بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 29 نيسان/أبريل 2013 12:47

زلزلے (عبرت ونصیحت ،اسباب و علاج) مکمل ترجمہ خطبہ

مولف/مصنف/مقرر 

ندائے مسجدِحرام ،مکمل ترجمہ خطبہ جمعہ ،بعنوان:

زلزلے (عبرت ونصیحت ،اسباب و علاج)

امامِ حرم ڈاکٹرسعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ

مؤرخہ: ۹ جمادی الثانی۱۴۳۴ھ بمطابق: ۱۹اَپریل ۲۰۱۳م

ترجمہ: شعیب مدنی(فاضل اسلامک یونیورسٹی مدینہ منوّرہ)

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ (فاضل اسلامک یونیورسٹی مدینہ منوّرہ)

 

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹرسعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ نے جمعہ کا خطبہ اس موضوع پردیا

’’ زلزلے (عبرت و نصیحت ، اسباب و علاج‘‘

اس خطبہ میں انہوں نے زلزلوں کے بارے میں گفتگو فرمائی اور بتایا کہ یہ زلزلے  اللہ کی طرف سے ایک  نشانی ہیں،جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تنبیہ کرتا اور ڈراتا ہے، ان میں عقلمندوں کے لئےسمجھنے اور سنبھلنے کاموقع بھی ہے اور نافرمانوں اور بدکاروں کے لئے عذاب و سزو بھی،لہذا ہمیں ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنی چاہئے۔اور انہوں نے اس نظریہ کا بھی رد کیا جو ملحدین ، سیکولر اور بدمذھب لوگوں  نے اپنایا ہوا ہے کہ:  یہ محض ایک قدرتی آفت ہے جوکہ ہونی ہی تھی ،جس میں کوئی حکمت نہیں اور اس کا ہمارے اعمال سے کوئی تعلق نہیں۔

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سب کچھ جاننے والا اور بے انتہاء قدرت والا ہے۔

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ[الشورى: 11] ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں،وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

اس نے ہر چیز کو بہترین اندازے سے بنایا ہے، اس کے پاس ہر چیز کا علم ہے، اور ہر چیز کی تعداد بھی معلوم ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ [الأنعام: 103]

ترجمہ: اس (اللہ)کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی  اور وہ (اللہ )سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سو اکوئی معبود ِبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اور  میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں، اُس کے پسندیدہ اور دوست ہیں،اُس کے نزدیک سب سے محبوب ترین ہیں، جنہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا، امانت کاحق ادا کیا، امت کو نصیحت کی اور ہمیں ایسے روشن راستے پر چھوڑا جس کی رات بھی دن کی طرح (روشن) ہے، اس سے وہی شخص دور رہے گا جو ہلاک ہونے والا ہو۔

آپﷺ پر  اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں ، اور ان کے پاکیزہ اہلِ بیت پر بھی، اور ان کی ازواجِ مطھرات امہات المومنین پر بھی، اور تمام صحابہ و تابعین پر بھی، اور قیامت تک ان تمام لوگوں پر بھی جو اچھے انداز سے ان کی پیروی کریں گے۔

حمدو ثنا کے بعد!

ایمان کے بدلے نور  کی ضمانت

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔

یا أيها الّذین آمنوا اتقوا الله وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ  [الحديد: 28].

ترجمہ: اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (١) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حقیقتِ حال

اللہ کے بندو!

لوگوں کی زندگی میں اتار چڑہاؤ ہوتا رہتا ہے، کبھی خوف ہے تو کبھی امید، لین دین کے معاملات ہیں، کبھی طاقت اور کبھی کمزوری، ان تمام چیزوں کے باوجود یا تو وہ کسی خیر اور نعمت کی امیدیں رکھتے ہیں، یا کسی شر اور مصیبت سے ڈرتے ہیں۔ اور ان کی امید اور خوف کا تعلق ان کے دین، ان کی ذات، عقل، مال اور عزت سے ہے۔اور جہاں ایک طرف وہ  ہدایت کی امیدرکھتے ہیں  وہاں گمراہی کے خدشات بھی ہیں ، زندگی کی امیدوں کے ساتھ ساتھ نا حق موت کے خطرات بھی ہیں، اگر حقیقی و معنوی عقل کی سلامتی کی امیدیں ہیں تو اس کے خراب ہونے کا ڈر بھی ہے۔ اور  عزت اور مال کا بھی یہی حال ہے۔  اور وہ اللہ تعالی کے حکم سے ہونے والی مخلوق کے سلسلے میں بھی ذرخیزی و رحمت والی بارش کی امید تو رکھتے ہیں مگر تباہ و برباد کردینے والی بارش کے خدشات بھی دلوں میں ہوتے ہیں۔خوشخبری دینے والی ہواؤں کی تمنا تو ہے مگرعذاب والی ہواؤں  کا ڈر بھی ۔

عقلمند لوگوں کے لئے نصیحتیں

خبردار! وہ زلزلے ہی ہیں

اورخالق کی اس تقدیری مخلوق کی تدبیر  اور ان مختلف نشانیوں میں جو حکمتیں ہیں وہ صرف  عقلمند لوگ ہی جان سکتے ہیں جو احساس ، اللہ پر  ایمان اور اللہ کے (قرآن کریم میں بیان کردہ سابقہ اقوام سے متعلقہ ) دنوں کی یاددہانی جیسی  دولت سے مالا مال ہوں۔

اور اس سے پہلےبھی ایسے  واقعات  رونما ہوچکے  ہیں  جن کے ذریعہ اللہ کی نازل کردہ نشانیوں اور اس کے حکم سے ہونے والی چیزوں کی عبرت سےلوگوں  کی آنکھیں دنگ رہ جائیں، اور انہیں سچے نبی ﷺکی خبروں کی تصدیق  کے لمحات دوبارہ ذہن نشین ہوجائیں۔اور قرآن و سنت میں وارد شدہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی  : خبردار! زلزلے ہی ہیں۔

قرآنِ مجید میں زلزلےکا بیان

اور اللہ نے قرآنِ مجید میں قسماً فرمایا:

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (11) وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (12) إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (13) [الطارق:11-13]

ترجمہ: بارش والے آسمان کی قسم ۔اور پھٹنے والی زمین کی قسم ۔بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔

زلزلہ عذاب کی ایک صورت ہے

اور فرمایا: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا ... الآية [الأنعام: 65].

ترجمہ: آپ کہئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے  یا تو تمہارے پاؤں تلے سے  یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو (آپس میں )بھڑا دے ۔

اور مفسرین کی تفسیر کے مطابق  جو عذاب پیروں کے نیچے سے آتا ہے وہ   (زمین میں )  دھنس جانے یا زلزلہ آنے کا ہی عذاب  ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:   اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

«لا تقومُ الساعةُ حتى يُقبَضَ العلمُ، وتكثُر الزلازِلُ، ويتقارَب الزمانُ ..» الحديث.

ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم کو نہ اٹھالیا جائے،اور کثرت سے زلزلے نہ ہوں، اور زمانہ قریب نہ ہو۔

 

زلزلوں کے بارے میں  صحابہ کا ایمان بِالغیب

اللہ کے بندو!

زلزلہ نبی مکرّم ﷺ کے زمانے میں کبھی نہیں آیا، بلکہ صحابہ نے تو فقط اللہ کی کتاب اور نبیﷺ کی حدیث میں سنا اور اس پر ایمان لے آئے اور انہوں نےیہ  تصدیق بھی کی  کہ یہ زلزلے وغیرہ اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہیں جو وہ جن لوگوں پر چاہے بھیج دے۔اور ہمارے زمانے میں کثرت سے ان نشانیوں کا واقع ہونا نبیﷺکی حدیث کا ایک غیبی اور علمی معجزہ ہےکیونکہ انہوں نے حدیث میں یہ بتایا ہے کہ یہ چیزیں آخری زمانوں میں بکثرت ہوں گی۔

اور اللہ تعالی نے پھٹنے والی زمین کی قسم کھائی ہے، یہ’’پھٹنے والی زمین  ‘‘کی بات چودہ صدیوں تک معلوم نہ سکی یہاں تک کہ جیولوجی نے پچھلی صدی میں اس بات کا انکشاف کیا، اور اصحابِ علم نےزیرِ زمین ایک میدان(ہموار اور ذرخیز)ایسا تلاش کیا  جہاں یہ پھٹنے والی کیفیت رونما ہوتی ہے  اور وہی  دنیا میں اکثر  زلزلوں کا مرکز ہے۔

اوردنیا میں  اکثر زلزلے  اسی صدع  (پھٹنے والی جگہ) واقع ہوتے ہیں۔تو اس سے معلوم یہ ہوا کہ یہ اللہ نے  پھٹنے والی زمین کی قسم کھاکر جو بات بیان فرمائی  وہ (دینِ اسلام ، قرآن کریم اور پیغمبرِ اسلامﷺکی حقانیت کے ثبوت کے لئے)ایک معجزہ ہے،تاکہ ملحد (منحرف و بے دین قسم کے )لوگ اپنے طریقوں سے اس کا انکشاف کریں  حالانکہ  اللہ  اور رسول ﷺ نے تو چودہ سو سال پہلےہی قرآن کریم میں اس کاذکر فرمادیا، اسی لئےیہ بھی سمجھ لینا چاہئےکہ  نبی ﷺکی بات بھی اللہ  ہی کی وحی ہے،غیب کی جو باتیں نبی علیہ السلام نے بیان کیں وہ وحی الہی  کے ذریعہ بیان فرمائیں ہیں نہ کہ اپنی طرف سے۔

فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ  [الأعراف: 158].

ترجمہ: سو اللہ تعالٰی پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی اُمی پر جو کہ اللہ تعالٰی پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ ۔

اسلام میں سب سے پہلا زلزلہ خلیفہ ثانی امیر المؤمنین سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں دیکھا گیا؛  اور سیدہ صفیہ بنت ابی عبید نیان کرتی ہیں کہ:

زُلزِلَت الأرضُ على عهد عُمر حتى اصطفَقَت السُّرُر، فخطبَ عُمرُ الناسَ فقال: "أحدَثتُم، لقد عجَّلتُم، لئن عادَت لأخرُجنَّ من بين أظهُركم". وفي روايةٍ قال: "ما كانت هذه الزلزلةُ إلا عند شيءٍ أحدَثتُموه، والذي نفسِي بيدِه؛ إن عادَت لا أُساكِنُكم فيها أبدًا"؛ رواه ابن أبي شيبة.

ترجمہ: سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے دور میں  اتنا شدید زلزلہ آیا کہ پلنگ آپس میں ٹکرا گئے ،توسیدناعمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئےارشاد فرمایا: تم نے نئے نئےکام ایجاد کئے، یقیناً تم نے بہت جلدی کی۔اور اگر وہ چیزیں دوبارہ آگئیں تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا۔اور ایک روایت میں ہے: یہ زلزلہ تو جبھی آتا ہے جب تم  لوگ (دین میں) کوئی نئی چیز ایجاد کرتے ہو،اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں کبھی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا(مصنف ابنِ ابی شیبہ)۔(یعنی بد عقیدگی ، بدعت و بد اعمالی زلزلوں کا بنیادی سبب ہیں)

اللہ کے بندو!

یقینا زلزلے اللہ کی طرف سے نازل شدہ نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں، جنہیں وہ ایک عظیم حکمت کے تحت زمین میں برپا کرتا ہے، اور شروع سے آخر تک ہمیشہ اسی کا حکم چلتا ہے،اور جو (چیز)چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی کرتا  ہے۔اور وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے، اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے، بلکہ ہر چیز سے زیادہ وسیع ہے۔لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کے ثواب پر ہی اعتماد کیا جائے اور سزا سے غافل ہوجائیں، اور نہ ہی اس کی رحمت پر (سب کچھ) چھاڑ دیا جائے اور اس کے غصے سے لا علمی اختیار کی جائے، اور نہ ہی  اس کی معافی کی امید رکھتے ہوئے ناپسندیدہ کام کئے جائیں۔

أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97) أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ  [الأعراف: 97- 99].

ترجمہ: کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ نیند کی حالت میں  ہوں۔ کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔کیا ان بستیوں کے رہنے والےاللہ کی تدبیر  سے بےفکر ہوگئے ہیں ، پس اللہ کی  تدبیر سے ایسی قوم ہی بے فکر رہتی ہےجو نقصان اٹھانے والی ہو۔

سینا حسن بصری تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"المؤمنُ يعملُ بالطاعات وهو مُشفقٌ وجِلٌ، والفاجِرُ يعمل بالمعاصِي وهو آمِن". وهذا هو الذي يأمَنُ مكرَ الله - عباد الله -.

ترجمہ: مومن فرماں برداری والے اعمال کرتا ہےاور وہ (اعمال کے ضائع وبرباد  ہونے سے) ڈر بھی رہا ہوتا ہے،  جبکہ فاجرکو گناہ کرکے بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا۔اور یہی وہ (فاجر) ہےکہ جو اللہ کی تدبیر سے بے خوف رہتا ہے۔

ائمہ کرام نے ذکر کیا ہے کہ  زلزلہ اللہ تبارک وتعالی کی اُن نشانیوں میں سے ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو (اپنی پکڑ، عذاب  اور سزا و غضب سے ) ڈراتا ہے، جیساکہ  کسوف (اورسورج گرھن وغیرہ)وغیرہ،  تاکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ حیوانات، نباتات، مال و متاع اور مسکن کے لئے زمین کا ٹھہراؤ اورسکونت بہت بڑی نعمت ہے۔

اور دھنسنے، زلزلے اور خلل میں یہ حکمت ہے کہ یہ آزمائش، امتحان، سزا یا ڈرانے کے طور پر ہے جیسا کہ قوم ِثمود پر زلزلہ طاری ہوا اور قارون کو (زمین میں) دھنسا دیا گیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"لما كان هَبُوبُ الرياح الشديدة يُوجِبُ التخويفَ المُفضِي إلى الخُشوع والإنابَة كانت الزلزلةُ ونحوُها من الآيات أولَى بذلك، لا سيَّما وقد نصَّ الخبرُ أن كثرةَ الزلازلِ من أشراط الساعة".

ترجمہ: جب تیز ہوائیں اللہ کا خوف دلانے کے لئے  چلائی جاتی ہیں  جس سے خشوع اور اللہ کی طرف رجوع کی  صورت  پیدا ہوتی ہے تو زلزلے جیسی خوفناک نشانیوں کا مقصد یہ نکلتا ہے کہ یہ  اس سے بھی زیادہ خوف دلانے کے لئے ہے، خاص طور پر جبکہ نصوص ِ شرعیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زلزلوں کی کثرت قیامت کی نشانی ہے۔

زلزلے کے بارے میں اہم  اقوال

جلیل القدر صحابی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ میں زمین میں زلزلہ آیا تو انہوں نے یہ اعلان کیا:

"أيها الناس! إن ربَّكم يستعتِبُكم فأعتِبُوه"؛ أي: فاقبَلُوا عتبَه، "وتوبوا إليه قبل ألا يُبالِيَ في أي وادٍ هلكتُم".

ترجمہ: اے لوگو!  یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوچکا ہے اور اپنی رضا مندی چاہتا ہے تو تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کرو، وگرنہ اسے یہ پرواہ نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔

اور شام میں زلزلے کے موقع پر سیدنا عمر  بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں یہ لکھ کر بھیجا :

وكتبَ عُمرُ بن عبد العزيز في زلزلةٍ كانت بالشَّام أن: "اخرُجوا، ومن استطاعَ منكم أن يُخرِجَ صدقةً فليفعَل؛ فإن الله تعالى يقول:

ترجمہ: کہ نکل جاؤ، اور جو شخص صدقہ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى  [الأعلى: 14، 15]". بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا ۔ اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔

اللہ کے بندو!

اسی لئے اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ زلزلوں سے عبرت حاصل کی جائے اور مسلمان انسان کو اس بات کا حکم ہے کہ وہ بھلائی کے ایسے ظاہری اسباب اختیار کرےجن کی بدولت اللہ تعالی خیر عطا فرمائے، اور ان ظاہری برے اعمال کو چھوڑدے جن  کے چھوڑنے کی وجہ سے اللہ تعالی شر کو  بھی دور کردے۔

مصیبت  کو دور کرنے  کے اسباب

مصیبت کو دور کرنے کے چند اسباب  یہ ہیں:

توبہ  و استغفار، صدقہ اور بعض اہلِ علم کے نزدیک (ایسے موقع پر )جماعت کے علاوہ (اکیلے، انفرادی) نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے۔بیہقی میں صحیح سند سے یہ ثابت ہے:

"صلَّى ابنُ عباسٍ - رضي الله عنهما - للزلزلةِ بالبصرة"؛ رواه البيهقي بسندٍ صحيحٍ.

ترجمہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بصرہ میں زلزلہ (نہ ہونے یا رُکنے ) کی نماز پڑھی۔

زلزلوں کے بارے میں نبی ﷺ کی پیشین گوئی

اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

«أمتِي هذه أمةٌ مرحومةٌ،ليس عليها عذابٌ في الآخرة،عذابُها في الدنيا الفتنُ والزلازلُ والقتلُ» رواه أحمد وأبو داود بسندٍ حسنٍ.

ترجمہ: میری اس امت پر(اللہ کی طرف سے)رحم کیا گیا ہے،کہ اُس پر آخرت کی بجائے دنیا میں ہی عذاب نازل کیا گیاجوفتنوں، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہے۔ یہ حدیث مسند احمد اور ابوداود میں حسن درجہ کی سند کے ساتھ ہے۔

مذکورہ حدیث  کا(یہ مطلب نہیں کہ آخرت میں اُمت کے مجرموں کو سزا و عذاب ہوگا ہی نہیں بلکہ ) مقصد یہ ہے کہ: آخرت میں  اجتماعی شکل میں پوری امت پر ایک ساتھ عذاب نہیں ہوگا،بلکہ افراد کو عذاب ہوگا۔

اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے چند نصیحتیں

اللہ کے بندو! خبردار!

اللہ سے ڈرو، اور اس کی رحمت اور معافی تلاش کرو، اور اس کے غصے سے بچو؛ کیونکہ وہ ڈھیل تو دیتا ہے مگر چھوڑتا نہیں ہے، اور ظالم کو مہلت دینے کے بعد جب وہ پکڑتا ہے توپھر بھاگنے کا موقعہ نہیں دیتا۔ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ  [هود: 117].

ترجمہ: آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں۔

نفس  اور معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کو تھام لو، کیونکہ اللہ تعالی نے اس بستی کو ہلاکت سے بچانے کا اعلان کیا جہاں سچی اور اللہ کے ڈر والی اصلاح ہو، اور نصیحت کو رد کردینا  اور اصلاح کو چھوڑدینا ہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ قارون کو دھنسانے سے پہلے یہ کہا گیا تھا:

لَا تَفْرَحْ ۔۔ [القصص: 76] ترجمہ: اِتر ا مت ۔۔۔

مگر اس نے تکبر کیا(اور نصیحت کو نہ مانا)، اور قوم ثمود پر زلزلہ اس لئے آیا کہ انہوں نے نصیحت سے کراہیت ( ناپسندیدگی) کا اظہار کیا۔

اور اللہ تعالی نے تو امتوں کو اپنی اس بات سے ڈرایا:

وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ  [هود: 102، 103].

ترجمہ: تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دردناک اور نہایت  سخت ہے۔ یقیناً اس میں (١) ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ، وہ دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے ۔

اللہ مجھے  اور آپ سب کو کتاب و سنت کی برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قرآنی آیات، نصیحتوں اور حکمتوں کے ذریعہ نفع پہنچائے، میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ  سے اپنے لئے ، آپ سب کے لئے اور تمام مسلمان مرد و خواتین کے لئےہر گناہ اور خطا کی مغفرت مانگتا ہوں، آپ لوگ بھی اسی سے مغفرت مانگیں اور اسی کی طرف رجوع کریں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میرا رب بہت بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کی بھلائیوں پر اسی کی تعریفیں ہیں، اور اس کی توفیق اور احسانات پر اسی کا شکر ہے۔

حمد وثنا کے بعد:

اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہےکہ :

۱ـ امتوں  میں سے کچھ کو جنگ  و قتال کے ذریعہ ڈرایا جائے،      ۲ـ کچھ کوقلتِ امن کے ذریعہ،  ۳ـ کچھ کو مال، جان اور پھل کی کمی کے ذریعہ،       ۴ـ اور کچھ کومختلف فتنوں اور زلزلوں  وغیرہ کے ذریعہ۔ (تاکہ وہ اپنے اعمال درست کرلیں ، اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور نافرمانی ، بد کاری، فتنہ و فساد اور ظلم و زیادتی  کے اندھیروں سے نکل کر اطاعت ،نیکی، عدل و انصاف کی روشنی کا راستہ اختیار کریں۔)

اللہ کے خوف  کا نتیجہ

اللہ کے بندو!   اس کا نتیجہ یہ ہے:

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ  [البقرة: 155- 157].

ترجمہ: اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

اور  یہاں اللہ نے  یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ جسے ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اسے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ ہوش میں آتا ہے اور توبہ کرتا ہے، اور اس طرح ہدایت کے راستے کو اپنا لیتا ہے۔ اور اس  خوف دلانے سے کوئی زمانہ یا جگہ خالی  نہیں، یہاں تک کہ نبی علیہ السلام کا زمانہ  سب سے بہترین ہے اس کے باوجود بھی سورج  کو کسوف (روشنی کم ہوجانا) ہوا، اور نبی علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ اس کے ذریعہ اللہ - سبحانه وتعالى - اپنے بندوں کو ڈراتا رہا ہے۔

خبردار!

یقینا سوچ میں خلل، علم  اور اللہ پر ایمان کی کمی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ زلزلوں کا سبب یہ بتایا جائے کہ اس میں محض ایک جیولوجی اور قدرت کا عمل  دخل ہے، اور اس کی کوئی  حکمت اور نتیجہ نہیں،یا اس کا ایمانیات اور اللہ کے خوف سے کوئی تعلق نہیں۔

اس انسان کو چھوڑ دیجئے  جو ہر اس شخص کا مذاق اڑاتا ہے جو اللہ کی آیات اور اس کے حکم سے ہونے والے معاملات کی یاد دیہانی کراتا ہے۔

اور کونسی فہم (سمجھ )  اللہ کی ہدایت کے زیادہ قریب ہے ، اسے جاننے کے لئےصحیح بخاری کی یہ حدیث ہے:

" عن زيد بن خالد الجُهنيِّ أن النبي - صلى الله عليه وسلم - صلَّى بأصحابِه صلاةَ الصُّبْح بالحُديبية على أثر سماءٍ كانت من الليل - أي: مُمطِرة -، ثم قال: «أتدرُون ماذا قال ربُّكم؟ قال: أصبَح من عبادِي مؤمنٌ بي وكافرٌ؛ فأما من قال: مُطِرنا بفضل الله ورحمته فذلك مُؤمنٌ بي، كافرٌ بالكوكَب، وأما من قال: مُطِرنا بنَوْءِ كذا ونَوْءِ كذا فذلك كافرٌ بي، مُؤمنٌ بالكوكَب».

ترجمہ: زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ  روایت بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نےحدیبیہ میں رات کو بارش ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھائی،پھرآپﷺ نےفرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے  رب نے کیا فرمایا؟، فرمایا: کہ صبح کے وقت میرے بندوں میں سے کچھ لوگ مومن ہوگئے اور کچھ کافر، تو جس نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل اور رحمت سے  ہوئی تو وہ  مجھ پر ایمان لایا اور ستارے کا انکار کیا، اور جس نے یہ کہا کہ یہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی تو اس نے میرا انکار (کفر) کیا اور ستارے پر ایمان لایا۔

اور جب اس بارش کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے جوکہ اللہ کی حکمیہ  سنت ہے جس کی وجہ سے نمازِ  استسقاءکو رکھا گیا حالانکہ اس کا ظاہری سبب بھی معلوم ہے، اس کے باوجود کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جومحض مادی تفسیر کے دائرے میں اسے محصور (بند) کردیتے ہیں، اور ان کی عقل میں یہ بات نہیں بیٹھتی کہ اس میں عبرت، ثواب، سزا اور آزمائش کا بھی پہلو ہے۔

اللہ کے بندو!

تعجب کی کوئی بات نہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (96) وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ  [يونس: 96، 97]

ترجمہ: یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ۔

دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے:

وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا  [الإسراء: 59].

ترجمہ: ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔

درود و سلام

اللہ آپ سب پر رحم فرمائے!

سب سے افضل مخلوق اور پاکیزہ انسان، صاحبِ حوض و شفاعت:(ہمارے نبی )سیدنا محمد بن عبد اللہﷺپر درود بھیجیں؛ اللہ نےاس کا حکم قرآن مجید میں دیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا  [الأحزاب: 56]. ترجمہ: اے ایمان والو!  ان پر درود و سلام بھیجتے رہو۔

یا اللہ! اپنے نبی، بندے اور رسول محمدﷺ پر زیادہ سے زیادہ رحمتیں اورسلامتیاں نازل فرما۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم   کے لئے دعاءئیں

یا اللہ!    اے تمام جہانوں کے رب! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان اللہ علیھم اجمعین سے راضی ہوجا اور تمام صحابہ ، تابعین اور ان لوگوں سے بھی راضی ہوجا جو قیامت تک ان ( نبی علیہ السلام اورانکے صحابہ ) کی پیروی کریں گے۔اور اپنے رحم و کرم سے ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا۔

 

مسلمانوں کے لئے دعاءئیں

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔  یا اللہ!  اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اور  شرک اور مشرکوں کو رسوا کردے۔

یا اللہ! اپنے دین، قرآن، نبیﷺ کی سنت اور مومن  بندوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! غمزدہ مسلمانوں کے غم کو ختم فرمادے، پریشان حال لوگوں کی پریشانی  دور فرما، قرض داروں کو قرضے سے نجات عطا فرما۔

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے  ہمارے مریضوں سمیت تمام مریض مسلمانوں کو شفا عطا فرما۔

مظلوم مسلمانوں کے لئے دعاءئیں

یا اللہ! ہر جگہ ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اپنے اور ان کے دشمن کے خلاف ان کی مدد فرما۔

یا اللہ! ظالموں اور سرکشی کرنے والوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔

یا اللہ!  اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اے عزت و جلال والے! ان کی نصرت اور فتح کا فیصلہ جلد ہی  فرمادے۔

یا اللہ! اپنے اور مسلمانوں   کے دشمنوں کے مقابلے میں برما، فلسطین اور شام میں ہمارے مسلمان بھائیوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! ان کے دشمنوں کا سر نیچا کردے، اور ان کے مکر سے انہی کو ہلاک کردے۔

یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب!  اے عزت و جلال والی ذات! تمام مسلم ممالک  سے اور خصوصاسعودی عرب سے مہنگائی، بیماری، سود، زلزلے ،  مصیبتیں  اور ظاہری و باطنی فتنے دور فرمادے۔

یا اللہ !  اے تمام جہانوں کے رب! ہمارے وطنوں میں ہماری حفاظت فرما، اور ہمارے ائمہ اور حکام کی اصلاح فرما، اور متقی و  پرہیزگار اور رضائے الٰہی کو حاصل کرنے والے  لوگوں کو ہمارا حاکم بنانا۔

یا اللہ! یا حي یا قیوم! ہمارے امیر کو ہر اس قول و عمل کی توفیق دے جس سے خوش اور راضی ہوتا ہے۔

یا اللہ! اے عزت و جلال والی ذات! اس کی مجلس شوری کی اصلاح فرمادے۔

بارش کی دعاءئیں

یا اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے اور ہم سب فقیر(تیرے محتاج) ہیں، ہم پر بارش برسادے اور ہمیں ناامید نہ کرنا۔

یا اللہ! ہم پر بارش برسادے اور ہمیں ناامید نہ کرنا۔ یا اللہ! ہم پر بارش برسادے اور ہمیں ناامید نہ کرنا۔

یا اللہ!  یا ذا الجلال والإکرام! ہم تیری  ہی مخلوق ہیں، ہمارے گناہوں کی وجہ سے اپنے فضل کو نہ روک لینا۔

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  [البقرة: 201].

ترجمہ: اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے  اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔

ہمارا رب نہایت پاکیزہ ہے ہر اس عیب سے جو لوگ بیان کرتے ہیں، وہ عزت والا رب ہے، اور رسولوں پر سلامتی ہو، اور ہماری آخری بات یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے۔

***

 

ملاحظہ کیا گیا 6242 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 14:56

جدید خطبات

خطبات

  • سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ہمارے حالات
    پہلا خطبہ یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد   طلب کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں ، اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد  -ﷺ-اللہ بندے اور اس کے رسول  ہیں ، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی  اور امت کی مکمل خیر خواہی فرمائی، نیز  راہِ حق میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، سب سے افضل ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور  بدعات ہیں اور ہر بدعت…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    کرپشن اور بد عنوانی کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری
    ﷽   پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات
    ﷽ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے17-ذوالحجہ-1438  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"نیکیاں قبول یا مسترد ہونے کی علامات اور ہدایات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے سعادت حج پانے والوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت کی قبولیت کیلیے جد و جہد از بس ضروری ہے، چنانچہ عدم ایمان کے باعث کافر اور منافق کا کوئی بھی عمل  آخرت میں فائدہ نہیں دے گا البتہ انہیں دنیا میں پورا بدلہ دے دیا جائے گا،  عمل کی قبولیت کیلیے اخلاص اور اتباعِ سنت  لازمی امور ہیں،  اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا مقصود  اور مطلوب صرف رضائے الہی ہو ، جس کیلیے نیت  بنیادی کردار کی حامل ہے؛ کیونکہ نیت کی وجہ سے چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تقوی، تسلسل کے ساتھ نیکیاں، نیکی کیلیے دلی رغبت، نیکی پر ثابت قدمی اور انسانی اعضا کا صحیح سلامت رہنا نیکی قبول ہونے کی علامات میں سے ہیں،  اگر انسان کو عبدیت کی حقیقی معرفت مل جائے تو اسے اپنی ساری زندگی کی عبادات بھی ہیچ نظر آئیں اسی لیے تو…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت
    پہلا خطبہ: یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈور، خلوت اور جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان  اور نگران سمجھو۔ مسلمانو! اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم
  • ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟
    ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟۔ پہلا خطبہ تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کیلیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اسی میں سعادت مندی اور خوشحالی پنہاں ہے۔ اللہ کے بندو! ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کیلیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کیلیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب…
    في خطبات: مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم