بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الجمعة, 09 آذار/مارس 2012 04:40

اسلام کی کمالیت پر دشمن کی ضرب کاری،فتنۂ انکارِ حدیث!

مولف/مصنف/مقرر  حافظ محمد سفیان سیف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

برادرانِ اسلام!دین ِاسلام اس وقت بہت سے بڑے بڑے فتنوں کی زد میں ہے۔ہر چہارجانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔چونکہ اسلام ہی پوری دنیا میں وہ واحد مذہب ہے جو اپنی کمالیت اور جامعیت کے سبب انتہائی تیزی سے پھیلتاجارہا ہے ۔ اسلام کی یہی حقانیت وصداقت اسلام دشمنوں کی نگاہ میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔اور وہ اسلام کو مٹانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل بے دریغ صرف کررہے ہیں۔

مگربراہ راست دین ِاسلام اور مسلمانوںکو نشانہ بنانابڑا مشکل ہے ۔اس لئے اپنی اسی خفت کو مٹانے کیلئے دشمنانِ اسلام نے مسلمانوںمیں مختلف فتنوں کی پشت پناہی کا رویہ اختیارکررکھا ہے۔اسلام کی تاریخ شاہد ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو جن جن فتنوں کا بھی سامنا رہاان کے پس پردہ انہی طاغوتی قوتوں کا ہاتھ تھا۔اللہ کے آخری پیغمبر جناب ِمحمدرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بھی اُس دور کی کافر طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کیلئے بھرپور سازشیں کیں،لیکن جب ان سازشوں میںکامیاب نہ ہوسکے تو انہوں نے مسلمانوں میں منافقین کا ایک گروہ تیار کیا۔ جو بظاہر اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا تھا مگر درحقیقت دشمنانِ اسلام ‘ یہودونصاریٰ اور مشرکین کا ہمنوا اور آ لۂ کار تھا۔اس کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔جس طرح ماہ وسال بیتتے رہے‘ کفار ومشرکین کے سرِخیل بھی تبدیل ہوتے رہے اوران سے متأثرنام نہاد مسلمان بھی پیدا ہوتے رہے… شطرنج وہی رہا شاطر بدلتے رہے … بالکل اسی طرح ان کی سازشوں میں بھی تغیر آتارہا۔

اورفی زمانہ فتنۂ قادیان کے بعد سب سے بڑا فتنہ اور جس کا تمام مسلمانوں کو سامنا ہے وہ ’’انکارِ حدیث ‘‘ کا فتنہ ہے۔اورسابقہ فتنوں کی طرح بہت سے مسلمان محض اپنی جہالت اور دین سے لاعلمی کی بناپر کثیر تعداد میں اس فتنۂ کبریٰ کا بھی شکار ہوتے جارہے ہیں،جوکہ فی الواقع انتہائی افسوسناک اور باعثِ   فکر اَمر ہے۔مسلمانوں کو ہر دور میں جس چیز نے سب سے زیادہ فتنوں اور سازشوں کا شکار بنایا ہے وہ ان کی دین سے دوری اور بے راہ روی ہے۔ اس لئے حصولِ علمِ دین  یعنی قرانِ کریم اور احادیث ِصحیحہ کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

مگریہاںاس تازہ فتنے سے ان دشمنانِ اسلام کا جواصل مقصد ہے اس پر بات کرنا زیادہ مناسب ہے۔

انکارِ حدیث کے اصل محرکات

اس سازش اور فتنہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے دلوں سے ان کے آقائے نامدار،پیشوا و مقتدیٰ ، شافع ِروزِ محشر ،خاتم النبییّن جنابِ عزت مآب ،محمد ِمصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم  (ہم سب کے ماں باپ ان پر قربان) کی محبت والفت کو نکال کر اس کی جگہ اپنے کافرانہ ومشرکانہ عقائد ونظریات اورغلیظ اور ٹھکرائی ہوئی تہذیب وتمدن کی محبت بیٹھائی جائے۔

اس لئے کہ تمام کائنات میں ایک ہی ایسی ہستی ہیں جن کی اتباع واقتدیٰ پرتمام مسلمان متفق و متحدہیں۔مسلمان خواہ کہیںکے رہنے والے ہوں،کسی بھی ملک کے بسنے والے ہوں۔لیکن ان کا دل اپنے محبوب رسول ونبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت ِجاؤدانی سے لبریزہوتا ہے۔اور نہ صرف یہ ،بلکہ وہ ا پنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات پر عمل کرنااور ان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلنا اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تصور کرتے ہیں۔اور اگر کوئی کافر یا نام نہاد مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یاان سے وابستہ کسی بھی قول وفعل کا مذاق اڑانے اور شان میں گستاخی کی جسارت کرتاہے تو بلاتفریق رنگ ونسل‘پوری دنیا کے مسلمان اس کے خلاف متحد ہوجاتے اور اس سے بدلہ لینا اپنی زندگی کا نصب العین بنالیتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ اپنے نبی جناب ِمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے تحاشہ محبت کرتے ہیں،حتیٰ کہ اپنی جان ومال اور آل واولاد کو ان کی ناموس کی حفاظت کیلئے قربان کرنا اپنے لئے باعث ِفخر محسوس کرتے ہیں۔

جس کی زندہ مثال ماضی قریب میں کفار اوراور یہود ونصاریٰ کی طرف سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پرکئے جانے والے حملوں پر دنیابھر کے مسلمانوں کا متفقہ ردِّ عمل ہے۔ جس میں ان دشمنانِ اسلام کو نہ صرف پورے عالم ِاسلام سے معافی مانگنی پڑی ، بلکہ ناقابل ِتصور معاشی واقتصادی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

اس لئے ان کفار ومشرکین اور ان کے غلاموں نے ایک نئی سازش کا ارادہ کیاہے۔اوروہ ہے …… انکارِ حدیث!

اگر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کوئی نیا فتنہ نہیں ہے ،بلکہ بہت قدیم تاریخ اور پس ِمنظر کا حامل ہے،لیکن موجودہ دور میںیہ فتنہ جس قدرپروان چڑھا ہے اس سے پہلے یہ اس قدر عام نہیں ہواتھا ۔اگر ہم اس کی وجوہات پر غور کریں تو سب سے بڑی وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں پر بے راہ روی اور فرقہ پرستی کابد ترین بھوت سوارہے۔ عالم کی نسبت جاہل اور خواہش پرست کو گمراہ کرنا بہت زیادہ آسان ہوتا ہے۔

ان دشمنانِ اسلام کی اس چال بازی سے تعارف کے بعد اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اگر ہم حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کردیں تو ہمارے پاس دین ِاسلام میں سے کیا باقی رہ جاتا ہے…؟

کیا انبیاء علیہم السلام  کی بعثت محض بےمقصدوعبث تھی؟

سب سے پہلے تویہ بات سمجھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جتنے بھی انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے ، ان پرکتابیں بھی نازل فرمائیں ،اللہ اگر چاہتا تو ان کتابوںکو کسی پہاڑی یا اونچے ٹیلے یاکسی محفوظ جگہ پر ان کونازل کردیتا اور لوگوں کو اس سے آگاہ کردیتا۔

آخر اس نے اپنی آسمانی کتب کونازل کرنے کیلئے پہلے اس دور کے محترم اور باعزت لوگوںکا انتخا ب کرکے اپنی شریعت اور کتاب ان کی طرف کیوںنازل فرمائی؟؟آخر اس کی وجہ کیا ہے … …؟؟

غالباًاس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کااپنی شریعت یا کتاب کے مطابق اپنے منتخب بندوں کے ذریعے لوگوں کو عملی طور پر منظم انداز میں تربیت دینا مقصود ہے،تاکہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب تو آئی لیکن اس کتاب کے مطابق ہمیں عملی تربیت دینے والا کوئی شخص نہیں آیا۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{رُسُلاًمُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی ﷲِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اﷲُ عَزِیْزاً حَکِیْماً }(النسآئ:165)

’’یہ سب رسول (لوگوں کو)خوشخبری سنانے والے اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے تھے،تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کیلئے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔اور اللہ بڑا زبردست ،حکمت والا ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالی شان سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رسولوں کی بعثت کا مقصد لوگوں کواعمالِ صالحہ کی ترغیب دینا ،ان کا تزکیۂ نفس کرنا اوراس کے عوض انہیں جنت کی بشارت سنانااور اعمالِ سیئہ سے باخبر کرنا اور اس میں ملوث ہونے کی صورت میں اس کے عوض انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا ہے۔اوریہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب کتاب اللہ کوکسی ایسے معلم کی رہنمائی میں پڑھا اور سمجھا جائے جو اس کے علوم وفنون پر کماحقہ ٗ مہارت رکھتا ہو۔

یہاں یہ بات بھی بہت غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتب نازل فرمانے کے باوجود اپنے انبیائے کرامo  کی اتباع وپیروی کو فرض قراردیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِگرامی ہے:

{وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّالِیُطَاعَ باِذْنِ اﷲِ }(النسآئ: 64)

’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ،صرف اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘

اس سے واضح ہواکہ اللہ احکم الحاکمین کی نازل کردہ کوئی بھی کتاب انسان براہِ راست سمجھ نہیں سکتا۔

ہم اپنے جیسے کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب کو جو کہ ہم سے سینئرہے ‘  بغیر کسی استاد یا ماہر ِ فن کے سمجھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین وآسمان کے خالق ومالک کی کتاب کو ‘ جوکہ ساری کائنات کے علوم وفنون کاخالق ہے،ہم بغیرکسی معلم یاماہرِ کتاب کے سمجھ لیں … … ؟ ؟

اللہ نے اپنی کتب کو سمجھانے،ان پر عمل در آمد کروانے کیلئے ہی انبیاء علیہم السلام  کی جماعت کومختلف اَدوار اوراَوقات میں مبعوث فرمایااور نہ صرف یہ ،بلکہ ان کی اطاعت واتباع کو ہی انسانوں کیلئے باعث ِنجات و کامرانی قراردیا ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کیلئے چاہے وہ بہت پڑھا لکھا یا اپنے آپ کوعقل ِکل کا مالک ہی کیوںنہ سمجھتاہو اللہ کی نازل کردہ کتاب کو بغیر کسی معلم کے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔

دین ِاسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع

اب ہم بقیہ اَدیان سے ہٹ کر دین ِاسلام کو اللہ تعالیٰ کے فرمان کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اسلام جوکہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے،اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کیا طریقۂ کار اختیار کیا ہے؟

اسلام اور بقیہ اَدیان میں صرف اتنا فرق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یکبارگی کامل کتاب میں نازل فرمائی،لیکن اسلام کیونکہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کوبتدریج نازل فرمایا،تاکہ لوگوںکوسمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ }(الاحزاب: 21)

p:’’تمہارے لئے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )(کی علمی زندگی میں ) بہترین نمونہ ہے۔‘‘

یہاں پربھی یہ بات قابل ِغور ہے کہ اگر فقط اللہ کا کلام ہی ہمارے لئے کافی ووافی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو آئیڈیل بنانے کاحکم نہ دیتا۔

تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کانازل کردہ کلام ہمارے لئے باعث ِرشدوہدایت ضرور ہے مگراس حیثیت سے نہیں کہ ہم اسے اپنی ذاتی عقل یا فہم وادراک کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کریں، بلکہ صرف اس اعتبار سے کہ ہم اللہ کے کلام کو اسی کے بھیجے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کریں۔ 

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ مجید میں ایک اور بہت ہی غور طلب بات ذکر کی ہے :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{ وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲ }(النسآء :80)

p:’’جس نے رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘

اس آیت ِمبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے سمجھنے اور غورکرنے کیلئے بہت ہی اہم بنیاد کو ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اس آیت سے یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی جائے اللہ کی اطاعت نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت مشروط ہے جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ۔

انکارِ حدیث …یا …انکارِ قرآن؟؟

اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا فرض ِعین ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اطاعت کرنا بھی فرضِ عین ہے۔اس بات کو منکرین ِحدیث بھی تسلیم کرتے ہیں ۔

مگر سوال یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد تو اللہ کے قرآن پر عمل ہے ،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے کیا مراد ہے……؟؟اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ:

{وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُ وْہُ وَمَانَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا }

p:’’اور جو کچھ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )تمہیںدیں وہ لے لواور جس سے تم کوروکیں اس سے رک جاؤ۔‘‘(الحشر:7)

ان دونوںآیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت  کوواضح کرتے ہوئے اس کو فرض اور لازم قرار دیا ہے۔

مگر سوال وہی ہے کہ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے کیا مراد ہے……؟؟

آیئے اس سوال کا جواب بھی ہم اللہ کے پاک کلام سے ہی پوچھتے ہیں وہ کیا جواب دیتا ہے ؟

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:{وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی  اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی  }(النجم: 3-4)

p:’’وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے ،جو کہتے ہیں ان پر نازل شدہ وحی ہوتی ہے ۔‘‘

مزید ارشاد فرمایا:{وَاِذْ اَسَرَّالنَّبیُّ  بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا }(التحریم:3)

p:’’جب نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے اپنی کسی بیوی سے ایک راز کی بات کہی۔‘‘

پہلی آیت میں ہمیں اس بات کااشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے آخری پیغمبر جناب ِمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  دین کے معاملے میںاپنی مرضی اور خواہش سے کوئی بات بھی نہیں کہتے ،بلکہ جب بھی کہتے ہیں اللہ کے حکم اور وحی سے کہتے ہیں۔

اور دوسری آیت میں ہمیں اس بات کی وضاحت مل رہی ہے کہ قرآن کے علاوہ آپ جو کہتے ہیں وہ ’’حدیث‘‘کہلاتی ہے۔اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک راز کا تذکرہ کیا ہے جو آپ اپنی ایک بیوی سے کہہ رہے تھے۔اورساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس راز کی وضاحت پورے قرآن میں کہیں بھی نہیں کی ہے کہ وہ راز کیا تھا؟

جبکہ یہ بات بھی مسلم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلنے والا ہرجملہ اللہ کی وحی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس راز کی وضاحت پورے قرآن میں نہیں ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے علاوہ کوئی اوربھی وحی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی رہی ہے۔اور جس کو خود باری تعالیٰ نے لفظ ِ’’حدیث‘‘سے تعبیر کیا ہے۔

قرآن کے اس قدر فصاحت وبلاغت کے ساتھ حدیث ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین قراردینے کے بعد بھی کیا ہمارے پاس کوئی ایسی راہ باقی ہے کہ ہم محض عقل کی بنیاد پر ان فرامین ِ الٰہی کا رد کریں…؟

اور اگر ہم ان اَظہر من الشمس دلائل ِقرآنی کے باوجود حدیث ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کریں توکیا منکر ِقرآن نہیں ہوئے……؟؟

اور کیا منکر ِقرآن مسلمان ہو سکتا ہے……؟؟

منکرین ِحدیث کے پاس اس سوال کاکیا جواب ہے……؟؟

إن أرید إلا الإصلاح ماستطعت وما توفیقی إلا باللّٰہ

 

 

 

ملاحظہ کیا گیا 7308 بار آخری تعدیل الجمعة, 30 أيار 2014 16:54