بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 09 كانون1/ديسمبر 2013 00:00

ماہِ صفر ایک مطالعاتی جائزہ

مولف/مصنف/مقرر  عادل سہیل ظفر

ماہِ صفر ایک مطالعاتی جائزہ

ماہِ صفر ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس مہینے کی نہ کوئی فضلیت بیان نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے میں کِسی بھی حلال اور جائز کام کو کرنے سے رُکا جائے ، ، جو مہینے فضلیت اور حُرمت والے ہیں اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ( اِنَّ الزَّمَانَ قَد استدَارَ کَھیئتِہِ یَومَ خَلَقَ اللہُ السَّمَوَاتِ وَ الارضَ السَّنَۃُ اثنا عَشَرَ شَھراً مِنھَا اربعَۃَ حُرُمٌ ، ثَلاثٌ مُتَوالیاتٌ ، ذو القعدہ ذوالحجۃِ و المُحرَّم و رجبُ مُضر الَّذِی بین جُمادی و شَعبان )

    (سا ل اپنی اُسی حالت میں پلٹ گیا ہے جِس میں اُس دِن تھا جب اللہ نے زمنیں اور آسمان بنائے تھے ، سال بار ہ مہینے کا ہے جِن میں سے چار حُرمت والے ہیں ، تین ایک ساتھ ہیں ، ذی القعدہ ، ذی الحج ، اور مُحرم اور مُضر والا رجب جو جمادی اور شعبا ن کے درمیان ہے ) صحیح البُخاری /حدیث ٧٩١٣، ٢٦٦٤،

دو جہانوں کے سردار ہمارے محبوب مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کی بارہ مہہینوں میں سے چار کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ چار مہینے حُرمت والے ہیں یعنی اُن چار مہینوں میں لڑائی اور قتال نہیں کرنا چاہئیے ، اِس کے عِلاوہ کِسی بھی اور ماہ کی کوئی اور خصوصیت بیان نہیں ہوئی نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !!!!

حیرانگی کی بات ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہ ہونے کے باوجود کچھ مہینوں کو با برکت مانا جاتا ہے اور من گھڑت رسموں اور عِبادت کے لیئے خاص کیا جاتا ہے اور کُچھ کے بارے میں یہ خیال کِیا جاتا کہ اُن میں کوئی خوشی والا کام ، کاروبار کا آغاز ، رشتہ ، شادی بیاہ ، یا سفر وغیرہ نہیں کرنا چاہیئے ، حیرانگی اِس بات کی نہیں کہ ایسے خیالات کہاں سے آئے ، یہ تو معلوم ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی کروں گا ، حیرانگی اِس بات کی ہے کہ جو باتیں اور عقیدے کِسی ثبوت اور سچی دلیل کے بغیر کانوں ، دِلوں اور دِماغوں میں ڈالے جاتے ہیں اُنہیں تو فوراً قبول کر لِیا جاتا ہے لیکن جو بات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی جاتی ہے اور پوری تحقیق کے ساتھ سچے اور ثابت شُدہ حوالہ جات کے ساتھ بتائی جاتی ہے اُسے مانتے ہوئے طرح طرح کے حیلے بہانے ، منطق و فلسفہ ، دِل و عقل کی کسوٹیاں اِستعمال کر کر کے راہ فرار تلاش کرنے کی بھر پُور کوشش کی جاتی ہے اور کچھ اِس طرح کہا لکھا جاتا ہے کہ :::

اجی یہ بات دِل کو بھاتی نہیں ::: کچھ ایسا ہے کہ عقل میں آتی نہیں !!!!

افسوس اُمتِ مُسلّمہ روایات میں کھو گئی

 مُسلّم تھی جو بات خُرافات میں کھو گئی

اِن ہی خُرافات میں سے ماہ ِ صفر کو منحوس جاننا ہے۔

پہلے تو یہ سُن لیجیئے کہ اللہ تعالیٰ نے کِسی چیز کو منحوس نہیں بنایا ، ہاں یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حِکمت ہے کہ وہ کِس چیزمیں کِس کے لیئے بر کت دے اور کِس کے لیئے نہ دے ، آئیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان آپ کو سُناؤں ، جو ہمارے اِس موضوع کے لیئے فیصلہ کن ہے۔

سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذِکر کِیا گیا تو فرمایا:

اِن کانَ الشؤم فَفِی الثَّلاثۃِ ، المَراء ۃِ و الفُرسِ الدارِ   (صحیح البُخاری / کتاب النکاح / باب ١٨ ، صحیح مسلم / حدیث ٢٢٢٥)۔

 ) اگر نحوست( کِسی چیز میں) ہوتی تو اِن تین میں ہوتی،عورت ، گھر اور گھوڑا (

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ( اگر نحوست کِسی چیز میں ہوتی ) صاف بیان فرماتا ہے کہ کوئی چیز منحوس نہیں ہوتی اور یہ بات بھی ہر کوئی سمجھتا ہے کہ جب ’’کوئی چیز ‘‘ ' کہا جائے گا تو اُس میں مادی و غیر مادی ہر چیز شامل ہو گی یعنی وقت اور اُس کے پیمانے بھی شامل ہوں گے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ نحوست کِسی چیز کا ذاتی جُز نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جِس چیز کو جِس کے لیئے چاہے برکت والا بنائے اور جِس کے لیئے چاہے بے برکتی والا بنائے ، یہ سب اللہ کی حکمت اور مشیئت سے ہوتا ہے نہ کہ کِسی بھی چیز کی اپنی صفت سے ، دیکھ لیجیئے کوئی دو شخص جو ایک ہی مرض کا شِکار ہوں ایک ہی دوا اِستعمال کرتے ہیں ایک کو شِفاء ہو جاتی ہے اور دوسرے کو اُسی دوا سے کوئی آرام نہیں آتا بلکہ بسا اوقات مرض بڑھ جاتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جگہ میں ایک ہی جیسا کارابار کرتے ہیں کِسی کوئی فائدہ ہوتا ہے کِسی کو نُقصان اور کوئی درمیانی حالت میں رہتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جیسی سواری اِستعمال کرتے ہیںکِسی کا سفر خیر و عافیت سے تمام ہوتا ہے اور کِسی کا نہیں ، اِسی طرح ہر ایک چیز کا معاملہ ہے۔

یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ہے کہ برکت اور اضافے میں بہت فرق ہوتا ہے ، کِسی کے لیئے کِسی چیز میں اضافہ ہونا یا کِسی پاس کِسی چیز کا زیادہ ہونا اِس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اُسے برکت دی گئی ہے ، عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ کافروں ، اور بدکاروں کو مسلمانوں اور نیک لوگوں کی نسبت مال و دولت ، اولاد ، حکومت اور دُنیاوہ طاقت وغیرہ زیادہ ملتی ہے ، تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُنہیں برکت دی گئی ہے ، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے اُن پر آخرت کا مزید عذاب تیار کرنے کا سامان ہوتا ہے ، کہ ، لو اور خُوب آخرت کا عذاب کماؤ ، یہ ہمارا اِس وقت کا موضوع نہیں ہے لہذا اِس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جا رہی۔

بات صفر کے مہینے کی ہو رہی تھی کہ نہ تو اِس کی کوئی فضلیت قُران و سُنّت میں ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے کو بے برکت یا بُرا سمجھا جائے ، جی ہاں ، اِسلام سے پہلے عرب کے کافر اِس مہینے کومنحوس اور باعثِ نُقصان سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ صفر ایک کیڑا یا سانپ ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے اور جِس کے پیٹ میں ہوتا ہے اُس کو قتل کر دیتا ہے اور دوسروں کے پیٹ میں بھی مُنتقل ہو جاتا ہے ، یعنی چُھوت کی بیماری کی طرح اِس کے جراثیم مُنتقل ہوتے ہیں ، اور اِسی لیئے اپنے طور پر ایک سال چھوڑ کر ایک سال میں اِس مہینے کو محرم سے تبدیل کر لیتے اورمحرم کی حُرمت اِس پر لاگو کرتے کہ شایدحُرمت کی وجہ سے صفر کی نحوست کم یا ختم ہو جائے،اور دوسرا سبب یہ ہوتا کہ محرم کی حُرمت صفرپر لاگو کرکے محرم کو دوسرے عام مہینوں کی طرح قرار دے کر اُسمیں وہ تمام کام کرتے جو حُرمت کی بنا پر ممنوع ہوتے۔

تفصیلات کے لیے دیکھیے:

(فتح الباری شرح صحیح البُخاری / الاِمام الحافظ ابن حَجر العسقلانی ، عُمدۃ القاری شرح صحیح البُخاری / عِلامہ بدر الدین العینی، شرح اِمام النووی علیٰ صحیح مُسلم ، عَونُ المَعبُود شرح سُنن ابی داؤد /علامہ شمس الحق العظیم آبادی ،الدیباج علیٰ صحیح مُسلم /امام السیوطی ، فیض القدیر شرح جامع الصغیر / عبدالرؤف المناوی )

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا اِن سب اور اِن جیسے دوسرے عقیدوں کو غلط قرار فرمایا۔

سیدنا ابو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا عَدوٰی و لاھامّۃ و لا طیرۃَ و لا صفر ) ( نہ ( کوئی ) چُھوت ( کی بیماری )ہے ، نہ ھامہ ہے ، نہ پرندوں ( یا کِسی بھی چیز )سے شگون لینا (کوئی حقیقت رکھتا) ہے ، نہ صفر ( کوئی بیماری یا نحوست والا مہنیہ ہے اور نہ اِس کی کِسی اور مہینہ کے ساتھ تبدیلی )ہے۔

(صحیح البُخاری / کتاب الطب / باب ٤٤، صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٢٠)

الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ حدیث دیگر صحابہ سے بھی روایت کی گئی ہے اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے ، میں نے حوالے کے لیئے صِرف صحیح البُخاری اور صحیح مُسلم پر اِکتفاء کِیا ہے کہ اِن کے حوالے کے بعد کِسی اور حوالے کی ضرورت نہیں رہتی ، اور قوسین () کے درمیان جو الفاظ لکھے گئے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں لیکن سب کے سب اِن احادیث کی شرح سے اور جِن کتابوں کا حدیث کے ساتھ حوالہ دِیا گیا ہے اُن میں سے لیئے گئے ہیں اپنی طرف سے نہیں لکھے گئے۔

تو عرب صفر کے مہینے کے بار ے میں منحوس ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے ، افسوس کہ اِسی قِسم کے خیالات آج بھی مُسلمانوں میں پائے جاتے ہیں ، اور وہ اپنے کئی کام اِس مہینے میں نہیں کرتے ، آپ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس مہینے کے بارے میں پائے جانے والے ہر غلط عقیدے کو ایک حرفِ میں بند کر کے مُسترد فرما دِیا ، سال کے دیگر مہینوں کی طرح اِس مہینے کی تاریخ میں بھی ہمیں کئی اچھے کام ملتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے اُسکے بندوں نے کیئے ، مثلاً ،

:::::   ہجرت کے بعد جہاد کی آیات اللہ تعالیٰ نے اِسی مہینے میں نازل فرمائیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حُکم پر عمل کرتے ہوئے پہلا غزوہ اِسی مہینے میں کِیا ، جِسے غزوہ الابوا بھی کہا جاتا ہے اور ’’ ودّان ‘‘بھی ،

 اِیمان والوں کی والدہ مُحترمہ خدییجہ بنت الخولید رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی مُبارک اِسی مہینے میں ہوئی ،

:::::   خیبر کی فتح خیبر اِسی مہینے میں ہوئی ،

یہ سب جاننے کے بعد بھلا کون مُسلمان ایسا ہو گا جو اِس مہینے کو یا کِسی بھی مہینے کو منحوس جانے اور کوئی نیک کام کرنے سے خود کو روکے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور اُس پر عمل کرتے ہوئے ہمارے خاتمے فرمائے۔

ابھی جو حدیث نقل کی گئی اُس میں ’’ھامہ ‘‘کا ذِکر تھا ، بہت اختصار کے ساتھ اُس کا معنی بیان کرتا چلوں ، یہ بھی عربوں کے غلط جھوٹے عقائد میں سے ایک تھا ، کہ جِسے قتل کیا جاتا ہے اس کی روح اُلّو بن جاتی ہے اور اپنا انتقام لینے کے لیئے رات کو نکلتی ہے ، اور جب تک اُس کا اِنتقام پورا نہیں ہوتا وہ اُلّو بن کر راتوں کو گھومتی رہتی ہے ، اور سانپوں کے بارے میں بھی ایسا ہی عقیدہ پایا جاتا تھا ، اور کُچھ اور معاشروں میں اِسی قِسم کا عقیدہ چمگادڑ وغیرہ کے بارے میں پایا جاتا ہے ، عرب اپنے اِس باطل عقیدے کی وجہ سے اُلّو کی آواز کو بھی منحوس جانتے اور اُس کو دیکھنا بھی بدشگونی مانتے ، سانپوں کے انتقام ، چمگادڑوں اور اُلوؤں کے عجیب و غریب کاموں اور قوتوں اور اثرات کے بارے میں بے بُنیاد جھوٹے قصے آج بھی مروج ہیں اور اُسی طرح کے جھوٹے عقائد بھی لوگوں کے دِلوں و دِماغوں میں گھر بنائے ہوئے ہیں ،

جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن تمام عقائد کو باطل قرار دِیا ہے جیسا کہ ابھی بیان کِیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اِن مختصر معلومات کو پڑھنے والوں کی ہدایت کا سبب بنائے اور میری یہ کوشش قُبُول فرمائے اور میری لیئے آخرت میں آسانی اور مہربانی اور مغفرت کا سبب بنائے ۔

 

ماہِ صفر کی مخصوص عبادات

الحمد للہ و الصلاۃ والسلام على رسولہ و آلہ و صحبہ، وبعد:

اللہ تعالى كى تعريفات اور اس كى رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر درود و سلام كے بعد

ہمارے ملك ميں بعض علماء كا خيال ہے كہ صفر كے مہينہ كے آخرى بدھ ميں چاشت كے وقت ايك سلام كے ساتھ چار ركعت نفل كرين ہر ركعت ميں سترہ ( 17 )بار سورۃ فاتحہ اور سورۃ الكوثر اور پچاس بار سورۃ الاخلاص (قل ہو اللہ احد ) اور معوذتين ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) ايك ايك بار پڑھيں، ہر ركعت ميں ايسا ہى كريں اور سلام پھيرى جائے، اور جب سلام پھيرى جائے تو تين سو ساٹھ( 360 ) بار{الله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون}اور تين بار جوہر كمال پڑھنا مشروع ہے، اور سبحان ربك رب العزة عما يصفون ، وسلام على المرسلين ، والحمد لله رب العالمين پڑھ كر ختم كى جائے، اور فقراء و مساكين پر كچھ روٹى صدقہ كى جائے.اور اس آيت كى خاصيت يہ ہے كہ يہ صفر كے مہينہ كے آخري بدھ كو پہنچنے والى تكليف اور پريشانى كو دور كرتى ہے

۔اور ان كا كہنا ہے كہ:

ہر برس تين سو بيس تكليفيں اور آزمائشيں اترتى ہيں، اور يہ ساري كى سارى ماہ صفر كے آخرى بدھ ميں ہيں، تو اس طرح پورے سال ميں يہ دن سب سے مشكل ترين دن ہوتا ہے، اس ليے جو بھى اس مذكورہ كيفيت ميں نماز ادا كرے گا اللہ تعالى اپنے فضل و كرم سے اس دن ميں نازل ہونے والى سارى تكليفوں پريشانيوں اور آزمائشوں سے اس كى حفاظت فرمائے گا، تو كيا يہى حل ہے؟.

مذكور نوافل كے متعلق كتاب و سنت ميں كوئى اصل اور دليل نہيں، اور ہمارے نزديك تو امت كے سلف صالحين ميں سے كسى ايك سے بھى ثابت نہيں كہ اس پر كسى نے عمل كيا ہو، بلكہ يہ بدعت اور منكرات ميں سے ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ثابت ہے كہ:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جو ہمارے دين ميں نہيں تو وہ عمل مردود ہے"

اور ايك دوسرى حديث ميں ہے كہ:

" جس نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى نيا كام ايجاد كيا جو اس ميں نہيں تو وہ مردود ہے"

اور جس كسى نے بھى اس نماز اور اس كے ساتھ جو كچھ ذكر كيا گيا ہے كو نبى صلى اللہ عليہ وسلم يا كسى صحابى كى طرف منسوب كيا تو اس نے بہت عظيم بہتان بازى كى، اور وہ اللہ تعالى كى جانب سے جھوٹے اور كذاب لوگوں كى سزا كا مستحق ٹھرے گا.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميہ والافتاء ( 2 / 354 ).

 اور شيخ محمد عبد السلام الشقيرى فرماتے ہیں:

جاہلوں كى عادت بن چكى ہے كہ سلام والى آيات مثلا { سلام على نوح في العالمين}الايۃ لكھ كر برتنوں ميں ركھ كر ماہ صفر كے آخرى بدھ كو پيتے اور اس سے تبرك حاصل كرتے اور ايك دوسرے كو ہديہ اور تحفہ ميں ديتے ہيں، كيونكہ ان كا اعقاد ہے كہ اس سے شر اور برائى جاتى رہتى ہے، يہ اعتقاد باطل اور فاسد اور اس سے نحوست پكڑنا مذموم ، اور بہت ہى قبيح قسم كى بدعت ہے، جو شخص بھى كسى كو يہ عمل كرتے ہوئے ديكھے اس سے روكنا واجب اور ضرورى ہے.

ديكھيں: السنن و المبتدعات ( 111 - 112 ).

***

ملاحظہ کیا گیا 3970 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 12:20