتِ نحوست ہے۔

چنانچہ ابن رجب رحمہ اللہ کے مطابق  نحوست  اللہ کی نافرمانی کادوسرا  نام ہے، اُن کا کہنا ہے کہ: مجموعی طور پر نحوست  گناہوں اور نافرمانیوں کا ہی دوسرا نام ہے، کیونکہ ان سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے، اور جس وقت اللہ تعالی اپنے بندے سے ناراض ہو  تو انسان دنیا و آخرت میں منحوس بن جاتا ہے، بالکل اسی طرح جب اللہ تعالی اپنے بندے سے راضی ہو تو  وہ دنیا و آخرت میں سعادت مند بن جاتا ہے۔

ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں:  "اہل و عیال یا مال کچھ بھی اللہ تعالی سے غافل کر دے تو وہ تمہارے لئے منحوس ہے"

اسی طرح گناہگار اپنے اور دوسروں کیلئے  نحوست کا باعث ہے،  کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اگر اس پر عذاب نازل ہو تو دیگر لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے، خصوصاً ایسے لوگوں کو جنہوں نے اسے برائی سے نہیں روکا، اسی طرح کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق برائی کی جگہوں سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔

ہمیں اللہ تعالی نے ایک بہت بڑے عمل کا حکم دیا ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام  ہے:
یا اللہ! ہمارے پیارے نبی  ، ہمارے رہبر و رہنما اور سربراہ محمد  پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرما ، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی ، آپکی آل، تمام صحابہ کرام، اور قیامت تک انکے راستے پر چلنے والے افراد سے  راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ!  مسلمانوں کے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! انکی تمام منصوبہ بندیاں غارت فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! مؤمن مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ!  ہم جہاں بھی رہیں ہمیں بابرکت بنا دے ، یا اللہ! ہم جہاں بھی رہیں ہمیں با برکت بنا دے، یا اللہ! ہم جہاں بھی رہیں ہمیں با برکت بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے دکھ درد، اور مسلمانوں کی تمام مشکلات کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی تکالیف رفع فرما دے، یا اللہ! تمام مومن مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مومن مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مومن مریضوں کو شفا یاب فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تیری اطاعت والی لمبی زندگی انہیں عطا فرما، یا اللہ! اُنہیں اور ان کے دونوں نائب کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ ! تمام مسلم حکمرانوں کو اپنی اقوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! انہیں برے حکمرانوں سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! پوری دنیا میں تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں اور ہر وقت تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں میں پھیلے فتنوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں میں پھیلے فتنوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! انکی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! انکی مشکل کشائی فرما دے،یا ذا لجلال و الاکرام!

یا اللہ! تمام مسلمانوں کو حق و تقوی پر متحد فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو حق و تقوی پر متحد فرما۔

 یااللہ! تو ہی غنی، قابل تعریف ہے، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما،یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! ہمارے اور مسلم علاقوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے اور مسلم علاقوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے اور مسلم علاقوں میں بارشیں نازل فرما،یا اللہ! رحمت کی بارش عطا فرما، یا اللہ! رحمت کی بارش عطا فرما، یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! رحمت کی بارش عطا فرما، یا حیی! یا قیوم! یا غنی! یا حمید!

یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما، یا اللہ! ہماری امیدوں کو بار آور فرما، یا اللہ! ہماری امیدوں کو بار آور فرما، یا اللہ! ہماری امیدوں کو بار آور فرما۔

اللہ کے بندو!

اللہ ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو!

 

ملاحظہ کیا گیا 4718 بار آخری تعدیل الخميس, 04 كانون1/ديسمبر 2014 13:31

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 04 شعبان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور فضل کے موسم بنائے ہیں ایسے اوقات کو غنیمت سمجھ کر ان میں اللہ کی بندگی کر کے اپنی آخرت سنوارنی چاہیے، انہی ایام میں ماہ شعبان بھی شامل ہے، آپ ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ شعبان میں لوگ غافل رہتے ہیں اور اسی ماہ میں لوگوں کے اعمال  اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، ماہ شعبان در حقیقت رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں روزوں کی وہی اہمیت ہے جو فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ کی ہے، روزہ بذات خود ایک بہت عظیم عبادت ہے لیکن اگر یہی عبادت رمضان کے روزوں  کی تربیت کے طور پر رکھیں جائیں تو ان کی اہمیت مزید دوچند ہو جاتی ہے،  انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان لوگوں کو اس طرح قیمتی اوقات میں غافل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، اس لیے شیطان کی ہر چال سے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم