بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 11 نيسان/أبريل 2013 00:09

اللہ کی محبت (اہمیت، اسباب ونتائج) مکمل خطبہ جمعہ

مولف/مصنف/مقرر 

مسجدِنبوی کے خطبہ جمعہ کا مکمل ترجمہ،بعنوان:

اللہ کی محبت (اہمیت، اسباب ونتائج)

امامِ حرم ڈاکٹرعبدالباری بن عواض الثبیتی حفظہ اللہ

مؤرخہ: ۲۴جمادی الأولی۱۴۳۴ھ بمطابق: ۵ اپریل ۲۰۱۳م

ترجمہ: شعیب اعظم مدنی

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

امامِ حرم فضیلۃ الشیخ عبد الباری  بن عواض ثبیتی نے خطبہء جمعہ اس موضوع پر دیا:

’’اللہ تعالیٰ کی محبت اور اسے حاصل کرنے والے اسباب‘‘

اس میں انہوں نے اللہ تعالٰی کی محبت کے حوالہ سے گفتگو فرمائی، اور یہ بتایا کہ بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ ربِّ کائنات سے سچی، حقیقی اور سب سے بڑھ کر محبت نہ کرے،پھر محبّت کے معانی ومفاہیم  ذکر کئے، اور کچھ ایسے اسباب ذکر کئے جن کے ذریعہ بندہ اپنے رب کی محبت کا مستحق ہوجاتاہے۔اور آخر میں  انہوں نے محبت کی چار اقسام ذکر کیں اور فکر و عمل کے حوالہ سے ان میں بنیادی فرق کی اہمیت کو واضح کیا۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی محبت کو سب سے معزز محصول  اور عظیم نعمت قرار دیا ہے،  میں اسی کی تعریف کرتا ہوں، اور کھانے پینے کی نعمت پر اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ تمام نقائص و عیوب سے پاک ہے، اس نے انسان کو ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔

اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جنہوں نے ہدایت ، نور اور نفس کو عیوب کے پاکیزہ کرنے کی دعوت دی۔اللہ ان پر اور ان کی آل پر اور تمام صحابہ پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و ثنا کے بعد:

میں آپ سب کو مجھ سمیت اللہ کا تقوی  اختیار کرنےکی نصیحت کرتا ہوں۔یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:

))يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ(( [آل عمران: 102].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے  ڈرو جیسااس سے ڈرنے کاحق ہے، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

اللہ سے محبت کرنے کی  بنیادی وجوہات

اللہ سے محبت کرنا ایمان کا تقاضا ہے، اور اس وقت تک توحید مکمل نہیں ہوسکتی جب تک بندہ اپنے رب سے مکمل محبت نہ کرے، اور نہ تو محبت کی اس سے زیادہ واضح تحدید کی جاسکتی ہے اور  نہ ہی اس سےبہتر تعریف ہوسکتی ہے، اوراللہ کے سوا  کوئی بھی  ایسی ذات ( چیز) نہیں جس سے مکمل طور پر  محبت کی جائے  اوراسی کے لئے ہی  الوہیت ، عبودیت، خشوع و خضوع اور مکمل محبت  لائق  و زیبا ہے۔

اللہ تعالی کی محبت  کی شان جیسی کوئی شان نہیں،کیونکہ خالق و موجد سے زیادہ دلوں کو   کوئی چیز محبوب نہیں، وہ تو الٰہ ہے، معبود ِ برحق ہے، ولی ہے ، مولٰی ہے، رب ہے ، تدبیر کرنے والا ہے، رزق دینے والا ہے، موت و حیات کا مالک ہے؛ اور اسی کی محبت دلوں کی نعمت ہے، روح کی حیات ہے، نفس کا سرور ہے، دلوں کی غذا ہے، عقلوں کا نور ہے، اور آنکھوں کی ٹھندک ہے، اور اندرونی  عمارت ہے۔اور مخلص دل،پاکیزہ روح اور  عقل سلیم کے مطابق اللہ کی محبت، اُس سے اُنسیت اور اس کی ملاقات کے شوق سے  زیادہ  خوبصورت، پاکیزہ ، رازدار اوربہتر نعمت اورکوئی نہیں۔

یحیٰی بن معاذ فرماتے ہیں:

"عفوُه يستغرِقُ الذنوبَ؛ فكيف رِضوانُه؟ ورِضوانُه يستغرِقُ الآمال؛ فكيف حُبُّه؟ وحبُّه يُدهِشُ العقول؛ فكيف ودُّه؟ وودُّه يُنسِي ما دُونَه؛ فكيف لُطفُه؟".

ترجمہ: جب اس کی معافی تمام گناہوں  کو ڈھانپ لیتی ہے تو اس کی رضا کا کیا عالم ہوگا؟ اور جب اس کی رضا امیدوں کو سمیٹ لیتی ہے تو اس کی محبت کیسی ہوگی؟ اور جب اس کی محبت کا یہ عالم ہو کہ وہ عقلوں کو حیران کردے تو اس کی مودّت کیسی ہوگی؟ اور اس کی مودت تو سب کچھ بھلادے گی تو اس کا لطف کیسا ہوگا؟

اور  انسان جتنی زیادہ اللہ سے محبت کرتا ہے اتنی ہی زیادہ ایمان کی لذت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے، اور جس کا دل اللہ کی محبت سے بھرجائے اللہ اسے دوسروں کی محبت ، ڈر اور ان پر توکل کرنے سے اس بندے کو بے نیاز کردیتا ہے۔اور صرف اللہ تعالی کی محبت ہی ایک ایسی چیز ہےجو  دلوں  کو بے نیاز کردیتی ہے ، حاجتوں کو پورا کرتی ہے، اور بھوک کو ختم کردیتی ہے۔

اور اگر  اللہ تعالی کی محبت کے بغیر اسے وہ سب کچھ مل بھی جائے جس سے اسے لذت حاصل ہو تب بھی اسےامن  و  اطمینان اور سکون نہیں مل سکے گا، اور آنکھوں   کا نور، کانوں کی سماعت، ناک کا سونگھنا، زبان کا بولنا ان تمام نعمتوں کے ختم ہوجانے سے اتنی تکلیف نہیں ہوگی جتنی تکلیف  دل سے اللہ کی محبت نکل جانے سے ہوگی بلکہ اگر دل اپنے  حقیقی خالق و مالک اور معبود کی محبت سے خالی ہوجائے اور روح مردہ ہوجائے تو  وہ جسم کی خرابی سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔

سچی محبت

حقیقی محبت یہ ہے کہ آپ خود کو مکمل طور پر اس ذات کے حوالے کردیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ کے پاس کچھ نہ رہے،اور اللہ کی سچی و حقیقی  محبت وہ ہے جو دیگر تمام محبتوں پر غالب  اور مقدم رہے، اور بندے کی تمام تر محبّتیں اُسی (اللہ کی) محبت کے تابع و تحت ہونی چاہئیں ،اسی میں بندے کی سعادت اور کامیابی ہے۔

محبت کی مقدار میں محبِّین(محبّت کرنے والوں) کےمختلف  درجات ہیں، اسی لئے اللہ تعالی نے مؤمنوں کی محبت کو شدید کہا ہے اور فرمایا ہے:

((وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ)) [البقرة: 165].

ترجمہ: اور ایمان والےتو اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

((أَشَدُّ)): یہ لفظ ان کی محبت کے مختلف درجات ہونے کی دلیل ہے؛ کیونکہ اس کا معنی ہے:  زیادہ  سے زیادہ محبت۔

اللہ کی محّبت کے تقاضے

اپنے نفس، روح اور مال  و دولت کی محبتوں کو اللہ تعالیٰ  کی محبت پر قربان کردینا، پھر ظاہری و باطنی طور پر اس کی موافقت کرنا، پھر اللہ کی محبت میں ہونے والی کوتاہیوں کو جاننا، سمجھنا،الغرض: آپ مکمل طور پر اپنے محبوب (رب) کے فرماں بردار بن جائیں،اور اپنے  نفس کو اُسی کی رضا کی خاطر وقف کردیں، اور اس کے ساتھ ساتھ(مسنون طریقے کے مطابق) محبوب(اللہ) کی یاد میں ہی دل لگائیں،اور ہمیشہ اپنی زبان سے اُسی اللہ کا ذکر کریں۔ پیارے ﷺاس  کے حصول کے لئے یہ دعا کیا کرتے تھے:

«أَسأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَن يُحِبُّكَ، وَحَبَّ عَمَلٍ يُقرِّبُ إلٰى حُبِّكَ».

ترجمہ:میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور اس شخص کی محبت جس سے تو محبت کرتا ہے، اور اس عمل کی محبت جس کی بدولت تیری محبت حاصل ہوتی ہے۔

شدّتِ محّبت

اگر محبت بہت زیادہ شدید  ،عظیم اور بلندہوجائے تووہ   ’’ولہ‘‘ یعنی شدّتِ غم اختیار کرلیتی ہے، اور وہی انتہاء درجہ کی محبت ہے، اور  اللہ تبارک و تعالی  کی محبت کے لئے ’’تألُّه‘‘  کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب ہے :اللہ کی شدید محبت، اور اس کی محبّت جو اللہ  تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے(قرآن کریم، شریعتِ مطہّرہ)۔

اور بندوں کے لئے غذا سے زیادہ ’’تألُّه‘‘ (اللہ تعالیٰ ، اسکی کتاب اور اسکے دین کی شدید محبت) کی  ضرورت ہےکیونکہ غذا کے نہ ہونے سے جسم کو نقصان  ہوتا ہے اور’’تألُّه‘‘(اللہ تعالیٰ ، اسکی کتاب اور اسکے دین کی شدید محبت)کے نہ ہونے سے نفس (روح)کو نقصان  ہوجاتا ہےاور وہ برباد و ہلاک ہوجاتا ہے۔

مؤمن جب اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو اُس سے محبت کرتا ہے، اور جب اُس سے محبت کرتا ہے تو اُسی کی طرف آتا ہے، اور جب اُسے اللہ کی طرف آنے کی مٹھاس حاصل ہو جاتی ہے تووہ دنیا کی طرف شہوت کی نظر سے نہیں دیکھتا،اور آخرت کی طرف  سُستی و غفلت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔

اللہ کی محبت کے نتائج وفوائد

اللہ کی محبت بندے کو واجب  اور مستحب (پسندیدہ) کام کرنے اور حرام اور مکروہ (ناپسند) کام چھوڑنے کی ترغیب دلاتی ہے۔اور دل کو ایمان کی لذت اور مٹھاس سے بھر دیتی ہے۔

«ذاقَ طعمَ الإيمان من رضِيَ بالله ربًّا، وبالسلام دينًا، وبمُحمَّدٍ رسولاً».

ترجمہ: جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر  راضی ہوگیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔

 

اللہ کی محبت دل سے ہر اس چیز کو نکال دیتی ہے جس سے اللہ کو نفرت ہوتی ہے، اور جسم کے اعضاء بھی اللہ کی محبت کی بدولت فرماں بردار ہوجاتے ہیں، جس وجہ سے دل مطمئن ہوجاتا ہے، حدیث قدسی  ہے:

«.. فإذا أحبَبتُه كنتُ سمعَه الذي يسمعُ به، وبصرَه الذي يُبصِرُ به، ويدَه التي يبطِشُ بها، ورِجلَه التي يمشِي بها».

ترجمہ: اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کی وہ سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی وہ بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔

محبت کرنے والا محبت میں  ایسی مٹھاس حاصل  کرلیتا ہے جو  تمام پریشانیوں کو بھُلا دیتی ہے، اور اس کی مٹھاس کا اندازہ صرف اسے ہی ہوتا ہے جس نے اسے چکھا ہو۔

اللہ کی نافرمانی اور مخالفت سے روکنے والے اسباب میں  سب سے قوی سبب اللہ کی محبت ہے؛ کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی ہر بات مانتا ہے۔

اور محبت کی پکڑ، ہولڈ(Hold) دل پر جتنا زیادہ مضبوط ہوگی  اتناہی زیادہ بندہ فرماں بردار ہوگا اور نافرمانی سے بچے گا۔اور نافرمانی اور مخالفت تو محبت اور اس کا کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔

سچی محبت اور جھوٹی محبت کے نتائج

اور سچی محبت کرنے والے کے لئے محبوب کی طرف سےایک نگراں ہے جو اس کے دل اور بقیہ اعضاء کی حفاظت کرتا ہے،جبکہ خالی محبت کا یہ پھل ہرگز نہیں ملتا جب تک کہ اس میں محبوب کی تعظیم اور عزت نہ ہو،  اور جب اس میں یہ احترام اور تعظیم آجائے تو اس کے نتیجے میں حیاء اور اطاعت  قائم ہوجاتی ہے، ورنہ محض محبت سے صرف انسیت، خوشی، یاددیہانی اور شوق ہی ملتا ہے(شرم و حیا اور اطاعت نصیب نہیں ہوتی)، اسی لئے اس کا اثر اور  نتیجہ  نظر نہیں آتا، اور بندہ اپنے دل میں جب جھانکتا ہے تو اسےاللہ کی محبت تو کچھ نظر آتی ہے مگر وہ محبت اسے گناہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتی۔

اس کا سبب یہ ہے کہ وہ عزت و تعظیم سے خالی ہے، اور اللہ کی عزت و تعظیم کے ساتھ محبت  کرنا ہی ایک ایسی نعمت ہے جس کے سوا  کوئی اور چیز دل کو آباد نہیں کرسکتی۔اور یہ اللہ کی سب سے بڑی  اور افضل ترین نعمت ہے،اور یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے۔

اور جب محبت خضوع و خشوع سے خالی ہوجائے تویہ محض ایک ایسا دعوی  ہوتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، اور یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اللہ کی محبت کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن اللہ کا حکم نہیں مانتے اور نہ ہی سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے اقوال، اعمال اور عبادات میں اسے اپناتے ہیں۔

اور جو شخص بھی اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع نہیں کرتا  وہ نہ تو اللہ سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی اس کا دعوی کرنے کا اسے کوئی حق ہے۔اسی لئے اللہ تعالی نے یہود و نصاری کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا:

((وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ)) [المائدة: 18].

ترجمہ: یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔

تو محض دعوی تو ہر ایک کرلیتا ہے، اللہ تعالی نے ان کے دعوے کو باطل قرار دیتے  ہوئے حقیقت کو واضح کیا اور فرمایا:

((قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ)) [آل عمران: 31].

ترجمہ: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو۔ خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامات

*اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامات یہ ہیں:

*اللہ کے اطاعت گزار بندوں سے محبت کرنا،

*اس کے ولیوں سے دوستی کرنا (قرآن کریم کی روشنی میں اللہ کا ولی وہ ہے جو کما حقہ ایمان لائے ، اُس کے تقاضوں کو پورا کرے ، اور اللہ کا تقویٰ حاصل کرے اورمشرک ، بدعتی اوراس کےرسولﷺاور اُس کے دین و شریعت کا نافرمان نہ ہو ۔) ،

* اس کے نافرمان لوگوں سے دشمنی رکھنااور اُن سے جہاد کرنا،

*اور اس (اللہ کے دین) کا دفاع کرنے والوں کی مدد کرنا۔

اور جب بندے کے دل میں اللہ کی محبت قوی ہوجاتی ہے تو ان  اعمال میں بھی  پختگی آجاتی ہے۔

اللہ کی محبت کے اسباب

ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان اسباب کو جان لیں جن کی بدولت اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

۱ـ پہلا سبب:

اللہ کی بے شمار اور لا تعداد نعمتوں کو جاننا۔

((وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا)) [النحل: 18]،ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔

((وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ)) [القصص: 77]. ترجمہ: جیسے کہ اللہ تعالٰی نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر۔

۲ـ دوسرا سبب:

اللہ کے پیارے نام، صفات اور افعال کو پہچاننا؛ اور  جو اللہ کو پہچان لے تو اسے اس سے محبت ہوجاتی ہے، او رجسے اللہ سے محبت ہوجائےوہ اس کی اطاعت بھی کرتا ہے، اور جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے اور جسے اللہ عزت دے تو اُسے اپنے رحمت میں جگہ دیتا ہے، اور جسے اللہ کی رحمت نصیب ہوگئی  تواس سے بڑا خوش نصیب کوئی نہیں۔

۳ـ تیسرا اور اہم سبب:

آسمانوں اور زمینوں کی خلقت میں غور و فکر کرنااور اللہ کی ان مخلوقات پر غور کرنا جو اس کی عظمت، قدرت، جلال، کمال، بڑائی،نرمی، رحمت اور  شفقت کی دلیل ہیں۔ اور اللہ کے پیارے پیارے نام اور اس کی صفات وغیرہ  کو پہچاننا۔ اور جب اللہ کی معرفت بندے کے دل میں قوی ہوجاتی ہے تو اس کی محبت بی بڑھ جاتی ہر اور اطاعت بھی۔

۴ـ چوتھا سبب:

سچائی اور اخلاص کو برقرار رکھتے ہوئے خواہشات کی مخالفت کرنا، کیونکہ یہ  بندے پر اللہ کے فضل اور محبت  کا ذریعہ ہے۔

۵ـ پانچواں سبب:

کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا، اور محبت کرنے والا اپنے محبوب کا ہی کثرت سے ذکر کیا کرتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:

((أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ)) [الرعد: 28]. ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو قرآن مجید سے برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس کی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں کو ہمارے لئے نفع بخش بنائے، میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ رب العزت سے سب کے لئے مغفرت مانگتا ہوں، بیشک وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے نیک دعوت کے ذریعہ اپنے بندوں کی مدد کی، میں اسی کی تعریف کرتا ہوں اور مکمل کرم نوازی پر  اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں،وہ تمام مخلوقات کا رب ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔جن کی تائید معجزات کے ذریعہ کی گئی، اللہ ان پر اور ان کی آل پر اور ان کے تمام صحابہ پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و ثنا کے بعد:

میں مجھ سمیت  آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔

((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا)) [الأحزاب: 70، 71].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالٰی تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے،اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔

محبت کی اقسام

اسلامی بھائیو!

محبت کی چار اقسام ہیں، ان میں فرق  کو پہچاننا اور فرق رکھنا بہت ضروری ہے:

۱ـ پہلی قسم:

" اللہ سے  محبت کرنا " ۔

عذاب سے بچنے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے  محض اللہ کی  زبانی و دلی محبت کافی نہیں، وگرنہ اللہ سے محبت تو مشرکین، صلیب کی پوجا کرنے والے، اور یہود وغیرہ بھی کیا کرتے تھے۔(یعنی زبانی و دلی محبت کے ساتھ ساتھ اُس محبت کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا بھی لازمی ہے۔)

دوسری قسم:

"ہر اس چیز سے محبت کرنا جس سے اللہ محبت کرتا ہے"۔

اسی  محبت کی بدولت انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے  یا اس سے  باہر ہو جاتا ہے، (یعنی جو ہر اُس چیز سے محبت کرے جس سے اللہ محبّت کرتا ہے تو وہ اسلام کے اندر ہے اور جو ہر اُس چیز سے محبت نہ رکھے جس سے اللہ محبّت کرتا ہے تو وہ دینِ اسلام سے باہر ہوگا، یا معنی یہ ہے کہ :اللہ تعالیٰ کو دینِ اسلام سے محبت ہے اسی لئے اُس نے دینِ اسلام کو اپنے بندوں کے لئے بطورِ دین کے منتخب فرمایا ، سو جو  اللہ سے محبت کرتا ہے وہ دینِ اسلام اور اُس کے احکامات سے عملی محبّت کرتاہےاورجو اللہ سے محبت نہیں کرتا وہی دینِ اسلام سے بھی محبّت نہیں کرتا)،

اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ترین انسان  وہ ہے جس کی یہ محبت سب سے زیادہ شدید اور سب سے بڑھ کر اور قوی ہے۔

تیسری قسم:

ثالثًا: الحبُّ في الله ولله، وهي من لوازِم محبَّة ما يُحبُّ، ولا تستقيمُ محبَّةُ ما يُحبُّ إلا فيه ولَه.

"اللہ ہی کے لئے (کسی سے ) محبت اور اللہ کی چاہت کے مطابق محبت"۔

یہ اللہ کی محبوب چیزوں سے  محبت کرنے  کا تقاضہ ہے ۔ اور اللہ کی پسندیدہ چیزوں کی محبت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اللہ کی چاہت کے مطابق اللہ ہی کے لئے محبت نہ ہو۔

چوتھی قسم:

"اللہ کے (علاوہ کسی دوسرے کے )ساتھ ( بھی ایسی)محبت کرنا(جو اللہ کے لئے نہ ہو)"۔

یہ شرکیہ محبت ہے، اور جو شخص بھی اللہ کے لئے نہیں بلکہ  اللہ کے ساتھ  کسی دوسری چیز سے بھی محبت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کے علاوہ اسے  (بھی عبادت میں) شریک بنالیا ہے۔ اور یہی مشرکین کی محبت ہے۔

(اللہ کے لئے کسی دوسرے سے محبّت کرنے میں اور ایسی محبت میں جو کسی دوسرے سے ہو مگر اللہ کے لئے نہ ہو اس میں واضح فرق ہے اور شیخ کی مراد یہاں دوسری محبت ہے جو کسی  سے ہو مگر اللہ کے لئے نہ ہو۔حم)

((وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ)) [البقرة: 165].

ترجمہ: بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے، اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

درود و سلام اور دعائیں:

اللہ کے بندو! یاد رکھئے!

ہدایت کے رسول ﷺ پر درود بھیجیں،  اللہ نے اس کا حکم  قرآن مجید میں دیا ہے اور فرمایا ہے :

(( إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)) [الأحزاب: 56].

ترجمہ: اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔

یا اللہ! محمدﷺ اور انکی ازواج مطہرات اور انکی اولاد پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تونےابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں۔

یا اللہ! محمدﷺ اور انکی ازواج مطہرات اور انکی اولاد پر برکتیں نازل فرما جس طرح تونےابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو بہت تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے۔

ا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اور شرک اور مشرکوں کو رسوا کردے۔ اور یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے۔

یا اللہ! اس ملک سمیت تمام مسلم ممالک  کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے۔

مظلوموں کے لئے دعائیں:

یا اللہ! شام میں  ہمارے بھائیوں کے ساتھ  جو کچھ ہورہا ہے تو اسے جانتا ہے اور اس پریشانی کو ختم کرنے پر بھی قادر ہے۔ یااللہ! ان کی مصیبت اور آزمائش کو دور فرمادے۔ یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ یااللہ! ان کا حامی و ناصر اور معاون ہوجا۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، ان کے نشانوں کو درست فرما اور اپنے اور انکے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ان کے دشمنوں کو ہلاک کردے۔ یا اللہ! شام میں سرکشی کرنے والے اور اس کے معاونین کو نیست و نابود کردے۔ یااللہ! اے طاقتور اور غالب! ان کے اتحاد کو پارا پارا کردے، ان کی اجتماعیت کوتباہ کردے، اور  انہیں گردشوں میں مبتلا فرمادے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! کتاب کو نازل کرنے والے!  بادلوں کو چلانے والے!  لشکروں کو شکست دینے والے!  ان کی مدد فرما اور ان کے دشمنوں کو شکست دے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! شام میں ان کے دشمنوں کو شکست دیدے، اور ہمارے شامی بھائیوں کی مدد فرما،بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔

یااللہ! یقینا ہمارے شامی بھائی بے لباس ہیں انہیں لباس مہیا فرما، وہ بھوک میں ہیں انہیں کھانا عطا فرما، وہ جوتیوں کے محتاج ہیں انہیں  جوتیاں عطا فرما، وہ مظلوم ہیں تو ان کا بدلہ لے لے، یااللہ! وہ مظلوم ہیں تو ان کا بدلہ لے لے۔ یااللہ! وہ مظلوم ہیں تو ان کا بدلہ لے لے۔ یااللہ! اے طاقتور!  اے غالب!  اے جبار! وہ مظلوم ہیں تو ان کا بدلہ لے لے، بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہماری دعا کو قبول فرما۔ یا اللہ! ہماری دعا کو قبول فرما۔ یا اللہ! ہماری دعا کو قبول فرما۔

سب کے لئے دعائیں:

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کی دعا کرتے ہیں اور ہر اس قول و فعل کی دع کرتے ہیں جو جنت میں جانے کا ذریعہ ہو، اور تیری پناہ مانگتے ہیں آگ  سے اور ہر اس قول و عمل سے جو آگ میں جانے کا سبب ہو۔

یا اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملات میں  عصمت (گناہوں سے بچنے) کا باعث ہے۔اور ہماری دنیا کو بھی سنوار دے جو ہمارے لئے ذریعہء معاش ہے۔اور ہماری آخرت بھی بہتر فرما جس میں ہمارا انجام ہے۔اور ہماری  زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا سبب بنادے۔ اور موت کو ہر برائی سے راحت کا ذریعہ بنادے۔

یا اللہ! ہماری  معاونت فرما اور ہمارے دشمنوں کی معاونت  نہ فرمانا۔ یا اللہ! ہماری  مدد  فرما اور ہمارے دشمنوں کی مدد نہ فرمانا۔ اور  اپنی تدبیرہمارے حق میں فرمانا ہمارے خلاف نہ کرنا، اور ہمیں سیدھا راستہ دکھادے اور ہدایت کو ہمارے لئے آسان فرمادے، اور ہم پر زیادتی کرنے والوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں اپنا ذکر کرنے والا بنادے، اپنا شکرگزار بنادے، اپنے سامنے عاجزی کرنے والا بنادےٍ، اپنے سامنے گڑگڑانے والا اور اپنی طرف  لوٹ کو آنے والا بنادے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ہماری توبہ قبول فرمالے، ہماری دعا قبول فرمالے، ہمارے دلوں سےحسد کو نکال دے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! تمام غمزدہ مسلمانوں کے غم کو دور فرمادے، پریشان حال لوگوں کی پریشانی دور فرمادے،  قرض داروں کا قرض ادا کروادے، ہمارے اور تمام مسمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرمادے اور ہمارے اور تمام مسلمانوں کے فوت شدگان کی مغفرت فرمادے۔

اللهم وفِّق إمامنا لما تُحبُّ وترضى، وخُذ بناصيتِه للبرِّ والتقوى، اللهم وفِّق جميعَ وُلاة أمور المُسلمين للعمل بكتابِك، وتحكيم شرعِك يا رب العالمين.

یا اللہ! ہمارے امیر کو ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے، اور ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے  کاموں میں لگادے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! تمام مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی کتاب (قرآن مجید) پر عمل کرنے اور اپنی شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

((رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ)) [الحشر: 10]

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کی طرف ہمارے دل میں کہیں (اور دشمنی) نہ ڈال ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔

((رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ)) [الأعراف: 23]

ترجمہ: دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

((رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) [البقرة: 201].

ترجمہ: اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔

((إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ)) [النحل: 90]

ترجمہ: اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

اور آپ سب اللہ کا ذکر کریں وہ بھی آپ کا ذکر کرے گا، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں وہ مزید عطا فرمائےگا، اور اللہ کا ذکر بہت بڑی بات ہے، اور اللہ جانتا ہے جو آپ سب کرتے ہیں۔

***

 

ملاحظہ کیا گیا 17987 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 15:00

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم