بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الإثنين, 22 تشرين1/أكتوير 2018 14:27

جنتی مردوں اور جنتی عورتوں کی صفات

مولف/مصنف/مقرر  الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف

جنتی مردوں اور جنتی عورتوں کی صفات

ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کیا میں تمھیں تمہارے جنتی مردوں کی بابت نہ بتلاؤں؟ نبی جنتی ہے، صدیق جنتی ہے، شہید جنتی ہے ، (معصوم) بچہ جنتی ہے، وہ شخص جنتی ہے جو اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے شہر کے آخری کنارے پر محض اللہ کی رضا کے لیے جاتا ہے۔‘‘ پھرفرمایا:

’وِنِسَاءُکُمْ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ الْوَدُوْدُ الْوَلُودُ الْعَؤُدُ عَلیٰ زَوْجِھَا، اَلَّتِیْ اِذَا غَضِبَ جَاءتْ حَتّٰی تَضَعَ یَدَھَا فِي یَدِزَوْجِھَا وَتَقُوْلُ: لَا اَذُوْقُ غَمْضًا حَتَّی تَرْضٰی‘[1]

’’اور تمھاری جنتی عورتوں میں سے ایک وہ عورت جنتی ہے جو (خاوند سے) بہت محبت کرنے والی، بہت بچے پیدا کرنے والی اور اپنے خاوند سے گہرا تعلق رکھنے والی ہو، خاوند جب اس سے ناراض ہو جائے تو وہ (اس سے بے اعتنائی کرنے یا اکڑنے کے بجائے) اس کے پاس جاتی ہے، حتی کہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ میں اس وقت تک پلک نہیں جھپکاؤں گی جب تک تو راضی نہیں ہو جائے گا۔‘‘

آج کل کی عورتوں میں مذکورہ صفات کی عورتیں کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔

(1) اس حدیث کی رُو سے عورت کے اندر مرد سے بے اعتنائی اور اکڑنے کا جذبہ نہایت خطرناک ہے، اس کے برعکس خاوند کی ناراضی دیکھ کر اس کو منانے اور راضی کرنے کا جذبہ عورت کو جنت میں لے جانے والا ہے، بشرطیکہ دیگر احکام و فرائض کی پابندی کا بھی اہتمام ہو۔

(2)آج کل کی عورتیں زیادہ بچے پیدا کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں، محض اس لیے کہ زیادہ بچے جننے سے ان کے حسن و رعنائی میں کمی آ جائے گی، یا بعض وسائل کی کمی کا بہانہ پیش کرتی ہیں، یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ حکم شریعت اور اجر و ثواب کے مقابلے میں اپنے حسن و جمال کے برقرار رکھنے کو اہمیت دینا، ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ اسی طرح وسائل کا بہانہ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت اور اس پر اعتماد و توکل کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے، رزق تو ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم تمھیں بھی اور تمھارے بچوں کو بھی (چاہے وہ کتنے ہی ہوں) رزق دینے پر قادر ہیں، بلکہ سب کی رزق رسانی ہماری ذمے داری ہے۔

[نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ ][الأنعام 151]

’’ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور بچوں کو بھی۔‘‘

[ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا ][ھود6]

’’زمین پر چلنے والے کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

بنابریں جنت کی خواہش مند عورت کو اولاد کی کثرت سے نہیں ڈرنا چاہیے، نہ از خود افزائش نسل کے خلاف مصنوعی طریقے ہی اختیار کرنے چاہئیں۔

 البتہ کوئی عورت ایسی بیمار اور کمزور ہو جس کے لیے بار بار حمل اور وضع حمل کی تکلیف برداشت کرنا مشکل ہو، تو اس کو جان بچانے کے لیے عزل کے جائز طریقے اختیار کرنے کی علماء نے اجازت دی ہے۔

عزل کا مطلب، ایسے طریقے اختیار کرنا ہے کہ جس سے مرد کی منی عورت کے رحم میں نہ جا سکے، جیسے اس کے لیے صدرِ اسلام میں مرد انزال کے وقت آلۂ تناسل عورت کی شرم گاہ سے باہر نکال لیتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کے باوجود اس کی اجازت دی ہے۔ آج کل اس کا متبادل کنڈوم (ساتھی) وغیرہ ہیں۔ زیر بحث مخصوص صورت میں اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

مخصوص حالات کے بغیر، ضبط و لادت کے سارے طریقے ناجائز ہیں

 تا ہم اس کے لیے نس بندی یا عورت کی بچہ دانی کا نکال دینا یا مانع حمل دوائیوں کا استعمال شرعاً محل نظر ہے۔ نس بندی کا مطلب، آپریشن کے ذریعے سے مرد کے آلۂ تناسل افزائش نسل کی صلاحیت سے محروم کر دینا ہے۔ اس کے بعد مرد اس قابل نہیں رہتا کہ وہ عورت کو بار آور (حاملہ) کر سکے۔

بچہ دانی کے نکال دینے کا عمل عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی اندام نہانی (رحم) سے بچہ دانی نکال دی جاتی ہے (یہ عمل بھی غالباً آپریشن ہی کے ذریعے سے ہوتا ہے) اس کے بعد عورت کو حمل ہی نہیں ٹھہرتا اور یوں وہ افزائش نسل کے قابل نہیں رہتی۔

مانع حمل دوائیوں کا استعمال بھی اس لیے جائز نہیں کہ ایک تو یہ انسانی صحت کے لیے مضرہیں۔ دوسرے مسلمانوںکو جو کثرت اولاد کی ترغیب دی گئی ہے اس کے منافی ہے۔

ضبط ولادت (برتھ کنٹرول) کے لیے آج کل یہ تینوں طریقے سرکاری طوراستعمال پر کیے جاتے ہیں۔ جن سے زنا کاری کو فروغ مل رہا ہے۔ اس لیے یہ تینوں طریقے حرام ہیں۔ البتہ عزل یا اس کا مذکورہ متبادل مخصوص صورتوں میں جائز ہے، مطلقاً اس کا بھی جواز نہیں ہے۔

 

کثرت اولاد یا قلتِ اولاد، اسلام نے کس کی ترغیب دی ہے؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا:

’اِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ جَمالٍ وَحَسَبٍ وَأَنَّھَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُھَا بِھَا، قَالَ : لَا، ثُمَّ اتَاَہُ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ، ثُمَّ اَتَاہُ الثَّالِثَۃَ، فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ، فِإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ‘[2]

’’مجھے ایک عورت مل رہی ہے جو خوبصورت اور اچھے خاندان کی ہے، البتہ وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ وہ دوبارہ آیا، آپ نے پھر اس کو روک دیا، پھر وہ تیسری مرتبہ آیا، تو آپ نے فرمایا: (محض حُسن اور خاندان مت دیکھو بلکہ) بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (قیامت کے دن) تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘

کوئی عورت زیادہ بچے پیدا کرے گی یا کم کرے گی یا بالکل ہی نہیں کرے گی؟ ان باتوں کا علم تو شادی کے بعد ہی ہوتا ہے۔ تو شادی کرتے وقت کس طرح معلوم ہو گا کہ یہ مذکورہ تین قسم کی عورتوں میں سے کون سی عورت ہے؟ اس کا اندازہ اس کی ماں، بہنوں کو دیکھنے سے بالعموم ہو جاتا ہے۔

آج کل یہ پروپیگنڈا عام ہے کہ بچے دو یا تین ہی کافی ہیں، دین سے بے خبر لوگ اس پروپیگنڈے سے متاثر بھی ہو رہے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ نعرہ یکسر غلط ہے۔

 اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اگر اس آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملکی وسائل ناکافی ہو جائیں گے۔

یہ دراصل اسلام دشمن طاقتوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، ورنہ اس کی آڑ میں ان کا اصل ایجنڈا یہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں افزائش نسل کی حوصلہ شکنی کر کے ان کو افرادی قوت سے محروم کر دیا جائے تاکہ جب کبھی وہ بیدار ہوں (کیونکہ ابھی تو مسلمان غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں) تو وہ ہم سے لڑنے کا حوصلہ نہ کر سکیں۔

حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ وسائل بھی پیدا فرما رہا ہے۔ آج سے چند صدیاں قبل انسانی آبادی محدود تھی، اس وقت وسائل رزق بھی نہایت محدود تھے۔ اور اب جب کہ آبادی بہت زیادہ پھیل گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے وسائل بھی فراواں کر دیے ہیں اور کسی چیز کی کمی انسانوں کو محسوس نہیں ہوتی۔ یہ قدرت کا نظام ہے جو اس نے تکوینی طور پر قائم کیا ہوا ہے اور اس میں آئندہ بھی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے اس غم میں ہلکان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ زیادہ آبادی کے لیے کھانے پینے کے وسائل کس طرح مہیا ہوں گے؟ رزق کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور وہ اسے پورا کر رہا ہے اور قیامت تک کرتا رہے گا۔

 البتہ ہماری ذمے داری یہ ہے کہ اللہ کے پیدا کر دہ وسائل کو ہم پوری منصوبہ بندی سے بروئے کار لائیں، مثلاً جو زمینیں قابل کاشت بیکار پڑی ہیں، ان کو ہم کاشت کاری کے لیے کام میں لائیں، وہاں تک پانی پہنچانے کا انتظام کریں، آمد و رفت کو آسان بنائیں اور کاشت کاروں کو ان کی حسب ضرورت وسائل مہیا کریں۔

 دوسرے نمبر پر سادگی اور کفایت شعاری کو اپنائیں۔ اس وقت فضول خرچی ہمارا شعار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بے پناہ وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اس ضیاع کو روک کر بھی ہم اپنے وسائل میں مُعْتَدبہِّ(معقول) اضافہ کر سکتے ہیں۔

تیسرے نمبر پر سیلابی بندوں اور پشتوں کو مضبوط کریں تاکہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے فصلوں، جانوروں اور انسانوں کا جو ضیاع ہوتا ہے، وہ نہ ہو۔

ضبط ولادت کی تحریک، زنا کاری کو فروغ دینے کی استعماری مہم ہے

 علاوہ ازیں ضبط ولادت کی اس تحریک کے پیچھے اسلام دشمن طاقتوں کا یہ منصوبہ بھی کارفرما ہے کہ اسلامی ملکوں میں اس کے ذریعے سے فحاشی، بے حیائی اور زنا کاری کو فروغ دیا جائے اور یوں اسلامی تہذیب کا وہ تخصص و امتیاز ختم ہو جائے جو انسانی معاشرے میں حیا و عفت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ جس میں استعماری طاقتیں مسلمان عورت کو بے پردہ کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ جب نس بندی، رحم کی بندش اور مانع حمل دوائیں اور طریقے عام ہو جائیں گے تو اس سے زنا کاری کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے کا خوف ختم ہو جائے گا جو زنا کاری کے عام ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یوں اسلامی ملکوں میں اسلام کی اعلیٰ تہذیب کے مقابلے میں مغرب کی حیا باختہ تہذیب کا چلن عام اور اسلام کا تخصص و امتیاز ختم ہو جائے گا۔ ’لَا قَدَّرَہُ اللہُ،ثُمَّ لَا قَدَّرَہُ اللہُ‘

اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دشمنوں کی اس سازش کو اور اسلامی تہذیب کے خلاف اس منصوبے کو سمجھیں اور ضبط ولادت کے بجائے کثرتِ اولاد کے جذبے کو توانا اور برقرار رکھیں اور اللہ پر اعتماد و توکل رکھیں۔ یہی ایک مسلمان کی شان ہے۔

[وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ  11 ؀][ابراھیم 11]

’’مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘

[وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 12۝ۧ ][ابراھیم 14]

’’توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘

بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا صحیح حل

بہر حال ضبط ولایت کی تحریک کے پیچھے ایک نہایت گہری اور گھناؤنی سازش کارفرما ہے،ورنہ اس کا اصل حل یہ نہیں ہے کہ آبادی کوکنٹرول کرنے کے لیے فحاشی کے زرائع عام کردیے جائیں، بلکہ اس کا اصل حل وسائل ِ حیات کے ضیاع کو روکنا او ر اس کےلیے بہتر منصوبہ بندی ہے۔

اس وقت وسائل کا جس طرح ضیاع ہورہا ہے ،اس کا اندازہ کرنے کے لیےاقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔یہ خبر ،رپورٹ یاسروے روزنامہ ’’آواز‘‘لاہور (24 اکتوبر2013ء)درج ذیل سرخی کے ساتھ شائع ہواہے۔

            ’’دنیا میں ہر سال 750 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء ضائع ہوجاتی ہیں‘‘

اب اس کی تفصیل ملاحظہ ہو:

’’نیویارک ( آن لائن)دنیا میں ہر سال750 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء ضائع ہوجاتی ہیں،جو دو ارب افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن۔(ایف اے او)نے اپنی رپورٹ میں بتا یا ہے کہ دنیا میں ہرسال ایک ارب 30کروڑ ٹن اشیا ء خراب یا ضائع ہوتی ہیں،جو کل پیداوار کا ایک تہائی ہے۔اس ضیاع کوروکا جائےتودنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی یعنی دو ارب افراد کی غذائی ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ترقی پذیر ممالک میں ناقص سہولیات کے باعث کاشت ،نقل وحمل اور سٹوریج کے دوران غذائی اشیاء خراب ہوتی ہیں جبکہ امیرممالک میں خریدارکی جانب سے ضیاع سب سے زیادہ ہے۔یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر سال اوسطاََ ہر خریدار سوکلو غذائی اشیاء ضائع کرتا ہےجب کہ افریقہ میں یہ ضیا10کلو سالانہ سے بھی کم ہے‘‘(روزنامہ آواز۔لاہور)

یہ توغذائی اشیاءکا وہ ضیاع ہےجس کا سد ِ باب اگر کردیا جائے تو یہ موجودہ غذائی ذخائر ہی مزید دو ارب انسانوںکی خوراک کے لیے کافی ہیں۔

اس کے ساتھ اگر فضولیات کی مد میں اربوں روپوں کا جو ضیاع ہورہا ہے اسے اگر روک لیا جائے تو اتنے زیادہ مالی وسائل مہیا ہوسکتے ہیں کہ جس سے معیشت میں ایک نئی روح پھونکی جاسکتی ہے ۔مثلاََ: سگریٹ نوشی ہے جس پر ایک رپورٹ کے مطابق گیارہ ارب روپے سالانہ برباد کر دیے جاتے ہیں۔بر ِصغیر پاک و ہند میں پان نوشی ہے ،پوری دنیا میں سگریٹ نوشی اور دیگر منشیات کا سلسلہ ہے ،عورتوں کے غازہ ولپ اسٹک(میک اپ)کا بڑھتا ہوا بے ہودگی کا مسئلہ ہے۔عورتوں کے نت نئے فیشنوں اور اسٹائلوں کے لیے بے پناہ اخراجات ہیں اور اس طر ح کے دیگر غیر ضروری اخراجات ہیں۔ان پر سالانہ کئی ارب نہیں،کھربوں روپے برباد ہورہے ہیں۔ان سب کو ختم یا کم یا اعتدال پر رکھنے سے کھربوں روپے سالانہ بچ سکتے ہیں جن کو بے وسائل افراد کی ضروریات پر خرچ کر کے آبادی کنٹرول کرنے کے بجائے آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کر کےبڑھتی ہوئی آبادی سے پیداہونے والےمسائل کو نہایت آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

بیوی کا دینی جذبہ اور خاوند کی اطاعت

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ ہم آپ کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: میرا خاوند صفوان بن معطل جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو روزہ تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز بھی اس وقت پڑھتا ہے جب سورج نکل آتا ہے (حالانکہ فجر کی نماز صبح طلوعِ شمس سے پہلے پڑھنی چاہیے)

اس وقت صفوان بھی وہاں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے ان شکایات کی بابت پوچھا تو انھوں نے کہا:

اے اللہ کے رسول! اس نے جو کہا ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے، تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے، میں اس کو اس سے روکتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر ایک سورت بھی ہو تو لوگوں کے لیے کافی ہے۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ وہ روزہ تڑوا دیتا ہے تو بات یہ ہے کہ یہ جب (نفلی) روزہ رکھنے پر آتی ہے تو (لگاتار) رکھتی ہی چلی جاتی ہے جب کہ میں جوان آدمی ہوں، صبر نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روز فرمایا: ’’کوئی عورت خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ میں (فجر کی) نماز سورج کے نکلنے کے بعد پڑھتا ہوں، تو بات یہ ہے کہ یہ بات ہمارے گھرانے کی بابت مشہور ہے، ہمیں اس وقت تک جاگ نہیں آتی جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تو بیدار ہو، نماز پڑھ لیا کر۔‘‘ [3]

اس حدیث میں کئی اسباق ہیں: مثلاً

(1)بیوی کو نفلی عبادت کا شوق ہو تو اچھی بات ہے لیکن اس شوق کے پورا کرنے میں خاوند کے حقوق متأثر نہ ہوں۔ اس لیے نفلی عبادت میں خاوند کی اجازت ضروری ہے۔

(2) بیوی خاوند میں کوئی دینی کوتاہی دیکھے تو وہ بڑوں تک اس کی شکایت پہنچا سکتی ہے تاکہ اس کی اصلاح ہو سکے۔

(3) ہر نماز اپنے وقت میں پڑھنی چاہیے تاہم معقول عذر ہو تو بعد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔

(4) بیوی کی نفلی عبادت سے خاوند کی حق تلفی ہو تو خاوند اس کو اس سے روک سکتا ہے یا اس میں تخفیف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

 

عورت، اپنے غریب خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عید کے موقع پر خطبہ دیا، اس میں عورتوں کو بھی الگ وعظ فرمایا جس میں ان کو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب فرمائی۔

اسی روز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (زینب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا:

’اِنَّکَ أَمَرْتَ الْیَوْمَ بِالصِّدَقَۃِ وَکَانَ عِنْدِیْ حُلِيٌّ لِیْ فَاَرَدتُّ اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہِ، فَزَعَمَ ابْنُ مسعودٍ اَنَّہُ وَوَلَدَہُ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِہِ عَلَیْھِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، زَوْجُکِ وَوَلَدُکِ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِہِ عَلَیْہِمْ‘[4]

’’آج آپ نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، میرے پاس میرا کچھ زیور ہے، میں نے اسے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو ابن مسعود کا خیال ہے کہ میں جن لوگوں پر صدقہ کروں گی تو ان کے مقابلے میں وہ اور ان کی اولاد زیادہ مستحق ہے۔ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا، تیرا خاوند اور تیری اولاد ان کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے جن پر تو صدقہ کرے گی۔‘‘

ایک دوسری روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کے سوال کے جواب میں فرمایا:

 

’نَعَمْ ،وَلَھَا اَجْرَانِ،اَجْرُ الْقَرَابَۃِ وَاَجْرُ الصَّدَقَۃِ‘۔[5]

’’ہاں وہ اپنے خاوند کو صدقہ دے سکتی ہے، اس میں اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔ ایک حقِ قرابت کی ادائیگی کا اجر اور ایک صدقے کا اجر۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اگر غریب ہو، اس کی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں اور بیوی صاحبِ حیثیت ہو یا اس کے پاس بمقدار نصاب طلائی زیور ہوں تو اس کے لیے زکوٰۃ کی رقم اپنے خاوند کو دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل ہے، اس طرح وہ ڈبل اجر کی مستحق ہو گی۔ اسی طرح زیر پرورش یتیم بچوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا بھی دگنے اجر کا باعث ہے۔

تا ہم خاوند اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنی بیوی اور اپنے بچوں پر خرچ نہیں کر سکتا، کیونکہ ان کے نان نفقہ کا ذمے دار وہ خود ہے، وہ یہ ذمے داری اصل مال سے ادا کرے گا نہ کہ مالِ زکوٰۃ سے۔ عورت چونکہ خاوند کے نان نفقے کی ذمے دار نہیں ہے اس لیے وہ اس کو زکوٰۃ دے سکتی ہے۔


بیوی انمول عطیہ ہے، عضو معطل نہیں

انمول، ایسی قیمتی اور نادر چیز کو کہا جاتا ہے جس کی قیمت صحیح معنوں میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ عورت بھی ایک ایسی ہی انمول چیز ہے کہ مرد اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتا، گویا وہ ایسا عطیۂ الٰہی ہے جس پر انسان اللہ کا جتنا بھی شکر کرے، اس نعمت اور عطیے کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے آپ دو سوالوں پر غور کریں۔

(1)آپ اس پر کتنی ماہانہ یا سالانہ رقم خرچ کرتے ہیں؟

(2) اور وہ اس کے بدلے میں آپ کی، آپ کے بچوں اور گھر کی کتنی خدمت کرتی ہے؟

اگر عورت سگھڑ، سلیقہ مند، سادہ مزاج (جیسا کہ ایک مسلمان عورت کو ہونا چاہیے) زمانے کے نت نئے فیشنوں سے بیزار، آئے دن نئے نئے مطالبات سے نا آشنا اور اس قسم کی دیگر خوبیوں سے آراستہ ہو۔ تو آپ خود سوچ لیں آپ اس پر کتنی ماہانہ یا سالانہ رقم خرچ کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اس کی خدمت کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ اس سے آپ کو کتنے مالی اور دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

(1) وہ تین وقت آپ کے لیے، بچوں کے لیے، اگر والدین وغیرہ بھی ہوں تو ان کے لیے بھی خوراک کا انتظام کرتی ہے، صبح کا ناشتہ، دوپہر کا اور رات کا کھانا۔ اس کے لیے اگر آپ کسی باورچی کا انتظام کریں تو اس کے لیے کم از کم 15سے 20 ہزار روپے تک ماہانہ آپ کو دینے پڑیں گے۔

(2) وہ آپ کے اور بچوں کے اور دیگر افرادِ خانہ کے کپڑے دھوتی اور ان کو استری کرتی ہے اگر آپ یہ کپڑے کسی ڈرائی کلینر (دھوبی) سے دھلوائیں تو اس پر بھی ماہانہ خرچ چار پانچ ہزار سے کم نہیں ہو گا۔

(3) گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے آپ کسی ملازمہ کو رکھیں گے تو اس کا بھی ماہانہ خرچ دوہزار سے ڈھائی تین ہزار تک سے کم نہیں ہو گا۔

ان کے علاوہ گھر کے اور کئی دسیوں قسم کے کاموں کے لیے،جوکہ عورت وہ خاموشی سے سر انجام دیتی ہے، جیسے چھوٹے بچوں کی حفاظت اور نگرانی وغیرہ کے لیے کوئی آیا، ماما رکھیں گے تو اس پر بھی چند ہزار روپے ماہوار ضرور آپ کا خرچہ ہو گا۔

اس رقم کا حساب لگالیں جو 25 سے30ہزار کے درمیان ہو گی۔ گویا بیوی کی ان خدمات کے عوض آپ کو25 سے30ہزار تک کی ماہانہ بچت ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ آپ کے دکھ درد میں آپ کی ساتھی، زندگی کے بیشتر معمولات میں آپ کی مشیر، آپ کو سکون اور لذت کا سامان مہیا کرنے والی ہے۔ یہ سکون اور لذت آپ کو بیوی کی آغوش محبت کے سوا اور کہیں سے نہیں مل سکتی۔

ان تمام حقیقتوں کے باوجود بعض لوگ عورت کی ان جانکاہ محنتوں اور جاں گداز مشقتوں کو چنداں اہمیت نہیں دیتےاور اسی لیے اس گراں قدر نعمت کی قدر نہیں کرتے۔

اور بعض نادان قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ عورت معاشرے کا عضو معطل ہے، اس کو مرد کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے، یوں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ گھریلو عورت جو ملک کی نصف آبادی ہے، بیکار اور ملک پر بوجھ ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک

یہ مغرب زدہ، شیطان صفت اور اسلامی تعلیمات سے یکسر بے خبر لوگ ہیں، واقعہ تو یہ ہے کہ عورت اپنے منصبی دائرۂ کار میں گھریلو امور سر انجام دے کر مرد کو بے مثال سکون مہیا کرتی ہے جس کی بنا پر مرد بیرونِ در کی تمام مصروفیات نہایت خوش دلی اور بے فکری سے سر انجام دے لیتا ہے۔ اگر گھر کی طرف سے اس کو یہ سکون میسر نہ ہو تو مرد گھر سے باہر کے امور (تجارت و کاروبار، لین دین، سیاست و نظم حکومت وغیرہ) احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے سکتا۔

بنابریں عورت عضو معطل نہیں ہے بلکہ ملک کا فعّال عضو اور ملکی ترقی میں مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغرب کی عورت اپنی ردائے عفت کوتار تار کر کے اور خاندانی نظام کو تارپیڈو کر کے ملک کی ترقی میں شریک ہے اور مسلمان عورت نے اپنی عصمت کو بھی داؤ پر نہیں لگایا ہے اور خاندانی نظام کو بھی تحفظ دیا ہوا ہے اور ان دونوں خوبیوں کے ساتھ وہ گھر کے مذکورہ سارے کام کرےملک کی ترقی میں بھی برابر کا کردار ادا کر رہی ہے۔

خطبۂ حجۃ الوداع میں عورتوں کےبارے میں خصوصی ہدایات

خطبۂ حجۃ الوداع میں، جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری حج تھا اور آپ کی زندگی کا آخری سال بھی تھا، آپ نے جن خصوصی باتوں کی طرف اپنی امت کوتوجہ دلائی۔ ان میں عورتوں کے بارے میں بھی آپ نے بڑی اہم ہدایات دیں۔آپ نے فرمایا:

’فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَھُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْھِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ‘

’’(مسلمانو!)عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کی ضمانت پر لیاہے اور ان کی شرم گاہوں کوبھی اللہ کے نام پر حلال کیا ہے، تمہارے لیے عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پرکسی ایسےشخص کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کریں تو تمہیں حق ہےکہ ان کو ایسی مارمارو جس سے ان پر نشان نہ پڑے (تنبیہ کے طور پرہلکی سی مار) اور ان عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کی خوراک اور پوشاک کامعروف طریقے سےانتظام کرو، اور میں تمہارے اندر ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اس کے ہوتے ہوئے تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے، بشرطیکہ تم اسے تھامے رہو گے(اس پر عمل پیرا رہو گے) (وہ کیا ہے؟) اللہ کی کتاب۔

یہ ساری باتیں وہی ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں، ان کویہاں دوبارہ بیان کرنے سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فکر وتشویش کی وضاحت ہے جو عورتوں کے بارے میں آپ کو تھی کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اور حج جیسے اہم موقعے پر، جس میں مسلمان بہت بڑی تعداد میں موجود تھے، یہ اہم باتیں بیان فرمائیں تاکہ مسلمان ان کونظر انداز کرکے عورتوں کے اس مقام ومرتبہ کو فراموش نہ کردیں جو اسلام نے ان کو عطا کیا ہے۔ کاش مسلمان عورتوں کے بارے میں ان اہم ہدایات کو سامنے رکھیں اور ان کے برعکس رویہ اختیار کرکے اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔

 



[1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ :1/515، رقم الحدیث :287

[2] سنن أبي داود:کتاب النکاح ، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء ، حدیث : 2050

[3] سنن أبي داود:کتاب الصیام ، حدیث : 2459 ، سلسلہ الصحیحۃ :5/204، رقم : 2172

[4] صحیح البخاري: کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الأقارب:حدیث 1462

[5] صحیح البخاري:کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الزوج والأیتام فی الحجر :حدیث،1466

ملاحظہ کیا گیا 195 بار آخری تعدیل الأربعاء, 24 تشرين1/أكتوير 2018 13:40
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

جنتی مردوں اور جنتی عورتوں کی صفات

ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کیا میں تمھیں تمہارے جنتی مردوں کی بابت نہ بتلاؤں؟ نبی جنتی ہے، صدیق جنتی ہے، شہید جنتی ہے ، (معصوم) بچہ جنتی ہے، وہ شخص جنتی ہے جو اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے شہر کے آخری کنارے پر محض اللہ کی رضا کے لیے جاتا ہے۔‘‘ پھرفرمایا:

’وِنِسَاءُکُمْ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ الْوَدُوْدُ الْوَلُودُ الْعَؤُدُ عَلیٰ زَوْجِھَا، اَلَّتِیْ اِذَا غَضِبَ جَاءتْ حَتّٰی تَضَعَ یَدَھَا فِي یَدِزَوْجِھَا وَتَقُوْلُ: لَا اَذُوْقُ غَمْضًا حَتَّی تَرْضٰی‘[1]

’’اور تمھاری جنتی عورتوں میں سے ایک وہ عورت جنتی ہے جو (خاوند سے) بہت محبت کرنے والی، بہت بچے پیدا کرنے والی اور اپنے خاوند سے گہرا تعلق رکھنے والی ہو، خاوند جب اس سے ناراض ہو جائے تو وہ (اس سے بے اعتنائی کرنے یا اکڑنے کے بجائے) اس کے پاس جاتی ہے، حتی کہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ میں اس وقت تک پلک نہیں جھپکاؤں گی جب تک تو راضی نہیں ہو جائے گا۔‘‘

آج کل کی عورتوں میں مذکورہ صفات کی عورتیں کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔

(1) اس حدیث کی رُو سے عورت کے اندر مرد سے بے اعتنائی اور اکڑنے کا جذبہ نہایت خطرناک ہے، اس کے برعکس خاوند کی ناراضی دیکھ کر اس کو منانے اور راضی کرنے کا جذبہ عورت کو جنت میں لے جانے والا ہے، بشرطیکہ دیگر احکام و فرائض کی پابندی کا بھی اہتمام ہو۔

(2)آج کل کی عورتیں زیادہ بچے پیدا کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں، محض اس لیے کہ زیادہ بچے جننے سے ان کے حسن و رعنائی میں کمی آ جائے گی، یا بعض وسائل کی کمی کا بہانہ پیش کرتی ہیں، یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ حکم شریعت اور اجر و ثواب کے مقابلے میں اپنے حسن و جمال کے برقرار رکھنے کو اہمیت دینا، ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ اسی طرح وسائل کا بہانہ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت اور اس پر اعتماد و توکل کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے، رزق تو ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم تمھیں بھی اور تمھارے بچوں کو بھی (چاہے وہ کتنے ہی ہوں) رزق دینے پر قادر ہیں، بلکہ سب کی رزق رسانی ہماری ذمے داری ہے۔

[نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ ][الأنعام 151]

’’ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور بچوں کو بھی۔‘‘

[ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا ][ھود6]

’’زمین پر چلنے والے کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

بنابریں جنت کی خواہش مند عورت کو اولاد کی کثرت سے نہیں ڈرنا چاہیے، نہ از خود افزائش نسل کے خلاف مصنوعی طریقے ہی اختیار کرنے چاہئیں۔

 البتہ کوئی عورت ایسی بیمار اور کمزور ہو جس کے لیے بار بار حمل اور وضع حمل کی تکلیف برداشت کرنا مشکل ہو، تو اس کو جان بچانے کے لیے عزل کے جائز طریقے اختیار کرنے کی علماء نے اجازت دی ہے۔

عزل کا مطلب، ایسے طریقے اختیار کرنا ہے کہ جس سے مرد کی منی عورت کے رحم میں نہ جا سکے، جیسے اس کے لیے صدرِ اسلام میں مرد انزال کے وقت آلۂ تناسل عورت کی شرم گاہ سے باہر نکال لیتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کے باوجود اس کی اجازت دی ہے۔ آج کل اس کا متبادل کنڈوم (ساتھی) وغیرہ ہیں۔ زیر بحث مخصوص صورت میں اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

مخصوص حالات کے بغیر، ضبط و لادت کے سارے طریقے ناجائز ہیں

 تا ہم اس کے لیے نس بندی یا عورت کی بچہ دانی کا نکال دینا یا مانع حمل دوائیوں کا استعمال شرعاً محل نظر ہے۔ نس بندی کا مطلب، آپریشن کے ذریعے سے مرد کے آلۂ تناسل افزائش نسل کی صلاحیت سے محروم کر دینا ہے۔ اس کے بعد مرد اس قابل نہیں رہتا کہ وہ عورت کو بار آور (حاملہ) کر سکے۔

بچہ دانی کے نکال دینے کا عمل عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی اندام نہانی (رحم) سے بچہ دانی نکال دی جاتی ہے (یہ عمل بھی غالباً آپریشن ہی کے ذریعے سے ہوتا ہے) اس کے بعد عورت کو حمل ہی نہیں ٹھہرتا اور یوں وہ افزائش نسل کے قابل نہیں رہتی۔

مانع حمل دوائیوں کا استعمال بھی اس لیے جائز نہیں کہ ایک تو یہ انسانی صحت کے لیے مضرہیں۔ دوسرے مسلمانوںکو جو کثرت اولاد کی ترغیب دی گئی ہے اس کے منافی ہے۔

ضبط ولادت (برتھ کنٹرول) کے لیے آج کل یہ تینوں طریقے سرکاری طوراستعمال پر کیے جاتے ہیں۔ جن سے زنا کاری کو فروغ مل رہا ہے۔ اس لیے یہ تینوں طریقے حرام ہیں۔ البتہ عزل یا اس کا مذکورہ متبادل مخصوص صورتوں میں جائز ہے، مطلقاً اس کا بھی جواز نہیں ہے۔

 

کثرت اولاد یا قلتِ اولاد، اسلام نے کس کی ترغیب دی ہے؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا:

’اِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ جَمالٍ وَحَسَبٍ وَأَنَّھَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُھَا بِھَا، قَالَ : لَا، ثُمَّ اتَاَہُ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ، ثُمَّ اَتَاہُ الثَّالِثَۃَ، فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ، فِإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ‘[2]

’’مجھے ایک عورت مل رہی ہے جو خوبصورت اور اچھے خاندان کی ہے، البتہ وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ وہ دوبارہ آیا، آپ نے پھر اس کو روک دیا، پھر وہ تیسری مرتبہ آیا، تو آپ نے فرمایا: (محض حُسن اور خاندان مت دیکھو بلکہ) بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ (قیامت کے دن) تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘

کوئی عورت زیادہ بچے پیدا کرے گی یا کم کرے گی یا بالکل ہی نہیں کرے گی؟ ان باتوں کا علم تو شادی کے بعد ہی ہوتا ہے۔ تو شادی کرتے وقت کس طرح معلوم ہو گا کہ یہ مذکورہ تین قسم کی عورتوں میں سے کون سی عورت ہے؟ اس کا اندازہ اس کی ماں، بہنوں کو دیکھنے سے بالعموم ہو جاتا ہے۔

آج کل یہ پروپیگنڈا عام ہے کہ بچے دو یا تین ہی کافی ہیں، دین سے بے خبر لوگ اس پروپیگنڈے سے متاثر بھی ہو رہے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ نعرہ یکسر غلط ہے۔

 اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اگر اس آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملکی وسائل ناکافی ہو جائیں گے۔

یہ دراصل اسلام دشمن طاقتوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا ہے، ورنہ اس کی آڑ میں ان کا اصل ایجنڈا یہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں افزائش نسل کی حوصلہ شکنی کر کے ان کو افرادی قوت سے محروم کر دیا جائے تاکہ جب کبھی وہ بیدار ہوں (کیونکہ ابھی تو مسلمان غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں) تو وہ ہم سے لڑنے کا حوصلہ نہ کر سکیں۔

حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ وسائل بھی پیدا فرما رہا ہے۔ آج سے چند صدیاں قبل انسانی آبادی محدود تھی، اس وقت وسائل رزق بھی نہایت محدود تھے۔ اور اب جب کہ آبادی بہت زیادہ پھیل گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے وسائل بھی فراواں کر دیے ہیں اور کسی چیز کی کمی انسانوں کو محسوس نہیں ہوتی۔ یہ قدرت کا نظام ہے جو اس نے تکوینی طور پر قائم کیا ہوا ہے اور اس میں آئندہ بھی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے اس غم میں ہلکان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ زیادہ آبادی کے لیے کھانے پینے کے وسائل کس طرح مہیا ہوں گے؟ رزق کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور وہ اسے پورا کر رہا ہے اور قیامت تک کرتا رہے گا۔

 البتہ ہماری ذمے داری یہ ہے کہ اللہ کے پیدا کر دہ وسائل کو ہم پوری منصوبہ بندی سے بروئے کار لائیں، مثلاً جو زمینیں قابل کاشت بیکار پڑی ہیں، ان کو ہم کاشت کاری کے لیے کام میں لائیں، وہاں تک پانی پہنچانے کا انتظام کریں، آمد و رفت کو آسان بنائیں اور کاشت کاروں کو ان کی حسب ضرورت وسائل مہیا کریں۔

 دوسرے نمبر پر سادگی اور کفایت شعاری کو اپنائیں۔ اس وقت فضول خرچی ہمارا شعار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بے پناہ وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اس ضیاع کو روک کر بھی ہم اپنے وسائل میں مُعْتَدبہِّ(معقول) اضافہ کر سکتے ہیں۔

تیسرے نمبر پر سیلابی بندوں اور پشتوں کو مضبوط کریں تاکہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے فصلوں، جانوروں اور انسانوں کا جو ضیاع ہوتا ہے، وہ نہ ہو۔

ضبط ولادت کی تحریک، زنا کاری کو فروغ دینے کی استعماری مہم ہے

 علاوہ ازیں ضبط ولادت کی اس تحریک کے پیچھے اسلام دشمن طاقتوں کا یہ منصوبہ بھی کارفرما ہے کہ اسلامی ملکوں میں اس کے ذریعے سے فحاشی، بے حیائی اور زنا کاری کو فروغ دیا جائے اور یوں اسلامی تہذیب کا وہ تخصص و امتیاز ختم ہو جائے جو انسانی معاشرے میں حیا و عفت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ جس میں استعماری طاقتیں مسلمان عورت کو بے پردہ کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ جب نس بندی، رحم کی بندش اور مانع حمل دوائیں اور طریقے عام ہو جائیں گے تو اس سے زنا کاری کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے کا خوف ختم ہو جائے گا جو زنا کاری کے عام ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یوں اسلامی ملکوں میں اسلام کی اعلیٰ تہذیب کے مقابلے میں مغرب کی حیا باختہ تہذیب کا چلن عام اور اسلام کا تخصص و امتیاز ختم ہو جائے گا۔ ’لَا قَدَّرَہُ اللہُ،ثُمَّ لَا قَدَّرَہُ اللہُ‘

اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دشمنوں کی اس سازش کو اور اسلامی تہذیب کے خلاف اس منصوبے کو سمجھیں اور ضبط ولادت کے بجائے کثرتِ اولاد کے جذبے کو توانا اور برقرار رکھیں اور اللہ پر اعتماد و توکل رکھیں۔ یہی ایک مسلمان کی شان ہے۔

[وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ  11 ؀][ابراھیم 11]

’’مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘

[وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 12۝ۧ ][ابراھیم 14]

’’توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘

بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا صحیح حل

بہر حال ضبط ولایت کی تحریک کے پیچھے ایک نہایت گہری اور گھناؤنی سازش کارفرما ہے،ورنہ اس کا اصل حل یہ نہیں ہے کہ آبادی کوکنٹرول کرنے کے لیے فحاشی کے زرائع عام کردیے جائیں، بلکہ اس کا اصل حل وسائل ِ حیات کے ضیاع کو روکنا او ر اس کےلیے بہتر منصوبہ بندی ہے۔

اس وقت وسائل کا جس طرح ضیاع ہورہا ہے ،اس کا اندازہ کرنے کے لیےاقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔یہ خبر ،رپورٹ یاسروے روزنامہ ’’آواز‘‘لاہور (24 اکتوبر2013ء)درج ذیل سرخی کے ساتھ شائع ہواہے۔

            ’’دنیا میں ہر سال 750 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء ضائع ہوجاتی ہیں‘‘

اب اس کی تفصیل ملاحظہ ہو:

’’نیویارک ( آن لائن)دنیا میں ہر سال750 ارب ڈالر کی غذائی اشیاء ضائع ہوجاتی ہیں،جو دو ارب افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن۔(ایف اے او)نے اپنی رپورٹ میں بتا یا ہے کہ دنیا میں ہرسال ایک ارب 30کروڑ ٹن اشیا ء خراب یا ضائع ہوتی ہیں،جو کل پیداوار کا ایک تہائی ہے۔اس ضیاع کوروکا جائےتودنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی یعنی دو ارب افراد کی غذائی ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ترقی پذیر ممالک میں ناقص سہولیات کے باعث کاشت ،نقل وحمل اور سٹوریج کے دوران غذائی اشیاء خراب ہوتی ہیں جبکہ امیرممالک میں خریدارکی جانب سے ضیاع سب سے زیادہ ہے۔یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر سال اوسطاََ ہر خریدار سوکلو غذائی اشیاء ضائع کرتا ہےجب کہ افریقہ میں یہ ضیا10کلو سالانہ سے بھی کم ہے‘‘(روزنامہ آواز۔لاہور)

یہ توغذائی اشیاءکا وہ ضیاع ہےجس کا سد ِ باب اگر کردیا جائے تو یہ موجودہ غذائی ذخائر ہی مزید دو ارب انسانوںکی خوراک کے لیے کافی ہیں۔

اس کے ساتھ اگر فضولیات کی مد میں اربوں روپوں کا جو ضیاع ہورہا ہے اسے اگر روک لیا جائے تو اتنے زیادہ مالی وسائل مہیا ہوسکتے ہیں کہ جس سے معیشت میں ایک نئی روح پھونکی جاسکتی ہے ۔مثلاََ: سگریٹ نوشی ہے جس پر ایک رپورٹ کے مطابق گیارہ ارب روپے سالانہ برباد کر دیے جاتے ہیں۔بر ِصغیر پاک و ہند میں پان نوشی ہے ،پوری دنیا میں سگریٹ نوشی اور دیگر منشیات کا سلسلہ ہے ،عورتوں کے غازہ ولپ اسٹک(میک اپ)کا بڑھتا ہوا بے ہودگی کا مسئلہ ہے۔عورتوں کے نت نئے فیشنوں اور اسٹائلوں کے لیے بے پناہ اخراجات ہیں اور اس طر ح کے دیگر غیر ضروری اخراجات ہیں۔ان پر سالانہ کئی ارب نہیں،کھربوں روپے برباد ہورہے ہیں۔ان سب کو ختم یا کم یا اعتدال پر رکھنے سے کھربوں روپے سالانہ بچ سکتے ہیں جن کو بے وسائل افراد کی ضروریات پر خرچ کر کے آبادی کنٹرول کرنے کے بجائے آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کر کےبڑھتی ہوئی آبادی سے پیداہونے والےمسائل کو نہایت آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

بیوی کا دینی جذبہ اور خاوند کی اطاعت

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ ہم آپ کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: میرا خاوند صفوان بن معطل جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے اور جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو روزہ تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز بھی اس وقت پڑھتا ہے جب سورج نکل آتا ہے (حالانکہ فجر کی نماز صبح طلوعِ شمس سے پہلے پڑھنی چاہیے)

اس وقت صفوان بھی وہاں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے ان شکایات کی بابت پوچھا تو انھوں نے کہا:

اے اللہ کے رسول! اس نے جو کہا ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے، تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے، میں اس کو اس سے روکتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر ایک سورت بھی ہو تو لوگوں کے لیے کافی ہے۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ وہ روزہ تڑوا دیتا ہے تو بات یہ ہے کہ یہ جب (نفلی) روزہ رکھنے پر آتی ہے تو (لگاتار) رکھتی ہی چلی جاتی ہے جب کہ میں جوان آدمی ہوں، صبر نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روز فرمایا: ’’کوئی عورت خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ میں (فجر کی) نماز سورج کے نکلنے کے بعد پڑھتا ہوں، تو بات یہ ہے کہ یہ بات ہمارے گھرانے کی بابت مشہور ہے، ہمیں اس وقت تک جاگ نہیں آتی جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تو بیدار ہو، نماز پڑھ لیا کر۔‘‘ [3]

اس حدیث میں کئی اسباق ہیں: مثلاً

(1)بیوی کو نفلی عبادت کا شوق ہو تو اچھی بات ہے لیکن اس شوق کے پورا کرنے میں خاوند کے حقوق متأثر نہ ہوں۔ اس لیے نفلی عبادت میں خاوند کی اجازت ضروری ہے۔

(2) بیوی خاوند میں کوئی دینی کوتاہی دیکھے تو وہ بڑوں تک اس کی شکایت پہنچا سکتی ہے تاکہ اس کی اصلاح ہو سکے۔

(3) ہر نماز اپنے وقت میں پڑھنی چاہیے تاہم معقول عذر ہو تو بعد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔

(4) بیوی کی نفلی عبادت سے خاوند کی حق تلفی ہو تو خاوند اس کو اس سے روک سکتا ہے یا اس میں تخفیف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

 

عورت، اپنے غریب خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عید کے موقع پر خطبہ دیا، اس میں عورتوں کو بھی الگ وعظ فرمایا جس میں ان کو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب فرمائی۔

اسی روز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (زینب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا:

’اِنَّکَ أَمَرْتَ الْیَوْمَ بِالصِّدَقَۃِ وَکَانَ عِنْدِیْ حُلِيٌّ لِیْ فَاَرَدتُّ اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہِ، فَزَعَمَ ابْنُ مسعودٍ اَنَّہُ وَوَلَدَہُ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِہِ عَلَیْھِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، زَوْجُکِ وَوَلَدُکِ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِہِ عَلَیْہِمْ‘[4]

’’آج آپ نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، میرے پاس میرا کچھ زیور ہے، میں نے اسے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو ابن مسعود کا خیال ہے کہ میں جن لوگوں پر صدقہ کروں گی تو ان کے مقابلے میں وہ اور ان کی اولاد زیادہ مستحق ہے۔ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا، تیرا خاوند اور تیری اولاد ان کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے جن پر تو صدقہ کرے گی۔‘‘

ایک دوسری روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کے سوال کے جواب میں فرمایا:

 

’نَعَمْ ،وَلَھَا اَجْرَانِ،اَجْرُ الْقَرَابَۃِ وَاَجْرُ الصَّدَقَۃِ‘۔[5]

’’ہاں وہ اپنے خاوند کو صدقہ دے سکتی ہے، اس میں اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔ ایک حقِ قرابت کی ادائیگی کا اجر اور ایک صدقے کا اجر۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اگر غریب ہو، اس کی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں اور بیوی صاحبِ حیثیت ہو یا اس کے پاس بمقدار نصاب طلائی زیور ہوں تو اس کے لیے زکوٰۃ کی رقم اپنے خاوند کو دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل ہے، اس طرح وہ ڈبل اجر کی مستحق ہو گی۔ اسی طرح زیر پرورش یتیم بچوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا بھی دگنے اجر کا باعث ہے۔

تا ہم خاوند اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنی بیوی اور اپنے بچوں پر خرچ نہیں کر سکتا، کیونکہ ان کے نان نفقہ کا ذمے دار وہ خود ہے، وہ یہ ذمے داری اصل مال سے ادا کرے گا نہ کہ مالِ زکوٰۃ سے۔ عورت چونکہ خاوند کے نان نفقے کی ذمے دار نہیں ہے اس لیے وہ اس کو زکوٰۃ دے سکتی ہے۔


بیوی انمول عطیہ ہے، عضو معطل نہیں

انمول، ایسی قیمتی اور نادر چیز کو کہا جاتا ہے جس کی قیمت صحیح معنوں میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ عورت بھی ایک ایسی ہی انمول چیز ہے کہ مرد اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتا، گویا وہ ایسا عطیۂ الٰہی ہے جس پر انسان اللہ کا جتنا بھی شکر کرے، اس نعمت اور عطیے کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے آپ دو سوالوں پر غور کریں۔

(1)آپ اس پر کتنی ماہانہ یا سالانہ رقم خرچ کرتے ہیں؟

(2) اور وہ اس کے بدلے میں آپ کی، آپ کے بچوں اور گھر کی کتنی خدمت کرتی ہے؟

اگر عورت سگھڑ، سلیقہ مند، سادہ مزاج (جیسا کہ ایک مسلمان عورت کو ہونا چاہیے) زمانے کے نت نئے فیشنوں سے بیزار، آئے دن نئے نئے مطالبات سے نا آشنا اور اس قسم کی دیگر خوبیوں سے آراستہ ہو۔ تو آپ خود سوچ لیں آپ اس پر کتنی ماہانہ یا سالانہ رقم خرچ کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اس کی خدمت کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ اس سے آپ کو کتنے مالی اور دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

(1) وہ تین وقت آپ کے لیے، بچوں کے لیے، اگر والدین وغیرہ بھی ہوں تو ان کے لیے بھی خوراک کا انتظام کرتی ہے، صبح کا ناشتہ، دوپہر کا اور رات کا کھانا۔ اس کے لیے اگر آپ کسی باورچی کا انتظام کریں تو اس کے لیے کم از کم 15سے 20 ہزار روپے تک ماہانہ آپ کو دینے پڑیں گے۔

(2) وہ آپ کے اور بچوں کے اور دیگر افرادِ خانہ کے کپڑے دھوتی اور ان کو استری کرتی ہے اگر آپ یہ کپڑے کسی ڈرائی کلینر (دھوبی) سے دھلوائیں تو اس پر بھی ماہانہ خرچ چار پانچ ہزار سے کم نہیں ہو گا۔

(3) گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے آپ کسی ملازمہ کو رکھیں گے تو اس کا بھی ماہانہ خرچ دوہزار سے ڈھائی تین ہزار تک سے کم نہیں ہو گا۔

ان کے علاوہ گھر کے اور کئی دسیوں قسم کے کاموں کے لیے،جوکہ عورت وہ خاموشی سے سر انجام دیتی ہے، جیسے چھوٹے بچوں کی حفاظت اور نگرانی وغیرہ کے لیے کوئی آیا، ماما رکھیں گے تو اس پر بھی چند ہزار روپے ماہوار ضرور آپ کا خرچہ ہو گا۔

اس رقم کا حساب لگالیں جو 25 سے30ہزار کے درمیان ہو گی۔ گویا بیوی کی ان خدمات کے عوض آپ کو25 سے30ہزار تک کی ماہانہ بچت ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ آپ کے دکھ درد میں آپ کی ساتھی، زندگی کے بیشتر معمولات میں آپ کی مشیر، آپ کو سکون اور لذت کا سامان مہیا کرنے والی ہے۔ یہ سکون اور لذت آپ کو بیوی کی آغوش محبت کے سوا اور کہیں سے نہیں مل سکتی۔

ان تمام حقیقتوں کے باوجود بعض لوگ عورت کی ان جانکاہ محنتوں اور جاں گداز مشقتوں کو چنداں اہمیت نہیں دیتےاور اسی لیے اس گراں قدر نعمت کی قدر نہیں کرتے۔

اور بعض نادان قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ عورت معاشرے کا عضو معطل ہے، اس کو مرد کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے، یوں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ گھریلو عورت جو ملک کی نصف آبادی ہے، بیکار اور ملک پر بوجھ ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک

یہ مغرب زدہ، شیطان صفت اور اسلامی تعلیمات سے یکسر بے خبر لوگ ہیں، واقعہ تو یہ ہے کہ عورت اپنے منصبی دائرۂ کار میں گھریلو امور سر انجام دے کر مرد کو بے مثال سکون مہیا کرتی ہے جس کی بنا پر مرد بیرونِ در کی تمام مصروفیات نہایت خوش دلی اور بے فکری سے سر انجام دے لیتا ہے۔ اگر گھر کی طرف سے اس کو یہ سکون میسر نہ ہو تو مرد گھر سے باہر کے امور (تجارت و کاروبار، لین دین، سیاست و نظم حکومت وغیرہ) احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے سکتا۔

بنابریں عورت عضو معطل نہیں ہے بلکہ ملک کا فعّال عضو اور ملکی ترقی میں مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغرب کی عورت اپنی ردائے عفت کوتار تار کر کے اور خاندانی نظام کو تارپیڈو کر کے ملک کی ترقی میں شریک ہے اور مسلمان عورت نے اپنی عصمت کو بھی داؤ پر نہیں لگایا ہے اور خاندانی نظام کو بھی تحفظ دیا ہوا ہے اور ان دونوں خوبیوں کے ساتھ وہ گھر کے مذکورہ سارے کام کرےملک کی ترقی میں بھی برابر کا کردار ادا کر رہی ہے۔

خطبۂ حجۃ الوداع میں عورتوں کےبارے میں خصوصی ہدایات

خطبۂ حجۃ الوداع میں، جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری حج تھا اور آپ کی زندگی کا آخری سال بھی تھا، آپ نے جن خصوصی باتوں کی طرف اپنی امت کوتوجہ دلائی۔ ان میں عورتوں کے بارے میں بھی آپ نے بڑی اہم ہدایات دیں۔آپ نے فرمایا:

’فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَھُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْھِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ‘

’’(مسلمانو!)عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کی ضمانت پر لیاہے اور ان کی شرم گاہوں کوبھی اللہ کے نام پر حلال کیا ہے، تمہارے لیے عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پرکسی ایسےشخص کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کریں تو تمہیں حق ہےکہ ان کو ایسی مارمارو جس سے ان پر نشان نہ پڑے (تنبیہ کے طور پرہلکی سی مار) اور ان عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کی خوراک اور پوشاک کامعروف طریقے سےانتظام کرو، اور میں تمہارے اندر ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اس کے ہوتے ہوئے تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے، بشرطیکہ تم اسے تھامے رہو گے(اس پر عمل پیرا رہو گے) (وہ کیا ہے؟) اللہ کی کتاب۔

یہ ساری باتیں وہی ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں، ان کویہاں دوبارہ بیان کرنے سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فکر وتشویش کی وضاحت ہے جو عورتوں کے بارے میں آپ کو تھی کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اور حج جیسے اہم موقعے پر، جس میں مسلمان بہت بڑی تعداد میں موجود تھے، یہ اہم باتیں بیان فرمائیں تاکہ مسلمان ان کونظر انداز کرکے عورتوں کے اس مقام ومرتبہ کو فراموش نہ کردیں جو اسلام نے ان کو عطا کیا ہے۔ کاش مسلمان عورتوں کے بارے میں ان اہم ہدایات کو سامنے رکھیں اور ان کے برعکس رویہ اختیار کرکے اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔

 



[1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ :1/515، رقم الحدیث :287

[2] سنن أبي داود:کتاب النکاح ، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء ، حدیث : 2050

[3] سنن أبي داود:کتاب الصیام ، حدیث : 2459 ، سلسلہ الصحیحۃ :5/204، رقم : 2172

[4] صحیح البخاري: کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الأقارب:حدیث 1462

[5] صحیح البخاري:کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الزوج والأیتام فی الحجر :حدیث،1466