بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 19 تموز/يوليو 2014 00:00

مسائل اعتکاف اور صدقۃ الفطر

مولف/مصنف/مقرر  حافظ اکرام اللہ واحدی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس میں عقل سلیم رکھ کر آزادی و خود مختاری بھی عنایت کر دی پھر اس کو اچھا اور برا بتا دیا اب انسان پر ہے کہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کو کس طرح گزارتا ہے کیونکہ نبی کی درخواست کے بعد اس امت سے اس زندگی میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہونی بلکہ اس کے لیے یوم حشر کا دن مقرر کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انس و جن کے کام کا کچھ یوں ذکر کیا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔ (سورۃ الذاریات 56)

تخلیق انسان کامقصد صرف اور صرف عبادت خالق ہے۔ مگراس خالق نےجہاںانسان کی دوسری بھی بہت سی ضروریات رکھیں وہاںاسے ان ضروریات کوپورا کرنےکاحق بھی بخشانہ صرف یہاںتک ہی بلکہ اس خالق نےان ضروریات کی تکمیل کے لیے کی جانے والی تگ و دوکوبھی عبادت کادرجہ بخشا۔ جبکہ انسان کو رب تعالیٰ نےپیدا ہی ضعیف کیا ہے۔اورخود یہ بات ذکر کی ہے۔ ’’خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفاً‘‘ تو اس خالق کائنات نے انسان کیلئے بہت سے ایسےمواقع بھی پیدا فرمائے کہ یہ انسان اپنی ان کمزوریوں کا مداوا کر سکے، انہیں بخشوا سکے انکی سزا سے اپنے آپ کو بچا سکے، انہی عبادات کے سلسلے میں رب کریم و جلیل و ر حیم نےہمیں ایک یہ ماہ مبارک ’’رمضان‘‘ بھی عطا کیا ہے جس میں کی گئی عبادات و ریاضیات کا بدلہ عام دنوں سے دگنا تگنا کر کے دیا جاتا ہے۔ اس ماہ کے متعلق زیادہ تر مسائل اسی شمارہ کے ایک دوسرے مضمون میں تفصیل سے ذکر کیے ہیں یہاں صرف اعتکاف اور صدقۃ الفطر کا ذکر کیا جا رہاہے۔

اہمیت اعتکاف:

جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے اور رات جاگ کر عبادات فرماتے اور اپنے ساتھ اپنے اہل وعیال کو بھی جگاتے۔ (متفق علیہ)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دن ہمیشہ اعتکاف فرماتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےخالق حقیقی سے جاملے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ (متفق علیہ)

اعتکاف کا معنی:

لغوی اصطلاح میں اعتکاف کا معنی: ’’بند رہنے‘‘ کا ہے۔

شرعی اصطلاح میں’’مسجد میں رکے رہنا ایک وقت معین تک‘‘۔

فضیلت اعتکاف:

اگر کوئی شخص اللہ کی خوشنودی و رضا کے لیے صرف ایک دن ہی اعتکاف میں بیٹھ جائے تو اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں بنا دیتا ہے کہ جن میں سے ہر ایک کا درمیانی فاصلہ مشرق اور مغرب سے بھی زیادہ ہے۔ (طبرانی بسند حسن)

اعتکاف کی شرائط:

1۔مرد و زن کے اعتکاف کے لیے مسجدشرط ہے۔ بعض علماء نے جامع مسجد کی شرط لگائی ہے۔

2۔ اعتکاف ایک دن ، ایک رات یا اس سے کم وقت کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ (بخاری، عبدالرزاق)

مباحات اعتکاف:

وہ کام جو دوران اعتکاف کئے جا سکتے ہیں۔

1۔ نہانا ،تیل لگانا، خوشبو استعمال کرنا وغیرہ۔ (بخاری)

2۔ سر مونڈھنا، ناخن تراشنا وغیرہ۔

3۔ خیمہ لگانا۔ (متفق علیہ)

4۔ بستر یا چارپائی بچھانا۔ (ابن ماجہ، بیہقی)

5۔ عورت کا اپنے خاوند کی زیارت کو مسجد آنااور پھر خاوند کا اسے مسجد کے دروازے تک الوداع کرنے کی غرض سے ساتھ آنا۔ (متفق علیہ)

6۔ عورت کا اپنے خاوند کے بالوں کی کنگھی کرنا۔(بخاری)

7۔ معتکف اپنے اعتکاف کے لیے جگہ مخصوص کر سکتا ہے۔ یہ خیال رکھتے ہوئے کہ نمازیوں کو اسکے خیمہ وغیرہ سے پریشانی نہ ہونے پائے۔ (ابو داؤد)

8۔معتکف کسی کے ساتھ ضروری بات کر سکتا ہے۔(بخاری )

9۔ مستحاضہ (ایام خاصہ کی مدت مکمل ہونے کے باوجود خون کا جاری رہنا)عورت بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔(متفق علیہ)

10۔ عورت کے لیے بھی اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہی ہے اور عورت اکیلی یا اپنے خاوند کے ساتھ اعتکاف کے لیے بیٹھ سکتی ہے۔ (بخاری ، ابوداؤد)

محرمات الاعتکاف:

دوران اعتکاف حرام کام۔

1۔جماع: حسن بصری اور ذہری نے اس پر کفارا ادا کرنا مقرر کیا ہے۔

2۔ اپنی عورت سے بوس و کنار یا معانقہ ’’گلے ملنا‘‘ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران اعتکاف ثابت نہیں۔ (زادالمعاد)

3۔ سوائے ضرورت انسانی یا خاص کام کے مسجد سے ہرگز باہر نہ جائے۔

4۔ کسی جنازہ میں شرکت نہ کرے اگر جنازہ مسجد سے باہر ہے ۔ (ابو داؤد موقوف)

5۔ مریض کی عیاد ت نہ کرے۔ (ابو داؤد)

6۔ عورت کو اعتکاف کے لیے خاوند کی اجازت لینا ضروری ہے۔ (ابو داؤد)

اعتکاف میں بیٹھنے کا وقت:

رمضان کے آخری عشرہ کے لیے اعتکاف بیٹھنا ہو تو بیس رمضان کی افطاری مسجد میں کرے اور رات اپنے خیمہ سے باہر گزارے،اکیس رمضان فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے اعتکاف کے خیمہ میں داخل ہو۔ اور چاند نظر آنے تک اپنی اسی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد میں مندرجہ بالا تمام شروط و قیود کو ملحوظ رکھتے ہوئے رہے۔ (بخاری ،مسلم، ابوداؤد)

یہ عبادات انسان اپنے رب سے تعلقات کومضبوط کرنے کے لیے اور رب سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں ،گناہوں اور لغزشوں سے طلب معافی کے لیے کرتا ہے اور اس عبادت کے لیے خود کو مسجد میں مقید کرتا ہے۔ خود کو باقی تمام دنیاوی امور سے الگ کر لیتا ہے تو اس کے اس عمل سے مراد ہے کہ اے اللہ یہ ایام خاص تیرے لیے، تیری عبادت کے لیے، تیری شان وعظمت کے لیے میں نے سب چھوڑ دیا صرف تجھے راضی کرنے کو تیرے گھر کا مہمان آبنا۔ اے اللہ تو مجھے بخش دے میری دنیا و آخرت سنوار دے میرے بگڑے کام بنادے۔ تو وہ رب کیوں نہیں سنے گا؟

لیلۃ القدر:

لیلۃ القدر بھی انہیں طاق راتوں میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ

لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (سورۃ القدر 3)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا: کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگرمجھے علم ہو جائے کہ یہ رات ہی لیلۃ القدر ہے تو میں کیا پڑھوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کہو:

اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

اے اللہ بیشک تو ہی معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔(ابن ماجہ)

آخری طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنا اور اس میں اس دعا کا ورد کرنا مستحب ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ان عبادت کو صرف اور صرف اللہ کے لیے خاص کر لیں اور اپنے موبائلز، لیپ ٹاپس، دوست واحباب عزیز واقارب کی وجہ سے اپنی اس عبادت میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دیں۔

صدقۃ الفطر کا حکم

اللہ کے نبی محمد نے صدقہ فطر واجب کیاہے جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ کی حدیث ہے:

سیدنا ابن عمر w سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے صدقہ فطر فرض کیا ہے۔ (بخاری 1503، مسلم 2276)

صدقہ فطر کن لوگوں پر:

یہ صدقہ ہر مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لیے ہو وہ اپنی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے اور ان لوگوں کی طرف سے بھی جن کا خرچ اس کے ذمے ہو جیسے بیوی، بچے اور والدین وغیرہ۔ (الموسوعۃ الفقہیہ 3/162)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ہر چھوٹے بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے جن کی خوراک تمہارے ذمہ ہو صدقہ فطر کا حکم دیا ہے۔ (دارقطنی)

جمہور کے نزدیک ماہ رمضان کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے لہذا جو اس سے پہلے پیدا ہو اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کیا جائے گا۔ (توضیح الاحکام لابن بسام 3/76)

یاد رہے کہ صدقہ فطر اس پر بھی واجب ہے جو کہ کسی بیماری یا دیگر وجوہات کی بنا پر روزے نہ رکھ سکا ہو اور اسی طرح صدقہ فطر کے وجوب کے لیے نصاب زکوٰۃ کا مالک ہونا شرط نہیں ہے۔

صدقہ فطر کی مشروعیت:

نبی اکرم نے صدقہ فطر کی مشروعیت میں دو حکمتیںبیان کی ہیں:

1۔ روزہ دار کی فضول اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے۔

2۔ مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ۔

جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ نے صدقہ فطر روزہ دار کی بے کار اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار:

زیر استعمال غلہ و اناج میں سے ایک صاع دیا جائے۔ موجودہ وقت کے حساب سے صاع کی مقدار میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے جس کا درمیانی راستہ موجودہ وزن کے مطابق تقریباً اڑھائی کلو گرام بنتا ہے۔ (واللہ اعلم)

صدقہ فطر کب دیا جائے:

صدقہ فطر عید کی نماز کو نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے فرماتے ہیں کہ آپ نے صدقہ فطر کے متعلق حکم دیا کہ یہ نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا کرو۔ (بخاری 1509، مسلم 2285)

صدقہ فطر عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی دیا جا سکتا ہے۔

سیدنا نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ان لوگوں کو دیتے تھے جو اس کو قبول کرتے تھے اور وہ لوگ عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے۔ (بخاری 1511)

نبی کریم نے نماز سے پہلے ادا ہونے والے صدقہ کو صدقہ فطر قرار دیا ہے اور اس کے بعد ادا ہونے والے کو صرف صدقہ کہا ہےجیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ نبی نے فرمایا: جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابل قبول زکاۃ (صدقہ فطر) ہوگا اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (سنن ابو داؤد 1606)

صدقہ فطر کن لوگوں کو دیا جائے:

بنی کریم نے صدقہ غریب و مساکین کو دینے کا حکم دیا ہے جیساکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ صدقہ فطر غریب، فقیر اور مساکین کو دیا جائے۔ (سنن ابو داؤد، ابن ماجہ)

نبی اکرم عید الفطر کی نماز کے لیے جاتے وقت اور آتے وقت راستہ بدلا کرتے تھے اور بلند آواز میں یہ الفاظ پکارا کرتے تھے:

اَللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلهِ الْحَمْدُ (مصنف ابن أبي شيبة 5651)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ہماری نجات کا سبب بنائے۔

آمین یا رب العالمین

ملاحظہ کیا گیا 2358 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 12:03