بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 28 كانون2/يناير 2013 17:28

’’ اللہ سے عافیت(سلامتی)مانگیں ‘‘خلاصہ خطبہ جمعہ

مولف/مصنف/مقرر 

>> ندائے حرمِ مکی <<

’’ خلاصہ خطبہ جمعہ ‘‘ امامِ حرم ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشُریم حفظہ اللہ بعنوان:

’’ اللہ سے عافیت(سلامتی)طلب کریں ‘‘

مؤرخہ: ۶ ربیع الاوّل ۱۴۳۴ھ  بمطابق ۱۸ جنوری ۲۰۱۳م

مکمل خطبہ کے ترجمہ کے لیے یہاں کلک کریں

مترجم:  شعیب اعظم مدنی   (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

مراجعہ:  حافظ حماد چاؤلہ  (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

 

حمدُ  صلوۃ کے بعد !

عافیت کی اہمیت:

رسول اللہﷺ نے اللہ تعالی سے سب سے زیادہ عافیت  کی دعا کی ہے،  اور  لوگوں کو بھی  سب سے زیادہ  یہی  نصیحت کی ہے کہ وہ عافیت کی دعا کرتے رہیں۔

عافیت مانگنے کی وجہ:

ہم سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں، اور دنیا میں مصیبتیں اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، اور اللہ رب العالمین اپنے بندوں کو نعمتوں سے بھی نوازتا ہے۔ایک نعمت آنے سے پہلے دوسری نعمت سے انسان محروم ہوتا ہے، جہاں ایک بچہ کی پیدائش ہوتی ہے وہاں کوئی شخص فوت بھی ہوجاتا ہے، جہاں کوئی خوشی ملتی ہے وہاں غم بھی انسان کو آپہنچتا ہے۔ اسی لئے ضروری ہےکہ ہم اللہ سے عافیت کی دعا کرتے رہیں۔

 

 

عقلمند شخص کی خواہش:

ہر عقلمند شخص کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے   عافیت مل جائے اور  وہ  اس پر اللہ کا شکر کرے ، نہ کہ وہ  مصیبت میں مبتلا  ہو اور اس پر صبر کرے،

عافیت کی قدر:

عافیت کی اہمیت کا اندا زہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جودین یا دنیا کی کسی نعمت سے محروم ہو، اور عافیت کا لباس ہی دین اور دنیا کا سب سے خوبصورت لباس ہے۔

عافیت کی دعا:

((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ: فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَينِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي)).

( أبو داود، برقم 5074، وابن ماجه، برقم 3871، وانظر: صحيح ابن ماجه، 2/332 .)

ترجمہ: یا اللہ!میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کی دعا کرتا ہے، یا  اللہ ! میں اپنے دین، دنیا، اہل اور مال میں  تجھ سے معافی اور عافیت کی دعا کرتا ہوں،

اے اللہ!  بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں،اے اللہ ! بے شک میں اپنےدین،اور اپنی دنیا،اپنے اہل اور اپنے مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں،اے اللہ ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے،اور میری گھبراہٹوں میں امن دے،اے اللہ!  تومیری حفاظت فرما میرے سامنے سے،میرے پیچھے سے،میری دائیں طرف سے اور میری بائیں طرف سے،اور میرے اوپر سے،اور میں تیری عظمت کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں (اس بات سے ) کہ مجھے میرے نیچے سے ناگہاں ہلاک کیا جائے۔

مکمل  عافیت:

عافیت  کے لئے یہ ضروری ہے کہ دینی اور جسمانی  دونوں  میں  مکمل عافیت  ہو،  اگر کوئی شخص صرف  جسمانی عافیت چاہتا ہے تو ہدایت کے راستے سے بھٹک سکتا ہے، اور اگر کوئی شخص صرف  دین  میں عافیت مانگتا ہے  تو  وہ اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے کیونکہ  وہ تندرستی میں بہت سے نیک کام کرسکتا ہے، اور طاقتور (صحت مند) مومن اللہ تعالی کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ پسندیدہ ہے،

دین میں عافیت سے محرومی کی علامتیں:

۞ اللہ کی شریعت سے دوری، چاہے اس کا تعلق دین کے کسی بھی حکم سے ہو۔

۞ دین کی کسی بھی بات کا مذاق اُڑانا۔

۞ دین کی کسی بھی بات پر کسی دوسری بات کو  ترجیح دینا،یا بہتر سمجھنا۔

۞ شریعت سے لا علمی۔

۞ شبہ والے معاملات کو اپنا لینا۔

۞ (اللہ کے احکامات کو صرفِ نظر کرکے فقط) اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنا ۔

۞ معاملات کی اصلاح کی بجائے  فساد  برپا کرنا ۔ سنوارنے کی بجائے بگاڑ پیدا کرنا۔

۞ دین میں نئی باتیں داخل کرنا۔

دین کی سلامتی کا جذبہ:

دین کی سلامتی تو ہر حال میں ضروری ہے، کیونکہ جسمانی  نقصان سے صرف دنیا میں تکلیفیں آتی ہیں  اور اگر وہ پھر بھی صبر کرلے اور شریعت کی پابندی کرے تو  آخرت کی ہمیشہ کی زندگی بہتر بنا سکتا ہےمگر دین کے نقصان سے دنیا اور آخرت دونوں ہی تباہ ہوجاتے ہیں۔

اور صرف اپنی بھلائی کی فکر نہ ہو بلکہ لوگوں کو بھی دین کی نصیحت  کرنا ضروری ہے، وگرنہ ان کی برائی  پھیلتے ہوئے ہمارے گھر میں بھی آجائے گی اور اللہ تعالی بھی ناراض ہوگا۔

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

***

 

ملاحظہ کیا گیا 8342 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 15:58

جدید خطبات

خطبات

  • رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    رمضان! قرآن اور خود احتسابی کا مہینہ
    ﷽ تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کا نفع اور نقصان اِنہیں کرنے والے کو ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی ایسی نعمتیں جنہیں ہم جانتے ہیں یا نہیں ہر نعمت کے بدلے حمد و شکر اسی کے لیے ہے، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    رمضان! تمام عبادات کا سنگم
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے03(بمطابق رؤیت 02)-رمضان-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" رمضان؛ تمام عبادات کا سنگم" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان تعالی کی خاص رحمت ہے ، یہ مہینہ بڑی شان والا ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • بری مجلس میں شرکت
    بری مجلس میں شرکت
      پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔ مسلمانو! اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102] مسلمانو! نافرمانوں کی مجالس سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کے میدانوں سے دوری، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔  إِنَّ السَّلَامَةَ مِنْ لَيْلَى وَجَارَتِهَا أَنْ لَّا تَمُرَّ بِوَادٍ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    شعبان، رمضان کی تیاری کا مہینہ
    ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل قارئین کرام! ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارہ میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں ، درج ذیل طور میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضہ ہے ذکر کیا گیا ہے۔ ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں !   ۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)  ۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی اداء کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ) ۳۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • حقوق الوالدین
    حقوق الوالدین
    والدین کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کا فائدہ بھی انسان کو ہی ہوتا ہے اور اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مظلوم کو قیامت کے دن پورے حقوق مل جائیں گے، حقوق العباد میں عظیم ترین والدین کا حق ہے، والدین اپنی اولاد کیلیے جنت میں داخلے کا باعث ہوتے ہیں،پہلا خطبہ:۔ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جس نے اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے حقوق و واجبات کی تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، اور انکے لئے نیک اعمال پسندیدہ قرار دیتے ہوئے، گناہوں کو ناپسند قرار دیا، اور نیک لوگوں کیساتھ بھلائی کا وعدہ فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی اولاد اور جہادو دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ حمد…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم