بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الجمعة, 09 آذار/مارس 2012 04:57

کیا ہمارا دل اسلام پر مطمئن نہیں؟

مولف/مصنف/مقرر  اسلامک پبلشرز

اللہ رب العالمین نے جب سے کائنات پیدا فرمائی ہے، تب سے ہی اس نے اپنے لئے جو دین پسند کیا ہے وہ صرف اسلام ہے۔ فرق صرف اتنا رہا ہے کہ ہر دور کی ضروریات کے مطابق اس میں تبدیلی رونما ہوتی رہی ہے، لیکن کسی بھی قسم کی تبدیلی کا اختیار ہمیشہ سے صرف اللہ رب العزت کے ہی ہاتھ میں رہا ہے، اس لحاظ سے اسلام‘ دین فطرت بھی ہے۔ البتہ جب اللہ ذوالجلال والاکرام نے اپنے سب سے آخری پیغمبر سیدالاولین والآخرین، امام الانبیاء جنابِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت کے عہدۂ جلیلہ سے سرفراز فرمایا تو اپنے پسندیدہ دین، یعنی دین اسلام کو ہر لحاظ سے کامل و اکمل بنا کر قیامت تک آنے والے تمام انس و جن کےلئے صراطِ مستقیم کے طور پر پیش کردیا۔

دین اسلام خالق کائنات، مالک ارض و سماء کا دین خاص ہونے کی وجہ سے ہر دور میں ہی باعث  نجات اور تقربِ الٰہی کا سبب رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ انبیاء اور رسل علیہم السلام بھی اپنے وقت ِانتقال پر اپنی اولادوں کو بطورِ خاص آخری دم تک کاربند ِ اسلام رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

اللہ احکم الحاکمین کا ارشادِ گرامی ہے:

وَ وَصّٰی بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰی لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَ نْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۝ (البقرہ:132)

  ’’ اس کی وصیت ابراہیم اور یعقوب (علیہما السلام)نے اپنی اولاد کو کی، کہ اے میرے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا ۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک بہت ہی قدیم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کا محبوب ترین دین بھی ہے اور بلاشبہ ایسے لوگ جن کی موت اسلام جیسے مقدس اور اللہ کے پسندیدہ دین پر آتی ہے، وہ لوگ اپنی وفات کے فوراً بعد ہی کائنات کی سب سے مقدس و محترم جگہ جنت کو حاصل کرلیتے ہیں۔

جس بات کی نصیحت گزشتہ انبیاء اور رسل  علیہم السلام اپنی اولادوں کو کرتے آئے تھے اسی بات کا حکم اللہ تعالیٰ نے براہِ راست تمام اہل ایمان کو بھی دیا ہے۔

 اللہ مالک الملک کا فرمانِ عالی ہے:

یٰۤاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۝ (آلِ عمران:102)

’’ اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔‘‘

اللہ عزیز و ذوانتقام کے حکم میں اس بات کی نصیحت پوشیدہ ہے کہ جو انسان یا جن مرتے دم تک اسلام پر قائم رہا اور اسلام پر ہی اس کی موت آئی تو وہ تو کامیاب ہو گا، وگرنہ جس نے اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کو اختیار کیا، اسی پر کاربند رہا اور پھر اسی پر اس کی موت آئی تو وہ انسان یا جن سراسر خسارے میں ہوگا۔

اللہ رب العزت کے چند فرامین ملاحظہ ہوں۔

1۔ اَ لْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا  ؕ (المائدہ:3)

’’ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت بھرپور کر دی اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔‘‘

2۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ وَمَااخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَاجَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ ؕوَمَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۝ (آلِ عمران:19)

’’بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بناء پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے، اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔‏‘‘

3۔ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَهُوَفِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۝ (آلِ عمران:85)

’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔‏‘‘

مذکورہ تینوں آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اللہ رب العالمین کے ہاں پسندیدہ، قابل قبول اور تقربِ الٰہ العالمین کا ذریعہ اگر کوئی دین اور اس کے پیروکار بن سکتے ہیں تو وہ صرف اور صرف اسلام اور مسلمان ہی ہیں، باقی تمام ادیان اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کے نزدیک باطل، غیرمقبول، ناقص اور ہلاکت کا باعث ہیں۔

لوگوں کے اسلام سے انحراف کے دو راستے ہیں:

1۔ اسلام کو چھوڑ کر کسی باطل دین،جیسے: یہودیت، عیسائیت، ہندومت، سکھ ازم، بدھ مت، مجوسیت یا کسی بھی ایسے دین کو باقاعدہ اور مکمل طور پر اختیار کرنا جو اسلام سے متصادم اور اپنے الگ نظریات اور نام کا حامل ہو۔ اس لحاظ سے اپنے آپ کو یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ وغیرہ کہلوانا بھی اس میں شامل ہے۔

2۔ دین اسلام قبول کرلینے کے بعد کچھ ایسی چیزوں کو اختیار کرنا جن کا تعلق ظاہراً یا باطناً باطل ادیان میں سے کسی ایک یا تمام کے ساتھ ہو۔ جیسے: ان کے عقائد و نظریات اپنانا، لباس، وضع قطع، شکل و صورت اور گفتار و کردار میں ان کی کسی چیز سے متأ ثر ہوکر ان کی مشابہت اختیار کرنا اور ان سے دوستی اور محبت کی باتیں کرنا۔ وغیرہ

یہ دونوں راستے کسی بھی انسان کو اللہ مالک الملک کے منتخب کردہ دین‘ دین  اسلام سے ہٹانے اور اللہ کی نارضگی مول لینے کا سبب ہیں۔ جس کا نتیجہ مذکورہ آیت مبارکہ کی روشنی میں قیامت کے دن خسارے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

دین اسلام سے انحراف اور ادیانِ باطلہ کی جانب قلبی و عملی میلان جہاں اللہ ربُّ العزت کی غیرتِ الٰہیہ کو دعوتِ مبارزت (چیلنج) دینے کے برابر ہے، وہیں نفاق جیسے مرضِ خبیثہ کو اپنے دل میں جگہ دینے کے برابر بھی ہے۔

اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی غیرت ایسے لوگوں کو‘ جو مسلمان ہوتے ہوئے غیراسلامی تہذیب و ثقافت کے شیدائی اور دلدادہ رہتے ہیں‘ بحیثیت مسلمان قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتی۔

درجِ ذیل دلائل کی روشنی میں آپ کو مذکورہ معاملے میں اللہ کی غیرت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔

1۔ یٰۤاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ؗ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۝ (المائدہ:54)

’’اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ مسلمانوں پر نرم دل ہونگے اور کفار پر سخت ہونگے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے۔‏‘‘

2۔ یٰۤاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُواالْیَهُوْدَوَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآءَ ؔ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ وَمَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ؕاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۝ (المائدہ:51)

’’ اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔‘‘

3۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ۝ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا ۝ (النساء:139,138)

’’منافقین کو بشارت دیدو کہ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے۔ جن کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔‘‘

4۔ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۝۱۱۳

’’دیکھو ظالموں کی طرف ہرگز نہیں جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے۔‏‘‘

(مزید دلائل:النساء:44، المائدہ:18،57، الممتحنہ:13، آلِ عمران:28، 149، وغیرہ)

 

نبی الخاتم، رسولِ معظّم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ گرامی ملاحظہ ہوں:

1۔  مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ (سنن ابی داؤد: کتاب اللباس، باب لبس الشھرۃ)

’’جس کسی نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔‘‘

 اَ لْمَرْأُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ ۔ ’’(قیامت کے دن) آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ (دنیا میں) محبت کی ہوگی۔‘‘ (صحیح بخاری: الادب، علامۃ حب اللہ عزوجل)

3۔ لَا تُصَاحِبَ اِلَّا مُؤْمِنًا ’’تمہارے دوست صرف مؤمن ہی ہونا چاہئیں۔‘‘ (سنن ابی داؤد: کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس)

4۔ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ، فَالْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَّنْ یُخَالِلٗ

’’ آدمی اپنے دوست (محبوب) کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر آدمی کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے؟‘‘

(سنن ابی داؤد: کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس)

قرآن و حدیث کے مذکورہ دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ اللہ رب العزت کی غیرت کسی ایسے مسلمان کو بھی ’’مؤمن‘‘ ماننے پر تیار نہیں ہے‘ جو مسلمان ہوتے ہوئے کفار سے دوستی کرتا ہے یا اپنے کسی بھی معاملے میں ان کی مشابہت اختیار کرتا ہے، بلکہ ایسا کرنے والوں کو اللہ عزوجل نے النساء:138میں منافقین شمار کیا ہے اور دردناک عذاب کی وعید بھی سنائی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں’’منافقین‘‘ کیوں کہا؟

اس کا سبب یہ ہے کہ ایک مرتبہ اسلام قبول کرلینے کے بعد دوبارہ غیراسلامی رسومات و تہذیب کی طرف وہی ’’مسلمان‘‘ پلٹتا ہے، جس کا دل اسلام جیسے مقدس دین پر مکمل مطمئن نہ ہو، بلکہ وہ اپنے دل میں اسلام کی سچائی سے متعلق کوئی نہ کوئی شک دبائے ہوئے ہو۔ اور جو مسلمان اپنے دل کی گہرائی سے اسلام پر مطمئن ہو وہ کبھی بھی اسلام کو چھوڑ کر غیراسلامی تہذیب کی طرف پلٹ کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اسلام سے متعلق دل میں شک دبانے والے کو منافق کہا ہے، وہیں دل کی گہرائیوں سے ایمان لانے والوں کو مؤمن بھی قرار دیا ہے۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰی ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًاؗۙ۝۱۴۲ مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ۖۗ لَاۤ اِلٰی هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی هٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا۝۱۴۳ (النساء:143،142)

’’بے شک منافق اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے اور جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور یاد الٰہی تو یونہی برائے نام کرتے ہیں۔ وہ درمیان میں ہی معلق ڈگمگا رہے ہیں، نہ پورے ان کی طرف اور نہ صحیح طور پر ان کی طرف، جسے اللہ تعالیٰ گمراہی میں ڈال دے تم اس کیلئے کوئی راہ نہ پاؤ گے۔‏‘‘

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵

’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہیں یہی سچے اور راست گو ہیں۔ (الحجرات:15، مزید دلائل:،التوبہ:45)

لہٰذا اپنے دلوں کو اسلام پر مطمئن کیجئے! اسلام کو ہی اپنا مقصد حیات بنایئے! اسلام کو اپنی زندگی کے تمام معمولات میں شامل کیجئے! اسلامی شکل و صورت اختیار کیجئے! اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنایئے! اسلامی بھائی چارہ قائم کیجئے! تاکہ قیامت کے دن آپ کا شمار بھی پکے مؤمنین و عاملین اسلام میں ہو، نہ کہ منکرین و دشمنانِ اسلام میں۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

ملاحظہ کیا گیا 3737 بار آخری تعدیل الجمعة, 30 أيار 2014 16:56
اسی زُمرے میں مزید : « اسلام ہی انسانیت کا حل ہے۔