بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الجمعة, 22 آذار/مارس 2013 00:00

شہیدِ اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں !

مولف/مصنف/مقرر 

 

شہیدِ اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں !

تحریر: سیف اللہ فاروقی

تصحیح و اضافہ: حماد چاؤلہ

 

 

الحمد للہ ربّ العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم الأنبیاء و سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین وأزواجہ أمہات المؤمنین ومن تبعہم باحسان الیٰ یوم الدین ، وبعد!

وہ میرے شعور کو بیدار کر گیا

کچھ وہ شکایتیں سر بازار کر گیا

پہلے وہ میری ذات کی تعمیر میں رہا

پھر مجھ کو اپنے ہاتھ سے مسمار کر گیا

وہ آ ملا تو فاصلے کٹتے چلے گیے

بچھڑا تو راستے میرے دشوار کر گیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

زندگی اس دنیا میں آنے کا نام ہے اور موت اس دنیا سے رخصت ہونے کا نام ہے، قانون الہٰی ہے جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے اس دنیا سے واپس ضرور جانا ہے اور  وہ  وقت کب آجا ئے کوئی نہیں جانتا ۔  رب العالمین نے اس موت و حیات کے قانون کا مقصد (سورۃ الملک) میں  اس طرح بیان فرمایا :

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ﴿٢﴾

((جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے وا ہے۔))

کامیاب وہ ہی شخص ہوگا جو اپنی زندگی کو مقصدِ الہٰی کے مطابق، اس کے تابع ہو کر گزارے  اور  موت کے وقت اس کو یہ عندیہ مل جائے :

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠﴾

((اے اطمینان والی روح (27) تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش (28) پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا (29) اور میری جنت میں چلی جا (30)۔))

اور اس موت کا کیا کہنا کہ جس موت سے ایسی اُخروی ابدی حیات نصیب ہو  جائے جو رب العالمین صرف اپنے محبوب بندوں کو ہی عطاءفرماتا ہے:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾

((جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں (169)۔))

تاریخ میں ایسی عظیم ہستیاں  بہت کم گزری ہیں جنہوں نے رب  تعالیٰ سےشہادت کی  موت کی تمنّا کی ہو  اور  رب تعالیٰ نے  انکی مرضی و منشاء کے مطابق انہیں اس بلند شرف سے نوازا ہو ۔  ایسی ہی ایک  عظیم و منفرد ہستی سرخیل مسلک ِاہل حدیث کی ممتاز علمی شخصیت ،عظیم و باوقار سیاسی لیڈر ، اسلام کے بے باک سپاہی شہید ِملتِ اسلام ’’علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ ‘‘کی ذات ہے۔

ع یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

جنہوں نے اپنی تقاریرمیں متعدد  بار  رب سے شہادت کی دعا ءمانگی اور بالاخر 23 مارچ 1987کو مینارِ پاکستان میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کر رہے تھے کہ ظالموں کی طرف سے کیے گئے ایک دھماکے میں زخمی ہوئے ۔

اس وقت آپ کے ساتھ اسٹیج کی زینت آپکے رفیق شہیدِ اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ   اور مولانا عبد الخالق قدوسی ، محمد خان نجیب،  مولانا محمد شفیق پسرور ی  جیسے علماء کے علاوہ  شیخ احسان الحق،  نعیم بادشاہ  رانا، زبیر  فاروق رانا  جیسے مخلص کارکنان موجود تھے ۔

سیرتِ علامہ شہید’’ مختصر جائزہ ‘‘

ولادتِ باسعادت:

آپ  رحمہ اللہ 31 مئی 1945 بمطابق 18 جمادی الثانی 1364، بروز جمعرات،شہر  سیالکوٹ کے محلہ احمد پورہ میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد حاجی ظہور الہٰی، امام العصر جناب مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی  رحمہ اللہ کے عقیدتمندوں میں سے تھے۔نیز  آپ تمام بہن بھائیوں میں بڑے تھے ۔

تعلیم و تربیت :

ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے  ایم بی پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ اس دوران ابھی آپ کی عمر ساڑے سات برس ہی تھی کہ آپ کو اونچی مسجد میں قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے بھجا گیا ۔ آپ کو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔خداداد   ذہانت و فطانت اور اپنے ذوق و شوق کی بنا پر9 برس کی عمر میں آپ نے قرآن کریم  حفظ کر لیا اور اسی سال نماز تراویح میں آپ نے قرآن  کریم سنا بھی دیا ۔

ابتدائی دینی تعلیم ’’دارالسلام ‘‘ سے حاصل کی اس کے بعد محدث العصر جناب حافظ محمد گوندلوی  رحمہ اللہ کی درسگاہ جامعہ الاسلامیہ گوجرانوالہ چلے آئے ۔ اور کتب حدیث سے فراغت کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ لیا ،جہاں علوم وفنون عقلیہ کے ماہر جناب مولانا شریف سواتی سے آپ نے معقولات کا درس لیا۔

1960 میں دینی علوم کی تحصیل سے فراغت پائی اور پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ’’بی اے  اونرز‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر کراچی یونیورسٹی سے لاء کا امتحان پاس کیا۔ 1960 میں ایم  اے فارسی اور 1961 میں اردو کا امتحان پاس کیا ۔

اس کے بعد اعلٰی دینی تعلیم کے حصول کیلئے مدینۃ الرّسولﷺمیں، ملتِ اسلامیہ کی عظیم عالمی یونیورسٹی’’ جامعہ اسلامہ (اسلامک یونیورسٹی، مدینہ منوّرہ ) ‘‘ میں داخلے کی سعادت نصیب ہوئی اور آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ اس وقت مدینہ یونیورسٹی  میں دوسرے پاکستانی طالبعلم تھے ۔ ان دنوں مدینہ یونیورسٹی  میں دنیا بھر سے 98 ممالک کے طلباء زیر تعلیم تھے۔

اساتذہ کرام  :

آپ نے دنیائے اسلام اور تاریخ کے نامور ،معتبر  اور وقت کے ممتاز علماء  کرام سے علم حاصل کیا ،ان میں سرفہرست :

(1)  محدّث العصر امام ناصر الدین البانی  رحمہ اللہ

(2)   مفسرِ قرآن الشیخ محمد امین الشنقیطی  رحمہ اللہ

(3)  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعطیہ محمد سالم رحمہ اللہ   ’’قاضی مدینہ منورہ ‘‘

(4)  سماحۃ الشیخ علامہ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ

’’ سابق مفتی اعظم سعودی عرب  ، سابق رئیس کبار علماء کمیٹی برائے افتاء و بحوث اسلامیہ ریاض ، سابق وائیس چانسلر جامعہ اسلامیہ (اسلامک یونیورسٹی)  مدینہ منورہ ‘‘

(5)   محدّث ِ مدینہ  علامہ عبد المحسن العباد البدر حفظہ اللہ ۔  وغیرہ شامل ہیں۔

علمی اعزاز :

آپ نے زمانہ طالب علمی کے دور میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ  میں’’ القادیانیۃ دراسات و تحلیل ‘‘کے نام سے عربی میں ایک مدلل  و منفرد کتاب تحریر کی۔ یہ کتاب آپ کے اُن لیکچرز پر مشتمل ہے۔  جو ا ٓپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ  میں اپنی کلاس کے طلباء کو اپنے اساتذہ کی جگہ دئے تھے ۔ کیونکہ فتنہ احمدیہ (قادیانیت)کے بارے میں اساتذہ کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھی ۔

کتب طبع ہونے لگی تو علامہ سے پبلشر نے کہا کہ مئولف کے طور پر آپ کے نام کے ساتھ متعلّم (Student)جامعہ اسلامیہ کے بجائے متخرّج (Graduate)جامعہ اسلامیہ لکھ دیا جائے تو اس کتاب کی اہمیت کئی گنا  زیادہ  ہوجائے گی ۔ ان دنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر شیخ ابن باز رحمہ اللہ  ہوا کرتے تھے  ۔علامہ صاحب نے پبلشر کی خواہش کا اظہار آپ کے سامنے کیا تو انہوں نے یہ معاملہ یونیورسٹی کی(Governing body) کے سامنے پیش کیا جس نے  اس کتاب کی اہمیت اور آپ کے علمی مقام کو مد نظر رکھتے ہوئے  یہ فیصلہ کیا کہ احسان الٰہی ظہیر کو اپنی کتاب پر نام کے ساتھ متخرج (Graduate)جامعہ اسلامیہ لکھنے کی اجازت دے دی جائے ۔ اسطرح آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ فارغ التحصیل ہونے سے قبل ہی آپ کو جامعہ اسلامیہ جیسی عظیم عالمی درسگاہ سے گریجویشن سرٹیفکیٹ دے دیا گیا۔ جب آپ کو  سر ٹیفکیٹ مل گیا تو علامہ نے شیخ بن باز وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی سے عرض کیا کہ شیخ!  اگر میں امتحان میں فیل ہو گیا تو اس سرٹیفکیٹ کا کیا بنے گا ۔ شیخ ابن باز کو اپنے اس شاگرد  رشید کی صلاحیتوں پر اسقدر ناز تھا کہ انہوں نے فوراً کہا کہ اگر احسان الہٰی امتحان میں فیل ہو گیا تو ہم(98 ممالک کے طلباء پر مشتمل منفرد عالمی ) یونیورسٹی بند کر دیں گے ۔علمی و تعلیمی دنیا میں یہ اعزاز منفرد و لاثانی ہے۔

1970 میں آپ مدینہ یونیورسٹی سے اس اعزاز کے ساتھ فارغ ہوئے کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 98 ممالک کے طلباء میں اول پوزیشن پر رہے اور آپ نے 93% فیصد سے زائدنمبر حاصل کئے، یونیورسٹی کے انتہائی مشکل اور سخت امتحانی نظام کے باعث اسوقت  تک کوئی عربی بھی اتنے نمبر حاصل نہ کر سکا تھا جو ایک عجمی کا ریکارڈ توڑسکے ۔  (ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء)

مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو یونیورسٹی میں ہی آسائشوں سے پرزندگی و اعلیٰ مرتبہ پر مشتمل منصبِ تحقیق و تدریس کی  پیشکش کی گئی مگر آپ نے اپنی ذاتی زندگی پر دین ِ حق کی خدمت  اور وطنِ عزیز کی اصلاح کو ترجیح دی اور یہ تڑپ لیکر وطنِ عزیز  لوٹ آئے کہ کلمہ لا الٰہ الّا اللہ  کے نام پر  بنائے گئے اس ملک میں اللہ تعالیٰ کے دین اور حکم کا بول بالا ہو اور اسی مقصد کی تکمیل کی خاطر دن رات جعد و جہد شروع کردی۔

 

 

 

وطن واپسی پر آپ نے ابتداءًتحریر  کے ذریعہ یہ سلسلہ جاری رکھا اور چٹان  لیل ونہار  اور ملک کے دیگر معروف و مشہور رسائل میں لکھتے رہے ۔ جمعیت اہل حدیث کے جریدے  ہفت روزہ  ’’الاعتصام‘‘  اور   ہفت روزہ’’ اہلحدیث ‘‘ کے مدیر بھی رہے ۔ اور ترجمان اہلحدیث کے نام سے ایک رسالہ جاری کیاجو کہ جمعیت اہل حدیث کے زیر امارت آج تک مسلک اہل حدیث کی ترجمانی کر رہا ہے۔

عقیدہ ختمِ نبوت کے دفاع کی خاطر ’’ اسلام اور مرزائیت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔

پنجاب یونیورسٹی سے ’’عربی  ،اسلامیات  ،فلسفہ  ،تاریخ   اور  سیاست  ‘‘میں پے  در  پے’’ ایم   اے ‘‘ کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ۔

اس دوران ہی آپ کو محدّثِ عصر حافظ گوندلوی  رحمہ اللہ سے شرف دامادی حاصل ہوا، آپ جامع مسجد چینیاں والی لاہور میں خطبہ ارشاد فرمانے لگے ۔  اور  لاہور و  اطراف سے لوگ آپ کے جمعہ میں دور دور سے آنے لگے ۔ اس عرصہ میں آپ نے لاہور کے علاقے شادمان ٹاون میں اپنی کوٹھی تعمیر کرائی (آپ ایک اہلِ ثروت خاندان سے تعلق رکھتے تھے)اور پھر مستقل یہاں سکونت پزیر ہو گئے ۔

سیاسی سرگرمیاں :

(1968 تا 1987)  آپ نے خطبہ عید میں جنرل ایوب خان کے خلاف اپنی پہلی سیاسی تقریر کی ،پھر یہ سلسلہپ جاری رکھا اور بھٹو دور میں قید و بند کی صعوبتیں  بھی برداشت کیں، آپ پر کئی مقدمات بھی کئے گئے ۔ بنگلہ دیش مردہ باد تحریک میں آپ نے پھرپور حصہ لیا اور باقاعدہ اپنے خطباتِ جمعہ و دیگر خطابات  میں بھی بنگلہ دیش کے مسئلہ پر اپنی حب الوطنی کی خاطر دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے درد کو بیان کیا۔

1972 میں آپ نے تحریک استقلال میں ایک پارٹی ورکر کی حیثیت سے شمولیت اختیارکی، بعد میں آپ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز ہوئے ۔

1977 کی تحریکِ استقلال کے قائم مقام سربراہ بھی رہے ۔

1978میں بعض اختلافات کی بنا پر تحریکِ استقلال سے مستعفی ہو گئے ۔

پھر آپ نے جمعیت اہل حدیث کو از سر نو  منظم کرنے کا پروگرام بنایا ۔ صدر ضیاء الحق نے آپ کو علماء ایڈوائزر کونسل کا رکن بھی نامزد کیا تھا ،لیکن آپ نے استعفٰی دے دیا ۔

1984 میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کی طرف سے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں ایک کنونشن بلایا گیا جس میں جناب مولانا محمد عبد اللہ کو امیر اور مولانا محمد حسین شیخوپوری  رحمہم اللہ کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا ۔ اہل حدیث میں دو دھڑوں کی بنا پر کافی انتشار رہا مولانا محمد حسین نظامت سے مستعفی ہو گئے ۔ تو علامہ شہید ؒ ناظم اعلیٰ کے منصب فائز ہوئے انہوں نے بڑی محنت سے جمعیت کو ایک منظم اور متحرک جماعت بنا دیا اور جلسئے جلوس، اجتماعات میں ایک نئی روح پھونک دی کہ مسلکِ اہل حدیث کا بچہ بچہ ہر نوجوان آپ کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ عمل میں کود پڑتا تھا۔ جس دور میں اہل حدیث کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہ تھا علامہ نے اپنے سیاسی پلیٹ فارم پرانہیں  جمع کیا۔ علامہ نے منتشر اہل حدیث کی ضرورت کو بلکل صحیح انداز میں محسوس کیا اور اسے بأحسن پورا کیا۔ اہل حدیث افراد اپنے پلیٹ فارم کی طرف کھچے چلے آنے لگے ۔ اس سلسلہ میں 18 اپر یل 1986کو موچی دروازہ لاہور2 مئی 1986کو سیالکوٹ اور 9مئی 1986 گوجرانوالہ میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سیاسی جلسہ عام میں آپ نے جمعیت کے سیاسی موقف کو جس طرح پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ آج بھی تاریخ اس کی معترف ہے آپ کی تقریر و بیانات کو اہم اخبارات نے شہ سر خیوں سے شائع کیا۔

علامہ کے عظیم ارادے پختہ ہوا کرتے تھے اس سلسہ میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مرکزی دفتر کے لیے ایک خطیر رقم صرف کرکے 53 لارنس روڈ لاہور میں  ایک وسیع و عریض جگہ حاصل کی جہاں آپ نے جملہ احبابِ جماعت اور مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کیا ۔ جملہ احبابِ جماعت اور مجلس شوریٰ نے اس عظیم کارکردگی کو خوب سراہا اور آپ کو داد تحسین پیش کی آپ اس مرکز میں مسجد ،ہسپتال ،مدرسہ ،آڈیٹوریم  اور  جمعیت کے دفاتر قائم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اس مرکز میں آپ نے نماز تراویح اور درس قرآن کا سلسہ بھی شروع کیا تھا اور بغیر کسی اطلاع کے لوگوں کا جم غفیر آپ کے دروس میں حاضر ہوتا تھا اورسالِ وفات بتاریخ 29 مارچ کو آپ نے اس ادارے کی مسجد میں خطبہ جمعہ کا پروگرام بھی بنایا ہوا تھا کہ اس ادارے میں باقاعدہ جمعہ کی نمازبھی شروع کی جائے مگر رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

تبلیغی سفر:

آپ نے مختلف ممالک میں تبلیغی سفر کیئے سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے علاوہ  بیلجیم ،ہالینڈ ،سوئیڈن، ڈنمارک، اسپین ، اٹلی، فرانس ،جرمنی، انگلینڈ ،یوگو سلاوایا،ویانا،کھایا، نائجیریا، کینیا ،جنوبی کوریا، جاپان، فلپائن ،ہانگ کانگ ،تھائی لینڈ،امریکہ،چین ،بنگلہ دیش، ایران، افغانستان اورہندوستان میں مختلف عالمی علمی  کانفرنسوں سے خطاب کیا ۔ عرب ممالک تو آپ کا آنا جانا ایک معمول اور روز مرہ کا کام تھا اور آئے دن معلوم ہوتا تھا کہ علامہ صاحب فلاں عرب ملک گئے ہوئے ہیں، اسی طرح  یورپ امریکہ اور افریقہ کے اسفار کا حال تھا ۔ اتنے اژدہام دعوتی و تبلیغی اور ادارتی مصروفیات کے باوجود آپ نے عربی ادب میں شاندار اضافہ کیا ہے اوربھاری بھرکم کتب تالیف فرماکرعالمِ عرب میں اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے،یہ علامہ کا بہت بڑا کارنامہ اور آپ کے وسعتِ علم و مطالعہ کی بہت بڑی دلیل ہے ۔

علّامہ شہید رحمۃ اللہ علیہ  کا تحریری سرمایہ  :

(1)  الشیعہ و اہل البیت  (عربی) :

اس کتاب میں شیعہ فرقے کی مزعومہ حبّ اہل بیت کی حقیقت آشکار کی گئی ہے  اور نہایت شرح و بسط سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ طائفہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زبان ِطعن دراز کرنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے، در حقیقت یہ حب اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی مخلص و صادق نہی ہے کیونکہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو باہمی پاسداری ، محبت و احترام کا عملی نمونہ تھے،ان جلیل القدر اصحاب رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنا حبِّ اہلِ بیت کے دعویٰ کے متناقض ہے ۔ کتاب کے آغاز میں گیارہ صفحات کا پر مغز مقدمہ ہے۔ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب ایک بہت بڑا علمی ذخیرہ ہے جس میں42 شیعہ کتب اور 88 اہل ِسنت کی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے ۔

(2) الشیعہ والسنہ (عربی) :

یہ کتاب علامہ صاحب کی شیعہ موضوع پر اولین کاوش ہے ۔ سولہ صفحات کے بعد تین ابواب ہیں ۔ پروفیسر رانا ایم این احسان الٰہی کے انگریزی ترجمہ کے ساتھ بھی شائع ہو چکی ہے۔اس کتاب کے دنیا کی کئی زبانوں: فارسی ،تامل، انڈونیشی، تھائی، ملائشین اور افریقی زبان ہوسا میں تراجم ہو چکے ہیں۔

(3) الشیعہ والقرآن (عربی )  :

شیعہ ازم پر علامہ صاحب کی یہ تیسری معرکتہ الآراء  تألیف ہے،26 صفحات کا مقدمہ ہے جس میں علامہ نے اس کتاب کی وجہ تالیف بیان کی ہے ۔ اس کتاب کے چار ابواب ہیں اور اس دور کے شیعہ اکابرکی زبان سے تحریفِ قرآن کا دعویٰ ثابت کیا ہے ۔78شیعہ اور6 اہل ِسنت کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔

(4) الشیعہ و التشیع  ’’فرق و تاریخ ‘‘ (عربی) :

کتاب کا مقدمہ11صفحات پر محیط ہے اس کتاب کا موضوع  شیعہ ازم کی مکمل مفصل تاریخی پس منظر اور مختلف فرقے ہیں۔ اس کتاب میں 7 ابواب ہیں ۔ یہ کتاب 259مراجع و مصادر سے مزین ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔

(5) البریلویہ ( عقائد و تاریخ ‘عربی) :

کتاب کے شروع میں 6 صفحات پر ڈاکٹرعطیہ محمد سالم قاضی مدینہ منورہ و مُدرّس مسجد نبوی شریف کی خوبصورت تقریظ شائع کی گئی ہے ۔صفحات 7 سے 12 تک مئولف کی طرف سے مقدمہ ہے ،کتاب 5 ابواب پر مشتمل ہے ۔ عرب ممالک میں یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی گئی ہے اور عرب دنیا میں اس کتاب نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ بریلوی حضرات اس کتاب سے اس قدر متوحش اور خائف ہوئے کہ انہیں درِحکومت پر اس کتاب کی پابندی کے لیے دستک دینا پڑی۔ اس کتاب پر پابندی لگا کر اسے ضبط کر لیا گیا ۔جس سے ملک کے طول و عرض کے علمی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی لیکنعلامہ شہید مجاہد ِملت نے پابندی کے باوجود علی الاعلان 6ایڈیشن اس کتا ب کے شائع کیں ۔

اس کے علاوہ علامہ کی تحریر میں:

القادیانیہ (عربی)، (قادیانی فرقہ )

البھائیہ’’نقد و تحلیل‘‘ ( عربی)   (بہائی فرقہ)

البابیہ ’’نقد و تحلیل‘‘ ( عربی)   (بابی  فرقہ)

التصوف المنشا و المصادر ،( عربی)   (صوفی ازم )

الاسماعلیہ بین الشیعہ و اہل السنہ ،( عربی)   (اسماعیلی فرقہ)

دراسۃ فی التصوف   (عربی)   (صوفی ازم)

شامل ہیں ۔

علامہ شہید کی مذکورہ کتب کودنیا بھر  کے علمی  وعوامی حلقوں میں یکساں مقبولیت کا شرف  حاصل ہوا، اور بہت بڑی تعداد کو علامہ شہید کی کتب سے بتوفیق اللہ  راہِ ہدایت نصیب ہوئی یہی وجہ ہے کہ  علامہ کی  اکثر  کتب کے تراجم اردو ، فارسی و دیگر عالمی زبانوں میں موجود ہیں ۔

آپ نے جس موضوع یا جس باطل فرقہ  پر قلم اٹھایا اللہ کے فضل و کرم سے اس کا حق ادا کر کے دکھایا اور آج تک آپ کی کسی  بھی کتاب کا کوئی علمی جواب نہیں دے سکا۔

علامہ صاحب کی شخصیت ملکی و بین الاقوامی طور پر آج بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ کی ان کتابو ں کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں شایع ہو چکے ہیں۔ عرب ممالک میں آپ کے قارئین، مداحین ،عقیدتمندوں اور علم دوست حضرات کا ایک وسیع حلقہ ہے ۔ سیاسی حلقوں میں آپ کی بصیرت اور مجاہدانہ للکار آج بھی گونجتی اور دلوں میں اترتی معلوم ہوتی ہے اور باطل کی روح کانپ جاتی ہے ۔

سانحہ شہادت:

23 مارچ 1987 کو لاہور میں جلسہ سیرت النبی  ﷺ میں مولانا حبیب الرحمن یزدانی  رحمہ اللہ کی تقریر کے بعد جناب علامہ شہید رحمہ اللہ کا خطاب شروع ہوا ،آپ کا باطل شکن خطاب اپنے نقطہ عروج کو پہنچ رہا تھا، ابھی آپ رحمہ اللہ 20منٹ کی تقریر کرپائے تھے کہ11بج کر 20 منٹ پر بم کا انتہائی خوفناک لرزہ خیز دھماکہ ہوا ،تمام جلسہ گاہ میں قیامت صغریٰ کا عالم تھا ،دور دور تک دروبام دھماکے سے لرز اٹھے، ماحول مہیبت تاریخی میں ڈوب گیا، دلدوز آہوں سے ایک کہرام سا مچ گیا۔ درندہ صفت، بزدل  دشمن اپنے مزموم مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا ،اس دھماکے میں علامہ صاحب زخمی ہوگئے اور شدید زخمی حالت میں 5 دن تک میئو ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہے ۔

29 مارچ کو پونے پانچ بجے سعودی ائیر لائن کی خاص  پرواز کے ذریعہ شاہ فہد  کی دعوت پر سعودیہ عرب علاج کے لئے روانہ ہوئے  آپ کو فیصل ملیٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا، ڈاکٹروں نے آپریشن کے لئے بے ہوش کیا لیکن آپ کا وقتِ موعود آچکا تھا۔علامہ صاحب 22 گھنٹے ریاض میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد قافلہ شہداء میں شامل ہوئے .(انا للہ و انا الیہ راجعون)

مدینہ  طیبہ میں تدفین:

جماعت اہل حدیث کا ساز بے آواز ہو گیا اور ایسا خلا پیدا ہو گیا جو شاید تاریخ میں کبھی پورا نہ ہو سکے ۔ عالمِ اسلام کی متاع عظیم چھن گئی اور علم و فضل کا آفتا ب وادی بطحاء میں غروب ہو گیا ۔

مفتی اعظم سعودیہ عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز  رحمہ اللہ نے دیرہ ریاض کی مرکزی مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی ۔

نمازِ جنازہ کے بعد آپ رحمہ اللہ کے جسدِ خاکی کو شہرِ حبیب ﷺمدینہ منورہ لے جایا گیا، مسجدِ نبوی میں دنیا ئے اطراف سے آنے والے وفود  و  شیوخ،مفتیان، اساتذہ علماء اور طلباء کی وجہ سے مسجد نبوی میں انسانوں کا سیلاب نظر آتا تھا اور تا حد نگاہ سر ہی سر دیکھائی دیتے تھے اژدہام کا یہ عالم تھا کہ آپ کا آخری دیدار کرنا محال تھا ۔

مدینہ طیبہ میں ڈاکٹر  شمس الدین افغانی رحمہ اللہ  نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ مدینہ منورہ میں تدفین کا اہتمام فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرصالح العبودچانسلر مدینہ یونیورسٹی نے کیا،  یونیورسٹی کے شیوخ و اساتذہ اور طلباء کے علاوہ سعودی عرب کے اطراف سے ہزاروں علماء کرام ، طلباء و عوام  اشکبار آنکھوں سے جنازے میں شامل تھے ۔

پھر یہاں سے علامہ شہید ؒ کی میت کو بقیع الغرقد (المعروف جنت البقیع) قبرستان لایا گیا، ہزاروں سوگواروں کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کے جلوس میں آپ کے والد محترم جناب حاجی ظہور الٰہی نے قبر میں اتر کر اپنے فرزند ارجمند کا آخری دیدار کیا ۔ آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ آپ  رحمہ اللہ کی قبر امام مالک رحمہ اللہ  کی قبر کے پہلوں میں ہے جس کی دائیں طرف رسولِ رحمت ﷺ کی ازواجِ مطہرات مؤمنوں کی ماؤں رضی اللہ عنہن اجمعین کی مبارک  قبر یں ہیں اور تھوڑے فاصلے پر رسولِ اکرم  ﷺ کے لخت جگر جناب ابراہیم  رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک ہے ۔

(  پہنچی  وہی  پہ  خاک  جہاں  کا  خمیر  تھا  )

اللھم اغفرلہ وارحمہ واجعلہ فی زمرۃ الشہداء وادخلہ الجنۃ الفردوس وارفع درجتہ فی العلیین

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

 

نوٹ: ازراہِ تذکرہ علامہ احسان شہید رحمہ اللہ کے  سیرت و سوانح کے حوالہ سے یہ چند سطورلکھی گئی  ہیں ،جبکہ علامہ کی  مکمل حالاتِ زندگی  کےمطالعہ  کے لیے کتب سوانح دیکھنی چاہییں۔

*****

 

 

 

ملاحظہ کیا گیا 9160 بار آخری تعدیل السبت, 04 تشرين2/نوفمبر 2017 15:50