بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 22 آذار/مارس 2018 16:20

اسلام اور ریلیاں

مولف/مصنف/مقرر  حافظ محمد سفیان سیف

اِسلام اور ریلیاں

حافظ محمد سفیان سیف[1]

اِسلام ایک طاقتور دین تھا، کمزوروں نے اسے ناتواں کردیا۔ اسلام ایک ہمہ گیر مذہب تھا، تنگ نظروں نے اسے سطحی بنادیا۔ اسلام ایک عالمی نور تھا، گمراہوں نے اسے مغرب کی تاریکیوں میں ڈبادیا۔ اسلام امن کا گہوارا تھا، بیمار ذہنوں نے اسے دہشت گرد ی سے جوڑدیا۔ اسلام زمانے کا اِمام تھا، پست قدموں نے اسے صفِ آخر میں دھکیل دیا۔ اسلام دینِ کامل تھا، نفس کے غلاموں نے اسے ناقص قرار دیدیا۔ اسلام حسنِ خُلق کا پیامبر تھا، بداَخلاقوں نے اس کے حسن کو گہنادیا۔ اسلام اَعلیٰ اَقدار و تہذیب کا علمبردار تھا،یورپی فکر کے حاملوں نے اسے پراگندہ کردیا۔ اسلام خلوص کا پیکر تھا، منافقوں نے اس کے دامن کو تارتار کردیا۔ اسلام اپنی وسعتوں میں بحرِبے کراں تھا، کج فہموں نے اسے قطرۂ آب سمجھ لیا۔ اسلام قیامت تک آنے والے تمام انسانوںاور جنوں کےلیے نیّرِ تاباں تھا، لوگوں نے اسے ظلمت ِ شب کا مسکن بنا دیا۔ اسلام عدل و انصاف کا سرچشمہ تھا، ظالموں نے اس پر ظلم و عدوان کی باڑھ لگادی۔ اسلام ہم رنگ ِ زمانہ تھا، تاریک خیالوں سے وقت سے متصادم کردیا۔ اسلام معلّمِ کائنات تھا، جاہلوں نے اس کے گرد جہالت کے گڑھے کھود دیئے۔

اسلام شدتِ انتقام سے شمشیرزن ہوکر کفر کی گردن زدنی کا نام تھا، شورش پسندوں نے اسے رسمی نعروں کا شور بنا دیا۔ اسلام جذبات کی حدّت سے میدانِ جہاد کو گرمانے کا نام تھا، عجلت پسندوں نے اسے سڑکوں کا رساؤ بنا دیا۔ اسلام وقت کے سینے کی دھڑکن تھا، مردہ دلوں نے اسے زمانے کی موت ٹھہرا دیا۔

 جی ہاں! اسلام خلد ِبریں کی حسین شاہراہ تھا، وقت کے شدادوں نے اس شاہراہ پر اپنے لیے سیم و تھور کا بازار لگوا دیا۔

اسلام ہر اعتبار سے مسلمانوں کا راہنما ہے، کیا خوشی کیا غم، کیا جذبات کیا فہم، کیا انتقام اور کیا کرم۔ معاملہ نیا نہیں ہے، رسمِ ظلم و ستم بھی نئی نہیں ہے، اہل کفر کی طرف سے اہل اسلام کےمذہبی جذبات سے چھیڑ چھاڑ بھی وہی دیرینہ ہے، تو پھر اندازِ جوابِ آں غزل نیا کیوں ہے؟

توہینِ رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معاملہ آج کا نہیں ہے، اس کی تاریخ کوہِ صفا سے شروع ہوتی ہے۔ توہینِ رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا سب سے پہلا گستاخ ابولہب تھا۔ اسلام کا قانون ہے کہ جو جس عمل کی ابتدا کرےگا۔ وہ عمل جاری رہنے تک اس کی سزا یا جزا لے گا۔ ابولہب ملعون نے گستاخی ٔ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ابتدا کی، لہٰذا آج تک جو بھی اس کا مرتکب ہوا ہے یا ہوگا‘ وہ اولادِ ابولہب میں سے شمار ہوگا۔

آج کا مسلمان بھی بڑا ہی عجیب ہے۔ جن کے خلاف احتجاج کررہا ہے، طریقۂ احتجاج بھی انہی کا اختیار کیا ہوا ہے۔

ہمیشہ یادرکھو ! جو اوروں کے چراغوں سے تیل لیتے ہیں ،ہمیشہ اندھیرے میں قید رہتے ہیں۔

کسی کے خلاف ریلی نکالنا کونسے اسلام لا دیا ہوا سبق ہے؟ قرآن کی کس آیت یا نبی کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم  کی کس حدیث سے ثابت ہے؟ یا پھر خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کس کا طرزِ عمل ہے؟

گستاخیاں تو تب بھی ہوتی تھیں، جب خود امام الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  (فداہ ابی و امی) کائنات میں رونق افروز ہوا کرتے تھے۔ تب اس گستاخی کا جواب کیسے دیا جاتا تھا؟

ہمارے مطالعہ کے مطابق گستاخوں کا زمانہ تین اَدوار پر مشتمل ہے۔ اور تینوں اَدوار کا اندازِ انتقام بھی مختلف ہے، مگر ان میں کہیں بھی ریلی یا جلوس کا عمل دخل نظر نہیں آتا۔

مکہ کا تیرہ سالہ دورِ تبلیغ‘ جوکہ پورے کا پورا بدسے بدترین گستاخوں اور گستاخیوں سے عبارت ہے۔ ’’تباً لک یا محمد‘‘ کا دل خراش جملہ۔ ساحر، مجنون، شاعر، مذمم اور وضاعِ دین جیسے کئی سماع خراش آوازے۔ ابوجہل کا بحالت ِ سجدہ جانور کی اوجھڑی‘ ساقی ٔ کوثر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سر ِ اقدس پر ڈالنا۔ گلے میں رسی ڈال کر کھینچنا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو انسانیت سوز سزاؤں میں مبتلا کرنا۔

شعب ِ ابی طالب کی قید بامشقت، جہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا درخت کے پتے اور چمڑے چبانا۔ طائف کی خوبصورت وادیوں میں اوباشوں کے ہاتھوں لہو لہان ہونا۔ اور پھر قتل کی سازش کے نتیجہ میں آخراس آبائی وطن کو خیرباد کہہ دینا۔

کیا یہ تمام باتیں گستاخیاں نہیں تھیں؟ اگر تھیں اور یقیناً تھیں تو ان تیرہ سالہ دورِ مکی میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ کتنی ریلیاں نکالیں؟ کتنے احتجاجی جلوسوں کی قیادت کی؟ کتنی ہڑتالیں کیں؟ کتنی سڑکیں بلاک ہوئیں؟ کتنے پتلے نذرِ آتش کیےگئے؟

ان سب میں سے کوئی ایک بھی احتجاجی راستہ اختیار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ یہ احتجاج اسلام کے مزاج کے مطابق ہے ہی نہیں۔ اسلام کا مزاج ایسے لوگوں سے اپنے وقت پر انتقام لینے کا ہے۔ چاہے کچھ تاخیر ہی سہی، لیکن قتل سے کم کوئی سزا قبول نہیں۔ اسلام وقت کا انتظار کرتا، جذبات کی پرورش کرتا اور زخموں کو تازہ رکھتا ہے ۔ پھر جیسے ہی دشمن تہِ تیغ آتا ہے تو پھر کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صرف ایک سال میں۔ جی ہاں! صرف اور صرف ایک ہی سال میں! مکہ کے تمام بڑے گستاخانِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  بدر کے اندھے کنویں کی خوراک ہوئے۔

 یہ ہے اسلام کا انتقام!  یہی تھا اس کا اصل وقت!  اور  یہی تھی تسکینِ قلب کی روش!

برسوں سے احتجاجی ریلیاں، جلوس اور ہڑتالیں کرنے والوں نے آج تک کیا کیا؟ سوائے شورش برپا کرنے اور اپنی ہی قوم کا نقصان کرنے کے؟؟

آئیے! اب مدینہ طیبہ چلتے ہیں! یہاں اسلام ابھی اپنی آبیاری کے ابتدائی ایام میں ہے۔ سلطنت ِ اسلامیہ ابھی پرورش پارہی ہے۔

یہاں عبداللہ بن ابی جیسے منافقین بستے ہیں۔ جس نے تاریخِ عالم کی سب سے بدترین گستاخی کی۔ اور قرآن میں اللہ نے اس کی گستاخی کو ذکر کیا ۔ اس نے کہا تھا کہ

[يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ۭ ][المنافقون:8]

 ’’یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینے جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا ۔‘‘

اس ذلیل نے اپنے آپ کو عزت والا اور اللہ کے باعزت و مکرم رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو (نعوذباللہ) ذلیل کہا تھا۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فوراً تلوار نکالی اوربارگاہِ رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اجازت طلب کی‘ کہ کیا میں اس ذلیل کی گردن نہ ماردوں؟ لیکن سراپا رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اسے اس کے حال ہر چھوڑ دو کہ لوگ کہیں یہ نہ کہیں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا ہے[2]۔

اس وقت فتنے کے ڈر سے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے قتل سے احتراز فرمایا۔ اسے واقعہ ٔ افک میں تہمت کی حد سے مستثنیٰ کیاگیا، لیکن فرشتوں کا انتقام اس کی موت کا منتظر تھا۔ اور رب کا انتقام اس جیسے منافقین کو قیامت تک محرومِ رحمت کرکے دائمی عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اللہ نے قرآنِ مجید میں رہتی دنیا تک کسی بھی منافق کا جنازہ پڑھنے اور اس کےلیے دعائے استغفار کرنے سے منع فرما دیا، بلکہ یہ بھی فرمادیا کہ :

[اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ] [النساء:145]

’’ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوںگے۔ ‘‘

[وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ] [التوبہ:68]

’’اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں، عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘

یہاں یہودیوں کا ایک ملعون سردار کعب بن اشرف بھی رہتا ہے، جسے اس کی گستاخی کی سزا دینے کیلئے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک دستہ خفیہ طریقے سے جاکر اسے قتل کرتا ہے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب اس گستاخ کی قوم کا ہر بالغ مرد قتل کردیا گیا، عورتیں اور بچے غلام بنا لیےگئے۔یہاں پر بھی نہ کوئی ریلی نکلی، نہ جلوس سڑک چھاپ ہوا اور نہ ہی کوئی ہڑتال ہوئی۔

آخر فتح ِ مبین کی منزل قریب آئی۔ مکہ زیرِ نگیں ہوا اور اہل مکہ سرنگوں ! ہر ایک کو امان دی گئی، سوائے ان سابقہ گستاخوں کے ‘ کہ جو ہجرت سے پہلے اَشرارِ مکہ ثابت ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں حکم ہوا کہ: ’’اگر کعبہ کی دیوار سے بھی چمٹے ہوں تو قتل کردیا جائے۔ [3]یہ ہے تیسرا اور آخری دورِ انتقام۔ اب کوئی مصلحت پاؤں کی زنجیر نہیں! اب کوئی خوف دامن گیر نہیں! اب کوئی اعتراض قابلِ شنید نہیں!

 جب جذبات سنبھالے جاتے، زخم کریدے جاتے اور عزائم کو سینوں میں بیدار رکھا جاتاہے، تب انتقام صرف دشمن کی موت کی صورت میں ہی جلوہ گر ہوتا ہے۔ ریلی تو کمزوری کی علامت ہے، نااہلی کو پردۂ زرنگار میں چھپانے کی مذموم سعی ہے اور جذبات کے تقدس کو شاہراہوں کی دُھول چٹانا ہے۔

 بقولِ اقبال:؎

مجھ کو معلوم ہيں پيران حرم کے انداز                        ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف

اور يہ اہل کليسا کا نظامِ تعليم                 ايک سازش ہے فقط دين و مروت کے خلاف

اس کي تقدير ميں محکومي و مظلومي ہے                       قوم جو کر نہ سکي اپني خودي سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھي کر ليتي ہے                   کبھي کرتي نہيں ملت کے گناہوں کو معاف

جاننے والے اگر فہم آشنا ہوں، پڑھنے والے اگر فطرت کے نکتہ رساں ہوں اور سمجھنے والوں کے دریچۂ دِل وا ہوں‘ تو ان کے لئے مشرکین مکہ کی انتقامی مثال ہی کافی ہے کہ فطرت کے باغی اپنے ’’دشمن دین‘‘ کے مقابلے پر کیسے فطرت شناس ہوجایا کرتے تھے؟

مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خامہ فرسائی کی ہے کہ غزوۂ بدر میں شکست و ریخت کے بعد وہ کس قدر ’’خاموش ‘‘ ہو بیٹھے تھے۔ انہوں نے باہم فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنے غم کو سینے کا ہار اور سر کا تاج بنا کر رکھیں گے، تاآنکہ آئندہ دنوں میں بھرپور تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کریں اور ان سے اپنی

 

 

 شکست ِبدر کا بدلہ لیںگے۔ انہوں نے مکمل خاموشی سے بھرپور تیاری کی۔ مزید قبائل عرب کو ساتھ ملایا۔ بدر کے حملے سے محفوظ ابوسفیان کے قافلے کے تمام تاجروں نے اپنے کل مال کو اُحد کی تیاری کے لئے وقف کردیا ۔ کوئی شخص ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی صورت میں میدانِ اُحد میں موجود ہو، جو خود نہ تھا‘ اس کا قرض دار تھا، مالک نہ تھا تو غلام تھا۔ کوئی لالچ پر آیا تھا تو کوئی دھمکی سے لایا گیا تھا، الغرض یہ ان کے لئے بقا یا فنا کی جنگ تھی، مگر کس قدر خاموشی کے ساتھ! ! [4]

فطرت کے منکر بھی اس کے زیر اثر تھے!                      خدا کے منکر بھی خدا کے خوگر تھے!

کاش ! کہ ملت ِ اسلامیہ کے موجودہ حدی خواں‘ جو اپنی چوہدراہٹوں کے خول میں گردن دبائے مست مۓ پندار بیٹھے ہیں، کبھی اسلام کے آفتابِ تاباں کے مزاج آشنا بھی بن پا تے‘ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اسلام شور شرابے، اٹکھیلیوں اور شرارتی ناز و اَداسے اٹھلاتی رونقِ بازاری کا نام نہیں ہے۔

اسلام تو ہر باطل کے مقابلے پر شمشیرِ برہنہ کا نام ہے! اسلام تو [فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ]کا نام ہے! اسلام تو گردنِ کفار کو محرومِ بدن کرنے کا نام ہے!

کاش ! کہ دعوت و ارشاد کے مسند نشینوں نے بھی کبھی سوچا ہوتا‘ کہ ہم اپنی ذاتی خودنمائی کیلئے ناموسِ رسالت کو کمائی کا ذریعہ کیوں بنائیں!

کاش! کہ کبھی ان کے دل کی راہ گذر پر یہ خیال بھی ٹھہرا ہوتا کہ ہم نے اپنی سیاست کے اندھیروں کو قرآن کے نور سے منور کرنے کی کوشش کی ہوتی!

کاش! کہ انہوں نے یہ خیال آرائی بھی کی ہوتی کہ سنت ِ رسول  کی ضیا پاشیاں کبھی ہمارے بے آباد مکانوں پر بھی دستک کناں ہوئی ہوتیں!

تو آج ماحول ریلیوں کا نہیں، بلکہ دعوت و جہاد کے ان ریلوں کا ہوتا‘ جس کے آگے کفار کے لاکھوں کے لشکر بھی ریت کے ذرات سے حقیر تر ہوا کرتے تھے!

ان ابابیلوں کا ہوتا‘ جو اتحادی افواج پر شاہین بن کر برستے!

 

 

 

ان ملائکہ کا ہوتا ‘ جن کی حیات کے سب سے قیمتی لمحات بدر کے میدان میں خاک بہ سر ہوئے! ؎

فضائِ بدر پیداکر، فرشتے تیری نصرت کو

اترسکتے ہیں، گردوں سے ‘ قطار اندر قطار اب بھی!

اور ؎

آج بھی ہو‘ جو ابراہیم سا ایماں پیدا               تو آگ کر سکتی ہے وہی اندازِ گلستاں پیدا !

ضرورت ہے اس بات کی کہ اسلام کی حقیقی روح کو ناصرف یہ کہ اچھی طرح سمجھا جائے، بلکہ اس کے مزاج سے اپنے آپ کو مزاج آشنا بھی کیا جائے۔ نہ کہ‘ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘ کے مصداق اسلام کو اپنے ہم آہنگ بنانے کی سعیٔ لاحاصل کرے، بلکہ خود بھی اور اپنے مقتدیوں، اپنی جماعت کے کارکنوں اور ماتحت لوگوں کو بھی اسلام شناسی پر کاربند کرے کہ یہی اور بس یہی ایک طریقہ غلبہ ٔ اسلام کیلئے کارآمد و مجرب ہے، وگرنہ سڑکوں کی دھول ہی آپ کا مقدر ہے!

خودی کا سرِ نہاں لا الٰہ الا اللہ            خودی ہے تیغ، فساں لا الٰہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا      فریبِ سود و زیاں، لا الٰہ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند     بتانِ وہم و گماں، لا الٰہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری  نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الٰہ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند       بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں            مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰہ الا اللہ

اس شعر کے ساتھ اپنے مضمون کے سرِ محضریہ مہرلگا رہا ہوں کہ ؎

اب جو چاہے وہی پائے روشنی                    ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا!

 

 

 

 

[1]  خطیب مرکز الفرقان، ایف بی ایریا کراچی

[2] صحیح بخاری: 4905

[3] سنن نسائی : 4067

[4] تفصیل کیلئے دیکھیں سیرت النبی ﷺ کی عالمی شہرت یافتہ کتاب: الرحیق المختوم

ملاحظہ کیا گیا 1006 بار آخری تعدیل الخميس, 22 آذار/مارس 2018 16:32
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

اِسلام اور ریلیاں

حافظ محمد سفیان سیف[1]

اِسلام ایک طاقتور دین تھا، کمزوروں نے اسے ناتواں کردیا۔ اسلام ایک ہمہ گیر مذہب تھا، تنگ نظروں نے اسے سطحی بنادیا۔ اسلام ایک عالمی نور تھا، گمراہوں نے اسے مغرب کی تاریکیوں میں ڈبادیا۔ اسلام امن کا گہوارا تھا، بیمار ذہنوں نے اسے دہشت گرد ی سے جوڑدیا۔ اسلام زمانے کا اِمام تھا، پست قدموں نے اسے صفِ آخر میں دھکیل دیا۔ اسلام دینِ کامل تھا، نفس کے غلاموں نے اسے ناقص قرار دیدیا۔ اسلام حسنِ خُلق کا پیامبر تھا، بداَخلاقوں نے اس کے حسن کو گہنادیا۔ اسلام اَعلیٰ اَقدار و تہذیب کا علمبردار تھا،یورپی فکر کے حاملوں نے اسے پراگندہ کردیا۔ اسلام خلوص کا پیکر تھا، منافقوں نے اس کے دامن کو تارتار کردیا۔ اسلام اپنی وسعتوں میں بحرِبے کراں تھا، کج فہموں نے اسے قطرۂ آب سمجھ لیا۔ اسلام قیامت تک آنے والے تمام انسانوںاور جنوں کےلیے نیّرِ تاباں تھا، لوگوں نے اسے ظلمت ِ شب کا مسکن بنا دیا۔ اسلام عدل و انصاف کا سرچشمہ تھا، ظالموں نے اس پر ظلم و عدوان کی باڑھ لگادی۔ اسلام ہم رنگ ِ زمانہ تھا، تاریک خیالوں سے وقت سے متصادم کردیا۔ اسلام معلّمِ کائنات تھا، جاہلوں نے اس کے گرد جہالت کے گڑھے کھود دیئے۔

اسلام شدتِ انتقام سے شمشیرزن ہوکر کفر کی گردن زدنی کا نام تھا، شورش پسندوں نے اسے رسمی نعروں کا شور بنا دیا۔ اسلام جذبات کی حدّت سے میدانِ جہاد کو گرمانے کا نام تھا، عجلت پسندوں نے اسے سڑکوں کا رساؤ بنا دیا۔ اسلام وقت کے سینے کی دھڑکن تھا، مردہ دلوں نے اسے زمانے کی موت ٹھہرا دیا۔

 جی ہاں! اسلام خلد ِبریں کی حسین شاہراہ تھا، وقت کے شدادوں نے اس شاہراہ پر اپنے لیے سیم و تھور کا بازار لگوا دیا۔

اسلام ہر اعتبار سے مسلمانوں کا راہنما ہے، کیا خوشی کیا غم، کیا جذبات کیا فہم، کیا انتقام اور کیا کرم۔ معاملہ نیا نہیں ہے، رسمِ ظلم و ستم بھی نئی نہیں ہے، اہل کفر کی طرف سے اہل اسلام کےمذہبی جذبات سے چھیڑ چھاڑ بھی وہی دیرینہ ہے، تو پھر اندازِ جوابِ آں غزل نیا کیوں ہے؟

توہینِ رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معاملہ آج کا نہیں ہے، اس کی تاریخ کوہِ صفا سے شروع ہوتی ہے۔ توہینِ رسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا سب سے پہلا گستاخ ابولہب تھا۔ اسلام کا قانون ہے کہ جو جس عمل کی ابتدا کرےگا۔ وہ عمل جاری رہنے تک اس کی سزا یا جزا لے گا۔ ابولہب ملعون نے گستاخی ٔ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ابتدا کی، لہٰذا آج تک جو بھی اس کا مرتکب ہوا ہے یا ہوگا‘ وہ اولادِ ابولہب میں سے شمار ہوگا۔

آج کا مسلمان بھی بڑا ہی عجیب ہے۔ جن کے خلاف احتجاج کررہا ہے، طریقۂ احتجاج بھی انہی کا اختیار کیا ہوا ہے۔

ہمیشہ یادرکھو ! جو اوروں کے چراغوں سے تیل لیتے ہیں ،ہمیشہ اندھیرے میں قید رہتے ہیں۔

کسی کے خلاف ریلی نکالنا کونسے اسلام لا دیا ہوا سبق ہے؟ قرآن کی کس آیت یا نبی کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم  کی کس حدیث سے ثابت ہے؟ یا پھر خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کس کا طرزِ عمل ہے؟

گستاخیاں تو تب بھی ہوتی تھیں، جب خود امام الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  (فداہ ابی و امی) کائنات میں رونق افروز ہوا کرتے تھے۔ تب اس گستاخی کا جواب کیسے دیا جاتا تھا؟

ہمارے مطالعہ کے مطابق گستاخوں کا زمانہ تین اَدوار پر مشتمل ہے۔ اور تینوں اَدوار کا اندازِ انتقام بھی مختلف ہے، مگر ان میں کہیں بھی ریلی یا جلوس کا عمل دخل نظر نہیں آتا۔

مکہ کا تیرہ سالہ دورِ تبلیغ‘ جوکہ پورے کا پورا بدسے بدترین گستاخوں اور گستاخیوں سے عبارت ہے۔ ’’تباً لک یا محمد‘‘ کا دل خراش جملہ۔ ساحر، مجنون، شاعر، مذمم اور وضاعِ دین جیسے کئی سماع خراش آوازے۔ ابوجہل کا بحالت ِ سجدہ جانور کی اوجھڑی‘ ساقی ٔ کوثر  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سر ِ اقدس پر ڈالنا۔ گلے میں رسی ڈال کر کھینچنا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو انسانیت سوز سزاؤں میں مبتلا کرنا۔

شعب ِ ابی طالب کی قید بامشقت، جہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا درخت کے پتے اور چمڑے چبانا۔ طائف کی خوبصورت وادیوں میں اوباشوں کے ہاتھوں لہو لہان ہونا۔ اور پھر قتل کی سازش کے نتیجہ میں آخراس آبائی وطن کو خیرباد کہہ دینا۔

کیا یہ تمام باتیں گستاخیاں نہیں تھیں؟ اگر تھیں اور یقیناً تھیں تو ان تیرہ سالہ دورِ مکی میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ کتنی ریلیاں نکالیں؟ کتنے احتجاجی جلوسوں کی قیادت کی؟ کتنی ہڑتالیں کیں؟ کتنی سڑکیں بلاک ہوئیں؟ کتنے پتلے نذرِ آتش کیےگئے؟

ان سب میں سے کوئی ایک بھی احتجاجی راستہ اختیار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ یہ احتجاج اسلام کے مزاج کے مطابق ہے ہی نہیں۔ اسلام کا مزاج ایسے لوگوں سے اپنے وقت پر انتقام لینے کا ہے۔ چاہے کچھ تاخیر ہی سہی، لیکن قتل سے کم کوئی سزا قبول نہیں۔ اسلام وقت کا انتظار کرتا، جذبات کی پرورش کرتا اور زخموں کو تازہ رکھتا ہے ۔ پھر جیسے ہی دشمن تہِ تیغ آتا ہے تو پھر کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صرف ایک سال میں۔ جی ہاں! صرف اور صرف ایک ہی سال میں! مکہ کے تمام بڑے گستاخانِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  بدر کے اندھے کنویں کی خوراک ہوئے۔

 یہ ہے اسلام کا انتقام!  یہی تھا اس کا اصل وقت!  اور  یہی تھی تسکینِ قلب کی روش!

برسوں سے احتجاجی ریلیاں، جلوس اور ہڑتالیں کرنے والوں نے آج تک کیا کیا؟ سوائے شورش برپا کرنے اور اپنی ہی قوم کا نقصان کرنے کے؟؟

آئیے! اب مدینہ طیبہ چلتے ہیں! یہاں اسلام ابھی اپنی آبیاری کے ابتدائی ایام میں ہے۔ سلطنت ِ اسلامیہ ابھی پرورش پارہی ہے۔

یہاں عبداللہ بن ابی جیسے منافقین بستے ہیں۔ جس نے تاریخِ عالم کی سب سے بدترین گستاخی کی۔ اور قرآن میں اللہ نے اس کی گستاخی کو ذکر کیا ۔ اس نے کہا تھا کہ

[يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ۭ ][المنافقون:8]

 ’’یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینے جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا ۔‘‘

اس ذلیل نے اپنے آپ کو عزت والا اور اللہ کے باعزت و مکرم رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو (نعوذباللہ) ذلیل کہا تھا۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فوراً تلوار نکالی اوربارگاہِ رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اجازت طلب کی‘ کہ کیا میں اس ذلیل کی گردن نہ ماردوں؟ لیکن سراپا رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اسے اس کے حال ہر چھوڑ دو کہ لوگ کہیں یہ نہ کہیں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا ہے[2]۔

اس وقت فتنے کے ڈر سے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے قتل سے احتراز فرمایا۔ اسے واقعہ ٔ افک میں تہمت کی حد سے مستثنیٰ کیاگیا، لیکن فرشتوں کا انتقام اس کی موت کا منتظر تھا۔ اور رب کا انتقام اس جیسے منافقین کو قیامت تک محرومِ رحمت کرکے دائمی عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اللہ نے قرآنِ مجید میں رہتی دنیا تک کسی بھی منافق کا جنازہ پڑھنے اور اس کےلیے دعائے استغفار کرنے سے منع فرما دیا، بلکہ یہ بھی فرمادیا کہ :

[اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ] [النساء:145]

’’ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوںگے۔ ‘‘

[وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ] [التوبہ:68]

’’اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں، عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘

یہاں یہودیوں کا ایک ملعون سردار کعب بن اشرف بھی رہتا ہے، جسے اس کی گستاخی کی سزا دینے کیلئے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک دستہ خفیہ طریقے سے جاکر اسے قتل کرتا ہے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب اس گستاخ کی قوم کا ہر بالغ مرد قتل کردیا گیا، عورتیں اور بچے غلام بنا لیےگئے۔یہاں پر بھی نہ کوئی ریلی نکلی، نہ جلوس سڑک چھاپ ہوا اور نہ ہی کوئی ہڑتال ہوئی۔

آخر فتح ِ مبین کی منزل قریب آئی۔ مکہ زیرِ نگیں ہوا اور اہل مکہ سرنگوں ! ہر ایک کو امان دی گئی، سوائے ان سابقہ گستاخوں کے ‘ کہ جو ہجرت سے پہلے اَشرارِ مکہ ثابت ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں حکم ہوا کہ: ’’اگر کعبہ کی دیوار سے بھی چمٹے ہوں تو قتل کردیا جائے۔ [3]یہ ہے تیسرا اور آخری دورِ انتقام۔ اب کوئی مصلحت پاؤں کی زنجیر نہیں! اب کوئی خوف دامن گیر نہیں! اب کوئی اعتراض قابلِ شنید نہیں!

 جب جذبات سنبھالے جاتے، زخم کریدے جاتے اور عزائم کو سینوں میں بیدار رکھا جاتاہے، تب انتقام صرف دشمن کی موت کی صورت میں ہی جلوہ گر ہوتا ہے۔ ریلی تو کمزوری کی علامت ہے، نااہلی کو پردۂ زرنگار میں چھپانے کی مذموم سعی ہے اور جذبات کے تقدس کو شاہراہوں کی دُھول چٹانا ہے۔

 بقولِ اقبال:؎

مجھ کو معلوم ہيں پيران حرم کے انداز                        ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف

اور يہ اہل کليسا کا نظامِ تعليم                 ايک سازش ہے فقط دين و مروت کے خلاف

اس کي تقدير ميں محکومي و مظلومي ہے                       قوم جو کر نہ سکي اپني خودي سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھي کر ليتي ہے                   کبھي کرتي نہيں ملت کے گناہوں کو معاف

جاننے والے اگر فہم آشنا ہوں، پڑھنے والے اگر فطرت کے نکتہ رساں ہوں اور سمجھنے والوں کے دریچۂ دِل وا ہوں‘ تو ان کے لئے مشرکین مکہ کی انتقامی مثال ہی کافی ہے کہ فطرت کے باغی اپنے ’’دشمن دین‘‘ کے مقابلے پر کیسے فطرت شناس ہوجایا کرتے تھے؟

مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خامہ فرسائی کی ہے کہ غزوۂ بدر میں شکست و ریخت کے بعد وہ کس قدر ’’خاموش ‘‘ ہو بیٹھے تھے۔ انہوں نے باہم فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنے غم کو سینے کا ہار اور سر کا تاج بنا کر رکھیں گے، تاآنکہ آئندہ دنوں میں بھرپور تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کریں اور ان سے اپنی

 

 

 شکست ِبدر کا بدلہ لیںگے۔ انہوں نے مکمل خاموشی سے بھرپور تیاری کی۔ مزید قبائل عرب کو ساتھ ملایا۔ بدر کے حملے سے محفوظ ابوسفیان کے قافلے کے تمام تاجروں نے اپنے کل مال کو اُحد کی تیاری کے لئے وقف کردیا ۔ کوئی شخص ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی صورت میں میدانِ اُحد میں موجود ہو، جو خود نہ تھا‘ اس کا قرض دار تھا، مالک نہ تھا تو غلام تھا۔ کوئی لالچ پر آیا تھا تو کوئی دھمکی سے لایا گیا تھا، الغرض یہ ان کے لئے بقا یا فنا کی جنگ تھی، مگر کس قدر خاموشی کے ساتھ! ! [4]

فطرت کے منکر بھی اس کے زیر اثر تھے!                      خدا کے منکر بھی خدا کے خوگر تھے!

کاش ! کہ ملت ِ اسلامیہ کے موجودہ حدی خواں‘ جو اپنی چوہدراہٹوں کے خول میں گردن دبائے مست مۓ پندار بیٹھے ہیں، کبھی اسلام کے آفتابِ تاباں کے مزاج آشنا بھی بن پا تے‘ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اسلام شور شرابے، اٹکھیلیوں اور شرارتی ناز و اَداسے اٹھلاتی رونقِ بازاری کا نام نہیں ہے۔

اسلام تو ہر باطل کے مقابلے پر شمشیرِ برہنہ کا نام ہے! اسلام تو [فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ]کا نام ہے! اسلام تو گردنِ کفار کو محرومِ بدن کرنے کا نام ہے!

کاش ! کہ دعوت و ارشاد کے مسند نشینوں نے بھی کبھی سوچا ہوتا‘ کہ ہم اپنی ذاتی خودنمائی کیلئے ناموسِ رسالت کو کمائی کا ذریعہ کیوں بنائیں!

کاش! کہ کبھی ان کے دل کی راہ گذر پر یہ خیال بھی ٹھہرا ہوتا کہ ہم نے اپنی سیاست کے اندھیروں کو قرآن کے نور سے منور کرنے کی کوشش کی ہوتی!

کاش! کہ انہوں نے یہ خیال آرائی بھی کی ہوتی کہ سنت ِ رسول  کی ضیا پاشیاں کبھی ہمارے بے آباد مکانوں پر بھی دستک کناں ہوئی ہوتیں!

تو آج ماحول ریلیوں کا نہیں، بلکہ دعوت و جہاد کے ان ریلوں کا ہوتا‘ جس کے آگے کفار کے لاکھوں کے لشکر بھی ریت کے ذرات سے حقیر تر ہوا کرتے تھے!

ان ابابیلوں کا ہوتا‘ جو اتحادی افواج پر شاہین بن کر برستے!

 

 

 

ان ملائکہ کا ہوتا ‘ جن کی حیات کے سب سے قیمتی لمحات بدر کے میدان میں خاک بہ سر ہوئے! ؎

فضائِ بدر پیداکر، فرشتے تیری نصرت کو

اترسکتے ہیں، گردوں سے ‘ قطار اندر قطار اب بھی!

اور ؎

آج بھی ہو‘ جو ابراہیم سا ایماں پیدا               تو آگ کر سکتی ہے وہی اندازِ گلستاں پیدا !

ضرورت ہے اس بات کی کہ اسلام کی حقیقی روح کو ناصرف یہ کہ اچھی طرح سمجھا جائے، بلکہ اس کے مزاج سے اپنے آپ کو مزاج آشنا بھی کیا جائے۔ نہ کہ‘ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘ کے مصداق اسلام کو اپنے ہم آہنگ بنانے کی سعیٔ لاحاصل کرے، بلکہ خود بھی اور اپنے مقتدیوں، اپنی جماعت کے کارکنوں اور ماتحت لوگوں کو بھی اسلام شناسی پر کاربند کرے کہ یہی اور بس یہی ایک طریقہ غلبہ ٔ اسلام کیلئے کارآمد و مجرب ہے، وگرنہ سڑکوں کی دھول ہی آپ کا مقدر ہے!

خودی کا سرِ نہاں لا الٰہ الا اللہ            خودی ہے تیغ، فساں لا الٰہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا      فریبِ سود و زیاں، لا الٰہ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند     بتانِ وہم و گماں، لا الٰہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری  نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الٰہ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند       بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں            مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰہ الا اللہ

اس شعر کے ساتھ اپنے مضمون کے سرِ محضریہ مہرلگا رہا ہوں کہ ؎

اب جو چاہے وہی پائے روشنی                    ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا!

 

 

 

 

[1]  خطیب مرکز الفرقان، ایف بی ایریا کراچی

[2] صحیح بخاری: 4905

[3] سنن نسائی : 4067

[4] تفصیل کیلئے دیکھیں سیرت النبی ﷺ کی عالمی شہرت یافتہ کتاب: الرحیق المختوم