بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 09 تشرين1/أكتوير 2012 00:00

فریضۂ حج اور حاجی کے کردار میں حسین انقلاب

مولف/مصنف/مقرر  فضیلة الشیخ / صلاح البدیر : حفظہ اللہ

 

مسلمانو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو کہ اس کا تقوی سب سے زیادہ نفع بخش چیز ہے اور اللہ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ وہ شخص خائب و خاسر اور نقصان اٹھانے والا ھو گیا جس نے اللہ کے احکام میں کمی کوتاہی کی ۔ ارشاد الہی ہے :

" اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور سیدھی بات کیا کرو ، وہ تمھارے اعمال کو درست کر دے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کی اطاعت کرے گا وہ بہت بڑی کامیابی و مراد پا گیا " ۔ ( الاحزاب : 70 ، 71 )

 رمز عبودیت و بندگي :

مسلمانو ! بندے کا اپنے رب کی عبادت کرنا یہ اس کے اللہ کے سامنے خضوع و عاجزی کی رمز و دلیل صدق ہے ، اسی طرح یہ اس کے مطیع فرمان ہونے کی علامت بھی ہے اور یہ ایک ظاھر شریف اور باعث فخرعزت کا نشان بھی ۔ عبودیت و بندگی سب سے بلند ترین مقام ، سب سے بالا تر غایت و مقصود اور اعلی ترین مرتبہ و درجہ ہے ۔

ایک عظیم الشان فریضہ :

مسلمانو ! گزشتہ چند دنوں میں حجاج کرام نے ایک عظیم ترین عبادت سر انجام دی ہے اور قرب الہی کے حصول کے ایک عظیم ترین فریضہ کو ادا کیا ہے ۔ میقات پر آ کر انھوں نے اللہ کی خاطر خوبصورت سلے ھوئے کپڑے اتار دیئے ( اور دو چادریں اوڑھ لیں ) میدان عرفات میں توبہ کے آنسو ان کے رخساروں پر سے بہہ نکلے اور یہ ان کا اپنی کمیوں کوتاہیوں اور خطاؤں پر اظہار ندامت تھا ، اور ہر زبان میں تمام آوازوں نے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے ھوئے اور اس کے آگے اپنی محتاجی بیان کرتے ھو‌ئے فضاؤں کو معمور کر دیا ۔ پھر یہ تمام لوگ رات گزارنے کے لئے مزدلفہ کی طرف روانہ ھو گئے ، اور اگلے دن مسلمانوں کا یہ جم غفیر جمرات پر رمی کے لئے جا نکلا پھر کعبہ شریف کا طواف اور صفا و مروہ کے مابینن سعی کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جا نکلے یہ انسان کی زندگی کا سب سے شاندار سفر اور تمام سیر و سیاحتوں سے خوبصورت ترین سیاحت ہے ۔

نعمت الہی پر فرحت و خوشی :

اس کے بعد وہ یوں لوٹے کہ حسب ارشاد الہی :

" انھیں اللہ نے جس فضل و کرم سے نوازا ہے اس پر وہ بہت خوش و خرم ہیں " ۔(آل عمران :170)

اور ارشاد ربانی ہے :" کہہ دیں کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ھوا ہے لھذا چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ھوں " ۔ ( یونس : 58)

یہ نعمت دنیا جہاں کی تمام نعمتوں اور اس کے ساز و سامان سے زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ وہ سب تو محض ایک خواب و خیال کی طرح ہیں اور بالآخر زوال پذیر ہیں ، اس دنیا سے ہی ختم ھو جانے والی ہیں اور یہ متاع دنیا آفات کا شکار ھو سکتی ہے اور چھن بھی سکتی ہے ،لیکن حجاج کرام کو ان کا حج مبارک ھو ، عبادت گزاروں کو ان کی عبادت مبارک ھو ، ان کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ ارشاد مبارک ھو جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے بیان کرتے ھوئے بتاتے ہیں کہ اللہ تعالی کہتا ہے :

" جب کوئی بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ھوں اور

جب وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ھوں ، اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ھوں " ۔ ( صحیح بخاری )

شکران نعمت :

حجاج بیت اللہ ! اللہ نے آپ کو جس عزت افزائی سے نوازا ہے اس پر اس کا شکر بجا لاؤ اور اس نے آپ کو جن نعمتوں سے نوازا ہے ان پر اس کی حمد و ثناء بیان کرو ، اس کا فضل و کرم آپ پر مسلسل جاری ہے اور اس کی خیرات و برکات بلا انقطاع نازل ھو رہی ہیں اور ان عطاؤں کا دائرہ انتہائی وسیع ھو چکا ہے اور اس کے فضل و کرم کا آپ پر اتمام و اکمال ھو گیا ہے ۔

چنانچہ ارشاد الہی ہے:" تم جس بھی نعمت سے سرشار ھو یہ اللہ تعالی کی ہی دی ھوئی ہے " ۔ ( النحل : 53 )

اور دوسری جگہ فرمایا :

" اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا بھی چاھو تو نہیں گن سکتے اور اللہ تعالی تو بڑا ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے " ۔ ( النحل : 18)

اللہ سے حسن ظن :

حجاج کرام ! اپنے رب سے ہر انعام کا گمان رکھو اور ہر بڑی بھلائی کی اس سے امید لگائے رھو ، اللہ سے اپنے حج کی قبولیت کی قوی امید رکھو اور اس کا بھی یقین و امید رکھو کہ وہ تمھارے سابقہ تمام گناہ بخش دے گا ۔ چنانچہ ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

" میں اپنے بندے کے ظن کے مطابق ہی ( اس پر پورا اترتا ) ھوں " ۔ ( بخاری و مسلم )

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے صرف تین دن پہلے آپ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے :

" تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ مرے سوائے اس کے کہ وہ اپنے اللہ عز و جل سے حسن ظن رکھنے والا ھو "۔ ( صحیح مسلم )

 

تکمیل حج اور واپسی کی تیاری :

مسلمانو ! اے بیت اللہ العتیق کا حج کرنے والو ! اے روئے زمین کے دور دراز اور دشوار گزار راستوں سے آنے والو ! اور ہر طرف سے تلبیہ لبیک اللھم لبیک کہتے ھوئے آنے والو ! آپ کا حج تو مکمل ھو گیا ہے اور ان مشاعر مقدسہ و مقامات طاھرہ میں وقوف کر لینے اور ان شعائر دینیہ کو ادا کر لینے کے بعد آپ نے احرام کھول دیا اور بال کاٹ لئے اور ناخن تراش لئے ہیں اور اب آپ لوگ اپنے ملکوں کی طرف لوٹنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔

حج کے بعد پھر گناہ اور احمق عورت کی مثال :

اب آپ کوشش کرکے گناھوں کے ارتکاب برائیوں اور حرام امور میں اپنے آپ کو لت پت کرنے سے بچائے رکھیں، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" اور اس عورت کی طرح نہ ھو جانا جس نے محنت سے سوت کاتا پھر اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے (رشہ رشہ ) کر دیا " ۔ ( النحل : 92)

ایک احمق عورت و نادان اور بے عقل عورت سوت و اون کاتنے میں شب و روز بڑی جانفشانی و محنت کرتی ہے اور جب مضبوط دھاگہ تیار ھو جاتا ہے تو پھر اس کے بل کھولنے لگتی ہے اور اس کے مضبوط تیار ھو جانے کے بعد پھر اسے رواں دواں کر دیتی ہے ۔ اس عورت نے اپنی محنت و مشقت سے کیا پایا ؟ سوائے تھکن کے ، خبردار رہنا ! آپ لوگ بھی کہیں اس عورت کیطرح نہ ھو جانا اور اس عظیم فریضے کی ادائيگی کے ذریعے آپ نے نیکیوں کی جو شاندار عمارت تعمیر کی ہے اسے گرانے نہ لگ جانا اور جو اجر و ثواب آپ نے جمع کیا ہے گناھوں کے ذریعے اسے برباد نہ کرنے لگنا اور اللہ کے ساتھ آپ نے جو مضبوط ناطہ جوڑا ہے ، اس میں نقص نہ پیدا ہونے دینا ۔

نئے صفحے کا آغاز :

حجاج کرام ! آپ نے اپنی زندگی کا ایک نیا اور صاف و سفید صفحہ کھولا ہے اور اسی حج کے بعد آپ نے صاف ستھرے و پاک لباس زیب تن کیا ہے ، خبردار ! رسواکن افعال ، تباہ کن کرتوت اور برے اعمال سے بچ کر رہنا ، وہ نیکی کتنی اچھی ھوتی ہے جس کے بعد بھی نیکی ہی کی جائے اور بہت ہی سخت برائی وہ ھوتی ہے جو کہ نیکی کے بعد کی جائے ۔

حج مبرور کی علامت :

مسلمانو ! حج مبرور و مقبول کی ایک نشانی اور اس کی قبولیت کی ایک علامت ھوتی ہے ، اس سلسلہ میں حضرت حسن بصری رحمة الله عليه سے سوال کیا گیا کہ حج مبرور کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا :

" وہ حج جس سے فارغ ھو کر آپ اپنے گھروں کو یوں لوٹیں کہ دنیا سے دلچسپی باقی نہ رہے اور تمام تررغبت و توجہ آخرت پر مرکوز ھو جائے " ۔

آپ کا یہ حج آپ کے لئے ھلاکتوں میں گر نے کی راہ میں رکاوٹ بن جانا چاہئے ، یہ تباہ کن لزرشوں کی راہ میں مانع بن جائے اور مزید خیرات و اعمال صالحہ سرانجام دینے کا با‏عث و ذریعہ ھو جائے ۔ اور یہ بات ذھن نشین کر لیں کہ موت سے پہلے مومن کے لئے اعمال صالحہ کی کوئی انتہاء نہیں ہے ۔

حسین انقلاب :

مسلمانو ! کتنی ہی خوب بات ہے کہ حاجی اپنے ملک و اہل خانہ کی طرف لوٹے تو اس کے کردار میں یہ حسین انقلاب آ چکا ھو کہ وہ اخلاق حسنہ سے مزین ھو ، عقل سلیم سے متصف ھو ، اس پر سکون و وقار جھلک رہے ھوں ، اپنی عزت و آبرو کو ہر عیب دار فعل سے بچا رہا ھو ، اس کی عادات پسندیدہ اور اطوار اچھے ھو چکے ھوں ۔

یہ کتنی ہی اچھی بات ہے کہ حاجی جب حج کر کے لوٹے تو وہ اپنے گھر والوں سے حسن معاملہ کا پابند ھو اور اپنی اولاد سے حسن معاشرت برتنے والا ھو ، دل کا پاک صاف اور منھج حق و عدل اور میانہ روی پر کار بند ھو ، اس کا باطن اس کے ظاھر سے بھی اچھا ھو اور اس کے کردار کے مخفی پہلو اس کی نظر آنے والی روش سے بھی عمدہ ھوں ، جو شخص حج کر کے ان اوصاف جمیلہ و محاسن کو اپنا کر واپس لوٹتا ہے دراصل وہی ایسا شخص ہے جس نے اس عظیم فریضہ کی ادائيگی سے حقیقی طور پر استفادہ کیا ہے اس کے اسرار و رموز کو پایا ہے ، اس کے دروس کو اپنے دل میں جگہ دی ہے اور اس کے آثار اپنے کردار کا حصہ بنائے ہیں ۔

اعمال و مناسک حج اور معرفت الہی :

مسلمانو ! حاجی جب سے حکم احرام میں داخل ھو کر لبیک پکارنا شروع کرتا ہے تب سے لیکر تمام مناسک و اعمال حج پورے کر لینے تک اس کے حج کے تمام اعمال و مناسک اسے اللہ کا تعارف کرواتے چلے جاتے ہیں ، اسے اس کی الوھیت و عبادت کے اکیلے لائق و سزاوار ہونے کے خصائص و حقوق کی یاد دلاتے جاتے ہیں اور یہ سکھلاتے جاتے ہیں کہ اس کے سوا عبادت کا حقیقی مستحق دوسرا کوئی نہیں ہے ۔

اسے یہ بھی یاد کرواتے ہیں کہ وہ صرف ایک اللہ ہی ہے جس کی طرف توجہ و رجوع کیا جائے اور اپنی جان صرف اس کے سپرد کی جائے ، وہ بے نیاز ہے اور ساری مخلوقات صرف اس ایک بے نیاز کے درکی محتاج ہے ، اسی سے مانگتی ہے ، ناپسندیدہ امور سے اسی کی پناہ چاہتی ہے ۔ اور مصائب و مشکلات یا کرب و بلا میں اسی سے مدد طلب کرتی ہے ۔

اب شرک بدعات کیسے ؟

یہ سب کچھ یاد کر لینے اور سیکھ لینےکے بعد کسی حاجی کے لئے یہ کیسے بآسانی ممکن ھو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے حقوق دعاء و پکار ، اسغاثہ ، طلب و مدد و استعانت ، ذبح و قربانی اور نذر و وغیرہ کو اللہ سے پھیر کر کسی اور کی طرف لے جائے ، اور وہ بھی کیا حج ہے جس کے بعد کوئی حاجی ایسے قبیح افعال اور صریح شرکیہ افعال سے ہاتھ رنگنے لگے ؟

مسلمانو ! وہ بھی کیا حج ہے کہ جس کے بعد حاجی شعبدہ بازوں اور جادوگروں کے دروازوں کے چکر کاٹنے لگے ، برجوں کی خرافات ،نجومیوں یا کاھنوں اور پرندے اڑا کر فال نکالنے والے بہروپئے ٹھگوں کی باتوں کی تصدیق کرنے لگے ؟ درختوں سے تبرک حاصل کرنے لگے ، پتھروں کو چہونے چومنے لگے اور تعویذ گنڈے لٹکانے پر اتر آئے ؟

حج اور یہ کرتوت :

وہ بھی کیا حج ہے کہ جس کے بعد حاجی نماز ضایع کرنے لگے ؟ زکواﺓ کی ادائیگي روک دے ، سود کھانے لگے ؟ رشوت ستانی کرنے لگے ؟ شراب و منشیات اور مخدرات و نشہ آور اشیاء استعمال کرنے لگے ؟ رشتہ داروں سے قطع رحمی و قطع تعلقی کرنے لگے ؟ اور تباکن گناھوں اور برائیوں میں منہ مارنے لگے ؟

دائمی محرمات :

حجاج بیت اللہ العتیق ! اے وہ حاجی جو احرام کی حالت میں احرام کے محرمات و ممنوعات سے رکے رہے تھے اسلام میں کچھ محرمات و ممنوعات ایسے بھی ہیں جو کہ سدا ، ساری زندگی اور سال بھر ہر وقت ہی ممنوع و حرام ہیں ان کے قریب جانے اور ان کا ارتکاب کرنے سے بچو ۔ ارشاد الہی ہے :

" یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ، ان کے قریب بھی نہ جاؤ " ۔ ( البقرہ : 187)

دوسری جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

" یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں " ۔ ( البقرہ : 229) ۔

غیراسلامی تحریکوں کی آواز پر لبیک کیسے ؟

مسلمانو ! جس نے حج میں اللہ کی نداء پر لبیک کہا وہ حج کے بعد کسی ایسی دعوت و اصول ،کسی نظام و مذھب اور کسی ایسی نداء پر کیسے لبیک کہہ سکتا ہے جو کہ اللہ کے دین کے سراسر خلاف ہے وہ دین اسلام کہ جس کے سوا اللہ کسی سے دوسرا کوئی دین ہرگز قبول نہیں کرے گا ۔

ارشاد الہی ہے :

" جو شخص اسلام کے سوا کسی دین کو چاہے گا تو اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ھو جائے گا " ۔ ( آل عمران : 85 ) ۔

 

قانون رحماني یا قانون انسانی ؟

جس نے حج میں اللہ تعالی کے لئے لبیک کہا وہ حج کے بعد اپنے معاملات کے فیصلے کرنے کروانے کے لئے اس کی شریعت اسلامیہ کے سوا کسی دوسرے نظام و قانون کو کیسے اپنائے گا ؟ اس کے حکم کے سوا کسی دوسرے کے قلم و فیصلے کو کیسے قبول کرے گا ؟ اور اس کے پیغام کے سوا کسی دوسرے کی بات پر کیسے کان دھرے گا ؟

ہر جگہ اور ہر وقت سمع و طاعت :

جس نے حج میں اللہ کے لئے تلبیہ کہا اسے چاہئے کہ وہ ہر وقت اور ہر جگہ اسی کے احکام و اوامر پر لبیک کہے اور وہ چاہے جہاں بھی جا رہا اور چاہے جہاں بھی رہ رہا ھو وہ اطاعت الہی میں ذرہ بھرمتردد نہ ھو ، نہ اس سے لمحہ بھر رکنے پائے بلکہ وہ صرف اللہ کے سامنے خضوع و انکساری ، خشوع و عاجزی کرے اور اطاعت و فرمانبرداری اور سمع و طاعت صرف اسی کی کرے ۔

ارے ناداں ! تم نے دیکھا نہیں ؟

اے اللہ والے ! اے وہ شخص جس پر دنوں پر دن گزرتے چلے جا رہے ہیں اور ہر دن سورج چڑھتا اور ڈوبتا چلا جاتا ہے اور وہ گناھوں برائیوں اور مہلک کبائر میں مبتلا و غرق ہے ۔ اے وہ شخص جس پر خیرات و برکات اور فضائل و رحمات کے موسم آئے اور گزر گئے مگر وہ منکرات و عیوب اور کھیل کود میں ہی مشغول رہا !کیا تم نے حجاج کرام ، عمرہ کرنے والوں اور دوسرے عبادت گزاروں کے قافلے نہیں دیکھے ؟ کیا تم نے احرام باندھنے والوں کو اس فاخرانہ دنیوی لباس کو اتار کر دو چادروں میں لپٹے نہیں دیکھا ؟ کیا تم نے اللہ سے مانگنے والوں کو اس کی طرف دست سوال دراز کئے نہیں دیکھا ؟ کیا تم نے اپنے گناھوں پر شرمسار ھو کر توبہ تائب ھوتے لوگوں کو آنسوؤں کی جھڑی لگائے نہیں دیکھا ؟ کیا تم نے لبیک اللھم لبیک پکارنے والوں ، اللہ اکبر کے نعروں سے فضاؤں کو معمور و معطر کر دینے والوں اور لا الہ الا اللہ کے ورد و ذکر سے ان خلاؤں کو خوشبودار کر دینے والوں کی آوازین نہیں سنیں ؟

 

غلامئ نفس کب تک ؟

تجھے کیا ھو گیا ہے ؟ تجھ پر علی الاطلاق ساری عمر دنیا کا سب سے بہترین دن ( یوم عرفہ ) گزر گیا مگر تم خواہش نفس کی غلامی میں ہی بدمست و مدھوش پڑے ھو اور تم مضبوط زنجیر گناہ میں جکڑے ھوے ھو ۔ اے وہ حرمان نصیب ! جس کے شب و روز اور صبح و شام گناھوں میں ہی گزر رہے ہیں اور یہی کہے چلے جا رہے ھو کہ آج توبہ کر لوں گا ، کل توبہ تائب ھو جاؤں گا۔ اے وہ شخص جس کا دل خواہشات کے ہاتھوں میں کھلونا بنا ھوا ہے ! اور جہالت و نادانی کا جادو اس کے سر چڑھ کر بول رہا ہے ! اے وہ شخص جو شہوت پرستی کی کوٹھری میں قید ھو کر ہی رہ گیا ہے ۔ اس رات کو یاد کرو جو تمھیں قبر میں گزارنی ھو گی اور تم تن تنہا ھو گے اور تمھارا کوئی مونس و غمخوار نہ ھو گا ۔ جب تک تمھارے پاس مہلت موجود ہے فوری طور پر اس میں توبہ تائب ھو جاؤ اور تلافیء مافات کر لو قبل اس کے کہ گناھون کو کم کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے اور فورا گناھوں اور برائیوں سے رک جاؤ ۔

یہ بات خوب ذھن نشین کر لیں کہ اللہ تعالی دن کے وقت ہاتھ بڑھاتاہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا اس کے سامنے تائب ھو جائے اور رات کو دست اقدس دراز کرتا ہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا توبہ کر لے ۔

استقامت و پختگی :

اے وہ شخص ! جس نے طرح طرح کی عبادات سر انجام دیں ، اب اسی روش پر استقامت و پختگی اختیار کرو اور ھمیشہ عمل صالح سر انجام دیتے رھو کیوں آپ اس دنیا کے گھر میں کوئی مستقل نہیں رہنے والے ، اور اس دکھلاوے اور ریاکاری سے بچو ۔ کیونکہ بعض دفعہ خلوص نیت کسی معمولی سے کام کو بہت بڑا عمل بنا دیتی ہے اور کبھی نیت کا کھوٹ اور ریاکاری بہت بڑے عمل کو بہت ہی چھوٹا سا کام بنا کر رکھ دیتی ہے ۔

خلوص نیت :

بعض سلف صالحین امت کا کہنا ہے :

" جسے یہ بات خوشگوار ھو کہ اس کا عمل کامل ھو اسے چاہئے کہ وہ اپنی نیت کو صاف کرے ، اپنے عمل کے نامقبول ہونے سے ڈرتے رہیں ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا جس میں ارشاد الہی ہے :

" اور وہ جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے " ۔ ( المؤمنون : 60)

( وہ کہتی ہیں کہ ) میں نے عرض کیا : کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اے صدیق کی بیٹی ! وہ نہیں بلکہ اس آيت سے وہ لوگ مراد ہیں جو روزہ رکھتے ، نماز پڑھتے اور صدقہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ ساتھ ساتھ ہی اس بات سے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے یہ اعمال نامقبول نہ ھو جائيں ۔

انہی کے بارے میں آگے اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیاں کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے آگے نکل جاتے ہیں " ۔

(المومنون : 61) ( سنن ترمذی )

اللہ کے بندو ! ہر وقت اللہ سے ڈرتے رھو اور کتاب مبین میں اللہ کے اس قول حق کو ھمیشہ یاد رکھو :

" اللہ صرف اہل تقوی سے ہی عمل قبول کرتا ہے " ۔ (المائدہ : 27)

یہ دنیا : عمل کا میدان :

مسلمانو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو کیونکہ اس کا تقوی ہی سب سے بہترین زاد سفر ہے اور یہی آخرت میں بہترین انجام کا باعث ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھیں کہ یہ دنیا مقابلے اور دوڑ کا میدان ہے ۔ ایک قوم جو سبقت لے گئی وہ کامیاب ھو گئ ، جو لوگ پیچھے رہ گئے وہ خائب و خاسر ھوئے اور بازی ہار بیٹھے ۔ اللہ اس بندے پر رحم کرے ۔ جو دیکھتا ہے تو نظر تفکر سے دیکھتا ہے اور جب تفکر و تدبر کرتا ہے تو عبرت حاصل کرتا ہے اور صبر کا دامن تھام رکھتا ہے ، اور حق کی راہ میں پیش آمدہ مشکلات پر صرف وہی صبر کرتا ہے جو اتباع حق کی فضیلت کو جانتا اور اس کے اچھے انجام کی امید رکھتا ہے اور ارشاد الہی ہے :

" بیشک اچھا انجام تو اہل تقوی کے لئے ہے " ۔ ( ھود : 49)

مجاھدہء نفس :

اللہ والو ! آپ دنیا میں موتوں کا نشانہ اور بلاؤں مصیبتوں کا ٹارگٹ و گھر ھو ، تم بعد میں آئے ھو اور کتنے ہی لوگ تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں اور کل تم چلے جاؤ گئے ( سلف بن جاؤ گے ) اور دوسرے لوگ تمھاری جگہ لے لیں گے ۔ اپنی زندگی و وقت حاضر سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد و مجاھدہ کرو کیونکہ یہ مجاھدہ ہی عباد ( عبادت گزاروں ) کا مال و متاع اور زھاّد ( اہل زھد) کا اصل سرمایہ و راس المال ہے ، اور یہی نفسوں کی درستگی و اصلاح کا اصل دار و مدار بھی ہے۔ میانہ روی اختیار کئے رھو ، سیدھے چلو اور اللہ کا قرب تلاش کرتے رھو ، صبح و شام اللہ کی عبادت کرتے جاؤ اور رات کا حصہ ( تہجد ) بھی نہ بھولو اور افراط و تفریط سے بچتے ھوئے معتدل مزاجی و اعتدال سے چلتے رھو تو ضرور منزل تک پہنچ جاؤ گے ۔

اے زائر مدینہ ! سنبھل :

اے مسلمانو ! جنھوں نے حج مکمل کر لیا ہے اور اب اللہ نے تم پر یہ انعام بھی فرما دیا ہے کہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاک و طاھر شہر مدینہ منورہ تک بھی پہنچا دیا ہے ۔ جب آپ مدینہ طیبہ کی ارض پاک پر چل رہے ھوں تو یہ بات آپ کے پردہ ذھن س محو نہیں ھونی چاہئے کہ یہ وہ شہر ہے جسسے بنی نوع انسان کے سب سے معزز ترین دو قدموں کو بوسہ دینے کا شرف حاصل ہے اور یہ مدینہ طیبہ وہ شہر مقدس ہے جس میں سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری دس سال بسر فرمائے ۔ لھذا ہر ممکن کوشش کریں کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں کا علم حاصل کریں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا مطالعہ کریں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ و سنت اختیار کریں اور نظام مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی مکمل پیروی کریں ۔ اور یہ ھدف یا یہ مقصد آپ اسی وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ اپنے رب کریم اور اپنے معبود حقیقی سے مدد طلب نہیں کریں گے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" اور جس نے اللہ ( کی ھدایت کی رسی ) کو مضبوطی سے پکڑ لیا وہ سیدھے راستے پر لگ گیا " ۔ ( آل عمران : 101)

حج اور حیات نو کا آغاز :

حجاج کرام ! آپ یہ حج آپ کی فتوحات میں سے پہلی فتح ، آپ کی فجر کا سپیدہءنور ، آپ کی صبح کی روشنی و چمک ، آپ کی ولادت ثانیہ یا نئی زندگی کا آغاز اور آپ کے ارادوں کے صدق و سچائی کا عنوان چاہئے ۔

اللہ تعالی آپ کے حج و سعی کو مبرور و مقبول فرمائے ۔ اور ان ایام مبارکہ کو ھمارے لئے اور آپ سب کے لئے بار بار لوٹائے اور امت اسلامیہ کو عزت و کرامت ، فتح و نصرت ، اقتدار و حکومت اور سرداری و رفعت جیسی عظمتوں سے ھمکنار کرے ۔ آمین ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین

سبحان ربك رب العز عما یصفون و سلام علی المرسلین

و الحمد للہ رب العالمین

 

ملاحظہ کیا گیا 7600 بار آخری تعدیل الأربعاء, 25 تشرين2/نوفمبر 2015 06:32

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم