بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 18 شباط/فبراير 2013 14:56

’’تجسس(جاسوسی کرنا، ٹوہ میں لگنا) اور اس کے سنگین نتائج‘‘ خلاصہ خطبہ حرم

مولف/مصنف/مقرر  امام حرم ڈاکٹر اسامہ خیاط، اردو: شعیب مدنی

بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم

 

 

ندائے حرم مسجدِ حرام(بیت اللہ شریف)

خلاصہ خطبہ جمعہ ،بعنوان:

’’تجسس(جاسوسی کرنا، ٹوہ میں لگنا) اور اس کے سنگین نتائج‘‘

امامِ حرم ڈاکٹراسامہ خیاط حفظہ اللہ

مؤرخہ : ۲۰ربیع الاوّل۱۴۳۴ھ بمطابق: ۸ فروری ۲۰۱۳م

مکمل خطبہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

اسلامی احکامات

اسلام نے ہر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے جس میں لوگوں کا دینی یا دنیاوی نقصان ہو۔/ انہی اعمال میں ایک اہم عمل" بُرا گمان کرنا" ہےجس سے اسلام نے منع  فرمایا ہے۔ / برا گمان  ہی تجسس یعنی سراغ لگانے کا سبب بنتا ہے۔/ اسلام نے ٹوہ  میں لگنے  اور عیب جوئی کرنے سے منع فرمایاہے۔/ تجسس کے ساتھ ساتھ غیبت سے بھی اللہ تعالٰی نے منع فرمایا ہے(الحجرات: 12(۔/ اسلام نے ظاہری اعمال کو ہی پرکھنے کا معیار بنایا ہے۔/ بغیر اجازت کسی کی بات سننا  دین میں منع ہے۔/ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم ہے(النور: 27(۔

اسلامی احکامات کے فوائد

برے گمان سے بچنے کے فوائد: انسان خود بھی گناہوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ بُرا گمان (خیال) کرناہی گناہ ہے(  حجرات: 12

تجسس سے دور رہنے کے فوائد: لوگوں کے رازوں کی حفاظت ۔/  عزتوں کی قدردانی۔/ گھر  کے رازوں کے ساتھ ساتھ پردے کی حفاظت۔

مکمل ایمان  کی نشانیاں

 

آپس میں بھائی چارہ کا قیام (الحجرات: 10)۔/   ایک دوسرے کی خیر خواہی کا جذبہ۔/   دوسروں کے لئے وہ ہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو(بخاری و مسلم)۔/  دوسرے مسلمان کو اپنے اوپر ترجیح دینا۔/  دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا۔/  دوسروں کے معاملات کی اصلاح کرنا۔/  دوسروں کے راز کی حفاظت کرنا۔/  صلہ رحمی کرنا۔/ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا وغیرہ۔ یہ سب کامل ایمان کی علامات ہیں۔

تجسس(جاسوسی وٹوہ میں لگنے)کے نقصانات اور اسکی قسمیں

راز کھل جاتے ہیں۔  / عیب ظاہر ہوجاتے ہیں۔/  لوگوں کے سامنے کسی کا عیب ذکر کرنے سےاس کی رُسوائی ہوتی ہے اور اس طرح زندگی بھی برباد ہوسکتی ہے۔/   اپنا بھی دین  اور دنیا تباہ ہوجاتی ہے۔/ اللہ اس انسان کے رازوں کو ظاہر کردیتا ہے جو دوسروں کے راز ڈھونڈتا ہے(ترمذی)۔/ باہمی اختلافات  جنم لیتے ہیں،(نفرت ودشمنیاں پیداہوتی ہیں)۔/  قطع تعلقی عام ہوجاتی ہے۔

باتیں سننے، عیب جوئی کرنے اور گھر میں جھانکنے  کی وعید

بغیر اجازت باتوں کو سننے والے کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا(بخاری)۔/  ایسے انسان سے اللہ بہت سخت  ناراض ہوتا ہے۔/

نبی علیہ السلام نے گھر میں جھانکنے والے کو آنکھ پھوڑ ے جانے کی وعیدسنائی(بخاری و مسلم)۔

عیب جوئی کرنےوالابہت بڑا فسادی ہے(ابو داود)۔/ عیب جوئی کرنا حیا ءسے عاری ہو جانے کی علامت ہے۔

برا گمان کرنے والے کی علامتیں

جوبرے گمان  اور وہم کو فروغ دیتا ہے۔/  اس کے لئے وہ ہر حربہ اختیار کرتا ہے۔/ ہر  فساد کاراستہ  اختیارہے۔/ میڈیا کے ذریعہ پھیلائی ہوئی غلط خبروں کا سہارا لیتا ہے۔/  جن جن طریقوں سے دوسرے کی عزت کو مجروح کیا جا سکتا ہے وہ سب اختیار کرتا ہے۔/ اپنی طرف سے جھوٹی باتیں بناکر پھیلاتا ہے۔/مسلمانوں پر طنز کرتا ہے۔/  دوسروں کا مذاق اڑانے کے لئے عجیب و غریب جملے اور تصویریں بناتا ہے۔

آخر میں امامِ حرم نے اسلام اور تمام مسلمانوں کے لئےخصوصاً شام، فلسطین اور برما کےمسلمانوں کے لئے   دعائیں کیں اوردشمنان اسلام پر بددعائیں کیں۔

***

 

ملاحظہ کیا گیا 3390 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 01 تشرين1/أكتوير 2013 16:35

جدید خطبات

خطبات

  • نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    نیکی پر استقامت اور ان کی حفاظت
    حمد و صلاۃ کے بعد: کتاب اللہ بہترین  کلام ہے، اور سیدنا محمد ﷺ  کا طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے، دین میں شامل کردہ خود ساختہ امور بد ترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ۔ اللہ کے بندو میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو  اسی کی نصیحت فرمائی ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131] مسلم اقوام! وقت کا تیزی سے گزرنا عظیم نصیحت ہے، دنوں کا آ کر چلے جانا بہت بڑی تنبیہ ہے، {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ} بیشک رات اور دن کے آنے جانے  میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں متقی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[يونس: 6] اللہ کے بندو! ہم نے چند دن پہلے  مبارک مہینے ،نیکیوں  اور برکتوں کی عظیم بہار کو الوداع کہا ہے،  یہ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات
    ﷽ فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ  نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف  ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے چنانچہ اس مہینے میں قیام اور صیام  کا اہتمام کر کے ہم اپنے سابقہ گناہ معاف کروا سکتے ہیں  اور دیگر نیکیاں بجا لا کر اپنے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کر سکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیکیاں کرنے کے بعد انہیں تحفظ دینا بھی انتہائی اہم کام ہے، بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپنی محنت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے والے ہی مفلس ہوتے ہیں جو کہ قیامت کے دن حقوق العباد کی پامالی کے صلے میں اپنی نیکیاں دوسروں میں تقسیم کروا بیٹھیں گے، لہذا اگر کسی سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو فوری معافی مانگ لیا کرے اسی میں نجات ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ روزے رکھتے ہوئے اصل ہدف یعنی حصول تقوی…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    عبادات کا مہینہ ماہ رمضان
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 30 -شعبان-1438  کا خطبہ جمعہ  بعنوان " عبادات کا مہینہ ماہ رمضان" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے  کہا کہ انسان نیکی کرے یا بدی اس کا نفع یا نقصان صرف انسان کو ہی ہوتا ہے وہ اپنی بدی سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، چنانچہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے خصوصی فضیلت بخشی  اور اس ماہ میں تمام تر عبادات یکجا فرما دیں ، اس مہینے میں نماز، روزہ، عمرے کی صورت میں حج اصغر، زکاۃ ، صدقات و خیرات اور دیگر نیکی کے کام سر انجام دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت میں خصوصی دروازہ ہے اور ہر نیکی کا بدلہ اس کی نوعیت کے مطابق دیا جائے گا بالکل اسی طرح گناہ کا بدلہ بھی اسی کے مطابق ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ: آپ ﷺ شعبان کے آخر میں رمضان کی خوشخبری دیتے تھے، نیز رمضان سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ   اور حقوق العباد کی ادائیگی استقبالِ رمضان میں شامل ہے، نیز روزے کے دوران جس قدر مختلف نیکیاں قیام، صیام، صدقہ، خیرات، غریبوں کی مدد، کسی کا ہاتھ بٹانا وغیرہ کی جائیں تو ان…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز
    بسم الله الرحمن الرحيم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 16-شعبان- 1438  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "شکر،،، نعمتوں کو دوام بخشنے کا راز" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  کہا کہ شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ اور دوام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق شکر گزاروں کو مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، انہوں نے کہا کہ نعمتوں کا صحیح استعمال  اور گناہوں سے دوری  دونوں کا نام شکر ہے، اگر اللہ کی نعمتوں پر تکبر اور گھمنڈ کیا جائے تو یہ صریح ناشکری ہے اور نعمتوں کے زائل ہونے کا پیش خیمہ ہے، کسی فاسق و فاجر کو نعمتیں حاصل ہوں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور اللہ تعالی ڈھیل کو اچانک ختم   فرماتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شرعی احکامات سے بچنے کیلیے حیلے بہانے تلاش کرنا فاسق لوگوں کا وتیرہ ہے، جبکہ مومن  کا اخلاق اس سے کہیں بلند ہوتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ قناعت پسندی شکر گزاری کا سبب بنتا ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی تقسیم پر راضی نہ ہو تو وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ کا شکار رہتا ہے،  آخر میں …
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں
    ﷽ پہلا خطبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں  کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں  گی میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی   دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی ،امت کی خیر خواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم