بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 20 تشرين2/نوفمبر 2018 13:51

امام البانی رحمہ اللہ اور قائل جشن میلاد النبی کے مابین مکالمے کی روداد

مولف/مصنف/مقرر  حافظ مدثر ارشد

علامہ البانی رحمہ اللہ:جشن میلاد النبی شریف خیر ہے یا شر؟

میلادی ھداہ اللہ:خیر ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:کیا رسول اللہ اور آپکے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے ناواقف تھے؟

میلادی ھداہ اللہ :نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:صرف ”نہیں“ کہنا کافی نہیں، آپ کو اس سوال کا فوراً یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ :یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے لاعلم رہیں، حالانکہ اسلام و ایمان کی ساری باتیں ہمیں محمد کے ذریعے سے ہی معلوم ہوئی ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کام کو ہم ’’خیر‘‘جانتے ہوں اور نبی کریم اس سے ناواقف ہوں؟ یہ ناممکن ہے۔

میلادی ھداہ اللہ:دراصل میلاد النبی آپ ﷺکے ذکر کا احیاء ہےاور اس میں آپکی تکریم ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:یہ فلسفہ ہم پہلے بھی سن چکے ہیں ،یہ بتائیں جب رسول نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی تو انہیں اسلام کے سبھی احکامات کی دعوت دی یا توحید کی؟

میلادی ھداہ اللہ:توحید کی۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:سب سے پہلے توحید کی دعوت دی ، نماز ، روزہ ، حج وغیرہ اسکے بعد فرض کئے گئے ، لہذا آپ بھی قدم بقدم اسی طریقے پر چلیں ۔

اب تک ہم دونوں متفق ہیں کہ ایسی کوئی ’’خیر‘‘نہیں جو ہم جانتے ہوں لیکن رسول اللہ اس سے بے خبر ہوں، اس بارے میں کوئی بھی دو فرد اختلاف نہیں رکھتے ،

 اور میرا ماننا ہے کہ جو اس بات میں شک کرے گا وہ مسلمان نہیں ۔

اور رسول اللہ کی حدیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہے ، ارشاد فرمایا:

ما تركتُ شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به

میں نے کوئی ایسی بات نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ سے قریب کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اسکا حکم دے دیا ہے۔

پس اگر میلاد منانا ایسی ’’خیر‘‘ہے جو ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہے تو رسول اللہ نے ہمیں اسکے بارے میں ضرور بتایا ہوگا، صحیح یا غلط؟

کیا آپ میری اب تک کی گفتگو سے مکمل متفق ہیں؟

میلادی ھداہ اللہ:متفق ہوں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاك اللہ خیراً

اب ہم میلاد کے قائلین سے پوچھتے ہیں :

تمہارے بقول میلاد منانا ’’خیر‘‘کا کام ہے تو رسول اللہ نے اس بارے میں ہمیں کچھ بتایا ہوگا یا نہیں بتایا ہوگا ، اگرتم کہو بتایا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ :

هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

ہم اس بارے میں علوی کے کتابچے پڑھ چکے ہیں انکے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ یہ بدعت حسنہ ہے۔گویا میلاد منانے کو جائز کہنے والے اور اسکا انکار کرنے والے سب متفق ہیں کہ:

 یہ جشن رسول اللہ کے عہد مبارک میں نہیں تھا نہ ہی عہد صحابہ کرام میں نہ ہی عہد ائمہ اعلام میں ۔

 لیکن میلاد کے قائلین کہتے ہیں کہ :میلاد منانے میں کیا حرج ہے ؟ یہ رسول اللہ کا ذکر ہے اور اس میں آپ پر صلاۃ و سلام پڑھا جاتا ہے؟ہم جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ کام ’’خیر‘‘کا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہم سے پہلے کرچکے ہوتے۔

آپ کو حدیث کا علم ہے :

خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

سب سے بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر میرے بعد والوں کا پھر انکے بعد والوں کا۔

آپ کا زمانہ وہ ہے جس میں آپﷺ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم جیتے رہے ، پھر تابعین کا زمانہ ہے پھر تبع تابعین کا زمانہ ہےرحمہم اللہ۔

اس بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسی بھی ’’خیر‘‘ہے کہ ان سے پہلے جسکا علم ہمیں ہوگیا اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں ۔

میلادی ھداہ اللہ: سائنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اگر رسول اللہ اپنے زمانے کے لوگوں کو بتاتے کہ زمین گھومتی ہے..۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:معاف کیجیےگا ، مضمون سے مت ہٹیں، میں نے آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھا ہے،’’علم اور عمل‘‘ علم سے میری مراد علم شرعی ہے ، کوئی اور علم نہیں ، مثلاً اگر کو ئی کہے کہ فلاں ڈاکٹر طب میں ابن سینا سے بڑا عالم ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ زمانہ خیر القرون سے آگے بڑھ گیا ، ہم علم شرعی کی بات کررہے ہیں ، نہ کہ جغرافیہ یا فلکیات یا کیمسٹری یا بائیولوجی کی ، فرض کریں اگر آج کا کو ئی کافر شخص ان علوم کو سب انسانوں سے زیادہ جانتا ہو تو کیا یہ چیز اسے اللہ کا مقرب بنادیگی ؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ: لہذا اب ہم سائنس کی نہیں بلکہ اس علم کی بات کررہے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب کرتا ہے ، ہماری گفتگو جشن میلاد کے متعلق چل رہی تھی ،

میں دوبارہ سوال کرتا ہوں اور واضح جواب کی امید کرتا ہوں:

کیا آپ اپنی عقل و فہم کے مطابق مانتے ہیں کہ ہم علم شرعی میں صحابہ ، تابعین ، اور ائمہ مجتہدین سے زیادہ ہیں ، خیر اور اللہ سے قریب کرنے والے اعمال میں ان سلف صالحین پر سبقت لے گئے ہیں؟

میلادی ھداہ اللہ:علم شرعی سے آپکی مراد علم تفسیر ہے ؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:وہ ہم سے زیادہ علم والے تھے ، تفسیر قرآن کا علم ہو یا حدیث رسول کی تفسیر کا علم ہو یا شریعت اسلام کا علم ہو۔

میلادی ھداہ اللہ:تفسیر قرآن کا علم تو آج کے دور میں عہد رسول سے زیادہ ہے ، مثلاً، قرآن کی آیت:

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:88)

آپ پہاڑوں کو ٹھہرا ہوا محسوس کریں گے حالانکہ وہ چلتے ہیں جیسے بادل چلتے ہیں ، اللہ کی کاریگری ہے ، جس نے ہر شے کو مستحکم کیا، تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے باخبر ہے۔

اگر رسول اللہ اپنے زمانہ میں کسی سے کہتے کہ زمین گھومتی ہے تو کوئی بھی آپکی تصدیق نہیں کرسکتا تھا۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:یعنی آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپکو دوبارہ یاد دلائیں کہ آپ موضوع سے ہٹ رہے ہیں ،

میرے بھائی میں آپ سے کُل کے متعلق پوچھ رہا ہوں نہ کہ جزء کے متعلق ، عام سوال ہے کہ اسلام کے متعلق سب سے زیادہ علم کس کے پاس تھا؟

میلادی ھداہ اللہ:لازمی سی بات ہے رسول اللہ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہم آپ سے اس جواب کی امید کررہے تھے۔نیز آپ جس تفسیر کی بات کررہے ہیں اسکا عمل سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ فکر و فہم سے ہے ،

 اور اس آیت سے جو لوگ زمین کے گھومنے کا اثبات کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ،کیونکہ اس آیت کا تعلق روز قیامت سے ہے اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی شخص علم سائنس یا علم فلکیات میں صحابہ یا تابعین سے زیادہ علم رکھتا ہو ، جس طرح کفار ان علوم میں مسلمانوں سےآگے ہیں لیکن اس سے انہیں کیا حاصل ہوا ؟

کچھ نہیں ، تو ہم اس بے فائدہ شے کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس شے کے متعلق بات کررہے ہیں جو ہمیں اللہ سے قریب کردے ، ہم میلاد النبی شریف کے متعلق بات کررہے ہیں ، اور ہم متفق ہیں کہ اگر یہ ”خیر“کا کام ہوتا تو سلف صالحین اور ان کے سرداریعنی رسول اللہ اسے ہم سے زیادہ جانتے اور ہم سے پہلے اس پر عمل پیرا ہوتے،کیا اس میں کوئی شک ہے؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں ، کوئی شک نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:اب آپ سائنسی علوم کی جانب متوجہ نہ ہونا جن کا عملی طور پراللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ، نیز سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ میلاد نبی کریم کے زمانے میں نہیں تھا، گویا یہ ”خیر“ نبی کے زمانے میں اور صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہیں تھی ۔ان پر یہ ”خیر“ کیسے مخفی رہی ؟

ہم دو میں سے ایک بات ہی کہہ سکتے ہیں:

1وہ ہم سے زیادہ اس ”خیر“سے واقف تھے ،  یا

2 وہ اس ”خیر“سے واقف نہیں تھے۔

اگر ہم کہیں کہ وہ اس سے واقف تھے اور قائلین میلاد کے نزدیک یہی قول معتبر ہے تو انہوں نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟کیا ہم ان سے زیادہ اللہ کے مقرب ہیں ؟

ان میں سے کسی ایک صحابی یا تابعی یا عالم یا عابد نے، غلطی سے ہی صحیح ،اس خیر پر عمل کیوں نہ کیا؟کیا آپکی عقل مانتی ہے کہ اس خیر پر عمل کرنے کا موقع ان میں سے کسی کو نہ مل سکا ؟حالانکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے ،

اور ہم سے زیادہ عالم اور ہم سے زیادہ صالح اور اللہ کے مقرب تھے۔

میرا خیال ہے آپ رسول اللہ کی حدیث جانتے ہوں گے:

لا تسبوا أصحابي؛ فوالذي نفس محمد بيده لو أنفق أحدكم مثل جبل أُحدٍ ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نَصيفَهُ

میرے صحابہ کو برا نہ کہنا ،اس ذات کی قسم جسکے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو ان (صحابہ) کے ایک یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔

کیا آپ نے ہمارے اور ان کے مابین موجود فرق دیکھا؟یہ فرق اس لئے کہ انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ ملکراللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ، اور آپ سے براہ راست علم حاصل کیا ، ان تمام واسطوں کے بغیر جو ہمارے اور نبی کے درمیان ہیں جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں آپ نے اس جانب اشارہ کیا ، فرمایا:

من أحب أن يقرأ القرآن غضاً طرياً فليقرأهُ على قراءة ابن أم عبد

جو قرآن کو تروتازہ پڑھنا چاہتا ہو تو وہ ابن ام معبدکی طرز پر قرآن پڑھے۔یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرز پر۔

ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ سلف صالحین جن کے سردار صحابہ کرام تھے کسی بھی ایسی ”خیر“ سے لاعلم رہے ہوں جو انہیں اللہ کا مقرب بناتی ہو ، اور جب ہم نے مان لیا کہ وہ اس ”خیر“ کو جانتے تھے جسطرح ہم اسے جانتے ہیں تو ہم یہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انہوں نے اس ”خیر“ کو یونہی عمل کئے بغیر چھوڑدیا ہوگا۔

شاید اب آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ میں کیا نقطہ بیان کرنا چاہ رہا ہوں؟

میلادی ھداہ اللہ:الحمد للہ

علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاک اللہ خیراً

ایک بات اوربہت سی آیات و احادیث بتاتی ہیں کہ دین اسلام مکمل ہوچکا ، میرا خیال ہے کہ آپ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے ، عالم ہو یا طالب علم یا عام مسلمان سب ہی جانتے ہیں کہ اسلام مکمل ہوگیا ، یہ یہود و نصاریٰ کے دین کی مانند نہیں ہے کہ اس میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہی ہوں۔

بطور مثال میں آپکو اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان یاددلاتا ہوں:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً

آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا

اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا۔

اب ایک سوال ہے اور یہ جشن میلاد کے خیر نہ ہونے کو دوسرے طریقے سے واضح کرتا ہے ،

پہلا طریقہ یہ تھا کہ اگر میلاد منانا کار ”خیر“ ہوتا تو سلف صالحین جو ہم سے زیادہ عالم و عبادت گذار تھے اس پر ضرور عمل پیرا ہوتے۔سوال یہ کہ اگر میلاد نبوی خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا ، کیا ہم سب میلاد کے قائلین اور منکرین سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر میلاد کار خیر ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگااور اگر یہ کارِ خیر نہیں تو اسکاتعلق اسلام سے نہیں ہوسکتا؟بالکل اسی طرح جسطرح ہم نے اتفاق کیا تھا کہ نبی کریم کے زمانے میں میلاد نہیں تھا۔

جس دن یہ آیت نازل ہوئی:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ

آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔

اسوقت تک جشن میلاد نہیں منایا گیا تھا ، تو کیا آپکے خیال میں یہ دین کا حصہ ہوا ؟

میں چاہتا ہوں کہ :آپ مجھے دوٹوک جواب دیں ، یہ نہ سوچیں کہ میں ان علماء میں سے ہوں جو طلباء کو ڈانٹ کر خاموش کروادیتے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی کہ خاموش رہو تم کچھ نہیں جانتے ، تمہیں کیا پتہ نہیں ، آپ مطمئن رہیں ، گویا آپ اپنے جیسے کسی ایسے شخص سے ہمکلام ہیں

 جو علم اور عمر میں آپ سے کم ہے ، اگر آپ متفق نہ ہوں تو کہیں کہ میں متفق نہیں ہوں۔

پس اب اگر میلاد منانا خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا اور اگر یہ کار خیر نہیں تو اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا،اور ہم سب متفق ہیں کہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت جشن میلاد النبی نہیں تھا ، پس صاف واضح ہے کہ اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنی اس بات کی تاکید میں امام دارالھجرۃ امام مالک رحمہ اللہ کے قول سے کرتا ہوں انہوں نے کہا:

من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً صلى الله عليه وسلم خان الرسالة ".

جس نے اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی جسے وہ اچھا سمجھتا ہو تو گویا اس نے دعوی کیا کہ محمد نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت(کمی )کی۔

غور کریں ، صرف ایک بدعت نہ کہ بہت سی بدعات، یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے ، امام صاحب کی دلیل کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا:

اقرؤا إن شئتم قول الله تعالى:((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً)) فما لم يكن يومئذٍ ديناً لا يكون اليوم ديناً.

اگر چاہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لو:” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا “۔

جو کام اس دن دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا۔

امام مالک رحمہ اللہ نے یہ بات کب کہی تھی ؟ دوسری صدی ہجری میں جسکے خیر پر ہونے کی شہادت خود نبی کریم نے دی، توچودھویں صدی کے متعلق آپکا کیا خیال ہے؟یہ قول سونے کے پانی سے لکھنے کےلائق ہے، لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اور رسول اللہ کی حدیث سے اور اپنے اماموں کے اقوال سے غافل ہوگئے کہ جنکو ہم اپنا راہنما مانتے ہیں ۔

 امام صاحب فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا ، لیکن آج جشن میلاد النبی کو دین بنادیا گیا ، اگر اسے دین کا حصہ قرار نہ دیا گیا ہوتا تو سنت کے ساتھ تمسّک کرنے والے علماء اور بدعت کا دفاع کرنے والے علماء کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہی نہ ہوتا۔

یہ دین کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے ؟جبکہ یہ نہ تو رسول اللہ کے زمانہ میں تھا نہ ہی صحابہ کے دور میں اورنہ ہی تابعین یا تبع تابعین کے عہد میں۔امام مالک تبع تابعین میں سے ہیںاور ان لوگوں میں شامل ہیں جن پر یہ حدیث صادق آتی ہے ۔

خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

سب سے بہتر زمانہ میرازمانہ ہے پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے۔

امام مالک رحمہ اللہ فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہیں تھاوہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا اور اس امت کا آخر درست نہیں ہوسکتا مگر اسی طریقے سے جس سے اسکا اول درست ہوا۔

اس کا اول کس شے سے درست ہوا؟دین میں نت نئے کام ایجاد کرکے؟ اور ایسے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ مان کر جنہیں نبی کریم نے اختیار نہیں کیا ؟

 حالانکہ رسول فرمارہے ہیں کہ:

ما تركتُ شيئاً يُقربكم الى الله إلا وأمرتكم به

میں نے کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو تمہیں اللہ سے قریب کرتا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا۔

لیکن رسول اللہ نے ہمیں اپنا یوم ولادت منانے کا حکم کیوں نہیں دیا ؟ اس سوال کا ایک جواب ہے ۔

میلاد نبوی کا ایک شرعی طریقہ ہے جو مروجہ جشن میلاد کے برعکس ہے ، وہ شرعی طریقہ نبی کریم کے زمانے میں بھی موجود تھا ، جبکہ مروجہ طریقہ اس زمانے میں موجود نہ تھا، ان دونوں طریقوں میں واضح فرق ہے:

میلاد شرعی عبادت ہے اور اس پر سبھی مسلمان متفق ہیں۔

میلاد شرعی ہر ہفتے ہوتا ہے ، جبکہ غیر شرعی میلاد سال میں ایک بار آتا ہے۔

یہ دو بنیادی فرق ہیں میلاد شرعی اور میلاد بدعی کے درمیان،پہلا عبادت ہے اورہر ہفتے آتا ہے ،اسکے برعکس غیر شرعی میلاد نہ تو عبادت ہے نہ ہی ہر ہفتے آتا ہے۔

میں یہ بات ایسے ہی بلادلیل نہیں کررہا ، ایک حدیث نقل کرتا ہوں صحیح مسلم میں سیدنا ابوقتادۃ الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:يا رسول الله: ما تقول في صوم يوم الإثنين؟قال : ذاك يومٌ وُلِدتُ فيه، وأُنزل القرآن عليَّ فيه

ایک شخص نبی کریم کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ اللہ کے رسول پیر کے دن روزے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟فرمایا:اس دن مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔

اس کلام کا مطلب کیا ہے ؟گویا آپ فرمارہے ہیں کہ تم مجھ سے اس دن کے متعلق پوچھ رہے ہو تو اس دن مجھے اللہ تعالیٰ نے زندگی عطا کی اور مجھ پر وحی نازل کی ،یعنی اس دن تمہیں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھنا چاہیے کہ اس نے اس دن مخلوق پر میری تخلیق اور مجھ پرانزال وحی کا احسان کیا ۔

یہ یہود کے عاشورہ کے روزے کی مانند ہے اور شاید آپ کو معلوم ہو کہ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل

 عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض تھا۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب نبی کریم نے مدینہ کی جانب ہجرت کی تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا،جب ان سے اسکی وجہ دریافت کی تو انہوں نےکہا کہ اس دن اللہ نے سیدنا موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی،لہذا ہم اس دن بطور شکرانے کے روزہ رکھتے ہیں ۔

تو نبی نے فرمایا:

نحن أحق بموسى منكم

تم سے زیادہ ہم موسی کے قریب ہیں ۔

 چنانچہ آپ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیاچنانچہ یہ فرض ہوگیا حتی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کے واضح دلائل ہے پس تم میں سے اس ماہ میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔

اسکے بعد عاشورہ کا روزہ سنت ہوگیا اور اسکی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

یہاں استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ نے یہود کے ساتھ شرکت کی عاشوراء کے روزے میں تاکہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے اس دن موسی کو فرعون سے بچایا۔

پس ہمارے لیے شکرانے کا باب کھل گیا پیر کے دن روزے کے ذریعے کہ اس دن رسول اللہ کو پیدا کیا گیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی گئی۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ لوگ جو غیر شرعی میلاد مناتے ہیں جس میں خیر کی کوئی صورت نہیں ،کیا وہ پیر کا روزہ رکھتے ہیں جسطرح جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ؟نہیں، وہ پیر کا روزہ نہیں رکھتے جبکہ اکثر مسلمان سال میں ایک مرتبہ میلاد النبی مناتے ہیں،تو کیا یہ حقائق کو بدلنا نہیں ہے ؟(یعنی میلاد کے نام پر سال میں ایک دن جشن منالیتے ہیںجو کہ غیر شرعی ہے جبکہ جو میلاد شرعی ہے یعنی ہر پیر کو روزہ رکھنا تو یہ عمل نہیں کرتے)ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہود سے متعلق یہ فرمان صادق آتا ہے:

أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ

کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

یہ خیر جس پر مسلمان متفق ہیں پیر کے دن کا روزہ ہے جبکہ اکثر مسلمان پیر کا روزہ نہیں رکھتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پیر کے دن روزہ رکھنے والے جونہایت کم ہیں کیا وہ اس دن روزے کی حکمت جانتے ہیں؟نہیں ،وہ نہیں جانتے۔تو کہاں ہیں وہ علماء جو میلاد غیر شرعی کی حمایت کرتے ہیں، وہ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ

 پیر کے دن کاروزہ ہی میلاد کا شرعی طریقہ ہے،اسکے بجائے وہ غیر شرعی میلاد کی ترغیب دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:

أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ

کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

اور رسول اللہ نے بھی سچ فرمایا:

للتتبعنَّ سَنن من قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب لدخلتموه

تم پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے ، بالشت برابر،بازو برابر،اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی گھسو گے۔

ایک اور روایت کے الفاظ نہایت خطرناک ہیں:

حتى لو كان فيهم من يأتي أمه على قارعة الطريق لكان فيكم من يفعل ذلك

اگر ان میں کسی نے برسرراہ اپنی ماں سے بدکاری کی تو تم میں بھی ایسا کرنے والے ہوں گے۔

ہم نے یہود کی روش اختیار کرلی ، وہ دن جو بہتر تھا اس دن سے بدل ڈالا جو کمتر ہے،ہم نے ہر پیر کا روزہ رکھ کر شرعی میلاد منانے کو سال کے ایک دن کے میلاد غیر شرعی سے بدل ڈالا۔

آپ شرعی میلاد منائیں، پیر کا روزہ بطور شکرانے کےرکھ کراور اس حکمت کو خاطر میں رکھ کر کہ اس دن اللہ نے رسول اللہ کو پیدا کیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی۔

میں اپنی گفتگو کا اختتام نبی کریم کے اس فرمان پر کرتا ہوں:

أبى الله أن يقبل توبة مبتدع

اللہ نے بدعتی کی توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

اے رسول ، آپکی جانب آپکے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا جائے اسے پہنچادیں اور اگر آپ نے نہ کیا تو آپ نے اسکی رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اللہ آپکو لوگوں سے بچاتا رہے گا۔

میلادی ھداہ اللہ:کیا نبی کریم کی سیرت کو بیان کرنا آپکی تکریم نہیں ہے؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہاں ہے۔

میلادی ھداہ اللہ:میلاد میں بھی اللہ کی جانب سے اس خیر(یعنی سیرت بیان کرنے) کا ثواب ملتا ہے؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہر خیر کا ثواب ملتا ہے ،

لیکن آپ اس سوال سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو ، میں آپ سےپوچھتا ہوں:کیا کوئی آپ کو نبی کریم کی سیرت پڑھنے سے روکتا ہے؟(یعنی ہم میلاد سے روکتے ہیں ، لیکن سیرت بیان کرنے سے نہیں روکتے)

لیکن ایک سوال کا جواب دیں:ثواب کا کوئی بھی کام جو مشروع ہو لیکن رسول اللہ نے اسکے لئے نہ تو کوئی وقت مخصوص کیا نہ ہی اسکی کیفیت مخصوص کی تو کیا ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم خود اس عبادت کا وقت یا کیفیت مخصوص کردیں؟

کیا آپکے پاس کوئی جواب ہے؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ

کیا انکے شرکاء نے انکے لئےاس کام کو دینی شریعت قرار دیا جس کام کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔

نیز فرمایا:

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا، اور مسیح بن مریم کو حالانکہ انہیں ایک حکم دیا گیا تھا کہ

 وہ ایک معبود کی عبادت کریں،جسکے سوا کوئی معبود برحق نہیں،جو ان سے پاک ہے جنہیں وہ اسکا شریک قرار دیتے ہیں۔

جب سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہونے سے پہلے عیسائی تھے )نے یہ آیت سنی تو انہیں اسے سمجھنے میں مشکل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تو انکی عبادت نہیں کی،تو نبی نے ان سے فرمایا:

أليس يحرمون ما أحل الله فتحرمونه ويحلّون ما حرم الله، فتحلونه؟ فقال: بلى. قال: فتلك عبادتهم

کیا وہ (علماء و درویش) حرام نہیں کرتے تھے اس شے کو جسے اللہ نے حلال کیا ہو پس تم اسے حرام مان لیتے اور وہ حلا ل کہتے اس شے کو جسے اللہ نے حرام کیا پس تم اسے حلال مان لیتے؟انہوں نے کہا:ہاں بالکل۔تو آپ نے فرمایا:یہی انکی عبادت(علماء و درویشوں کورب بنالینا) ہے۔

اس سے اللہ تعالیٰ کے دین میں بدعت نکالنے کی خطرناکی واضح ہوگئی ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے” سلسلۃ النور والھدیٰ“

 نامی بیانات پر مشتمل کیسٹ سے ماخوذ ، اختصار اور تفہیم کے ساتھ،کیسٹ نمبر:1/94

نیزعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ویب سائٹ ملاحظہ ہو۔

وما علینا الا البلاغ المبین

ملاحظہ کیا گیا 257 بار