بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الأربعاء, 06 شباط/فبراير 2013 20:23

’’ جود و سخاوت ‘‘ فضیلت، أحکام و مسائل (خلاصہ خطبہ جمعہ)

مولف/مصنف/مقرر  امامِ حرم ڈاکٹرعبد الباری الثبیتی ، اردو: شعیب اعظم مدنی

>> ندائے حرم مسجدِنبوی الشریف <<

’’ خلاصہ خطبہ جمعہ ‘‘ بعنوان:

’’ جود و سخاوت ‘‘ فضیلت، أحکام و مسائل

امامِ حرم ڈاکٹرعبد الباری الثبیتی حفظہ اللہ

مؤرخہ: ۲۰ ربیع الاوّل۱۴۳۴ھ بمطابق ۲ فروری۲۰۱۳م

خطبہ کا مکمل ترجمہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

سخاوت کی اہمیت

۞ سخاوت کی وجہ سے منزل آسان ہوتی ہے(سورۃ اللیل: 5-7)۔ ۞ سخاوت ایک عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرنے  کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالٰی کی سخاوت

۞ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں(سورۃالإسراء: 20)۔

۞ اور آپ کو پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ  خوش ہو جائیں گے(سورۃالضّحٰی: 5)۔ ۞ ساری نعمتیں ہی اللہ تعالیٰ  کی سخاوت کا مظہر ہیں۔

اللہ کے رسول ﷺ کی سخاوت

۞ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے تو ( اللہ کے لئے)  خرچ کرنے کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں؛ سب کچھ  دل و جان سے دے دیا،اور اپنے پاس کچھ بھی نہ  رکھا ۞ اپنی پیٹھ پر پہنا ہواکپڑا  تک  (اللہ کی راہ میں ) دے دیا۔ ۞ رسولِ اکرمﷺنے کبھی کسی سائل کو انکار نہین فرمایا،ایک شخص نے آپﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بکری مانگی تو آپﷺ نے وہ بھی اُسے دے دی۔ ۞ اُمت سے بے انتہاء محبت کی۔    پوری حیاتِ طیبّہ اُمت کی خیر خواہی کے لئے وقف کردی۔ ۞ اللہ تعالیٰ کا پیغام  انتہائی بہترین انداز سے اُمت تک پہنچایا۔ ۞ اُمت پر اتنی زیادہ  شفقت کی کہ اکثر یہ فرمایا کرتے کہ  :اگر مجھے اُمت کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا۔(یعنی ہر وقت یہ خیال رہتا کہ اُمت مشقت میں نہ پڑجائے،لہٰذا کئیں احکامات اُمت پر شفقت فرماتے ہوئے واجب نہیں فرمائے)۔ ۞ اُمت کے لئے ہمہ وقت دعائیں فرماتے رہتے: «اللهم أمَّتي، أمَّتي» کہ: یا اللہ میری امت، میری امت۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سخاوت

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سخاوت کے اہم پہلو خطبہ ھٰذا کے مکمل ترجمہ میں ملاحظہ فرمائیں

سخاوت کی حدود

۞ سخاوت کی کوئی  خاص حد نہیں، بلکہ ہر میدان میں سخاوت   انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ۞ ہر شخص سخی بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ سخاوت کے طریقوں کو جان لے۔

سخاوت کے فوائد

۞ سخاوت  کا دریا  دل  ہمیشہ خوش و خُرّم رہتا ہے ۞ سخاوت کے ذریعہ یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں  کو سہارا مل جاتا ہے۔ ۞ سخاوت کا اثر  ونتیجہ پوری امت پر ہوتا ہے۔ ۞ ہر شخص اس سے فیض یاب ہوسکتا ہے۔ ۞ جو شخص جتنا زیادہ اُمت کو فائدہ پہنچائےگا اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک  اور اس کا پسندیدہ ہوگا۔

ہر نیکی سخاوت ہے

عفو درگزرکرنا۔ صلہ رحمی کرنا۔ دین کی طرف دعوت دینا۔ اپنے حقوق سے اللہ کے لیے دست بردار ہونا۔ اچھی  ونیکی کی بات بتانا۔ اپنے تجربات سے لوگوں کو فائدہ پہنچانا۔ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا۔ ہردم خیر خواہی کا جذبہ رکھنا۔ لوگوں کے کام آنا۔ کسی کی (جائز)سفارش کردینا۔ اللہ کے راستے میں جان قربان کرنا۔ مسکراہٹ سے پیش آنا۔ دعاءِ خیر کرنا۔ مالی تعاون کرنا۔

سخاوت کا مقصد

۞ سخاوت  کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ  :ہرطرح کی سخاوت صرف اور صرف اللہ کی رضا کے حصول لئے ہونی چاہئے۔

عاجزی (بے بسی) سخاوت کی راہ میں رکاوٹ ہے

۞ اسی لئے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عاجز آجانے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ «اللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ»۔ ترجمہ:یا اللہ میں بے بسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ۞ اسی طرح رسولِ اکرم ﷺنےاللہ سے مدد مانگتے ہوئے  خود بھی محنت کرنے کا حکم دیا ہے۔

***

 

ملاحظہ کیا گیا 3177 بار آخری تعدیل الإثنين, 22 تموز/يوليو 2013 13:23

جدید خطبات

خطبات

  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    بسم الله الرحمن الرحيم   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے قوت سماعت و بصارت سے نوازا، میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں کہ اس نے سورج کو ذاتی روشنی دی اور چاند سے روشنی پھیلائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے مومنوں کو جنت میں جگہ دی اور کافروں کا ٹھکانا جہنم بنایا، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے متبعین سنت کو نہروں والی جنتوں کی راہ دکھائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور ان صحابہ کرام  پر رحمتیں  نازل فرمائے     ، جنہوں نے مؤثر ترین شخصیات بن کر دکھایا۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم