بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الإثنين, 21 آب/أغسطس 2017 17:26

کیا جنت اور جہنم ابھی موجود ہیں؟

مولف/مصنف/مقرر  حافظ محمد یونس اثری

کیا جنت اور جہنم ابھی موجود ہیں؟

                                                                                                حافظ محمد یونس اثری[1]

جنت و جہنم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سےایک مخلوق ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کئے گئے اعمال کے نتائج میں جزا و سزا کے لئے پیدا کیا ہے۔ نیک لوگوں کے لئے جنت کو ٹھکانہ بنایااور برے لوگوں کے لئے جہنم کو بنایا۔مشرکین مکہ نے تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں ہی سرے سے عقیدہ آخرت کا انکار کیا اور کافر ٹھہرے۔ آج بھی ایسے مذاہب موجود ہیں جو سرے سے آخرت کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ یہ عقیدہ ان کی عقل سے ماوراء ہے۔ ویسے تو جنت و جہنم پر ایمان کے بعد مزید کچھ عقائد بھی ان سے متعلقہ ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بخوف طوالت ان عقائد میں سے ہم صرف ایک عقیدہ کا جائزہ لیتے ہیں۔جو جنت و جہنم کے وجود کے حوالے سے ہے۔

جنت و جہنم کے وجود کے حوالےسے دو طرح کے عقائد ہیں ۔ ایک عقیدہ معتزلہ کاہے۔ دوسرا عقیدہ سلف صالحین کا ہے۔

معتزلہ کا عقیدہ :

جنت و جہنم کے حوالے سے معتزلہ کا عقیدہ یہ ہےکہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں ہیں۔ بلکہ قیامت کے دن ہی انہیں پیدا کیا جائے گا۔ اس لئے کہ ابھی ان کا پیدا کرنا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ان کے رہنے والے تو قیامت کے دن کے بعد ہی ہوں گے۔

معتزلہ میں سے اس عقیدہ کے حوالے سے سب سے زیادہ جو شخص مشہور ہوا وہ ہشام بن عمرو الفوطی  (المتوفی۲۲۰ھ)ہے۔

ہشام بن عمرو الفوطی کا تعارف:

یہ تیسری صدی ہجری کا شخص ہے جس کا شمار معتزلہ کے رؤساء میں ہوتا ہے۔یہ کوفی تھا اور بنوشیبان کا مولی تھا۔ [2]

امام ذہبی رحمہ اللہ  اس کےبارے میں فرماتے ہیں:

’’ صاحب ذکاء وجدال وبدعۃ ووبال‘[3]

’’ بڑےحافظے والا، جدل کرنے والا، بدعتی اور وبال والا شخص تھا۔‘‘

حافظ ابن حجررحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

 "کان من اصحاب ابی الھذیل و کان داعیۃ الی الاعتزال"[4]

’’ ابو ہذیل کے اصحاب میں سے تھا اورمذہب ِاعتزال کا داعی تھا۔ ‘‘

امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں عون بن سلام کے ترجمہ میں تیسری صدی کے رؤساءِ معتزلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے چند ایک نام بتلائے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، جو نام ذکر کئے وہ یہ ہیں: بشر بن غياث المريسي العدوي مولی آل زيد بن الخطاب، ابو سہل بشر بن المعتمر الکوفي الابرص (کبار معتزلہ میں سے ہے اور معتزلی مصنفین میں سے ہے)، ابو معن ثمامۃ بن اشرس النميري البصري، ابو الہذ يل محمد بن الہذيل العلاف البصري، ابو اسحاق ابراہيم بن سيار البصري النظام، ہشام بن الحکم الکوفي الرافضي المجسم ،ضرار بن عمرو (جس کی طرف ضراریۃ فرقہ منسوب ہے)، ابو المعتمرمعمر بن عباد(بعض نے اس کا نام معمر بن عمرو البصري العطار بتایا ہے۔)،ہشام بن عمرو الفوطي، داود الجواربي ،وليد بن ابان الکرابيسي،ابن کيسان الاصم، وابو موسی الفراء البغدادي ،ابو موسی البصري جس کا لقب المردازہے، جعفر بن حرب ،جعفر بن مبشرو دیگر۔[5]

 بہرحال سابق الذکرامام ذہبی اور ابن حجررحمہماللہ کی ان عبارات سے ہشام بن عمرو الفوطی کے بارے میں کی گئی جرح سامنے آگئی۔

ہشام بن عمرو الفوطی کی طرف پھر ایک فرقہ بھی منسوب ہوا جس کا نام ہشامیہ ہے۔ جوکہ معتزلہ کے فرقوں میں شمار ہوتا ہے۔[6]

تنبیہ:  صاحب الوافی بالوفیات نے ہشامیہ نام کے تین فرقوں کی نشاندہی کی ہے، ایک ہشام بن الحکم الکوفي الرافضي کی طرف منسوب ہے، اور ایک  ہشام بن سالم الجواليقي کی طرف اور تیسرا ہشام بن عمرو الفوطي کی طرف منسوب ہے۔[7]

بہرحال اسی شخص نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں ،چنانچہ صاحب الملل والنحل لکھتے ہیں:

"من بدعہ أن الجنۃ والنار ليستا مخلوقتين الآن، إذ لا فائدۃ في وجودھما وھما جميعا خاليتان ممن ينتفع ويتضرر بہما. وبقيت ھذہ المسألۃ منہ اعتقادا للمعتزلۃ"[8]

’’اس کی بدعتوں میں سے ہے کہ (وہ کہتا تھا )جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں کی گئیں، کیونکہ ابھی ان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ دونوں خالی ہیں جن کو انہوں نے فائدہ یا نقصان پہنچانا ہے۔ ‘‘

صاحب الوافی بالوفیات فرماتے ہیں:

"رأس الہشاميۃ المعتزلۃ ھشام بن عمرو رأس الہشاميۃ وھو فرقۃ من المعتزلۃ کبيرھم ھذا ھشام الفوطي زاد علی أصحابہ المعتزلۃ ببدعۃ ابتدعہا منہا أنہ قال الجنۃ و النار ليستا مخلوقتين الآن ومنہ نشأ اعتقادا لمعتزلۃ المتأخرين في نفي خلق الجنۃ والنار ومن أصحابہ أبو بکر الأصم وافقہ في کل ذلک"  {[9]

 ہشام بن عمرو ہشامیہ فرقہ کاسربراہ تھا، اور یہ معتزلہ کا ایک فرقہ ہے، جس کا رئیس یہی تھا، اس نے اپنے معتزلیوں سے بڑھ کر ایک بدعت یہ بھی ایجاد کی کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئیں  اور متأخرین معتزلہ کا عقیدہ کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئیں اسی کا ایجاد کردہ ہےاور اس فوطی کے اصحاب میں سے ایک ابو بکر الاصم بھی ہے جس نے اس طرح کی ہر بدعت میں اس کی موافقت کی۔ ‘‘

علامہ اسفرائینی نے مزید یہاں تک لکھ دیاکہ یہ جنت و جہنم کے وجود کا اقرار کرنے والوں کی تکفیر بھی کیا کرتا تھاچنانچہ فرماتے ہیں :

"ومن فضائح الفوطي وبدعہ قولہ إن الجنۃ والنار ليستا بمخلوقتين الآن وإن کل من قال أنہما مخلوقتان الآن فھو کافر وھذا القول منہ زيادۃ علی ضلالۃ المعتزلۃ لأن المعتزلۃ لا يکفرون من قال بوجودھما وإن کانوا ينکرون وجودھما الآن"[10]

’’ فوطی کی برائیوںاور ایجاد کردہ بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ (وہ یہ کہتا تھا )جنت و جہنم کی ابھی تخلیق نہیں ہوئی ، اور جو بھی جنت و جہنم کی تخلیق اور اس کے ابھی موجود ہونے کا قائل ہے وہ کافر ہے۔ اس کا یہ قول گمراہی میں دیگر معتزلہ سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ دیگرمعتزلہ قائلینِ وجود جنت و جہنم کی تکفیر نہیں کرتے، اگرچہ وہ اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ‘‘

بہرحال یہ مؤقف تو معتزلہ کا ہے۔جدید دور میں اس کے مظاہر اس طور پر نظر آتے ہیںکہ بعض جدت پسند معتزلہ سے بھی چند ہاتھ آگے نکل گئے اورسرے سے جنت و جہنم کےوجود کا ہی انکار کردیا۔ جس طرح عام معتزلہ سے ایک قدم آگے ہشام بن عمرو الفوطی تھا جو قائلین وجود جنت و جہنم کی تکفیر کرتا تھا، اب اس سے بھی ایک قدم آگے جدید معتزلہ کا گروہ ہے جو سرے سے جنت و جہنم کا انکار کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔

سرسید احمد خان کا عقیدہ

سرسید نے بھی جنت و جہنم کے وجود کا سرے سے انکار کیا۔بلکہ جنت و جہنم کا سرے سے انکار

 کرنے والوں کو تربیت یافتہ دماغ اور اس کے وجود کے قائلین اور اس پر کما فی النصوص ایمان لانے والوں کو کوڑ مغز ملااور شہوت پرست زاہد قرار دیتے ہیں، جس کی تفصیل آئینہ پرویزیت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

پرویزیت کا عقیدہ:

سرسید ہی کی سوچ اور وہی نظریہ پرویز اور ان کے پیروکار افراد میں نظر آتا ہے۔ پرویز نے آخرت کا سرے سےانکار کیا اور من مانی تاویلات گھڑیںاور قرآن مجید میں تفسیر بالرائے کی ،جوکہ تحریفِ معنوی کے مترادف ہے۔اس کے نزدیک یوم القیامۃ سے مراد انقلابی دور ، حق و باطل کی آخری جنگ ہےاور جنت و جہنم کیفیات کا نام ہے۔

چنانچہ قیامت کے بارے میں لکھتا ہے:

’’یوم القیامۃسے مراد ہوگا وہ انقلابی دور جو قرآن کی رو سے سامنے آیا تھا۔‘‘ [11]

اپنی کتاب لغات القرآن میں سورہ طہ کی آیت نمبر 15[اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِيَۃٌ ]کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اس کا یقین رکھو کہ حق و باطل کی آخری کشمکش کا وقت اب آیا ہی چاہتا ہے۔ یہ آکر ہی رہے گا۔ ‘‘[12]

سورۃ الحجر کی آیت نمبر 85 [وَاِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِيَۃٌ ] کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’آخری انقلاب کا وقت آنے والا ہے۔ وہ ضرور آکر رہے گا۔ یہ مخالفین ضرور تباہ ہوکر رہیں گے۔‘‘[13]

جنت و جہنم کے بارے میں پرویز صاحب کا کیا نظریہ ہے؟ اس حوالے سے ایک جگہ اپنے باطل نظریہ کا اظہار کرتے ہوئے پرویزلکھتاہے:

’’مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں ہیں انسانی ذات کی کیفیات ہیں ، جن کی

  حقیقت ہم آج سمجھ نہیں سکتے۔‘‘[14]

پرویز نے اپنی کتاب جہانِ فردا میں عنوان قائم کیا ’’ جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے ‘‘[15]

اور پھر اگلے ہی عنوان ’’ جہنم کی تفاصیل ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے، لیکن قرآنِ کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ غیر محسوس، مجرد حقائق کو محسوس مثالوں سے سمجھاتا ہے۔‘‘ [16]

اور لفظ جنت کے لغوی مفہوم کو بیان کرنے کے بعد اپنے عقلانی گھوڑے دوڑانا شروع کرتاہے اورجنت کے لفظ کو ایک تشبیہ اور استعارہ قرار دیتے ہوئے لکھتاہے: ’’ قرآن کریم نے اسی لئے کامیاب زندگی کو باغ (جنت) سے تشبیہ دی ہے۔اس سلسلہ میں قرآن کریم نے انسانی زندگی کے تین گوشوں یا تین مراحل کا ذکر کیا ہے،مرحلہ اوّل انسان کی اس زندگی سے متعلق ہے جب ہنوز اس کی تمدنی زندگی کاآغاز نہیں ہوا تھا ، اس وقت سامانِ رزق کی فراوانی تھی ، اور انسان’’ میری اور تیری‘‘ کی تمیز سے نا آشناتھا۔یہ وہ دور تھا جس میں انسانی لغت میں ’’ ملکیت‘‘کا لفظ نہیں آیا تھا ، تمتع (استعمال یا فائدہ اٹھانے) کا تصور تھا، قرآنِ کریم نے اسے ’’جنتِ آدم ‘‘ کے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد اس کی تمدنی زندگی شروع ہوئی تو انسانوں کے مفادات میں باہمی تصادم واقع ہوا جس سے پہلی زندگی کادور ختم ہوگیا ، اس کے لئے اسےخدا کی طرف سے (بوساطت حضرات انبیائےکرام ) راہنمائی دی گئی تاکہ یہ اپنی تمدنی زندگی کو بھی جنت ارضی بنالے، یہ جنت ارضی، قرآنی معاشرے کا دوسرا نام ہےجس میں نہ صرف سامانِ زیست کی فراوانی ہوگی بلکہ انسانی ذات کی نشونما بھی ہوتی چلی جائے گی ۔ موت کے بعد ، طبیعی زندگی کا ساز و سامان تو یہاں رہ جائے گا اور انسانی ذات آگے جائے گی ، جس ذات کی نشوونما ہو چکی ہوگی وہ زندگی کی بلند ارتقائی منزل میں داخل ہوجائے گی ، قرآن کریم نے اسے بھی جنت کی زندگی کہہ کر پکارا ہے۔ قرآن کریم میں’’ جنتِ آدم ‘‘ کا ذکر تو الگ آتا ہے ، لیکن اس کے بعد ، صحیح انسانی معاشرہ اور آخرت کی کامیاب زندگی (یعنی جنتِ ارضی اور جنتِ اخروی ) کا   ذکر مخلوط طور پر کیاگیا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ جن نعمائے جنت کی تفصیل قرآن میں آئی ہے ، جنتِ ارضی میں ان سے (وہی یا انہی جیسی کیفیت پیدا کرنے والی ) مادی اشیاء مراد ہیں، لیکن جنتِ اخروی کے سلسلہ میں ان کے مجازی معنی لینے چاہئیں۔یعنی سمجھنا یہ چاہئے کہ یہ ایک کیفیت کا نام ہے ، جس کا ہم ، اپنے شعور کی موجودہ سطح پراحساس و ادراک نہیں کرسکتے ، اس لئے اسے تشبیہات واستعارات کی زبان میں بیان کیا گیاہے۔ وہ زندگی ، اس دنیا کی سی مادی زندگی نہیں ہوگی، اس لئے اس سے متعلق تفاصیل کو مادی پیکروں میں نہیں دیکھنا چاہئے، انہیں کیفیات سمجھنا چاہئے۔ (جہنم کی طرح) اُخروی جنت بھی کسی مقام کا نام نہیں، کیفیت کا نام ہے۔ ‘‘[17]

مذکورہ بالا طویل اقتباس سے پرویزکے کئی ایک نظریات واضح  ہوتے ہیں۔

 جنت محض ایک تمثیل ہے اور یہ ایک کیفیت کا نام ہے۔

آدم علیہ السلام جس جنت میں تھے اور اخروی جنت دونوں علیحدہ چیزیں ہیں اور یہ کوئی جگہ نہیں بلکہ کیفیات ہیں۔

اس اقتباس میں یہ بھی واضح ہے کہ پرویز صاحب ارتقائی نظریہ کے بھی حامل تھے۔

پرویزصاحب اپنی کتاب نظام ربوبیت میں لکھتے ہیں:

’’جنت کی آسائشیں اور زیبائشیں وہاں کی فراوانیاں اور خوشحالیاں اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہوجاتی ہیں، مرنے کے بعد کی جنت کے سلسلہ میں ان کا بیان تمثیلی ہے۔ وہاں کی آسائشوں کی حقیقت کیاہوگی ، اسے ہم انسانی شعور کی موجودہ سطح پر نہیں سمجھ سکتے ۔ نہ ہی یہ چیز اس وقت ہمارے زیر نظر ہے۔ اس وقت ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن کی رُو سے جنتی زندگی ، آسائشوں اور خوش حالیوں کی زندگی ہے اور اس دنیا میں بھی حاصل ہوسکتی ہے اور اگلی دنیا میں بھی۔ ‘‘[18]

گویا کہ دنیا میں بھی یہ کیفیت حاصل ہوسکتی ہے۔

بہرحال معتزلہ کی فکر و سوچ کے لوگ اب بھی موجود ہیں جنہوں نےشرعی نصوص پر عقلانیت   کو فوقیت دے رکھی ہے۔ اب آئیے جانتے ہیں کہ ان باطل نظریات کے مد مقابل سلف صالحین کا مؤقف کیا ہے؟۔ اور ان کے ادلہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

جنت و جہنم کی تخلیق کے حوالے سے سلف صالحین کا مؤقف:

جنت و جہنم کی تخلیق ہوچکی ہے اور یہ اب موجود ہیں ۔البتہ اس کی تخلیق میں مزید اضافہ بھی ہوتا جائےگا۔

قرآن مجید سے دلائل :

پہلی دلیل: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی مقامات پر جنت و جہنم کی تخلیق کے حوالے سے ماضی کا صیغہ استعمال کیااورفعل ماضی(گزشتہ زمانے میں) کسی کام کے ہوجانے کو بیان کرتا ہے۔

جہنم کے حوالے سے فرمایا:

[فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ      اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ  ]

’’ اگر تم یہ (قرآن جیسی سورت کا چیلنج پورا) نہ کرسکے اور ہر گز تم نہیں کرسکتے تو پھر جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، جوکہ کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘[البقرۃ : 24]

ایک اور مقام پر فرمایا:

[وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ    ١٣١؁ۚ][آل عمران: 131]

’’ اس آگ سے ڈرو جو کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘

[اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا    21؀۽ لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ بًا    22؀ۙ] [النباء: 21 - 22]

’’جہنم یقینا ایک گھات ہے،جو سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔‘‘

جنت کے حوالے سے فرمایا:

[ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ    ١٣٣؁ۙ]

’’اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان متقین لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘ [آل عمران: 133]

 

ایک مقام پر فرمایا:

 [سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ] [الحديد: 21]

’’ تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کی وسعت آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘

دوسری دلیل:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے واقعہ معراج کا تذکرہ قرآن نے بیان کیا اور جنت کے وجود کا بھی اثبات کیا ۔

[وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی   13۝ۙ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی 14؀ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی   15؀ۭ ] [النجم: 13]

’’اور ایک مرتبہ اور بھی اس (نبی  صلی اللہ علیہ وسلم )نے اس (جبریل) کو ،سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، جس کے پاس یہی جنت الماوٰی ہے۔‘‘

تیسری دلیل: 

فرعونیوں کو قبر میں دئیے جانے والے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

[اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ] [المومن: 46]

’’وہ صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید کی ان تمام آیات اور اس مفہوم کی بکثرت آیات سے جنت و جہنم کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اور ان آیات کو اپنی عقل سے سمجھنے کی بجائےپیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی روشنی میںاور سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص اس اساس کو چھوڑ دے اور اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے گا،یقیناً یہ عقلانیت اسے بڑا جری بنادے گی اور وہ مسلّمہ عقائد کو بوجھ سمجھنے لگے گا۔ بہرحال قرآن مجید سے اس اہم عقیدے کے اثبات کے بعد اب آئیے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی   طرف رجوع کرتے ہیں ، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان سے جاری شدہ فرامین بھی اس حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

احادیث سے دلائل:

واضح رہے قرآن مجید کی طرح احادیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت بھی تشریعی ہے، جن لوگوں نے صرف قرآن کافی ہے کا نعرہ لگایا درحقیقت وہ ہوس پرست لوگ ہیں، اور قرآن کافی ہے کا نعرہ صرف دعوی کی حد تک ہے، اور حقیقت سے کوسوں دور ہے،اس آڑ میں صرف اپنی عقلانیت کو فروغ دے رہے ہیں اور مسلمانوں کے کئی ایک مسلمہ عقائد ان کی تشکیکات سے محفوظ نہ رہ پائے۔ اعاذنا اللہ منھم

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی حیثیت تشریعی ہے، خواہ عقائد ہوں یا فروعاتِ فقھیۃ، اسی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم اپنے مدعا کو پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث سے بھی ثابت کرتے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچہ کا جنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا تو میں نے عرض کیا:

’’ يا رسول اللہ، طوبی لہذا، عصفور من عصافير الجنۃ، لم يعمل السوء، ولم يدرکہ‘‘

اے اللہ کے رسول اس جنت کی چڑیوں میں سے چڑیا کے لئے خوشی ہو اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی گناہ کرنے کے زمانے تک پہنچا ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! اس کے علاوہ بھی کچھ ہوگا ۔

’’إن اللہ خلق للجنۃ أھلا، خلقھم لہا وھم في أصلاب آبائھم، وخلق للنار أھلا، خلقھم لہا وھم في أصلاب آبائھم‘‘

’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جنت کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤو اجداد کی پشتوں میں تھے اور بعض کو جہنم کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جہنم کے لئے کیا ہے،جبکہ وہ ابھی اپنے آباؤو اجداد کی پشتوں میں تھے۔‘‘[19]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  

 نے فرمایا کہ

’’ بينا أنا نائم رأيتني في الجنۃ، فإذا امرأۃ تتوضأ إلی جانب قصر فقلت: لمن ھذا القصر؟ فقالوا: لعمر بن الخطاب فذکرت غيرتہ فوليت مدبرا، فبکی عمر وقال: أعليک أغار يا رسول اللہ‘‘[20]

 ’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کی جانب میں وضو کرتی ہوئی ملی، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نےجواب دیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ   کا۔ مجھے عمر کی غیرت کا خیال آیا تو میں فوراً واپس آگیا (یہ سن کر) سیدنا عمررضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہنے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بھلا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں۔‘‘

 سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابراہیم (بن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  )کا انتقال ہوا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی،اور فرمایا:

’’إن لہ مرضعا في الجنۃ‘‘

 ’’جنت میں اس کو دودھ پلانے والی ہے۔‘[21]

 سیدنا مقدام بن معدیکرب  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’ للشھيد عند اللہ ست خصال: يغفر لہ في أول دفعۃ، ويری مقعدہ من الجنۃ، ويجار من عذاب القبر، ويأمن من الفزع الأکبر، ويوضع علی رأسہ تاج الوقار، الياقوتۃ منہا خير من الدنيا وما فيھا، ويزوج اثنتين وسبعين زوجۃ من الحور العين، ويشفع في سبعين من أقاربہ ‘‘[22]

 

  ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لئے چھ انعامات ہیں۔1 خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔ 2 جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔3  عذاب قبر سے محفوظ اور قیامت کے دن کی بھیانک وحشت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔4 اس کے سر پر ایسے یاقوت سے جڑا ہوا وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جو دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔ 5اس کی بڑی آنکھوں والی بہتّر حوروں سے شادی کر دی جاتی ہے ۔6  ستّر رشتہ داروں کے معاملہ میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’اشتکت النار إلی ربھا فقالت: رب أکل بعضي بعضا، فأذن لہا بنفسين: نفس في الشتاء ونفس في الصيف، فأشد ما تجدون من الحر، وأشد ما تجدون من الزمھرير۔‘‘[23]

’’دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ میرے ایک حصہ نے دوسرے حصہ کو کھالیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ،ایک سانس سردیوں میں ، دوسرا گرمیوں میں۔ لہذا تم جو گرمی اور سردی کی شدت دیکھتے ہو (وہ انہی سانسوں کا اثر ہے)۔‘‘

  سیدناابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ھذا حجر رمي بہ في النار منذ سبعين خريفا، فھو يھوي في النار الآن، حتی انتھی إلی قعرھا‘‘[24]

 ’’ یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا

 یہاں تک کہ وہ پتھر اب جہنم کی گہرائی تک پہنچا ہے۔‘‘

اسراء و معراج کے موقع پر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا جنت و جہنم کا مشاہدہ کرنا، چنانچہ سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  ایک طویل روایت میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیان کردہ یہ روئیداد بیان کرتے ہیں، اسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نےجنت کی سیر کا یوں تذکرہ کیا:

’’  ثم انطلق حتی أتی بي السدرۃ المنتہی، فغشيہا ألوان لا أدري ما ھي ، ثم أدخلت الجنۃ، فإذا فيہا جنابذ اللؤلؤ، وإذا ترابھا المسک‘‘[25]

ترجمہ: ’’ پھر جبرائیل چلے یہاں تک کہ مجھے سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔‘‘

 سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ   روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

’’ إن أحدکم إذا مات عرض عليہ مقعدہ بالغداۃ والعشي، إن کان من أھل الجنۃ فمن أھل الجنۃ، وإن کان من أھل النار فمن أھل النار، فيقال: ھذا مقعدک حتی يبعثک اللہ يوم القيامۃ‘[26]

’’ جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اٹھائے گا۔‘‘

قبر میں منکر و نکیر کے سوالات کے حوالے سے براء بن عازب  رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں یہ ہے کہ جب نیک شخص تینوں سوالات کے صحیح جوابات دے دے گا آسمان سے ایک آواز آئے گی:

 

’’ قد صدق عبدي، فأفرشوہ من الجنۃ، وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، وألبسوہ من الجنۃ " قال: ’’فيأتيہ من روحھا وطيبھا‘‘

’’میرے بندے نےسچ کہا ،اسے جنتی بچھونا دے دو اور جنت کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو اور جنتی لباس پہنا دو۔ اسے جنت کی ہوا اور خوشبو محسوس ہوتی رہے گی۔ اور کافر سے بھی یہی سوالات کئے جائیں گے اور وہ ان سوالات کے جوابات نہ دے پائے گا ،تو آسمان سے آواز آئے گی:

 ’’کذب، فأفرشوہ من النار، وألبسوہ من النار، وافتحوا لہ بابا إلی النار " قال:فيأتيہ من حرھا وسمومھا‘‘

’’اس نےجھوٹ بولا، اسے جہنمی بچھونا دے دو ،جہنمی لباس پہنا دو اور جہنم کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو۔ اسے جہنم کی گرمی اور شدت محسوس ہوتی رہے گی۔[27]

سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں ایک سورج گرہن کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک واقعہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اس دوران نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ایک دفعہ اپنی جگہ سےپیچھے ہٹے اور ایک دفعہ اپنی جگہ سے آگے بڑھے، لوگوں نے اس حوالے سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز لے رہے تھے، اور پھر آپ کو  پیچھے ہٹتے ہوئے بھی دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

 ’’ إني رأيت الجنۃ، فتناولت عنقودا، ولو أصبتہ لأکلتم منہ ما بقيت الدنيا، وأريت النار، فلم أر منظرا کاليوم قط أفظع، ورأيت أکثر أھلھا النساء‘[28]

’’میں نے جنت کو دیکھا، تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اگر میں اسے پا لیتا تو تم اس سے

  اس وقت تک کھاتے جب تک دنیا قائم ہے اور مجھے جہنم دکھلائی گئی کہ آج کی طرح کا منظر میں نے کبھی نہ دیکھا تھا اور جہنم میں زیادہ عورتوں کو دیکھا۔‘‘پھر لوگوں نے جب جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب پوچھا تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے وجہ بھی بتلائی کہ وہ اپنے شوہروں کی نافرمانی اور ناشکری کرتی ہیں۔ ‘‘ ملخصاً

  سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’عرضت علي الجنۃ والنار، فلم أر کاليوم في الخير والشر، ولو تعلمون ما أعلم لضحکتم قليلا ولبکيتم کثيرا‘‘[29]

’’میرے سامنے جنت اورجہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے آج کے دن کی طرح کوئی خیر اور کوئی شر کبھی نہیں دیکھی اور اگر تم بھی وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم لوگ کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔‘‘

حدیث کے الفاظ ہیں کہ پھر صحابہ کرام یہ سنتے ہی اپنے سروں کو جھکا کررونا شروع ہوگئے ۔

سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

انما نسمۃ المؤمن طائر في شجر الجنۃ حتی يبعثہ اللہ عز وجل إلی جسدہ يوم القيامۃ‘‘[30]

’’ مومن کی روح جنت کے درختوں پر پرواز کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اس کے جسم کی طرف بھیج دے گا۔‘‘

جامع ترمذی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’إن أرواح الشھداء في طير خضر تعلق من ثمر الجنۃ أو شجر الجنۃ[31]

’’شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے اندر ہیں جو جنت کے پھلوں یا درختوںمیں سے کھاتی پھرتی ہیں۔‘‘

اس روایت سے روح کا جنت میں قیامت کے دن سے پہلے ہی داخل ہونا ثابت ہوجاتا ہے،  جس سے یہ اعتراض باطل ہوجاتا ہے کہ ابھی اس کی تخلیق عبث ہے۔

بہرحال یہ تمام احادیث اس مفہوم کوبالکل وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں ، کہ جنت و جہنم کا ابھی وجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تمثیلی کیفیت نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ لہذا جنت پیدا ہوچکی ہے اور اس کا ابھی وجود ہے۔ البتہ سلف صالحین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اس کی تخلیق میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا بلکہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہوجانے کے بعد بھی اس کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ اضافے فرماتا رہے گا، جیسا کہ سبحان اللہ کہنے سے اللہ تعالیٰ ایک درخت جنت میں لگادیتاہے۔

سلف صالحین کے اقوال:

جنت وہ جہنم کی تخلیق اور موجود ہونے کے حوالے سے ذیل میں ہم سلف میں چند ایک کے اقوال بھی پیش کردیتے ہیں ، تاکہ سلف صالحین اور فِرق باطلہ کے مابین فرق مزید واضح ہوجائے۔

امام بخاری  رحمہ اللہ  نے جنت کی تخلیق کے حوالے سے باب قائم کیا ۔’’باب ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ‘‘ اور اس کے تحت متعدد آیات اور 17 کے قریب احادیث لائے، جن سے اس مسئلہ کو ثابت کیا۔ اور جہنم کے بارے میں بھی علیحدہ سےباب قائم کیا: ’’باب صفۃ النار، وأنھا مخلوقۃ‘‘اور اس باب کے تحت متعدد آیات اور دس کے قریب احادیث پیش کیں۔

اس حوالے سے علامہ ھبۃ اللہ اللالکائی   رحمہ اللہ   اصول الاعتقاد میں جنت و جہنم کی تخلیق سے متعلق احادیث پیش کرتے ہوئے جو عنوان سجاتے ہیں وہ یہ ہے : ’’سياق ما روي عن النبي صلی اللہ عليہ وسلم في أن الجنۃ والنار مخلوقتان‘‘ ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے مروی احادیث کا بیان اس بارے میں کہ جنت و جہنم مخلوق ہیں۔ ‘‘

امام طحاوی  رحمہ اللہ عقیدہ طحاویہ میں فرماتےہیں :’’والجنۃ والنار مخلوقتان‘ ’’جنت و جہنم مخلوق ہیں۔‘‘

اس کی شرح میں علامہ ابن ابی العز الحنفی رحمہ اللہ   نے اس مؤقف کے بارے میں کہا ہے کہ اس پر سلف کا اتفاق ہے۔ 

 علامہ اسفرائینی رحمہ اللہ   التبصیر فی الدین میں اس باطل فکر کے لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرماتےہیں:

 

 ’’وکل من أنکر کون النار مخلوقۃ يقال لہ يوم القيامۃ ما اخبر اللہ عنہ وھو قولہ

{اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ    29؀ۚ} [المرسلات: 29]‘‘

’’اور جس نے بھی جہنم کے مخلوق ہونے کا انکار کیا ہے اسے قیامت کے دن کہا جائے گا : چلو اسی جہنم کی طرف جس کو جھٹلاتے تھے۔ ‘‘

امام ابو نعیم الاصبہانی   رحمہ اللہ  کی مستقل کتاب صفۃ الجنۃ ہے، جس میں انہوں نے جنت کے مخلوق ہونے کے حوالے سے تبویب قائم کی۔

امام بیہقی  رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب البعث والنشور میں جنت کے ابھی پیدا اور موجود ہونے کے حوالے سے ابواب قائم کئے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  صحیح بخاری کے  باب’’ ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنہا مخلوقۃ‘‘ کی شرح کے تحت فرماتے ہیں: ’’یعنی ابھی موجود ہے، اور اس تبویب میں معتزلہ کا رد ہے۔‘‘[32]

یہی بات علامہ عینی  رحمہ اللہ  اسی باب کی شرح کے تحت فرماتے ہیں کہ جنت ابھی موجود ہے اور اس تبویب میں معتزلہ کا رد ہے۔[33]

 علامہ قسطلانی  رحمہ اللہ نے بھی اسی باب کی شرح کے تحت یہ فرمایا کہ جنت ابھی موجود ہے۔[34]

امام ابوداؤد رحمہ اللہ  اپنی سنن میں باب قائم کرتے ہیں :’’باب في خلق الجنۃ والنار‘‘’’باب ہے جنت و جہنم کی تخلیق کے بارے میں ‘‘ ۔

امام دارمی رحمہ اللہ  اپنی سنن میں باب قائم کرتے ہیں:’’ باب صفۃ الجنۃ وأھلھا وما أعد اللہ للصالحين فيہا‘‘ ’’ جنت اور اہل جنت کے اوصاف کے بارے میں باب اور اس بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے صالحین کے لئے تیار کررکھا ہے۔‘‘

امام ابن ابی شیبہ  رحمہ اللہ  اپنی مصنف میں باب قام کرتے ہیں : ’’ما ذکر في الجنۃ وما فيہا مما

  أعد لأھلہا‘‘ ’’ باب ہے جو کچھ مذکور ہے جنت کے بارے میں اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے تیار کررکھا ہے۔ ‘‘ اور اسی مفہوم کا باب جہنم کے لئے بھی قائم کیا۔’’ما ذکر فيما أعد لأھل النار وشدتہ‘‘ ’’ باب ہے جو کچھ مذکور ہے کہ اللہ نے جہنم میں اہل جہنم میں جو عذاب تیار کر رکھا ہے اور اس جہنم کی شدت کا بیان‘‘۔

بہرحال سلف صالحین کا مؤقف جنت و جہنم کے حوالے سے یہی ہے کہ یہ مخلوق و موجود ہیں، اس لحاظ سے قدیم معتزلہ کے مخالف یہ مؤقف ہے اور جدید معتزلہ سرسید ، پرویز وغیرہ جنہوں نے سرے سے انکار کرکے قرآنی آیات کی من مانی تاویل کرکے مجازی معنی مراد لیا یہ مؤقف بھی سلف صالحین کے برخلاف ہے۔ اور قدیم معتزلہ کے مؤقف سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ ائمہ سلف میں سے یہ معنی یا کوئی بھی ایسا معنی جو حقیقی معنی کے بجائے مجاز پر محمول کیا جائے ایسا ثابت نہیں ۔ لہذا دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عقیدہ بالآخرۃ کو سمجھنے اور سلف صالحین کے فہم کے مطابق اس پر کار بند رہنے اور نئی تشکیکات اور باطل افکار سے محفوظ رکھے ۔ آمین

اثباتِ جنت و جہنم کے عقیدہ کی حکمتیں:

شریعت اسلامیہ کا عطاکردہ یہ عقیدہ عبث نہیں بلکہ اس کے کئی ایک فوائد ہیں، جنہیں شریعت نے ملحوظ رکھا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنیٰ بھی نہیں کہ شریعت نے یہ بس ترغیب و ترہیب کے لئے رکھی ہیں اور حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں اگر کو ئی اس قسم کی تعبیر کرتا ہے تو یہ ایک بہت بڑا افتراء اور شریعت اسلامیہ کی تنقیص ہے گویا کہ ان کے زعم باطل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ دین جھوٹے وعدے اور تسلیاں دیتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے باطل افکار سےخود کو بچاکر سلف صالحین والے عقیدہ کو ہی اپنانا چاہئے کہ جنت و جہنم مخلوق ہے اور پیدا ہوچکی ہیں اور ابھی موجود ہیں، اور یہ کوئی تمثیلی چیزیں نہیں بلکہ یہ حقیقت ہیں ، جن پر کامل یقین کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ اور یہ صحیح ایمان ہی دنیا کی فراوانیوں سے دور کرکے حقیقی مقصد کی طرف توجہ بڑھاتا ہے۔ اور عقیدہ بالآخرۃ کے مقاصد میں سے یہ بھی حکمت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جنت و جہنم کو ترغیب و ترہیب کے لئے بنایا ہے۔

 

جنت کی تخلیق میں حکمت :

جنت کی تخلیق میں کئی ایک حکمتیں اور مقاصد پوشیدہ ہیں، جہاں جنت اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے نیکوکار لوگوں کو ان کی محنتوں اور جہود کا اچھا سلسلہ ملے ، وہیں اس کے حوالے کامل ایمان سے انسان میں نیکیوں کا شوق بڑھتا ہے، اور انسان سبیل مستقیم پر گامزن ہوتا ہے اور یہ جنت کی حکمتوں میں سے اہم ترین حکمت ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بیش بہا نصوص نیکیوں کی ترغیب دلاتے ہوئے بطور تشویق جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

[ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ    ١٣٣؁ۙ]

’’اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ متقین لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’موضع سوط فی الجنۃ خیر من الدنیا وما فیھا ‘‘[35]

 ’’ جنت میں ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔‘‘

جہنم کی تخلیق ، حکمت:

جس طرح اثبات ِجنت کا عقیدہ عبث نہیں، اسی طرح جہنم بھی کافر اور گناہ گار لوگوں کے لئے عذاب کی جگہ بھی ہے۔اور اس پر کامل ایمان میں ایک اہم ترین حکمت جو پنہاں ہے وہ یہی ہے کہ اس کے ذریعے سے کافر اور گناہ گار لوگوں کوڈرایا گیا ہے، تاکہ وہ اس کے عذاب اور گناہوں کے حوالے سے مذکور وعیدوں سے ڈر کر گناہوں کی دلدل سے باہر آئیں ، اور دنیا میں نیکیوں سے مشغول ہوکر اپنی اخروی زندگی کو بھی سنوار لیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجیدنے حکم دیا :

[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِيْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗیِٕکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ     Č۝][التحریم :6]

 

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنےگھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ اس پر تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں ۔ اللہ انہیں جو حکم دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

قرآن مجید جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو حکم دیا گیا کہ :

[وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَکَ الْاَقْرَبِيْنَ     ٢١٤؀ۙ ] [الشعراء : 214]

اس آیت کے نزول کے بعد نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش کے لوگوں کو بلایا اور ان کے ہر ہر قبیلے کو مخاطب کرکے فرمانےلگے: ’’ اے قریش کی جماعت! تم اپنی جانوں کو بچاؤ، میں اللہ کے عذاب سے تمہیں کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا اور اے صفیہ! (رسول اللہ کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کیسے بچا سکتا ہوں اور اے فاطمہ بنت محمد! تم مجھے سے میرا مال جس قدر چاہو لے لو، مگر میں اللہ کے عذاب سے تمہیں نہیں بچا سکوں گا۔‘‘{[36]

 ان نصوص اور اس مفہوم کی بے شمار آیات و احادیث میں واضح ہے کہ جہنم کے بارے میں یہ بیانات انذار کے لئے ہیں، تاکہ انسان ان گناہوں اور معاصیات سے محفوظ رہے جو اسے جہنم میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ، اور ان حسنات کو بجالائے جو اسے جنت کی نعمتوں کا وارث بنادیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کا خوف کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دے اور اس کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھے،اور جنت کا شوق کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دےاور جنت کی نعمتوں کا مستحق بنادے۔ آمین

 

 

 

 



[1]  مدرس المعہد السلفی کراچی

[2] سیر اعلام النبلاء:10/547،طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[3] سیر اعلام النبلاء : 10/547، طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[4]  لسان المیزان :7/268، طبع احیاء التراث

[5] سیر اعلام النبلاء : 10/442،طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[6]  دیکھئے: الاعتصام : 2/719، طبع دار ابن القیم ،  الملل والنحل: 48 طبع دار ابن حزم

[7] لوافی بالوفیات جلد نمبر 26 صفحہ 57 ابن محمد ، جلد نمبر 27 صفحہ 203

[8] الملل والنحل :  48دار ابن حزم

[9] الوافی بالوفیات جلد26 صفحہ68

[10] التبصير في الدين وتمييز الفرقة الناجية عن الفرق الهالكين للاسفرائینی

[11] جہانِ فردا:ص 133

[12] لغات القرآن، 1/919

[13]  ایضاً

[14]  لغات القرآن:1/449، مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام لاہور

[15] دیکھئے جہانِ فردا: صفحہ 231

[16] جہانِ فردا: ص 235

[17]  جہان فردا: 269، 270

[18] نظامِ ربوبیت:82

[19]  صحیح مسلم : 2662، سنن ابی داؤد: 4713، سنن النسائی : 1947، سنن ابن ماجۃ: 82

[20]  صحیح بخاری: 3242، کتاب بدء الخلق ،باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة ، سنن ابن ماجۃ: 107، صحیح ابن حبان 54

[21] صحیح بخاری: 3255، کتاب بدء الخلق ،باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة۔

[22] جامع ترمذی :1663،علامہ الالبانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

[23] صحیح بخاری: 3260،کتاب بدء الخلق ،باب صفة النار، وأنها مخلوقة۔صحیح مسلم:617،کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ۔

[24] صحیح مسلم: 2844، صحیح ابن حبان: 7469، مسند ابی یعلی: 6179، نیز دیکھئے : سلسلۃ الصحیحۃ : حدیث نمبر 1612 اور 2165

[25] صحیح بخاری: 3342، صحیح مسلم : 1633

[26]  صحیح بخاری: 1379، کتاب الجنائز ، باب الميت يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي، صحیح مسلم :2866

[27] سنن ابی داؤد : 4753، کتاب السنۃ، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر،وصححہ  الالبانی علامہ الالبانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[28] صحیح بخاری: 1052، صحیح مسلم : 907

[29]  صحیح مسلم : 2359

[30] سنن نسائی: 2073، سنن ابن ماجۃ : 4271و صححہ الالبانی رحمہ اللہ

[31] جامع ترمذی: 1641، وقال ھذا حدیث حسن صحیح ، و صححہ الالبانی رحمہ اللہ

[32] فتح الباری

[33] عمدۃ القاری

[34] ارشاد الساری

[35] صحیح بخاری: 3250

[36] صحیح بخاری: 2753، صحیح مسلم : 208

ملاحظہ کیا گیا 180 بار
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

کیا جنت اور جہنم ابھی موجود ہیں؟

                                                                                                حافظ محمد یونس اثری[1]

جنت و جہنم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سےایک مخلوق ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کئے گئے اعمال کے نتائج میں جزا و سزا کے لئے پیدا کیا ہے۔ نیک لوگوں کے لئے جنت کو ٹھکانہ بنایااور برے لوگوں کے لئے جہنم کو بنایا۔مشرکین مکہ نے تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں ہی سرے سے عقیدہ آخرت کا انکار کیا اور کافر ٹھہرے۔ آج بھی ایسے مذاہب موجود ہیں جو سرے سے آخرت کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ یہ عقیدہ ان کی عقل سے ماوراء ہے۔ ویسے تو جنت و جہنم پر ایمان کے بعد مزید کچھ عقائد بھی ان سے متعلقہ ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بخوف طوالت ان عقائد میں سے ہم صرف ایک عقیدہ کا جائزہ لیتے ہیں۔جو جنت و جہنم کے وجود کے حوالے سے ہے۔

جنت و جہنم کے وجود کے حوالےسے دو طرح کے عقائد ہیں ۔ ایک عقیدہ معتزلہ کاہے۔ دوسرا عقیدہ سلف صالحین کا ہے۔

معتزلہ کا عقیدہ :

جنت و جہنم کے حوالے سے معتزلہ کا عقیدہ یہ ہےکہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں ہیں۔ بلکہ قیامت کے دن ہی انہیں پیدا کیا جائے گا۔ اس لئے کہ ابھی ان کا پیدا کرنا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ان کے رہنے والے تو قیامت کے دن کے بعد ہی ہوں گے۔

معتزلہ میں سے اس عقیدہ کے حوالے سے سب سے زیادہ جو شخص مشہور ہوا وہ ہشام بن عمرو الفوطی  (المتوفی۲۲۰ھ)ہے۔

ہشام بن عمرو الفوطی کا تعارف:

یہ تیسری صدی ہجری کا شخص ہے جس کا شمار معتزلہ کے رؤساء میں ہوتا ہے۔یہ کوفی تھا اور بنوشیبان کا مولی تھا۔ [2]

امام ذہبی رحمہ اللہ  اس کےبارے میں فرماتے ہیں:

’’ صاحب ذکاء وجدال وبدعۃ ووبال‘[3]

’’ بڑےحافظے والا، جدل کرنے والا، بدعتی اور وبال والا شخص تھا۔‘‘

حافظ ابن حجررحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

 "کان من اصحاب ابی الھذیل و کان داعیۃ الی الاعتزال"[4]

’’ ابو ہذیل کے اصحاب میں سے تھا اورمذہب ِاعتزال کا داعی تھا۔ ‘‘

امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں عون بن سلام کے ترجمہ میں تیسری صدی کے رؤساءِ معتزلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے چند ایک نام بتلائے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، جو نام ذکر کئے وہ یہ ہیں: بشر بن غياث المريسي العدوي مولی آل زيد بن الخطاب، ابو سہل بشر بن المعتمر الکوفي الابرص (کبار معتزلہ میں سے ہے اور معتزلی مصنفین میں سے ہے)، ابو معن ثمامۃ بن اشرس النميري البصري، ابو الہذ يل محمد بن الہذيل العلاف البصري، ابو اسحاق ابراہيم بن سيار البصري النظام، ہشام بن الحکم الکوفي الرافضي المجسم ،ضرار بن عمرو (جس کی طرف ضراریۃ فرقہ منسوب ہے)، ابو المعتمرمعمر بن عباد(بعض نے اس کا نام معمر بن عمرو البصري العطار بتایا ہے۔)،ہشام بن عمرو الفوطي، داود الجواربي ،وليد بن ابان الکرابيسي،ابن کيسان الاصم، وابو موسی الفراء البغدادي ،ابو موسی البصري جس کا لقب المردازہے، جعفر بن حرب ،جعفر بن مبشرو دیگر۔[5]

 بہرحال سابق الذکرامام ذہبی اور ابن حجررحمہماللہ کی ان عبارات سے ہشام بن عمرو الفوطی کے بارے میں کی گئی جرح سامنے آگئی۔

ہشام بن عمرو الفوطی کی طرف پھر ایک فرقہ بھی منسوب ہوا جس کا نام ہشامیہ ہے۔ جوکہ معتزلہ کے فرقوں میں شمار ہوتا ہے۔[6]

تنبیہ:  صاحب الوافی بالوفیات نے ہشامیہ نام کے تین فرقوں کی نشاندہی کی ہے، ایک ہشام بن الحکم الکوفي الرافضي کی طرف منسوب ہے، اور ایک  ہشام بن سالم الجواليقي کی طرف اور تیسرا ہشام بن عمرو الفوطي کی طرف منسوب ہے۔[7]

بہرحال اسی شخص نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں ،چنانچہ صاحب الملل والنحل لکھتے ہیں:

"من بدعہ أن الجنۃ والنار ليستا مخلوقتين الآن، إذ لا فائدۃ في وجودھما وھما جميعا خاليتان ممن ينتفع ويتضرر بہما. وبقيت ھذہ المسألۃ منہ اعتقادا للمعتزلۃ"[8]

’’اس کی بدعتوں میں سے ہے کہ (وہ کہتا تھا )جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں کی گئیں، کیونکہ ابھی ان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ دونوں خالی ہیں جن کو انہوں نے فائدہ یا نقصان پہنچانا ہے۔ ‘‘

صاحب الوافی بالوفیات فرماتے ہیں:

"رأس الہشاميۃ المعتزلۃ ھشام بن عمرو رأس الہشاميۃ وھو فرقۃ من المعتزلۃ کبيرھم ھذا ھشام الفوطي زاد علی أصحابہ المعتزلۃ ببدعۃ ابتدعہا منہا أنہ قال الجنۃ و النار ليستا مخلوقتين الآن ومنہ نشأ اعتقادا لمعتزلۃ المتأخرين في نفي خلق الجنۃ والنار ومن أصحابہ أبو بکر الأصم وافقہ في کل ذلک"  {[9]

 ہشام بن عمرو ہشامیہ فرقہ کاسربراہ تھا، اور یہ معتزلہ کا ایک فرقہ ہے، جس کا رئیس یہی تھا، اس نے اپنے معتزلیوں سے بڑھ کر ایک بدعت یہ بھی ایجاد کی کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئیں  اور متأخرین معتزلہ کا عقیدہ کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئیں اسی کا ایجاد کردہ ہےاور اس فوطی کے اصحاب میں سے ایک ابو بکر الاصم بھی ہے جس نے اس طرح کی ہر بدعت میں اس کی موافقت کی۔ ‘‘

علامہ اسفرائینی نے مزید یہاں تک لکھ دیاکہ یہ جنت و جہنم کے وجود کا اقرار کرنے والوں کی تکفیر بھی کیا کرتا تھاچنانچہ فرماتے ہیں :

"ومن فضائح الفوطي وبدعہ قولہ إن الجنۃ والنار ليستا بمخلوقتين الآن وإن کل من قال أنہما مخلوقتان الآن فھو کافر وھذا القول منہ زيادۃ علی ضلالۃ المعتزلۃ لأن المعتزلۃ لا يکفرون من قال بوجودھما وإن کانوا ينکرون وجودھما الآن"[10]

’’ فوطی کی برائیوںاور ایجاد کردہ بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ (وہ یہ کہتا تھا )جنت و جہنم کی ابھی تخلیق نہیں ہوئی ، اور جو بھی جنت و جہنم کی تخلیق اور اس کے ابھی موجود ہونے کا قائل ہے وہ کافر ہے۔ اس کا یہ قول گمراہی میں دیگر معتزلہ سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ دیگرمعتزلہ قائلینِ وجود جنت و جہنم کی تکفیر نہیں کرتے، اگرچہ وہ اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ‘‘

بہرحال یہ مؤقف تو معتزلہ کا ہے۔جدید دور میں اس کے مظاہر اس طور پر نظر آتے ہیںکہ بعض جدت پسند معتزلہ سے بھی چند ہاتھ آگے نکل گئے اورسرے سے جنت و جہنم کےوجود کا ہی انکار کردیا۔ جس طرح عام معتزلہ سے ایک قدم آگے ہشام بن عمرو الفوطی تھا جو قائلین وجود جنت و جہنم کی تکفیر کرتا تھا، اب اس سے بھی ایک قدم آگے جدید معتزلہ کا گروہ ہے جو سرے سے جنت و جہنم کا انکار کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔

سرسید احمد خان کا عقیدہ

سرسید نے بھی جنت و جہنم کے وجود کا سرے سے انکار کیا۔بلکہ جنت و جہنم کا سرے سے انکار

 کرنے والوں کو تربیت یافتہ دماغ اور اس کے وجود کے قائلین اور اس پر کما فی النصوص ایمان لانے والوں کو کوڑ مغز ملااور شہوت پرست زاہد قرار دیتے ہیں، جس کی تفصیل آئینہ پرویزیت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

پرویزیت کا عقیدہ:

سرسید ہی کی سوچ اور وہی نظریہ پرویز اور ان کے پیروکار افراد میں نظر آتا ہے۔ پرویز نے آخرت کا سرے سےانکار کیا اور من مانی تاویلات گھڑیںاور قرآن مجید میں تفسیر بالرائے کی ،جوکہ تحریفِ معنوی کے مترادف ہے۔اس کے نزدیک یوم القیامۃ سے مراد انقلابی دور ، حق و باطل کی آخری جنگ ہےاور جنت و جہنم کیفیات کا نام ہے۔

چنانچہ قیامت کے بارے میں لکھتا ہے:

’’یوم القیامۃسے مراد ہوگا وہ انقلابی دور جو قرآن کی رو سے سامنے آیا تھا۔‘‘ [11]

اپنی کتاب لغات القرآن میں سورہ طہ کی آیت نمبر 15[اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِيَۃٌ ]کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اس کا یقین رکھو کہ حق و باطل کی آخری کشمکش کا وقت اب آیا ہی چاہتا ہے۔ یہ آکر ہی رہے گا۔ ‘‘[12]

سورۃ الحجر کی آیت نمبر 85 [وَاِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِيَۃٌ ] کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’آخری انقلاب کا وقت آنے والا ہے۔ وہ ضرور آکر رہے گا۔ یہ مخالفین ضرور تباہ ہوکر رہیں گے۔‘‘[13]

جنت و جہنم کے بارے میں پرویز صاحب کا کیا نظریہ ہے؟ اس حوالے سے ایک جگہ اپنے باطل نظریہ کا اظہار کرتے ہوئے پرویزلکھتاہے:

’’مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں ہیں انسانی ذات کی کیفیات ہیں ، جن کی

  حقیقت ہم آج سمجھ نہیں سکتے۔‘‘[14]

پرویز نے اپنی کتاب جہانِ فردا میں عنوان قائم کیا ’’ جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے ‘‘[15]

اور پھر اگلے ہی عنوان ’’ جہنم کی تفاصیل ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے، لیکن قرآنِ کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ غیر محسوس، مجرد حقائق کو محسوس مثالوں سے سمجھاتا ہے۔‘‘ [16]

اور لفظ جنت کے لغوی مفہوم کو بیان کرنے کے بعد اپنے عقلانی گھوڑے دوڑانا شروع کرتاہے اورجنت کے لفظ کو ایک تشبیہ اور استعارہ قرار دیتے ہوئے لکھتاہے: ’’ قرآن کریم نے اسی لئے کامیاب زندگی کو باغ (جنت) سے تشبیہ دی ہے۔اس سلسلہ میں قرآن کریم نے انسانی زندگی کے تین گوشوں یا تین مراحل کا ذکر کیا ہے،مرحلہ اوّل انسان کی اس زندگی سے متعلق ہے جب ہنوز اس کی تمدنی زندگی کاآغاز نہیں ہوا تھا ، اس وقت سامانِ رزق کی فراوانی تھی ، اور انسان’’ میری اور تیری‘‘ کی تمیز سے نا آشناتھا۔یہ وہ دور تھا جس میں انسانی لغت میں ’’ ملکیت‘‘کا لفظ نہیں آیا تھا ، تمتع (استعمال یا فائدہ اٹھانے) کا تصور تھا، قرآنِ کریم نے اسے ’’جنتِ آدم ‘‘ کے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد اس کی تمدنی زندگی شروع ہوئی تو انسانوں کے مفادات میں باہمی تصادم واقع ہوا جس سے پہلی زندگی کادور ختم ہوگیا ، اس کے لئے اسےخدا کی طرف سے (بوساطت حضرات انبیائےکرام ) راہنمائی دی گئی تاکہ یہ اپنی تمدنی زندگی کو بھی جنت ارضی بنالے، یہ جنت ارضی، قرآنی معاشرے کا دوسرا نام ہےجس میں نہ صرف سامانِ زیست کی فراوانی ہوگی بلکہ انسانی ذات کی نشونما بھی ہوتی چلی جائے گی ۔ موت کے بعد ، طبیعی زندگی کا ساز و سامان تو یہاں رہ جائے گا اور انسانی ذات آگے جائے گی ، جس ذات کی نشوونما ہو چکی ہوگی وہ زندگی کی بلند ارتقائی منزل میں داخل ہوجائے گی ، قرآن کریم نے اسے بھی جنت کی زندگی کہہ کر پکارا ہے۔ قرآن کریم میں’’ جنتِ آدم ‘‘ کا ذکر تو الگ آتا ہے ، لیکن اس کے بعد ، صحیح انسانی معاشرہ اور آخرت کی کامیاب زندگی (یعنی جنتِ ارضی اور جنتِ اخروی ) کا   ذکر مخلوط طور پر کیاگیا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ جن نعمائے جنت کی تفصیل قرآن میں آئی ہے ، جنتِ ارضی میں ان سے (وہی یا انہی جیسی کیفیت پیدا کرنے والی ) مادی اشیاء مراد ہیں، لیکن جنتِ اخروی کے سلسلہ میں ان کے مجازی معنی لینے چاہئیں۔یعنی سمجھنا یہ چاہئے کہ یہ ایک کیفیت کا نام ہے ، جس کا ہم ، اپنے شعور کی موجودہ سطح پراحساس و ادراک نہیں کرسکتے ، اس لئے اسے تشبیہات واستعارات کی زبان میں بیان کیا گیاہے۔ وہ زندگی ، اس دنیا کی سی مادی زندگی نہیں ہوگی، اس لئے اس سے متعلق تفاصیل کو مادی پیکروں میں نہیں دیکھنا چاہئے، انہیں کیفیات سمجھنا چاہئے۔ (جہنم کی طرح) اُخروی جنت بھی کسی مقام کا نام نہیں، کیفیت کا نام ہے۔ ‘‘[17]

مذکورہ بالا طویل اقتباس سے پرویزکے کئی ایک نظریات واضح  ہوتے ہیں۔

 جنت محض ایک تمثیل ہے اور یہ ایک کیفیت کا نام ہے۔

آدم علیہ السلام جس جنت میں تھے اور اخروی جنت دونوں علیحدہ چیزیں ہیں اور یہ کوئی جگہ نہیں بلکہ کیفیات ہیں۔

اس اقتباس میں یہ بھی واضح ہے کہ پرویز صاحب ارتقائی نظریہ کے بھی حامل تھے۔

پرویزصاحب اپنی کتاب نظام ربوبیت میں لکھتے ہیں:

’’جنت کی آسائشیں اور زیبائشیں وہاں کی فراوانیاں اور خوشحالیاں اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہوجاتی ہیں، مرنے کے بعد کی جنت کے سلسلہ میں ان کا بیان تمثیلی ہے۔ وہاں کی آسائشوں کی حقیقت کیاہوگی ، اسے ہم انسانی شعور کی موجودہ سطح پر نہیں سمجھ سکتے ۔ نہ ہی یہ چیز اس وقت ہمارے زیر نظر ہے۔ اس وقت ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن کی رُو سے جنتی زندگی ، آسائشوں اور خوش حالیوں کی زندگی ہے اور اس دنیا میں بھی حاصل ہوسکتی ہے اور اگلی دنیا میں بھی۔ ‘‘[18]

گویا کہ دنیا میں بھی یہ کیفیت حاصل ہوسکتی ہے۔

بہرحال معتزلہ کی فکر و سوچ کے لوگ اب بھی موجود ہیں جنہوں نےشرعی نصوص پر عقلانیت   کو فوقیت دے رکھی ہے۔ اب آئیے جانتے ہیں کہ ان باطل نظریات کے مد مقابل سلف صالحین کا مؤقف کیا ہے؟۔ اور ان کے ادلہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

جنت و جہنم کی تخلیق کے حوالے سے سلف صالحین کا مؤقف:

جنت و جہنم کی تخلیق ہوچکی ہے اور یہ اب موجود ہیں ۔البتہ اس کی تخلیق میں مزید اضافہ بھی ہوتا جائےگا۔

قرآن مجید سے دلائل :

پہلی دلیل: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی مقامات پر جنت و جہنم کی تخلیق کے حوالے سے ماضی کا صیغہ استعمال کیااورفعل ماضی(گزشتہ زمانے میں) کسی کام کے ہوجانے کو بیان کرتا ہے۔

جہنم کے حوالے سے فرمایا:

[فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ      اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ  ]

’’ اگر تم یہ (قرآن جیسی سورت کا چیلنج پورا) نہ کرسکے اور ہر گز تم نہیں کرسکتے تو پھر جہنم کی آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، جوکہ کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘[البقرۃ : 24]

ایک اور مقام پر فرمایا:

[وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِيْنَ    ١٣١؁ۚ][آل عمران: 131]

’’ اس آگ سے ڈرو جو کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘

[اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا    21؀۽ لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰ بًا    22؀ۙ] [النباء: 21 - 22]

’’جہنم یقینا ایک گھات ہے،جو سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔‘‘

جنت کے حوالے سے فرمایا:

[ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ    ١٣٣؁ۙ]

’’اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان متقین لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘ [آل عمران: 133]

 

ایک مقام پر فرمایا:

 [سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ] [الحديد: 21]

’’ تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کی وسعت آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘

دوسری دلیل:

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے واقعہ معراج کا تذکرہ قرآن نے بیان کیا اور جنت کے وجود کا بھی اثبات کیا ۔

[وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی   13۝ۙ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی 14؀ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی   15؀ۭ ] [النجم: 13]

’’اور ایک مرتبہ اور بھی اس (نبی  صلی اللہ علیہ وسلم )نے اس (جبریل) کو ،سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، جس کے پاس یہی جنت الماوٰی ہے۔‘‘

تیسری دلیل: 

فرعونیوں کو قبر میں دئیے جانے والے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

[اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ] [المومن: 46]

’’وہ صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید کی ان تمام آیات اور اس مفہوم کی بکثرت آیات سے جنت و جہنم کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اور ان آیات کو اپنی عقل سے سمجھنے کی بجائےپیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی روشنی میںاور سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص اس اساس کو چھوڑ دے اور اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے گا،یقیناً یہ عقلانیت اسے بڑا جری بنادے گی اور وہ مسلّمہ عقائد کو بوجھ سمجھنے لگے گا۔ بہرحال قرآن مجید سے اس اہم عقیدے کے اثبات کے بعد اب آئیے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی   طرف رجوع کرتے ہیں ، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان سے جاری شدہ فرامین بھی اس حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

احادیث سے دلائل:

واضح رہے قرآن مجید کی طرح احادیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت بھی تشریعی ہے، جن لوگوں نے صرف قرآن کافی ہے کا نعرہ لگایا درحقیقت وہ ہوس پرست لوگ ہیں، اور قرآن کافی ہے کا نعرہ صرف دعوی کی حد تک ہے، اور حقیقت سے کوسوں دور ہے،اس آڑ میں صرف اپنی عقلانیت کو فروغ دے رہے ہیں اور مسلمانوں کے کئی ایک مسلمہ عقائد ان کی تشکیکات سے محفوظ نہ رہ پائے۔ اعاذنا اللہ منھم

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کی حیثیت تشریعی ہے، خواہ عقائد ہوں یا فروعاتِ فقھیۃ، اسی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم اپنے مدعا کو پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث سے بھی ثابت کرتے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچہ کا جنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا تو میں نے عرض کیا:

’’ يا رسول اللہ، طوبی لہذا، عصفور من عصافير الجنۃ، لم يعمل السوء، ولم يدرکہ‘‘

اے اللہ کے رسول اس جنت کی چڑیوں میں سے چڑیا کے لئے خوشی ہو اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی گناہ کرنے کے زمانے تک پہنچا ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! اس کے علاوہ بھی کچھ ہوگا ۔

’’إن اللہ خلق للجنۃ أھلا، خلقھم لہا وھم في أصلاب آبائھم، وخلق للنار أھلا، خلقھم لہا وھم في أصلاب آبائھم‘‘

’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جنت کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤو اجداد کی پشتوں میں تھے اور بعض کو جہنم کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جہنم کے لئے کیا ہے،جبکہ وہ ابھی اپنے آباؤو اجداد کی پشتوں میں تھے۔‘‘[19]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  

 نے فرمایا کہ

’’ بينا أنا نائم رأيتني في الجنۃ، فإذا امرأۃ تتوضأ إلی جانب قصر فقلت: لمن ھذا القصر؟ فقالوا: لعمر بن الخطاب فذکرت غيرتہ فوليت مدبرا، فبکی عمر وقال: أعليک أغار يا رسول اللہ‘‘[20]

 ’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کی جانب میں وضو کرتی ہوئی ملی، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نےجواب دیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ   کا۔ مجھے عمر کی غیرت کا خیال آیا تو میں فوراً واپس آگیا (یہ سن کر) سیدنا عمررضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہنے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بھلا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں۔‘‘

 سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابراہیم (بن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  )کا انتقال ہوا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی،اور فرمایا:

’’إن لہ مرضعا في الجنۃ‘‘

 ’’جنت میں اس کو دودھ پلانے والی ہے۔‘[21]

 سیدنا مقدام بن معدیکرب  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’ للشھيد عند اللہ ست خصال: يغفر لہ في أول دفعۃ، ويری مقعدہ من الجنۃ، ويجار من عذاب القبر، ويأمن من الفزع الأکبر، ويوضع علی رأسہ تاج الوقار، الياقوتۃ منہا خير من الدنيا وما فيھا، ويزوج اثنتين وسبعين زوجۃ من الحور العين، ويشفع في سبعين من أقاربہ ‘‘[22]

 

  ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لئے چھ انعامات ہیں۔1 خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔ 2 جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔3  عذاب قبر سے محفوظ اور قیامت کے دن کی بھیانک وحشت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔4 اس کے سر پر ایسے یاقوت سے جڑا ہوا وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جو دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔ 5اس کی بڑی آنکھوں والی بہتّر حوروں سے شادی کر دی جاتی ہے ۔6  ستّر رشتہ داروں کے معاملہ میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہےکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’اشتکت النار إلی ربھا فقالت: رب أکل بعضي بعضا، فأذن لہا بنفسين: نفس في الشتاء ونفس في الصيف، فأشد ما تجدون من الحر، وأشد ما تجدون من الزمھرير۔‘‘[23]

’’دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ میرے ایک حصہ نے دوسرے حصہ کو کھالیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ،ایک سانس سردیوں میں ، دوسرا گرمیوں میں۔ لہذا تم جو گرمی اور سردی کی شدت دیکھتے ہو (وہ انہی سانسوں کا اثر ہے)۔‘‘

  سیدناابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ھذا حجر رمي بہ في النار منذ سبعين خريفا، فھو يھوي في النار الآن، حتی انتھی إلی قعرھا‘‘[24]

 ’’ یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا

 یہاں تک کہ وہ پتھر اب جہنم کی گہرائی تک پہنچا ہے۔‘‘

اسراء و معراج کے موقع پر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا جنت و جہنم کا مشاہدہ کرنا، چنانچہ سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  ایک طویل روایت میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیان کردہ یہ روئیداد بیان کرتے ہیں، اسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نےجنت کی سیر کا یوں تذکرہ کیا:

’’  ثم انطلق حتی أتی بي السدرۃ المنتہی، فغشيہا ألوان لا أدري ما ھي ، ثم أدخلت الجنۃ، فإذا فيہا جنابذ اللؤلؤ، وإذا ترابھا المسک‘‘[25]

ترجمہ: ’’ پھر جبرائیل چلے یہاں تک کہ مجھے سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔‘‘

 سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ   روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

’’ إن أحدکم إذا مات عرض عليہ مقعدہ بالغداۃ والعشي، إن کان من أھل الجنۃ فمن أھل الجنۃ، وإن کان من أھل النار فمن أھل النار، فيقال: ھذا مقعدک حتی يبعثک اللہ يوم القيامۃ‘[26]

’’ جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اٹھائے گا۔‘‘

قبر میں منکر و نکیر کے سوالات کے حوالے سے براء بن عازب  رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں یہ ہے کہ جب نیک شخص تینوں سوالات کے صحیح جوابات دے دے گا آسمان سے ایک آواز آئے گی:

 

’’ قد صدق عبدي، فأفرشوہ من الجنۃ، وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، وألبسوہ من الجنۃ " قال: ’’فيأتيہ من روحھا وطيبھا‘‘

’’میرے بندے نےسچ کہا ،اسے جنتی بچھونا دے دو اور جنت کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو اور جنتی لباس پہنا دو۔ اسے جنت کی ہوا اور خوشبو محسوس ہوتی رہے گی۔ اور کافر سے بھی یہی سوالات کئے جائیں گے اور وہ ان سوالات کے جوابات نہ دے پائے گا ،تو آسمان سے آواز آئے گی:

 ’’کذب، فأفرشوہ من النار، وألبسوہ من النار، وافتحوا لہ بابا إلی النار " قال:فيأتيہ من حرھا وسمومھا‘‘

’’اس نےجھوٹ بولا، اسے جہنمی بچھونا دے دو ،جہنمی لباس پہنا دو اور جہنم کی جانب سے ایک دروازہ کھول دو۔ اسے جہنم کی گرمی اور شدت محسوس ہوتی رہے گی۔[27]

سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں ایک سورج گرہن کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک واقعہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اس دوران نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ایک دفعہ اپنی جگہ سےپیچھے ہٹے اور ایک دفعہ اپنی جگہ سے آگے بڑھے، لوگوں نے اس حوالے سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز لے رہے تھے، اور پھر آپ کو  پیچھے ہٹتے ہوئے بھی دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

 ’’ إني رأيت الجنۃ، فتناولت عنقودا، ولو أصبتہ لأکلتم منہ ما بقيت الدنيا، وأريت النار، فلم أر منظرا کاليوم قط أفظع، ورأيت أکثر أھلھا النساء‘[28]

’’میں نے جنت کو دیکھا، تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اگر میں اسے پا لیتا تو تم اس سے

  اس وقت تک کھاتے جب تک دنیا قائم ہے اور مجھے جہنم دکھلائی گئی کہ آج کی طرح کا منظر میں نے کبھی نہ دیکھا تھا اور جہنم میں زیادہ عورتوں کو دیکھا۔‘‘پھر لوگوں نے جب جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب پوچھا تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے وجہ بھی بتلائی کہ وہ اپنے شوہروں کی نافرمانی اور ناشکری کرتی ہیں۔ ‘‘ ملخصاً

  سیدنا انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’عرضت علي الجنۃ والنار، فلم أر کاليوم في الخير والشر، ولو تعلمون ما أعلم لضحکتم قليلا ولبکيتم کثيرا‘‘[29]

’’میرے سامنے جنت اورجہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے آج کے دن کی طرح کوئی خیر اور کوئی شر کبھی نہیں دیکھی اور اگر تم بھی وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم لوگ کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔‘‘

حدیث کے الفاظ ہیں کہ پھر صحابہ کرام یہ سنتے ہی اپنے سروں کو جھکا کررونا شروع ہوگئے ۔

سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

انما نسمۃ المؤمن طائر في شجر الجنۃ حتی يبعثہ اللہ عز وجل إلی جسدہ يوم القيامۃ‘‘[30]

’’ مومن کی روح جنت کے درختوں پر پرواز کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اس کے جسم کی طرف بھیج دے گا۔‘‘

جامع ترمذی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’إن أرواح الشھداء في طير خضر تعلق من ثمر الجنۃ أو شجر الجنۃ[31]

’’شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے اندر ہیں جو جنت کے پھلوں یا درختوںمیں سے کھاتی پھرتی ہیں۔‘‘

اس روایت سے روح کا جنت میں قیامت کے دن سے پہلے ہی داخل ہونا ثابت ہوجاتا ہے،  جس سے یہ اعتراض باطل ہوجاتا ہے کہ ابھی اس کی تخلیق عبث ہے۔

بہرحال یہ تمام احادیث اس مفہوم کوبالکل وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں ، کہ جنت و جہنم کا ابھی وجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تمثیلی کیفیت نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ لہذا جنت پیدا ہوچکی ہے اور اس کا ابھی وجود ہے۔ البتہ سلف صالحین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اس کی تخلیق میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا بلکہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہوجانے کے بعد بھی اس کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ اضافے فرماتا رہے گا، جیسا کہ سبحان اللہ کہنے سے اللہ تعالیٰ ایک درخت جنت میں لگادیتاہے۔

سلف صالحین کے اقوال:

جنت وہ جہنم کی تخلیق اور موجود ہونے کے حوالے سے ذیل میں ہم سلف میں چند ایک کے اقوال بھی پیش کردیتے ہیں ، تاکہ سلف صالحین اور فِرق باطلہ کے مابین فرق مزید واضح ہوجائے۔

امام بخاری  رحمہ اللہ  نے جنت کی تخلیق کے حوالے سے باب قائم کیا ۔’’باب ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ‘‘ اور اس کے تحت متعدد آیات اور 17 کے قریب احادیث لائے، جن سے اس مسئلہ کو ثابت کیا۔ اور جہنم کے بارے میں بھی علیحدہ سےباب قائم کیا: ’’باب صفۃ النار، وأنھا مخلوقۃ‘‘اور اس باب کے تحت متعدد آیات اور دس کے قریب احادیث پیش کیں۔

اس حوالے سے علامہ ھبۃ اللہ اللالکائی   رحمہ اللہ   اصول الاعتقاد میں جنت و جہنم کی تخلیق سے متعلق احادیث پیش کرتے ہوئے جو عنوان سجاتے ہیں وہ یہ ہے : ’’سياق ما روي عن النبي صلی اللہ عليہ وسلم في أن الجنۃ والنار مخلوقتان‘‘ ’’نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے مروی احادیث کا بیان اس بارے میں کہ جنت و جہنم مخلوق ہیں۔ ‘‘

امام طحاوی  رحمہ اللہ عقیدہ طحاویہ میں فرماتےہیں :’’والجنۃ والنار مخلوقتان‘ ’’جنت و جہنم مخلوق ہیں۔‘‘

اس کی شرح میں علامہ ابن ابی العز الحنفی رحمہ اللہ   نے اس مؤقف کے بارے میں کہا ہے کہ اس پر سلف کا اتفاق ہے۔ 

 علامہ اسفرائینی رحمہ اللہ   التبصیر فی الدین میں اس باطل فکر کے لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرماتےہیں:

 

 ’’وکل من أنکر کون النار مخلوقۃ يقال لہ يوم القيامۃ ما اخبر اللہ عنہ وھو قولہ

{اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ    29؀ۚ} [المرسلات: 29]‘‘

’’اور جس نے بھی جہنم کے مخلوق ہونے کا انکار کیا ہے اسے قیامت کے دن کہا جائے گا : چلو اسی جہنم کی طرف جس کو جھٹلاتے تھے۔ ‘‘

امام ابو نعیم الاصبہانی   رحمہ اللہ  کی مستقل کتاب صفۃ الجنۃ ہے، جس میں انہوں نے جنت کے مخلوق ہونے کے حوالے سے تبویب قائم کی۔

امام بیہقی  رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب البعث والنشور میں جنت کے ابھی پیدا اور موجود ہونے کے حوالے سے ابواب قائم کئے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  صحیح بخاری کے  باب’’ ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنہا مخلوقۃ‘‘ کی شرح کے تحت فرماتے ہیں: ’’یعنی ابھی موجود ہے، اور اس تبویب میں معتزلہ کا رد ہے۔‘‘[32]

یہی بات علامہ عینی  رحمہ اللہ  اسی باب کی شرح کے تحت فرماتے ہیں کہ جنت ابھی موجود ہے اور اس تبویب میں معتزلہ کا رد ہے۔[33]

 علامہ قسطلانی  رحمہ اللہ نے بھی اسی باب کی شرح کے تحت یہ فرمایا کہ جنت ابھی موجود ہے۔[34]

امام ابوداؤد رحمہ اللہ  اپنی سنن میں باب قائم کرتے ہیں :’’باب في خلق الجنۃ والنار‘‘’’باب ہے جنت و جہنم کی تخلیق کے بارے میں ‘‘ ۔

امام دارمی رحمہ اللہ  اپنی سنن میں باب قائم کرتے ہیں:’’ باب صفۃ الجنۃ وأھلھا وما أعد اللہ للصالحين فيہا‘‘ ’’ جنت اور اہل جنت کے اوصاف کے بارے میں باب اور اس بارے میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے صالحین کے لئے تیار کررکھا ہے۔‘‘

امام ابن ابی شیبہ  رحمہ اللہ  اپنی مصنف میں باب قام کرتے ہیں : ’’ما ذکر في الجنۃ وما فيہا مما

  أعد لأھلہا‘‘ ’’ باب ہے جو کچھ مذکور ہے جنت کے بارے میں اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے تیار کررکھا ہے۔ ‘‘ اور اسی مفہوم کا باب جہنم کے لئے بھی قائم کیا۔’’ما ذکر فيما أعد لأھل النار وشدتہ‘‘ ’’ باب ہے جو کچھ مذکور ہے کہ اللہ نے جہنم میں اہل جہنم میں جو عذاب تیار کر رکھا ہے اور اس جہنم کی شدت کا بیان‘‘۔

بہرحال سلف صالحین کا مؤقف جنت و جہنم کے حوالے سے یہی ہے کہ یہ مخلوق و موجود ہیں، اس لحاظ سے قدیم معتزلہ کے مخالف یہ مؤقف ہے اور جدید معتزلہ سرسید ، پرویز وغیرہ جنہوں نے سرے سے انکار کرکے قرآنی آیات کی من مانی تاویل کرکے مجازی معنی مراد لیا یہ مؤقف بھی سلف صالحین کے برخلاف ہے۔ اور قدیم معتزلہ کے مؤقف سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ ائمہ سلف میں سے یہ معنی یا کوئی بھی ایسا معنی جو حقیقی معنی کے بجائے مجاز پر محمول کیا جائے ایسا ثابت نہیں ۔ لہذا دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عقیدہ بالآخرۃ کو سمجھنے اور سلف صالحین کے فہم کے مطابق اس پر کار بند رہنے اور نئی تشکیکات اور باطل افکار سے محفوظ رکھے ۔ آمین

اثباتِ جنت و جہنم کے عقیدہ کی حکمتیں:

شریعت اسلامیہ کا عطاکردہ یہ عقیدہ عبث نہیں بلکہ اس کے کئی ایک فوائد ہیں، جنہیں شریعت نے ملحوظ رکھا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنیٰ بھی نہیں کہ شریعت نے یہ بس ترغیب و ترہیب کے لئے رکھی ہیں اور حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں اگر کو ئی اس قسم کی تعبیر کرتا ہے تو یہ ایک بہت بڑا افتراء اور شریعت اسلامیہ کی تنقیص ہے گویا کہ ان کے زعم باطل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ دین جھوٹے وعدے اور تسلیاں دیتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے باطل افکار سےخود کو بچاکر سلف صالحین والے عقیدہ کو ہی اپنانا چاہئے کہ جنت و جہنم مخلوق ہے اور پیدا ہوچکی ہیں اور ابھی موجود ہیں، اور یہ کوئی تمثیلی چیزیں نہیں بلکہ یہ حقیقت ہیں ، جن پر کامل یقین کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ اور یہ صحیح ایمان ہی دنیا کی فراوانیوں سے دور کرکے حقیقی مقصد کی طرف توجہ بڑھاتا ہے۔ اور عقیدہ بالآخرۃ کے مقاصد میں سے یہ بھی حکمت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جنت و جہنم کو ترغیب و ترہیب کے لئے بنایا ہے۔

 

جنت کی تخلیق میں حکمت :

جنت کی تخلیق میں کئی ایک حکمتیں اور مقاصد پوشیدہ ہیں، جہاں جنت اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے نیکوکار لوگوں کو ان کی محنتوں اور جہود کا اچھا سلسلہ ملے ، وہیں اس کے حوالے کامل ایمان سے انسان میں نیکیوں کا شوق بڑھتا ہے، اور انسان سبیل مستقیم پر گامزن ہوتا ہے اور یہ جنت کی حکمتوں میں سے اہم ترین حکمت ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بیش بہا نصوص نیکیوں کی ترغیب دلاتے ہوئے بطور تشویق جنت اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

[ وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ    ١٣٣؁ۙ]

’’اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ متقین لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’موضع سوط فی الجنۃ خیر من الدنیا وما فیھا ‘‘[35]

 ’’ جنت میں ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔‘‘

جہنم کی تخلیق ، حکمت:

جس طرح اثبات ِجنت کا عقیدہ عبث نہیں، اسی طرح جہنم بھی کافر اور گناہ گار لوگوں کے لئے عذاب کی جگہ بھی ہے۔اور اس پر کامل ایمان میں ایک اہم ترین حکمت جو پنہاں ہے وہ یہی ہے کہ اس کے ذریعے سے کافر اور گناہ گار لوگوں کوڈرایا گیا ہے، تاکہ وہ اس کے عذاب اور گناہوں کے حوالے سے مذکور وعیدوں سے ڈر کر گناہوں کی دلدل سے باہر آئیں ، اور دنیا میں نیکیوں سے مشغول ہوکر اپنی اخروی زندگی کو بھی سنوار لیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجیدنے حکم دیا :

[يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِيْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗیِٕکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ     Č۝][التحریم :6]

 

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنےگھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ اس پر تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں ۔ اللہ انہیں جو حکم دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

قرآن مجید جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو حکم دیا گیا کہ :

[وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَکَ الْاَقْرَبِيْنَ     ٢١٤؀ۙ ] [الشعراء : 214]

اس آیت کے نزول کے بعد نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش کے لوگوں کو بلایا اور ان کے ہر ہر قبیلے کو مخاطب کرکے فرمانےلگے: ’’ اے قریش کی جماعت! تم اپنی جانوں کو بچاؤ، میں اللہ کے عذاب سے تمہیں کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچا سکتا اور اے صفیہ! (رسول اللہ کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کیسے بچا سکتا ہوں اور اے فاطمہ بنت محمد! تم مجھے سے میرا مال جس قدر چاہو لے لو، مگر میں اللہ کے عذاب سے تمہیں نہیں بچا سکوں گا۔‘‘{[36]

 ان نصوص اور اس مفہوم کی بے شمار آیات و احادیث میں واضح ہے کہ جہنم کے بارے میں یہ بیانات انذار کے لئے ہیں، تاکہ انسان ان گناہوں اور معاصیات سے محفوظ رہے جو اسے جہنم میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں ، اور ان حسنات کو بجالائے جو اسے جنت کی نعمتوں کا وارث بنادیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کا خوف کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دے اور اس کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھے،اور جنت کا شوق کامل طور پر ہمارے دلوں میں ڈال دےاور جنت کی نعمتوں کا مستحق بنادے۔ آمین

 

 

 

 



[1]  مدرس المعہد السلفی کراچی

[2] سیر اعلام النبلاء:10/547،طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[3] سیر اعلام النبلاء : 10/547، طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[4]  لسان المیزان :7/268، طبع احیاء التراث

[5] سیر اعلام النبلاء : 10/442،طبع مؤسسۃ الرسالۃ

[6]  دیکھئے: الاعتصام : 2/719، طبع دار ابن القیم ،  الملل والنحل: 48 طبع دار ابن حزم

[7] لوافی بالوفیات جلد نمبر 26 صفحہ 57 ابن محمد ، جلد نمبر 27 صفحہ 203

[8] الملل والنحل :  48دار ابن حزم

[9] الوافی بالوفیات جلد26 صفحہ68

[10] التبصير في الدين وتمييز الفرقة الناجية عن الفرق الهالكين للاسفرائینی

[11] جہانِ فردا:ص 133

[12] لغات القرآن، 1/919

[13]  ایضاً

[14]  لغات القرآن:1/449، مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام لاہور

[15] دیکھئے جہانِ فردا: صفحہ 231

[16] جہانِ فردا: ص 235

[17]  جہان فردا: 269، 270

[18] نظامِ ربوبیت:82

[19]  صحیح مسلم : 2662، سنن ابی داؤد: 4713، سنن النسائی : 1947، سنن ابن ماجۃ: 82

[20]  صحیح بخاری: 3242، کتاب بدء الخلق ،باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة ، سنن ابن ماجۃ: 107، صحیح ابن حبان 54

[21] صحیح بخاری: 3255، کتاب بدء الخلق ،باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة۔

[22] جامع ترمذی :1663،علامہ الالبانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

[23] صحیح بخاری: 3260،کتاب بدء الخلق ،باب صفة النار، وأنها مخلوقة۔صحیح مسلم:617،کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ۔

[24] صحیح مسلم: 2844، صحیح ابن حبان: 7469، مسند ابی یعلی: 6179، نیز دیکھئے : سلسلۃ الصحیحۃ : حدیث نمبر 1612 اور 2165

[25] صحیح بخاری: 3342، صحیح مسلم : 1633

[26]  صحیح بخاری: 1379، کتاب الجنائز ، باب الميت يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي، صحیح مسلم :2866

[27] سنن ابی داؤد : 4753، کتاب السنۃ، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر،وصححہ  الالبانی علامہ الالبانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

[28] صحیح بخاری: 1052، صحیح مسلم : 907

[29]  صحیح مسلم : 2359

[30] سنن نسائی: 2073، سنن ابن ماجۃ : 4271و صححہ الالبانی رحمہ اللہ

[31] جامع ترمذی: 1641، وقال ھذا حدیث حسن صحیح ، و صححہ الالبانی رحمہ اللہ

[32] فتح الباری

[33] عمدۃ القاری

[34] ارشاد الساری

[35] صحیح بخاری: 3250

[36] صحیح بخاری: 2753، صحیح مسلم : 208