بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الثلاثاء, 22 كانون2/يناير 2013 15:47

میلادی جلوس بر صغیر میں

مولف/مصنف/مقرر 
  • درجِ ذیل سطور سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگی کہ میلاد النبی ﷺ کے حوالہ سے جو بھی جلوس وغیرہ نکالے جاتے اور جشن منائے جاتے ہیں اُن کی ابتداء اب سے کچھ عرصہ قبل ہوئی جس کی دلیل و بنیاد قرآن کریم ، احادیثِ مبارکہ یا عملِ سلف نہیں بلکہ دیگر باطل مذاہب کے پیروکاروں کی جذباتی نقّالی اور چند لوگوں کی ذاتی جذباتی خواہشات ہیں:
  • ’’لاہور میں عیدمیلاد النبیﷺ کا جلوس سب سے پہلے ۵ ؍جولائی ۱۹۳۳ء مطابق ۱۲؍ربیع الاول ۱۳۵۲ھ کونکلا۔ اس کے لئے انگریزی حکومت سے باقاعدہ لائسنس حاصل کیا گیاتھا۔
    اس کا اہتمام انجمن فرزندانِ توحید موچی دروازہ نے کیا۔ اس انجمن کامقصد ہی اس کے جلوس کا اہتمام کرنا تھا۔ انجمن کی ابتدا ایک ظاہری جذبہ سے ہوئی۔ موچی دروازہ لاہور کے ایک پرجوش نوجوان معراج الدین نے خیال کیا کہ ہندو اور سکھ اپنے دھرم کے بڑے آدمیوں کی یاد بڑے شاندار طریقے سے مناتے ہیں اور ان دنوں ایسے لمبے لمبے جلوس نکلتے ہیں کہ کئی بازار ان کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں۔ معراج الدین کے دل میں خیال آیا  (یہ محض ایک شخص کا خیال تھا) کہ دنیا کے لئے رحمت بن کر آنے والے سیدنا محمدﷺ کی یاد میں اس سے بھی زیادہ شاندار جلوس نکلنا چاہئے … اس نے ایک انجمن قائم کی جس کا مقصد میلاد النبیﷺ کے مزعومہ دن کے موقع پر جلوس مرتب کرنا تھا۔ اس میں مندرجہ ذیل عہدیدار تھے: (۱) صدر: مستری حسین بخش (۲) نائب صدر: مہر معراج دین (۳) معراج الدین (۴) پراپیگنڈہ سیکرٹری: میاں خیر دین بٹ (بابا خیرا) (۵) خزانچی: حکیم غلام ربانی… اشتہارات کے ذریعہ جلوس نکالنے کے ارادہ کو مشتہر کیا گیا۔ چست اور چاق و چوبند نوجوانوں کی ایک جماعت بنائی گئی اور جگہ جگہ نعتیں پڑھنے کاانتظام کیا گیا… الخ‘‘(روزنامہ ’کوہستان‘ ۲۲؍ جولائی ۱۹۶۴ء )
  • ’’آزادی سے پیشتر ہندوستان میں حکومت ِبرطانیہ ۲۵ دسمبر کو سیدنا عیسیٰؑ کے یوم پیدائش کوبڑے تزک و احتشام کے ساتھ منانے کا انتظام کرتی اور اس روز کی فوقیت کو دوبالا کرنے کے لئے اس دن کو ’بڑے دن‘ کے نام سے منسوب کیا گیا … تاکہ دنیا میں ثابت کیا جاسکے کہ سیدنا مسیح ؑ ہی (معاذ اللہ) نجات دہندہ تھے ۔(روزنامہ ’مشرق‘ مؤرخہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۸۴ء )
  • ایک قول کے مطابق رسولِ اکرمﷺ۱۲؍ ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے اور اسی روز وفات پائی۔ کچھ لوگ اس یومِ مقدس کو ’۱۲ وفات‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ آزادی سے پیشتر مسلمانانِ لاہور نے اظہارِ مسرت و عقیدت کے طور پر جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا… ان دنوں کانگریس اپنے اجتماع موری دروازہ میں منعقد کیا کرتی تھی اور اس کے مقابلہ میں مسلمان اپنے اجتماع موچی دروازہ لاہورمیں منعقد کرتے تھے، لہٰذا موچی دروازہ سیاسی مرکز ہونے کے علاوہ سب سے پہلے مزعومہ عید میلاد النبیﷺ کا جلوس نکالنے کا پہلا مقام ہے۔
ملاحظہ کیا گیا 895 بار آخری تعدیل السبت, 10 كانون1/ديسمبر 2016 17:22