بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
السبت, 02 شباط/فبراير 2013 21:01

جود و سخاوت فضیلت و احکام و مسائل

مولف/مصنف/مقرر  امامِ حرم ڈاکٹرعبد الباری الثبیتی حفظہ اللہ

’’ جود و سخاوت ‘‘ فضیلت،أحکام و مسائل

مترجم:  شعیب اعظم مدنی  (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

فضیلۃ الشیخ عبد البارئ بن عواض الثبیتی حفظہ اللہ نے جمعہ کا خطبہ اس موضوع پر دیا: ’’ جودوسخاوت کی فضیلت ‘‘ جس میں انہوں نے اللہ کے راستےمیں خرچ  کرنے اور سخاوت کی اہمیت و فضیلت پر گفتگو فرمائی۔اور بتایا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے اولادِ آدم کے سردار امام الانبیاء جناب ِ محمد رسول اللہﷺہیں۔ اورآپﷺکی خوشی اللہ کے لیے خرچ کرتے ہوئے دیتے وقت ،لینے والے سے زیادہ ہوتی، اورمحترم شیخ حفظہ اللہ  نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی حیاتِ طیبہ سے بھی (اللہ کے راستے میں ) دینے اور  خرچ  کرنے کی مثالیں دیں۔اور بعض احادیث بھی ذکر کیں جن میں نبی ﷺ نے  عاجزی، بخیلی اور لالچ سے پناہ مانگی ہے۔

 

 

 

پہلا خطبہ

 

تما م تعریفیں اللہ  ہی کے لئے ہیں جس کا فرمان ِ مبارک ہے:

 

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى[الليل: 5- 7]،

 

ترجمہ:جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)۔ اور اچھی بات کو سچ سمجھا۔  تو ہم بھی اسکو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔

 

میں اللہ سبحانہ وتعالی کی تعریف کرتا ہوں اور اسکی بے شمار و لاتعداد نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں  وہ اکیلا ہے  اس کا کوئی شریک نہیں۔

 

اللہ تعالیٰ کی سخاوت:

 

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 

وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا[الإسراء: 20]،

 

ترجمہ:اور تمہارے پروردگار کی بخشش  (کسی سے)  رکی ہوئی نہیں۔

 

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جن سے رب نے فرمایا:

 

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى[الضحى: 5]،

 

ترجمہ:اور آپ کو پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ  خوش ہو جائیں گے۔

 

اللہ ان پر اور ان کے آل پر اور تمام صحابہ پر رحمتیں نازل فرمائے۔

 

حمد و ثنا کے بعد:

 

میں آپ سب کو مجھ سمیت اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔

 

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ[آل عمران: 102].

 

ترجمہ:مومنو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

 

سخاوت ایک عبادت:

 

اللہ کے بندو!

 

(اللہ کے لئے) مال خرچ کرنا  ایک عبادت ہے اور اللہ کی نعمتوں کے شکر کا ایک طریقہ ہے۔

 

اللہ کے رسول ﷺکی سخاوت:

 

اور ہمارے پیارے رسول ﷺ نے تو ( اللہ کے لئے)  خرچ کرنے کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں؛ سب کچھ  دل و جان سے دے دیا،اور اپنے پاس کچھ بھی نہ  رکھا۔

 

جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 

"ما سُئِل رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - شيئًا قطُّ فقال: لا، سألَه رجلٌ غنَمًا بين جبلَيْن فأعطاه إيَّاها"،

 

اللہ کے رسول ﷺ سے کبھی بھی کوئی بھی چیز مانگی جاتی تو وہ کبھی بھی انکار نہ کرتے ، یہاں تک کہ ایک شخص نے ان سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بکری مانگی تو انہوں نے وہ بھی اسے دے دی۔

 

وبلغَ من عطائه: أنه أعطى ثوبَه الذي على ظهره،

 

اور انکی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے  اپنی پیٹھ کا کپڑا تک دے دیا۔

 

ومن عطائه لأمَّته: أنه سخَّر حياتَه لها نذيرًا وبشيرًا قائلاً:

 

اور اپنی امت کے لیے آپ ﷺ کی سخاوت یہ تھی کہ آپ ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبّہ اُمت کےلئےوقف فرمادی ، اور  یوں فرماتے رہتے:

 

إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ [سبأ: 46].

 

ترجمہ:وہ تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے ۔

 

نبی ﷺکی اہم ترین سخاوتیں:

 

۱ـ پوری حیات طیبّہ اُمت کےلئےوقف:

 

اور امت کے لئے  انکی سخاوت کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ انہوں نےاپنی امت کو (مومنوں کو اللہ کی رضا اورجنت کی) بشارت دینے اور (نافرمان لوگوں کو اللہ کےغصہ اور  عذاب سے) ڈرانے میں اپنی پوری حیاتِ طیبہ وقف کردی۔

 

اور  فرماتے رہے:

 

إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ [سبأ: 46].

 

ترجمہ: وہ تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے ۔

 

۲ـ امت پرشفقت :

 

اور یہ بھی انکی دریا دلی کی ایک مثال ہے کہ انہوں نے اپنی امت سے ایسی محبت اور شفقت فرمائی کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ۔

 

اُمت پر اتنی زیادہ  شفقت کی کہآپ ﷺاکثر فرمایا کرتے تھے:اگر مجھے اُمت کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیدیتا۔(یعنی ہر وقت یہ خیال رہتا کہ اُمت مشقت میں نہ پڑجائے،لہٰذا کئیں احکامات اُمت پر شفقت فرماتے ہوئے واجب نہیں فرمائے)۔

 

اور جب ایک شخص نے ان سے حج کے بارے میں پوچھا:

 

أكلَّ عامٍ يا رسول الله؟ قال: «لو قلتُ: نعم، لوجبَت ولما استطعتُم».

 

اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہر سال؟   تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کردیتا تو(ہر سال)  حج  واجب ہوجاتا اور آپ لوگ  ادا نہ کرپاتے۔

 

۳۔ امت کے لئے دعائیں:

 

اور نبی ﷺ بارہا یہ دعا فرماتے تھے:

 

«اللهم أمَّتي، أمَّتي»،

 

ترجمہ: یا اللہ میری امت، میری امت۔

 

یہاں تک کہ اُن ﷺ کے رب نے اُن سے فرمایا :

 

«إنا سنُرضِيكَ في أمَّتِك ولا نسوؤُك».

 

ترجمہ: ہم آپ کی امت کے سلسلے میں آپ کو خوش کردیں گے  اور آپ کو غم نہیں دیں گے۔

 

۴ـ اللہ کا پیغام امت تک پہنچایا اور امانت کا حق ادا کیا:

 

اور یہ نبی ﷺ کی بھلائی کی ہی  خیر و برکت  ہے کہ ان کا پہنچایا ہوا دین قیامت تک قائم و دائم رہے گا۔اور انکے صحابہ اور احباب انکے طریقہ پر چلے،ان کی سخاوت کے چشمہ سے فیض یاب ہوکر سخاوت کی چوٹی تک پہنچ گئے۔

 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سخاوت:

 

نبی علیہ السلام نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

 

«ما نفعَني مالٌ قطُّ ما نفعَني مالُ أبي بكر»، فبكى أبو بكرٍ - رضي الله عنه - وقال: هل أنا ومالي إلا لك يا رسول الله؟!

 

ترجمہ: جتنا ابوبکر کے مال نے مجھے (مسلمانوں کو) نفع دیا ہے اتنا کسی اور مال نے نہیں دیا۔ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کردیااور عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ ! میں اور میرا مال تو آپ ہی کے لئے ہیں۔

 

·وكان المِعطاءُ عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - يتعاهَدُ كلَّ ليلةٍ عجوزًا عمياءَ مُقعَدةً بما يُصلِحُها ويُخرِجُ الأذَى عن بيتِها.

 

اور سخاوت کے پیکر  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر رات ایک نابینا  معذور بوڑھی خاتون کی دیکھ بھال کرتے ، انکی خدمت کرتے اور انکے گھر سے پریشانی کو دور کرتے۔

 

·ومُصعبُ بن عُميرٍ - رضي الله عنه - يُقدِّمُ صورةً من صُور العطاء؛ فيقدُمُ المدينة وفي غُضونِ عامٍ يدخلُ الإسلامُ أكثرَ بيوت المدينة.

 

اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ  نے بھی سخاوت کی کئی مثالیں پیش کیں؛  وہ مدینہ تشریف لاتے اور  سال کے دوران ہی مدینہ کے اکثر گھر اسلام میں داخل ہوجاتے۔

 

·ووقفَ سعدُ بن معاذ مُعبِّرًا عن عطاء الأنصار بالنَّفسِ والنَّفيس فقال: "يا رسول الله! والذي بعثَكَ بالحقِّ؛ لو استعرضتَ بنا هذا البحرَ فخُضتَه لخُضناه معك، صِل من شئت، واقطَع من شئت، وخُذ من أموالِنا ما شِئت، وما نكرهُ أن نلقَى عدوَّنا غدًا، وإنا لصُبرٌ عند الحرب، صُدْقٌ عند اللقاء، لعلَّ اللهَ يُريكَ منَّا ما تقرُّ به عينُك".

 

اور سعد رضی اللہ عنہ تو بنفس نفیس انصار کی سخاوت کا مظاہرہ اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے؛ اگر آپ ہمیں اس سمندر میں داخل ہونے کا حکم دیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ داخل ہوجائیں گے، جس سے آپ  چاہیں ملیں  اور جس سے  چاہیں قطع تعلق کریں، اور ہمارے مالوں میں سے جتنا آپ چاہیں لے لیں۔ اور ہم کل دشمن کے مقابلہ سے نہیں گھبرارہے، ہم تو جنگ کے موقعہ پر صبر کا مظاہرہ کرنے والے ہیں، دشمن کے ساتھ مقابلے میں پکےّ ہیں،امید ہے کہ اللہ ہمارے ذریعہ آپ کو وہ کچھ دکھائے گا جس کی وجہ سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔

 

·أما ابنُ عباس - رضي الله عنهما - فكان عطاؤه: أنه يجلِسُ في الحرم بعد الفجر فيقول: "هيَّا، عليَّ بأهل القرآن"، فيأتي أهلُ القرآن فيقرؤون إلى طلوع الشمس فيقول: "ارتفِعوا، ائتُوا بأهل الحديث"، فيسألونَه،

 

ابن عباس رضی اللہ عنھما کی سخاوت کی مثال یہ ہے کہ وہ فجر کے بعد حرم میں بیٹھ جاتے اور فرماتے: آئیے، میں اہل قرآن (قاری و حافظ ) کے ساتھ بیٹھنا چاہتا ہوں، اہل قرآن آتے اور سورج طلوع ہونے تک قرآن پڑھتے، وہ فرماتے آپ جائیں اور اہل حدیث (محدثین) کو لے  آئیں، اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے  (حدیث کے بارے میں)سوالات کرتے۔

 

·ثم إذا انتهَى منهم قال: "ارتفِعوا، ائتُوا بأهل الفقهِ"، ثم أهل التفسير، ثم أهل العربية، وهكذا، ثم يُربِّي أصحابَه؛ فجمعَ في عطائِه الحُسنَيَيْن: بذلَ العلمِ، وكرمَ اليد.

 

پھر جب وہ محدثین کی مجلس سے فارغ ہوجاتے تو فرماتے کہ آپ جائیں اورفقہ والوں(فقہاء)  کو لے آئیں، پھر ان کے بعد تفسیر والے آتے اور پھر عربی والے،اور اس طرح تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہتا، پھر وہ اپنے دوست احباب کی تربیت کرتے؛ اس طرح انہوں نےدونوں سخاوتوں کو جمع کرلیا: تعلیم دینا، اور مال خرچ کرنا۔

 

سخاوت کی حدود:

 

سخاوت تو ہر میدان میں رواں دواں ہے، اس کے ذریعے سلف صالحین نے (مفاد پرستی کو چھوڑ کر اپنے شب و روز امت کے لئے وقف کرکے)  تاریخی واقعات کو سخاوت کے نمونہ میں بدل ڈالااور تاریخ کو نئے انداز سے پیش کیا، اور کتنی ہی پیاری بات ہے کہ مسلمان سخاوت اور دوسروں کے لئے خیر خواہی  کے جذبات رکھے۔ اور سچی سخاوت کی  نہ کوئی حد ہے اور نہ ہی کوئی شرط۔ یہ تو وہ سخاوت ہے جو سب کے لئے ہے چاہے آپ انہیں جانتے ہوں یا نہیں۔

 

سخاوت کے فوائد:

 

اور سخاوت کو اپنانے والے لوگ کنجوسی، لالچ اورکراہیت(ناپسندیدگی) کو نہیں جانتے۔ جب آپ دوسروں پر خرچ کرتے  ہیں تو اس کے بدلے میں آپ کو بہت فائدہ ہوتا ہے، اور آپ کے اس خرچ سے کسی  ایسے یتیم کے دردبھرے اور افسردہ دل میں خوشی اور امید کی لہر ڈورتی ہے جو اپنے ماں باپ کی شفقت سے محروم ہواور وہ بیوہ جو بے سہارا ہو ( اسے سہارا مل جاتا ہے)۔

 

سخاوت کی قسمیں

 

سخاوت ایک تحفہ:

 

دنیا بھر  کے مسلمانوں اور  اپنے رشتہ داروں پر خرچ  کرنے سے ہی یہ فضیلت حاصل ہوگی۔اور میاں بیوی کے درمیان محبت، الفت اور رحم دلی کا تحفہ سخاوت ہے۔

 

ہر بھلائی سخاوت ہے:

 

سخاوت کا دروازہ بہت وسیع ہے؛  (جیساکہ ) جس نے آپ پر ظلم کیا اسے معاف کردینا، جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس سے درگزر کنا، قطع رحمی کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا، مسلم  و غیر مسلم کو دعوت دینا، معذرت کرنے والوں کا عذر قبول کرنا، غلطی کرنے والوں کو معاف کردینا، اور اپنے  بعض حقوق کو  چھوڑ دینا بھی سخاوت ہے۔

 

علم و عمل کے ذریعہ سخاوت:

 

سخاوت  ایک ایسی نفع بخش  تجویز ہے جس کا تحفہ آپ اپنے عمل سے  لوگوں کو دے سکتے ہیں،علم و عمل،معرفت و معلومات  اور تجربہ کے ذریعہ، اکرام کے ذریعہ، وقت، عزت اور سفارش کے ذریعہ، اپنے جسمانی اعضاء کے ذریعہ لوگوں کی خدمت، (راستہ سے ) تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، لوگوں کی بھلائی کے لئے بھاگ ڈور کرنا، اور اللہ کے راستہ میں جان کی قربانی دینا۔

 

سخاوت کون کرسکتا ہے:

 

سخاوت کا دروازہ ہر طبقہ اور گروہ کے لئے کھلا ہے ، اور (اس کا طریقہ بھی ) بہت ہی آسان ہے؛  مسکراہٹ، زیارت، اچھی بات، دعا، مالی تعاون، علاج  وغیرہ۔ تو ہم سخاوت کو کیوں نہ اپنائیں؟! ہم  سخاوت کے طریقوں کو کیوں نہ سیکھیں تاکہ لوگوں کو، اپنے وطن کو اور اپنی امت کو فائدہ دے سکیں۔

 

سخاوت کا مقصد:

 

اور جب ہی توزندگی بامقصد ہوگی؛ معاملات خوشگوار،احساسات کی برتری، اوریہ سخاوت کی  سعادت سے مالا مال دل ہی ہیں جو دوسروں کی بھلائی کے لئے مشقت اٹھاتے ہیں،اور اپنی سخاوت کے  بدلہ میں قیامت کے لئے  مدد اور  سہارا تیار کرلیتے ہیں۔

 

عاجزی(بے بسی) سخاوت میں رکاوٹ ہے:

 

سخاوت سے محروم:

 

امت کا کوئی بھی فرد ایسا نہیں جو سخاوت کی طاقت نہ رکھتا ہو،بلکہ وہ  اپنے آپ کو  لگام دے کر نیکی  کرنے سے روک دیتا ہے، اور اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے،اپنی قوت کو برباد کرلیتا ہے، اور اس کے جذبات بے جان مردار  ہوکر رہ جاتے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک سخاوت پر قادر ہے،اپنے قول و عمل سے امت کی خدمت کرسکتے ہیں۔

 

عاجزی (بے بسی)سے پناہ مانگنا:

 

اور یہ ہماری ذمہ داری  ہے کہ ہم اپنے آپ سے سخاوت (کے راستے ) کی رکاوٹوں کو دور کریں۔اور سب سے بڑی رکاوٹ عاجزی ہے جس سے اللہ کے

 

رسول ﷺ نے پناہ مانگی ہے:

 

«اللهم إني أعوذُ بك من العَجز»۔

 

ترجمہ:   اے اللہ میں عاجزی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

 

اور عموماًیہی (عاجزی) محتاجگی اور ناکامی کا سبب بنتی ہے۔

 

اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ہے:

 

«واستعِن بالله ولا تعجِز».

 

ترجمہ: اور اللہ سے مدد مانگیں اور عاجز نہ ہوجائیں۔

 

بے بسی (عاجزی)کے نقصانات:

 

عاجزی ہّمت کو پست کردیتی ہے، توقعات کو ریزہ ریزہ کردیتی ہے، سخاوت کی رغبت کو ختم کردیتی ہے؛ پھر آپ اپنے آپ سے اور اپنی سخاوت سے بڑا فائدہ کھودیتے ہیں،اور آپ ساری زندگی اپنی قوت و طاقت کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرسکتے۔اور عاجز  انسان بے بنیاد اور فضول باتوں کی وجہ سےعاجزی کو اپنے اوپر سوار کر لیتا ہے۔

 

اور اسی حوصلہ شکن عاجزی کی وجہ سے بعض مسلمان ہاتھ پھیلا کر مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں،ہر وقت مانگتے رہتے ہیں مگر پیٹ نہیں بھرتا۔اور  زندگی بھر کے لئے گھونگھا، مفاد پرست اور لالچی  بن جاتا ہے، اور اسکی ہمت کمزور ہوجاتی ہے، ہمیشہ دوسروں کے مال کی طرف جھانکتا رہتا ہے،  حالات بہتر ہونے کے باوجود بھی فقیری  کی زندگی گزارتا ہے اور سخاوت سے نفرت کرتا ہے۔

 

عاجزی (بے بسی) دور کرنے کا طریقہ:

 

اللہ کے رسول ﷺکی نصیحت:

 

«استعِن باللهِ ولا تعجز»؛

 

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کھڑے ہوجائیں اور نیند سے اُٹھ جائیں اور  جلدی کریں اور  نکل کھڑے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس  ( کام) کی ابتداء سے انتہاء تک اللہ سے مدد مانگیں۔آپ دیکھیں گے کہ بھلائی پھیل رہی ہے، مدد بڑھ رہی ہے، اور آپ کے رب کی توفیق آپ  کی  معاون و مددگار ہوگی۔

 

سخاوت کا اثر:

 

میرے مسلمان بھائی!

 

سخاوت  کا سخی پر، لوگوں پر اور امت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے؛ سخاوت ہی فرد و امت کی قوت کوبڑھاتی ہے، اور اسی کے ذریعہ ترقی کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں، امت کو عزت ملتی ہے اور افراد کے درمیان اعتماد بحال ہوتا ہے،اور لوگ سخی انسان  کو پسند کرتے ہیں،پوری قوم اس کا احترام کرتی  ہےاور اس سے خوشی ملتی ہے اور اسکا رب بھی اس سے خوش ہوتا ہے۔اور سخی کے دروازے پر اسکی ہمیشگی کی حاضری اور بھلائی کی وجہ سے  لوگوں کی رونق ہوتی ہے، اسکی سخاوت جاری رہتی ہے، اسکا نفع  بڑا ہی عظیم اور دوسروں  کو پہنچتا ہے۔

 

اور جیسے ہی  آپ کے دل میں اللہ کی رضا کی خاطر سخاوت کا جذبہ جگہ لے اس کی خوشی سے آپکا دل باغ باغ ہوجائے گا،کیونکہ سخاوت کی ایک خاص لذّت ہےجو عطاء کیے جانے والے سے زیادہ عطاء کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔اور بھلائی ، خرچ اور لوگوں کی مدد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے  انسان بہت سے ایسے غموں سے بچ جاتا ہے جو اس کی زندگی کو دشوار کردیتے ہیں۔

 

تو اپنے آپ کو سخی لوگوں کی فہرست میں شمار کیجئے، اورسخاوت کے راہنما بن جائیں، اوپر ہاتھ والے(دینے والے) بنیں،  جو دے گا اللہ اسے اور دے گا اور اللہ کی دین بے انتہاءبا برکت ہےاور اسکی مدد کبھی ختم نہیں ہوتی۔

 

امت مسلمہ کی مشکلات اور ان کا حل:

 

اور آج ہماری امت کوبڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور فتنوں  اور جنگوں کے شعلوں سے جل رہی ہے ۔اس امت کے لئے سخاوت کے مقاصدکو زندہ کرنا بہت ضروری ہے؛ تاکہ ہم برستی ہوئی جہالت کوعلم کے ذریعہ دور کرسکیں،اور بڑھتی  ہوئی غربت کو مال  کے خرچہ اوراضافہ کے ذریعہ ختم کرسکیں، اور یتیمی کو کفالت اور سرپرستی کے ذریعہ، اور پھیلتی ہوئے خوف کو امن کے ذریعہ، جنگ کو سلامتی کے ذریعہ، اور فساد کو نگرانی اور پاک دامنی کے ذریعہ دور کرسکیں۔

 

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ [الزلزلة: 7].

 

ترجمہ:تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔

 

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے، اور مجھے اور آپ کو قرآنی آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اپنے لئے اور آپ سب کے لئے  اللہ سے  مغفرت مانگتا ہوں۔ آپ  سب بھی  اسی سے مغفرت مانگیں۔بیشک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

دوسرا خطبہ

 

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اسلام کی عظیم نعمت سے مالامال کیا، میں  مسلسل نعمتوں پر اللہ سبحانہ کی تعریف اور شکر کرتا ہوں۔ اور  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، یہ ایسی گواہی ہے جس کے ذریعہ سلامتی  والے گھر(جنت) میں مجھے امن کی امید ہے،اور میں گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو لوگوں کو سلامتی والے گھر(جنت) کی دعوت دیتے رہے، اللہ ان پر اور انکی  آل پر اور انکے صحابہ پر مکمل طور پر قائم و دائم رہنے والی رحمتیں بھیج دے۔

 

حمد و ثناء اور درود و سلام کے بعد:

 

میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔

 

سخاوت کے اصول:

 

سخاوت کومقبول بنانے، نفع بخش  اور تسلسل سے قائم رکھنے کے لئے  ضروری ہے کہ نفسانی خواہشات، ریاکاری،شہرت اور سستتی سے پرہیز کی جائے، سخاوت کو جاری رکھیں اگرچہ کم ہی ہو؛ اور جاری رہنے والا تھوڑا عمل اس عمل سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر دیرپا نہ ہو۔مسلسل قطروں سے ہی دریا بنتا ہے۔

 

اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے:

 

«أحبُّ الأعمال إلى الله أدومُها وإن قلَّ».

 

ترجمہ:اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو مسلسل ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔

 

سخاوت اگرچہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو اللہ تبارک وتعالی اس میں برکت عطا فرماتا ہے اور اسے بڑھا دیتا ہے، اور اللہ نیکی کرنے والے کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔

 

ایک حدیث میں ہے:

 

«مرَّ رجلٌ بغُصن شجرةٍ على ظهر طريقٍ فقال: والله لأُنحِّيَنَّ هذا عن المُسلمين لا يُؤذِيهم، فأُدخِلَ الجنة»

 

ایک شخص کسی راستہ میں درخت کی ٹہنی کے قریب سے گزرا تو اس نے یہ قسم کھائی کہ اللہ کی قسم میں اسے ضرور کاٹ  دیتا ہوں تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو،(اس عمل کی بدولت) اسے اللہ تعالی نے  جنت میں داخل کردیا۔

 

صحیح حدیث میں ہے:

 

«أن امرأةً بغيًّا سقَت كلبًا يلهَث، فغفَرَ الله لها»، وقال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: «أحبُّ الناسِ إلى الله أنفعُهم للناس».

 

ایک سرکش خاتون نے ایک کتے کو پانی پلایا جوشدتِ پیاس سے ہانپ رہا تھا تو اللہ نے اسے معاف فرمادیا۔

 

اور اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

 

«أحبُّ الناسِ إلى الله أنفعُهم للناس».

 

ترجمہ: اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ترین شخص وہ ہے جو لوگوں کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔(یعنی جو شخص جتنا زیادہ امت کو فائدہ دے گا اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک بہتر  ہوگا)۔

 

اللہ کے بندو!

 

سنیئے!  رسولِ ہدایتﷺپر درود بھیجیں؛   اللہ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں اس کا حکم دیا ہے اور فرمایا:

 

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [الأحزاب: 56].

 

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر پس تم بھی اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ان پر درود بھی بھیجتے رہا کرو اور خوب خوب سلام بھی۔

 

یا اللہ ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود اور رحمتیں نازل فرما۔

 

یا اللہ!اے  سب سے زیادہ رحم کرنے والے! ہدایت یافتہ چاروں خلفاءسیدنا ابوبکر ، عمر، عثمان و علی  سے راضی ہوجا،اور نبی کےعزت دار  آل و صحابہ سے بھی راضی ہوجا، اور اپنی مہربانی، کرم اور احسان کے  ذریعہ ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا۔

 

یا اللہ! اسلام اور مسلانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلانوں کو عزت عطا فرما۔اور کفر اور کافروں کو رسوا کردے۔

 

یا اللہ! اپنے اور اپنے دین  کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے۔

 

یا اللہ! اس  ملک سمیت تمام مسلم ممالک کو امن کا گہوارا بنادے۔

 

مظلوم اہلِ شام کے لئے دعائیں:

 

یا اللہ! تو جانتا ہے کہ شام میں ہمارے مسلمان بھائیوں پر کتنی مصیبتیں  ڈالی گئی ہیں یا اللہ تو ان مصیبتوں کو دور کرنے پر قادر ہے، یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! انہیں  ان مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات عطا فرما۔

 

یا اللہ! وہ  جوتیوں سے محروم ہیں انہیں جوتیاں عطا فرما، وہ لباس سے محروم ہیں انہیں لباس عطا فرما۔وہ بھوک میں مبتلا ہیں انہیں کھانا مہیا فرما۔وہ مظلوم ہیں انکا بدلہ لے۔ وہ مظلوم ہیں انکی حفاظت فرما۔ وہ مظلوم ہیں انکی مدد فرما۔

 

اے اللہ!  کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے ! اہل شام کےدشمنوں کو شکست دیدے۔

 

اے تمام جہانوں کے پروردگار! تو ہی دشمنوں کے مقابلے میں اہل شام کی مدد فرما۔

 

یا اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کی فوری مدد فرما۔

 

یا اللہ!  یا رب العالمین!  اے نہایت رحم کرنے والے! اے  طاقتور!  اے قوت والے اے غالب  رہنے والے! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ اور ان کے دلوں کو مضبوط کردے۔ان کو ایک بات پر متفق کردے۔ انکی مدد فرما اور ان کے نشانوں کوسیدھا کردے۔بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

 

عمومی دعائیں :

 

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت،عفت(نا جائز کاموں  سے بچنے کی توفیق) اور غِنَی (لوگوں کی محتاجگی  سے محفوظ رہنے کی توفیق) مانگتے ہیں ۔

 

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کا  اور اس قول و عمل  کاسوال کرتے ہیں جوجنت میں جانے کا وسیلہ  بنے۔اور آگ سے اور ہر اس قول و عمل سے تیری پناہ مانگتے ہیں جو آگ میں جانے کا سبب بنے۔

 

یا اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملات میں  عصمت (گناہوں سے بچنے) کا باعث ہے۔اور ہماری دنیا کو بھی سنوار دے جو ہمارے لئے ذریعہء معاش ہے۔اور ہماری آخرت بھی بہتر فرما جس میں ہمارا انجام ہے۔

 

اے اللہ!  اے تمام جہانوں کے رب! ہماری زندگی کوہر بھلائی میں اضافے کا ذریعہ بنادے،اور موت کو ہر برائی سے راحت کاسبب بنادے ۔

 

یا اللہ! ہماری معاونت فرما،  ہمارے مخالفین کی  معاونت نہ کرنا۔ یا اللہ ہماری مدد فرما، ہمارے مد مقابل کی مدد نہ فرمانا۔ اپنا مکر ہمارے حق میں فرمانا، ہمارے خلاف نہ کرنا۔ہمیں ہدایت عطا فرمااور ہدایت کو ہمارے لئے آسان فرما۔حد سے گزر جانے والوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

 

یا اللہ! ہمیں اپنا(تیرا) ذکر اور شکر کرنے والا بنادے۔ اپنے سامنے عاجزی و انکساری کرنے والا بنادے۔ اپنے سامنے  گڑا گڑا کر دعائیں کرنے والا اور اپنی ہی طرف لوٹ کر آنے والا بنادے۔

 

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرمالے۔ہمارے گناہوں کو دھودے۔ہماری معذرت کومقبول فرمادے۔ہماری زبانیں سیدھی فرما دے۔

 

اے اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت مانگتے ہیں،  اورتیرے غصہ اور آگ سے تیری ہی پناہ مانگتے ہیں۔

 

یا اللہ ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت کے ذریعہ تمام پریشان حال مسلمانوں کی پریشانی دور فرما۔اور انکی مصیبتوں کو ٹال دے۔ اور قرض داروں کو قرضہ سے نجات دے۔ اور ہمارے  اور تمام مسلمانوں کے مریضوں کو شفاء  عطا فرما۔

 

اے اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! ہمارے امام کو ہر اس کام کی توفیق عطا فرما جس سے تو  خوش اور راضی ہوتا ہے۔اور اسے صحت و سلامتی کا لباس پہنادے۔بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

 

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! تمام مسلمانوں کے اُمراء (امیر المومنین) کواپنی کتاب پر عمل کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے  کی توفیق عطا فرما۔

 

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [الأعراف: 23]،

 

ترجمہ:دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔

 

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [البقرة: 201]،

 

ترجمہ: اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے  اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔

 

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ [الحشر: 10].

 

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کی طرف ہمارے دل میں کہیں (اور دشمنی) نہ ڈال  اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔

 

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90].

 

ترجمہ: اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے،  وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

 

اللہ کا ذکر کرو وہ تمہارا ذکر کرے گا اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو  وہ تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے گا۔اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

ملاحظہ کیا گیا 11371 بار آخری تعدیل الأربعاء, 14 آب/أغسطس 2013 22:36

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم