بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 18 آذار/مارس 2013 14:55

’’حاکم ، ذمہ داران اور عوام(محکومین) کی ذمہ داریاں‘‘ مکمل خطبہ

مولف/مصنف/مقرر  امام حرم ڈاکٹر حسین آل الشیخ ، اردو: شعیب مدنی ، مراجعه: حافظ حماد چاؤلہ

 

 

 

ندائے حرم مسجدِ نبوی الشریف

مکمل ترجمہ خطبہ جمعہ ،بعنوان:

’’حاکم ، ذمہ داران اور عوام(محکومین) کی ذمہ داریاں‘‘

امامِ حرم ڈاکٹرحسین بن عبدالعزیز آلِ شیخ حفظہ ال

مؤرخہ: ۲۶ربیع الثاني۱۴۳۴ھ بمطابق: ۸مارچ ۲۰۱۳م

 

 

 

 

 

 

فضیلۃ الشیخ حسین بن عبدالعزیز آلِ شیخ حفظہ اللہ نےجمعہ کا خطبہ اس عنوان پر دیا: ’’ حاکم  اور عوام کے لئے نصیحتیں‘‘۔

انہوں نے اس خطبہ میں حکمران طبقہ ،وزراء و  ذمہ داران اور ان کے  ما تحت لوگ اور عوام کی  ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی ، اور ان دونوں کو قرآنِ مجید اور حدیث رسول ﷺ سے مزین دلائل کی روشنی میں  بہترین نصائح سے نوازا۔

 

 

 

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہر قسم کا شکر بھی اللہ ہی کے لئے ہے جس کی اطاعت سے بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں، اور اسی کی نافرمانی سے سخت مصیبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں،وہ آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نبیوں کے سردار ،سب مخلوقات سے افضل ،ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ یاللہ!   ان پر اوران  کی آل  پراور  صحابہ کرام پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔

حمد و ثناء کے بعد،

اے مسلمانو!

میں مجھ سمیت آپ سب لوگوں کو اللہ عز وجل کا تقوی حاصل کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔اور یہی  بھلائیاں اور برکتیں  سمیٹنے کا وسیلہ ہے۔ اور مشکل کے بعد آسانی  آتی ہے، اور تنگی کے بعد فراخی۔

((وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا)) [الطلاق: 4].

ترجمہ:  اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔

دنیاوی خواہشات اور لالچ کے نقصانات

موجودہ دور اور فتنے

اے مسلمانو!

مسلمانوں کو کئی بڑےفتنوں  اور مصیبتوں نے گھیر لیا ہے۔

اللہ کے نبیﷺ نے اس بارے میں فرمایا ہے:

«يتقَارَبُ الزمان، ويقِلُّ العمل، ويُلقَى الشُّحُّ، وتظهر الفتن».

ترجمہ: زمانہ(قیامت کے)  قریب ہوجائے گا اور عمل کم ہوجائے گا اور لالچ بڑھ جائے گی اور فتنے پھیل جائیں گے۔

خبردار! سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ فتنے جو آج مسلم معاشرے میں دنیاوی خواہشات کی وجہ سے پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں:

آپس کے اختلافات،  فرقہ واریت اور حسد و بغض کا انتشار۔

جس وجہ سےممالاک اور باشندوں کو  اتنا بڑا نقصان اور شر پہنچا کہ امن و امان ختم ہوگیا اورجان، مال اور عزتیں تباہ ہوگئیں۔

ایسے فتنے برپا ہوئے کہ روحانیت مجروح ہوگئی ،  عزتیں پامال ہوگئیں اور مال لُٹ گیا یہاں تک کہ مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ اٹھا لیا، اور ایک دوسرے کی عزت اور مال پر حمل آور ہوئے۔

اور اللہ کا  یہ فرمان ان پر صادق آیا:

((يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ)) [الحشر: 2].

ترجمہ:  اور وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اُجاڑ رہے تھے۔

اور  ان پر نبی علیہ السلام کی یہ ممانعت صادق آگئی:

«لا ترجِعوا بعدي كُفَّارًا يضرِبُ بعضُكم رقابَ بعضٍ»..

ترجمہ: میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔

فتنوں سے محفوظ رہنے کی  ضمانت (گارنٹی)

خبردار!  سب سے عظیم ، اور فتنوں کے شر  سے بچنےکے اہم ترین اسباب یہ ہیں: ٹھوس اور بنیادی چیزوں کو تھام لینا، پاکیزہ شریعت کے  اصول و مبادی کو اپنانا ، اور یہی ایک واحد راستہ ہے جس میں فتنوں کے خطرات سے بچنے کی عظیم گارنٹی ہے،اور شر اور خطرات کو دور کرنے کا یہی واحد ذریعہ ہے۔

ان بنیادی اصولوں  میں یہ بھی شامل ہے کہ ہمیں یقینی طور پر یہ بات جان لینی چاہئے کہ مسلمانوں پر آنے والی  ہر برائی اور مصیبت کی جَڑ یہ ہے کہ ہم نے  اسلام کے طور  طریقوں کو پسِ پشت ڈال دیا، رحمن کی فرماں برداری کو معمولی سمجھا، اور اسلامی احکامات کو نافذ کرنے سے منہ پھیرلیا۔

اللہ رب العزت نے تو اعلان فرمایا ہے:

((فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)) [النور: 63]

ترجمہ: سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ : اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ  انہیں آزمائش  یا دردناک عذاب آپہنچے  گا۔

بیشک اللہ عز وجل کا ڈر اوراسلام پر عمل کرنا اورقرآن کا حکم ماننا ہی نجات کا ذریعہ ہے اور چھٹکارے کی کشتی ہے۔

((وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ)) [الطلاق: 2، 3].

ترجمہ: اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔

امن و سکون کی ضمانت (گارنٹی)

خالقِ کائنات کی توحید کے تقاضوں پر قائم رہنا اوررب العالمین کی شریعت کو ایمانی و عملی طور پر اپنانا ہی امن و سکون کا سبب ہے۔

((الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ)) [الأنعام: 82].

ترجمہ: جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں ۔

ایک وصیت ہر وقت کی ضرورت

نبی علیہ السلام نے  امت کو بہت سی وصیتیں کی ہیں، جن میں سے ایک وہ وصیت بھی ہے جو ہر زمانے اورحادثات کے اعتبار سے ہر وقت کی ضرورت ہے:

«احفَظ الله يحفَظك».

ترجمہ: اللہ (کے دین) کی حفاظت کریں اللہ آپ کی حفاظت کرے گا۔

اے مسلم! اللہ (کے دین ) کی  حفاظت کریں۔

اے امت مسلمہ! اسلام کی حفاظت کریں، قرآنی احکامات کی حفاظت کریں، سید الانبیاء پیارے نبی ﷺ کی سنت کی حفاظت کریں تو  اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی مکمل حفاظت، عنایت اور رعایت ہوگی۔

نبیﷺ کی تعلیمات کو چھوڑنامسلمانوں کے لئے عارکا سبب

اے مسلمان!

اس وقت امت کے لئے عار کی بات یہ ہے کہ: یہ امت نبی ﷺ کی ہدایات سے بھٹک گئی، اور پوری دنیا مسلمانوں کے پیچھے پڑگئی ہے، اور حالات انتہائی ناگزیر ہوچکے ہیں۔

اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:

«يا أيها الناس! إني تركتُ فيكم ما إن تمسَّكتُم به فلن تضِلُّوا أبدًا: كتابَ الله وسُنَّتي»؛ إسنادُه صحيح.

ترجمہ: اے لوگوں! میں نے تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑی ہیں، اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ اگر تم انہیں  تھام لوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

ہماری کوتاہی

مسلمانوں اور ان کے قائدین کے درمیان کتنی زیادہ  ہی کانفرنس اور اجتماع منقد ہوتے ہیں لیکن جن ہدایات سے امت کی اصلاح یقینی ہے ان کی طرف دیکھنے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔

لیکن اس کے باوجود بھی آنکھیں ان ہدایات کو دیکھنے سے قاصر ہیں جن کی بدولت امت کو کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

بھلائی کا ثبوت

اگر ہم  سب (حاکم و محکوم)   بھلائی ،  امن  اور اصلاح کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہمیں اس وصیت کو قوت، صدق اور اخلاص کے ساتھ اپنانا ہوگا جو وصیت نبی علیہ السلام نے ہمیں  درج ذیل حدیث میں کی ہے:

«عليكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن تأمَّر عليكم عبدٌ حبشيٌّ، وستَرَون بعدي اختِلافًا شديدًا؛ فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخلفاء الراشدين المهديين، عضُّوا عليها بالنواجِذ، وإياكم والأمور المُحدثات؛ فإن كل بدعةٍ ضلالة»؛ الحديثُ صحيحٌ عند أهل العلم.

ترجمہ: آپ سب اللہ کے ڈر، (امیر کی باتوں کو) سننا اور اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلیں اگرچہ آپ پر ایک حبشی غلام حکمرانی کر رہا ہو۔اور میرے بعد بہت سخت اختلاف آپ کو نظر آئے گا، تو آپ سب کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفا کی سنت کو مضبوطی سے تھام لیں اور اسے اپنی ڈاڑھ سے پکڑلیں،اور نئے کاموں کو ایجاد کرنے سے بچنا کیانکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ یہ حدیث اہل علم کے نزدیک صحیح ہے۔

اخوت ایمانی کا استحکام

مسلمانوں کی جماعت!

جن بنیادی اصولوں کی حفاظت ضروری ہے خاص طور پر فتنوں کے دوران وہ یہ ہیں کہ ہم آپس میں اخوت ایمانی کا سلسلہ مستحکم بنائیں، اور ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ کی محبت ایمان کا سب سے مضبوط کڑا ہے۔ اور کس طرح ہم میں سے اکثر لوگوں کے دل اس دنیا کی محبت میں ڈوب چکے ہیں؟۔

في "صحيح مسلم" أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «إن أمتَكم هذه عافِيَتها في أوِّلِها، وسيُصيبُ آخرَها بلاءٌ وأمورٌ تُنكِرونَها، وتجِيءُ فتنٌ فيُرقِّقُ بعضُها بعضًا، وتجِيءُ الفتنةُ فيقول المُؤمنُ: هذه مُهلِكَتي، ثم تنكشِف، ثم تجيءُ الفتنةُ فيقول: هذه هذه، فمن أحبَّ أن يُزحزحَ عن النار ويُدخَل النار فلتأتِه منِيَّتُه وهو يُؤمنُ بالله واليوم الآخر، وليأتِ إلى الناس الذي يُحبُّ أن يُؤتَى إليه».

ترجمہ: نبی علیہ السلام نے فرمایا:  یقینا اس امت کی عافیت ابتدائی لوگوں میں ہے، اور آخری لوگوں کو مصیبتیں آئیں گی اور ایسے معاملات سامنے آئیں گے جو آپ نہیں جانتے ہوں گے(اس سے مراد دین میں نت نئے فتنے ،  بدعات اور خرافات ایجاد کی جائیں گی وگرنہ صحابہ کو بہت ہی بڑی بڑی دنیاوی  مصیبتیں آئیں)۔ایسے فتنے برپا ہوں گے جو دوسرے فتنوں کو ہلکا کردیں گے، ایک فتنہ آئے گا اور مومن کہے گا کہ اس میں تو میں ہلاک ہی ہوجاؤں گا، پھر وہ فتنہ ختم ہوجائے گا اور اس کی جگہ ایک دوسرا فتنہ آ پہنچے گا تو مومن کہے گا کہ یہی میری ہلاک کا سبب لگ رہا ہے، جو شخص آگ سے بچنا چاہتا ہے اور جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھے،  اور لوگوں کو اس حساب سے ملے جس طرح وہ اپنے لئے دوسروں سے توقع رکھتا ہے۔

یہ حدیث نبوت کے واضح  دلائل میں سے ایک ہے، کتنے زمانوں سے امت فتنوں سے گزر رہی ہے، ایک فتنہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔اور اللہ کے علاوہ کسی کے پاس بھی برائی سے روکنے کی طاقت نہیں ہے  اور نہ ہی نیکی کرنے کی توفیق۔

حقوق کی پاسداری

اسلامی بھائیو!

ایک بنیادی و عظیم اصول یہ بھی ہے جس کو اپنانا اور اس کا خیال رکھناہر جگہ کے حکام اور عوم کا فرض ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے کلام ـ قرآن مجید ـ اور احادیث رسول ﷺ پر عمل کرنا، اور امتِ مسلمہ کے حکاّم و عوام ممالک و  باشندوں کی اصلاح کے لئے اسلام نے جو حقوق بیان کئے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارنا، اور جب تک  طرفین (حکام و عوام) ان حقوق کی پاسداری کریں گے امن و سکون قائم رہے گا اورفراخی و استحکام اور ترقی عروج پذیر ہوگی۔ اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ان حقوق میں سستی کرنے کی وجہ سے ہی برائیاں پھیلتی ہیں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور ہر ملک کے حاکم کی ذمہ داری ہے کہ اخلاص، سچائی اور اللہ کو نگہبان جان کر اپنی امانت اور ذمہ داری کا حق ادا کرے۔اور جو درج ذیل  حکم اللہ تعالی نے  داود علیہ السلام کو دیا  اسے بھی  ہمیشہ یاد رکھے :

((يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ)) [ص: 26].

ذمہ داری ایک امانت ہے

ہر ملک کے حاکم، امیر اور قائدکی ذمہ داری ہے کہ وہ دل و جان سے نبی ﷺ کے اس فرمان کو یاد رکھے جو انہوں نے امارت (حکمرانی) کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:

«إنها أمانة، وإنها يوم القيامة خِزيٌ وندامةٌ، إلا من أخذَها بحقِّها، وأدَّى الذي عليه فيها»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: بیشک یہ ایک امانت ہے، اور قیامت کے دن رسوائی و ندامت ہے، مگر ( وہ شخص اس  رسوائی سے محفوظ رہے گا) جس نے اسے حق کے ذریعہ حاصل کیا اور اپنی ذمہ داری کو صحیح ادا کیا۔ (یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے)۔

کیا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے؟! ہرگز نہیں، یہ زندگی تو فانی ہے چاہے حاکم کی ہو یا محکوم (عوام) کی۔

ہر حاکم کا شعار نبی علیہ السلام کا یہ فرمان ہونا چاہئے:

«ما من راعٍ يسترعِيه الله رعيَّةً يموتُ يوم يموتُ وهو غاشٌّ لرعيَّته إلا حرَّم الله عليه رائحةَ الجنةِ»؛ رواه مسلم.

ترجمہ: کوئی بھی ذمہ دار شخص جسے اللہ نے کسی کی ذمہ داری دی تھی اگر وہ اپنے ماتحت لوگوں کو دھوکہ دے کر فوت ہوا تو اللہ اس پر جنت کی خوشبو تک حرام  کردے گا۔(صحیح مسلم)۔

اے مسلمان حاکم!

آپ کی مرضی ہے کہ آپ نبی ﷺ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق جنت اختیار کرتے ہیں یا جہنم۔

حاکم یا ذمہ دار ،ظلم پر سزا کا مستحق

تمام مسلم ممالک میں حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ اپنی عوام کے معاملات دیکھیں، اور اپنے ممالک میں ظلم کی تمام مختلف صورتوں کو ترویج دینے سے پرہیز کریں، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ تو ظلم سے بچتے ہیں لیکن ان کے منتخب وزراء  یا ذمہ داران لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور اس کے بارے میں  حاکم سے  بھی پوچھا جائے گا۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

«إني حرَّمتُ الظلمَ على نفسِي وجعلتُه بينَكم مُحرَّمًا».

ترجمہ: میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا ہے۔

امن و سکون کی فضاء

اور عدل کی بدولت ہی حاکم و محکوم  امن سے رہ سکتے ہیں ، اور ظلم کے ذریعہ سب ہی لوگوں  کو  شر  اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور فساد برپا ہوجاتا ہے، بغض و عداوت جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، اور مسلم ممالک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ نورِ نبوت کی سچی پیشین گوئیوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

عوام کی دیکھ بھال

حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے احوال کی خبر گیری کرے، اور کسی ایسے کام میں مشغول نہ ہو جو اسے عوام کی ذمہ داریاں نبھانے اور ان کی حاجات پوری کرنے  سے روکے ورنہ اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی کمانڈ بھی برباد ہوجائے گی۔اور حکمران و عوام کے درمیان بڑا فساد برپا ہوجائے گا۔

عوام یا محکوم کا خیال نہ رکھنے کی سزا

ایک صحیح حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

«من ولاَّه الله شيئًا من أمور المسلمين فاحتجَبَ دون حاجَتهم وخلَّتهم وفقرِهم احتجَبَ الله دونَ حاجته وخلَّته وفقرِه يوم القيامة».

ترجمہ:   اللہ تعالی جسے بھی مسلمانوں کا ذمہ دار ( حاکم وغیرہ) بنائے اور وہ ان کی حاجات، ضروریات اور مجبوریوں کو چھوڑ کر دستِ شفقت نہ رکھے تو اللہ تعالی بھی اس کی حاجات ، ضروریات اور ان پر شفقت و رحمت چھوڑدیتا ہے۔

حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے، اور خواہشات و نافرمانی کو ایک طرف چھوڑدے۔اور مسلمانوں کے معاملات میں ایسے متقی، پرہیزگار، فرماں رواں اور نیک لوگوں سے تعاون لےجو طاقتور اور امانت دار ہوں اور لوگوں کے لئے  بھلائی کے جذبات رکھتے ہوں۔دلوں کو ملاتے ہوں، جدا نہ کرتےہوں، فساد کی بجائے اصلاح کرتے ہوں۔ اور اگر حاکم کے ساتھ  برے لوگ مل گئے تو خطرات سر پر منڈلائیں گے اور شر کو تقویت ملے گی۔

اورتاریخ بہت بڑا عبرت  کا سبق ہے، اور  تاریخی حادثات ڈانٹ کے لئے کافی ہیں، اور جو شخص ان حادثات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو  پھر کب اسے عقل آئے گی؟

نبی علیہ السلام نے فرمایا:

«من قلَّد عملاً على عصابةٍ وهو يجِدُ في تلك العِصابة من هو أرضَى منه؛ فقد خانَ اللهَ وخانَ رسولَه وخانَ المؤمنين».

ترجمہ: جس نے کوئی کام  جماعت میں  کسی ایک کے سپرد کیا حالانکہ  اس سے بہتر شخص موجود تھا تو اس نے اللہ اور رسول ﷺ اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی۔ (حاکم اور دیگر کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے)

ہر حال میں دین کو ترجیح دینا ضروری ہے

تمام مسلم ممالک  کے حکمرانوں!  اپنے دین پر کسی اور چیز کو ترجیح دینے سے ڈریں، اور دوسروں کی دنیا کی خاطر اس دین کو خراب کرنے سے گریز کریں۔

دنیا سے خبردار رہنا

حاکم  کے لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ ہر زمانے میں انسانی نفوس پر دنیا کا غلبہ رہا ہے اور معاشرتی برائیوں کی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگ دنیا وی  مفادات، زیب و زینت  اور عہدوں کو ہی اپنا نصب العین بناچکے ہیں۔

اس سلسلے میں جو شخص بھی اس امارت کی آزمائش میں مبتلاء ہوگیا  اسے  اس دنیا سے متأثر ہوکر اپنی عوام کو چھوڑنے سے گریز کرنا چاہئے۔

صحیح بخاری کی حدیث ہے:

«إن رجالاً يتخوَّضون في مالِ الله بغير حقٍّ، فلهم النارُ يوم القيامة».

ترجمہ:  بیشک  کچھ لوگ اللہ کا مال ناحق حاصل  کرتے ہیں  ان کی جزا  قیامت میں آگ ہے۔

مال کے صحیح  استعمال کا اثر:

اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے عملی طور پر ارشاد فرمایا:

«إني واللهِ لا أُعطِي ولا أمنعُ أحدًا، إنما أنا قاسمٌ أضعُ حيثُ أُمِرت»؛ رواه البخاري.

ترجمہ: بیشک میں کسی کو نہ ہی  (اپنی مرضی سے) دیتا ہوں اور نہ ہی کسی کو (اپنی مرضی سے) منع کرتا ہوں بلکہ میں تو اس طرح تقسیم کرتا ہوں جس طرح مجھے حکم ہوتا ہے۔(بخاری)

اسی لئے ان کی درس گاہ سے ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور دیگر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیھم تربیت یافتہ ہوکرمنظر عام پر  آئے۔

سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ:

اس بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت کو ہی دیکھ لیں، انہوں نے اپنے نفس پر اتنا کنٹرول کیا ہوا تھا  کہ  جب ان سے یہ کہا گیا:

يا أمير المؤمنين! لو وسَّعتَ على نفسِك في النفقة من مالِ الله.

ترجمہ: امیر المومنین!  ہماری خواہش ہے کہ آپ بیت المال میں سے اپنی ذات پر بھی خرچ کیا کریں۔

تو ان کا جواب یہ تھا:

"أتدري ما مثَلي ومثَلَ هؤلاء؟ كمثَل قومٍ كانوا في سفَرٍ فجمعُوا منهم مالاً، وسلَّمَه إلى واحدٍ منهم يُنفِقُ عليهم؛ فهل يحِلُّ لذلك الرجل أن يستأثِرَ عنهم من أموالِهم؟".

کیا آپ جانتے ہیں  کہ میری اور ان کی مثال کیا ہے؟  یہ مثال اس طرح ہے کہ کچھ لوگ سفر میں ہوں اور وہ اپنا مال  کسی ایک شخص کے پاس جمع کردیں تاکہ وہ ان پر خرچ کرتا رہے، تو کیا یہ جائز ہوگا کہ وہ شخص ان کے مال کو (اپنی مرضی سے) اپنے لئے بھی  استعمال کرنا شروع کردے۔

اللہ کے دین کا نفاذ

حاکم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  ان پانچ اہم چیزوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کرے: دین، جان، عقل، عزت اور مال۔ اور ان میں سب سے  عظیم  چیز دین ہے، جس کے لئے حاکم پر فرض ہے کہ وہ اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کو نشر کرنے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی بھرپور کوششیں کرے، اور اپنے ملک میں نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کے لئے افراد اور  مراکز قائم  کرے۔ اور ہر حال  میں اللہ کی شریعت نافذ کرے۔  اور جو نظام بھی اللہ کی شریعت کے خلاف ہو اسے پسِ پشت ڈال دے۔ اور فاسدین اور مبتدعین پر سختی کرے۔ اور مسلمانوں کے برخلاف کسی کو بھی فساد کرنے کی مہلت نہ دے، چاہے اس فساد کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

(( وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا)) [الأعراف: 56].

ترجمہ:  اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو  ۔

اللہ کے بندو!

وعلى الرعيَّة وعلى المُجتمع أن يقومَ بحقُوقِه للراعِي، والتي من أهمِّها: طاعةُ الحاكم في غير معصِيَة الله - جل وعلا -، الحِفاظُ على السمع والطاعة ما لم يُؤمَروا بمعصيةٍ، وأن يبذُلوا المُناصَحَة وفقَ الأصول الشرعيَّة سرًّا لا علَنًا بالرِّفقِ واللِّينِ واللُّطفِ.

عوام کی ذمہ داریاں

۱ـ حکام کی اطاعت کرنا اگر گناہ کی بات نہ ہو

عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حاکم یا ذمہ داران کے حقوق ادا کریں، اور ایک اہم بات یہ ہے کہ  اگر اللہ کی نافرمانی کا کام نہ ہو تو حاکم کی اطاعت کی جائے، اور جب تک کسی گناہ کا آرڈر جاری نہ ہو اس وقت تک حاکم کی بات سننے اور فرماں برداری کرنے  پر قائم رہیں، اور علیحدگی میں شریعت کے اصلوں کے مطابق نرمی، مٹھاس اور محبت سے نصیحت کرتے رہیں۔

۲ـ حاکم کے لئے دعائیں کرنا

اور  عوام کی یہ بھی ذمہ ہے کہ حاکم کے لئے (نیکیوں کی ) توفیق، بھلائی اور سچائی پر قائم رہنے کی دعائیں کرتے رہیں۔

حکمران کا احترام کرنا اور ان کی عزت و  مقام کی حفاظت کرناعوام کے لئے ضروری ہے۔

مسند احمد میں صحیح حدیث ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

«من أكرمَ سُلطانَ الله - تبارَك وتعالى - في الدنيا أكرمَه الله يوم القيامة، ومن أهانَ سُلطانَ الله - تبارك وتعالى - في الدنيا أهانَه الله يوم القيامة».

ترجمہ: جس نے دنیا میں اللہ تبارک و تعالی کے (مقرر کردہ)  حاکم کی عزت کی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس  کو عزت سے نوازیں گے، اور  جس نے دنیا میں اللہ تبارک و تعالی کے (مقرر کردہ)  حاکم کی توہین  کی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس  کی بھی توہین  کریں گے۔

۳ـ صبر کی عزیمت:

اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ   وہ حاکم کے ظلم و ستم پر صبر کریں۔

صحیح بخاری میں نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:

«إنكم ستَرَون بعدي أثرَةً وأمورًا تُنكِرونَها». قالوا: فما تأمُرنا يا رسول الله؟ قال: «أدُّوا إليهم حقَّهم، وسلُوا اللهَ حقَّكم».

ترجمہ: یقینا آپ لوگ میرے بعد خود غرضی اور ایسے معاملات دیکھیں گے جو آپ جانتے تک نہیں ہوں گے،انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟  فرمایا: ان کا حق انہیں دے دو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔

اسی طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ مسلمان حکمران کے خلاف خروج کرنے سے بچیں جب تک کہ وہ واضح کفر نہ دیکھ لیں۔ اور اس السلے میں علما کی مقررر کردہ شرائط کو بھی دیکھنا ہوگا نہ کہ عوام اور لا علم لوگوں کی باتوں کو۔

صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے:

في "الصحيحين" أن عُبادة بن الصامِت - رضي الله عنه - قال: بايَعنا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - على السمع والطاعة في منشَطنا ومكرَهنا، وعُسرِنا ويُسرِنا، وأثرَةٍ علينا، وألا نُنازِعَ الأمرَ أهلَه، «إلا أن ترَوا كُفرًا بُواحًا عندكم فيه من الله بُرهان».

ترجمہ: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اللہ کے رسول ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر خوشی اور غمی میں، مشکل اور آسانی میں ، یعنی ہر حال میں بات سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے، اور  جھگڑا نہیں کریں گے۔جب تک کہ واضح کفر نہ دیکھ لیں جس (کفر) کے بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی دلیل بھی ہو۔

کفار سے مشابہت  مسلمانوں کی رسوائی

اللہ کے بندو!

ایک بہت ہی بڑا فتنہ یہ ہے کہ مسلمان  کفار اور مشرکوں کی مشابہت اختیار کریں، خاص طور پر جو باتیں اسلامی احکامات اور ہدایات کے مخالف ہوں، اسی وجہ سے مسلمانوں کو رسوا کن برائیوں اور  بڑے نقصان نے  گھیر لیا ہے۔ اسی لئے پیارے پیغمبر ﷺ نے امت کو اس سے ان الفاظ کے ذریعہ ڈرایا ہے:

«من تشبَّه بقومٍ فهو منهم».

ترجمہ: جو کسی قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہی میں سےہوگا۔

محبت، اتفاق  و اتحاد کی ضرورت :

مسلمانو!

فتنہ کے دور میں حکمرانوں اور عوام کے لئے  جن بنیادی اصولوں کی حفاظت ضروری ہے وہ یہ ہیں : سب کو اس بات کی حرص ہونی چاہئے کہ وہ لوگوں کو جمع کرنے والے کام کریں اور فرقہ واریت سے بچیں، اور محبت کی فضا کو قائم کریں،بغض پھیلانے سے پرہیز کریں۔اور سب لوگ صبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ صبر  بہت سے ایسے کاموں سے روک دیتا ہے جن کا  انجام برا ہوتا ہے۔اور صبرکے فقدان کی وجہ سے فتنوں کے اسباب شعلہ انگیز ہوتے ہیں، اور شر و فساد کو ہوا دینے والی آگ  بھڑکتی ہے۔

فتنوں کی بنیادی وجوہات

اور علما کے اقوال کے مطابق فتنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:  حق  اور صبر کو چھوڑدینا۔

((وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ)) [العصر: 1- 3].

ترجمہ: زمانے کی قسم، بیشک (بالیقین) انسان سراسر نقصان میں ہے  سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے (۱) اور نیک عمل کئے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

حاکم اور عوام کی  صفات

حاکم اور عوام کو بردباری، صبر و تحمل جیسی صفات اپنانے کے ساتھ ساتھ  جلدبازی سے بچنا چاہئے، اور انہی صفات کے ذریعہ ہی معاملات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، اور صحیح میزان میں تولا جاسکتا ہے۔ جبکہ عجلت اور جلد بازی سے بہت سارے کام بگڑجاتے ہیں۔اسی طرح سب کی ذمہ داری ہے کہ تمام معاملات میں نرمی سے کام لیں۔

سنت نبوی کا ایک اصول یہ ہے

«ما كان الرِّفقُ في شيءٍ إلا زانَه، ولا نُزِع من شيءٍ إلا شانَه، والرِّفقُ كلُّه خيرٌ».

ترجمہ: نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے سجا دیتی ہے۔ اور اگر  کسی چیز میں نرمی نہ ہو تو عیب دار   بنادیتی ہے۔ اور نرمی میں تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔

اے مسلمانو!

اس عظیم نظام کی پابندی کریں جس سے آپ کے حالات درست ہوں گے اور ممالک ترقی یافتہ ہوں گے۔

میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور مجھ  اور آپ سمیت تمام مسلمانوں کے لئے اللہ سے   ہر گناہ کی مغفرت  مانگتا ہوں، آپ لوگ بھی اس سے مغفرت مانگیں، بیشک وہ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، اور اس کی توفیق اور احسانات پر اسی کا شکر ہے، اور میں  اسی کی تعظیم بیان کرتے ہوئے یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔  یا اللہ!  ان پر اور ان کی آل اور صحابہ پر رحمتیں اور درود نازل فرما۔

حمد و ثنا کے بعد،

اے مسلمانو!

اللہ کا تقوی  عملی طور پر اپنالیں تاکہ دنیا و آخرت میں سعادت حاصل ہوجائے۔

توحید، ایمان اور سیرت النبی ﷺہرغم اور پریشانی سے نجات کا ذریعہ

اللہ کے بندو!

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان جب بھی توحید پر استقامت اختیار کر لیتے  ہیں اور صحیح ایمان  پر قائم ہوتے ہیں اور ایمان کے تمام حقوق، لوازم اور تقاضوں کو پورا کرتے ہیں، اور اسلامی احکامات پر عمل کرتے ہیں، اورنبی علیہ السلام کی سیرت  کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کے ہر غم کو دور کردیتا ہے اور ہر پریشانی  ختم کردیتا ہے اور  رزق کے ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتے، اور انہیں برائیوں اور گناہوں سے بھی بچاتا ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

(( إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا)) [الحج: 38].

ترجمہ: سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالٰی ہٹا دیتا ہے۔

نبی علہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر درود و سلام

اللہ کے بندو!

یقینا نبی مکرم ﷺ پر درود اور سلامتی بھیجنا  سب سے افضل عمل ہے۔ یا اللہ! ہمارے پیارے اور محبوب ترین  نبی محمدﷺ پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔یا اللہ! خلفائے راشدین اور ہدایت یافتہ ائمہ ـ ابو بکر، عمر، عثمان و علی ـ اور آل اور صحابہ سے بھی راضی ہوجا اور ان لوگوں سے بھی جو قیامت تک ان کی پیروی کریں گے۔

مسلمانوں کے لئے دعائیں

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یاللہ! مسلمانوں کو شر اور گناہوں سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مسلمانوں کو فتنون کے شر سے  محفوظ فرما، یا اللہ! انہیں ایک بات پر متفق کردے۔ یا اللہ! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ یا اللہ!  ان کے غموں کو دور فرمادے۔ یا اللہ ! انکی مصیبتوں کو ٹال دے۔

دشمنانِ اسلام پر بد دعاء

یا اللہ! اپنے اور انکے دشمن کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔ یا اللہ! اپنے اور انکے دشمن کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔ یا اللہ! اپنے اور انکے دشمن کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔

بہترین حُکام کی دعائیں

یا اللہ ! مسلمانوں میں جو سب سے بہتر ہو  اسے حاکم بنانا۔ یا اللہ ! مسلمانوں میں جو سب سے بہتر ہو  اسے حاکم بنانا۔ یا اللہ ! مسلمانوں میں جو سب سے بہتر ہو  اسے حاکم بنانا۔

یا اللہ! ان کا حاکم اہل ایمان اور متقی کو بنانا۔ یا اللہ!    اے سب سے رحم کرنے والے! ان کا حاکم اہل ایمان اور متقی کو بنانا۔

امن و سلامتی کی دعائیں

یا اللہ!   اے ہمیشہ رہنے والے! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے امن کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے امن کی حفاظت فرما۔

یا اللہ!  اے عزت و جلال والی ذات! ہمارے امن و سکون اور فراخی  کو قائم و دائم فرما۔

یا اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں مہنگائی سے، وبا سے، زلزلوں اور مصیبتوں سے، اور فتنوں کے شر سے، چاہے وہ  (فتنے) ظاہری ہوں یاپوشیدہ۔

مغفرت کی دعائیں

یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی مغفرت فرما۔ یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی مغفرت فرما، چاہے وہ حیات ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔

دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعائیں

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے  بچا۔

یا اللہ! ہمارے امیر کو ہر اس کام کی توفیق دے جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ یا اللہ! ان کی پیشانی سے پکڑکر انہیں نیکی اور تقوی کے کاموں میں لگادے۔

یا اللہ! نائب  امیر کو بھی ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔  یا اللہ!  ان دونوں کے اعمال کو اپنی رضا کا باعث بنادے۔

یا اللہ! تمام مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی عوام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

مظلوم مسلمانوں کے لئے   خصوصی دعائیں

یا اللہ! ان فتنوں کے حالات  میں مسلمانوں پر رحم فرما۔ یا اللہ! ان فتنوں کے حالات  میں مسلمانوں پر رحم فرما۔

یا اللہ!   اے تمام جہانوں کے رب! (ان مصیبتوں سے) ان کے نکلنے کا راستہ بنادے۔

یا اللہ! انہیں معاملات میں ہدایت عطا فرما۔ یا اللہ! انہیں معاملات میں ہدایت عطا فرما۔ یا اللہ! انہیں معاملات میں ہدایت عطا فرما۔

یا اللہ!  اے ہمیشہ سے زندہ و باقی رہنے والے!  اے عزت و جلال والے! شام کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔

یا اللہ! مصر کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! تونس کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! لیبیا کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔

یا اللہ! یمن کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! ان کے لئے دینِ اسلام کو نافذ کرنے کی راہیں ہموار کردے۔

یا اللہ! ان کی باتوں میں اتفاق پیدا فرما۔ یا اللہ! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ یا اللہ !   یا ذاالجلال والإکرام! ان کی خواہش کو پورا فرمادے۔

اللہ کے بندو!

اللہ کا کثرت سے ذکر کریں، اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کریں۔

 

ملاحظہ کیا گیا 3948 بار آخری تعدیل الأربعاء, 14 آب/أغسطس 2013 21:55

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم