بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الخميس, 12 تشرين1/أكتوير 2017 16:06

دنیا میں عذابِ الٰہی کی صورتیں

مولف/مصنف/مقرر  سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ

دنیا میں عذابِ الٰہی کی صورتیں 

ہماری روحوں پر ہمارے اعمال کے اثرات مُرتب ہوتے ہیں ۔ اعمالِ صالحہ سے رُوح کا تزکیہ ہوتاہے اور ایک سکُون ، اطمینان اور راحت اِسی دُنیا میں نصیب ہوتی ہے ۔ بداعمالیوں کے اثرات بھی روح پر مرتب ہوتے ہیں ۔ بد اعمالیوں سے رُوح بیمار ہوجاتی ہے اور کراہنے لگتی ہے ۔ اگر مرض حدود سے متجاوز نہ ہوگیا ہو اور رُوح پر موت نہ طاری ہوتو مریض رُوح کے درد وکرب کو محسوس کرتاہے اور اس کی کراہ سُنتاہے ۔ رُوح کا دردوکرب بھی عذاب کی ایک صُورت ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :

{ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]

ترجمہ :’’اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں‘‘۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر فرماتے تھے کہ :

’إن في الدنيا جنة من لم يدخلها لن يدخل جنة الآخرة‘

’’اس دنیا میں بھی ایک جنت ہے ، جو اس میں داخل نہ ہُوا ، وہ آخرت کی جنت میں داخل نہ ہوسکے گا ‘‘۔

جناب عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’جنت دبستانِ من درسینئہ  من است ہر جاکہ بنشینم بھار خویشتم۔ ‘‘

یعنی میری بہشت میرے سینے میں،جودرودِ رحمت اور انوارِ الٰہی کے نزول سےپیدا ہوئی ہے میں جہاں بیٹھ جاتاہوں وہیں باغ وبہار ہوجاتی ہے ــ۔

اگر روح کی یہاں تربیت نہ کی جائے ، اس کا تزکیہ نہ ہو اور بداعمالیوں میں مُبتلا ہو کر بیمار ہوجائے ، تورُوح آخرت میں بھی بیمار رہے گی ۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہیں :

{ وَمَنْ كَانَ فِي هٰذِهِ أَعْمٰى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمٰى وَأَضَلُّ سَبِيْلًا} [الا ٔسراء: 72]

ترجمہ :’’ جو اس دنیا میں راہ نجات سے اندھا ہے ، وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا، بلکہ اور زیادہ گم کردہ راہ ہوجائے گا ‘‘۔

یعنی روح کے ہدایت پانے اور صحت مند ہونے کا تعلق اعمالِ صالحہ سے ہے اور اعمالِ صالحہ کا تعلق دار العمل سے ہے ۔ جب دار العمل سے انسان دا رالجزاء میں منتقل ہوگیا تو اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوا ۔ پھر روح کے لیے شفا پانا کیوں کر ممکن رہا الا’من رحم ربی‘۔ پس بداعمالیوں سے جو عذاب روح پر طاری ہوتاہے ، وہ عذاب اس دنیا میں ، عالم برزخ میں اور آخرت میں مسلسل چلتاہے ۔ بد اعمالیوں کی سزا اس دُنیا میں بھی ہم کو بھگتنی پڑتی ہے اور آخرت کا عذاب تو دردناک ہے ۔ قوم عاد نے جب ہود علیہ السلام کی نافرمانی کی تو اِسی دُنیا میں انہیں ملعون قرار دیا گیا: {وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً} [هود: 60]

’’ اور اسی دنیا میں ان پر لعنتیں بھیجی گئیں ۔‘‘ 

وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دیتے ہیں ۔ قرآن کہتاہے کہ اسی دُنیا میں اللہ اُن پر لعنتیں بھیجتاہے :

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا} [الا ٔحزاب: 57]

 ترجمہ :’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے‘‘۔

لعنت کی حقیقت :

لعنت کی حقیقت کیا ہے ؟ لعنھم اللہکے معنیٰ ہیں ابعد ہ عن الرّحمۃ ، اللہ نے اس پر لعنت کی یعنی اُسے اپنی رحمت سے دُور کیا ۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ، اسی طرح ہماری ارواح اللہ کی رحمت کے بغیر صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتیں۔ جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے ، اسی طرح انسان کی رُوح بھی اُس رحمت کے بغیر تڑپتی ہے ۔ انسان کا ملعون ہونا یہی ہے کہ اُسے اللہ کی رحمت سے محروم کردیا جاتاہے ۔ اُس کی رحمت سے سیراب نہ ہونے کی وجہ سے رُوح مُرجھاجاتی ہے ۔اِس پر افسردگی اور پژمردگی طاری ہوجاتی ہے اور وہ ایک دردوکرب محسوس کرتی ہے ۔ بد اعمالیوں کی سب سے پہلی سزا جو اس دُنیا میں ملتی ہے ، وہ ملعون ہونا ہے اور اس کی رحمت سے دُور ہونا ہے ، رُوحانی اذیّت میں مُبتلا ہونا ہے ، اندیشہ ہائے دُور ودراز میں گرفتار ہونا ہے ، سرکا کھولنا ، رُوح کا دردوکرب میں مبتلا ہوناہے ۔

ذلّت ورسوائی :

جب نافرمانی اور بڑھے تو اس کا عذاب ذلّت ورسوائی کی صورت میں ہوتاہے ۔  لوگوں کے دلوں سے اس کی عزّت اُچک لی جاتی ہے ۔ معاشرے میں اُسے ذلیل ورُسوا کیا جاتاہے ۔ اس کے گناہوں کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ اُس کے عیوب کا پَردہ چاک کیا جاتاہے ۔ قرآن اس عذاب کو’خزی‘سے تعبیر کرتا ہے ۔ قرآن مجید نے کہا: تم قرآن کے بعض حصّوں کو مانتے ہواور بعض حصوں سے انکار کرتے ہو :

{ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [البقرة: 85]

ترجمہ :’’ اس کا صِلہ تمہیں اس کے سوا کیا مِل سکتاہے کہ زندگی میں تمہیں ذلیل ورسوا کیا جائے ‘‘۔

ایک دوسری جگہ کہا :{وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ } [البقرة: 114]

’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو مسجدوں میں ذکرِ الٰہی سے روکتاہے اور اُنہیں ویران کرنے میں کوشاں ہے ‘‘ ۔۔۔۔ ۔ اِسی دنیا میں اُن کو ذلیل ورسوا کیا جاتاہے‘‘ ۔

حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دینے والوں کا حشر :

قرآن وضاحت سے کہتاہے کہ جولوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دیتے ہیں ، اللہ اسی دُنیا میں اُن پر لعنتیں بھیجتاہے۔

(1) ابولہب جس کا نام عبد العزّیٰ تھا ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا حقیقی تایا تھا ۔ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب بعثت کے بعد قریش کو اکٹھا کیا اور اللہ کا پیغام سُنایا تو سب سے پہلے ابو لہب ہی نے تکذیب کی اور کہا :


 

 

’تبّاَ لک الِھٰذا جمعتنا‘ ’’ تیرا ناس ہو ۔ کیا اسی لیے تونے ہمیں اکھٹا کیا تھا ‘‘؟

اسی پر یہ سورۃ نازل ہوئی :  {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} [المسد: 1]

ترجمہ :’’ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہُوا ‘‘۔

واقعہ بدر کے سات روز بعد ابولہب کو ایک زہریلا دانہ نکلا ، بیماری متعدی تھی ، کوئی قریب نہیں پھٹکتا تھا ، سارے بدن میں زہر سرایت کرگیا ، اِسی حالت میں فوت ہوا ۔ تین دن تک لاش پڑی رہی ، فضا متعفّن ہوگئی۔ اُس کے گھر والے اس اندیشے سے کہ اس کی بیماری کہیں اِنہیں نہ لگ جائے ، اسے ہاتھ نہ لگاتے تھے ۔ چند حبشی مزدوروں کو بُلا کر لاشے کو اُٹھایا گیا۔ مزدوروں نے ایک گڑھا کھودا اور لکڑیوں سے دھکیل کر اُس کے لاشے کو گڑھے میں ڈالدیا[1]یہ ہے {وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً}اور یہ ہے {  خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا}

(2)  ابو جہل اس امت کا فرعون تھا ، اس کی انانیت کو اس طرح عذاب دیا گیا کہ دو بچوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔[2]

(3)  عاص بن وائل سہمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے والد تھے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ٹھٹھا اُڑاتے تھے ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاں جتنے بیٹے ہوئے اُن کی زندگی میں ہی وفات پاگئے ۔

عاص نے کہا :

’انّ محمّدا ابتر لا یعیش لہ ولد‘

’’ محمد مقطوع النسل ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا ‘‘۔

اسی پر یہ آیت نازل ہوئی :{إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ } [الكوثر: 3]

ترجمہ :’’آپ کا دشمن ہی مقطوع النسل ہے‘‘۔

ہجرت کے ایک ماہ بعد کسی جانور نے پیر پر کاٹا ، اس قدر پھولا کہ اُونٹ کی گردن کے برابر ہوگیا ، اسی میں عاص کا خاتمہ ہوا ۔ [3]

(4)  اسود بن مطلب اور اُس کے ساتھی جب کبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھیوں کو دیکھتے ، آنکھیں مٹکاتے ۔ آپ نے بد دُعا فرمائی کہ اے اللہ اسود کو اس قابل نہ چھوڑ کہ یہ آنکھیں مٹکا سکے ۔ اسود ایک کیکر کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو آواز دی :

’’ مجھے بچاؤ ! مجھے بچاؤ! میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہا ہے ‘‘۔ لڑکوں نے کہا ’’ ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا‘‘۔ اسود چلّا تا رہا ، مجھے بچاؤ، میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہاہے ، یہ کہتے کہتے وہ اندھا ہوگیا۔ [4]

(5)  اسود بن عبد یغوث نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرتاتھا ۔ اُسے اپنی عقل پر بڑا ناز تھا ۔ ایسی بیماری ہُوئی کہ مُنہ سے پاخانہ آتا تھا ۔ اسی بیماری میں فوت ہُوا ! یہ ہے تفصیل اس آیت کی :

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا} [الأحزاب: 57]

 ترجمہ :’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے‘‘۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دینے والوں کی ہلاکت اور تباہی کی تفصیلات حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ ، طبرانی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے دی ہیں ۔

عذاب کی انواع واقسام :

جیسے اُس کی نوازشیں بے حد وحساب ہیں ، اُس کے عذاب کی قسمیں بھی بے شمار ہیں ۔ وہ بڑا لطیف اور حکیم ہے ، وہ اس کائنات کی جس شے کو چاہے عذاب میں بدل دے ، یہ ہوا جس سے انسان کے سانس کی آمد وشد جاری ہے ، وہ جب چاہتاہے اس ہوا کو طوفان اور آندھی بنا دیتاہے ۔

{وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ } [الحاقہ: 6]

ترجمہ :’’ قومِ عاد کو زنّاٹے کی آندھی سے ہلاک کردیاگیا‘‘۔

{فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ} [الحاقہ: 7]

ترجمہ :’’ اِس آندھی میں تُم یوں انہیں بچھڑا ہوا دیکھوگے ، گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں ‘‘۔

یہ پانی جو بقائے حیات کے لیے ناگزیر ہے ، وہ جب چاہتے ہیں اسے طُغیانیوں میں بدل دیتے ہیں :

{ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ } [هود: 43]

’’ نوح  علیہ السلام کی قوم سیلاب میں ڈوب گئی اور اُس کی زَدسے کوئی نہ بچ سکا ۔ ان کے سوا جن پر اللہ نے رحم کیا ۔‘‘

یہ آواز جو مطالب کے اظہار کے لیے ازبس ضروری ہے ۔ وہ جب چاہتے ہیں اُس آواز کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔

{وَمِنْھمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَة}

’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے جو چنگھاڑ کی گرفت میں آگئے ‘‘۔

یہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں ، جب اس کی مشیت ہوتی ہے ، تو زمین انکار کردیتی ہے کہ ہم اُس پر چل سکیں :

{ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} [العنكبوت: 40]

’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے ، جنہیں ہم نے زمین میں دھنسادیا اور بعض کو ہم نے غرق کردیا ، اللہ تو کسی پر زیادتی نہیں کرتا ہے ، یہ انسان ہی ہیں جو اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں ‘‘۔

وہ اللہ لطیف وحکیم ہیں ، جب چاہتے ہیں نعمت کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔ مال اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے ، تو اللہ کی نعمت ہے او ریہی مال اگر اللہ سے عزیز تر ہو جائے ، اندیشہ وغم کا باعث ہو اور بخل ، خست اور دنایت پر آمادہ کرے تو وہ عذابِ الٰہی بن جاتاہے ۔ اِسی طرح اولاد اگر صالح ہو تو اللہ کی دین ہے اور یہی اولاد اگر اللہ سے دُور ہٹادے اور حجاب بن جائے تو عذابِ الٰہی ہے ۔ ہاں اللہ کا عذاب کبھی مال اور اولاد کی صورت میںبھی ہوتاہے : {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } [التوبة: 55]

’’ان کا مال ومنال اور اُن کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالے ، یہ تو محض اِس لیے کہ اللہ اس دُنیا کی زندگی میں اُنہیں عذاب میں مُبتلا کرے ‘‘۔

طُغیانیاں اب بھی آتی ہیں ، طُوفان اب بھی اُٹھتے ہیں ، زلزلوں سے بستیاں اب بھی ویران ہوتی ہیں ، زمین میں بستیوں کے دھنس جانے کی خبریں اب بھی اخباروں ہم پڑھتے ہیں ، مگر ایک ایسی غفلت ہم پر چھاگئی ہے ، ایک ایسی قساوت دلوں پر طاری ہے کہ اِن بربادیوں کو دیکھتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاقات ہیں ، جو اِس دُنیا میں رُونما ہوتے ہیں ۔ اللہ کہتاہے یہ محض اتفاقات نہیں ہیں :

{فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ } [الا ٔعراف: 96]

’’ ہم نے اُن کی بد اعمالیوں کی پاداش میں انہیں چتھاڑا ‘‘

{فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ } [التوبہ: 70]

’’ اللہ کی شان کے تو یہ شایان نہ تھا کہ وہ بے سبب لوگوں پر ہلاکت اور تباہی لاتا، مگر وہ خود اپنی جانوں پر پیہم ظلم ڈھاتے رہے ‘‘۔

وہ لوگ جن کے مزاج پربہیمیت کا غلبہ ہوتاہے ، ہمیشہ سے عذاب ِ الٰہی کو اتفاق قرار دیتے رہے ہیں ۔ شیطان اُن کے جی میں وسوسہ ڈالتاہے کہ تم دانشور ہو ، عبقری ہو، عذاب وثواب توہمات کی باتیں ہیں اور بے وقوف لوگ ان توہمات کو مانتے ہیں ۔

{ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ } [البقرة: 13]

’’ اُنہوں نے کہا کیا ہم اِن باتوں کو مان جائیں ، جیسے یہ بے وقوف لوگ مانتے ہیں ، سُن لو یہ لوگ خود بے وقوف ہیں مگر انہیں وقوف نہیں کہ وہ بیوقوف ہیں ‘‘۔

بعض لوگوں کی عقل موٹی ہوتی ہے اور انہیں احساس اور اعتراف ہوتاہے کہ وہ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہیں ۔ اُن کی عاجزی اور فروتنی ان کے عیب پر پردہ ڈال دیتی ہے بعض لوگ بے وقوف ہوتے ہیں اور انہیں اپنے آپ پر دانشور اور عبقری ہونے کا گمان ہوتاہے ، ایسے بے وقوفوں کی حالت بڑی مضحکہ خیز ہوتی ہے ۔ اللہ اس آیت میں یہ کہہ رہاہے کہ یہ نام نہاد دانشور اُن بیوقوفوں میں سے ہیں ، جنہیں یہ وقوف بھی نہیں کہ وہ بے وقوف ہیں ۔

اس ملک کے دانشوروں سے بھی جب ہم آج کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا سقوط اللہ کا ایک دردناک عذاب ہے ، تو وہ کہتے ہیں اس میں عذاب کی کیا بات ہے ؟ قوموں کو کبھی فتح ہوتی ہے کبھی شکست ہوتی ہے :

{ بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ} [المؤمنون: 81]

’’ تاریخ گواہی دیتی ہےکہ فراستِ ایمانی سے محروم انسان ہمیشہ سے ایک جیسی باتیں کرتے رہے ہیں ‘‘۔

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ہماری غفلت اور شقاوت شدید تر ہوگئی ۔ ہم انفرادی اور اجتماعی بد اعمالیوں میں یُوں چھُوٹ ہوگئے ہیں ، جیسے ہم اللہ کی زد سے باہر ہوگئے ہوں یا جیسے اس ملک میں اللہ کا قانونِ جزاوسزا معطّل ہوگیاہو ، یہ کیفیت سخت ہلاکت آفرین ہے :

{ أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ، أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ  أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ} [الا ٔعراف: 97 - 99]

’’ بستیوں میں رہنے والوں کو کِس نے ضمانت دی ہے کہ ہمارا عذاب راتوں رات اُن پر نازل نہ ہوگا ، جب وہ بے خبر سو رہے ہوں گے ۔ کیا بستیوں میں رہنے والوں نے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لیا ہے کہ ہمارا عذاب دن دہاڑے اُن پر نازل نہ ہوگا ، جب وہ کھیل کُود میں لگے ہوں گے ۔ کیا اللہ کی چال سے وہ محفوظ ہو بیٹھے ہیں ؟ اللہ کی چال سے اپنے آپ کو وہی لوگ محفوظ سمجھتے ہیں، جو خائب وخاسر ہیں ‘‘۔



[1] روح المعانی ، ص 262، ج : 2

[2] صحیح البخاری : کتاب الجھاد،ص :443، ج : 1

[3] ابن الاثیر ، ج : 2

[4]ابن الاثیر ، ج : 2 ص: 27

ملاحظہ کیا گیا 167 بار
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

دنیا میں عذابِ الٰہی کی صورتیں 

ہماری روحوں پر ہمارے اعمال کے اثرات مُرتب ہوتے ہیں ۔ اعمالِ صالحہ سے رُوح کا تزکیہ ہوتاہے اور ایک سکُون ، اطمینان اور راحت اِسی دُنیا میں نصیب ہوتی ہے ۔ بداعمالیوں کے اثرات بھی روح پر مرتب ہوتے ہیں ۔ بد اعمالیوں سے رُوح بیمار ہوجاتی ہے اور کراہنے لگتی ہے ۔ اگر مرض حدود سے متجاوز نہ ہوگیا ہو اور رُوح پر موت نہ طاری ہوتو مریض رُوح کے درد وکرب کو محسوس کرتاہے اور اس کی کراہ سُنتاہے ۔ رُوح کا دردوکرب بھی عذاب کی ایک صُورت ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :

{ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]

ترجمہ :’’اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں‘‘۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر فرماتے تھے کہ :

’إن في الدنيا جنة من لم يدخلها لن يدخل جنة الآخرة‘

’’اس دنیا میں بھی ایک جنت ہے ، جو اس میں داخل نہ ہُوا ، وہ آخرت کی جنت میں داخل نہ ہوسکے گا ‘‘۔

جناب عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’جنت دبستانِ من درسینئہ  من است ہر جاکہ بنشینم بھار خویشتم۔ ‘‘

یعنی میری بہشت میرے سینے میں،جودرودِ رحمت اور انوارِ الٰہی کے نزول سےپیدا ہوئی ہے میں جہاں بیٹھ جاتاہوں وہیں باغ وبہار ہوجاتی ہے ــ۔

اگر روح کی یہاں تربیت نہ کی جائے ، اس کا تزکیہ نہ ہو اور بداعمالیوں میں مُبتلا ہو کر بیمار ہوجائے ، تورُوح آخرت میں بھی بیمار رہے گی ۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہیں :

{ وَمَنْ كَانَ فِي هٰذِهِ أَعْمٰى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمٰى وَأَضَلُّ سَبِيْلًا} [الا ٔسراء: 72]

ترجمہ :’’ جو اس دنیا میں راہ نجات سے اندھا ہے ، وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا، بلکہ اور زیادہ گم کردہ راہ ہوجائے گا ‘‘۔

یعنی روح کے ہدایت پانے اور صحت مند ہونے کا تعلق اعمالِ صالحہ سے ہے اور اعمالِ صالحہ کا تعلق دار العمل سے ہے ۔ جب دار العمل سے انسان دا رالجزاء میں منتقل ہوگیا تو اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوا ۔ پھر روح کے لیے شفا پانا کیوں کر ممکن رہا الا’من رحم ربی‘۔ پس بداعمالیوں سے جو عذاب روح پر طاری ہوتاہے ، وہ عذاب اس دنیا میں ، عالم برزخ میں اور آخرت میں مسلسل چلتاہے ۔ بد اعمالیوں کی سزا اس دُنیا میں بھی ہم کو بھگتنی پڑتی ہے اور آخرت کا عذاب تو دردناک ہے ۔ قوم عاد نے جب ہود علیہ السلام کی نافرمانی کی تو اِسی دُنیا میں انہیں ملعون قرار دیا گیا: {وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً} [هود: 60]

’’ اور اسی دنیا میں ان پر لعنتیں بھیجی گئیں ۔‘‘ 

وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دیتے ہیں ۔ قرآن کہتاہے کہ اسی دُنیا میں اللہ اُن پر لعنتیں بھیجتاہے :

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا} [الا ٔحزاب: 57]

 ترجمہ :’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے‘‘۔

لعنت کی حقیقت :

لعنت کی حقیقت کیا ہے ؟ لعنھم اللہکے معنیٰ ہیں ابعد ہ عن الرّحمۃ ، اللہ نے اس پر لعنت کی یعنی اُسے اپنی رحمت سے دُور کیا ۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ، اسی طرح ہماری ارواح اللہ کی رحمت کے بغیر صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتیں۔ جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے ، اسی طرح انسان کی رُوح بھی اُس رحمت کے بغیر تڑپتی ہے ۔ انسان کا ملعون ہونا یہی ہے کہ اُسے اللہ کی رحمت سے محروم کردیا جاتاہے ۔ اُس کی رحمت سے سیراب نہ ہونے کی وجہ سے رُوح مُرجھاجاتی ہے ۔اِس پر افسردگی اور پژمردگی طاری ہوجاتی ہے اور وہ ایک دردوکرب محسوس کرتی ہے ۔ بد اعمالیوں کی سب سے پہلی سزا جو اس دُنیا میں ملتی ہے ، وہ ملعون ہونا ہے اور اس کی رحمت سے دُور ہونا ہے ، رُوحانی اذیّت میں مُبتلا ہونا ہے ، اندیشہ ہائے دُور ودراز میں گرفتار ہونا ہے ، سرکا کھولنا ، رُوح کا دردوکرب میں مبتلا ہوناہے ۔

ذلّت ورسوائی :

جب نافرمانی اور بڑھے تو اس کا عذاب ذلّت ورسوائی کی صورت میں ہوتاہے ۔  لوگوں کے دلوں سے اس کی عزّت اُچک لی جاتی ہے ۔ معاشرے میں اُسے ذلیل ورُسوا کیا جاتاہے ۔ اس کے گناہوں کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ اُس کے عیوب کا پَردہ چاک کیا جاتاہے ۔ قرآن اس عذاب کو’خزی‘سے تعبیر کرتا ہے ۔ قرآن مجید نے کہا: تم قرآن کے بعض حصّوں کو مانتے ہواور بعض حصوں سے انکار کرتے ہو :

{ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [البقرة: 85]

ترجمہ :’’ اس کا صِلہ تمہیں اس کے سوا کیا مِل سکتاہے کہ زندگی میں تمہیں ذلیل ورسوا کیا جائے ‘‘۔

ایک دوسری جگہ کہا :{وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ } [البقرة: 114]

’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو مسجدوں میں ذکرِ الٰہی سے روکتاہے اور اُنہیں ویران کرنے میں کوشاں ہے ‘‘ ۔۔۔۔ ۔ اِسی دنیا میں اُن کو ذلیل ورسوا کیا جاتاہے‘‘ ۔

حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دینے والوں کا حشر :

قرآن وضاحت سے کہتاہے کہ جولوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء دیتے ہیں ، اللہ اسی دُنیا میں اُن پر لعنتیں بھیجتاہے۔

(1) ابولہب جس کا نام عبد العزّیٰ تھا ، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا حقیقی تایا تھا ۔ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب بعثت کے بعد قریش کو اکٹھا کیا اور اللہ کا پیغام سُنایا تو سب سے پہلے ابو لہب ہی نے تکذیب کی اور کہا :


 

 

’تبّاَ لک الِھٰذا جمعتنا‘ ’’ تیرا ناس ہو ۔ کیا اسی لیے تونے ہمیں اکھٹا کیا تھا ‘‘؟

اسی پر یہ سورۃ نازل ہوئی :  {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} [المسد: 1]

ترجمہ :’’ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہُوا ‘‘۔

واقعہ بدر کے سات روز بعد ابولہب کو ایک زہریلا دانہ نکلا ، بیماری متعدی تھی ، کوئی قریب نہیں پھٹکتا تھا ، سارے بدن میں زہر سرایت کرگیا ، اِسی حالت میں فوت ہوا ۔ تین دن تک لاش پڑی رہی ، فضا متعفّن ہوگئی۔ اُس کے گھر والے اس اندیشے سے کہ اس کی بیماری کہیں اِنہیں نہ لگ جائے ، اسے ہاتھ نہ لگاتے تھے ۔ چند حبشی مزدوروں کو بُلا کر لاشے کو اُٹھایا گیا۔ مزدوروں نے ایک گڑھا کھودا اور لکڑیوں سے دھکیل کر اُس کے لاشے کو گڑھے میں ڈالدیا[1]یہ ہے {وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً}اور یہ ہے {  خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا}

(2)  ابو جہل اس امت کا فرعون تھا ، اس کی انانیت کو اس طرح عذاب دیا گیا کہ دو بچوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔[2]

(3)  عاص بن وائل سہمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے والد تھے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ٹھٹھا اُڑاتے تھے ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاں جتنے بیٹے ہوئے اُن کی زندگی میں ہی وفات پاگئے ۔

عاص نے کہا :

’انّ محمّدا ابتر لا یعیش لہ ولد‘

’’ محمد مقطوع النسل ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا ‘‘۔

اسی پر یہ آیت نازل ہوئی :{إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ } [الكوثر: 3]

ترجمہ :’’آپ کا دشمن ہی مقطوع النسل ہے‘‘۔

ہجرت کے ایک ماہ بعد کسی جانور نے پیر پر کاٹا ، اس قدر پھولا کہ اُونٹ کی گردن کے برابر ہوگیا ، اسی میں عاص کا خاتمہ ہوا ۔ [3]

(4)  اسود بن مطلب اور اُس کے ساتھی جب کبھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھیوں کو دیکھتے ، آنکھیں مٹکاتے ۔ آپ نے بد دُعا فرمائی کہ اے اللہ اسود کو اس قابل نہ چھوڑ کہ یہ آنکھیں مٹکا سکے ۔ اسود ایک کیکر کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو آواز دی :

’’ مجھے بچاؤ ! مجھے بچاؤ! میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہا ہے ‘‘۔ لڑکوں نے کہا ’’ ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا‘‘۔ اسود چلّا تا رہا ، مجھے بچاؤ، میری آنکھوں میں کوئی کانٹے چبھورہاہے ، یہ کہتے کہتے وہ اندھا ہوگیا۔ [4]

(5)  اسود بن عبد یغوث نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرتاتھا ۔ اُسے اپنی عقل پر بڑا ناز تھا ۔ ایسی بیماری ہُوئی کہ مُنہ سے پاخانہ آتا تھا ۔ اسی بیماری میں فوت ہُوا ! یہ ہے تفصیل اس آیت کی :

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا} [الأحزاب: 57]

 ترجمہ :’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے‘‘۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایذا دینے والوں کی ہلاکت اور تباہی کی تفصیلات حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ ، طبرانی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے دی ہیں ۔

عذاب کی انواع واقسام :

جیسے اُس کی نوازشیں بے حد وحساب ہیں ، اُس کے عذاب کی قسمیں بھی بے شمار ہیں ۔ وہ بڑا لطیف اور حکیم ہے ، وہ اس کائنات کی جس شے کو چاہے عذاب میں بدل دے ، یہ ہوا جس سے انسان کے سانس کی آمد وشد جاری ہے ، وہ جب چاہتاہے اس ہوا کو طوفان اور آندھی بنا دیتاہے ۔

{وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ } [الحاقہ: 6]

ترجمہ :’’ قومِ عاد کو زنّاٹے کی آندھی سے ہلاک کردیاگیا‘‘۔

{فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ} [الحاقہ: 7]

ترجمہ :’’ اِس آندھی میں تُم یوں انہیں بچھڑا ہوا دیکھوگے ، گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں ‘‘۔

یہ پانی جو بقائے حیات کے لیے ناگزیر ہے ، وہ جب چاہتے ہیں اسے طُغیانیوں میں بدل دیتے ہیں :

{ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ } [هود: 43]

’’ نوح  علیہ السلام کی قوم سیلاب میں ڈوب گئی اور اُس کی زَدسے کوئی نہ بچ سکا ۔ ان کے سوا جن پر اللہ نے رحم کیا ۔‘‘

یہ آواز جو مطالب کے اظہار کے لیے ازبس ضروری ہے ۔ وہ جب چاہتے ہیں اُس آواز کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔

{وَمِنْھمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَة}

’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے جو چنگھاڑ کی گرفت میں آگئے ‘‘۔

یہ زمین جس پر ہم چلتے ہیں ، جب اس کی مشیت ہوتی ہے ، تو زمین انکار کردیتی ہے کہ ہم اُس پر چل سکیں :

{ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} [العنكبوت: 40]

’’ ان میں سے کچھ ایسے تھے ، جنہیں ہم نے زمین میں دھنسادیا اور بعض کو ہم نے غرق کردیا ، اللہ تو کسی پر زیادتی نہیں کرتا ہے ، یہ انسان ہی ہیں جو اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں ‘‘۔

وہ اللہ لطیف وحکیم ہیں ، جب چاہتے ہیں نعمت کو عذاب میں بدل دیتے ہیں ۔ مال اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے ، تو اللہ کی نعمت ہے او ریہی مال اگر اللہ سے عزیز تر ہو جائے ، اندیشہ وغم کا باعث ہو اور بخل ، خست اور دنایت پر آمادہ کرے تو وہ عذابِ الٰہی بن جاتاہے ۔ اِسی طرح اولاد اگر صالح ہو تو اللہ کی دین ہے اور یہی اولاد اگر اللہ سے دُور ہٹادے اور حجاب بن جائے تو عذابِ الٰہی ہے ۔ ہاں اللہ کا عذاب کبھی مال اور اولاد کی صورت میںبھی ہوتاہے : {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } [التوبة: 55]

’’ان کا مال ومنال اور اُن کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالے ، یہ تو محض اِس لیے کہ اللہ اس دُنیا کی زندگی میں اُنہیں عذاب میں مُبتلا کرے ‘‘۔

طُغیانیاں اب بھی آتی ہیں ، طُوفان اب بھی اُٹھتے ہیں ، زلزلوں سے بستیاں اب بھی ویران ہوتی ہیں ، زمین میں بستیوں کے دھنس جانے کی خبریں اب بھی اخباروں ہم پڑھتے ہیں ، مگر ایک ایسی غفلت ہم پر چھاگئی ہے ، ایک ایسی قساوت دلوں پر طاری ہے کہ اِن بربادیوں کو دیکھتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاقات ہیں ، جو اِس دُنیا میں رُونما ہوتے ہیں ۔ اللہ کہتاہے یہ محض اتفاقات نہیں ہیں :

{فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ } [الا ٔعراف: 96]

’’ ہم نے اُن کی بد اعمالیوں کی پاداش میں انہیں چتھاڑا ‘‘

{فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ } [التوبہ: 70]

’’ اللہ کی شان کے تو یہ شایان نہ تھا کہ وہ بے سبب لوگوں پر ہلاکت اور تباہی لاتا، مگر وہ خود اپنی جانوں پر پیہم ظلم ڈھاتے رہے ‘‘۔

وہ لوگ جن کے مزاج پربہیمیت کا غلبہ ہوتاہے ، ہمیشہ سے عذاب ِ الٰہی کو اتفاق قرار دیتے رہے ہیں ۔ شیطان اُن کے جی میں وسوسہ ڈالتاہے کہ تم دانشور ہو ، عبقری ہو، عذاب وثواب توہمات کی باتیں ہیں اور بے وقوف لوگ ان توہمات کو مانتے ہیں ۔

{ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ } [البقرة: 13]

’’ اُنہوں نے کہا کیا ہم اِن باتوں کو مان جائیں ، جیسے یہ بے وقوف لوگ مانتے ہیں ، سُن لو یہ لوگ خود بے وقوف ہیں مگر انہیں وقوف نہیں کہ وہ بیوقوف ہیں ‘‘۔

بعض لوگوں کی عقل موٹی ہوتی ہے اور انہیں احساس اور اعتراف ہوتاہے کہ وہ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہیں ۔ اُن کی عاجزی اور فروتنی ان کے عیب پر پردہ ڈال دیتی ہے بعض لوگ بے وقوف ہوتے ہیں اور انہیں اپنے آپ پر دانشور اور عبقری ہونے کا گمان ہوتاہے ، ایسے بے وقوفوں کی حالت بڑی مضحکہ خیز ہوتی ہے ۔ اللہ اس آیت میں یہ کہہ رہاہے کہ یہ نام نہاد دانشور اُن بیوقوفوں میں سے ہیں ، جنہیں یہ وقوف بھی نہیں کہ وہ بے وقوف ہیں ۔

اس ملک کے دانشوروں سے بھی جب ہم آج کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا سقوط اللہ کا ایک دردناک عذاب ہے ، تو وہ کہتے ہیں اس میں عذاب کی کیا بات ہے ؟ قوموں کو کبھی فتح ہوتی ہے کبھی شکست ہوتی ہے :

{ بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُونَ} [المؤمنون: 81]

’’ تاریخ گواہی دیتی ہےکہ فراستِ ایمانی سے محروم انسان ہمیشہ سے ایک جیسی باتیں کرتے رہے ہیں ‘‘۔

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ہماری غفلت اور شقاوت شدید تر ہوگئی ۔ ہم انفرادی اور اجتماعی بد اعمالیوں میں یُوں چھُوٹ ہوگئے ہیں ، جیسے ہم اللہ کی زد سے باہر ہوگئے ہوں یا جیسے اس ملک میں اللہ کا قانونِ جزاوسزا معطّل ہوگیاہو ، یہ کیفیت سخت ہلاکت آفرین ہے :

{ أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ، أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ  أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ} [الا ٔعراف: 97 - 99]

’’ بستیوں میں رہنے والوں کو کِس نے ضمانت دی ہے کہ ہمارا عذاب راتوں رات اُن پر نازل نہ ہوگا ، جب وہ بے خبر سو رہے ہوں گے ۔ کیا بستیوں میں رہنے والوں نے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لیا ہے کہ ہمارا عذاب دن دہاڑے اُن پر نازل نہ ہوگا ، جب وہ کھیل کُود میں لگے ہوں گے ۔ کیا اللہ کی چال سے وہ محفوظ ہو بیٹھے ہیں ؟ اللہ کی چال سے اپنے آپ کو وہی لوگ محفوظ سمجھتے ہیں، جو خائب وخاسر ہیں ‘‘۔



[1] روح المعانی ، ص 262، ج : 2

[2] صحیح البخاری : کتاب الجھاد،ص :443، ج : 1

[3] ابن الاثیر ، ج : 2

[4]ابن الاثیر ، ج : 2 ص: 27