بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 26 أيلول/سبتمبر 2016 14:51

اہلِ بیت کون ہیں؟ مميز

مولف/مصنف/مقرر  الشیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ

 


بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم

اہلِ بیت کون ہیں؟

تحریر: الشیخ محمد صالح المنجدحفظہ اللہ

مراجعہ و تصحیح ترجمہ:  حماد چاؤلہ

 

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ وعلیٰ اٰلہ و صحبہ و ازواجہ ومن والاہ وبعد۔

 

علماء ِکرام  رحمہم اللہ نے اہلِ بیت کی تحدید میں کئیں ایک اقوال ذکر کیےہیں :

بعض کا کہنا ہے کہ :

۱) اہلِ بیت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، ان کی اولاد ،بنوھاشم ، بنو مطلب (بنو عبد المطلب)اوران کے موالی ہیں۔

اورایک قول یہ  ہے کہ :

۲) اہلِ بیت قريش ہیں ۔

بعض علماء کا کہنا ہے :

۳) امتِ محمدیہ میں سے متقی لوگ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہيں ۔

اورکچھ نے کہا ہے کہ :

۴) ساری کی ساری امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔

 

ازواجِ مطہرات:

ازواجِ مطہرات اہل بیت میں داخل  و شامل ہيں۔ جس کے قرآنی دلائل درجِ ذیل ہیں:

 اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو(مخاطب فرماتے ہوئے)پردہ کا حکم دینے کے بعد فرما یا ہے کہ :

(( اللہ تعالی یہی چاہتا ہے  اے اہل بیت کہ تم سے وہ ( ہرقسم کی ) گندگی کودورکردے اور تمہیں خوب پاک کردے ))۔ ( الأحزاب: 33 ) ۔

اسی طرح ابراھیم علیہ السلام کی زوجہ سارہ رضی اللہ تعالی عنہا کوبھی اہلِ بیت کہا گیا۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے :

(( فرشتوں نے کہا ،کیا تم اللہ تعالی کی قدرت سے تعجب کررہی ہو ؟ اے(اہل بیت) گھروالوں کہ تم پر اللہ تعالی کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں )) (ھود : 73 ) ۔

اوراس لیے بھی کہ اللہ تعالی نے لوط علیہ السلام کی بیوی کوآلِ(خاندانِ)  لوط میں شمار کیااورنجات یافتہ لوگوں میں سے خارج کرتے ہوئےفرمایا :

((مگر آلِ  لوط علیہ السلام کہ ہم ان سب کوتو ضرور بچا لیں گے مگر ان کی بیوی کے ۔۔۔))  (الحجر : 59 – 60 ) ۔

 

تویہ سب آیات اس پردلالت کرتی ہیں کہ (قرآن کریم  کے واضح نصوص کی روشنی میں ) زوجہ (بیوی) آل و اہلِ بیت میں داخل ہے ۔

 

بنو مطّلب:

اورآلِ مطلب کے(اسلام قبول کرنے والوں کے) بارہ میں امام احمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اہلِ بیت میں سےہیں اورامام شافعی  رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی کہا ہے ۔

امام ابوحنیفہ اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ آلِ مطلب آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل نہيں اورامام احمد رحمہ اللہ تعالٰی سے یہ قول بھی مروی ہے ۔

اس مسئلہ میں راجح قول یہی ہے کہ بنو عبدالمطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں شامل ہیں اور  اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :

سیدناجبیربن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اورعثمان بن عفان رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اورہم نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بنومطلب کودیا اورہمیں محروم رکھا ہے حالانکہ ہمارا اوران کا مرتبہ آپ کے ہاں ایک ہی ہے ۔

 

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : بلاشبہ بنومطلب اوربنوھاشم ایک ہی  ہیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2907 ) سنن نسائ حدیث نمبر ( 4067 ) وغیرہ نے بھی روایت کی ہے ۔

 

بنو ہاشم :

اہل بیت میں بنوھاشم بن عبدمناف (کے اسلام قبول کرنے والے) جو کہ آل علی ، آل عباس ، آل جعفر ، آل عقیل ، اورآل حارث بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں اس کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے زيد بن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے :

زیدبن ارقم رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اورمدینہ کےدرمیان ماءخم کے مقام پر ہمیں خطبہ ارشادفرمایا اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی اوروعظ ونصیحت فرمائی پھر فرمانے لگے :

اما بعد : اے لوگو بلاشبہ میں ایک بشر اورانسان ہوں ،قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ)آجائے تومیں اس کی دعوت پرلبیک کہوں ( موت کی طرف اشارہ ہے ) ۔اوریقینا ًمیں تم میں دو اشیاء چھوڑ کر جارہا ہوں ان میں سے پہلی اللہ عزوجل کی کتاب جس میں نورو ھدایت ہے ، اللہ تعالی کی کتاب کوتھام لو اوراس پرمضبوطی اختیار کرو ،آپﷺ نے کتاب اللہ پرعمل کرنے پر ابھارا اوراس کی رغبت دلائی۔اور(دوسری چیز کے بارے میں)فرمایا :  میرے اہل بیت ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت کے بارہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ۔

(راوی حدیث )حصین نے کہا کہ اے زيد!  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں ؟  کیا  ازواج ِمطہرات اہل بیت نہیں ؟   توانہوں نے کہا کہ ازواجِ مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں ،  اہل بیت وہ ہیں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے ، انہوں نے کہا وہ کون ہیں؟  وہ کہنے لگے : وہ آل علی اور آل عقیل ، اورآل جعفر ، اور آل عباس رضي اللہ تعالی عنہم ہیں ، انہوں نے پوچھا کیاان سب پر صدقہ حرام ہے ؟  زید نے جواب دیا :جی ہاں ۔ مسند احمد حدیث نمبر ( 18464 ) ۔

 

بنو مطلب  کےموالی:

اور بنو مطلب  کےموالی(غلام) کے(مسلمانوں کے) متعلق حدیث میں کچھ اس طرح ذکر ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ( غلام ) مھران بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

بلاشبہ ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پرصدقہ حلال نہیں اورقوم کے مولی انہیں میں سے ہوتے ہیں ۔ مسند احمد حديث نمبر ( 15152 ) ۔

 

تواس طرح نبی صلی اللہ علیہ کی آل اوراہل بیت میں آپﷺکی ازواج مطہرات ، ان کی اولاد ، بنو ھاشم ، بنو عبدالمطلب اوران کے موالی شامل ہیں ۔

 

واللہ تعالی اعلم

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین۔

ملاحظہ کیا گیا 660 بار آخری تعدیل الخميس, 13 تشرين1/أكتوير 2016 07:56