بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 12 نيسان/أبريل 2018 16:47

آزادئ اظہار رائےکے شرعی اصول وضوابط

مولف/مصنف/مقرر 

آزادئ اظہار رائےکے شرعی اصول وضوابط

 خالدحسین گورایہ  [1]

اہل عقل وفہم کے ہاں ایک مسلّمہ امر ہے کہ علماء ، حکماء ، مفکرین جب بھی ’’ آزادئ اظہار رائے‘‘ پر لب کشائی کرتے ہیں تو سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اظہار رائے کی یقیناً کوئی حد یا باؤنڈری ہونی لازمی ہے ، تاکہ فتنہ وفساد اور معاشرتی عدم توازن کے نظام کو کنٹرول کیا جاسکے ۔ ہاں اس کی قید کے پیمانے ہر ایک کے ہاں مختلف ہیں بعض لوگ اس پر عرفِ عام ، یا معاشرتی اقدار کی روک لگاتے ہیں، بعض اسے آئین وقانون سے مقید کردیتے ہیں ،اور بعض دیگرے یہ کہتے ہیں کہ جہاں دوسرے کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے ، اس کی دل آزاری ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی ختم ہوجاتی ہے ۔ بعض نے اخلاقی فساد وبگاڑ کو آزادئ رائے کی حد بندی بتایا ہے ۔ الغرض دنیا کا کوئی بھی ذی عقل انسان اس حقیقت کا انکاری نہیں ہے کہ آزادئ رائے کو لازما ًکسی حد وقید میں رکھناضروری ہے ۔ رائے میں مادر پدر آزادی کا مطلب محض شر وفساد کی آبیاری ہے۔

اسی مسلّمہ ضابطہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قوم ، ملک ، نسل اور آبادی نے اپنے معتقدات ، اپنی عادات واعراف ، اور مصالح وقوانین کے تحفظ کیلئے اس آزادی کو ایک دائرہ تک محدود رکھا ہوا ہے ۔

آزادئ کا تطوراتی مفہوم :

انسان آ ج سے نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے اس دنیا میں بس رہا ہے، ہر دور میں اس نے اپنی آزادی کیلئے کچھ قاعدے وضع کئے مگر اس کی فلاح اور کامیابی محض اسلام کے دئے گئے ضابطہ آزادی سےہی ممکن ہوپائی ہے ۔ کرہ ارض پر قدیم ترین تہذیبوں میں مصری تہذیب نمایاں ہے ۔ قدیم مصری تہذیب میں آزادی کا جو تصور پایاجاتاتھا وہ بعینہ اپنی اُسی پرانی شکل میں جدید دنیا میں بھی موجود ہے اگر چہ انداز ، کردار ، واطوار بدل گئے ہیں اغراض ومقاصد واہداف وہی پرانے ہیں۔

مصر کی عہد قدیم کی آزادی کچھ ایسی ہوا کرتی تھی کہ محض فرعون کو آزادی تھی! فرعون اکیلا ہی جو چاہتا ، جب چاہتا اور جس کیفیت سے چاہتا کرتا تھا ، ہاں رعایا کو کوئی آزادی نہیں تھی بلکہ وہ وقت کے بادشاہ کے اشارے کے تابع تھے جسے انہوں نے خدائی درجہ دے رکھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی آزادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

{ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى وَمَآ اَہْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ} [غافر: 29]

            ’’ فرعون نے کہا ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتلا رہا ہوں ‘‘ ۔

 یعنی وہ بزعم خود سمجھ رہا تھا کہ میری ہی رائے صحیح ہے باقی سب غلط ۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا ۔

رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : {فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ} [هود: 97]

’’ پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں ‘‘ ۔

فرعونی تہذیبوں میں فرمانروا ہی سیاہ وسفید کے مالک ہوا کرتے تھے ، اِبلاغ و ترسیل کے تمام ذرائع پر حکومت اور بالا نشیں طبقوں کا مکمل کنٹرول تھا۔ اخبارات اور صحافیوں کے پیروں میں حکومت اور مقتدر طبقے نے پابندیوں کی زنجیر ڈالی ہوئی تھی، وہ کوئی ایسا مواد مشتہر نہیں کرسکتے تھے، جس میں حکومت اور فرماں روائے وقت یا حکومتی اہل کاروں کی پالیسیوں پر جرح و تنقید کی گئی ہو۔

آج کے دور میں آزادیٔ اظہار رائے کے حوالے سے فرعونی تہذیب کا ترجمان کمیونسٹ نظریہٴ ابلاغ ہے جو اشتراکیت کے عروج کے دنوں میں کافی موضوعِ بحث رہا۔ کمیونسٹ نظریہٴ ابلاغ میں اظہاررائے اور فکر و نظر کی آزادی کو حکومت کی پالیسیوں کی تشہیر تک محدود کردیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اس بات کے پابند تھے کہ وہ عوام میں جاکر انھیں حکومت اور پارٹی کی پالیسیوں سے آگاہ کرائیں اور مملکت کے بنیادی نظریے یعنی کمیونزم کی تشہیر کریں اور اس نظریے کو اپنانے کے لیے عوام کی ذہن سازی کریں۔ مطلب یہ کہ کمیونسٹ نظریہٴ ابلاغ بھی کسی نہ کسی شکل میں مقتدرانہ نظریہٴ ابلاع کا ہی چربہ تھا۔ اس میں بھی عوام مجبور و مقہور اور مہر بہ لب تھے۔

مغربی فکر وسوچ پر بھی یہی اصولپندرہویں سولہویں صدی تک حاوی رہا اور تمام ذرائع ابلاغ ودیگر حکومتی تحویل میں رہے ۔ افلاطوں نے اسی نظریے کو پسند کیا اور کہا :”اگر ریاست میں اختیارات کو بہت سے افراد میں تقسیم کردیا جائے توریاست کا زوال شروع ہوجاتا ہے،اس لیے حاکم کو چاہیے کہ ریاست کے انتظام میں عوام کے عمل دخل کو محدود کردے۔“[2]

عالمِ حاضر اور مغرب کی فکری آزادی :

فرعونی آزادی ٔاظہار رائے کے مقابلے میں یورپ میں اس کے بالکل برعکس نظریے نے جنم لیا اور وہ تھا مادر پدر آزادی کا نظریہ ۔ جہاں فکر ونظر کی اور کردار وعمل کی مکمل آزادی دے دی گئی ۔ اظہار کی آزادی کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کے سر کش گھوڑے کو ایسا بے لگام چھوڑ دیا گیا جس نے ایمانیات کے ساتھ انسانوں کی اخلاقیات کو بھی پیروں تلے روند کر دکھ دیا ۔ یہ نظریہ آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ کے طور پر تاریخ میں جانا گیا،چونکہ اس عہد میں سائنسی دریافتوں نے انسان کو عقلیت کا سبق سکھایا تھا اوروہ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی اس کو اپنی زندگی میں رو بہ عمل لاتاتھا،اس لیے انھوں نے ما قبل کے نظام حکومت میں عائدقید و بند سے آزادی کے لیے ایک ایسے نظریے کا سہارا لیا، جس میں فرد کو ساری آزادی میسر تھی۔آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ کو امریکی حکمرانوں نے خوب شہہ دی اور سب سے پہلے امریکی دستور میں یہ ترمیم کی گئی کہ کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی، جس سے تحریرو تقریراور ذرائع ابلاغ کی آزادی پر حرف آتا ہو۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حکمراں طبقوں نے اس نظریہ کو اپنے ملکوں میں خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ مقتدرانہ نظریہ ابلاع میں تمام اختیارات ریاست اور حکمراں طبقے کو حاصل تھے، اس کے بر عکس آزادی پسندانہ نظریہ ابلاغ میں ہر فرد کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ وہ جو چاہے، جس طرح چاہے اور جس کے خلاف چاہے تقریر اور تحریر کے سہارے اس کا اظہار کر سکتا ہے۔مملکت یا حاکم وقت کو اس کے دست وبازو کو پکڑنے اوراس کو مہربہ لب کرنے کا حق نہ ہوگا۔[3]

یہ جرأت اس انتہا کو پہنچ گئی کہ مقدس مقامات ، شخصیات ، انبیاء کرام بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے ۔ انہوں نے عظیم الشان ہستی جناب محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کی جسارت کی ، جبکہ اس سے قبل دیگر انبیاء کرام جناب یوسف علیہ السلام ، جناب عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کی شخصیات کے فلمی کردار پیش کئے ۔ یہ سب کچھ اسی آزادئ اظہار رائے کے فلسفے کو بنیاد بناکر ہوتارہا ، وا عجبا !

آزادی اظہار رائے کا یہ ناسور جب مغرب کے رگ وریشہ میں رچ بس گیا تو یہ نظریہ مغرب نے محض اپنی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ دیگر اقوامِ عالم کو بھی اس کے ذریعے مسخر کیا ۔ اور آج آپ اندازہ کرسکتے ہیں مسلمانوں ودیگر اقوام عالم کی مغرب کے سامنے بے بسی کی وجہ یہ شتر بے مہارانہ آزادی ہے ۔ مغرب نے ایسے شاطرانہ طریقے سے اممِ عالم کو فکر ونظر اور اظہار رائے میں آزاد کیا کہ اس وقت دنیا میں بالعموم اور عالم اسلام میں بالخصوص جتنی بھی سورشیں برپا ہیں ، جتنی بھی افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت ہے سب اس آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی شتر بے مہار آزادی کے باعث ہے ۔

میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اوّل ، دیتے ہیں شراب آخر

عالم حاضر میں اس بے لگام آزادی کے باوجود چونکہ انسانی فطرت سے تو ہر مسلم وکافر کا پالا پڑتا ہے، اس سے خلاصی ممکن نہیں لہٰذا ہر قوم وملک کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ آزادئ اظہار رائے پر ( چاہے وہ جزوی ہو ) روک لگائی جائے ورنہ کوئی قوم اس کے بغیرنہ ترقی کرسکتی ہے نہ فساد کو کنٹرول کرسکتی ہے۔ اسی فطری ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے جدید تہذیب نے بھی کچھ ایسے قوانین واصول وضع کئے ہیں جن کی رو سے ان کے ہاں چند مسائل پر گفت وشنید کرنا ، کسی قسم کی رائے کا اظہار کرنا شجرہ ممنوعہ قرار پاتا ہے ۔

جیسا کہ قوانین بین الاقوام اس کے شاہد ہیں ۔

یورپی کنونشن کا چارٹر (مجریہ 1950، روم) آزادی اظہار رائے کی روک کو قانونی حیثیت بھی عطا کرتاہے۔ جس کی رو سے

’’ آزادیٔ خیالات کے ان حقوق پر معاشرے میں موجود قوانین کے دائرہ کار کے اندر ہی عمل کرنا ہوگا، تاکہ یہ آزادیاں کسی دوسرے فرد یاکمیونٹی کے تحفظ ، امن وامان او ردیگر افراد یا کمیونٹی کے حقوق اور آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ‘‘

مزید برآں اسی چارٹر کے سیکشن 1، آرٹیکل 10 کی شق اول ودوم میں یہ بھی درج ہے کہ

’’آزادیٔ اظہار کے حوالے سے ملکی قوانین پامال نہیں کئے جائیں گے، تاکہ جمہوری روایات علاقائی سلامتی، قومی مفادات، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔‘‘

’’آزادی اظہار کا یہ تصور فرض شناسی اور ذمہ دارانہ رویے سے مشروط ہے۔‘‘

’’آزادیٔ اظہار کا حق نہایت حزم واحتیاط او رذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے، اس کے ذریعے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں معاشرے کی اخلاقی اقدار، دوسروں کی عزتِ نفس، اور ان کے بنیادی حقوق کو گزندپہنچائے۔ ‘‘

آزادیٔ اظہار کا یہ حق 'انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس '  ICCPRکے ذریعے بھی محدود کردیا گیا ہے۔[4]

ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک مشہور کیس Faurisson VS Franceکا عدالتی فیصلہ ملاحظہ ہو:

’’ایسے بیانات پرجو یہودیت دشمن جذبات کو ابھاریں یا انہیں تقویت دیں، پابندیوں کی اجازت ہوگی، تاکہ یہودی آبادیوں کے مذہبی منافرت سے تحفظ کے حق کو بالادست بنایا جاسکے۔‘‘

ہولوکاسٹ پر لب کشائی کرنا بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے ۔ حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک میں ہولو کاسٹ کے انکار پر 20 سال قید کی سزا مقرر ہے ۔

سابق الذکر ان دونوں نظریات کو بعین ِعدل دیکھا جائے تو یہ افراط وتفریط پر مبنی ہیں ۔ کسی مہذّب سماج اور انسانی معاشرے میں نہ تو کسی فرد کو مکمل اظہار کی آزادی دی جاسکتی ہے کہ وہ شُترِ بے مہار بن جائے اور آزادی اظہار کے پردے میں دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنے، حرمات ومقدّسات کی پامالی کا مرتکب ٹہرے اور لوگوں کی نجی زندگی کے بارہ میں لب کشائی کرے ۔ اور نہ ہی انسانوں کی فکر و نظر کی آزادی کوبے جاقانون و اصول کا سہارا لے کر اس طرح قید و بند کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے فطری اور پیدائشی حق کے لیے بھی آواز بلند نہ کرسکیں۔

اسلام اور آزائ اظہار رائے :

ہر مسلمان کلمہ شہادت ’’ أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم‘‘ پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا معترف بنتاہے ۔ عبودیت کا مطلب ہوتاہے بندگی ، غلامی گویا کہ بندہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ اے اللہ میں اپنی تمام زندگی تیری غلامی میں بسر کروں گا ۔ اب غلامانہ زندگی کیسی ہوتی ہے؟ ہر ذی شعور فرد اس سے بخوبی واقف ہے ۔ زمانہ حاضر میں جہاں انسان نے مادی زندگی میں ترقی کی ہے اس ترقی کو بنیاد بناکر حضرت یہ سمجھ بیٹھا ہےکہ شاید اخلاقی ، تہذیبی ، مذہبی ، ثقافتی اقدار بھی بدل چکے ہیں اس لئے ان میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔ انہی اقدار میں ایک آزادی اظہار رائے بھی ہے۔ میڈیا کی ترقی اور عروج کے بعد ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے اظہار رائے کا حق حاصل ہے ۔ وہ اپنی رائے میں آزاد ہے ،جو چاہے کہے !جیسا چاہے عقیدہ رکھے ! لوگوں کو اس کا قائل کرے اور اپنی سوچ وفکر کا ہمنوا بنائے ۔

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

نہ   اسلام  بگڑے  نہ  ایمان  جائے

مغرب نے حریت پر قانونی ضابطے لاگو کئے مگر دینی اور اخلاقی ضابطوں سے لوگوں کو آزاد کردیا۔  اسی بنیاد پر مغرب میں دین کو دنیا سے الگ کردیا گیا اور’’أعطوا مالقیصر لقیصر وما للّٰه للّٰه‘‘ کا نعرہ لگایا ۔ مگر اسلام میں حریت اور آزادی کا مفہوم لوگوں کو مخلوقاتِ کائنات کی عبودیت سے نکال کر اللہ رب العزت کی عبودیت میں لگانا ہے ۔ اس لئے واقعہ قادسیہ کے موقع پر جب رستم نے مغیرہ بن شعبہ سے پوچھا کہ آپ لوگ ہمارے علاقوں میں کس لئے آئے ہیں تو آپ فرمانے لگے’’لإخراج


العباد من عبادة العباد إلى عبادة الله ‘‘[5]

لوگوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگانے آئے ہیں ۔

اسلام کرہ ارض پر موجود ادیان ومذاہب،تہذیبوں اور ثقافتوں پر آزادئ اظہار رائے کی حفاظت ورعایت کے تمام اعلیٰ ضابطوں کے تعین میں سبقت لے جا چکاہے ۔ اس لئے کہ یہ فطری دین ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے صحیح اور حقیقی آزادی محض وہی ہے جو باری جل وعلا نے اپنی کتابوں اور اپنے رسولوں کے ذریعہ واضح فرمادی ہے ۔لیکن جہالت کے انتشار کے باعث لوگ آزادی کو اس کے اصل مفہوم سے ہٹا کر اور سمت لے گئے ہیں ۔

مغربی فکر میں آزادئ رائے کو محض اس پیرائے میں محصور کردیا گیا ہے کہ آپ سے کسی کو نقصان یا تکلیف نہ پہنچے۔ انہوں نے یہ ضابطہ متعین کیاکہ ’’ آپ کی آزادی میرے نقصان کی حد پر ختم ہوجاتی ہے ‘‘۔

اس حوالے سے سگریٹ نوشی کی مثال لے لیجئے ! مغربی نظریہ کے مطابق آپ اپنے گھر میں آزاد ہیں چاہے جتنی مرضی شگریٹ نوشی کریں ، ہاں آپ باہر مجمعے میں کسی اور کے سامنےسگریٹ نہ پئیں کیونکہ اس سے دوسرے کو تمباکو کی آمیزش سے تکلیف ہوتی ہے ۔

بہت سے مسلمان بھی شخصی آزادی کا مفہوم اچھی طرح نہیں سمجھ پائے اور وہ بھی مغربی فکر کی مغلوبیت ومرعوبیت کے باعث آزادی کا دائرہ کسی دوسرے کے نقصان پر محدود کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو چاہے جتنا نقصان پہنچا سکتاہے پہنچائے غیر کو اس سے کوئی قدغن نہیں لگنی چاہئے ۔

اسی ضابطے کو سامنے رکھتے ہوئے لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ میرے سامنے کفریہ کلمات مت کہیں ، ہاں تنہائی میں آپ جو مرضی کریں! اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ، اس کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کریں آپ آزاد ہیں ۔ والعیاذ باللہ

الغرض مغربی آزادی کسی دوسرے کے نقصان سے مقید ہے ۔ جہاں کسی غیر کو زک پہنچے آپ کی آزادی کا دائرہ وہاں ختم ۔ اس لئے انہوں نے اعتقاد ات میں آزادی دے رکھی ہے ۔ کہتے ہیں آپ جو چاہیں عقیدہ رکھیں ، کسی پتھر ، درخت ، بجلی کے پول ، جسے چاہتے ہیں اسے خدا بنائیں ۔ یہودی ہوں ، عیسائی ہوں ، بدھ مت ہوں ، سکھ ہوں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن اس طرح کی اعتقادی  آزادی کی گنجائش اسلام میں نہیں ہے ۔ اسلام لوگوں سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ اِلٰہ واحد کے سامنے جھکیں ، خود کو اس کے سپرد کردیں کیونکہ وہی ان کا مالک ، خالق اور رازق ہے فرمان باری تعالیٰ ہے :

 {وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ} [آل عمران: 85]

            ’’اور جو شخص اسلام (فرمانبرداری) کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کتنی قوموں کوشرک کے باعث صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب۔ اسلام کا اس حوالے سے ضابطہ واضح ہے ۔وہ کفر اور الحاد کی آزادی نہیں دے سکتا ۔ ہاں اسلام ہر کسی کو اسلامی آداب کے اندر رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کاواضح شاہد ہے کہ آپ نے منبر پر خطبہ دیا اور لوگوں کو حقِ مہر میں مبالغہ کرنے سے منع فرمایا، ایک عورت نے آپ سے کہا کہ آپ حق مہر میں مغالبےسے کیوں منع فرما رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

{وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ۰ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَـيْـــًٔـا۰ۭ اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا} [النساء: 20]

            ’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو اور تم نے اسے خواہ ڈھیر سا مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو ۔ کیا تم اس پر بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کے مرتکب ہو کر اس سے مال لینا چاہتے ہو؟‘‘

 یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ’’ أصابت المرأة وأخطأ عمر ‘‘ عورت نے صحیح کہا اور عمر سے غلطی ہوئی ۔ پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دیا اور اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا ۔

نامور عالم دیں حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں ’’خلفاء راشدین نے اپنے کو تنقید سے بھی بالاتر نہیں سمجھا اورا ظہارِ رائے پر قدغن نہیں لگائی ۔ وہ پانچوں وقت خود عام لوگوں کی امامت کراتے اور جمعہ وعیدین کے موقعے پر لوگوں سے براہِ راست خطاب فرماتے ۔ یُوں ہر شخص کے لیے ان پر تنقید کرنا اور ان کو روکنا ٹوکنا ممکن اور آسان تھا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ حکمرانوں کا عوام کی دسترس سے بالا رہنا یا انہیں اظہارِ رائے سے محروم رکھنا یہ اسلام کے نظامِ خلافت سے مطابقت نہیں رکھتا ‘‘[6]

اہل علم فرماتے ہیں ’’ الغرب قيد الحرية فقط أن لا تضر بالآخرين ، فالحرية في الإسلام قيدها أيضا ألا تضر بنفسك " [7]مغرب نے آزادی کو محض اس اصول سے مقید کیا ہے کہ آپ کسی اور کو نقصان نہ دیں جبکہ اسلام نے اسے اس ضابطہ سے مقید کیا ہے کہ آپ اپنے آپ کو بھی نقصان نہ دیں ۔ اسلام کو آپ کی صحت ، آپ کی جان ،آپ کی عزت اور آپ کے مال کی حفاظت آپ سے زیادہ عزیز ہے ۔

جیساکہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ’’ لا ضرر ولا ضرار ‘‘[8]’’ نہ کسی کو ابتداءاً نقصان پہنچایا جائے اور نہ بدلے میں‘‘۔

ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

’’ لا ضرر ولا ضرار ، من ضار ضره الله ، ومن شاق شق الله عليه ‘‘[9]

            ’’ جو کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اس کو نقصان پہنچائے اور جو دوسرے پر سختی کرے اللہ اس پر سختی کرے ‘‘۔

اسلام میں مطلق العنان نام کی کسی قسم کی آزادی نہیں ،بلکہ ہر آزادی کو مقید کردیا گیاہے ۔ کیونکہ قید کے بغیر صالح اور فاسد کی تمییز ممکن نہیں ۔ ایک مسلمان کو یہ بات تصور میں بھی نہیں لانی چاہئے کہ اسے مادر پدر رائے کی آزادی دی جائے !۔اسلام کہتا ہے کسی اورکو بھی نقصان نہ دو اور اپنی ذات کو بھی نقصان نہ پہنچاؤ ۔ اس لئے اسلام نے شراب ، سگریٹ نوشی ، جوا ، سود ، خنزیر کھانے سے منع کیا کہ اس سے انسان کی اپنی ذات کو نقصان پہنچتاہے ۔ الغرض اسلام انسانیت سے ہمدردی رکھتا ہے ۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نادانی میں جب آزادیٔ رائے کی بات کرتے ہیں ، تو اس میں کفر کی آزادی بھی دے جاتے ہیں ،یعنی حریت فکر ، اور حریت کفر دونوں اصطلاحوں کو یکجا کرجاتے ہیں اسلام نے فکر کی آزادی دی ہے لیکن کفر کی نہیں مگر بعض ناداں نام نہاد مسلمان حریت فکر کو بنیاد بناکر حریت کفر کی بھی اجازت دے دیتے ہیں ۔

 الغرض ہم مسلمان ہیں ایک مسلم کی حیثیت سے سوچیں کہ کیا ہم رائے کے اظہار میں آزاد ہیں ؟ یا شرعی طور پر ہم پر کچھ پابندیاں ہیں جنہیں خاطر میں لانا ضروری ہے ۔

اسلام میں آزادئ اظہارِرائے کے اصول و ضوابط

پہلا اصول : اسلام نے کس میدان میں اظہار رائے کی آزادی دی ہے ؟

جو بھی حکم ، فیصلہ ، یامسئلہ شرعی نصوص سے ثابت ہو ،چاہے اس کا تعلق عبادات و معاملات سےہو یا حدود وتعزیرات سے یاپھر خانگی اور عائلی معاملات سے اس بارے میں اسلام نے حکم دیا ہے کہ اس کے خلاف اظہار رائے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا} [الأحزاب: 36]

            ’’اور (دیکھو،) کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ سزاوار نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول (ان کے بارے میں) کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو (وہ اپنی رائے کو دخل دیں اور) اس معاملے میں ان کا (اپنا) اختیار (باقی) رہے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔‘‘

 اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کسی فیصلے پر رائے زنی تو کجا اس سے متعلق دل میں کجی رکھنا بھی انسان کو ایمان سے دور کردیتاہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا} [النساء: 65]

            ’’پس (اے پیغمبر،) تمہارے رب کی قسم، یہ (کبھی) مومن نہیں (ہو سکتے) جب تک کہ اپنے باہمی جھگڑوں میں یہ تمہیں حَکَمْ نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کردیں اس سے اپنے دلوں میں ذرا بھی تنگی نہ پائیں اور (دل و جان سے اس کو) تسلیم نہ کرلیں ۔‘‘

قرآن وسنت کے دلائل اور ائمہ سلف کا اتفاقی فیصلہ ہے کتاب وسنت کے کسی فیصلے پر نقد کرنا اسے رد کرنا جائز نہیں جو ایسا کرے گا گویا وہ حق سے نکل گیا اور اس نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ}[الحجرات: 1]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو (کیونکہ) وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔‘‘

تمام آراء کو کتاب وسنت پر پیش کیا جائے گا جوان کے موافق ہوگی لے لیا جائے گا جو مخالف ہوگی اسے رد کردیا جائے گا ۔

امام ابو الزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

" إن السنن لا تخاصم ، ولا ينبغي لها أن تتبع بالرأي والتفكير ، ولو فعل الناس ذلك لم يمض يوم إلا انتقلوا من دين إلى دين ، ولكنه ينبغي للسنن أن تلزم ويتمسك بها على ما وافق الرأي أو خالفه".[10]

            شرعی ثوابت وسنتوں سے متعلق تنقید وتردید کی کوئی گنجائش نہیں ۔اور یہ کسی طرح بھی روا نہیں کہ رائے محض اور پراگندہ فکر سے ان کی بیخ کنی کی جائے، اگر لوگوں کو اس کی آزادی دے دی گئی تو ایک دن بھی ایسا نہیں گزرے گا کہ لوگ ایک دین سے دوسرے دین میں منتقل ہوجائیں گے ، مگر شرعی سنن کے حوالے سے ضروری یہ ہے کہ ان کی پیروی کی جائے اور ان پر عمل کیا جائے چاہے وہ رائے کے موافق ہوں یا مخالف ‘‘۔

اس لئے اسلام میں اظہار رائے کو کتاب وسنت اوراجماع امت کے ماتحت کیا گیا ہے کوئی بھی انسان اپنی رائے کا اظہار کرتے وقت کسی مصلحت کو بنیاد بنا کر ایسے نتائج لاتا ہے جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو گویا اس نے شریعت اسلامی سے ناگواری کا اظہار کیا اور اسے خوش دلی سے قبول نہیں کیا ۔[11]

اس لئے اہل علم نے یہ قواعد وضع کئے ہیں کہ : ( لا اجتهاد في موارد النص )[12] نصِ شرعی کی  موجودگی میں اجتہاد جائز نہیں ۔

( وان ما عارض النص فاسد الاعتبار ) [13]جو بات بھی نصِ شرعی کے خلاف ہوگی وہ ناقابلِ اعتبار ہوگی ۔

مگر صد افسوس ہم اگر اس وقت مسلم معاشرہ کا جائزہ لیں تو اس میں شرعی ثوابت کو بھی طعن وتنقید اور رائے کی نذر کردیا جاتاہے ۔ جس میں شرعی حدود ، ایک سے زائد شادیاں ، خواتین کی وراثت کا مسئلہ ، خواتین کی آزادی ، پردے کے مسائل وغیرہ ، شرعی نصوص سے ثابت شدہ ان تمام معاملات کو زیر بحث لاکر اسے مختلف طریقوں سے تنقیدکا نشانہ بنایا جاتا ہے جو قطعاً غیر شرعی عمل ہے اور انسان کو کفر میں بھی مبتلا کرسکتاہے !۔

دوسرا اصول : صاحب رائے کون ہونا چاہئے ؟

رائے کے اظہار کرنے والے کیلئے اسلام نے کڑی شرط لگائی ہے کہ وہ صاحب علم ہونا چاہئے اگر کوئی علم سے ہٹ کر بات کرتا ہے اس کی کوئی وقعت وحیثیت نہیں ۔فرمان باری تعالیٰ ہے

{وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا} [الإسراء: 36]

            ’’اور (دیکھو،) جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگو ۔ (یاد رکھو،) کان، آنکھ اور دل ان سب سے (قیامت کے دن) باز پرس ہونی ہے۔‘‘

{وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ الْكَذِبَ۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ۝} [النحل: 116]

            ’’اور نہ کہو جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، کہ اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگو ۔ (یاد رکھو،) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔‘‘

اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جو شخص جس فن کا ماہر ہے وہ اسی فن میں بات کرے، اپنے فن  سے ہٹ کر اگر اس سے رائے لی جائے تو اسے چاہئے کہ اس بات کو اس فن کے ماہرین کے سپرد کردے ۔جیسے طب کے مسئلہ میں کسی انجینئر کی بات کی کوئی حیثیت نہیں تو اسی طرح شرعی مسئلہ میں کسی غیر عالم اور کسی دنیاوی فن کے ماہر کی رائے کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ اس لئے فقہاء رحمہم اللہ نے یہ مسئلہ بیا ن کیا ہے کہ ’’يشرع الحجر على المتطبب الجاهل‘‘[14]اطائی معالج پر پابندی لگانا ضروری ہے ۔ اگر دنیاوی شعبہ جات کے لوگ ایک دوسرے کے شعبہ کا احترام کرتے ہیں تو پھر شرعی معاملات ومسائل میں اس احترام کو کیوں درخوراعتنا نہیں سمجھا جاتا؟ کیا دین اتنا ہی لا وارث ہے کہ جسے جو من میں آئے وہ کہہ دے ۔ اللہ کے بندو اللہ کا خوف کرو ۔ جو شعبہ سب سے حساس ہے اس میں غلط رائے زنی انسان کو کفر تک لے جاسکتی ہے ہم نے اسے اتنا ہی ارزاں بناکر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کیلئے میدان کھول دیاہے کہ وہ شرعی مسائل میں ببانگ دہل اپنی جہالت جھاڑتا پھرے ۔ میڈیا کی شتر بے مہاری کے باعث ہمارے چینلوں پر مذہبی پروگرام چند مسخروں ، بھانڈوں ، مداریوں ، گویوں ، اداکاروں اور کاسہ برداروں کے حوالے کردئے گئے ہیں ۔ بقول ڈاکٹر ضیاء الدین ’’ مذہب کے نام پر روایت اور دین کے نام پر خرافات بانٹنے کا سلسلہ ہر جگہ جاری ہے ۔ نہ ایمان نہ عقیدہ ، نہ کعبہ ، نہ امام، نہ مقتدی ، نہ رمضان ، نہ امان ۔ سارے فُقرے ، بھوکے ننگے ، چھٹل کارتوس ، بڑے عمامے ، کھوکھلے سر ، چینلوں پر آنے کے شائق ، رونمائی کی ہوس کے مارے ہوئے منافق ، ستر برس میں سترہ برس کے دکھائی دینے کے شوقین ، حلق سے قاف نکالنے اور حلق تک افطاری ٹھونسنے والے شکم پرور ، دین کو مداری کی مرضی سے موڑنے توڑنے اور جوڑنے والے کاریگر ، پیسے لے کر فتوے دینے والے چھابڑی بردار ، سب چینلوں پر جمع ہیں ، جبکہ اصل علماء مساجد اور مدارس میں عبادت اور تدریس میں مصروف ہیں ۔[15]

یہ مختصر سا نقشہ ہے جس میں واضح کردیا گیاہے کہ اس وقت میڈیا پر دینی معاملات میں رائے دینے والے کن صفات ومعیارات کے حامل ہیں ۔الّا ما شاء اللہ

اسلام نے رائے کے حوالے سے علم کے ساتھ ایک ضابطہ یہ بھی متعین کیا ہے کہ اظہار رائے میں ارادہ خیر وحق ہونا چاہئے ۔ نہ کہ محض اظہار رائے اور خود نمائی کا جذبہ ۔ فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے ’’ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ‘‘۔ [16]

تیسرا اصول : رائے کے نتائج کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے

بسا اوقات اس طرح کی صورت حال بن جاتی ہے کہ رائے دہی اصلا تو جائز ہوتی ہے اس میں کوئی شرعی مخالفت نہیں ہوتی لیکن حالات اس طرح کے درپیش ہوتے ہیں کہ اس موقع پر اظہار رائے سے فتنہ کے درآنے کا خدشہ ہوتاہے ۔ اور اس کے درپردہ بہت سے مفاسد اور نقصانات ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔ شریعت مطہرہ کا بنیادی مقصد ومدعیٰ فساد ونقصانات کا خاتمہ ہے لہذا اس بنا پر کچھ مواقع ومحل ایسے ہوتے ہیں کہ رائے جائز ہونے کے باوجود اس کے اظہار سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسی بنا پر اہل علم نے ایک قاعدہ وضع کیا ہے ( سد الذرائع المفضية إلی الفساد) جو بھی ذرائع فساد پر منتج ہوتے ہیں انہیں روکا اور ختم کیا جائے گا ۔

شریعت میں اس کی مثالیں موجود ہیں

پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منافقین کو محض اس وجہ سے قتل نہیں کیا تھا کہ کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  تو اپنے ہی لوگوں کو قتل کررہے ہیں ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مفتی حضرات کو وصیت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" علی المفتی ان یمتنع عن الفتویٰ فیما یضر المسلمین ویثیر الفتن بينهم، وله ان یمتنع عن الفتوى إن كان قصد المستفتي كائناً من كان نصرة هواه بالفتوى وليس قصده معرفة الحق واتباعه ". [17]

            ’’مفتی کو چاہئے کہ ایسا فتویٰ دینے سے گریز کرے جو مسلمانوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے یا ان کے مابین فتنہ وشر انگیزی کا باعث بنے ۔ ایسی صورت میں وہ قطعا فتویٰ صادر نہ کرے چاہے مستفتی کوئی بھی ہو اس سے اس کی غرض اپنی خواہش اور رائے کی نصرت ہے نہ کہ حق کی پہچان اور اس کی اتباع ۔‘‘

اظہار رائے کے نتیجہ کے حوالے سے وقت کا بہت اہم کردار ہوتا ہے کہ انسان جب اپنی رائے دے رہا ہے اس وقت ماحول اور حالات کیسے ہیں ؟ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ میں جن لوگوں سے مخاطب ہوں کیا میری بات صحیح سمجھ بھی پائیں گے یا نہیں ؟

صحابہ کرام سے بھی متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ انہوں نے وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بہت سے مسائل میں خاموشی اختیار کی اور اظہار رائے سے اجتناب کیا ۔

عبد الرحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لایا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر عمر فوت ہوگئے تو میں فلاں کی بیعت کرلوں گا ۔ یہ بات سن کر عمر  رضی اللہ عنہ  فرمانے لگے کہ میں آج رات لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ایسے لوگوں کے بارے میں متنبہ کروں گا جو ان کی خلافت ہتھیانے کےچکر میں ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب یہ بات سنی تو عمر  رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المؤمنین آپ ہرگز ایسا نہ کیجئےگا! ۔ کیونکہ یہ حج کا موقع ہے جس میں کم عقل ، ہنگامہ پرداز اور عامۃ الناسب بھی اکٹھے ہیں ۔ اور جب آپ خطاب کیلئے کھڑے ہوئے تو یہ لوگ آپ کی مجلس پر حاوی رہیں گے ، مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ آپ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو صحیح طرح ان کو سمجھ نہ آئے اور یہ لوگ اسے لے اڑیں اور اسے اس کا صحیح مقام نہ دیں ۔ لیکن آپ جب مدینہ منورہ تشریف لے جائیں تو وہ دارہجرت وسنت ہے ، وہاں آپ علماء اور اشراف کو جمع فرماکر جو کہنا چاہیں کہہ دیجئے گا وہ لوگ آپ کی بات سمجھ بھی لیں گے اور اسے اس کا جائز مقام بھی دیں گے ۔ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ہاں : اگر میں مدینہ بخیر وعافیت پہنچ گیا تو یہ بات میں اپنے سب سے پہلے خطبے میں کہوں گا ۔ ۔۔[18]

چوتھا اصول : اختلافی معاملات میں کسی کو اپنی رائے کا پابند مت بنائیں

شریعت کے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں نہ نص قرآنی ہوتی ہے نہ واضح حدیث اور نہ اجماع امت سے کوئی چیز ثابت ہوتی ہے ۔ اہل علم اپنی ذہنی صلاحیت واستعداد کے مطابق اجتہاد کرکے مسئلہ بیان کرتے ہیں ۔ اور بعض لوگ بطور تقلید ہر ایک کو اسی عالم کی رائے کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ روش صحیح نہیں ۔ بلکہ ایسے امور میں وسعت ہے انسان جس مسئلہ کو اقرب الی الدیل سمجھے اس پر عمل پیرا ہوجائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"إذا نزلت بالمسلم نازلة فإنّه يستفتي من اعتقد أنه يفتيه بشرع الله ورسوله من أي مذهب كان، ولا يجب على أحد من المسلمين تقليد شخص بعينه من العلماء في كل ما يقول، ولا يجب على أحد من المسلمين التزام مذهب شخص معين غير الرسول صلى الله عليه وسلم في كل ما يوجبه ويخبر به، بل كل أحد من الناس يؤخذ من قوله ويترك إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو فتح هذا الباب لوجب أن يعرض عن أمر الله ورسوله، ويبقى كل إمام في أتباعه بمنزلة النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  في أمته وهذا تبديل للدين)[19]

            شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

            ’’ اگر کسی مسلمان کو کوئی مسئلہ درپیش آجائے تو وہ اس کا حکم کسی ایسے اس عالم دین سے دریافت کرلے جس کے بارے میں اسے گمان ہو کہ یہ عالم دین اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی شریعت سے ہی فتویٰ دے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذھب سے ہو ۔اور کسی بھی مسلمان کیلئے ہر مسئلہ میں کسی خاص عالم ومخصوص مذھب کی تقلید ضروری نہیں ۔ کسی بھی مسلمان کیلئے یہ روا نہیں کہ وہ کسی خاص مذھب کو منتخب کرکے اس کی پیروی کرے سوائے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقے کے، جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بتایا ہو اور آپ ہی نے واجب قرار دیا ہو ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات کے علاوہ ہر شخص کی بات کو لیا بھی جاسکتا ہے اور رد بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اور اگر تقلیدِ رجال کا دروازہ کھول دیا گیا تواس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرامین سے اعراض کی صورت میں نکلے گا اورامت کا ہر امام، مقتدا اور

 پیشوا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقام پر فائز ہوجائے گا جوکہ دین میں تبدیلی کے مترادف ہے ۔ ‘‘

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

 " ليس لأحد أن يلزم أحداً بقبول قول غيره ولو كان حاكماً."[20]

’’ کسی کیلئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر کے قول کا کسی کو پابند بنائے چاہے وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو ‘‘

پانچواں اصول : رائے کے اظہار سے کسی کو نیچا دکھانا مقصو د نہ ہو بلکہ مخلصانہ نصیحت مراد ہو

 رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

 " الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا قُلْنَا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ".[21]

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین مرتبہ فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے ! ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کی؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے ائمہ کی اور تمام مسلمانوں کی ‘‘۔

 اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث ان چند احادیث میں سے ہے جس پر فقہ کا مدار ہے ۔

محمد بن اسلم الطوسی فرماتے ہیں یہ حدیث دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے ۔

عامۃ المسلمین کو نصیحت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنےبھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے ، اور جس چیز کو خود ناپسند سمجھتا ہے اپنے بھائی کیلئے بھی اسے ناپسند سمجھے ، ان سے شفقت کا برتاؤ کرے ، چھوٹے پر شفقت اور بڑے کا احترام کرے ۔ ان کی خوشی پر خوش ہو اور ان کے غم پر غمگین ہو ، اگرچہ اس سے اسے دنیاوی معاملات میں کوئی گزند بھی پہنچے تو اپنے بھائی کی بھلائی کی خاطر اسے برداشت کرے ۔

ابن علیہ ابوبکر المزنی سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

            ’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو اصحاب محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر فوقیت اور فضیلیت ملی وہ نماز ، روزے کی وجہ سے نہیں ۔ بلکہ اس چیز سے ملی جو ان کے دل میں جاگزیں تھی۔ پھر فرمایا: ان کے دل میں اللہ کی محبت تھی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کیلئے نصحیت اور اچھی رہنمائی کا جذبہ تھا۔ ‘‘[22]

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

             ’’ مومن پردہ پوشی کرتا ہے اور خیرخواہی اور نصیحت کرتا ہے ۔ جبکہ فاجر پردہ دری ،مذمت اور بے حرمتی کرتاہے ۔[23]

چھٹا اصول :رائے کسی طرح بھی بری تشہیر، لعن وطعن ، بہتان اور گمراہی پر مبنی نہ ہو

 اسلام کسی طرح بھی اظہار رائے میں کسی کی بری تشہیر ، طعن ، کسی کو گالی گلوچ ، کسی پر بہتان درازی اور کسی کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، کہ آزادئ رائے کو بنیاد بنا کر اس طرح کے کام انجام دئے جائیں ۔

جبکہ ہمارے معاشرے میں جس رائے میں مذکورہ بالا معاملات نہ پائے جائیں اسے مؤثر ہی نہیں سمجھا جاتا۔نام نہاد مناظرات سے لیکر ٹی وی کی اسکرین پر نمایاں ٹاک شو کےسیٹ (Set )پر براجماں اصحاب تک میں غالب اکثریت اس شرعی اصول کو پامال کرجاتی ہے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

" لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلا اللَّعَّانِ وَلا الْفَاحِشِ وَلا الْبَذِيءِ "[24]

            ’’ مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعن کرنے والا نہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے ۔ نہ زبان درازی کرنے والا‘‘۔

کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اظہار رائے کے نام پر فساد فی الارض کا مرتکب ٹھہرے ۔

 فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَقُلْ لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا} [الإسراء: 53]

ترجمہ : اور (اے پیغمبر،) میرے (فرماں بردار) بندوں سے کہہ دو کہ (مخالفین سے کوئی بات بھی کہیں تو) ایسی کہیں کہ وہ (اخلاق کے اعتبار سے) بہترین ہو ۔ کیونکہ شیطان (سخت بات کہلوا کر) لوگوں میں فساد ڈلواتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

بلکہ اسلام نے بیشتر مقامات پر زبان کو کنٹرول رکھنے کا حکم دیا ہے فرمان نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے :

" هَلْ يُكَبُّ النَّاسَ عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتُهُمْ"[25]

’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک کر رکھو ( معاذ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (  صلی اللہ علیہ وسلم  ) ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا؟ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ! تمہاری ماں تمہیں روئے، لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی ؟ ‘‘

خلاصہ کلام :

 اسلام کا آزائ اظہار رائے کا فلسفہ مغرب اور نظریہ استبداد ( فرعونی فکر ) سے بالکل مختلف ہے ۔ اور عین عدل کے مطابق ہے ۔ اسلام نے اظہار رائے کی آزادی دی ہے اور اس میں عین عدل کے تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھا ہے اور اس کے ایسے ضوابط متعین فرمائے ہیں جن سے انسان کا ایمان بھی محفوظ رہتا ہے ، معاشرہ بھی پر امن رہتا ہے ، اور انسان شخصی نقصانات ، باہمی کینہ ، بغض وعداوت سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ حق کا متبع بنائے انہ ولی التوفیق

و صلى الله تعالى على نبينا محمد



[1] مدیر ریسرچ کونسل المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] تاریخ صحافت ، افتخار کھوکھر، ص: 188

[3] تلخیص از : تاریخ صحافت ص 187تا 200

[4] مزید تفصیلات کے لئے روزنامہ پاکستان لاہورمیں شائع کردہ مضمون’’نسلی ومذہبی منافرت اور عالمی قوانین‘‘ از آغا شاہی ، ملاحظہ فرمائیں۔

[5]  البداية والنهاية :ج 7 ص 43۔44

[6]  اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخِ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ  ، ص  12

[7] مفهوم الحرية بين الإسلا م والجاهلية ، للشيخ علي بن نايف الشحوذ .ص 18

[8] سنن ابن ماجہ : کتاب الأحکام ، باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ

[9] المستدرک علی الصحیحین : کتاب البیوع

[10] الفقيه والمتفقه ، للخطيب البغدادي 1/392

[11] بيان الدليل على تحريم التحليل ، ص 250

[12] شرح القواعد الفقهية ، للزرقا ص 147

[13] آداب البحث ، للشيخ محمد الأمين الشنقيطي ، 2/ 129

[14] القواعد النورانیہ الفقہیۃ ، ص 151،152

[15] روزنامہ امت،  اشاعت27 جولائی 2013

[16] بخاری : کتاب الأدب ، باب من کان یؤمن باللہ  ۔۔۔۔

[17] مجموع الفتاوى ، 28/ 198

[18] مسند احمد حديث 391. یہ واقعہ مختصرا صحیح بخاری میں بھی منقول ہے ۔

[19] مجموع فتاوى 20/208-216

[20] فتاوى ابن تيمية (35/387 )

[21] صحیح مسلم : کتاب الایمان ، باب بیان أن الدین النصیحۃ

[22] جامع العلوم والحكم، ص 235

[23] جامع العلوم والحكم، ص 236

[24] جامع الترمذی : کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی اللعنۃ

[25] جامع الترمذی : کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی اللعنۃ

ملاحظہ کیا گیا 614 بار