بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

محرّم الحرام/صحابہ و اہلِ بیت/شبہات و ازالہ

محرّم الحرام/صحابہ و اہلِ بیت/شبہات و ازالہ (10)

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو نیک لوگوں کا ولی ہے، وہی مؤمنوں کا محافظ اور متقی لوگوں کا مدد گار ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے، وہی اولین و آخرین کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ہی مصطفی اور امین ہیں،  اللہ ان پر ، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، نیز خلوت و جلوت میں اسی کی اطاعت پر زور دیں، کیونکہ اطاعت  کامیابی اور تقوی کامرانی کا باعث ہے۔

مسلمانو!

امت اسلامیہ اس وقت  مشکلات اور متعدد بحرانوں کی زد میں ہے، جس میں سیاسی، سماجی،  اقتصادی، اور امن و امان سے متعلق بحرانوں سمیت دیگر بہت مسائل سے دو چار ہے، اس صورت حال میں   دانشور  مستقبل کیلئے ایسے وژن  کے منتظر ہیں جو امت مسلمہ کو موجودہ صورتحال سے نکال باہر کرے، چنانچہ اس کیلئے مفکرین نے  اپنی رائے پیش کی، سیاسی لوگوں نے  اپنے اپنے حل  سامنے رکھے، اہل قلم  نے اپنے نظریات تحریر کیے، ان حالات کے اسباب سے متعلق الگ الگ تجزیے سامنے آئے، مسائل کے حل اور بحران سے نکلنے کے مختلف  راستے  منظر عام پر آئے، بڑی تعداد میں سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی  گئیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا، لیکن اب پوری امت کو اجتماعی ، قومی، انفرادی حیثیت سمیت حکومت و عوام  سب کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کا وقت آ چکا  ہے،  انہیں اسلام کی روشنی میں مثبت اور کار گر حل اپنانے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ امت اسلامیہ کو  مسائل ، بحرانوں، اور مشکلات سے  نکلنے کا راستہ ایک ہی جگہ سے  ملے گا، اور وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کا صحیح فہم۔

اسلامی بھائیو!

یہ نصیحت سنو جو معلم انسانیت، سید الخلق ہمارے نبی محمد ﷺ  کی طرف سے ملی ہے، آپ کی یہ نصیحت  اس امت کیلئے سرمدی دستاویز  کی حیثیت رکھتی ہے، اسی کے ذریعے  زندگی خوشحال ،تمام لوگ  خوش و خرم اور ترقی یافتہ  بن جائیں گے، یہ دستاویز ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہونی چاہیے، ہمارے تمام امور پر اسی دستاویز کا اختیار ہو،  ہماری نقل و حرکت  اسی کی روشنی میں ہو، بلکہ ہمارے ارادوں اور اہداف کی تصحیح بھی اسی کے رنگ میں ہونی چاہیے۔

یہ ایسی نصیحت  ہے جس میں کسی طبقے کو ترجیح نہیں دی گئی ، اس میں کسی قسم کا تعصب نہیں ہے، اور نہ ہی وقتی مصلحت  کار فرما ہے، یہ نصیحت ایسی شخصیت کی ہے جس کی زبان خواہش پرست نہیں ہے، بلکہ ان کی ہر بات وحی ہوتی ہے، یہ محمدی دستاویز اور روشن  نصیحت ہے، یہ پوری امت کو  خوشحال زندگی  کیلئے کھڑا کر سکتی ہے، اسی طرح خیر و عافیت، عزت، صلاحیت، قوت، ترقی، خوشحالی، اتحاد اور اتفاق کی صورت میں ثمر آور بھی  ہے، یہ نصیحت فرمانِ باری تعالی سے ماخوذ ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بات بانو، جب بھی وہ تمہیں زندگی بخش امور کی دعوت دیں۔[الأنفال : 24]

مسلمان اس وقت خواب غفلت میں جس کی وجہ سے اجتماعی  احیا  از بس ضروری ہے،  جس میں فرد، قوم، اور وسائل پر توجہ مرکوز ہو،  اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ملنے والی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو ایمانی قوت پر قائم ہوتی ہے اور  اس کے بغیر کسی بھی بحران کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہے، یہ احیا کی کامل  اور واضح ترین صورت ہوگی، اسی سے خوشحالی، پر امن زندگی، سلامتی،  خیر و عافیت، اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی بھی ملے گی۔

مسلمانو!

اس نصیحت پر عمل پیرا ہونے سے عزت لازمی  ملے گی، بلکہ دونوں جہانوں  میں  بھی شان و شوکت ملے گی، اور ایسا کیوں نہ ہو؟ فرمانِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ} اور ہم نے آپ کی جانب کتاب نازل کی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے۔[الأنبياء : 10]

اسی طرح فرمایا: {فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} متقی اور اصلاح کرنے والوں پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے [الأعراف : 35] فرد اس نصیحت پر عمل پیرا ہوئے بغیر ضائع ہوتا رہے گا، جبکہ اس دستاویز کے مضامین سے دوری پوری قوم کیلئے تباہی و بربادی  کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اور حکمرانوں کیلئے برے نتائج  بر آمد کریگی، یہ دستاویز  مسلمان کو  بنیادی  عقائد سے جوڑ کر  عصر حاضر کے تقاضوں  سے ہم آہنگ بھی کرتی ہے،  اس پر عمل  امت کو در پیش مسائل کا منفرد  حل ہے انہی مسائل کی آڑ میں اس امت کے نظریات، اقدار، وسائل، اور امتیازی خصوصیات کو  نشانہ بنایا جا رہا ہے، عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں: "تم لوگوں  سے آگے اس لیے نکلے ہو کہ تم نے اس دین کی آبیاری کی ہے"

اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے! آئیں ہم اس عظیم نصیحت ، اور سرمدی دستاویز  کو اس پر عمل  کر کے اس کا عملی نمونہ  بننے  کیلئے غور سے سنیں! امید ہے کہ اللہ تعالی ہم پر رحم فرماتے ہوئے ہماری اصلاح فرما دے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: (لڑکے! میں تمہیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں: تم اللہ کی حفاظت کرو وہ تمہاری حفاظت کریگا، تم اللہ کی حفاظت کرو ، تم  اسے اپنی سمت میں پاؤں گے، جب بھی مانگو اللہ ہی سے مانگو، اور جب بھی  مدد طلب کرو تو اللہ سے ہی مدد مانگو، یہ بات ذہن نشین کر لو کہ  اگر پوری قوم تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے کیلئے متحد ہو جائے، تو وہ تمہیں وہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں  جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کسی نقصان  پہنچانے کیلئے متحد ہو جائیں تو وہی نقصان تمہیں پہنچا سکے گی جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، [اس فیصلے پر] قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور قرطاس خشک ہو چکے ہیں) اس روایت کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح  قرار دیا ہے ۔

ترمذی کے علاوہ ایک جگہ یہ الفاظ ہیں: (تم اللہ کی حفاظت کرو! تم اسے اپنے سامنے ہی پاؤ گے، تم خوشحالی میں اللہ کو  پہچانو، وہ تمہیں  تنگی میں  پہچانے گا، یہ بات ذہن نشین کر لو کہ: جو  چیز تمہیں نہیں ملنی وہ کبھی تمہیں  پا نہیں سکتی، اور جو چیز تم تک پہنچ گئی وہ کبھی تم سے چوک نہیں سکتی تھی، یہ بھی یاد رکھو! غلبہ صبر سے  اور فراوانی  تنگی کے ساتھ آتی ہے، اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے)

اہل علم کہتے ہیں:  اس حدیث  میں اہم دینی  امور سے متعلق انتہائی عظیم  نصیحتیں  موجود ہیں، حتی کہ کچھ علمائے کرام نے یہاں تک کہہ دیا کہ: "میں نے اس حدیث پر غور کیا تو میں مدہوش ہو گیا ، ایسا لگا کہ مجھے کچھ ہو رہا ہے،  بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم اس حدیث کے مطلب و مفہوم  سے بالکل نابلد اور اس کا معنی بہت کم سمجھتے ہیں" حقیقت بھی ایسے ہی ہے کہ آج کل لوگوں کو اس حدیث کے الفاظ کا ہی علم نہیں ہے معنی اور مفہوم سمجھنا تو دور کی بات  ہے، اور اس پر عمل پیرا ہونا تو مزید ناممکن ہے!!

مسلمانو!

اللہ کی حفاظت کا مطلب  حدود الہی  کی پاسداری، حقوق اللہ کی ادائیگی، احکاماتِ الہی کی بجا آوری، اور ممنوعہ کاموں سے مکمل اجتناب ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ [32]  مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ } یہ ہے تم سے کیا ہوا وعدہ جو حدود کی حفاظت اور توبہ کرنے والوں کیلئے ہے [32] جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے رہے، اور [آج] رجوع کرنے والے دل کیساتھ آئے ہیں۔[ق : 32 - 33]

اس حفاظت میں دل  اور پیٹ کی ہر اعتبار سے نگرانی ضروری ہے،  چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ:  (اللہ سے کما حقہ حیا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ذہن میں آنے والی ہر فکر اور پیٹ میں جانے والی ہر چیز کا خیال کریں)

حصولِ حفاظتِ الہی  کیلئے اعضاء کجروی، اور حواس بے راہ روی سے محفوظ رہنے چاہییں ؛ آپ  ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص مجھے اپنے جبڑوں کے درمیان [زبان] کی اور اپنی ٹانگوں کے درمیان [شرمگاہ] کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں) بخاری

یہ حفاظت شہوت کی وجہ سے معاشرے اور افراد  کو گمراہ ہونے سے روکتی ہے، یا انہیں  بلند اخلاقی اقدار اور اچھی صفات سے  ہٹنے نہیں دیتی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور خواتین، اللہ کا خوب ذکر کرنے والے مرد اور خواتین  ان کیلئے اللہ تعالی نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہوا ہے۔[الأحزاب : 35]

مسلم اقوام!

دین کا اصول ہے کہ : جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، چنانچہ جس شخص نے ذکر شدہ مفہوم کے مطابق  اللہ کی حفاظت کی تو اسے بھی اللہ کی طرف سے مکمل حفاظت  اور اہتمام حاصل ہوگا، جس میں دینی و دنیاوی ہمہ قسم کی حفاظت شامل  ہوگی، اس کی تمام ضروریات پوری ہونگی، اور ہمہ قسم کی ضرر رساں اشیا سے بچاؤ بھی حاصل ہوگا۔

اہل علم کہتے ہیں: " اللہ کی طرف سے بندے کی حفاظت دو انداز سے ہوتی ہے:
پہلا انداز یہ ہے کہ: اللہ تعالی اپنے بندے کے دین اور ایمان کی گمراہ کن شبہات اور حرام شہوت سے حفاظت کرے، چنانچہ دین سے متصادم تمام چیزوں میں اللہ تعالی رکاوٹیں پیدا فرما دے، جیسے کہ فرمان باری تعالی ہے:
{
كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ}ہم نے اسی طرح [یوسف سے] برائی اور فحاشی کو موڑ دیا، بیشک وہ ہمارے خاص بندوں میں سے ہے۔ [يوسف : 24]
دوسرا انداز یہ ہے کہ: اللہ تعالی بندے کی دنیاوی ضرورتوں اور مفاد کی حفاظت فرمائے، مثلاً: جسم و جان، اولاد، اہل و عیال، اور مال کی حفاظت فرمائے، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ } [الرعد : 11]  ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "مطلب یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن جب تقدیری معاملہ آ جائے تو اس میں رکاوٹ نہیں بنتے"

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ کی حفاظت کرنے والے  کو اللہ کی طرف سے تعجب خیز  تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ طبعی طور پر موذی جانور بھی اس کے محافظ بن جاتے ہیں، جیسے کہ نبی ﷺ کے غلام سفینہ  رضی اللہ عنہ کے ساتھ  ہوا تھا کہ انکی سمندر میں کشتی ٹوٹ گئی اور وہ کسی جزیرے میں  جا پہنچے، وہاں پر ایک شیر دیکھا جو سفینہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور انہیں صحیح راستے  تک پہنچا دیا"

بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یہی مفہوم  اپنی اس نصیحت میں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا: (تم اللہ کی حفاظت کرو! تم اسے اپنی سمت میں ہی پاؤ گے) چنانچہ جو شخص بھی حدود اللہ کی پاسداری کرے ، حقوق اللہ کا اہتمام کرے تو اللہ تعالی اسے اپنی حفظ و امان  میں گھیر لیتا ہے، پھر اسے مزید کی توفیق  اور  سیدھے راستے پر بھی رکھتا ہے، بلکہ اسے اللہ تعالی کی تائید و مدد بھی حاصل ہوتی ہے: {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} بیشک اللہ تعالی ان لوگوں کیساتھ ہے جو ڈرتے ہیں، اور جو احسان کرتے ہیں[النحل : 128]

اللہ کی قسم! اگر امت اسلامی تعلیمات کی پاسداری اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق کرے تو اللہ تعالی  ہر تنگی ترشی سے اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنا کر ہر زحمت کو رحمت میں بدل دے گا۔

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جو شخص بھی تقوی الہی اختیار کریگا اللہ تعالی اس کے ساتھ ہوگا، اور جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو تو وہ ایسی قوت کے ساتھ ہے جو کبھی مغلوب نہیں ہوتی، ایسے پہرے دار کیساتھ ہے جو کبھی نہیں سوتا، اور ایسے رہنما کیساتھ ہے جو کبھی بھٹکتا نہیں ہے"

سلف صالحین میں سے کسی نے اپنے بھائی کی طرف خط لکھا: "۔۔۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اگر اللہ تمہارے ساتھ ہے تو کس سے ڈر رہے ہو؟!! اور اگر اللہ تعالی ہی تمہارے خلاف ہے تو پھر کس سے امید لگائے بیٹھے ہو؟!!"  اللہ تعالی سے دعا کہ  اللہ تعالی اس امت کی حقیقی زبان اور زبان حال   کو اس جملے کے مطابق گویا ہونے کی توفیق دے۔

اسلامی بھائیو!

حفاظت کی اس دوسری قسم کا یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالی نیک آدمی کی وفات کے بعد اس کی اولاد کی حفاظت فرمائے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی  ہے: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا}اور ان کا والد نیک آدمی تھا [الكهف : 82]، اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان یتیم بچوں کی حفاظت ان کے نیک  اور متقی والد کی وجہ سے ہوئی، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا}لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ننھی منی اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں انکے متعلق کتنا اندیشہ ہوتا ہے!؟، لہذا انہیں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور جو بات کریں صاف اور سیدھی کریں [النساء : 9] جسے اللہ تعالی لڑکپن اور جوانی کے وقت سے ہی اپنی تحویل میں لے لے تو اللہ تعالی بڑھاپے اور کمزوری کے وقت بھی حفاظت میں فرماتا ہے، چنانچہ اس کی سماعت، بصارت، اور طاقت بڑھاپے میں بھی قائم رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ سلف صد سالہ عمر ہونے کے باوجود مضبوط عقل و جوارح کے مزے لیتے رہے، تو ان میں سے کسی عمر رسیدہ  شخص نے زور دار چھلانگ لگائی  تو اس تعجب خیز حرکت کے بارے میں پوچھا گیا، جس پر انہوں نے کہا: "ان اعضا کو ہم نے ابتدائی عمر میں گناہوں سے محفوظ رکھا ، تو بڑھاپے میں اللہ تعالی نے انہیں ہمارے لیے محفوظ رکھا"

مسلم اقوام!

پوری امت فرد ہو یا قوم ، ان کی ذمہ داریاں کسی بھی قسم کی ہوں، انکا مقام کیسا بھی ہو ، جب بھی شریعت الہی  کی پاسداری کرے اور سچے دل سے ایمان لانے کیساتھ ساتھ اپنے ہر معاملے  میں اللہ کے سامنے سرنگوں ہو جائے ، نفسانی خواہشات اور قلبی شہوت سے پاک  ہو جائے ،  سیاسی ، اقتصادی، سماجی اور دیگر  امور  منہج الہی اور سنت رسول اللہ ﷺ  کے  موافق ہوں، جس وقت بھی  خالص اسلام کو اپنی حیات کے تمام شعبہ ہائے زندگی  اور مراحل کیلئے طرزِ زندگی  اپنائیں، اپنے تعلقات ، مصروفیات، اور ہمہ قسم  کی نقل کو حرکت کیلئے اسلام سنگ میل ہو تو اسی وقت  اللہ کی طرف سے تمام مصیبتوں ، تکلیفوں، بحرانوں اور فتنوں سے تحفظ ملے گا، اس امت کو اسی وقت  امن، استحکام، شان و شوکت، اور غلبہ حاصل ہوگا، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کیساتھ ظلم [شرک] کی آمیزش  نہ کی تو انہی لوگوں کیلئے امن ہوگا، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہونگے۔[الأنعام : 82]

جس وقت بھی امت ایمان باللہ، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں مکمل طور پر رنگی جائے گی،
یہی رنگ پوری امت کے طرز زندگی ، اہداف  اور تمام سرگرمیوں کیلئے رہبر و رہنما بنے تو ہمہ قسم کا امن  حاصل ہوگا، چاہے امن کا تعلق دشمنوں سے ہو یا کسی خطرے سے انہی سیاسی، اقتصادی، معاشرتی ہر طرح کا امن حاصل ہوگا۔

جس وقت تمام مسلمان اپنے دین کو حقیقی معنوں میں سمجھ لیں  اسلام کے اصولوں کو پہچان لیں ،  بدعات اور شہوات ایک جانب رکھ کر اسلام کیلئے سچے دل سے کام کریں، اس کیلئے ظاہری اسباب اپنائیں، اپنے آپ کو تیار کریں، وسائل مہیا رکھیں تو اللہ تعالی بھی انہیں زمین کی سلطانی عطا کریگا اور  ان کی شان و شوکت بڑھائے گا، ان کی بات میں وزن بھی ہوگا، اور دشمن ان سے مرعوب رہیں گے، سب مسلمانوں کیلئے خیر و بھلائی، اور سلامتی میسر ہوگی، کیونکہ:{ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ } حقیقی غلبہ اللہ، اس کے رسول اور مؤمنوں کا ہی ہوگا[المنافقون : 8]

امت اسلامیہ جس وقت بھی سخت آزمائش میں مبتلا ہو،  دہشت زدہ ہو کر امن  طلب کرے، ذلت کے دنوں میں عزت کی متلاشی ہو، پسماندہ حالات میں ترقی و استحکام کی خواہاں ہو، اسے کسی صورت میں  یہ باتیں حاصل نہیں ہونگی یہاں تک کے  اللہ عز و جل  کی لگائی ہوئی شرطیں پوری نہ کرے، اور وہ ہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اسلامی شریعت پر مکمل رضا مندی اور اللہ کے ہاں پسندیدہ منہج  کا نفاذ، تب جا کر  اس امت سے فساد و کمزوری کا خاتمہ ہوگا، اس امت  سے خوف، پریشانی اور عدم استحکام کا بوریا بستر گول ہوگا، بلکہ زمین کی کوئی بھی طاقت اس کے راستے میں کھڑی نہیں ہوسکے گی؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى[123] وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى } جب میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے ، جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبخت ہوگا [124] اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ [طہ: 123 - 124]

اسلامی بھائیو!

پوری تاریخ میں جب بھی امت مسلمہ  اس منہج سے دور ہوئی تو اسے زوال پذیر  اور ذلیل و رسوا ہونا پڑا، امت مسلمہ کا رعب  دبدبہ جاتا رہا، اور سب لوگوں میں خوف و ہراس سرایت کر گیا، نیز دشمنوں  نے بھی ان پر چڑھائی کی، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ }  بھلا جب [احد کے دن] تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے کہ "یہ کہاں سے آ گئی؟" حالانکہ اس سے دو گنا صدمہ تم کافروں کو پہنچا چکے ہو ،  آپ ان مسلمانوں سے کہہ دیں : یہ مصیبت تمہاری اپنی  ہی لائی ہوئی ہے [آل عمران : 165]

آپ ﷺ نے فرمایا: (جب تم بیع العینہ [ادھا فروخت کر کے نقدا کم قیمت میں خرید لینا]کرنے لگو، اور بیل کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر ہی راضی ہو جاؤ ، جہاد چھوڑ دو، تو اللہ تعالی تم پر ذلت مسلط کر دے گا، اور اس وقت تک تم سے دور نہیں فرمائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ جاؤ)

پوری دنیا میں مقیم مسلمانو! اللہ کا وعدہ  اب بھی قائم و دائم ہے، زمانہ کتنا ہی تبدیل ہو جائے، حالات کس قدر بدل جائیں جب بھی مذکورہ شرائط پائی جائیں گی اللہ تعالی اپنا وعدہ پورا فرما دے گا، اب جو بھی وعدہ پورا کروانا چاہتا ہے تو وہ شرائط پوری کرے کیونکہ: {وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ } اللہ تعالی سے بڑھ کر اپنے وعدے پر پکا کون ہو سکتا ہے؟ [التوبہ : 111]

یہی وجہ ہے کہ اس امت کے سلف صالحین صحابہ کرام سمیت تمام  پیش رو اللہ تعالی پر مکمل اعتماد اور بھروسا کرتے ہوئے  اسی منہج پر قائم تھے، وہ پر عزم ہونے کیساتھ ساتھ کامل ایمان کے حامل تھے، مصیبتوں کو جھیلنے کی طاقت بھی رکھتے تھے، وہ اعلی ترین رہنما رسول اللہ ﷺ کے مکمل پیر و کار تھے، وہ لوگ جہاد اور جد و جہد کیساتھ ساتھ نیکیاں بھی مسلسل کرتے ان میں انقطاع نہیں آنے دیتے تھے، تبھی اللہ تعالی نے ان کے ذریعے دین اسلام کو بلندی اور شان  و شوکت سے نوازا، اس دھرتی پر مضبوط اسلامی سلطنت وجود میں آئی، اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے دنیا کی حقیقت کو پہچان کر اپنی زندگی میں اسے مناسب مقام دیا، چنانچہ  انہوں نے ہماری طرح دنیا کی جانب بالکل دھیان نہیں دیا؛ کیونکہ وہ حقیر دنیا سے مکمل آشنا ہو چکے تھے، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں رکھا، بلکہ آخرت کی فکر  کی ، اور اسے مناسب مقام دیا، اس لیے ان کا ہر کام آخرت کیلئے ہوتا تھا؛ کیونکہ اخروی زندگی سرمدی و ابدی  ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کیلئے دنیاوی مصائب بالکل ہوا ہو گئیں، لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیا حاصل کرنے کیلئے دلِ شکستہ لے کر بیٹھ گئے اور بہت سے مسلمانوں نے آخرت کیلئے عمل کرنا ہی چھوڑ دیا۔

ابن کثیر رحمہ اللہ نے 463 ہجری  کے واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: "رومی بادشاہ  بے شمار گھڑ سوار دستوں کی شکل میں پہاڑوں  کی طرح امڈ آیا، ان کی تعداد بہت ہی بڑی تھی، رومی بادشاہ کا یہ عزم تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، چنانچہ مسلم سلطان تقریباً 20 ہزار کے لشکر کی صورت میں مقابلے میں آیا، اور مشرکین کی تعداد  سے خوفزدہ ہونے لگا، جس پر فقیہ ابو نصر محمد بن عبد الملک بخاری نے مشورہ دیا کہ جنگ کا وقت  جمعہ کا دن اور زوال کے بعد ہو، کیونکہ اس وقت خطباء مجاہدین کیلئے دعائیں کرتے ہیں، چنانچہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو مسلمانوں کے سلطان  نے گھوڑے سے اتر کر اللہ کیلئے سجدہ کیا، اور اللہ سے دعا مانگتے ہوئے فتح طلب کی، تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرمائی، اور انہیں مشرکوں کو چاروں شانے چت کرنے کا موقع دیا، اور یہ واقعی ایک بڑی شان و شوکت والی فتح تھی"

لیکن آج ہمیں اپنی صورت حال درست کرنے کیلئے سچی کاوش اور جد و جہد کی ضرورت ہے!
ایسی قوم کو حفاظت کا الہی وعدہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے جو قرآن و سنت کے نفاذ سے رو گرداں ہے!
ایک صدی سے متعدد ممالک میں انسانوں کے بنائے ہوئے دستور کو آئین بنانے والوں کی حفاظت کیسے ہو!
اب بھی بہت سے ممالک میں یہی حالت ہے!
ایسی قوم کی مدد، نصرت، اور اصلاح کیسے ہو سکتی ہے جن میں غیر اللہ سے امید لگانے والوں کی تعداد غیر معمولی ہو!
یہ صورت حال متعدد اسلامی ممالک میں مزاروں اور قبروں پر دیکھی جا سکتی ہے!
ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جن کا اقتصادی نظام ہی سود پر مبنی ہو!
مشرق و مغرب کے پیچھے لگ کر ان کا لین دین ہی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے متصادم ہو!
ایسی قوم کیسے کامیاب و کامران ہو سکتی ہے جن میں برائیوں اور بے حیائی کی بھر مار ہو!
متعدد اسلامی ممالک میں یہ بات بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی ہے!
رشوت کی رسیا اور اہلیت [میرٹ] کے قتل  میں ملوث قوم کیسے کامیاب و کامران ہو سکتی ہے!
جس قوم کے معاملات میں دروغ گوئی، دھوکہ دہی، اور ملاوٹ کا راج ہو!
جس قوم کے معاملات سے صداقت، امانت کا جنازہ نکل چکا ہو!
جس قوم کے نوجوانوں کے دلوں سے اللہ کیلئے محبت، اور اللہ کیلئے دشمنی کا نظریہ ختم ہو چکا ہو!
جس قوم کے تعلقات کی بنیاد دنیا بن چکی ہو وہ کیسے کامیاب ہو سکتی ہے!
یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح فرما، یا ارحم الراحمین!

اللہ تعالی میرے اور آپکے لئے قرآن مجید کو بابرکت بنائے،  اور ہمیں سید الانبیا و المرسلین کی سیرت سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش  مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں صرف  اللہ تعالی کیلئے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل، اور برگزیدہ صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو!

متقی شخص کو اللہ تعالی تحفظ فراہم کرتا ہے، اور اس کیلئے ہر قسم کی تنگی سے نکلنے کا راستہ اور ہر مصیبت سے خلاصی کا انتظام فرماتا ہے، نیز اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہیں ہوتی۔

مسلمانو!

لمحات اور ایام گزرتے جا رہے ہیں  جبکہ اس دنیا میں متعدد مقامات پر ہمارے بھائی دہشتگردی، قتل و غارت، جبری جلا وطنی  کے خلاف کٹے پھٹے اعضا کیساتھ نبرد آزما ہیں اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تاریخ  انہیں کسی صورت میں بھلا نہیں سکتی اور دماغ سے ظلم کی یہ داستانیں کبھی مٹ نہیں سکتیں،  ہم یہی کہتے ہیں کہ :"حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" نیز ہم اللہ تعالی سے یہ بھی دعا گو ہیں کہ: یا اللہ! امت محمدیہ کی مدد فرما۔

پوری دنیا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس کا کامیاب حل یہی ہے کہ اہل حق تک ان کے حقوق پہنچائے جائیں،  پوری انسانیت کو حقیقی معنوں میں عدل و انصاف مہیا کیا جائے،  اسلامی تقاضوں کے مطابق انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جائے،  وگرنہ اس بات کا خمیازہ اور نقصان پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔

امت محمدیہ کے سپوتو! معاملہ انتہائی سنگین ہے، کیونکہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اللہ کے سامنے جوابدہی  ایک عظیم معاملہ ہے، اس لیے ہمیں اپنے بھائیوں  کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا، کسی دنیاوی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ صرف رضائے الہی کیلئے ، اس لیے بھی کہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق باہمی ربط و اتحاد  کی ذمہ داری بخوبی ادا ہو؛ کیونکہ یہ ذمہ داری اللہ تعالی نے ہم سب پر یکساں عائد کی ہے ۔

چنانچہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اللہ کا خوف کھائے، مظلوم مسلمانوں کیلئے بھر پور انداز سے سخاوت کریں، ہر وقت ان کیلئے اللہ تعالی سے دعائیں مانگیں، کیونکہ اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کی جا سکتی ہے، اور اسی کے سامنے شکایت کی جا سکتی ہے، اسی پر ہمارا توکل ہے، وہی ہمیں کافی اور بہترین کار ساز ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے، اور وہ ہے نبی ﷺ پر درود و سلام ،  یا اللہ! ہمارے نبی   سیدنا محمد  پر رحمتیں ، برکتیں نازل فرما ، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ، تمام صحابہ کرام،   تابعین، اور قیامت تک انکے راستے پر چلنے والے افراد سے  راضی ہو جا۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے،  یا اللہ! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کی پوری دنیا میں مشکلات آسان فرما دے، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی عزت آبرو کی حفاظت فرما،  یا اللہ! مسلمانوں کے مال و جان، عزت  آبرو، اور وسائل کی حفاظت فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کیلئے اپنی مدد نازل فرما۔

یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کتاب و سنت کے نفاذ کی برکت سے درست فرما دے، یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کتاب و سنت کے نفاذ کی برکت سے درست فرما دے۔

یا اللہ! مؤمن مردو خواتین کو بخش دے، مسلمان مرد  و خواتین کو بخش دے، زندہ و فوت شدہ سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہمیں تیری رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری دینی اور دنیاوی معاملات میں رہنمائی فرما، یا اللہ! ہماری دینی اور دنیاوی معاملات میں رہنمائی فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا ذالجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمیں شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان کی شان و شوکت میں اضافہ فرما،  یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر جگہ ذلیل و رسوا فرما دے۔

یا اللہ! مسلمانوں کو پہنچنے والی مصیبتوں کو ان کیلئے دین و دنیا میں بلندی کا باعث بنا دے، یا اللہ! مسلمانوں کو پہنچنے والی مصیبتوں کو ان کیلئے دین و دنیا میں بلندی کا باعث بنا دے، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری پسند کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو اچھے حکمران نصیب فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے  توں اس پر سختی فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے توں اس پر سختی فرما، یا اللہ! جو بھی حکمران مسلمانوں پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما، یا اللہ! اس پر اپنا حکم نازل فرما دے، یا اللہ! اس پر اپنا حکم نازل فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ ! ہمیں بارش عطا فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش  کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش  کا پانی مہیا فرما، یا اللہ! یا ذالجلال والاکرام!    ہمیں تباہی، غرق، اور نقصانات سے خالی بارش  کا پانی مہیا فرما، یا ذالجلال والاکرام! 

یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے ملک  اور دیگر اسلامی ممالک میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کی بارش عطا فرما،  ہمارے دلوں کو سید الانام ﷺ کی سیرت  والی بارش عطا فرما۔

 یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو! اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔

 یمن میں امن !

   فرامینِ رسول ﷺ اور ہدایات

خطبہ جمعہ ، مسجدِ نبوی شریف 

 

خطیب و امام: ڈاکٹر عبد المحسن القاسم 

ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل

توضیح و مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں صلوٰۃ و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو اچھی طرح (قولاً و عملاً) تھام لو۔

معاشرے کے امن و امان اور سلامتی کی بنیادی شرط

مسلمانو!

اللہ تعالی نے آدم  علیہ السلام اور اولاد آدم کو اپنی اطاعت کے تحت زمین آباد کرنے کیلئے (زمین کا) خلیفہ بنایا، ان پر فضل و رحم کرتے ہوئے ہر چیز ان کیلئے مسخر بھی کی تا کہ وہ ان سے رضائے الہی  کے حصول کیلئے معاونت حاصل کریں، فرمانِ باری تعالی ہے:{هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ہر چیز  پیدا کی۔[البقرة:29]

یاد رکھو! خوشحال زندگی اللہ کی عبادت، اور نبی مکرّم ﷺ کی سنت کی پیروی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، بلکہ توحید ِباری تعالیٰ کسی بھی معاشرے کے امن و امان اور سلامتی  کیلئے بنیادی شرط ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:{الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ}جو لوگ ایمان لائے، اور اپنے ایمان کیساتھ ظلم (شرک) کی ملاوٹ نہ کی تو انہی لوگوں کیلئے امن ہوگا، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہونگے۔[الأنعام:82]

امن کا ضامن ایمان اور (ایمان و امن) کا باہمی گہرا تعلق

ایمان ہی امن کا ضامن ہے، اور (امن و ایمان) دونوں ہی زندگی کے ہر لمحے کی بنیادی ضرورت ہیں، انہی کی وجہ سے زندگی خوشحال اور وافر رزق میسر آتا ہے ، معاشرے کے ہر فرد کا دوسرے سے تعلق بنتا ہے، سب ایک بات پر متفق اور ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں، شعائر پر اطمینان کیساتھ  عمل کیا جاتا ہے، صاف چشموں سے علم حاصل کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مکمل کنٹرول، اور حکومت اس کے بغیر ملتی ہی نہیں ، فرمانِ باری تعالی ہے:

{وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا} ’’ تم میں سے جو مؤمن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اُس دین کو مضبوط کرے گا جسے اُس (اللہ) نے ان کے لئے پسند کیا ہے،اورانہیں بد امنی کے بعد امن مہیا فرمائے گا، پھر وہ صرف میری ہی عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘‘۔[النور : 55]

فقدانِ توحید کا نقصان

لیکن جب عقیدہ توحید مفقود (غیرموجود) ہو تو امن  کی جگہ بد امنی پھیل جاتی ہے،معیشت تباہ ہوجاتی ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں،لوگوں کی اخلاقیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھوک افلاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشرہ بد امنی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔

اللہ کی حفاظت و نصرت کن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے؟

جو کوئی حدود اللہ کی عملی پاسداری کرے،اسلامی احکامات بجا لائے،اور شریعت میں منع کردہ کاموں سے بچے، تو اللہ تعالی اس کی دنیاوی حفاظت فرماتے ہوئے اس کے جسم، مال، اور اہل عیال کو اپنی حدظ و امان نصیب فرما دیتا ہے، اور (دنیا کے ساتھ ساتھ اس کی) دینی حفاظت فرماتے ہوئے اسے گمراہ کن نظریات و افکار،شبہات اور حرام امور سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمادیتا ہے، نبی علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے:’’تم اللہ کو یاد رکھو، وہ تمہیں تحفظ فراہم کریگا‘‘ (ترمذی)

خوشحالی کی انتہا تک رسائی امن وایمان سے ہی ممکن ہے،چنانچہ مواشرے کے امن کی حفاظت کرنا اور دوسروں کو بھی حفاظت کی تلقین کرنا اس کا حق ہے۔

نعمتِ امن کا شکر صرف ایک اللہ کی عبادت سے ممکن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ } [مکہ کے لوگوں کو چاہیے کہ] وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا، اور خوف میں  امن عطا کیا۔[قريش :3-4]

ظالموں کی تباہی و بربادی کب اور کیسے؟

زمین پر (امن کے ساتھ) آباد کاری (ایک اللہ ہی کی)عبادت سے ہی ممکن ہے، جبکہ اللہ کیساتھ شرک کرنا،اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا زمین پر سب سے بڑا فساد ہے،  یعنی  معصوم جانوں کا قتل کرنا،  کسی کی آبرو ریزی کرنا ، پر امن لوگوں کو دہشت زدہ کرنا ، اور عہد و پیمان  توڑنا  اسی فساد میں شامل ہے۔

اللہ تعالی نے ظالموں کی کامیابی اور قیادت کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:{ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ} ظالم کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے[يوسف:23]

شروع سے لیکر اب تک ظالموں کی تباہی و بربادی سنت الہی ہے،فرمانِ باری تعالی ہے:{وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ} کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کے رہنے والے ظالم تھے تو انھیں ہم نے پیس کر رکھ دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ  پیدا کردیئے۔ [الأنبياء:11]

تاہم اگر کسی ظالم کی ہلاکت میں بظاہراً تاخیر ہو تو یہ حکمت الہی کی وجہ سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی  ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو بالکل اچانک پکڑتا ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی والوں کو پکڑتا ہے تو ایسے ہی پکڑتا ہے، بیشک اسکی پکڑ بڑی درد ناک اور سخت  ہوتی ہے[هود:102]) (بخاری)

مظلوم کی مدد انسان اور خصوصاً اہلِ اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے

اللہ تعالی نے ظالم کے ہاتھ روکنے اور  طغیانی  سے باز رکھنے کا حکم دیا، تا کہ مظلوموں کو تحفظ ملے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ} ان کے ساتھ قتال (جنگ و جہاد) کرو، جب تک کہ فتنہ ختم نہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے،اور اگر وہ بازآجائیں توصرف ظالموں پرہی دست درازی  کرسکتے ہو[البقرة : 193]

مزید مظلوم لوگوں کی مدد کرنے کا حکم دیا،  چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (اپنی بھائی کی مدد کرو،چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم) (بخاری) (ظالم کی مدد اسے ظلم سے روکنا ہے اور مظلوم کی مدد اس کا ساتھ دینا اور اُسے ظلم و زیادتی سے بچانا ہے)۔

مظلوم کی مدد دین میں بھائی چارے کا بنیادی حق ہے، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (مؤمنین کی باہمی محبت، پیار، رحمت و شفقت  کی مثال  ایک جسم کی طرح ہے، اگر اس کا ایک عضو بھی بیمار ہو تو مکمل جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے) متفق علیہ

مظلوم لوگوں کی مدد کرنا جرأت مندی اور عظمت کی علامت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوموں کی مدد کرنے کا حکم بھی دیا، اور فرمایا: (مظلوم آدمی کی مدد کرو) (احمد)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ کی اطاعت کرنا،مظلوم کی مدد کرنا،اللہ کیلئے بھائی چارہ قائم کرنے کیلئے ایک دوسرے کا حلیف (معاون و مددگار) بننا شریعتِ اسلامیہ میں انتہائی پسندیدہ عمل ہے،اور اس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے"۔

یہی وجہ ہے کہ یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں بعثت سے پہلے بھی پائی جاتی تھی،چنانچہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں : "اللہ کی قسم! اللہ تعالی آپ کو کبھی رسوا نہیں کریگا، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور مہمان نوازی کے ساتھ  آفات میں لوگوں کی مکمل مدد بھی کرتے ہیں"۔ (متفق علیہ) 

عرب کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ 

بلکہ (رسول اللہ ﷺ کے دور میں) قریش قبیلے کے ذیلی خاندانوں نے زمانہ جاہلیت میں معاہدہ "حلف الفضول" کے تحت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا (اس طور پر) اعلان کیا تھا، کہ مظلوم لوگوں کی مدد کیلئے ظالم کے خلاف سب متحد ہونگے ، اور جب تک مظلوم کا حق ادا نہیں ہو جاتا ظالم کے خلاف کھڑے رہیں گے۔

امام ابن کثیررحمہ اللہ اس معاہدے کے بارے میں کہتے ہیں:" یہ معاہدہ عرب کی تاریخ میں رونما ہونے والا سب سے عظیم ترین معاہدہ تھا"۔

(کیونکہ) اس طرح  باطل ختم ہوگا،اور زمین پر فساد میں کمی آئے گی۔

یمن میں کاروائی کیوں؟ 

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس ملک (مملکتِ سعودی عرب) کی قیادت نے یمن میں مظلوموں کی  پکار پر لبیک کہا، تو ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ پوری قوت کے ساتھ ظالموں کے خلاف  چل پڑا، جس کیلئے قائد اورعوام شانہ بشانہ کھڑے  ہوگئے، فتح کی کرنیں چمک اٹھیں، اور دانشوروں کے ساتھ مظلوم لوگ  بھی اس پرخوش ہوئے۔

کامل ترین فتح اللہ وحدہ کے سامنے التجائیں کرتے ہوئے گڑگڑانے سے ہی ملے گی، امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:" دنیاوی تکالیف و پریشانیوں کے (رضائے الٰہی سے ) خاتمہ کیلئے عقیدہ توحید کا کوئی ثانی و مقابل نہیں"۔

فتح و نصرت کے اسباب

اطاعتِ الہی:

اللہ کی اطاعت سے فتح جلدی نصیب ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ}اگر تم اللہ (کے دین) کی (اطاعت ، حفاظت و تبلیغ کے ذریعہ) مدد کرو، تو وہ تمہاری مدد کریگا۔ [محمد:7]

دعاء:

اور فتح کی چابی دعا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ} (یاد کرو) جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری دعا فوراً قبول کی[الأنفال:9]

مدد کے لئے صرف اللہ کو پکارنا:

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ہرمُکلَّف (اسلامی احکامات کے پابند) کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ علی الاطلاق اللہ کے سوا مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے، کسی بھی قسم کی مدد ملے تو وہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے"۔ (لہٰذا صرف اللہ ہی سے مدد طلب کی جائے)۔ 

حالتِ جنگ میں اسوہِ نبیِ رحمت ﷺ 

انبیائے کرام اللہ کے سامنے سب سے زیادہ  گڑگڑانے والے ہوتے ہیں، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن  اللہ تعالی سے انتہائی الحاح کیساتھ  دعا فرمائی، حتی کہ آپکی چادر بھی گرگئی،اور پھرغزوہ خندق کے موقع  پرآپ ﷺ کی دعا کے یہ الفاظ تھے:

(اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ)

[یا اللہ! قرآن نازل کرنے والے، جلدی سے حساب لینے والے، تمام (دشمن) افواج کو شکست دے، یا اللہ! انہیں  ہزیمت و شکست سے دوچار کر، اور ان کے قدموں کو اکھاڑ دے] (متفق علیہ)

مؤمنین کی دعا بھی قرآن میں بیان ہوئی: {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ بخش دے، اور کسی کام میں زیادتی ہو گئی ہو تو وہ بھی معاف فرما، اور ہمیں ثابت قدم بنا، اور ہماری کافروں کے خلاف مدد فرما [آل عمران : 147]

ثابت قدم رہیں، اللہ پر بھروسہ کریں، نماز قائم کریں، تکبر سے دور رہیں اوراللہ سے خیر کی امید رکھیں

ثابت قدمی اور تقوی کے سامنے ہر تکلیف ہیچ ہے:{وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا} اگر تم ثابت قدم رہو، اور تقوی اختیار کرو، تو ان (دشمنوں) کی مکاریاں تمہیں کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتیں۔[آل عمران : 120]

دورانِ جنگ کثرت کے ساتھ  ذکر الہی کرنا کامیابی کی کرن ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے ایمان والو! جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بکثرت  یاد کرو ؛ تاکہ تم کامیاب رہو [الأنفال : 45]

مصیبت میں نمازقائم کرنا بھی اللہ کی مدد کا باعث ہے، اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} اے ایمان والو! صبر اور ایمان کے ذریعے مدد طلب کرو، بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[البقرة : 153]

(جائز) اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالی پر توکّل و بھروسہ کرنا ، ایمان و طاقت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ }جو بھی اللہ تعالی پر توکل کرے تو وہی اسے کافی ہے۔ [الطلاق : 3]

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:" اللہ پر توکل کے ذریعے انسان مخلوق کی طرف سے ملنے والے ناقابل برداشت ظلم و ستم بھی  روک سکتا ہے"۔

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ" مصیبت کے وقت پڑھا جاتا ہے، چنانچہ انہی کلمات کو دونوں خلیلوں نے بھی کہا تو اللہ تعالی نے انہیں فتح عطا فرمائی۔

اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنا  کامل توحید اور فتح کی نوید ہے، حدیث قدسی میں ہے: (میں اپنے بندے کیساتھ  اس کے گمان کے مطابق  پیش آتا ہوں) متفق علیہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ : "جو شخص بھی اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے، تو اللہ تعالی اسے حسن ظن کے مطابق ہی عطا فرماتا ہے"۔

وعدہ الہی فتح و خوشخبری کی صورت میں پورا ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ} بیشک ہم اپنے رسولوں اور مومنوں کو دنیاوی زندگی  میں فتح یاب فرمائیں گے، اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہونگے[غافر : 51]

ایک مسلمان اپنے دل کو ہمیشہ  اللہ  کے ساتھ  لگا کر رکھتا ہے، چنانچہ خود پسندی، اور اپنی طاقت پر فخر نہیں کرتا، فرمان باری تعالی ہے: { وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ} حنین کا دن [یاد کرو] جب تم اپنی کثیر تعداد پر خود پسندی میں مبتلا ہوگئے، تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، بلکہ کشادہ زمین بھی تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔[التوبۃ : 25]

افواہیں اور مسلمان

ایک مؤمن کو عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ہربات کو تصدیق کے بعد ہی قبول کرنا چاہیے، اور دشمنوں کی طرف سے پھیلائی گئی افواہوں پرکان بھی نہیں دھرنا چاہییں، کیونکہ "سنی سنائی باتیں کرنا بہت بری بات ہے" آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: (کسی شخص کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے) مسلم

 

تحفظِ حرمین شریفین

ایسا شخص مبارکباد کا مستحق ہے جس نے اپنی جان حرمین شریفین کی حفاظت اورمظلوم لوگوں کی مدد میں قربان کردی، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: (جنت میں  سو درجے ہیں، اللہ تعالی نے یہ درجات مجاہدین فی سبیل اللہ کیلئے تیار کیے ہیں،ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے) بخاری

 

نیت میں خلوص پیدا کریں

اس عظیم عبادت کو ادا کرنے والے افراد کیلئے نیت خالص کرنا انتہائی ضروری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: "ایک شخص اپنی دلیری کیلئے، دوسرا قبائلی تعصب کیلئے، اور تیسرا ریا کاری کیلئے قتال کرتا ہے، ان میں سے"فی سبیل اللہ" کون ہے؟ "تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو کلمۃ اللہ کی بلندی کیلئے لڑے ، وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے) متفق علیہ

دیارِ حرمین کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے 

سرحدوں پر پہرا دینے والوں کو اجرعظیم کا وعدہ دیا گیا ہے،آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: (اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرا دنیا اور جو کچھ اس پر ہے ،ان سب سے افضل ہے) مسلم

جس شخص کی بھی ان میں شرکت کرنے کی سچی نیت ہو تو انہیں عمل کیے بغیربھی اسکا اجر ملے گا، آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا فرمان ہے: ’’بیشک مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جتنا بھی چلے اور وادیوں سے گزرے  ہو،  وہ تمہارے ساتھ  اجر میں برابر کے شریک ہیں، وہ بیماری کی وجہ سے (تمہارے ساتھ) نہیں آسکے‘‘۔ مسلم

اہلِ یمن کے لیے تعلیمات 

یمن کے تمام اہل ایمان کیلئے ضروری ہے کہ اپنی اسلامی تابناک تاریخ  مسخ نہ ہونے دیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے تھے انکی لاج رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، ان کے دل انتہائی نرم ہیں، ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے) متفق علیہ (یعنی کتاب و سنت کے نھج پر قائم عقیدہ توحید اور سنتِ نبوی ﷺ کے حامل یمن کے اہلِ حق کا ایمان ہی اصل ایمان اور انہی کی حکمت اصل حکمت ہے)۔

(لہٰذا) اہل یمن کیلئے ضروری ہے کہ حق بات، اور دین کیلئے اپنا ایک ٹھوس مؤقف بنائیں، تفرقہ و اختلاف سے دور رہیں، ایک حکمران کے تحت سب جمع ہو جائیں ، اور باغیوں کو چاہیے کہ وہ حکمِ الہی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔

اس تفصیل کے بعد: مسلمانو!

فتح کا اصل مأخذ اور سنتِ الٰہی 

قوت کا اصل ماخذ و مصدر اللہ کی ذات ہے، وہ اپنے فیصلوں پرمکمل کنٹرول رکھتا ہے، سنتِ الہی بھی یہی ہے کہ حق و اہل حق کی مدد کرتا ہے، باطل و اہل باطل  کو ملیامیٹ کر تا ہے، اللہ تعالی نے اپنے اولیاء کیلئے فتح لکھ دی ہے، جبکہ اس کے دشمنوں کو صرف شکست ہی ملے گی۔

فتح کے بعد 

فتح کے بعد مسرت و شادمانی شکرِ الہی اور حمد و تسبیح کے بغیرمکمل نہیں ہوسکتی، فرمانِ باری تعالی ہے:{إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا } جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے [1]  لوگوں کواللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتا دیکھ لیں [2] تو اپنے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کریں، اور اسی سے بخشش مانگیں، بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے[النصر:1 -3]

 

فتح کی وجوھات

فتح  کی وجوہات(مادی وسائل و)اسباب کو قرار دینے سے بالکل گریز کریں،کیونکہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔

مسلمان کو اپنے مظلوم بھائیوں کی تکالیف دور ہوتے ، اور کلمۃ اللہ  کو بلند ہوتے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: {وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ} عزت صرف اللہ کیلئے، رسول اللہ کیلئے،اورمؤمنوں کیلئے ہے، لیکن منافق اس بات کا ادراک نہیں رکھتے[المنافقون:8]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس ذکرِ حکیم سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں۔

دوسرا خطبہ 

 

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں جس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!

پوری دنیا میں مملکتِ سعودی عرب کا مقام و مرتبہ۔

اللہ تعالی نے اس ملک کو مسلمانوں کے قبلہ یعنی بیت اللہ  اور مسجد رسول اللہ علیہ الصلاۃ و السلام کے ذریعے بہت شرف بخشا ہے،اس حکومت کی بنیاد کتاب و سنت ہے،اس کا مشن دین کی حفاظت،دینی نشرواشاعت ،قیامِ عدل، اورامت مسلمہ کے مسائل کو پوری دنیا کے سامنے رکھ کران کا بھر پوردفاع کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ملک  کو مسلمانوں کی قیادت ملی، اللہ تعالی نے اپنی خصوصی مدد کے ذریعے اس ملک کی حفاظت فرمائی، اور اس کی مدد بھی کی، یہی وجہ ہے کہ یہاں پر امن و ایمان ہمیشہ قائم دائم رہا، بلکہ مسلمان چاہیے کسی بھی خطے میں رہتے ہوں، ان کے دل اسی ملک کے کیلئے دھڑکتے ہیں،  حتی کہ دشمن بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں، اور یہ اللہ تعالی کا اس ملک پر بہت بڑا احسان ہے، ہم اسی لیے صرف اللہ کی حمد و ثنا ہر دم کرتے ہیں۔

یہ بات جان لو کہ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پرصلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:]إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا[ اللہ اوراس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر صلوٰۃ وسلام  بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الأکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یااللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے، اور اس کے سارے اعمال اپنی رضا کیلئے چن لے،  اور تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذ شریعت اور قرآن کو بالا دستی دینے کی توفیق دے۔

یا اللہ! ہماری افواج کی مدد فرما، اور انہیں جلد از جلد فتح و کامیابی عطا فرما۔

یا اللہ! زمین و آسمان  کی تمام  چیزیں اپنی قوت، طاقت، اور قدرت کے ذریعے ہماری افواج کیلئے مسخر فرما دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! تیرے اور انکے دشمنوں کے لئے ہلاکت و تباہی لکھ دے، یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین  نکال دے،  اور ان کے دلوں میں رعب و دبدبہ ڈال دے، یا ذالجلال وا لاکرام!

یا اللہ! تو ہی معبودِ حقیقی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے، ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس نہ فرما۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے ، اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

الوصف: الوصف: الوصف: start-iconإِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ الوصف: الوصف: end-iconاللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

تم اللہ کو یاد رکھو جو صاحبِ عظمت و جلالت ہے وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

یمن میں حوثی فسادات

اسباب، اہداف، اور حل

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے، وہ جسے چاہے معزز بنائے، اور جسے چاہے ذلیل کر دے،  وہ فیصلہ کر دے  تو کوئی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا، جو اللہ چاہے وہ ہو جاتا ہے، اور جو نہ چاہے وہ نہیں ہو سکتا، وہ تکالیف میں مبتلا اس لیے کرتا ہے کہ خوشی میں شکر کرنے والوں کے اجر میں اضافہ ہو، اور تکالیف پر صبر کرنے والوں  کو عظیم اجر سے نوازے،مسلسل عنایتوں پر میں اپنے رب کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں ،  میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں  وہ یکتا ہے ، وہی عظمت و کبریا ئی کا مالک ہے، اسی کے اچھے اچھے نام  اور بلند صفات ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے  اور رسول ہیں،  اللہ تعالی نے آپکو  روشنی و نور  دیکر مبعوث فرمایا، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول  محمد ، انکی اولاد اور متقی  و نیکو کار صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

سچے دل سے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے تقوی الہی اختیار کرو،  مخلوق کیساتھ  شریعتِ الہی کے مطابق معاملات  کرو تو کامیاب ہو جاؤ گے، اور ان لوگوں کے راستے سے بچ جاؤ گے جن پر غضب الہی ہوا، اور جو گمراہ  ہوئے۔

 معرکۂِ حق و باطل کی تاریخ

معرکہ خیر و شر ،  حق  و باطل ازل سے جاری ہے، چنانچہ جب اللہ تعالی نے آدم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا تو اُنہیں ابلیس ملعون کے ذریعے آزمایا،  تا کہ اولیاء اللہ  کی دنیا و آخرت میں عزت ہو، اور اللہ کے دشمنوں کی  دنیا و آخرت میں رسوائی ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ }غور سے سنو! یقیناً اللہ کے دوستوں پر، نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے [62] جو لوگ ایمان لائے، اور تقوی پر قائم رہے [63] انہی کیلئے دنیاوی اور اخروی زندگی میں خوشخبری ہے، اللہ تعالی کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہی عظیم کامیابی ہے۔[يونس : 62 - 64]

شیطان کی پیروی

اللہ تعالی نے شیطانی کی پیروی کے بارے میں فرمایا: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ (3) كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ } بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرنے لگتے ہیں  [3] ایسے لوگوں کی قسمت میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو شیطان کو اپنا دوست بنائے گا، وہ اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور جہنم کے عذاب کی راہ دکھلائے گا [الحج : 3 - 4]

فرمانِ باری تعالی ہے: { وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا (119) يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا (120) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا } اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا اس نے صریح نقصان اٹھایا [119] شیطان ان سے وعدہ کرتا اور امیدیں  دلاتا ہے۔ اور جو وعدے بھی شیطان انہیں دیتا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے [120] ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے نجات کی وہ کوئی صورت نہ پائیں گے [النساء : 119 - 121]

فرمانِ باری تعالی ہے: {اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ} شیطان ان پر مسلط  ہو گیا اُس نے اِنہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کی جماعت ہیں۔ سن لو! شیطان کی جماعت ہی خسارہ  اٹھانے والی ہے۔ [المجادلۃ : 19]

معرکۂِ حق و باطل  کا مقصد

اور اللہ تبارک و تعالی نے اپنی رحمت، حکمت، علم، قدرت،  عدل، تدبیر اور قضا و قدر  کے تحت یہ چاہا کہ  زمین پر حق و اہل حق کے ذریعے اصلاح فرمائے، ایمان و اہل ایمان  ، اور اسلام کے  غلبہ کے ذریعے  زمین سے شر و فساد کا خاتمہ فرمائے،   اہل توحید کی کڑک سے  باطل  کو ملیامیٹ کر دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ} اگر اللہ تعالی بعض لوگوں کو بعض سے نہ ہٹاتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالی دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔ [البقرة : 251]

 باطل کا خاتمہ کیوں نہ ہو ؟

مفسرین اس کے بارے میں کہتے ہیں: اگر اللہ تعالی  فساد اور شرک کو حق و اہل حق  کے غلبہ کے ذریعے ختم نہ فرماتا تو  پوری زمین  شرک، ظلم، زیادتی، خون خرابے، آبرو ریزی، خوف  وہراس، بھوک پیاس سے بھر جاتی، مساجد مسمار  کر دی جاتیں، اور شرعی احکام  معطل ہو کر رہ جاتے، اس کے علاوہ بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہوتیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:  { وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (40) الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ} اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دور نہ کرے تو خانقاہیں ، گرجے ، معبد خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کر دی جائیں۔  اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بہت قوت والا اور غالب ہے [40] یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے [الحج : 40 - 41]

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ } اگر اللہ تعالی چاہے تو ان سے خود ہی انتقام لے لے، لیکن وہ تمہیں ایک دوسرے کیساتھ آزمانا چاہتا ہے۔[محمد : 4]

 مخلوقات کے بارے میں دستورِ الہی

مخلوق کے بارے میں مخصوص سنتِ الہی  ہے،  جس میں تغیر و تبدل کرنے  کی کوئی  طاقت نہیں رکھتا،  فرمانِ باری تعالی ہے: {فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا} کیا یہ صرف اس سنت الٰہی کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلے لوگوں میں جاری رہی۔ اللہ کی اس سنت میں آپ نہ تو کبھی کوئی تبدیلی  پائیں گے اور نہ تغیر [فاطر : 43]

فرمانِ باری تعالی ہے: {سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا} یہی اللہ کی سنت ہے جو پہلے لوگوں میں جاری رہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی نہ پائیں گے [الفتح : 23]

فرمانِ باری تعالی ہے: {سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا} ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ان میں یہی ہمارا دستور رہا ہے اور ہمارے اس قانون میں آپ تفاوت نہیں پائیں گے۔ [الإسراء : 77]

 حکمرانوں کی دو اقسام اور دو انجام

اور ثابت شدہ سنت الہی یہ ہے کہ:  جو  شخص اللہ کی اطاعت ، غلبہ دین الہی  کیلئے جد و جہد ، مظلوم کی مدد ،  حق بات اور اہل حق  کی تائید کرے تو اللہ تعالی بھی اس کی مدد  و نصرت فرماتا ہے، اور جو شخص  دین الہی  سے دشمنی روا  رکھے، اولیاء اللہ  کی اہانت کرے، تکبر، سرکشی اور بغاوت  کرے، حرام کاموں کو معمولی سمجھے، جرائم  کرے، تو اللہ تعالی اسے ذلیل و رسوا کریگا، اور اسے دوسروں کیلئے نشان عبرت بنا دے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (7) وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ } اے ایمان والو! اگر تم اللہ  کی مدد کرو، تو اللہ تمہاری مدد کریگا، اور تمہیں ثابت قدم بنائے گا [7] اور جو لوگ مدد کرنے سے انکار کریں تو ان کیلئے تباہی  ہے،  اللہ انکے اعمال ضائع کر دے گا۔[محمد : 7 - 8]

فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے [المجادلۃ : 5]

فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ}جو لوگ  اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کریں، تو یہی لوگ ذلیل لوگوں میں ہونگے [المجادلۃ: 20]

 یمن میں دینِ اسلام بغیر جہاد کے داخل ہوا

ہمارے پیارے پڑوسی ملک  یمن  کے  حکمرانوں پر  شروع سے لیکر اب تک  عدل پر مبنی سنت الہی جاری و ساری  رہی ہے، جیسے کہ دیگر علاقوں کا حال ہے،  چنانچہ جس حکمران نے اہل یمن  کیساتھ  عدل اور اچھا برتاؤ  کیا تو اسے تمام خوشیاں نصیب ہوئیں، اور جس  نے ظلم و زیادتی  کی اور اہل یمن  کو ذلیل و رسوا کیا تو اللہ تعالی نے اسے ذلیل و رسوا فرمایا۔

یمن میں اسلام ہجرت کے ابتدائی ایام میں بغیر کسی جنگ  کے ہی داخل ہو گیا تھا، کیونکہ اہل یمن  کے ہاں ایمان محبوب چیز تھی،  اس بابرکت علاقے سے  لوگوں کے وفود اطاعت گزار بن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو آپ انہیں  اسلام کی تعلیمات سکھاتے۔

اہلِ یمن کے اولین رہبر 4 جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یمن کی جانب اس عظیم دین کے احکامات سکھانے کیلئے اپنے گورنروں کو ارسال فرمایا، انہوں نے ان پر شریعت کا نفاذ بھی کیا، چنانچہ اس سلسلے میں  آپ نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب، ابو موسی اشعری، معاذ بن جبل، خالد بن ولید  اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو ارسال فرمایا۔

اہلِ یمن کیلئے نبوی ستائش

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے ایمان  کی وجہ سے مدح بھی فرمائی،  جس کی وجہ وہی تعلیمات تھیں جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں سکھائیں تھیں ، آپ نے فرمایا: (ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے) مسلم

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، جن کے دل انتہائی  رقیق اور نرم ہیں)

اہل یمن نے   اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جسے تاریخ  نے محفوظ بھی کیا ، اس پیارے علاقے  میں صحابہ کرام کے بعد  مختلف  حکومتیں اور حکمران آئے،  چنانچہ  جس حکمران کا طرزِ حکمرانی اچھا تھا، اور اس نے دین و عدل قائم کیا ، تو وہ خود بھی  سعادت مند  رہا اور اس کی رعایا بھی خوشحال رہی،  اچھے لفظوں میں اسے یاد کیا گیا،  اس کیلئے کی جانیوالی دعاؤں سے اسے فائدہ بھی ہوا۔

اور جس حکمران کا طرزِ حکمرانی  برا تھا، وہ اپنی رعایا کے ہاں بد بخت اور ناپسند  ٹھہرا، اسے قبر میں بھی حسرتوں کا سامنا کرنا پڑا، اور تاریخ نے بھی اسے ذلیل و رسوا کر دیا،  اسے  دنیا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، بلکہ اپنی دنیا سمیت آخرت بھی تباہ کر بیٹھا۔

٭ یمن میں پہلا سیاہ کردار ’’اسود عنسی‘‘

پیارے یمن سے متعلق اللہ تعالی کی یہ رحمت  اور سنت الٰہیہ ہے کہ جس نے بھی  اہل یمن کے  دلوں  سے صحابہ کرام سے حاصل کردہ عقیدے کو تبدیل   یا مٹانے کی کوشش کی  تو اللہ تعالی نے اسے جلد ہی  درد ناک، المناک، رسوا کن سزا سے دوچار کیا، آنیوالی نسلوں کیلئے اسے نشان عبرت بنا یا،  پھر تاریخ نے بھی اس کی خوب تحقیر  کرتے ہوئے اسود عنسی جیسے نبوت کے جھوٹے  دعویداروں کی صورت میں یاد رکھا، اسو د عنسی  کی شر انگیزی اتنی بڑھی کہ اس نے خوب خونریزی  کی ، عورتوں کو  قیدی بنایا، اور لوگوں کو زندہ جلا دیا، جن میں ابو مسلم خولانی اور عبداللہ بن ثوب تھے-اللہ ان سے راضی ہو-، لیکن ان  کیلئے آگ سلامتی والی ٹھنڈی ہوگئی، تاہم اسود عنسی بھی جلد ہی قتل  ہوگیا، اسے ایک یمنی شخص نے قتل کیا تھا، اس کے بعد مسلمانوں نے  عہدی صدیقی  میں اسود عنسی کے باقی ماندہ لوگوں کا  پیچھا کیا، اور ظالم لوگوں کی جڑیں تک کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔

پھر یمن کی برکات  اسود عنسی اور اس کے پیروکاروں  کے قتل ہونے کے بعد واپس لوٹ آئیں ۔

یمن میں علی بن فضل رافضی کی روح لرزا دینے والی سیاہ کاریاں

اس کے بعد تیسری  صدی ہجری کے آخر میں ملعون علی بن فضل  جدنی، حمیری، باطنی اور قرمطی نے سر اٹھایا، اس نے کم عقل ، اوباش ، اور کمینے لوگوں کو جمع کیا، اور شیعیت کا لبادہ اوڑھ لیا، یہ علی بن فضل سب سے بڑا کافر شخص تھا، اس نے تمام حرام کردہ امور کو حلال قرار دیا، نمازوں کا تصور بھی ختم کر دیا، مزید برآں  قتل و غارت  کابازار گرم کرتے ہوئے یمن کے کافی علاقوں پر قابض ہوگیا، اس شخص نے قرآن کی بے حرمتی کی، خوف و ہراس پھیلایا، اس فتنے میں قتل ہونے والوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، آخر کار یمنی قبائل نے اسکا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخر کار  اسے پکڑ کر درد ناک انداز میں قتل کر دیا، پھر انہوں نے اس کے چیلوں کو چن چن کر قتل کیا،  اس کے بعد یمن  میں  برکت، امن و امان، اور استحکام دوبارہ قائم ہوا۔

ان تاریخی واقعات سے نصیحت پکڑنے والے کہاں ہیں؟ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ} بیشک تیرا رب گھات میں ہے۔[الفجر : 14]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ} بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت  سخت ہے۔[البروج : 12]

اور پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، پھر جب  پکڑتا ہے تو اسے بالکل موقع نہیں دیتا)

قانون الہی سے  نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والے کہاں ہیں؟! یہ رذیل ترین  جماعت یمن کا نظریاتی تشخص ، دین  اور اخلاقی اقدار تبدیل  کرنا چاہتی ہے، یہ  جماعت معاشرے کے معزز لوگوں   کو ذلیل اور دینی  غیرت رکھنے والوں کو  رسوا کرنا چاہتی ہے، یہ جماعت  اپنے ہی ملک کیلئے ہر قسم  کے دھوکے، خیانت، اور پست ذہنی کیلئے مشہور ہو چکی ہے۔

 حوثیوں کی اندرونی و بیرونی پشت پناہی

اندرون اور بیرون یمن میں اس جماعت کے پیچھے کون ہے؟ یہ سب کچھ تفصیلی طور پر سب کو علم ہو چکا ہے، ان کے اہداف اور مقاصد  کسی بیان کے محتاج  نہیں ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} ان کی عداوت ان کی زبان سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔  اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کر دی ہیں [آل عمران : 118]

فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ} اگر وہ تمہیں پالیں تو تمہارے دشمن بن جائیں اور برے ارادوں سے تم پر دست و زبان درازی  کریں ۔ اور یہ چاہیں کہ تم دوبارہ کافر بن جاؤ [الممتحنة : 2]

یہ گمراہ جماعت عالمی امن و سلامتی کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے، اور  علاقائی  امن و امان ، اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ بن گئی ہے، بلکہ  پڑوسی ممالک پر حملے کی دھمکیاں بھی دے رہی ہے۔

 حوثی باغی گروہ، علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ

جب خادم حرمین شریفین  شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ  نے  اس فسادی گروہ کے سنگین جرائم  کو دیکھا، کہ وہ ظلم و زیادتی سے باز نہیں آ رہے، اور یمن کی جمہوری حکومت نے  اپنے پڑوسی اور دیگر اتحادی ممالک سے  اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا، تا کہ اس  فسادی گروہ کے بڑھتے ہوئے شر کو روکیں، علاقائی و عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور آئینی  حکومت کا تختہ الٹنے کی  کوششوں کو ناکام بنائیں،  مملکت سعودی عرب نے ان کی آواز پر لبیک کہا، اور قابل ستائش و شکر  اقدامات اٹھائے، چنانچہ مملکت سعودی عرب  نے اپنے پڑوسی مظلوم  ملک کی مدد کی، اس کی حکومت پر شب خون مارا گیا، اور حکمرانوں کی صلاحیتیں  چھین لی گئیں، عوام کے حقوق سلب کر لیے گئے۔

خادم حرمین شریفین  شاہ سلمان حفظہ اللہ نے اللہ کی توفیق سے اپنے درست فیصلے کے ذریعے پڑوسی مظلوم ملک  کو ٹوٹنے سے بچایا، اور فیصلے کے نفاذ کیلئے اللہ کی طرف عزم و ہمت سے شامل حال تھے۔

ایک قدیم شاعر کی بات اس صورت حال پر بالکل صادق آتی ہے:

وَقَلِّدُوا     أَمْرَكُمْ      لِلَّهِ      دَرُّكُمُ

رَحْبَ الذِّرَاعِ بِأَمْرِ الْحَرْبِ مُضْطَلِعَا

اے میری قوم کے لوگو تمہارا بھلا ہو! ایسے شخص کو اپنا سربراہ بناؤ جو کشادہ دل اور حرب و ضرب کا ماہر ہو

لاَ   يَطْعَمُ   النَّومَ   إِلاَّ   رَيْثَ    يَبْعَثُهُ

هَمٌّ   يَكَادُ   حَشَاهُ  يَقْضِبُ    الضِّلَعَا

وہ بالکل  تھوڑی سی دیر ہی سستائے  لیکن اسے اپنی قوم کا پسلی توڑ غم اسے آرام نہ کرنے دے

لاَ  مُتْرَفًا  إِنْ  رَخَاءُ  الدَّهْرِ سَاعَدَهُ

وَلاَ  إِذَا  عَضَّ   مَكُرُوهٌ   بِهِ   خَشَعَا

مالدار ہونے کے باوجود  عیش پرست نہ ہو،  اور نہ ہی  پریشانی و خوف میں گھبرانے والا ہو

اور شاعر بحتری  نے کہا تھا:

قَلْبٌ، يُطِلُّ على أفكارِهِ، وَيَدٌ

تُمضِي الأمورَ، وَنَفسٌ لهوُها التّعبُ

اس کا دل  تدابیر   کی بارش برساتا ہے،  اس کے ہاتھ کام تمام  کرتے ہیں، اس کی جان تھکاوٹ میں ہی راحت  پاتی ہے

موجودہ جنگ ’’عاصفۃ الحزم‘‘ (فیصلہ کن طوفان) کے اہداف

چنانچہ  اس فسادی گروہ  کے بارے میں "فیصلہ کن طوفان" کا فیصلہ  بالکل صحیح وقت  پر کیا گیا ،  امت  مسلمہ کو  اس کاروائی کی اشد ضرورت تھی۔

 کیا یہ کاروائی زیدیہ فرقہ کے خلاف ہے؟ حقائق اور جواب

لیکن کچھ  مفاد پرست  افراد کہتے ہیں کہ  یہ زیدی فرقے کے خلاف جنگ ہے، اصل میں  یہ لوگ  حقائق سے نابلد  ہیں، اور تاریخ ان کے اس بیان کو غلط ثابت کرتی ہے، کیونکہ زیدی  جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ مملکت سعودی عرب کے پڑوس میں خوب امن و امان اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے ہم وطنوں  کے ساتھ مل کر پر تعیش  اور پر امن زندگی   گزاری ، نیز اب بھی بہت سے زیدی  لوگ  خیر و عافیت کیساتھ  زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ ملک  صرف ان لوگوں کیساتھ جنگ  لڑ رہا ہے  جو فسادی، مجرم، تخریب کار ہیں، ایمان اور وطن  کیلئے مخلص نہیں ہیں، جبکہ ایمان اور وطن کیلئے ہر  مخلص شخص  فسادی خیانت کاروں سے اعلان جنگ کرتا ہی رہتا ہے۔

بالکل اسی طرح کیا  اس ملک کی تکفیریوں،  دھماکے کرنے والوں، اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کسی خاص گروہ کیخلاف جنگ ہے؟ بلکہ فسادیوں سے انکی جنگ ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میرے دوست صرف متقی لوگ ہی ہیں)

حکومتی رٹ قائم ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ

اور "فیصلہ کن طوفان" کی شکل میں عسکری اتحاد یمن  کی آئینی حکومت اور امن و امان   کو قائم کرنے کیلئے وجود میں آیا ہے، نیز اس کی وجہ سے اہل یمن کو صحابہ کرام کی جانب سے ملے ہوئے صحیح اسلامی عقیدے  کو غلط اور تباہ کن نظریات و افکار سے تحفظ بھی ملے گا ۔

یمن کی موجودہ صورت حال انتہائی کرب  اور المناک ہے، ان حالات سے نجات سب سے پہلے اللہ کی مدد اور اس کے بعد باہمی اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں باطل کے سامنے حق کیلئے ڈٹ کر کھڑا  ہونا پڑے گا، اور کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا، اور حقیقی  رسوائی اس مرحلے میں ناکامی کی شکل میں ہوگی۔

 اہل یمن کیلئے خصوصی پیغام

اہل یمن کیلئے پیغام  یہ ہے کہ: اپنی آئینی اور علاقائی و عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دست راست بنیں،  دانشور ،  اور مفکرین  اس فتنے کو بھجانے کیلئے سر توڑ کوشش کریں،  اور جس وقت سب ایک پلیٹ فارم پر  جمع ہو جائیں  ، فتنے بھسم ہو جائیں تو حکومت و عوام  باہمی تعاون کے ذریعے  تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک دوسرے  کا تعاون کریں، جس کے ذریعے اسلام اور ملک  کا بول بالا ہو، امن و امان قائم ہو، اور استحکام  پیدا ہو۔

اور اگر پوری یمنی قوم  اپنی حکومت  کے ساتھ اس گمراہ فرقے کے مقابلے کیلئے ایک ہی جگہ  جمع  نہ ہوئی تو حالات مزید بگڑ جائیں گے، ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا پیچھا نہ کیا تو زندگی اتنی بد مزہ ہو جائے گی کہ برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔

 فتنہ پرور لوگوں کی طرف سے پیسوں کی بارش

ان کی پشت پناہی کرنے والے اپنے ہمنوا پیدا کرنے کیلئے دولت کی ریل پیل کر رہے ہیں، عنقریب  انکا یہ اقدام دولت  وصول کرنے والوں  کی نسلوں کیلئے بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہوگا،  بلکہ اس کا نقصان حق بات سے خاموشی اختیار کرنے والوں کو بھی ہوگا۔

 حوثیوں کے جرائم کے بارے میں تفصیل

یمنی قوم  ان کے سنگین جرائم کے بعد  کس چیز کا انتظار کر  رہی ہے؟
انہوں نے یہ جرائم  مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے  کیے ہیں، تو اگر مکمل  قبضہ کر لیں تو کیا کرینگے؟!! {
لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ} وہ کسی مومن کے معاملہ میں نہ کسی قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ عہد کا۔ اور یہی لوگ  زیادتی کرنے والے ہیں۔ [التوبة : 10]
کیا انہوں نے مدارس گرا کر ، مساجد مسمار کر کے قرآن سے اعلان جنگ نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے قرآن پڑھانے والوں  کیساتھ لڑائیاں نہیں لڑیں؟ کیا انہوں نے  حدیث کے طلباء کو محصور کر کے قتل  نہیں کیا!؟
انہیں گھروں سے بے دخل کر کے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان جنگ نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے  تعلیمی ادارے، یونیورسٹیز، اور ان کی املاک  لوٹ کر علم سے دشمنی نہیں کی!؟
کیا انہوں نے املاک کو نہیں لوٹا!؟
کیا انہوں نے پر امن گھروں کو مسمار نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے پاکدامن خواتین کی عصمت دری نہیں کی!؟
کیا  انہوں نے  بے دریغ قتل عام نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے  معزز لوگوں  کی اہانت نہیں کی!؟
کیا  انہوں نے  علمائے کرام  کو قتل کرنے کیلئے  گھروں سے بے دخل نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے رہزنی اور نقب زنی نہیں کی!؟
کیا انہوں نے  زرعی زمینوں  اور جانوروں  کو تباہ و برباد نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے زندگی کے چلتے پہیے کو جام نہیں کیا!؟
کیا انہوں نے مملکت کی سرحدوں کی خلاف ورزیاں اور باڈر سکیورٹی کے جوانوں سے جھڑپیں نہیں کیں!؟
کیا انہوں نے  حرمین شریفین پر حملے کی دھمکیاں نہیں دیں!؟
کیا انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم  اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات امہات المؤمنین کو لعن طعن کا نشانہ نہیں بنایا!؟

 حوثیوں کے خلاف متحد ہو جاؤ

کیا یہی جرائم  -اے یمنی قوم- تمہارے متحد ہونے کیلئے کافی نہیں ہیں؟ کہ ان کی اور انکی پشت پناہی کرنے والوں کی شر انگیزیوں کو اکھاڑ پھینکو، تا کہ آنیوالی نسلیں  ا س خطے میں پر امن زندگی گزاریں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، جبکہ گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو، اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[المائدة : 2]
            اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

افواہوں سے بچیں

اڑتی پھرتی  افواہوں سے  بچو، تا کہ لوگوں کے عزائم میں کمی واقع نہ ہو، ان افواہوں کے ذرائع  بہت زیادہ ہو چکے ہیں ؛ ان سب سے بچنا  چاہیے۔

 اسی طرح  نوجوانوں کو   افواہوں کے ان وسائل کے نقصانات سے بہرہ ور کرنا بھی ضروری ہے، کہیں انکے ذہن نقصان دہ ویب سائٹس سے متاثر نہ  ہو جائیں۔

کامیابی کیلئے اللہ کے حضور دعائیں کریں

انتہائی اخلاص کیساتھ  کثرت سے اسلام اور مسلمانوں کیلئے دعائیں کرو، مسلم حکمرانوں ،اور عامۃ الناس کیلئے دعائیں مانگو، اسلام دشمن قوتیں چاہے کوئی بھی  ہو، اور کہیں بھی ہوں انکی مکاریوں کے خاتمے کیلئے دعائیں کرو،  فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} تمہارے رب کا فرمان ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری  دعا قبول کرونگا، بیشک جو لوگ میری عبادت سے رو گردانی کرتے ہیں یہی لوگ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے[غافر : 60]

اور ایک حدیث میں ہے: (دعا عبادت کا مغز ہے)

لوگوں میں شرعی علم عام کریں

شرعی علم  لوگوں میں عام کرو، بدعات کا انتشار  جہالت  اور کتمان العلم کے باعث ہی ہوتا ہے، جبکہ بدعات کا قلع قمع علم کے پھیلاؤ سے ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس کے پاس علم ہے، وہ علم نشر کرے) یہی  بدعات  کے عام ہونے  کے وقت سب لوگوں کیلئے نبوی وصیت بھی ہے۔

فتنوں میں کمی لانے کیلئے نظریات وعقائد کی درستگی لازمی امر ہے

ہم نوجوانوں  اور اس ملک کے تمام ہم وطنوں سے اس بات کا  مطالبہ کرتے ہیں کہ  باہمی اتحاد، اتفاق، اور معاشرتی  بنیادوں  کو مضبوطی سے تھام لیں، قومی و ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں، تا کہ فسادی لوگوں کو ہمارے اندر داخل ہونے کی کوئی جگہ ہی نہ ملے، اور وہ اسلام و مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا رخنہ بھی نہ ڈال سکیں۔

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور گروہ بندی میں مت پڑو[آل عمران : 103]

بالکل اسی طرح ہم تمام  اسلامی ممالک کو نصیحت کرتے ہیں  کہ  کسی بھی علاقے میں  نقصانات  غلط عقائد، نظریات، اور لوگوں  کو صحیح عقیدے  کی تعلیم  دینے میں کمی کی وجہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالی نے تمہیں ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے، جس کی ابتدا خود اللہ تعالی نے فرمائی،  اور بتلایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقینا اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر کثرت کیساتھ درود پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد ۔

 

دعائیں:

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  سے راضی ہوجا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اورکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! کفر ، اور کفار کو ذلیل کر دے ، یا اللہ! بدعات اور بدعتیوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو ساری دنیا میں غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! سنت نبوی کا پوری کائنات میں بول بالا فرما دے، یا اللہ! دینِ محمدی کو پوری کائنات میں غلبہ عطا فرما، چاہے کافروں کو برا لگے، دین محمدی غالب فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کو ہمہ قسم کے نقصانات اور شر سے محفوظ فرما،  یا رب العالمین!

یا اللہ! تو ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ،  اور جن گناہوں کے بارے میں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، سب معاف فرما دے، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ  کوئی معبود نہیں ہے۔

یا اللہ! سب معاملات کا انجام ہمارے لئے بہتر بنا، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں نفسانی شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں نفسانی اور اپنے اعمال کے شر سے محفوظ فرما،  اور ہمیں ہر شریر کے شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ!  ہمیں اور ہماری  اولاد کو ابلیس، شیاطین اور انکے چیلوں سے محفوظ فرما،  جن و انس کے شیطانوں اور انکے لشکروں سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ابلیس، شیاطین اور انکے چیلوں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! یا ذالجلال و الاکرام ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے، یا اللہ! دین کے دشمنوں سے انتقام لے، یا اللہ! دشمنان اسلام کے منصوبوں کو غارت فرما،  یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! مسلمانوں کو کلمۂِ حق پر متحد فرما دے، بیشک  آسمان و زمین میں کوئی چیز تجھے  عاجز نہیں کر سکتی۔

یا اللہ!  ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ یمن کے اس فتنے کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ!  ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ یمن کے اس فتنے کا خاتمہ فرما دے۔

یا اللہ! بدعتی اور منافق لوگوں پر اپنی پکڑ نازل فرما،  یا اللہ! یمن میں مسلمانوں کی حفاظت فرما،  یا اللہ! یمن میں مؤمنین کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! یمنی بھائیوں پر کوئی بدعتی ، یا منافق شخص مسلط نہ فرمانا، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ!  ساری دنیا میں مسلمانوں کو منافقوں ، مشرکوں، اور بدعتیوں سے تحفظ عطا فرما،  بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! اپنے مؤمن بندوں کی مدد فرما،  یا اللہ! مسلمانوں پر نازل ہونے والی  مصیبتوں اور تکالیف کا خاتمہ فرما دے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ!  "فیصلہ کن طوفان" کے نام پر بننے والے اتحاد  کی حفاظت فرما،  یا اللہ! اس اتحاد کو اس وقت تک قائم و دائم رکھ جب تک تیرے اور تمام مسلمانوں کے پسندیدہ نتائج سامنے نہ آ جائیں، یا رب العالمین! یا اللہ! اس اتحاد کو اس وقت تک قائم و دائم رکھ جب تک تیرے اور تمام مسلمانوں کے پسندیدہ نتائج سامنے نہ آ جائیں، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے معاملات میں ہماری مکمل رہنمائی فرما،  یا اللہ! اس مشترکہ کاروائی میں ہمارے جنگی طیاروں کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس مشترکہ کاروائی میں ہمارے جنگی طیاروں کی حفاظت فرما، یا اللہ! مشترکہ کاروائی میں ہمارے فوجیوں  کی حفاظت فرما، ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! ہماری سر زمین کی حفاظت فرما،  یا اللہ! حرمین شریفین کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے،  یا اللہ! مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت فرما۔

یا اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی رب العالمین ہے!

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین  سلمان بن عبد العزیز کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُسکی تیری مرضی کے مطابق  رہنمائی  فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ!  اپنی خصوصی تائید و نصرت کے ذریعے اس کی مدد فرما،  یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں اطاعت گزاری والی لمبی عمر عطا فرما، یا اللہ! انہیں اطاعت گزاری والی لمبی عمر عطا فرما،

یا اللہ! انکے مشیروں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا ذالجلال و الاکرام! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ساری دنیا کے تمام مسلمانوں کے دلوں میں الفت  پیدا فرما،  یا رب العالمین!۔

یا اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، یا اللہ!  ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ!   فوت شدہ مسلمانوں کو بخش دے، یا اللہ! انکی قبروں کو منور فرما۔

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں  امن و امان نصیب فرما، اور ہمارے  حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور نقصان سے حفاظت فرما،  یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! ہماری اور تمام مسلمانوں  کی توبہ قبول فرما،  یا اللہ! ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا علیم ! یا حکیم! یا اللہ مسلمانوں کو  اپنے دین کی سمجھ عطا فرما۔

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ{ اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو[90] اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے [النحل: 90 ، 91]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

امام حرم ڈاکٹر جسٹس فضیلۃ الشیخ حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

نے  07 جمادی ثانی  1436 ھ میں خطبہ جمعہ بعنوان:

یمن میں حوثی باغیوں کی فساد ریزی

اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں

  ارشاد فرمایا ، جس کے اہم نکات یہ تھے:

٭ سرزمینِ یمن کی فضیلت ٭ یمن کی بدلتی صورت حال،اورحوثی باغیوں کی کاروائیاں ٭ حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی

٭ باغی عناصر کی وجہ سے یمن کے بکھرنے کا خدشہ  ٭ خطے میں امن و امان کی دگر گوں صورت حال 

٭ مشکل حالات میں مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری ٭ یمن کے صدر کی طرف سے تعاون کی اپیل ٭ 

خادم الحرمین کی قیادت میں یمن کی پشت پناہی ٭ ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق

٭ فرمانِ نبویﷺ ظالم و مظلوم دونوں کی مدد کرو۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ مسلمانوں کا باہمی جھگڑا اور حکمِ الٰہی

٭ عدل و انصاف کی خوبصورت ترین شکل ٭ موجودہ حالات اور مسلمانوں کی ذإہ داریاں

٭ حکمران و رعایا کا ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے؟ ٭ مسلم حکومتوں کو موجودہ دور میں کیا کرنا چاہیے؟ 

٭ عوام الناس اورعلماء کی ذمہ داریاں ٭ بحران سے نکلنے کا راستہ ٭ اہلِ یمن کو نصیحت

٭ سرزمینِ حرمین شریفین میں رہنے والے

ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل

مراجعہ و توضیح: حافظ حماد چاؤلہ

پہلا خطبہ:

یقینا ًتمام تعریفیں اللہ عز وجل کیلئے ہیں، وہی جابر حکمرانوں پر قاہر ہے، اور مکاروں کی مکاریوں کو ہوا کرنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، وہ یکتا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں ،اولین و آخرین سب کا وہی معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمدﷺ اللہ کےبندے اور اسکے رسول ہیںﷺ، آپ ہی سید الانبیاء و المرسلین ہیں، آپ پر، آپکی آل، اور صحابہ کرامy پر افضل ترین درود و سلام ہوں۔

حمد و صلاۃ کے بعد!

مسلمانو!

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی اور اطاعتِ الہی کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ جو شخص اللہ تعالی سے ڈرے تو اللہ تعالی اس کیلئے ہر تنگی و مصیبت سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور ہر مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے، اسی طرح متقی شخص کیلئے فتح، غلبہ، اپنی تائید اور سلطانی لکھ دیتا ہے۔

سرزمین یمن کی فضیلت

مسلم اقوام!

بہت ہی دکھ کی بات ہے کہ ساری دنیا نے عزیز ملک  یمن کے بدلتے حالات کا مشاہدہ کیا، جس یمن کے اور کتاب و سنت پر گامزن اہل یمن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریفی کلمات ارشاد فرمائے اور فرمایا:  (ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے)۔( بخاری)

یمن کی بدلتی صورت حال، اورحوثی باغیوں کی کاروائیاں

بہت ہی پریشان کن حالات میں سنگین تبدیلیوں کا عزیز ملک یمن میں مسلمانوں نے مشاہدہ کیا، اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ (حوثی)باغیوں کی طرف سے منتخب قیادت کا تختہ الٹ دیا گیا، اور اہل ِعلاقہ پر دست درازی کی گئی، جس کی وجہ سے گھر بار تباہ، امن و امان تار تار ہو گیا، پر امن لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، بلکہ فساد اور ظلم و زیادتی کا یہ بازار پورے خطے کے امن کیلئے علی الاعلان خطرہ بن چکا تھا، اور ملکِ حرمین شریفین اور یہاں کے لوگوں کیلئے اس کے خطرات خصوصی نوعیت کے تھے۔

حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی

دانشمندی اور حکمت پر مبنی رائے شماری بھی ہوئی کہ یمن میں اتحاد ، پائدار امن و استحکام ، پرا من طریقوں اور بات چیت کے ذریعے قائم ہو، اس کیلئے خلیج عرب کی ریاستوں کی جانب سے کی جانے والی کوششیں بھی شامل ہیں۔

باغی عناصر کی وجہ سے یمن بکھرنے کا خدشہ

لیکن معاملہ مزید سنگین ہوتا گیا، اور حالات اتنے بگڑ گئے کہ یمن میں امن و امان تہ و بالا ہو کر رہ گیا، جس کی وجہ سے جبراً و قہراً (یمن کی)ملکی قیادت منظر سے غائب کر دی گئی، اور حالات مسلمانوں کے علاقوں میں مزید تشویش ناک ہوگئے، جو کہ یمن ، اہل یمن، اور پڑوسی ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی بجانے لگے۔

اہلِ یمن کو ظلم و زیادتی ، اور ملکی قیادت کو مسلسل دشواری کا سامنا تھا، پھر دانشمندانہ طور پر اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ یمن کو ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہے، اور یمن میں امن و امان اور استحکام ختم کر کے خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے، جس سے ملک و قوم کو نقصان ہوگا اور پڑوسی ممالک بھی متاثر ہونگے۔

خطے میں امن وامان کی دگرگوں صورتحال

اسلامی بھائیو!

نازک حالات، اور مشکل صورتحال کا بہت سے مسلم ممالک کو سامنا ہے، یہ کسی طور پر بھی دینِ حنیف ، اور بلند اخلاق اقدار کیساتھ بالکل مناسب نہیں ہیں۔

یہ حالات غرور، لالچ، اور عارضی مفاد کے سایے میں پیدا کیے گئے، ان کی وجہ سے ایسے(دشمنان اسلام) ایجنڈوں کی آبیاری ہوتی ہے جو مسلم معاشرے کو تہس نہس کر دیں، ان ایجنڈوں کی ہمارے عقائد سے کھلی دشمنی ہے، انہی کی وجہ سے ہمارے (مسلم)علاقوں (و ممالک) کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ایسے حالت پیدا کر کے ہمارے وسائل و اسباب کوبھی  لوٹا جا رہا ہے۔

مشکل حالات میں مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

چنانچہ ان حالات و واقعات کے تحت ہمارے حکمرانوں نے کندھوں پر پڑی ہوئی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے (چند اہم)ضروری اسباب و وسائل اختیار کیے ، جو کہ اللہ کے حکم سے ملک و قوم کی حفاظت کے ضامن تھے، اور یہ اقدامات مسلم حکمرانوں پر عائد ذمہ داری میں شامل ہیں تا کہ وہ مسلم معاشروں کے حقوق کا تحفظ کر سکیں، اور علاقائی و عالمی امن و امان اور سلامتی کیلئے کردار ادا کر سکیں، نیز دشمنانِ اسلام کی منصوبہ بندیوں کو ناکام بنائیں، کیونکہ دشمن اپنے منصوبوں کے ذریعے پورے علاقے(یمن ) میں تباہی مچانا چاہتا ہے۔

 یمن کے صدر کی طرف سے تعاون کی اپیل

اور جب پر امن طریقے سے مسئلہ حل نہ ہوا، سیاسی طور پر بات چیت بھی کار گر نہ ہوئی ، اور یمن کے منتخب صدر نے اپنے برادر اسلامی ممالک سے یمنی قوم کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے (اور فسادیوں کا قلع قمع کرنے ) کا مطالبہ کیا، تا کہ یمن  (اور اہلِ یمن)کو پر خطر اور پر پیچ حالات سے بچایا جائے۔

خادم الحرمین کی قیادت میں یمن کی پشت پناہی

پھر(باغیوں کی جانب سےیمن میں  فسادات کے باعث) پوری امت مسلمہ کو سنگین نتائج سے بچانے کیلئے اسلامی ممالک نے خادم الحرمین الشریفین حفظہ اللہ کی قیادت میں یمنی حکومت اور یمنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، تا کہ مستحکم ، مضبوط، پائدار امن و امان قائم ہو، اور دھوکے پر مبنی مزعومہ انقلاب کو روکا جا سکے۔

ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کے حقوق 

فرمانِ نبویﷺظالم و مظلوم دونوں کی مدد کرو ۔۔۔۔۔۔

حقیقت میں یہ اقدام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عملی صورت ہے: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک تمام مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں[الحجرات : 10]

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر مبنی ہے کہ :

(اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا، نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے، اور اسے تنہا نہیں چھوڑتا ) متفق علیہ

امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے  ہیں: " اسے تنہا نہیں چھوڑتا " کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مظلوم بھائی کو ظالم کے رحم و کرم پر تنہا نہیں چھوڑتا ، بلکہ اپنے مظلوم بھائی کی مدد اور اس کا بھر پور دفاع کرتا ہے، یہ درجہ کسی مسلمان کو تکلیف نہ دینے سے بڑا ہے۔

بلکہ اللہ تعالی نے زیادتی کرنے والے کے ہاتھ پکڑنا اور مظلوم کی مدد کرنے کو واجب قرار دیا، اور فرمایا: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ} مؤمن مرد اور مؤمن خواتین سب ایک دوسرے کے مدد گار ہیں۔[التوبة : 71]

اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کی [ہر حال میں]مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم) تو ایک آدمی نے کہا: "اللہ کے رسول! اگر وہ مظلوم ہو تو میں اسکی مدد کروں[یہ تو سمجھ میں آتا ہے]، اور اگر  ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کیسے کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے ظلم سے روکو یہی اس کی مدد ہے)۔(بخاری)

مسلمانوں کا باہمی جھگڑا اور حکمِ الٰہی

(مسلمانوں کی دو جماعتوں میں جھگڑے میں ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کے ساتھ)باہمی تعاون ، اسلامی بھائی چارے کا بنیادی حق ، اور اس کا عملی تقاضا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا:

{فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ}

اگر [مسلمانوں کی دو جماعتوں میں سے] ایک دوسری پر زیادتی کرے، تو باغی جماعت سےقتال کرو(لڑو)، حتی کہ باغی جماعت اللہ کے حکم کے تابع ہو جائے۔[الحجرات : 9]

 عدل و انصاف کی خوبصورت ترین شکل 

اور سیدناعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  "عدل کی خوبصورت ترین شکل :مظلوم کی مدد ہے"

اور سیدنا زین العابدین -اللہ ان سے راضی ہو- فرماتے تھے کہ:

"یا اللہ! میں تجھ سے ایسے مظلوم کے بارے میں معافی چاہتا ہوں جس پر میرے سامنے ظلم ہو لیکن اس کی مدد نہ کر سکوں"

(یاد رکھیں)اگرچہ مظلوم شخص غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، مظلوموں کی مدد، اور زیادتی کا شکار لوگوں کیساتھ تعاون کرنا بنیادی اسلامی اصول ہے، چنانچہ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "مسلم حکمران پر لازمی ہے کہ اہلِ ذمہ کا تحفظ یقینی بنائے، اور انہیں ظلم و زیادتی کرنے والے مسلمانوں اور کفار سے محفوظ رکھے"

موجودہ حالات اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

(لہٰذا) پوری امت پر ضروری ہے کہ زیادتی کرنے والوں کو روکیں، اور مسلم ممالک کے امن و امان اور استحکام کو مخدوش کرنے والوں کی پیش قدمی کے سامنے بند باندھیں، تا کہ لوگوں کو دین و دنیا کے بارے میں مکمل امن حاصل ہو؛ کیونکہ یہ بھی اس دین کے مقاصد میں سے ایک ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ:

(کوئی بھی شخص کسی بھی مسلمان کو ایسی جگہ رسوا کر ے جہاں اس کی ہتک عزت کی جا رہی تھی، اور اسے بے آبرو کیا جا رہا تھا، تو اللہ تعالی اسے ایسی جگہ رسوا کریگا جہاں وہ اپنی فتح  و کامیابی و عزت چاہتا ہوگا) امام احمد نے اسے صحیح سند کیساتھ روایت کیا ہے۔

حکمران و رعایا کا ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے؟

آج امتِ اسلامیہ کو موجودہ صورت حال میں بہت سے بیرونی حملوں کا سامنا ہے، جو کہ مختلف صورتوں میں نمودار ہو تے ہیں، لیکن ان میں سے سب سے خطرناک حملہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کو اندر سے کھوکھلا کیا جائے، کہ (داخلی فسادات و بغاوتیں کرائی جائیں اور لوگ)  وہ خود ہی ایک دوسرے کو مارنے لگیں، اگر پوری قوم و ملت ان دخل اندازیوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑی نہ ہوگی ، تو مسلم ممالک ان کے سامنے ایک لقمہ بن کر رہ جائیں گے، جو اس آگ کے منہ میں یکے بعد دیگر ایک ایک کر کے داخل ہوتے چلے جائیں گے۔

حقیقت میں مکر و فریب پر مشتمل (اسلام ومسلمان)دشمنوں  کی منصوبہ بندی یہی ہے، لہذا حکمران و رعایا سمیت اس (فتنہ و سازش)کے سامنے پوری قوت و طاقت کیساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے، تا کہ امت اور مسلم معاشرے ہمہ قسم کے نقصانات اور خطرات سے محفوظ ہو جائیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ} اے ایمان والو! اپنا دفاعی [سازو و سامان] ہاتھوں میں رکھو[النساء : 71]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ} اور جہاں تک ممکن ہو ان کے مقابلے کے لئے قوت اور جنگی گھوڑے تیار رکھو ۔ جن سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دیگر دشمنوں کو خوفزدہ کر سکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے [الأنفال : 60]

السَّيْفُ أَصْدَقُ إِنْبَاءً مِنَ الكُتُبِ

في حدهِ الحدُّ بينَ الجدِّ واللَّعبِ

تلوار کا وار نجومیوں کی پیش گوئی سے زیادہ سچا ہوتا ہے،

اسی کی تیز دھار سنجیدگی اور مزاح میں فرق ڈالتی ہے

یہ فیصلے ،اقدامات ، اور فوجی مداخلت اس وقت عمل میں لائی گئی ، جب پر امن طریقے سے مسئلے کے حل کا ہر راستہ بند ہو گیا، بلکہ باغیوں کی طرف سے کسی بھی بات کو سننے سے یکسر انکار کر دیا گیا، مزید برآں ایسے اقدامات پر اتر آئے جس سے یمن اور پڑوسی ممالک سمیت سب کو خطرات منڈلاتے نظر آنے لگے، اس وقت اہل حل و عقد اور ذمہ داران کے پاس ایک ہی حل بچا جو کہ ابو تمام نے ذکر کیا ہے:

مسلم حکومتوں کو موجودہ دور میں کیا کرنا چاہیے؟

آج تمام مسلمانوں کیلئے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ: تفرّق، اختلاف، اور اپنی صفوں میں دراڑیں پیدا کرنے سے دور ہو جائیں، اور مسلمانوں کے بارے میں کی جانے والی منصوبہ بندیوں سے بچیں، یہ منصوبہ بندیاں صرف مسلمانوں میں اختلافات ، ان کے عقائد سے متعلق زبان درازی ، مسلم اسباب و وسائل پر قبضہ، اور مسلم علاقوں و معاشروں سے امن و امان نا پید کرنے کیلئے کی جاتی ہیں۔

مسلمانوں میں ان منصوبوں کیخلاف بیداری اسی وقت پیدا ہوگی جب تک باہمی تصادم اور ٹکراؤ کے اسباب ختم نہیں ہونگے، ساتھ میں ایسی فضا مہیا کرنا ضروری ہے جس کا مقصد اتحاد، اتفاق ، اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو، اسی طرح دینی و ملّی مفادات کے سامنے ذاتی مفادات کی قربانی کا جذبہ پیدا ہو، ان تمام امور کا بنیادی مقصد یہ ہو کہ سب سے پہلے دین کی خدمت اور پھر اس کے بعد ملک و وطن کے امن و امان کے استحکام کیلئے کوشش کی جائے، وگرنہ ہماری صورت حال کسی شاعر کے مطابق یوں ہوگی:

أَمَرْتُكَ أَمْراً جَازِمًا فَعَصَيْتَنِيْ

فَأَصْبَحْتَ مَسْلُوْبَ الْإِرَادَةِ نَادِماً

میں نے تمہیں یقینی بات کا حکم دیا تو تم نے میری بات نہ مانی، اب تمہارے پاس حکمرانی نہیں رہی، تو نادم ہو رہے ہو!

تمام حکومتوں اور دانشوروں پر لازمی ہے کہ امت کے مسائل اور انکے حل کے بارے میں انکی ایک متفقہ پر عزم رائے ہو، تا کہ ان سے شرعی مقاصد، اور دنیاوی اہداف حاصل کیے جائیں، اور دشمنوں کو اپنے شریر و مذموم اہداف حاصل کرنے کا موقع ہی نہ ملے؛ کیونکہ جب مصیبت آتی ہے تو سب پر آتی ہے، لیکن جب خیر آئے تو عموما مخصوص لوگوں تک محدود ہوتی ہے، اور اللہ تعالی خود سے تباہ ہونے والے کو ہی تباہ فرماتا ہے۔

عوام الناس اور علماء کی ذمہ داریاں 

اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کیلئے آگہی مہم چلائیں، اور انہیں درست تعلیمات سے بہرہ ور کریں، تا کہ حکمران و رعایا کے درمیان (جائز)ہم آہنگی پیدا ہو(اور معاشرہ فتنہ و فساد سے دور رہے)۔

اسی طرح پر فتن حالات میں انفرادی فتووں سے بالکل گریز کریں، کیونکہ زمینی حقائق نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ان میں سے کچھ کے نتائج اچھے اور مثبت برآمد نہیں ہوتے، چنانچہ اس پہلو پر حکمت ، اور فہم و فراست سے کام لینا انتہائی ضروری ہے۔

اسی طرح اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ بات چیت اور عملی مظاہرے میں متوقع نتائج کو پیش نظر رکھیں، تا کہ تمام معاملات خوش اسلوبی کیساتھ مکمل ہوں اور اچھے نتائج کا باعث بنیں؛ کیونکہ مختلف ممالک میں مسلمانوں کو در پیش مسائل پہلے ہی بہت ہیں، جو کہ کسی سے مخفی بھی نہیں ہیں، ان مسائل کی وجہ سے بہت ہی زیادہ نقصانات ہوئے، اور ان نقصانات و تباہی کے اعداد و شمار کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

بحران سے نکلنے کا راستہ:

اللہ تعالیٰ ،اس کے دین و احکامات اورسنتِ نبویہﷺ کی پیروی کریں

اور گناہوں و شرعی مخالفتوں سے اجتناب کریں 

تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں، اسی کے سامنے گڑ گڑائیں، دینِ الہی پر عمل پیرا ہوں، احکامِ الہی کی تعمیل کریں، حدودِ الہی سے تجاوز نہ کریں، گناہوں میں ملوّث نہ رہیں؛ کیونکہ کسی بھی فتنے سے بچاؤ، اور بحران سے نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَفِرُّواإِلَى اللَّهِ} اللہ کی طرف دوڑو۔[الذاريات : 50]

اسی طرح فرمایا: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کیساتھ ظلم [شرک] کی آمیزش نہیں کی، صرف انہی لوگوں کیلئے امن ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام : 82]

ایک جگہ فرمایا: { وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے مؤمنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرو، تا کہ تم ہی فلاح پاؤ۔[النور : 31]

مایوس کن فتنے ، مختلف مصائب، بڑے بڑے سنگین مسائل، اور مہلک بیماریاں لوگوں کے گناہوں ، شرعی مخالفتوں، اور سنت محمدیہ ﷺسے ہٹنے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ} تمہیں کچھ بھی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اپنےہی اعمال کی وجہ سے پہنچتی ہے۔[الشورى : 30]

اسی طرح فرمایا: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} بھلا جب [احد کے دن] تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے کہ "یہ کہاں سے آگئی؟" حالانکہ اس سے دوگنا صدمہ تم کافروں کو پہنچا چکے ہو  آپ (ﷺ)ان مسلمانوں سے کہہ دیں کہ: "یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی لائی ہوئی ہے"، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ [آل عمران : 165]

اہلِ یمن کو نصیحت

علمائے یمن ، حکمران، سیاستدان، اور عوام الناس پر لازمی ہے کہ باہمی اتحاد و اتفاق قائم کریں، تا کہ سنگین خطرات اور بھیانک نقصانات سے اپنے دین و عقیدے اور خطے کی ،کامیابی کیساتھ حفاظت کر سکیں، وگرنہ ان خطرات کا دین و دنیا میں یکساں نقصان ہوگا، ان کیلئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی مکاری و عیاری پر مشتمل کسی بھی منصوبہ بندی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} سب کے سب اللہ تعالی کی رسی (کتاب وسنت)کو مضبوطی سے تھام لو، اور تفرقہ نہ ڈالو[آل عمران : 103]

اسی طرح فرمایا: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِيْنَ} آپس میں تنازعات(جھگڑے) مت کھڑے کرو، ورنہ ناکام ہوجاؤ گے، اور تمہاری ہوا تک اکھڑ جائے گی، لہذا [اتحاد کیساتھ]ڈٹے رہو، بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کیساتھ ہے۔[الأنفال : 46]

تمام لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے علاقوں اور اسباب و وسائل کی حفاظت کریں، اپنی قوم، معاشرے، اور قومی دھارے کا تحفظ یقینی بنائیں،

یمن کے سپوتو پر لازمی ہے کہ خواہشات یا شیطان کی بات مت مانیں، اور اسی طرح دنیاوی و شخصی مفادات کے پیچھے مت لگیں، ورنہ اپنا ملک گنواں بیٹھو گے، اور یہی سب سے بڑی خیانت ہوگی، جو سنگین جرم بھی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} اے ایمان والو! اللہ اور رسول ﷺسےخیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو جبکہ تم جانتے ہو [الأنفال : 27]

اللہ تعالی میرے اور آپکے لئے قرآن و حدیث کو بابرکت بنائے، اسی پر اکتفاء کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ، ڈھیروں ، پاکیزہ ، اور برکتوں والی تعریفات ہمارے رب کیلئے جیسے اسے پسند ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےعلاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ دنیا و آخرت میں یکتا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اُس کے چنیدہ بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی اُن پر ، اُنکی آل، اور نیکو کار ، متقی صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

سرزمینِ حرمین شریفین میں رہنے والے

مسلمانو!

اس ملک میں رہنے والوں پر اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں، ان میں سے ایک نعمت اس ملک کی قیادت ہے، جو کہ نفاذِ شریعت کے اعتبار سے(دیگر ممالک کی نسبت)  منفرد ہے، اس قیادت کی پوری جد وجہد اس ملک کے امن و امان کے استحکام کیلئے ہے، یہ ملک ِحرمین شریفین کی سرزمین ہے، یہی ملک سر زمین رسالت ہے، بلکہ یہ روئے زمین پر موجود ہر مسلمان کا اپنا ملک ہے، اس ملک کا امن ہر مسلمان کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمارے قائد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی مدد فرمائے، جنکی ذمہ دارانہ زندگی حکمت ، اور دانشمندی سے بھر پور ہے، وہ اتحاد امت کیلئے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آنے دیتے، انکی پوری کوشش ہے کہ امتِ اسلامیہ کا امن و امان مخدوش نہ ہو، پوری امت راحت و استحکام کیساتھ زندگی گزارے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، خادمِ حرمین شریفین کا یہ (یمن کے حوالہ سے)اقدام ایک ٹھوس تاریخی اقدام ہے، جو سنہرے لفظوں کیساتھ تاریخ میں لکھا جائے گا، انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کے خلاف بنائی جانے والی منصوبہ بندیوں پر یہ قدم اٹھایا ، اور ابو تمام نے اسی قسم کے اقدامات کے بارے میں کہا تھا:

فَتْحُ الفُتوحِ تَعَالَى أَنْ يُحيطَ بِهِ

نَظْمٌ مِن الشعْرِ أَوْ نَثْرٌ مِنَ الخُطَبِ

یہ ایک بہت بڑی فتح ہوگی جسے بیان کرنے کیلئے شعروں کا قصیدہ یا نثری خطبہ ناکافی ہے۔

دعائیں:

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ انہیں اس کا چھا بدلہ عطا فرمائے، اور انہیں مزید کی توفیق دے، اللہ تعالی انکی مکمل معاونت فرمائے، انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، ولی عہد اور نائب ولی عہد کی بھی حفاظت فرمائے۔

اس ملک کے تمام افراد یہ جان لیں کہ قرآن و حدیث کی نصوص اور مقاصد شریعت پر عمل پیرا ہوں، تا کہ مفادِ عامہ کا تحفظ ممکن ہو اور کم سے کم نقصانات کا خدشہ بھی باقی نہ رہے، ملک حرمین شریفین کے تحفظ ، اور اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے، نیز عالمی امن و امان کے تناظر میں اس خطے کے حکمرانوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا جائے، ان کا یہ موقف سب کی طرف سے تائید کا مستحق بھی ہے، تا کہ سب کے سب مسلمان ان باغیوں کے شر سے محفوظ رہیں، اور انکی بے پناہ منصوبہ بندیوں سے تحفظ مل سکے۔

اللہ تعالی ان کی تمام منصوبہ بندیوں کو غارت فرمائے، اور مکر کرنے والوں کیساتھ مکر فرمائے، اس ملک کے تمام افراد پر لازمی ہے کہ وہ اپنے قائدین کیساتھ ایک ہی صف میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

اور اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کی صحیح سمت کی جانب رہنمائی کریں، اور نوجوان اپنے قائدین کے ساتھ رہیں، تا کہ امن و امان قائم رہے، اور خطرات ٹل جائیں ۔

ہمیں اللہ تعالی نے ایک بہت بڑے عمل کا حکم دیا ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام ہے:
یا اللہ! ہمارے پیارے نبی ، ہمارے قلب و نظر کی ٹھنڈک محمد پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرما ، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی ، آپکی آل، تمام صحابہ کرام، آل و اہل بیت، تمام تابعین، اور قیامت تک انکے راستے پر چلنے والے افراد سے راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! جس نے بھی مسلمانوں پر زیادتیاں کی ، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! جس نے بھی مسلمانوں پر زیادتیاں کی ، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! جس نے بھی مسلمانوں پر زیادتیاں کی ، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما۔

یا اللہ! پوری دنیا میں تمام مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں درست فیصلے کی قوت عطا فرما، یا اللہ! انہیں درست فیصلے کی قوت عطا فرما، یا اللہ! انکی مکمل رہنمائی فرما، اور ان کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ہمارے حکمران کے ذریعے ہی دین غالب فرما، یا اللہ! انہی کے ذریعے ملک و قوم کا تحفظ یقینی بنا، یا اللہ! انہی کے ذریعے ملک و قوم کا تحفظ یقینی بنا۔

یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہر قسم کے خطرات سے حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہر قسم کے خطرات سے حفاظت فرما۔

یا اللہ! ملک حرمین کی حفاظت فرما، اور اپنی خصوصی حفاظت کے ذریعے اس کی حفاظت فرما، اور اسے اپنا خصوصی اہتمام و کرم عطا فرما۔

یا اللہ! ہمارے امن و امان اور استحکام کا تحفظ فرما، یا اللہ! ہمارے امن و امان اور استحکام کا تحفظ فرما، یا اللہ! ہم جہاں کہیں بھی رہتے ہیں سب کے امن و امان ، خوشحالی، خوشیوں اور استحکام کا تحفظ فرما۔

یا اللہ!تیری موجود نعمتوں پر شکر کرنے والا بنا، اور مستقبل میں ملنے والی نعمتوں پر ثنا خوانی کرنے والا بنا، اور اپنے فضل و کرم کے صدقے ہمیں تمام نعمتیں عطا فرما، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی مغفرت فرما، مؤمن مرد و خواتین کی مغفرت فرما، زندہ اور فوت شدہ سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! شام کے مسلمانوں سے فتنے اور مصیبتیں دور فرما دے، یا اللہ! عراق میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! تونس میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! مصر میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں اپنی خصوصی حفاظت میں محفوظ فرما، یا اللہ! لیبیا اور یمن میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی ساری دنیا میں حفاظت فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! انہیں نعمت امن و امان اور استحکام عطا فرما دے، یا اللہ! پورے عالم اسلام کو امن و امان، استحکام، خوشحالی، غلبہ اور کنٹرول عطا فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انکی مکمل مدد و نصرت فرما، یا اللہ! دشت و دریا اور فضاؤں میں انکی حفاظت فرما، یا اللہ! دشت و دریا اور فضاؤں میں انکی حفاظت فرما۔

یا اللہ! انکی اپنی طرف سے خصوصی تائید فرما، یا اللہ! انکی اپنی طرف سے خصوصی تائید فرما، یا اللہ! انکی اپنی طرف سے خصوصی تائید فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمیں بارش کی نعمت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش کی نعمت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش کی نعمت عطا فرما، یا ذالجلال والاکرام!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش کا پانی نصیب فرما، یا اللہ! ہمارے علاقے میں بارش نازل فرما، یا اللہ! مسلم علاقوں میں بارشیں فرما۔

یا اللہ! ہم تیرے شکر گزار ہیں کہ توں نے کچھ مسلم علاقوں میں بارشیں نازل کی، یا اللہ! بقیہ علاقوں میں بھی بارشیں نازل فرما کر اپنی نعمت پوری فرما دے، یا اللہ! تمام مسلم ممالک پر اپنی نعمت پوری فرما ، یا حیی !یا قیوم!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو اور صبح و شام اسی کی تسبیحات پڑھا کرو!

اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں۔

 

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹرعلی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے24  ربیع الثانی 1436 کا خطبہ جمعہ  بعنوان "گزرتے اوقات کا ہمارے لئے پیغام" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  دنیاوی زندگی  کے مختصر ترین لمحات کی حقیقت بیان کی، اور پھر اس مختصر سی زندگی میں نیکیاں کثرت سے کرنے کی تلقین فرمائی، ساتھ ہی انہوں نے کتاب و سنت کی روشنی میں  وقت کی قدر کرتے ہوئے نیکیاں کرنے والوں کا اجر، اور وقت کی بے قدری کرنے والوں کا انجام بھی بیان کیا۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں غالب اور بخشنے والے اللہ کیلئے ہیں،   وہی دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن لاتا ہے، ہر چیز کا اسکے پاس درست تخمینہ ہے، میں نعمتوں  اور فضل پر اسی کا شکر گزار ہوں، اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ  بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، وہی زبردست ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے  ، چنیدہ  و برگزیدہ  رسول ہیں،  یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول  محمد ، انکی اولاد اور بہترین صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو ، اور اسی کی اطاعت کرو، کیونکہ اسی کی اطاعت درست اور پائیدار [عمل] ہے، اور اپنی آخرت کیلئے زادِ راہ تیار کرو، یقینا بہترین زادِ راہ تقوی ہے۔

اللہ کے بندو!

مختصر دنیاوی زندگی ، حقارت آمیز دنیاوی نمود و نمائش، اور [پلک جھپکتے ] بدلتے حالات  پر غور و فکر کرو؛ تو تمہیں اسکی قیمت معلوم ہو جائے گی، اور تمہارے لئے اسکے راز فاش ہو جائیں گے، چنانچہ دنیا پر بھروسہ کرنے والا ہی دھوکے میں ہے، اور اس کی طرف مائل شخص ہی ہلاک  ہونے والا ہے۔

انسان کی زندگی بھی دنیاوی زندگی کی طرح مختصر ہے، اور ایک فرد کی زندگی  لمحات سے شروع ہوتی ہے، لمحات سے گھنٹے، اور گھنٹوں کے بعد ایام، اور ایام کے بعد مہینے ، اور مہینوں کے بعد  سالہا سال ہیں، پھر  انسان کی زندگی پوری ختم  ہو جاتی ہے، لیکن انسان کو یہ خبر نہیں  ہے کہ اس کے ساتھ موت کے بعد بڑے بڑے کون سے معاملات پیش آنے والے ہیں!

کیا تمہارے بعد آنے والوں کی زندگی بھی تمہاری  زندگی ہے!؟ ایک مخلوق کی  عمر کئی نسلوں کی عمر کے مقابلے میں لحظہ بھر مقام رکھتی ہے، اور دنیاوی زندگی تو  ویسے ہی کھیل تماشا ہے، فرمان باری  تعالی ہے: { إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ} بیشک یہ دنیا متاع ہی ہے، اور آخرت  ہی ہمیشگی کا ٹھکانہ ہے۔[غافر : 39]

ایسے ہی اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا} نیز ان کے لئے دنیاوی زندگی کی یہ مثال بیان کریں: جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین کی نباتات گھنی ہوگئیں۔ پھر وہی نباتات ایسا بُھس بن گئی جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر مکمل اختیار  رکھتا ہے ۔[الكهف : 45]

اور اللہ تعالی نے قبروں میں لوگوں  کے قیامت تک لمبے عرصے  کے قیام کو ایک لمحہ سے موسوم کیا ہے، اور فرمایا: {وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَنْ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ} اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا (وہ محسوس کریں گے) گویا وہ دن کی ایک لمحے سے زیادہ دنیا میں ٹھہرے ہی نہیں ، جو ایک دوسرے کو پہچاننے میں [بیت گئے]۔ [يونس : 45]

اسی طرح فرمایا: {وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ} اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ : " ہم تو ایک لمحے سے زیادہ نہیں ٹھہرے " اسی طرح وہ [دنیا میں بھی] غلط اندازے لگایا کرتے تھے ۔[الروم : 55]

اور فرمایا: {فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ}  آپ صبر کریں! جیسے اولوالعزم  پیغمبر صبر کرتے رہے اور ان کے بارے میں جلدی نہ کریں،  جس دن یہ لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تو وہ یوں سمجھیں گے جیسے (دنیا میں) بس دن کا ایک لمحہ ہی ٹھہرے تھے،  بات پہنچا دی گئی ہے!  تو اب  نافرمان لوگوں کے علاوہ کوئی  اور ہلاک ہوگا!؟  [الأحقاف : 35]

اے انسان تیری ایک لمحے کی  زندگی ، کیا زندگی ہے؟! اور اس لمحے میں تم اپنے لئے کیا کر سکتے  ہو؟! یقینا ایسا شخص خوشخبری کا مستحق ہے جو  نیک اعمال کرے اور گناہوں سے اجتناب کرے تو وہی اللہ رب العالمین کے پڑوس میں متقین کیساتھ ہمیشہ مزے کی زندگی گزارے گا، اور نعمتوں والی جنتوں میں رضائے الہی پائے گا۔

اور خواہش پرستی میں مگن ہو کر نمازوں اور واجبات کو ضائع  کرنے والے کیلئے ہلاکت  ہوگی، کافروں کیساتھ عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہے گا۔

اپنی صحت کے گھمنڈ میں نا فرمانیاں کرنے والے!

فراغت کی وجہ سے بگڑ کر  اپنے اوقات کو لہو و لعب میں ضائع کرنے والے!

مال کے فتنے میں پڑ کر تباہی و بربادی کا سامان کرنے والے!

خواہش پرستی میں مست ہو کر گمراہ ہونے والے!

جوانی کے نشے میں  خاک میں مل جانے کو بھولنے والے!

اے  وہ شخص  جسے زندگی کی امید اور تمنا نے  اپنے رب کی نافرمانی پر ابھارا! اور اسے موت نے اپنے پنجوں میں  دبوچ لیا، اور اب وہ دنیا میں واپس نہیں آسکتا!

ایک حدیث میں ہے کہ : (لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو یا د کرو، کیونکہ  موت کا تذکرہ زیادہ کو تھوڑا اور تھوڑے کو زیادہ بنا سکتا ہے) ترمذی،  نسائی، اور ابن حبان نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ: (نصیحت کیلئے "موت"[کا نام] ہی کافی ہے)

غافل اور لا پرواہ شخص! کیا ابھی پروردگار کی طرف رجوع  اور توبہ کا وقت نہیں آیا؟

کیا ابھی  گہری غفلت سے بیدار ہو کر اطاعت گزار بننے کا  وقت نہیں آیا؟

کیا تم گزشتہ اقوام سے نصیحت نہیں پکڑو گے؟

ان بے آباد گھروں سے  جو منظر  سے ہٹ کر تاریخ کے اوراق میں چلے گئے! جو شان و شوکت کے بعد قصہ کہانی بن گئے! ان سے نصیحت حاصل نہیں کروگے؟

عام و ایام کے آنے اور عام و ایام کے جانے میں ہمارے لئے نصیحت ہے، ایک دن گزرنے کے بعد دوسرے دن میں منتقل ہو جاتے ہو، اسی طرح زندگی بھی  گزر جائے گی، اور خواہشات  یہیں رہ جائیں گی۔

فرمان الہی ہے: {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (39) وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى (40) ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى (41) وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى } انسان کو وہی ملتا ہے جسکی کوشش کرتا ہے، [39] اور اسکی کوششوں کو جلد ہی دیکھا دیا جائے گا[40] پھر پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا[41] اور یقینا تیرے رب کے پاس ہی سب نے جانا ہے۔[النجم : 39 - 42]

چنانچہ ہمیشگی کے گھر کیلئے عمل کرو،  جسکی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہونگی، اور نہ ہی ان میں کمی آئے گی، جس کے بارے میں  اللہ تعالی نے فرمایا: {ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ (34) لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ } اس جنت میں داخل ہوجاؤ، آج حیاتِ ابدی  کا دن ہے۔[34] انہیں جنت میں جو چاہیں گے ملے گا، اور ہمارے پاس [دینے کیلئے]اس سے بھی زیادہ ہے۔ [ق : 34 - 35]

اسی طرح فرمایا: {مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ} [الرعد : 35]

اس آگ سے بچو  جو جہنمیوں سے کم نہیں کی جائے گی، اس کیلئے اللہ تعالی کے احکامات پر عمل پیرا ہوجاؤ، اور اللہ کے غضب سے محفوظ رہو، اس آگ کے بارے میں  فرمانِ باری تعالی ہے: { فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (19) يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ (20) وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ (21) كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ } ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے اور ان کے سروں پر اوپر سے کھولتا پانی ڈالا جائے گا [19] جس سے ان کے پیٹ میں موجود  سب کچھ گَل جائے گا، اور انکی جلد بھی پگھل جائے گی[20] نیز ان [کو مارنے کیلئے]کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ [21] جب بھی وہ رنج کے مارے دوزخ سے نکلناچاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے [اور انھیں کہا جائے گا کہ] اب جلانے والے عذاب کا مزا  چکھو۔ [الحج : 19 - 22]

فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ} اپنی [آخرت کے]لئے کچھ  آگے بھی بھیجو، اور تقوی الہی اختیار کرو، اور یہ یقین رکھو کہ تم یقینا اللہ سے ملو گے، اور مؤمنوں کو خوشخبری سنا دیں۔[البقرة : 223]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفات اللہ کیلئے ہیں جو مخفی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے، وہی ہر نفس کے سارے اعمال شمار کر رہا ہے، اور ان پر پھر پورا بدلہ بھی دیگا، میں اپنے رب کی حمداور   شکر بجا لاتا ہوں، اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور بخشش طلب کرتا ہوں،  اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور  یکتا ہے ، اسی کے اچھے اچھے نام ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اسکے  بندے اور چنیدہ  رسول ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل ، اور تمام بردباد و متقی صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو  جیسے اختیار کرنے کا حق ہے، اور اسلام کے مضبوط کڑے کو تھام لو۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہارے لئے رحمت کے دروازے کھولے ہوئے ہیں، اس لئے نیکیاں کماؤ اور گناہوں سے بچو، چنانچہ کسی شخص کو گناہ کر کے اللہ  سے اعلان جنگ  کرتے ہوئے رحمت کا دروازہ بند نہیں کروانا چاہئے، فرمان باری تعالی ہے: {وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ}میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے،  لہذا جو لوگ متقی  ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے میں رحمت ہی لکھوں گا ۔ [الأعراف : 156]

اے بندے! صحت و عافیت  کے لمحات کو غنیمت جانو، کیونکہ گزرا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا، چنانچہ قدر استطاعت ان لمحات میں نیکیاں کماؤ، اور اپنے نامہ اعمال کو گناہوں سے سیاہ مت کرو، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (دو نعمتوں کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، صحت اور فراغت) بخاری
اسکا مطلب یہ ہے کہ : صحت اور فراغت  سے بہت ہی کم لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہ دونوں نعمتیں نیک اعمال کے بغیر ہی ختم ہو جاتی ہیں، اور جو لوگ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آخرت، اور باقیماندہ زندگی کیلئے عمل کرتے ہیں، انکی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (دنیا میں ایسے رہو جیسے اجنبی  ہو یا مسافر ہو)الحدیث

اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ: "جب صبح کرو تو شام ہونے کا انتظار نہ کیا کرو، اور جب شام ہوجائے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرو، اپنی صحت کے  وقت میں بیماری کیلئے کچھ انتظام کرلو، اپنی زندگی  میں موت کیلئے تیاری کرلو"

مسلمانو!

اللہ تبارک و تعالی نے تمہیں ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے، جس کی ابتدا خود اللہ تعالی نے فرمائی،  اور بتلایا: }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقینا اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔

اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر کثرت کیساتھ درود پڑھو، کیونکہ یہ بہت بڑی عبادت اور قربِ الہی کا ذریعہ ہے، اور جو شخص  امام المرسلین پر جتنا زیادہ دردو پڑھے گا، قیامت کے دن آپ سے اتنا ہی قریب ہوگا۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيرا۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی  سے راضی ہوجا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اورکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،  یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! کفر ، کفار اور منافقین کو ذلیل کر دے ، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے اور دین اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو ساری دنیا میں غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے دین، قرآن، اور سنت نبوی کو ساری دنیا میں غلبہ عطا فرما، یا اللہ! سنت نبوی کا ساری دنیا میں بول بالا فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمیں حق بات اچھی طرح  دکھا دے، اور پھر اتباعِ حق  کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل بات اچھی طرح  دکھا دے، اور پھر باطل سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ، ہمارے لئے باطل کے بارے میں ابہام مت رکھنا ، کہ کہیں گمراہ نہ ہوجائیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! سب معاملات کا انجام ہمارے لئے بہتر بنا، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تمام فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! ہمارے فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! تمام فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! ہمارے فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! انکی قبروں کو منور فرما، یا اللہ! انکی قبروں کو کشادہ فرما، اور انہیں منور فرما، یا رب العالمین! بیشک تو  رحمن اور رحیم ہے!

یا اللہ! ہر مسلمان مرد و عورت  کے معاملات اپنی تحویل میں لے لے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہر مؤمن مرد و عورت  کے معاملات اپنی تحویل میں لے لے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرما،  یا اللہ! ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرما، ہر وقت اور ہر جگہ انکی حفاظت فرما،  یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! تیرے دین کی وجہ سے جن مسلمانوں کو حالت جنگ کا سامنا ہے، یا اللہ! انکی مدد فرما،  یا اللہ! مسلمانوں کی مدد فرما، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! اسلام دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ظالموں کے ظلم سے انکی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! مسلمانوں  کی ہر جگہ پر حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ!  تمام مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں ملادے، اور آپس میں لڑے ہوئے مسلمانوں کی صلح فرما، یا اللہ! کلمہ حق پر سب مسلمانوں کو جمع فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا ذالجلال و الاکرام!

یا اللہ! خادم حرمین شریفین  کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُسکی تیری مرضی کے مطابق  رہنمائی  فرما، اور اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ!  اسے ہدایت یافتہ اور رہبر بنا، یا اللہ! انکے مشیروں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اسکے دونوں ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اور انہیں اپنی رحمت کے صدقے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اچھے فیصلے کی توفیق عطا فرما،  یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کو ہر قسم کے شر اور نا پسندیدہ  عناصر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کو ہر قسم کے شر اور نا پسندیدہ  عناصر سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کی حفاظت فرما۔

یا اللہ!  اسلام دشمن قوتوں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما دے، یا اللہ!  اسلام دشمن قوتوں کی اسلام مخالفت پالیسیاں غارت فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ{ اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو[90] اور اللہ تعالی سے کئے وعدوں کو پورا کرو، اور اللہ تعالی کو ضامن بنا کر اپنی قسموں کو مت توڑو، اللہ تعالی کو تمہارے اعمال کا بخوبی علم ہے [النحل: 90، 91]

اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنائت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

بیت اللہ ! اتحاد امت کی علامت

خطبہ:  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض  |  ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے ہمیںہدایت دی، اور کعبہ کو مسلمانوں کیلئے قبلہ بنایا، تمام نعمتوں، بھلائیوں اور فضل و کرم پر میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں، اور شکر بجا لاتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے، ہم اسکی الوہیت اور ربوبیت کا بلا شک و شبہ اقرار کرتے ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم اسکے بندے اور رسول ہیں، انہوں نے ہمیں روزِ روشن کی طرح واضح دین پر چھوڑا ،اللہ تعالی ہماری نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ، ان کی آل پر اور صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے دین کا ہر قسم کے غلط پراپیگنڈوں سے دفاع کیا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں ، فرمانِ باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

اے ایمان والو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران : 102]

کعبہ شریف مسلمانوں کا قبلہ ہے،جو کہ دور دراز کے علاقوں سے رخت سفر باندھنے کیلئے سب سے پہلا گھر ہے، اسے ابراہیم علیہ السلام نے حکم الہی کی تعمیل کرتے ہوئے تعمیر کیا، جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے یوں فرمایا:

{وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ}

اور جس وقت ابراہیم ، اور اسماعیل علیہما السلام بیت اللہ کی بنیادیں کھڑی کر رہے تھے" [البقرة : 127]

تو اللہ کی جانب گڑگڑا کر اور کامل خشوع و خضوع کیساتھ اس عمل کیلئے قبولیت کی دعا فرمائی :

{رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ}

ہمارے رب! ہماری کاوش قبول فرما، بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ [البقرة : 127]

ابراہیم علیہ السلام کی کیفیت پر غور کیجیئے؛ ایک نبی کعبہ بناتے ہوئے بھی اللہ تعالی سے عاجزی کیساتھ قبولیت کیلئے دعا فرماتا ہے، اس لئے ہمارے سارے نیک اعمال بارگاہِ الہی میں قبولیت کیلئے حضور قلبی، اور دعائے خالص کے محتاج ہیں۔

{جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ}

اللہ تعالی نے کعبہ کوحرمت والا گھر، اور لوگوں کیلئے قیام کی جگہ بنایا ہے۔ [المائدة : 97] کعبہ مسلمانوں کیلئے ہر حالت و عبادت کا قبلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’بیت الحرام زندگی و موت ہر حالت میں تمہارا قبلہ ہے‘‘

مقدس سرزمین کی چاہت ہر مسلمان کے دل کی تمنا ہے، محبت سے تمام لوگ بلد الامین کی طرف کھچتے چلے آتے ہیں، کسی کا اس شہر سے دل نہیں بھرتا، آکر چلے جاتے ہیں، اور پھر دوبارہ آنے کیلئے تیار رہتے ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی:

{فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ}

[اے اللہ!] لوگوں کے دلوں کو انکی طرف جھکنے والا بنا دے[ابراہیم : 37]

کعبہ عبادت کرنے اور بار بار آنے کی جگہ ہے؛ جو شخص گناہ کا مرتکب ہوجائے، یا کسی لغزش کا شکار ہوجائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے، اور قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کرے یا حج کرے تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اس کے راستے کو درست کر دیا جائے گااور اپنے گناہوں سے صاف ہوکر ایسے واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے گناہوں سے پاک جنم دیا تھا۔

ابر اہیم علیہ السلام نے اُسی وقت امن وامان کیلئے دعا مانگی، اور امن کے بغیر زندگی میں خوشحالی ممکن نہیں ہے، امان نہ ہو تو ایک گھونٹ پانی نیچے نہیں اترتا، خوف کے پھیلنے سے دنیا میں فساداور زندگی میں کساد آجاتا ہے، اور لوگوں میں دہشت و گھبراہٹ سرائیت کر جاتی ہے، فرمان الہی ہے:

{فَلْيَعْبُدُوارَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ }

اس گھر کے رب کی عبادات کرو، جس نے انہیں بھوک میں کھلایا، اور خوف سے امن بخشا[قريش : 3 - 4]

کعبہ اخوت کیلئے سنگم، اور سلامتی کا سرچشمہ ہے، فرمانِ الہی ہے:

{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ}

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا، حالانکہ ان کے آس پاس سے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں![العنكبوت : 67]

اتحاد امت کعبہ کے اردگرد طواف کرتے ہوئے عیاں ہوتا ہے، تمام لوگوں کے الفاظ، افعال، اور جذبات عبادات کیلئے متحد نظر آتے ہیں، کہ بیت اللہ کے ارد گرد سب کے دل یکجا ہونے کے بعد بدن بھی قریب ہوجاتے ہیں، حالانکہ سب کی شہریت مختلف، زبانیں الگ، رنگ جدا جدا؛ اسکے باوجود سب ایک ہی قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، تا کہ انکی بات میں یکسانیت، دلوں میں پاکیزگی، صفوں میں اتحاد، اور آپس میں اتفاق نظر آئے، یہ منظر آپکے ذہن میں اتحاد و یکجہتی کا مفہوم نقش کر دیگا، اور ایک ایسی قوم کی حقیقت آشکار کر دیگا جو متذبذب آراء، متضاد افکار، اور بے راہ روی کا شکار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میرے بعد کافر مت ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو) بہت ہی امید ہے کہ کعبہ سے لپٹ جانے والے بابرکت مجمعے کے افراد فرقہ واریت، تنازعات، اور اختلافات کو مسترد کردیں۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے رب نے فرمایا: اے محمد! میں جب فیصلہ کردوں تو اسے رد نہیں کیا جاسکتا ، اور میں نے آپکو آپکی امت کے بارے میں یہ عنائت کردی ہے کہ میں اُنہیں یکبار قحط سالی سے ہلاک نہیں کرونگا، نہ ہی ان پر انکی گردنوں کو حلال جانے والا بیرونی دشمن مسلط کرونگا ، چاہے انکے خلاف سب اتحادی جمع ہوجائیں، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کرینگے، اور قیدی بنائیں گے)

چنانچہ یہ امت بیرونی دشمنوں کے غلبے سے اس وقت تک محفوظ رہے گی جب تک اس میں اتحاد ہوگا، یہاں تک کہ خانہ جنگی میں مبتلا ہوکر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے گی، پھر بیرونی دشمن ان پر مسلط ہو کر اسکی حرمت پامال کردیگا۔

تاریخ بتلاتی ہے کہ جب بھی امت صراط مستقیم سے روگرداں ہوئی تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل اورظلم کا نشانہ بنانے لگے، اور امت داخلی قتل و غارت میں جکڑ گئی؛ تو امت کا رعب جاتا رہا، دشمن اس پر غالب ہوگیا، امت کی بنیادیں کھوکھلی ہوگئیں، اور ذلت، پستی، اور برے نتائج کا اسے سامنا کرنا پڑا، فرمانِ الہی ہے:

{وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ}

اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو، آپس میں تنازعات مت ڈالو، وگرنہ تمہاری ہوا تک اکھڑ جائے گی۔ [الأنفال : 46]

اسلامی بھائیو!

کعبہ زمین کا مرکز ہے، اللہ نے فرمایا:

{لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا}

تا کہ آپ ام القری [مکہ] والوں اور اسکے اردگرد رہنے والوں کو ڈرائیں۔[الشورى : 7]

چنانچہ روئے زمین پر تمام لوگ کعبہ کے ارد گرد ہیں، تا کہ امت اس محکم مرکز کو اپنی زندگی کیلئے محور بنائیں، اسی جگہ سے یہ سیکھیں کہ انکا منہج مضبوط ہے، انکے اصول و ضوابط ٹھوس ہیں، انکا سر چشمہ خالص ہے، اور انکے اہداف بھی واضح ہیں، یہ تمام مفاہیم پوری امت ہر روز اپنے ذہن میں تازہ کرے، بلکہ ہر نماز کے وقت جب بھی بیت اللہ رخ ہونے لگیں تو یہ مفاہیم اپنے ذہن میں بٹھائیں ۔

کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہےیہ نظریہ اس امت کیلئے غلبہ ، عزت، اور بلند ہمتی کا باعث ہے؛ کیونکہ اس امت میں قیادت و سیادت کی صلاحیت ہے، اس امت کے اپنے نظریات، اصول و ضوابط، اور منہج ہے، لیکن جس وقت اس کے تشخص میں مذکورہ اشیاء کا فقدان ہوگا تو یہ غلام بن کر زندگی گزارتی ہے؛ آقا بن کر نہیں، اسکی راہنمائی لوگ کرتے ہیں، یہ لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتی۔

کعبہ اللہ کی طرف سے بابرکت جگہ ہے، فرمانِ الہی ہے:

{إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ}

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مکہ شہر میں بنایا گیا وہ بابرکت، اور جہان والوں کیلئے باعث ہدایت ہے [آل عمران : 96]

اس کی برکت ہی کی وجہ سے اللہ نے فرمایا:

{ يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا }

اسی مکہ کی جانب ہر قسم کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، جو ہماری طرف سے عنایت کردہ رزق ہے۔[القصص : 57]

اس کی برکت ہی کی وجہ سے یہاں ہمیشہ عبادت ہوتی ہے، نیکیوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے، بھلائی بڑھتی جاتی ہے، اور گناہ دھلتے چلے جاتے ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا:

{وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ}

انہیں بیت عتیق کا طواف کرنا چاہے۔[الحج : 29]

بیت اللہ کو "عتیق" اس لئے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے قیامت تک کیلئے بیت اللہ کو کفار، اور جابروں کے تسلط سے آزاد فرما دیا ہے۔

کعبہ میں حجر اسود بھی ہے جو کہ جنت سے نازل ہوا، یہ پتھر کسی قسم کا نفع و نقصان نہیں دے سکتا، اور لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں دیا جاتا ہے، آپ ہی نے اس پتھر کے بارے میں فرمایا: (اللہ تعالی قیامت کے دن اس پتھر کو دیکھنے کیلئے دو آنکھوں اور بولنے والی زبان کیساتھ اٹھائے گا، جن سے وہ حق کیساتھ استلام کرنے والوں کی گواہی دے گا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے بارےمیں خبر دی ہے کہ: (ایک لشکر کعبہ پر لشکر کشی کریگا، چنانچہ جب وہ "بیدا" جگہ پر ہونگے تو اول تا آخر سب کو زمین بوس کردیا جائے گا) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے کہا: اللہ کے رسول! اول تا آخر سب کو زمین بوس کیوں کیا جائے گا!؟ ان میں زبردستی لائے جانے والے ، اور نظریات میں انکے مخالفین بھی ہونگے؟ آپ نے فرمایا: ’’اول تا آخر سب کو زمین بوس کیا جائے گا، پھر انہیں انکی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ ’’ (بخاری)

اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، وہی بدلے کے دن کا مالک ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہی اول و آخر سب مخلوقات کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول، اور متقی لوگوں کے ولی ہیں، اللہ تعالی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اور ان کی آل پر، تمام صحابہ کرام پر رحمت نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں۔

جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’دنیا میں افضل ترین ایام عشرہ ذوالحجہ کے دن ہیں‘‘ کہا گیا: [جہاد]فی سبیل اللہ میں بھی ایسے دن نہیں ہیں؟ آپ نےفرمایا: ([جہاد] فی سبیل اللہ میں بھی ایسے دن نہیں ہیں، الا کہ کوئی شخص اپنے چہرے کو خاک آلود کر لے[یعنی: شہید ہوجائے] (بزّار، ابن حبان)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: ’’کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل ذو الحجہ کے ان دس دنوں میں کئے ہوئے اعمال سے بھی افضل ہو‘‘ کہا گیا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا:’’جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، الا کہ کوئی شخص اپنی جان و مال لیکر نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ آیا‘‘۔(بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ:’’اللہ کے ہاں کوئی دن ایسا نہیں ہے جو ذو الحجہ کے ان دس دنوں سے زیادہ عظیم ہو اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو ان دس دنوں میں کئے ہوئے اعمال سے زیادہ محبوب ہو، اس لئے ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ کا ورد کرو۔‘‘( احمد)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود وسلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتابِ عزیز میں اسی کا تمہیں حکم دیا ہے:

’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ‘‘

اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ [الأحزاب: 56]

یا اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ان کی اولاد اور ازواج مطہرات پر رحمت و سلامتی بھیج، جیسے کہ تو نے ابراہیم کی آل پر رحمتیں بھیجیں، اور محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- پر آپکی اولاد اور ازواج مطہرات پر برکتیں نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا، یا اللہ! اپنے رحم و کرم اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، اور کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور سارے اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں اپنے اپنے ممالک میں امن وا مان نصیب فرما، اور ہمارے ساتھ ہمارے حکمرانوں کی بھی اصلاح فرما۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے یا اسلام کے بارے میں برے عزائم رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسکی چالوں کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! جو بھی ہمارے یا اسلام کے بارے میں برے عزائم رکھے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اسکی چالوں کو اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعا!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اور ہمیں ہر ایسے قول و فعل کی توفیق دے جو ہمیں جنت کے قریب کر دے، یا اللہ ہم جہنم کی آگ سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور ہر ایسے قول و فعل سے بھی جو ہمیں جہنم کے قریب کرے۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لئے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، اول سے آخر تک ، ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھے سے ہدایت ، تقوی، پاکدامنی، اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کوغلبہ نہ دے، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ظالموں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ ہمیں تیرا ذکر کرنے والا بنا، تیرا شکر گزار بنا، تیرے لئے مٹنے والا بنا، تیری ہی جانب لوٹنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال ، ہماری حجت ثابت کر دے، ہماری زبان کی حفاظت فرما، اور ہمارے سینے کی تمام بیماریاں ختم کر دے۔

یا اللہ! فوت شدگان پر رحم فرما، اور تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، ہمارے دکھ درد، اور تکالیف کو دھو ڈال، یا رب العالمین۔

بقيه: بيت الله -- - اتحاد امت كي علامت

یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، اور اسکو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ ! ‏انکے نائب کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذِ شریعت کو توفیق عطا فرما۔

یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما، یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما، یااللہ! اپنے گھر کے حجاج کرام کی حفاظت فرما،یا اللہ! انہیں ہر ‏قسم کے شر اور گناہوں سے محفوظ فرما، یا اللہ! انہیں اپنے اپنے علاقوں میں سلامتی ، نیکیوں ، اور مقبول حج کیساتھ واپس لوٹا، یا ارحم الراحمین!‏

یا اللہ! تمام حجا ج کا حج مبرور بنا، انکی جد و جہد کو قبول فرما، اور انکے گناہوں کو معاف فرما، اور انکے تمام نیک اعمال کو مقبول، اور مبرور بنانا، یا ارحم الراحمین!‏

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

‏ ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ‏‏[الأعراف: 23] ‏

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ‏

اے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں , ان کے لیے ‏ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے , اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10] ‏

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ‏

ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]‏

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ ‏

تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت ‏کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]‏

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی چیز ہے، اور اللہ تعالی کو تمہارے ‏تمام اعمال کا بخوبی علم ہے۔

ندائےحرم مسجدِنبوی الشریف

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ و بُکا "

امامِ حرم ڈاکٹرصلاح البُدیرحفظہ اللہ

کامنفرداوردل دہلادینےوالےحقائق پرمشتمل خطبہ جمعہ کا "خلاصۃ"

مکمل  ترجمہ خطبہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

مؤرخہ: 6 ربیع الأول 1434ھ  ، بمطابق: 18جنوری 2013م

مترجم: شعیب اعظم مدنی حفظہ اللہ(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

اہل  شام پر ٹوٹتی ہوئی مصیبتیں

(ملک بدر اہلِ شام کی حالتِ زار)

اہلِ شام اپنے ملکِ شام میں ظالموں کی طرف سے  ظلم کی انتہاء، قتل وفساد گری، ہلاکت وبربادی اور  خوف و حراس پھیلانے والے جرائم، اچانک خون ریزی، سختی، مصائب اور جنگوں کی تباہی سے  اپنی جانیں بچاکرسٖخت سردی کے موسم میں بھوک کی شدت سے نڈھال ہوکر ،پناہ گاہوں کی تلاش میں ،موت سے بچنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔موت کےخطروں سے بچنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ نہ رہنے کو گھر ہیں،اور نہ ہی پہننے کو کپڑے، صرف چندخیمے ہیں  جنہیں تند وتیز ہوائیں اُکھاڑ پھینکیں اور سیلاب بہا لے جائے۔

ہماری ذمہ داریاں

۞ ان پر دست شفقت رکھنااور انہیں ظلم سے نکالنا ۞ ان کی رہائش،کپڑے ، غذا اور دوا کا بندوبست  کرنا

۞ ہرطرح سے ان کی معاونت و مدداور ان کی غم خواری کرنا ۞ ان کے لئےہمہ وقت  دعائیں کرنا

ہماری کوتاہیاں

ظاہری عیش و آرام اور فخر کے لئے بے جا خرچ کردیتے ہیں۔ گناہوں میں مال لُٹا دیتے ہیں۔ خوشی کے موقعوں پر بہت زیادہ فضول خرچی کرتے ہیں یہاں تک کہ غم کے موقعہ پر بھی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے مال ضائع کرتے ہیں۔جبکہ  دوسری طرف مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور مائیں ،بہنیں  مدد کے لئے پکار رہی ہیں،بچے چیخ رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ۔

خوش نصیب

۞ کسی کی مصیبت دور کرنے سے اللہ آپ کی مصیبت دور فرمائے گا (ابوداود)۔

۞ کسی کی مدد کرنے سے اللہ آپ کی مدد کرے گا (بخاری و مسلم) ۞ صدقہ رب کے غصہ کو مٹا دیتا ہے (ترمذی)

۞ لہٰذا مصیبت کی اس گھڑی میں اہلِ شام کی مدد کیجیے

بدنصیب :

وہ شخص مو من نہیں جو  اپناتو پیٹ بھر لے اوراُس کا  پڑوسی (neighbor)  بھوک و پیاس کے عالم میں  ہو (حاکم)

(تمام اہلِ ایمان ایک جسم کی مانند ہیں ،جیسے سم کے کسی ایک حصہ میں تکلیف ہو توجسم کے دیگر حصے بھی سکون محسوس نہیں کرتے (ویسے ہی ب ایک مسلم تکلیف میں ہو تو دیگر  مسلمان بھی تکلیف میں رہتے ہیں) اور وہ بد نصیب مسلم ہے جو اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا دُکھ محسوس نہ کرے)

ظالموں کی حقیقت:

دشمنانِ اسلام زہریلے اور چِتکَبرےسانپ ہیں ۔ ان سے  امن وسلامتی کی توقع  اور وعدہ نبھانے کی امید نہیں کی جاسکتی۔

مسلمانوں کے خلاف (تمام اہلِ کفر اور اُنکے معاونین )سب ایک ہوچکے ہیں۔

مظلوموں کے لئے دعائیں

یا اللہ! تمام مظلوم اہلِ شام کی  مدد فرما۔

ان کے مقتولین کو شھادت کادرجہ عطا فرما۔  زخمیوں کو شفا عطا فرما۔خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت فرما۔ الٰلہم آمین

ظالموں پر بددعائیں

یااللہ! تمام ظالموں کو نیست و نابودکردے۔ان کے لشکر کو انہی کے اسلحہ سےتباہ کردے۔  مجاہدوں کے ہاتھ   ان کی موت لکھدے۔  ان پر زلزلہ طاری فرما۔انہیں اپنے شدید عذاب میں مبتلا کردے۔ الٰلہم آمین

***

ندائےحرم مسجدِنبوی الشریف

" اھل ِشام کی دردمندانہ آہ وبُکا "

امامِ حرم ڈاکٹرصلاح البُدیرحفظہ اللہ

کادل دہلادینےوالےحقائق پرمشتمل خطبہ جمعہ کا "مکمل اردو ترجمہ"

 

مؤرخہ: 6 ربیع الأول 1434ھ ، بمطابق: 18جنوری 2013م

مترجم: شعیب اعظم مدنی حفظہ اللہ(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

امام حرم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر حفظہ اللہ نے خطبہ جمعہ اس موضوع پر دیا: ’’ اہلِ شام کی دردمندانہ آہ و بُکا‘‘۔

جس میں انہوں نے سوریا (شام ) سے ملک بدر ہوکر مختلف ممالک میں ٹھوکریں کھاتے اور پناہ تلاش کرتے ہوئےہمارے (مسلمان) بھائیوں کی حالتِ زار کا تذکرہ کیا۔اور جن مصائب کا وہ شکار ہیں جیسے: سردی،بھوک،بیماری وغیرہ ان کے بارے میں بھی گفتگو فرمائی۔اور جو مسلمان اللہ کی رضا کے لئے اپنے ان بھائیوں تک اخراجات بھیج کر انکی مدد کر سکتے ہیں انہیں اس کی ترغیب دلائی ہے۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو مظلوموں کی مدد کرنے والا ہے، اورسرکش ظالموں کو نیست و نابود کرنے والا ہے،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔

اوراُسی کا مبارک فرمان ہے:

وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ [القصص: 5]،

ترجمہ: پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بیحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں ۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور سچے امانت دار رسول ہیں۔اللہ ان پر اور ان کے صحابہ پر قیامت تک رہنے والی رحمتیں اور سلامتی بھیجے۔

أما بعد:

اے مسلمانو:

اللہ سے ڈرو؛ اللہ کا ڈر ہی سب سے بڑا مددگار ہے،اور سب سےزیادہ نبھانے والا حمایتی ہے،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے ، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

اہل شام پر ٹوٹتی ہوئی مصیبتیں

اے مسلمانو!

اس روئے زمین پر ٹھوکریں کھانے والے(مسلمان) ظلم و ستم کا شکار ہونے کی (واضح)تصویر ہیں ،سختیاں جھیلنے کی کھُلی کتاب ہیں،انہیں (اپنے گھروں اور ملکوں سے) نکال کر بھگادیا گیا، جنگی تباہی،لڑائیوں ، سختیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنےسے جان بچاکر بھاگتے ہوئے پناہ گاہوں کی تلاش میں در بدر پھررہے ہیں،

با عزت و کرم والے اور ظلم و ستم کا انکار کرنے والے ملکِ شام اور دیگر ممالک میں خیانت کرنے والے ظالموں کی طرف سے ظلم کی انتہاء، قتل، ہلاکت اور اچانک خوف و حراس پھیلانے والے جرائم کی وجہ سے (وہ لوگ) اپنے گھروں اور شہروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

ملک بدر اہل شام کی حالتِ زار:

ان کی حالت یہ ہوگئی کہ کھلے میدان میں رہ رہیں ہیں،نہ رہنے کے لئے ان کے پاس گھر ہیں،اور نہ ہی پہننے کو کپڑے، سوائے ایسے خیموں کے جنہیں ہواپھاڑ دے اور تیز ہوائیں اُکھاڑ پھینکیں اور سیلاب بہا لے جائیں۔سختی، تکلیف،خوف، ہلاکت اور موت کی بو سےغبار آلود اس وقت میں بھوک کی شدت ،سخت سردی اور موت کےخطروں سے بچنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کو دور فرمائے، اور ان کے دشمن کو نیست و نابود کرے۔

ہماری ذمہ داریاں

اے مسلمانو:

اگر طاقت ہو تو(مظلوموں کی) مدد ضروری ہے،تو آپ سب ان کے معاون،مددگار اور غم خوار بن جائیں۔(مظلوموں پر)خرچ کرنے والے اور دینے والے بنیں۔اور الگ رہنے والے،پیچھے ہٹنے والے اور دیر کرنے والوں میں شامل نہ ہوں۔

شفقت،صدقہ اور نیکی کرنے والے بنیں۔ان لوگوں میں سے نہ ہوجائیں جوسخاوت کو ناپسند کرتے ہیں اور (مظلوموں کی) پکار کو بوجھ سمجھتے ہیں اور (مظلوموں کی ) امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

ان کو امداد دیجئے اور ان کی معاونت کیجئے اور ان کی مدد کریں اور ان کو مال دار کردیں۔اور انہیں بے یار و مددگار نہ چھوڑیں اور انہیں رسوا نہ کیجئے۔

ہمیشہ کی خوش نصیبی:

ابو داود کی حدیث ہے:

عن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من نفَّسَ عن مُسلمٍ كُربةً من كُرَب الدنيا نفَّسَ الله عنه كُربةً من كُرَب يوم القيامة، ومن يسَّرَ على مُعسِرٍ يسَّرَ الله عليه في الدنيا والآخرة، ومن سترَ على مُسلمٍ ستَرَه الله في الدنيا والآخرة، واللهُ في عون العبدِ ما كان العبدُ في عون أخيهِ»؛ أخرجه أبو داود.

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان سےدنیا کی کسی ایک مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ اس سے قیامت کی ایک مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی فراہم کرے گا تو اللہ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی فراہم کرے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان (کے گناہ ) پر پردہ ڈالے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس(کے گناہوں) پر پردہ ڈال دے گا۔اور اللہ بندے کی مددمیں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے۔سنن ابو داود۔

بخاری و مسلم کی حدیث ہے:

وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من كان في حاجةِ أخيه كان الله في حاجته»؛ متفق عليه.

ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اپنے بھائی کی حاجت (کو پورا کرنے ) میں لگا ہوتا ہے اللہ اس کی حاجت (کو پورا کرنے) میں ہوتا ہے۔

خوشخبری:

اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ملک سے دربدر ہوکر پناہ تلاش کرنے والوں اور ٹھوکریں کھانے والوں کو (رہنے کے لئے ) رہائش، (پہننے کے لئے) کپڑے،(اوڑھنے کے لئے) چادر، غذا، دوا یا پانی پہنچا کر اللہ کی رضا کے لئے مدد کرے، کسی دنیاوی وقتی فائدے اور لالچ کی نیت نہ ہو۔

بدبخت انسان:

اس سے زیادہ سخت دل اور کنجوس (بخیل) کوئی نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو، اور وہ اپنے گھر میں رہے اور اس کا (مسلمان) بھائی در بدرپھررہا ہو۔

حدیث میں آتا ہے:

فعن ابن عباس - رضي الله عنها - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «ليس المُؤمنُ الذي يشبَعُ وجارُه جائعٌ إلى جنبه»؛ أخرجه الحاكمُ، وصحَّحه الذهبي.

ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

وہ شخص مو من نہیں جو پیٹ بھر لے اور پڑوس میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے اور امام ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔

ہماری کوتاہیاں

فضول خرچ کرنے والو!

اے لوگوں! تم نے کھیل کود،بے جا فخر(تکبر) ،فضول خرچی،فجور(گناہ کے کاموں) اور خوشیوں(یا غموں) کے موقعوں پر بہت سارا مال لُٹا دیا ہے! عزت و جلال والے اللہ سے ڈرو، اور اس کی ناراضگی واقع ہونے اور عافیت کے پلٹ کر چلے جانے سے بچو،اور ہوش میں آؤ تمہارے بھائی دشمن کے گھیرے میں پریشان ہیں،ہلاکت نے انہیں لپٹا ہوا ہے،ان کے (باعزت)بزرگ مدد مانگ رہے ہیں اور بچے چیخ رہے ہیں۔

تو انکی مدد کے لئے تیار ہوجائیں اور انکی غم کساری کے لئے مال خرچ کریں تاکہ ان کی مصیبت ختم ہو اور سختی دور ہو۔

جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عن أنسٍ - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «الصدقةُ تُطفِئُ غضبَ الرَّبِّ»؛ أخرجه الترمذي.

ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: صدقہ رب کے غصہ کو بجھا دیتا ہے۔ترمذی

جو میں کہہ رہا وہ آپ سن رہے ہیں ۔اور میں اللہ سےاپنے لئے اور آُ پ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ اور خطا کی مغفرت مانگتا ہوں۔اور آپ بھی اس سے مغفرت مانگیں،مغفرت مانگنے والے تو کامیاب ہوگئے اور توبہ کرنے والوں نے ہی فائدہ حاصل کیا۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے اس کی بھلائی پر، اور اسی کا شکر اسکی توفیق اور احسان پر،اور اللہ کی شان کی تعظیم کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو اس کی رضامندی کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔اللہ ان پر اور ان کے آل پر اور انکے صحابہ پر اور انکےبھائیوں پر بے شماررحمتیں اور بہت ہی زیادہ سلامتی نازل فرمائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ [التوبة: 119].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو ۔

ظالموں کی حقیقت:

اے مسلمانو:

پردہ ہٹ چکا ہے اور نقاب گِر چکا ہے،زہریلے سانپ باہمی معاہدہ کر چکے ہیں اور دشمن ایک ہوچکے ہیں۔اور چِتکَبرے(مختلف رنگ والے) سانپ سے سلامتی اور حل کی امید نہیں کی جاسکتی،اور خبیث مذھب والے کی خواہش(رجحان) بدبُو دار ہوتی ہے،اس کے پاس کوئی پناہ اور کسی وعدے کی پاسداری نہیں۔

اور جو خون بہانے والا قاتل ہے اسے تو اس کے ظلم کی سزا اور اس کے کئِے (ستم) کا بدلہ مل کر ہی رہے گا۔ اور آپ کا رب اس سے غافل نہیں جو ظالم کر رہے ہیں۔

ظالموں پر بد دعائیں:

اللہ اس کے ایک بال پر (ذرہ برابر) بھی رحم نہ کرے،اور نہ ہی اس کی کسی رگ کو چھوڑے،اور اس کو جلد ہی ہلاک کرے، اور اس کا کندھا (موت) مجاہدوں کے ہاتھوں دے،اور اسکی بادشاہت،اسکی جماعت اوراس کے لشکر کوٹکڑے ٹکڑے کردے۔اللہ کی مدد قریب ہے اور مشرکوں کی امیدیں خاک میں ملنے والی ہیں۔

نبی کریمﷺپر درود و سلام:

سب سے بہترین مخلوق پردرود و سلام بھیجیں؛ اور جو شخص نبی ﷺ پر ایک درود بھیجتا ہےتو اللہ اس پر اس (ایک درود )کے بدلے دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔

یا اللہ!

اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما،

یا اللہ!سنت نبوی پر عمل کرنے والے چاروں خلفاء ’’ابو بکر، عمر، عثمان، علی ‘‘ اور دیگر تمام صحابہ سے بھی راضی ہوجا۔اورجو لوگ ان کی پیروی کریں قیامت تک ان سے بھی راضی ہوجا۔اور ان کے ساتھ ساتھ اپنے احسان، کرم،سخاوت اور بھلائی سے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

تمام مسلمانوں اور خصوصاً اہل شام کے لئے دعائیں:

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔اور شرک اور مشرکوں کو رسوا کردے۔اور شام کے مجاہدوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! شام کے مجاہدوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! ان کے مقتولین کی شھادت قبول فرما ۔اے دعا کو ہر وقت سننےوالے! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! کمزوروں، مصیبت زدگان اور ٹھکرائے ہوئےلوگوں کا مددگار بن جا۔

ظالموں کے لئے بددعائیں:

یا اللہ! ان قاتلوں اور مجرموں کو (اپنے عذاب میں) پکڑلے۔

یا اللہ! یا رب العالمین! ان کو شکست دے اوران پر لرزہ طاری فرما۔ اور انہیں خطرناک طریقہ سے ہلا دے۔

اے اللہ! اےتمام جہانوں کے رب! ان(ظالموں ) کو انہی کے اسلحہ سےہلاک کردے۔اور انہی کی آگ میں انہیں جلا دے۔

اے طاقتور! اے غالب! اےتمام جہانوں کے رب! ان (ظالموں) کی گردنیں(موت) مجاہدوں کے ہاتھوں میں دیدے۔

برما کے لئےدعائیں:

اے اللہ! برمامیں ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہمارے بھائیوں کے لئے مددگار بن جا۔

اے اللہ! برمامیں ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہمارے بھائیوں کے لئے کافی ہوجا۔

یا اللہ! ان کے کمزوروں پر رحم فرما۔ یا اللہ! ان کے کمزوروں پر رحم فرما۔

اے اللہ! اے تمام جہانوں کے پروردگار! (آج) جس دن مددگار کم ہوگئے ہیں تو انکی مدد فرما۔

حرمین شریفین کے لئے دعائیں:

یا اللہ! یا رب العالمین! حرمین شریفین(دو عزت والے حرم: جہاں بہت سے جائز کام بھی ممنوع ہوتے ہیں ،خاص طور پر احرام کی حالت میں) کے ملک میں امن، فراخی، عزت و سکون ہمیشہ قائم فرما۔.

یا اللہ! ہمارے امام اور امیر خادم حرمین شریفین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے۔اور ان کی پیشانی پکڑ کر نیکی اور تقوی کی طرف لے جا۔

اے رب العالمین! انہیں صحت وعافیت کا لباس پہنادے۔ اور انکی اور انکے وزیر کی حفاظت فرما۔

اے تما م جہانوں کے رب! ان کے ذریعہ دین کو عزت عطا فرما۔

یا اللہ! یا رب العالمین! تمام مسلم ممالک میں امن و سکون اور کشادگی عطا فرما۔

اے اللہ! اے تما جہانوں کے رب! ہمارے مریضوں کو شفا عطا فرما۔اورآزمائش میں مبتلاء لوگوں کو سلامتی عطافرما۔اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما۔اور ہمارے قیدیوں کو رہائی نصیب فرما۔اور ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

[النحل: 90].

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو ۔

اور اللہ کا ذکر کرو جو عظمت وجلال والا ہے وہ تمہارا ذکر کرے گا۔اور اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید (نعمتوں سے) نوازے گا۔اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔

***

حمد و ثناء کے بعد

الوداع اے سال رفتہ ! خوش آمدید اے سال نو !

ہر سال کے آغاز پر اور نئے سال کا سورج روشن ہونے پر انفرادی و جماعتی سطح پر اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے تا کہ ماضی کا جائزہ لے کر اپنے حال کی اصلاح کی جا سکے اور صحیح منہج کے مطابق مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کی جا سکے تا کہ اغراض و مقاصد پورے ہوں اور مفادات کا حصول ممکن ہو ، ہما ری امت اسلامیہ جو کہ ان دنوں نئے سال کا استقبال کر رہی ہے اور سابقہ سال جو اپنے دامن میں بہت ہی بڑے بڑے حوادث و واقعات لے کررخصت ہو گیا ہے اسے الوداع کہہ رہی ہے اسے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور ان خطرات کا پامردی سے سامنا کرے جو اسے درپیش ہیں ۔

اسی طرح امت مسلمہ کو اس بات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ وہ صحیح موقف اختیار کرے، کامیاب علاج اور مفید تحفظ و پرہیز کو اپنائے اور یہ سب اصلاحی بنیادوں اور عملی طریقوں کے مطابق ہو جن کے قواعد اور اصول اس امت کے دین اسلام کے قواعد و ضوابط، اس کے عقیدہ کے ثوابت و امتیازات اور اس کے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و طریقہ کے عین مطابق ہوں ۔

بعض اہم امور و مواقف :

مسلمانو ! بعض اہم امور ایسے بھی ہیں جن پر اپنی توجہ کو مرکوز کرنا ضروری ہے جبکہ ہم اس سال نو کے آغاز میں ہی ہیں ۔ اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے لئے اور پوری امت مسلمہ کے لئے اس سال کو خیر و برکت کا سال بنا دے۔

شرک بتاں اور مجسموں سے اجتناب

از فضیلۃ الشیخ سعود الشریم حفظہ اللہ ’’ امام و خطیب مسجدِ حرام مکۃ المکرّمہ ‘‘ ۔

حمد و ثناء کے بعد !

پتھروں سے صنم تراشی و پرستی !

لوگو ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سے پہلے سابقہ زمانوں میں اور پہلے انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگ اس روئے زمین پر بڑی جاھلیت میں مبتلا تھے ۔ اس عہد تاریخ میں لوگوں کا تعلق روحانی دنیا اور نورالہی سے منقطع ھو چکا تھا یہی وجہ تھی کہ ان پر عقائد و قوانین اور نفس پرستی کے اندھیرے چھائے ھوئے تھے ایسے ظلمات اور اندھیرے کہ جن میں کوئ عقلمند بھی اتنی سی روشنی بھی نہیں پا رہا تھا کہ جس کی مدد سے وہ راہ ھدایت پر چل سکے یا ضلالت و گمراہی سے نجات پا سکے ، بلکہ وہ سخت گھٹاٹوپ اندھیرے تھے کہ تہ بہ تہ ایک دوسرے پر چڑھے ھوئے تھے ۔ ایسے اندھیرے کہ جن میں اس وقت کے لوگ زندگی کی راھوں پر ایک شتر بے مہار کی طرح چلے جا رہے تھے ۔ ایسے ظلمات و اندھیرے کہ انھوں نے ان لوگوں کی عقول کو اس حد تک پہونچا رکھا تھا کہ وہ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لئے معبود تراشتے اور پھر انکی عبادت کرنے کے لئے انکے سامنے سجدہ ریز ھو جاتے تھے حالانکہ انھیں اور ان ہاتھوں کے بنائے ھوئے معبودان باطلہ کا خالق صرف اللہ تعالی ہے جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق ہے مگر وہ اندھے بہرے ، گمراہ اور بدراہ ھو گئے ۔

پھر انکی یہ گمراہی و ضلالت اس حد تک گر گئ کہ انھوں نے پتھروں ، درختوں اور طرح طرح کے گھڑے ھوئے اور کھڑے یا پڑھے بتوں کو پوجنا شروع کردیا اور انکے سامنے جھکنے لگے ۔ انھیں اس روش پر لگانے والی چیز ان میں انسانیت کا فقدان و نایابی ، ان میں عقل و فکر کا قحط و افلاس اور ساتھ ہی انکی فطرت کی خود کشی تھی ۔ اب وہ انسان نہیں محض انسانی جسم و شکل کی ایک چیز بن کر رہ گئے تھے ۔ 

 

جدید خطبات

خطبات

  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    با اثر شخصیت کیسے بنیں؟
    بسم الله الرحمن الرحيم   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں جس نے انسان کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا، اسے قوت سماعت و بصارت سے نوازا، میں اسی کا شکر ادا کرتا ہوں اور اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں کہ اس نے سورج کو ذاتی روشنی دی اور چاند سے روشنی پھیلائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی نے مومنوں کو جنت میں جگہ دی اور کافروں کا ٹھکانا جہنم بنایا، میں یہ بھی  گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے  اور رسول  ہیں، آپ نے متبعین سنت کو نہروں والی جنتوں کی راہ دکھائی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور ان صحابہ کرام  پر رحمتیں  نازل فرمائے     ، جنہوں نے مؤثر ترین شخصیات بن کر دکھایا۔ حمد و صلاۃ کے بعد: میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم