بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الثلاثاء, 21 آب/أغسطس 2012 04:43

شوال کے روزوں کی فضیلت اور احکام

مولف/مصنف/مقرر  عمران فیصل

  شوال کے روزوں کی فضیلت اور احکام

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمسلمان کو  تمام قسم کے نیک اعمال  پر ہمیشگی اورتسلسل کے ساتھ عمل پیرا ہونا چاہئے، اور تزکیہ نفس  پر انتہائی حریص ہونا چاہئے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسی مقصد کیلئے عبادات متعین فرمائی ہیں ۔ انسان  جس قدر ان نیکیوں  کو اپنائے گا اْس قدر ہی تزکیۃنفس کی منزلیں طے کرتا جائے گا۔  اور جس قدر عبادات میں سستی کرے گا اتنا ہی اس تزکیۃ سے دور ہوتا چلا جائے گا۔نتيجتاً اہل ِ طاعت کے دل نرم ہوتے ہیں اور ان ہی سے معاشرے میں صلاح ہوتی ہےجبکہ برائی کرنے والوں  کے دل سخت ہو جاتے ہیں اور وہی معاشرے میں فساد کا سبب بنتے ہیں۔

روزہ ان عبادات میں سے ہے جو دلوں  سےتمام قسم کا  میل کچیل صاف کرتا ہے اورتمام ظاہری وباطنی امراض سے شفا یابی  کا باعث ہے ۔  ماہِ رمضان دلوں کے جائزہ ونظر ثانی اور جانچ کا مہینہ ہے ۔ اور اسکے ایّام دلوں کی پاکیزگی اور  طہارت کا سبب بنتے ہیں ۔  رمضان کے بعد شوّال کے چھ روزوں کی مشروعیت ان مواقع میں سے  ایک انتہائی قیمتی موقع ہے جس میں روزہ دار رمضان کے روزوں سے فارغ ہو کر روزوں کی ایک اور اطاعت کو اپنا لیتا ہے۔جس میں فضلِ عظیم اور بڑا اجر و ثواب ہے ۔  کیونکہ جو شخص  رمضان المبارک کے روزے رکھنے کےبعد شوال میں چھ روزے بھی رکھتا ہے  اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجروثواب لکھا جاتا ہے ۔

 

 

شوال کے روزوں کی فضیلت :

ابوایوب انصاری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا :

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْر"ِ.[1]

  ترجمہ : جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔

نبی مکرم  ﷺ نے اس کی شرح اورتفسیر اس طرح بیان فرمائی ہے کہ :جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس کے پورے سال کے روزے ہیں۔کیونکہ :"الحسنة بعشرة أمثالها"۔یعنی:جو کوئی نیکی کرتا ہے اسے اس کا اجر دس گنا بڑھا کر ملتا ہے ۔

اورایک روایت میں ہے کہ :

اللہ تعالی ایک نیکی کے بدلے دس نیکیاں عطا کرتا ہے ۔ لھٰذا رمضان المبارک کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہوا اورچھ دنوں کے روزے سال کو پورا کرتے ہيں ۔[2]

 

اورابن خزیمہ نے ثوبان رضی اللہ عنہ سےروایت نقل کی کہ  :

’’ رمضان المبارک کےروزے دس گنا اورشوال کے چھ روزے دو ماہ کے برابر ہیں تواس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے ‘‘ ۔ [3]  اور انہی الفاظ کےساتھ امام احمد  رحمہ اللہ   نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ  سے بھی روایت کی ہے۔

حنابلہ اورشوافع فقھاء کرام  رحمہم اللہ   نے تصریح کی ہے کہ :

رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا پورے ایک سال کے فرضی روزوں کے برابر ہے ، وگرنہ تو عمومی طور پر نفلی روزوں کا اجروثواب بھی زيادہ ہونا ثابت ہے ، کیونکہ ایک نیکی دس کے برابر ہے ۔

پھر شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائدمیں یہ  بھی ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک کے  روزوں کی کمی اورنقص کو پورا کرتے ہیں۔  کیونکہ روزہ دار سےحالت روزہ میں  کمی ہوجاتی ہے اورگناہ بھی سرزد ہوجاتا ہے جوکہ روزہ کے ثواب میں کمی کا باعث بنتا ہے اب اس کمی کو پورا کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی فرمادی کہ شوال کے چھ روزے رکھنے سے فرض روزوں میں ہونے والی کمی پوری ہوجاتی ہے اس طرح بندے کو  چھ نفلی روزوں کا ثواب بھی مل جاتا ہے اور رمضان کے فرضی روزوں کی کمی بھی پوری ہوجاتی ہے  ۔

اور روزقیامت فرائض میں پیدا شدہ نقص نوافل سے پورا کیا جائے گا ، جیسا کہ نبی  صلی اللہ علیہ و سلم  نے بھی فرمایا :روز قیامت بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا ، نبی  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا :ہمارا رب ‏عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائےگا حالانکہ وہ زيادہ علم رکھنے والا ہے میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں نقص ہے ، اگر تو مکمل ہونگی تومکمل لکھی جائے گی ، اوراگر اس میں کچھ کمی ہوئی تواللہ تعالی فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے نوافل ہیں اگر تواس کے نوافل ہونگے تو اللہ تعالی فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرو ، پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائيں گے ۔ [4]

نیز  رمضان کے بعد روزہ رکھنے  کی عادت پڑنا  رمضان کے روزوں کی قبولیت کی بھی نشانی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کا عمل قبول فرماتا ہے تو اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرماتا ہے۔

 تو جس شخص نے کوئی نیک عمل انجام دیا  اور اس شخص کو اسکے بعد بھی عمل صالح کی تو فیق مل گئی   تو یہ دلیل ہو گی کی کہ اسکا پہلا عمل بارگاہ ِربّ العزت  میں شرفِ قبولیت پا چکا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے عملِ صالحہ کیا اور اسکے بعد پھرانہی  گناہوںکی طرف لوٹ گیا تو وہ نشانی ہے اس بات کی کہ اسکا وہ عمل قبول نہیں ہوا بلکہ ردّ کیا جا چکا ہے۔اس بات پر اْن لوگوں کو خاص طور پر متوجہ ہونا چاہئےجو رمضان کے روزے رکھنے بعد یوم الفطر کے دن ہی گناہوں میں مبتلا ہوجانے کی کوشش کرتے ہیں اوردعویٰ کرتے ہیں کہ عید منا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  عید الفطر کا دن رمضان کے روزے رکھنے والوں کیلئے خوشی و شادمانی کا دن ہوتا ہے اس دن روزہ دار اپنے ربّ سے مغفرت پا لینے کی خوشی میں مسرت سے سرشارہوتے ہیں کیونکہ دنیاوی زندگی میں مغفرت سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں ہوتا اور اس انعام پر انہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے نہ کہ رمضان گزرنے کی خوشی میں گناہوں کا ارتکاب کیا جائے ۔  اور اللہ تعالیٰ  سےمغفرت کا انعام پا لینے کا شکر کس طرح کیا جائے؟ اسکی  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے ہمیں بڑی ہی واضح تعلیم دی ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  تہجد میں اتنا طویل قیام کیا کرتے تھے کہ اْنکے قدم مبارک سوج جایا کرتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپکواگلی پچھلی خطاؤں سے پہلے  ہی معاف فرما دیا ہے ۔تو آپ فرماتے:"أفلا أكون عبداًشكوراً"۔ترجمہ: کیا میں بہت زیادہ شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں؟[5]

کیا ہی اچھا ہے کہ مسلمان رمضان کے بعد مغفرت کا انعام پا لینے کے شکر میں پھر سے شوال کے روزے رکھے۔

اس کے علاوہ نیکیوں کے لئے کوئی بھی موسم معین نہیں ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان اطاعتوں کو جاری و ساری رکھیں حتیٰ کہ اپنے ربّ سے جا ملیں۔

سوال: کیا شوال کےروزے مکروہ ہیں؟

احناف اور مالکیہ کے کچھ علماء  رحمہم اللہ   نے اس صورت میں شوال کے روزوں کو مکروہ کہا ہےجب یہ اندیشہ ہو کہ عامۃ الناس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ شوال کے روزے رمضان کی طرح فرض ہیں۔

دلیل کے طور پر مذاھب اربعہ کی چار مشہور کتابوں سے علماء کا کلام نقل کرتے ہیں۔

1احناف کے نزدیک شوال کے روزے:

صَوْمُ سِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ كَرَاهَتُهُ وَعَامَّةُ الْمَشَايِخِ لَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا وَاخْتَلَفُوا فَقِيلَ الْأَفْضَلُ وَصْلُهَا بِيَوْمِ الْفِطْرِ وَقِيلَ بَلْ يُفَرِّقُهَا فِي الشَّهْرِ وَجْهُ الْجَوَازِ أَنَّهُ وَقَعَ الْفَصْلُ بِيَوْمِ الْفِطْرِ فَلَمْ يَلْزَمْ التَّشَبُّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ وَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّهُ قَدْ يُفْضِي إلَى اعْتِقَادِ لُزُومِهَا مِنْ الْعَوَامّ لِكَثْرَةِ الْمُدَاوَمَةِ وَلِذَا سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ يَوْمَ الْفِطْرِ نَحْنُ إلَى الْآنِ لَمْ يَأْتِ عِيدُنَا أَوْ نَحْوُهُ فَأَمَّا عِنْدَ الْأَمْنِ مِنْ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ لِوُرُودِ الْحَدِيثِ۔[6]

یعنی:شوال کے چھ روزےابو حنیفہ  رحمہ اللہ   اور ابو یوسف  رحمہ اللہ   کے نزدیک مکروہ ہیں اور انکی دلیل ہے کہ  عامۃ الناس یہ نہ سمجھ لیں کہ شوال کے روزے رمضان کی طرح فرض ہیں۔لیکن عامۃ مشائخ احناف کے نز دیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ان عامۃ مشائخ کے بھی دو گروہ ہیں ایک کہتے ہیں کہ عید الفطر کے بعد متصلاًٍٍ رکھیں جاسکتے ہیں اور دوسرے کہتے ہیں کہ چھ روزے  شوال کے مہینے میں متفرق ہی رکھے جائیں تاکہ اہلِ کتاب کی تشبیہ نہ ہو سکےجبکہ اوّل الذکر  جواب دیتے ہیں کہ عید الفطر کے دن کے وقفہ سے اہلِ کتاب کا تشبّہ باقی نہیں رہتا۔اگر کوئی شخص ان دونوں شبہات سےمحفوظ رہ کر شوال کے روزے رکھتا ہے تووارد احادیث کی روشنی میں[جو شوال کے روزوں کی فضیلت میں اوپر بیان کی  گئی ہیں]روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

2 مالکیہ کے نزدیک شوال کے روزے:

امام مالک  رحمہ اللہ   سے بھی کراہیت کا قول منسوب ہے۔ كَرِهَ مَالِكٌ صِيَامَهَا لِئَلَّا يُلْحِقَ أَهْلُ الْجَهْلِ ذَلِكَ بِرَمَضَانَ ، وَأَمَّا مَنْ رَغِبَ فِي ذَلِكَ لِمَا جَاءَ فِيهِ فَلَمْ يَنْهَهُ ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ وَأَحْكَمُ۔[7]

یعنی:انکو[شوال کے روزوں کو] مالک نے مکروہ کہا ہے تاکہ جہلاء یہ نہ سمجھ سکیں کہ شوال کے روزے بھی رمضان کی طرح فرض ہیں،لیکن جو وارد احادیث کی روشنی میں روزوں کی رغبت رکھے تو اسے منع نہیں کیا، اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے صحیح فیصلہ کرنے والا ہے۔

امامابوعمر ابن عبدالبر  رحمہ اللہ   جوکہ مالکی مذھب کےمشہورعالم ہیں اسی بارے میں رقم طراز ہیں:

قال أبو عمر لم يبلغ مالكا حديث أبي أيوب على أنه حديث مدني والإحاطة بعلم الخاصة لا سبيل إليه والذي كرهه له مالك أمر قد بينه وأوضحه وذلك خشية أن يضاف إلى فرض رمضان وأن يستبين ذلك إلى العامة وكان - رحمه الله - متحفظا كثير الاحتياط للدين ۔

 وأما صيام الستة الأيام من شوال على طلب الفضل وعلى التأويل الذي جاء به ثوبان - رضي الله عنه - فإن مالكا لا يكره ذلك إن شاء الله۔[8]

ابو عمر کہتے ہیں کہ مالک  رحمہ اللہ   کو ابو ایوب  رضی اللہ عنہ کی حدیث مدنی ہونے کے باوجود نہیں پہنچی کیونکہ ایک مخصوص شخص میں تمام علم کا احاطہ ممکن نہیں جن روزوں کوامام مالک نے مکروہ کہا ہے اسے انہوں نے واضح کردیا ہے کہ رمضان کے فرضی روزوں کے ساتھ ملنے کا اندیشہ ہے اور عوام الناس کیلئے اسے واضح کرنا ضروری ہے۔امام مالک دینی معاملات میں بہت زیادہ احتیاط کرنے والے شخص تھے۔اور شوال کےچھ روزے فضیلت کےحصول کیلئے ہیں جو ثوبان رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں وارد ہوا ہے،امام مالک اسے مکروہ نہیں سمجھتے تھے ان شاءاللہ۔

3 شافعیہ کے نزدیک شوال کے روزے:

صوم ست من شوال لحديث عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : "من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر ". والأفضل صومها متصلة بيوم العيد متتابعة ولكن تحصل السنة بصومها غير متصلة به ولا متتابعة۔[9]

یعنی: شوال کے چھ روزےابوایوب انصاری کی مندرجہ بالاحدیث سے ثابت ہیں اور افضل یہ ہے کہ عید الفطر کے اگلے دن سے متصلا رکھے جائیں اوراگر متفرق بھی رکھے جائیں تو بہرحال سنّت پر عمل ہو جائے گا۔

4 حنابلہ کے نزدیک شوال کے روزے: 

ويسن صوم ست من شوال؛ لقول النبي صلّى الله عليه وسلّم: "من صام رمضان وأتبعه ستاً من شوال فكأنما صام الدهر كله"۔ فيسن للإنسان أن يصوم ستة أيام من شوال.[10]

یعنی: شوال کے چھ روزےابوایوب انصاری کی مندرجہ بالاحدیث سے ثابت ہیں،انسان کیلئے مستحب ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے۔

شوال کے روزوں کے متعلق بعض اہم فتاویٰ جات:

شوال کےروزے مسلسل رکھے جائیں یا متفرق:شوال کےروزوں کے لئے یہ شرط نہیں کہ   مسلسل رکھے جائیں،بلکہ انہیں  متفرق اور مسلسل  دونوں طرح رکھنا جائز ہے کیو نکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے ان روزوں کا مطلقاًکر فرمایا ہے اور اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ انہیں  مسلسل رکھا جائے یا علیحدہ علیحدہ ۔ [11]

رمضان کے روزوں کی قضاسے پہلےشوال کے چھ روزے:

جس شخص کے ذمہ رمضان کے کچھ روزوں کی قضاباقی ہو اور وہ شوال کے چھ روزے بھی رکھنا چاہتا ہو تو مسنون یہ ہے کہ  شوال کے چھ روزوں سے پہلے رمضان کی قضاادا کی  جائے کیو نکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم   کا فرمان ہے کہ  ’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے‘‘۔[12]اور اگررمضان کے روزوں کی قضاسے پہلے شوال کے روزے رکھ لئے  تو وہ رمضان کے بعد نہ ہو ئے بلکہ رمضان کے بعض روزوں سے پہلے ہوئے اور پھر یہ کہ رمضان کے روزے تو فرض ہیں ،لہٰذا پہلے انہیں مکمل کرنا افضل ہے۔[13]

شوال کے چھ روزوں کی قضاء: شوال کے یہ چھ روزے سنّت ہیں فرض نہیں ،کیونکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا :’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں ‘‘۔ [14] یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ  اس میں کوئی حرج نہیں کہ یہ روزے مسلسل رکھے جائیں یا  متفرق البتہ انہیں جلد رکھ لینا افضل ہے  کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{ وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَى }[15] ترجمہ: اور اے میرے  پروردگار! میں نے تیری طرف [آنے کی]جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو۔

علاوہ ازیں دیگر بہت سی آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی کے کاموں میں  مسابقت اور مسارعت افضل ہے۔ان روزوں کو ہمیشہ رکھنا واجب تو نہیں افضل ضرور ہے کیونکہ نبی مکرم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا :"أحب العمل إلى الله ما داوم عليه صاحبه وإن قلّ" [16]تر جمہ:اللہ تعالیٰ کو وہ عمل بہت پسند ہے جسے عمل کرنے والا ہمیشہ سر انجام دے  خواہ وہ عمل کم ہی ہو۔

شوال کے  ختم ہونے کے بعد ان روزوں کی قضاء نہیں ہے کیونکہ یہ روزے سنّت ہیں اب انکا وقت ختم ہو گیا  خواہ وقت کسی کسی عذر کی وجہ سے ختم ہوا ہو یا بغیر کسی عذر کے۔ [17]

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اعمالِ صالحہ کرنے اور ان پر مداومت و تسلسل اختیار کرنے  کی توفیق عطا فرمائے،آمین.

 



[1]صحيح مسلم کتاب الصيام ، باب استحباب صوم ستة ايام من الشوال ،حديث رقم:1164 ۔

سنن ترمذی ، باب ما جاء فی صيام ستة من الشوال حديث رقم:759۔

[2] صحيح الترغيب والترهيب صفحة:1-421۔ رياض الصالحين صفحة:2-152۔

[3] صحيح ابن خزيمةبَابُ فَضْلِ إِتْبَاعِ صِيَامِ رَمَضَانَ بِصِيَامِ ستة من الشوال، حديث رقم: 1982.

 سنن الکبریٰ للنسائی ، حديث رقم: 2819.

[4] سنن ابوداود رقم الحديث 733 ۔

[5] صحيح البخاري، کتاب تفسيرالقرآن رقم الحديث: 4487۔

[6]تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - 1 / 332 ، تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - 4 / 128

[7]المنتقى - شرح الموطأ - 2 / 212 ،فقه العبادات على المذهب المالكي - 1 / 324

[8]الاستذكار - 3 / 380

[9]فقه العبادات – لمذهب الشافعي - 1 / 559

[10]الشرح الممتع على زاد المستقنع - 6 / 464

[11] فتاویٰ اسلامية: شيخ ابن باز ، صفحه:226-2

      [12]صحيح مسلم کتاب الصيام ، باب استحباب صوم ستة ايام من الشوال ،حديث رقم:1164

[13] فتاویٰ اسلاميه: شيخ ابن باز ،صفحه:228-2۔

[14] صحيح مسلم کتاب الصيام ، باب استحباب صوم ستة ايام من الشوال ،حديث رقم:1164۔سنن ترمذي ، باب ما جاء فی صيام ستة من الشوال حديث رقم:759۔

[15] سورة طٰه الآية رقم: 84.

[16] صحيح البخاری ، الإيمان،باب احب الدين حديث رقم:43.

[17] فتاویٰ اسلامية: شيخ ابن باز ، صفحه:227-2.

ملاحظہ کیا گیا 6061 بار آخری تعدیل الجمعة, 30 أيار 2014 16:50
اسی زُمرے میں مزید : قربانی کے مسائل2 »