بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 05 تشرين2/نوفمبر 2015 00:00

ارضِ یمن ، تاریخ ، تصویر اور تدبیر

مولف/مصنف/مقرر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ارضِ یمن ، تاریخ ، تصویر اور تدبیر

 

الحمد لله والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آله وصحبه اجمعین ۔

ان دنوں ارضِ یمن کا موضوعِ سخن ہر لب پہ جاری وساری ہے ۔ کیا سیاستدان ، مذہبی مفکرین ، ٹی وی اینکرز ، نام نہاد دانشور ہر ایک اپنی بساط اور فکر وسوچ کے مطابق اس موضوع میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ الغرض "کل اناء بما فيهینضح"۔

اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخی نقطہ نگاہ سے اس موضوع پر نظر ڈالی جائے کہ بلاد یمن کی تاریخی اہمیت کیا ہے .نیز یہاں یہ بات بھی واضح کی جائے گی کہ حوثی باغی کون لوگ ہیں ان کے عزائم ومقاصد کیا ہیں ؟ اور سعودیہ کو یمن کی سرحد پر کس نوعیت کا خطرہ ہے ؟۔

جہاں تک یمن کی تاریخی حیثیت کا تعلق ہے تو یہ سرزمین کرہ ارض پر ایک نمایاں مقام رکھتی ہے ۔قدیم وجدید تہذیبوں کا مسکن ، لسانِ نبی اکرم ﷺسے برکات کی دعائیں پانے والی ،اورایک جری وبہادر اقوام کا ٹھکانہ ہے ۔

یمن کی قدیم اور جدید تاریخ :

یمن کی سرزمین قدیم تہذیبوں کی سرزمین ہے ۔ جن میں قابل ذکر مملکت ِسبا ،مملکتِ حضر موت ،مملکتِ اوسان مملکتِ قتبان( 500ق .م ) ،مملکت ِمعین ،(800 ق .م ) مملکت حمیر ، ( 110 ق .م ) احباشی سلطنت (525م ـ 599م)ساسانی سلطنت( 570م ــ 599م )شامل ہیں ۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد یمن مکمل طور پر ترکی اثر ورسوخ سے آزاد ہوا ، اور صنعاء میں مملکت متوکلیہ( 1918م تا 1962م ) کے نام سے سلطنت وجود میں آئی جس کے کارفرما حکمران زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔اس سلطنت کا سقوط ج 26 ستمبر1962م کے انقلاب میں ہوا ۔ یہ انقلاب در اصل ایک خانہ جنگی تھی جو مملکت متوکلیہ اور جمهورية اليمنية العربية  (Yemen Arab Republic)کے حامیوں کے درمیان یمن کے شمالی علاقوں میں شروع ہوئی ، یہ خانہ جنگی آٹھ سال جاری رہی ۔ اس خانہ جنگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یمن سے بادشاہت ختم ہوئی اور ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی۔جس کا نام عربی یمنی جمہوریہ (Yemen Arab Republic) رکھا گیا ۔ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد انقلابات ، بغاوتوں ، سورشوں اور قتل وغارت گری میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ۔اور وہاں کے حکمران بھی خفیہ طریقے سے قتل ہونے لگے ۔ 1978 م میں احمدحسین الغشمی کے قتل کے بعد علی عبد اللہ صالح نے حکومت کی باغ ڈور سنبھالی جو کچھ لمبے عرصے تک قائم رہی ۔ یہ صورت حال شمالی یمن کی ہے ۔

جبکہ یمن کے جنوبی علاقے برطانوی راج کے زیر اثر رہے ۔یہاں تک کہ 14 اکتوبر 1963م کے انقلاب میں جوکہ برطانوی تسلط کے خلاف تھا جنوبی یمن نے برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی ۔ جس کے بعد جو حکومت معرض وجود میں آئی اس کا نام جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية رکھا گیا ۔ اس طرح یمن میں دو جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں شمال میں جمهورية اليمنية العربية  (Yemen Arab Republic)  تھا جس کا مرکز صنعاء تھا جبکہ جنوب میں جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية عوامی جمہوری جمہوریہ یمن( (People's Democratic Republic of Yemen تھا ۔

سنہ 1990م میں یمن شمالی اور جنوبی میں وحدت

1990میں جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية اور جمهورية اليمنية العربية کا اتحاد ہوا اور دونوں مل کر ایک ملک بن گئے جسے وحدت یمن کا نام دیا گیا اس وحدت کی بنیاد یمنی قومیت کی بنا پر تھی ۔

شمال اور جنوب کے اتحاد ہونے کے بعد روس نے جنوبی یمن میں اپنی مداخلت اور سپورٹ بند کردی ۔ وحدت کا رسمی اعلان 22مئی 1990م کو کیا گیا اور اس میں علی عبد اللہ صالح کو صدر اور سالم البیض کو نائب صدر متعین کیا گیا ۔

11فروری 2011کا انقلاب

اس انقلاب کے بنیادی محرکات میں علی عبداللہ صالح کی پالیسیاں تھیں جن کے خلاف یہ اتحاد عمل میں آیا جس کےاہم اسباب مندرجہ ذیل تھے:

1: بے روزگاری

2: غربت

3: معیشت کی تباہی

4: بد امنی اور فساد

5: یمنی حکومت کی آئین میں تبدیلیوں کی کوشش

6: وراثتی حکومت

اس انقلاب کا آغاز پر امن مظاہروں کی صورت میں تھا بعد ازاں اس میں قدرے مسلح جدوجہد بھی نظر آئی لیکن وہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھی ۔یہ انقلاب درحقیقت نوجوانوں کا انقلاب تھا جس کے روح رواں یونیورسٹیز اور کالجز کے اسٹوڈنٹ تھے ۔ اس تحریک کے نتیجے میں 21 فروری 2012 م کو علی عبداللہ صالح کو حکومت اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کے سپرد کرنی پڑی۔

انقلاب کے اہداف میں :

1: علی عبد اللہ صالح کے نظام حکومت کا خاتمہ

2: جمہوری حکومت کی تشکیل

3: معیشت کی بہتری

4: محکموں کی خودمختاری

۵: عسکری اور سیکورٹی اداروں کی تعمیرنو قومی بنیادوں پر کی جائے۔

موجودہ حوثی بغاوت اور اس کی حقیقت :

عبوری دور :

علی عبد اللہ صالح کے حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک عبوری دور کا آغاز ہوااور طے پایا کہ اس عبوری دور میں عبد ربہ منصور ہادی سربراہ حکومت کے فرائض انجام دیں گے ۔ یمن میں ایک پر امن حل کیلئے خلیجی ممالک نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ خلیجی اینی شیٹو نے علی عبد اللہ صالح اور اس کی فیملی کو محفوظ راستہ دیا اور قانونی تحفظ فراہم کیا ۔ اقتدار منتقلی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے نمائندہ جمال بن عمر کی نگرانی میں منتقلی اقتدار کا فیصلہ کیا گیا ۔ جس کی سربراہی عبد ربہ منصور ہادی کر رہے تھےاس کے لئے ایک قومی مذاکراتی کانفرنس تشکیل دی گئی جسے 18 ستمبر 2013 تک اپنا کام مکمل کرنا تھا لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ کانفرنس کسی حتمی رائے تک معینہ مدت میں نہ پہنچ سکی ۔ جس بنا پر جمال بن عمر نے اعلان کیا کہ تمام مسائل ہونے اور نئے انتخابات کے انعقاد تک عبد ربہ منصور ہادی ہی یمن کے سربراہ رہیں گے ۔ 20جنوری 2014 کو مؤتمر وطنی یمنی اختتام پذیر ہوا اور 25 جنوری کو مذاکرات کامیاب ہونے پر ایک نئے ملک کے قیام پر اتفاق ہوا جس کا نام ’’جمهورية اليمن الإتحادية‘‘ Federal Republic of Yemen رکھا گیا ۔

الغرض ایک وسیع ترین قومی حکومت کی تشکیل کیلئے کاوشیں جاری تھیں کہ ایک باغی گروہ جو کسی طرح نہیں چاہتا تھا کہ یمن میں امن بحال ہو مختلف سورشوں کا آغاز کردیا ۔جس کی تفصیل آپ آئندہ سطور میں ملاحظہ کریں گے ان شاء اللہ ۔

حوثی بغاوت کے پس پردہ حقائق :

حوثی تحریک جوکہ اب جماعت انصاراللہ کے نام سے معروف ہے نے 2014 م کی ابتدا میں یمن کے شمالی علاقہ صعدہ سے جوکہ ان کا گڑھ ہے اپنے پڑوسی علاقے عمران پر عسکری حملہ کردیا ۔ جس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ قومی مذاکرات کانفرنس میں طے پانے والے اتحاد میں اسے سب سے بڑا حصہ اور کردار دیا جائے ۔

مگر پوری دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب حوثیوں نے اندورن خانہ علی عبد اللہ صالح کے ساتھ غیر اعلانیہ اتحاد کرکے ستمبر 2014م میں صنعاء پر قبضہ کرلیا ۔ فوضی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد حوثیوں نے دیگر سرکاری املاک پر قبضے کا آغاز کردیا ۔ اس ضمن میں انہوں نے خالد بحاح کی حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرکے وفاقی آئین کی تشکیل میں حائل ہونا چاہا ۔ یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور بعد ازاں انہیں نظر بند کردیا ۔

پھر پارلیمنٹ تحلیل کرکے ایک آئینی اعلامیہ جاری کیا جس میں ایک عبوری اور ایک صدارتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ، اور ایران کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی ، یہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس نے پڑوسی ممالک میں تشویش کی لہر پیدا کردی۔ ان پیچیدہ حالات میں صدر ہادی عدن فرا ر ہوئے وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنا استعفیٰ کا اعلان واپس لیا ۔ اور خلیجی ممالک سے مدد کی درخواست کی جس بنا پر خلیجی ممالک نے یمن میں کاروائی کا آغاز کیا ۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ اتحادی ممالک کی یمن میں کاروائی کسی لحاظ سے بھی غیر قانونی نہیں تھی کیونکہ اتحادی افواج کی کاروائی یمن کے آئینی صدر کی طلب پر تھی ۔اوریہ کاروائی اقوام متحدہ کے آئین کے مطابق تھی ۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آئینی حکومت کسی قسم کا خطرہ محسوس کرتی ہے تو وہ دیگر ممالک سے مدد طلب کرسکتی ہے ۔

حوثی باغی کون ہیں؟:

تحریک انصار اللہ یا حوثی جماعت یمن کے زیدی شیعوں کی ایک معاشرتی ، سیاسی اور دینی مسلح تحریک ہے، جو دين و سياست دونوں ميں حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتی ہے، جبکہ ان کے افکار رافضی شیعوں سے مشابہ ہیں۔

1992م بعض رپورٹس کے مطابق 1991م میں یہ تحریک معرض وجود میں آئی اس کے زعیم اول حسین بدر الدین الحوثی ہیں جس نے حکومت یمن اور اپنے حمایتیوں کے درمیان اختلافات کو ہوادے کر فتنہ کھڑا کیا تھا، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے انہیں حوثی کہا جاتا ہے، جبکہ خود ان کا اپنی تنظیم کے لیے تجویز کردہ نام ’’ الشباب المومن‘‘ ہے۔

اس تحریک کے بانی بدر الدبن بن أمیر الدین الحوثی جو زیدی شیعوں کے اس وقت کے کبار علماء میں سے تھا ، جارودی المذہب تھا اس کی مذھبی ب&#1#1587;اط اور خبث اتنا تھا کہ وہ ،سیدنا ابو بکر ،سیدنا عمر ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے نام کے ساتھ ’’ رضی اللہ عنہم ’’ لکھنا جائز نہیں سمجھتا تھا ۔اس کے علاوہ اس نے اپنی تالیفات میں صحیحین ( بخاری ومسلم ) وغیرہ حدیث کی کتابوں پر کڑی تنقید کی اور امام بخاری و مسلم کو بادشاہوں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنے والے ’’ ملاؤں ’’ میں شمار کیا ۔

اس تنظیم کا مقصد صعدہ وغیرہ اور یمن کے دیگر علاقوں میں زیدی علماء کو ایک پرچم تلے اکٹھا اور اس وقت کی ایک اور زیدی تنظیم ’’ حزب الحق ’’ کی حمایت کرنا تھا۔ لیکن جلد ہی بدر الدین نے ’’ حزب الحق ’’ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ، جس کا سبب دونوں تنظیموں میں منہجی اور انتظامی قسم کے اختلافات تھے ، کیونکہ حوثی ، رافضی شیعوں کے اعتقادات کی جانب زیادہ مائل تھا۔

اور یوں 2000ء میں حوثی تحریک ایک مستقل حیثیت سے سامنے آئی۔ بدر الدین کے بعد اس کے بیٹے عبدالملک حوثی نے قیادت سنبھالی ۔ اور تحریک کا دائرہ کار ’’ صعدہ ’’ سے بڑھ کر یمن کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔

تحریک کی اہم سرگرمیاں :

1.      جمعے کے بعد مساجد و مراکز میں اسرائیل اور امریکہ کی بزعم خود مخالفت میں پرچم لہرانا ۔

2.       فلسطین اور یہودیوں کے معاملے کو زیر بحث لانا ۔

3.       ملک کے اندر نرخوں کی زیادتی ،معاشی بحران ، اور غریب و مساکین کے حقوق کا سہارا لیتے ہوئے امن و امان کی صورت کو بگاڑ نے کی کوشش کرنا ۔

4.       اسلامی تاریخ کے نازک ادوار کو زیر بحث لاکر لوگوں میں تفرقہ بازی کو ہوا دینا ، اور ’’ آل بیت ’’ کی محبت و نصرت کے بہانے لوگوں میں نفرتیں پھیلانا .

5.       مختلف دینی مناسبات مثلا عید غدیر اور یوم عاشوراء پر میں ایسی مصروفیات سر انجاد دینا جن سے قوت بازو اور چیلنج نمایاں ہو ۔

6.       سلف واہل سنت کو خطرہ ظاہر کرے اس سے لوگوں کو آگاہ کرنا ۔

7.       لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے "الله أكبر، الموت لأمريكا، الموت لإسرائيل، اللعنة على اليهود، النصر للإسلام "کا نعرہ لگانا۔

تحریک کے سرکردہ افراد :

·                     بدر الدین الحوثی (بانی)

·                     (بیٹا) حسین بن بدر الدین الحوثی (روحانی پیشوا 2004 میں قتل ہوا)

·                     (بیٹا) یحیی بن بدر الدین الحوثی (شعبہ تعلقات عامہ)

·                     (بیٹا) عبد الملک بن بدر الدین الحوثی (موجودہ پیشوا)

ابتدائی طور پر اس تحریک میں صرف نوجوانوں کی عملی و علمی تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا، جو بعد میں عسکری تربیت اور مشقوں میں تبدیل ہو گئی، پھر حکومت سے اپنے مطالبات بزور طاقت منوانا شروع کیے اور اختلاف بڑھتا گیا، حتی کہ اپنے ہی ہم مذہب صالح عبد اللہ سابق صدر یمن کے 32 سالہ دور کا خاتمہ بھی کر دیا۔

پھر منصور ہادی عبد ربہ عبوری صدر بنے جو کہ ان کے مذہب سے نہیں ہیں، اب کی بار سابقہ صدر نے اپنے 32 سالہ اثر و رسوخ کو استعمال کیا، اور موجودہ صدر کے بارے میں بغاوت شروع کی، اور معاملہ یہاں تک آ پہنچا کہ ان حوثیوں نے حرمین شریفین پر قبضہ کا عندیہ دے دیا۔

عموما ہمارے میڈیا میں یہ بات نشر کی جارہی ہے کہ حوثی قبائل کا مکہ مدینہ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ اس حوالے سے مکہ مدینہ کو کوئی خطرہ ہے ، تو ان مفاد پرست عناصر کی خدمت میں عرض ہے کہ حوثی تحریک کے ایک رہنما نے ایک ٹی وی پروگرام میں علی الاعلان یہ بات کہی ہے کہ اگر خلیجی ممالک اور سعودیہ اپنی حرکات سے باز نہیں آئے تو ہمارا اسٹاپ کعبۃ اللہ کا مقام رکن یمانی ہوگا ۔تفصیل کیلئے آپ یہ لنک ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=V5t3s1Rjuis

نیز حوثی تحریک کے سربراہ عبد الملک حوثی اپنی ایک تقریر میں سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ :’’انہیں اپنے فعل کی بہت بھاری قیمت عطا کرنی پڑے گی ‘‘۔

https://www.youtube.com/watch?v=Ac_4FdKIWEI

حوثیوں نے یمن کے شہر صن&#1#1593;اء سے حاجیوں اور معتمرین کو لے جانی والی حج وعمرہ کی ٹریول ایجنسیز کو بھی خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں جس کی بنا پر بہت سی حج وعمرہ کی کمپنیوں کو اپنا کام صنعاء سے عدن منتقل کرنا پڑا ۔ملاحظہ کیجئے:

https://newhub.shafaqna.com/.../10924408-

حوثیوں کے ایک اور رہنما عبد الکریم الخیوانی نے سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے ۔ ملاحظہ کیجئے :

http://www.alainonline.net/news_details.php?sid=17955

ان تمام حقائق کے بعد بھی کوئی اس خام خیالی میں ہے کہ حوثیوں کا بیت اللہ اور مکہ ومدینہ کے حوالے سے کوئی برا ارادہ نہیں تو ایسے شخص کی آنکھوں پر فریب نفس ،دھوکہ اور تعصب کی پٹی کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر ان حوثیوں کو سعودیہ سے عداوت تھی تو یہ ریاض پر حملے کا ذکر کرتے کیونکہ آل سعود کا دار الخلاٖفہ ریاض ہے نہ کہ مکہ ومدینہ لیکن ان کے زعماء ورہنماؤں کامقدس مقام مکۃ المکرمہ کا نام لینے سے ان کے عزائم بخوبی واضح ہوچکے ہیں ۔ {قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} [آل عمران: 118] ۔

اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ حوثیوں کی سعودیہ سے دشمنی سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ،اور عقیدہ کی دشمنی ہے ۔ اور اس وجہ سے دشمنی ہے کہ سعودی حکمران بیت اللہ کے متولی کیوں ہیں ؟!

یہ چند مثالیں ہیں حوثیوں کے ناکام عزائم کی جو احباب عربی دان ہیں اور انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں انہیں ایسی بیسیوں مثالیں ملیں گی ۔ والعاقل تکفيه الإشارة۔

سعودی حکومت کی حمایت کیوں ضروری ہے ؟

1:حوثی بیت اللہ پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں ان کے ہاتھ روکنے ضروری ہیں ۔اورحرمین کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے ۔

امام حرم مکی جناب سعود الشریم حفظہ اللہ فرماتے ہیں :’’ یمنی باغیوں پر حملہ دینی ضرورت ہے یہ ایسا دشمن ہے جو حرمین شریفین پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے ‘‘۔

اور یہ بات ہم سابق الذکرسطور میں واضح کرچکے ہیں کہ ان کے کون سے زعماء نے حرمین کو ٹارگٹ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔

2: حوثی باغی ہیں اور قرآن مجید نے باغیوں سے لڑنے کا حکم دیاہے ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :(فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ )[الحجرات: 9]

3: سعودی حکمران متولیان حرم ہیں ، حرم کے ساتھ اس کے متولیوں کی حفاظت بھی لازم ہوتی ہے ۔

اور اگر وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے ۔ {وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ} [الأنفال: 72]

4:سعودی حکومت پاکستانیوں کی بالخصوص اور عالم اسلامی کی بالعموم محسن ہے ۔ اب اس محسن پر مشکل وقت پڑا ہے ان کی تائید وحمایت ہمارے لئے لازم بن جاتی ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :{هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60]

اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا::  ومن أتى إليكم معروفا فكافئوه ، فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى تعلموا أن قد كافأتموه ".((أحمد وأبو داود وصححه الألباني)

’’ جو آپ کے ساتھ نیکی کرے اس کو اس کا بدلہ دو ، اگر تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے تم اس کی نیکی کا بدلہ چکا سکو تو اس کیلئے دعا کرو ( اور اتنی دعا کرو کہ ) حتکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے اس کی نیکی کا بدلہ چکا دیاہے ‘‘۔

سعودی حکومت نے عالم اسلام کی ہر مشکل اور ہر قضیے میں مدد کی ۔ فلسطینی کاز کی سعودی حکومت نے سیاسی ، عسکری اور اقتصادی ہر میدان میں مدد کی ۔ عسکری سطح پر جب ۱۹۴۸ م میں عرب اور یہودیوں کے مابین جنگ لگی تو ملک عبد العزیز نے مکمل عسکری سپورٹ دی اور انہوں نےسعودی سولجرز کی ایک بڑی تعداد سویس نہر کے راستے روانہ کی جو یہودیوں کے خلاف مصری افواج کے شانہ بشانہ لڑی ۔ نیز اقتصادی اور سیاسی سپورٹ کی مثالیں ان گنت ہیں اس کیلئے ملاحظہ کریں کتا ب (جہود المملکۃ العربیۃ السعودیہ فی خدمۃ الدعوۃ الاسلامیۃ ماضیا وحاضرا) ۔

افغانستان میں سویت یونین کی جارحیت کے خلاف وہاں کی مسلمانوں کی سعودیہ کی جانب سے بھرپور مدد کی گئی ۔

سعودیہ نے محض محاذوں اور سورش زدہ علاقوں میں مسلمانوں کی حمایت نہیں کی بلکہ سیلاب ، زلزلوں ، اور دیگر قدرتی آفات میں بھی وہ اپنے بھائیوں کی مدد سے پیچھے نہیں رہے ۔ افریقا ہو یا ایشیا ، ہر جگہ سعودی پیش پیش رہے ۔ نوے کی دہائی کے چند ہی سالوں میں ایک رپورٹ کے مطابق ۷۷ بلین ریال کی مدد کی گئی ۔ افریقی ممالک میں قحط سالی کے وقت ایک ہزار ملین ریال کی نقد امداد دی گئی جبکہ غذائی اجناس اور ادویات اس کے علاوہ ہیں اس سے ۱۷ افریقی ممالک نے فائدہ اٹھایا ۔ ( المملكة وهموم الأقلیات ص 293)

1988م میں شمالی یمن میں زلزلوں میں سعودیہ نے 443ملین ریال کی مدد کی ۔ 1988 م ہی میں جب تونس میں سیلاب نے تباہی مچائی تو سعودی حکومت نے فورا 50ملین ڈالر کی امداد دی ۔ پاکستان میں زلزلوں اور سیلابوں میں سعودی حکومت نے جو مدد کی وہ ہماری حکومت اور عوام سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

5:یمن کی سرزمین اور یمن کے رہنے والوں کی مدح م&##1740;ں احادیث نبویہ ﷺ وارد ہیں ۔ جس بنا پر یمن کے مظلوم لوگوں کی مدد تمام مسلمانوں کا فرض بنتاہے ۔

ذیل کی سطور میں یمن اور اس کے باسیوں کے فضائل میں وارد چند احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔

ارض حجاز میں جب نور ہدایت جلوہ افروز ہوا تو اس کی قرنیں یمن تک بھی پہنچی ہمارے پیارے پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے لبِ مبارک سے یمن کے باشندوں اور سرزمین یمن کیلئے کلمات خیر بھی کہے ۔

چند روایات ملاحظہ ہوں :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا"۔

اے اللہ ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ۔ آپ ﷺ نے یہ دعا تین مرتبہ دہرائی ۔ صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول "وفی عراقنا"، ہمارے عراق کے متعلق بھی دعا فرمادیجئے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ إن بها الزلازل والفتن وهناك يطلع قرن الشيطان"۔’’وہاں زلزلے ہیں ، فتنے ہیں اور وہیں سے شیطان کے سینگ ابھریں گے یعنی شیطان کے مددگار نکلیں گے ‘‘۔ ( صحیح بخاری )

رسول اللہ ﷺنے سرزمین شام کے بعد یمن کو اہمیت دی اور وہاں رہائش اختیار کرنے کا حکم دیا ۔

ابن حوالہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ایک ایسا وقت آئے گا کہ اہل اسلام کے تین لشکر بن جائیں گے ۔ ایک شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ ابن حوالہ کہتے ہین میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے مشورہ دیجئے میں کس لشکر کو اختیار کروں اگر مجھے وہ زمانہ مل جائے تو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شام کے لشکر کو اختیار کرنا ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین سرزمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بہترین لوگوں کو بساتاہے ۔ ہاں اگر ایسا نہ کرسکو تو یمن چلے جانا اور وہاں کے چشموں کا پانی پینا ۔۔۔‘‘ ( ابوداؤد )

ایک روایت میں ہے آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا :’’علیک بالشام‘‘ شام اختیار کرنا ۔ پھر فرمایا "فمن أبی فلیلحق بیمنه، ولیسق من غدرہ"۔یمن سے جا ملنا اور وہاں کے کنوؤں اور چشموں کا پانی پینا ۔

اہل یمن کی فضیلت :

آپ ﷺنے فرمایا : تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں جو نہایت نرم دل ، رقیق القلب لوگ ہیں ۔ ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے اور فقہ یمانی ہے ۔ اور کفر کا سر مشرق کی طرف ہے ۔ ( صحیح مسلم )

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے یمن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ الإيمان هاهنا‘‘ ایمان یہاں ہے ۔ جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک مرتبہ مکہ کے راستے میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تشریف لے جارہے تھے ۔ تو آپﷺ فرمانے لگے ’’ابھی تم پر اہل یمن نمودار ہونے والے ہیں جیسے کہ وہ بادل ہیں ۔ زمین میں بسنے والوں میں وہ بہترین لوگ ہیں‘‘ ۔

امام نووی نے صحیح مسلم میں اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے ’’ باب تفاضل أهل الایمان ورجحان أهل اليمن فيه ‘‘۔

اب ان تمام حقائق اور دلائل کے بعد بھی اگر کوئی شخص یمن جنگ میں سعودی اور یمن کی مظلوم عوام کی حمایت وتائید کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے تو پھر اس کیلئے یہی کہا جاسکتاہے ۔

آنکھیں اگر ہوں بند تو پھر دن بھی رات ہے اس میں بھلا قصور کیا ہے آفتاب کا

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین

ملاحظہ کیا گیا 1897 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 16 شباط/فبراير 2016 13:14
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ارضِ یمن ، تاریخ ، تصویر اور تدبیر

 

الحمد لله والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آله وصحبه اجمعین ۔

ان دنوں ارضِ یمن کا موضوعِ سخن ہر لب پہ جاری وساری ہے ۔ کیا سیاستدان ، مذہبی مفکرین ، ٹی وی اینکرز ، نام نہاد دانشور ہر ایک اپنی بساط اور فکر وسوچ کے مطابق اس موضوع میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ الغرض "کل اناء بما فيهینضح"۔

اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخی نقطہ نگاہ سے اس موضوع پر نظر ڈالی جائے کہ بلاد یمن کی تاریخی اہمیت کیا ہے .نیز یہاں یہ بات بھی واضح کی جائے گی کہ حوثی باغی کون لوگ ہیں ان کے عزائم ومقاصد کیا ہیں ؟ اور سعودیہ کو یمن کی سرحد پر کس نوعیت کا خطرہ ہے ؟۔

جہاں تک یمن کی تاریخی حیثیت کا تعلق ہے تو یہ سرزمین کرہ ارض پر ایک نمایاں مقام رکھتی ہے ۔قدیم وجدید تہذیبوں کا مسکن ، لسانِ نبی اکرم ﷺسے برکات کی دعائیں پانے والی ،اورایک جری وبہادر اقوام کا ٹھکانہ ہے ۔

یمن کی قدیم اور جدید تاریخ :

یمن کی سرزمین قدیم تہذیبوں کی سرزمین ہے ۔ جن میں قابل ذکر مملکت ِسبا ،مملکتِ حضر موت ،مملکتِ اوسان مملکتِ قتبان( 500ق .م ) ،مملکت ِمعین ،(800 ق .م ) مملکت حمیر ، ( 110 ق .م ) احباشی سلطنت (525م ـ 599م)ساسانی سلطنت( 570م ــ 599م )شامل ہیں ۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد یمن مکمل طور پر ترکی اثر ورسوخ سے آزاد ہوا ، اور صنعاء میں مملکت متوکلیہ( 1918م تا 1962م ) کے نام سے سلطنت وجود میں آئی جس کے کارفرما حکمران زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔اس سلطنت کا سقوط ج 26 ستمبر1962م کے انقلاب میں ہوا ۔ یہ انقلاب در اصل ایک خانہ جنگی تھی جو مملکت متوکلیہ اور جمهورية اليمنية العربية  (Yemen Arab Republic)کے حامیوں کے درمیان یمن کے شمالی علاقوں میں شروع ہوئی ، یہ خانہ جنگی آٹھ سال جاری رہی ۔ اس خانہ جنگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یمن سے بادشاہت ختم ہوئی اور ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی۔جس کا نام عربی یمنی جمہوریہ (Yemen Arab Republic) رکھا گیا ۔ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد انقلابات ، بغاوتوں ، سورشوں اور قتل وغارت گری میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ۔اور وہاں کے حکمران بھی خفیہ طریقے سے قتل ہونے لگے ۔ 1978 م میں احمدحسین الغشمی کے قتل کے بعد علی عبد اللہ صالح نے حکومت کی باغ ڈور سنبھالی جو کچھ لمبے عرصے تک قائم رہی ۔ یہ صورت حال شمالی یمن کی ہے ۔

جبکہ یمن کے جنوبی علاقے برطانوی راج کے زیر اثر رہے ۔یہاں تک کہ 14 اکتوبر 1963م کے انقلاب میں جوکہ برطانوی تسلط کے خلاف تھا جنوبی یمن نے برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی ۔ جس کے بعد جو حکومت معرض وجود میں آئی اس کا نام جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية رکھا گیا ۔ اس طرح یمن میں دو جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں شمال میں جمهورية اليمنية العربية  (Yemen Arab Republic)  تھا جس کا مرکز صنعاء تھا جبکہ جنوب میں جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية عوامی جمہوری جمہوریہ یمن( (People's Democratic Republic of Yemen تھا ۔

سنہ 1990م میں یمن شمالی اور جنوبی میں وحدت

1990میں جمهورية اليمن الديموقراطية الشعبية اور جمهورية اليمنية العربية کا اتحاد ہوا اور دونوں مل کر ایک ملک بن گئے جسے وحدت یمن کا نام دیا گیا اس وحدت کی بنیاد یمنی قومیت کی بنا پر تھی ۔

شمال اور جنوب کے اتحاد ہونے کے بعد روس نے جنوبی یمن میں اپنی مداخلت اور سپورٹ بند کردی ۔ وحدت کا رسمی اعلان 22مئی 1990م کو کیا گیا اور اس میں علی عبد اللہ صالح کو صدر اور سالم البیض کو نائب صدر متعین کیا گیا ۔

11فروری 2011کا انقلاب

اس انقلاب کے بنیادی محرکات میں علی عبداللہ صالح کی پالیسیاں تھیں جن کے خلاف یہ اتحاد عمل میں آیا جس کےاہم اسباب مندرجہ ذیل تھے:

1: بے روزگاری

2: غربت

3: معیشت کی تباہی

4: بد امنی اور فساد

5: یمنی حکومت کی آئین میں تبدیلیوں کی کوشش

6: وراثتی حکومت

اس انقلاب کا آغاز پر امن مظاہروں کی صورت میں تھا بعد ازاں اس میں قدرے مسلح جدوجہد بھی نظر آئی لیکن وہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھی ۔یہ انقلاب درحقیقت نوجوانوں کا انقلاب تھا جس کے روح رواں یونیورسٹیز اور کالجز کے اسٹوڈنٹ تھے ۔ اس تحریک کے نتیجے میں 21 فروری 2012 م کو علی عبداللہ صالح کو حکومت اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کے سپرد کرنی پڑی۔

انقلاب کے اہداف میں :

1: علی عبد اللہ صالح کے نظام حکومت کا خاتمہ

2: جمہوری حکومت کی تشکیل

3: معیشت کی بہتری

4: محکموں کی خودمختاری

۵: عسکری اور سیکورٹی اداروں کی تعمیرنو قومی بنیادوں پر کی جائے۔

موجودہ حوثی بغاوت اور اس کی حقیقت :

عبوری دور :

علی عبد اللہ صالح کے حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک عبوری دور کا آغاز ہوااور طے پایا کہ اس عبوری دور میں عبد ربہ منصور ہادی سربراہ حکومت کے فرائض انجام دیں گے ۔ یمن میں ایک پر امن حل کیلئے خلیجی ممالک نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ خلیجی اینی شیٹو نے علی عبد اللہ صالح اور اس کی فیملی کو محفوظ راستہ دیا اور قانونی تحفظ فراہم کیا ۔ اقتدار منتقلی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے نمائندہ جمال بن عمر کی نگرانی میں منتقلی اقتدار کا فیصلہ کیا گیا ۔ جس کی سربراہی عبد ربہ منصور ہادی کر رہے تھےاس کے لئے ایک قومی مذاکراتی کانفرنس تشکیل دی گئی جسے 18 ستمبر 2013 تک اپنا کام مکمل کرنا تھا لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ کانفرنس کسی حتمی رائے تک معینہ مدت میں نہ پہنچ سکی ۔ جس بنا پر جمال بن عمر نے اعلان کیا کہ تمام مسائل ہونے اور نئے انتخابات کے انعقاد تک عبد ربہ منصور ہادی ہی یمن کے سربراہ رہیں گے ۔ 20جنوری 2014 کو مؤتمر وطنی یمنی اختتام پذیر ہوا اور 25 جنوری کو مذاکرات کامیاب ہونے پر ایک نئے ملک کے قیام پر اتفاق ہوا جس کا نام ’’جمهورية اليمن الإتحادية‘‘ Federal Republic of Yemen رکھا گیا ۔

الغرض ایک وسیع ترین قومی حکومت کی تشکیل کیلئے کاوشیں جاری تھیں کہ ایک باغی گروہ جو کسی طرح نہیں چاہتا تھا کہ یمن میں امن بحال ہو مختلف سورشوں کا آغاز کردیا ۔جس کی تفصیل آپ آئندہ سطور میں ملاحظہ کریں گے ان شاء اللہ ۔

حوثی بغاوت کے پس پردہ حقائق :

حوثی تحریک جوکہ اب جماعت انصاراللہ کے نام سے معروف ہے نے 2014 م کی ابتدا میں یمن کے شمالی علاقہ صعدہ سے جوکہ ان کا گڑھ ہے اپنے پڑوسی علاقے عمران پر عسکری حملہ کردیا ۔ جس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ قومی مذاکرات کانفرنس میں طے پانے والے اتحاد میں اسے سب سے بڑا حصہ اور کردار دیا جائے ۔

مگر پوری دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب حوثیوں نے اندورن خانہ علی عبد اللہ صالح کے ساتھ غیر اعلانیہ اتحاد کرکے ستمبر 2014م میں صنعاء پر قبضہ کرلیا ۔ فوضی تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد حوثیوں نے دیگر سرکاری املاک پر قبضے کا آغاز کردیا ۔ اس ضمن میں انہوں نے خالد بحاح کی حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرکے وفاقی آئین کی تشکیل میں حائل ہونا چاہا ۔ یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور بعد ازاں انہیں نظر بند کردیا ۔

پھر پارلیمنٹ تحلیل کرکے ایک آئینی اعلامیہ جاری کیا جس میں ایک عبوری اور ایک صدارتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ، اور ایران کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی ، یہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس نے پڑوسی ممالک میں تشویش کی لہر پیدا کردی۔ ان پیچیدہ حالات میں صدر ہادی عدن فرا ر ہوئے وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنا استعفیٰ کا اعلان واپس لیا ۔ اور خلیجی ممالک سے مدد کی درخواست کی جس بنا پر خلیجی ممالک نے یمن میں کاروائی کا آغاز کیا ۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ اتحادی ممالک کی یمن میں کاروائی کسی لحاظ سے بھی غیر قانونی نہیں تھی کیونکہ اتحادی افواج کی کاروائی یمن کے آئینی صدر کی طلب پر تھی ۔اوریہ کاروائی اقوام متحدہ کے آئین کے مطابق تھی ۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آئینی حکومت کسی قسم کا خطرہ محسوس کرتی ہے تو وہ دیگر ممالک سے مدد طلب کرسکتی ہے ۔

حوثی باغی کون ہیں؟:

تحریک انصار اللہ یا حوثی جماعت یمن کے زیدی شیعوں کی ایک معاشرتی ، سیاسی اور دینی مسلح تحریک ہے، جو دين و سياست دونوں ميں حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتی ہے، جبکہ ان کے افکار رافضی شیعوں سے مشابہ ہیں۔

1992م بعض رپورٹس کے مطابق 1991م میں یہ تحریک معرض وجود میں آئی اس کے زعیم اول حسین بدر الدین الحوثی ہیں جس نے حکومت یمن اور اپنے حمایتیوں کے درمیان اختلافات کو ہوادے کر فتنہ کھڑا کیا تھا، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے انہیں حوثی کہا جاتا ہے، جبکہ خود ان کا اپنی تنظیم کے لیے تجویز کردہ نام ’’ الشباب المومن‘‘ ہے۔

اس تحریک کے بانی بدر الدبن بن أمیر الدین الحوثی جو زیدی شیعوں کے اس وقت کے کبار علماء میں سے تھا ، جارودی المذہب تھا اس کی مذھبی ب&#1#1587;اط اور خبث اتنا تھا کہ وہ ،سیدنا ابو بکر ،سیدنا عمر ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے نام کے ساتھ ’’ رضی اللہ عنہم ’’ لکھنا جائز نہیں سمجھتا تھا ۔اس کے علاوہ اس نے اپنی تالیفات میں صحیحین ( بخاری ومسلم ) وغیرہ حدیث کی کتابوں پر کڑی تنقید کی اور امام بخاری و مسلم کو بادشاہوں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنے والے ’’ ملاؤں ’’ میں شمار کیا ۔

اس تنظیم کا مقصد صعدہ وغیرہ اور یمن کے دیگر علاقوں میں زیدی علماء کو ایک پرچم تلے اکٹھا اور اس وقت کی ایک اور زیدی تنظیم ’’ حزب الحق ’’ کی حمایت کرنا تھا۔ لیکن جلد ہی بدر الدین نے ’’ حزب الحق ’’ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ، جس کا سبب دونوں تنظیموں میں منہجی اور انتظامی قسم کے اختلافات تھے ، کیونکہ حوثی ، رافضی شیعوں کے اعتقادات کی جانب زیادہ مائل تھا۔

اور یوں 2000ء میں حوثی تحریک ایک مستقل حیثیت سے سامنے آئی۔ بدر الدین کے بعد اس کے بیٹے عبدالملک حوثی نے قیادت سنبھالی ۔ اور تحریک کا دائرہ کار ’’ صعدہ ’’ سے بڑھ کر یمن کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔

تحریک کی اہم سرگرمیاں :

1.      جمعے کے بعد مساجد و مراکز میں اسرائیل اور امریکہ کی بزعم خود مخالفت میں پرچم لہرانا ۔

2.       فلسطین اور یہودیوں کے معاملے کو زیر بحث لانا ۔

3.       ملک کے اندر نرخوں کی زیادتی ،معاشی بحران ، اور غریب و مساکین کے حقوق کا سہارا لیتے ہوئے امن و امان کی صورت کو بگاڑ نے کی کوشش کرنا ۔

4.       اسلامی تاریخ کے نازک ادوار کو زیر بحث لاکر لوگوں میں تفرقہ بازی کو ہوا دینا ، اور ’’ آل بیت ’’ کی محبت و نصرت کے بہانے لوگوں میں نفرتیں پھیلانا .

5.       مختلف دینی مناسبات مثلا عید غدیر اور یوم عاشوراء پر میں ایسی مصروفیات سر انجاد دینا جن سے قوت بازو اور چیلنج نمایاں ہو ۔

6.       سلف واہل سنت کو خطرہ ظاہر کرے اس سے لوگوں کو آگاہ کرنا ۔

7.       لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے "الله أكبر، الموت لأمريكا، الموت لإسرائيل، اللعنة على اليهود، النصر للإسلام "کا نعرہ لگانا۔

تحریک کے سرکردہ افراد :

·                     بدر الدین الحوثی (بانی)

·                     (بیٹا) حسین بن بدر الدین الحوثی (روحانی پیشوا 2004 میں قتل ہوا)

·                     (بیٹا) یحیی بن بدر الدین الحوثی (شعبہ تعلقات عامہ)

·                     (بیٹا) عبد الملک بن بدر الدین الحوثی (موجودہ پیشوا)

ابتدائی طور پر اس تحریک میں صرف نوجوانوں کی عملی و علمی تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا، جو بعد میں عسکری تربیت اور مشقوں میں تبدیل ہو گئی، پھر حکومت سے اپنے مطالبات بزور طاقت منوانا شروع کیے اور اختلاف بڑھتا گیا، حتی کہ اپنے ہی ہم مذہب صالح عبد اللہ سابق صدر یمن کے 32 سالہ دور کا خاتمہ بھی کر دیا۔

پھر منصور ہادی عبد ربہ عبوری صدر بنے جو کہ ان کے مذہب سے نہیں ہیں، اب کی بار سابقہ صدر نے اپنے 32 سالہ اثر و رسوخ کو استعمال کیا، اور موجودہ صدر کے بارے میں بغاوت شروع کی، اور معاملہ یہاں تک آ پہنچا کہ ان حوثیوں نے حرمین شریفین پر قبضہ کا عندیہ دے دیا۔

عموما ہمارے میڈیا میں یہ بات نشر کی جارہی ہے کہ حوثی قبائل کا مکہ مدینہ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ اس حوالے سے مکہ مدینہ کو کوئی خطرہ ہے ، تو ان مفاد پرست عناصر کی خدمت میں عرض ہے کہ حوثی تحریک کے ایک رہنما نے ایک ٹی وی پروگرام میں علی الاعلان یہ بات کہی ہے کہ اگر خلیجی ممالک اور سعودیہ اپنی حرکات سے باز نہیں آئے تو ہمارا اسٹاپ کعبۃ اللہ کا مقام رکن یمانی ہوگا ۔تفصیل کیلئے آپ یہ لنک ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=V5t3s1Rjuis

نیز حوثی تحریک کے سربراہ عبد الملک حوثی اپنی ایک تقریر میں سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ :’’انہیں اپنے فعل کی بہت بھاری قیمت عطا کرنی پڑے گی ‘‘۔

https://www.youtube.com/watch?v=Ac_4FdKIWEI

حوثیوں نے یمن کے شہر صن&#1#1593;اء سے حاجیوں اور معتمرین کو لے جانی والی حج وعمرہ کی ٹریول ایجنسیز کو بھی خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں جس کی بنا پر بہت سی حج وعمرہ کی کمپنیوں کو اپنا کام صنعاء سے عدن منتقل کرنا پڑا ۔ملاحظہ کیجئے:

https://newhub.shafaqna.com/.../10924408-

حوثیوں کے ایک اور رہنما عبد الکریم الخیوانی نے سعودیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے ۔ ملاحظہ کیجئے :

http://www.alainonline.net/news_details.php?sid=17955

ان تمام حقائق کے بعد بھی کوئی اس خام خیالی میں ہے کہ حوثیوں کا بیت اللہ اور مکہ ومدینہ کے حوالے سے کوئی برا ارادہ نہیں تو ایسے شخص کی آنکھوں پر فریب نفس ،دھوکہ اور تعصب کی پٹی کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر ان حوثیوں کو سعودیہ سے عداوت تھی تو یہ ریاض پر حملے کا ذکر کرتے کیونکہ آل سعود کا دار الخلاٖفہ ریاض ہے نہ کہ مکہ ومدینہ لیکن ان کے زعماء ورہنماؤں کامقدس مقام مکۃ المکرمہ کا نام لینے سے ان کے عزائم بخوبی واضح ہوچکے ہیں ۔ {قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} [آل عمران: 118] ۔

اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ حوثیوں کی سعودیہ سے دشمنی سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ،اور عقیدہ کی دشمنی ہے ۔ اور اس وجہ سے دشمنی ہے کہ سعودی حکمران بیت اللہ کے متولی کیوں ہیں ؟!

یہ چند مثالیں ہیں حوثیوں کے ناکام عزائم کی جو احباب عربی دان ہیں اور انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں انہیں ایسی بیسیوں مثالیں ملیں گی ۔ والعاقل تکفيه الإشارة۔

سعودی حکومت کی حمایت کیوں ضروری ہے ؟

1:حوثی بیت اللہ پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں ان کے ہاتھ روکنے ضروری ہیں ۔اورحرمین کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے ۔

امام حرم مکی جناب سعود الشریم حفظہ اللہ فرماتے ہیں :’’ یمنی باغیوں پر حملہ دینی ضرورت ہے یہ ایسا دشمن ہے جو حرمین شریفین پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے ‘‘۔

اور یہ بات ہم سابق الذکرسطور میں واضح کرچکے ہیں کہ ان کے کون سے زعماء نے حرمین کو ٹارگٹ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔

2: حوثی باغی ہیں اور قرآن مجید نے باغیوں سے لڑنے کا حکم دیاہے ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :(فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ )[الحجرات: 9]

3: سعودی حکمران متولیان حرم ہیں ، حرم کے ساتھ اس کے متولیوں کی حفاظت بھی لازم ہوتی ہے ۔

اور اگر وہ مدد طلب کرتے ہیں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے ۔ {وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ} [الأنفال: 72]

4:سعودی حکومت پاکستانیوں کی بالخصوص اور عالم اسلامی کی بالعموم محسن ہے ۔ اب اس محسن پر مشکل وقت پڑا ہے ان کی تائید وحمایت ہمارے لئے لازم بن جاتی ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :{هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60]

اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا::  ومن أتى إليكم معروفا فكافئوه ، فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى تعلموا أن قد كافأتموه ".((أحمد وأبو داود وصححه الألباني)

’’ جو آپ کے ساتھ نیکی کرے اس کو اس کا بدلہ دو ، اگر تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے تم اس کی نیکی کا بدلہ چکا سکو تو اس کیلئے دعا کرو ( اور اتنی دعا کرو کہ ) حتکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے اس کی نیکی کا بدلہ چکا دیاہے ‘‘۔

سعودی حکومت نے عالم اسلام کی ہر مشکل اور ہر قضیے میں مدد کی ۔ فلسطینی کاز کی سعودی حکومت نے سیاسی ، عسکری اور اقتصادی ہر میدان میں مدد کی ۔ عسکری سطح پر جب ۱۹۴۸ م میں عرب اور یہودیوں کے مابین جنگ لگی تو ملک عبد العزیز نے مکمل عسکری سپورٹ دی اور انہوں نےسعودی سولجرز کی ایک بڑی تعداد سویس نہر کے راستے روانہ کی جو یہودیوں کے خلاف مصری افواج کے شانہ بشانہ لڑی ۔ نیز اقتصادی اور سیاسی سپورٹ کی مثالیں ان گنت ہیں اس کیلئے ملاحظہ کریں کتا ب (جہود المملکۃ العربیۃ السعودیہ فی خدمۃ الدعوۃ الاسلامیۃ ماضیا وحاضرا) ۔

افغانستان میں سویت یونین کی جارحیت کے خلاف وہاں کی مسلمانوں کی سعودیہ کی جانب سے بھرپور مدد کی گئی ۔

سعودیہ نے محض محاذوں اور سورش زدہ علاقوں میں مسلمانوں کی حمایت نہیں کی بلکہ سیلاب ، زلزلوں ، اور دیگر قدرتی آفات میں بھی وہ اپنے بھائیوں کی مدد سے پیچھے نہیں رہے ۔ افریقا ہو یا ایشیا ، ہر جگہ سعودی پیش پیش رہے ۔ نوے کی دہائی کے چند ہی سالوں میں ایک رپورٹ کے مطابق ۷۷ بلین ریال کی مدد کی گئی ۔ افریقی ممالک میں قحط سالی کے وقت ایک ہزار ملین ریال کی نقد امداد دی گئی جبکہ غذائی اجناس اور ادویات اس کے علاوہ ہیں اس سے ۱۷ افریقی ممالک نے فائدہ اٹھایا ۔ ( المملكة وهموم الأقلیات ص 293)

1988م میں شمالی یمن میں زلزلوں میں سعودیہ نے 443ملین ریال کی مدد کی ۔ 1988 م ہی میں جب تونس میں سیلاب نے تباہی مچائی تو سعودی حکومت نے فورا 50ملین ڈالر کی امداد دی ۔ پاکستان میں زلزلوں اور سیلابوں میں سعودی حکومت نے جو مدد کی وہ ہماری حکومت اور عوام سے ڈھکی چھپی نہیں ۔

5:یمن کی سرزمین اور یمن کے رہنے والوں کی مدح م&##1740;ں احادیث نبویہ ﷺ وارد ہیں ۔ جس بنا پر یمن کے مظلوم لوگوں کی مدد تمام مسلمانوں کا فرض بنتاہے ۔

ذیل کی سطور میں یمن اور اس کے باسیوں کے فضائل میں وارد چند احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔

ارض حجاز میں جب نور ہدایت جلوہ افروز ہوا تو اس کی قرنیں یمن تک بھی پہنچی ہمارے پیارے پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے لبِ مبارک سے یمن کے باشندوں اور سرزمین یمن کیلئے کلمات خیر بھی کہے ۔

چند روایات ملاحظہ ہوں :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا"۔

اے اللہ ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما ۔ آپ ﷺ نے یہ دعا تین مرتبہ دہرائی ۔ صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول "وفی عراقنا"، ہمارے عراق کے متعلق بھی دعا فرمادیجئے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ إن بها الزلازل والفتن وهناك يطلع قرن الشيطان"۔’’وہاں زلزلے ہیں ، فتنے ہیں اور وہیں سے شیطان کے سینگ ابھریں گے یعنی شیطان کے مددگار نکلیں گے ‘‘۔ ( صحیح بخاری )

رسول اللہ ﷺنے سرزمین شام کے بعد یمن کو اہمیت دی اور وہاں رہائش اختیار کرنے کا حکم دیا ۔

ابن حوالہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ایک ایسا وقت آئے گا کہ اہل اسلام کے تین لشکر بن جائیں گے ۔ ایک شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ ابن حوالہ کہتے ہین میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے مشورہ دیجئے میں کس لشکر کو اختیار کروں اگر مجھے وہ زمانہ مل جائے تو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شام کے لشکر کو اختیار کرنا ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین سرزمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں اپنے بہترین لوگوں کو بساتاہے ۔ ہاں اگر ایسا نہ کرسکو تو یمن چلے جانا اور وہاں کے چشموں کا پانی پینا ۔۔۔‘‘ ( ابوداؤد )

ایک روایت میں ہے آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا :’’علیک بالشام‘‘ شام اختیار کرنا ۔ پھر فرمایا "فمن أبی فلیلحق بیمنه، ولیسق من غدرہ"۔یمن سے جا ملنا اور وہاں کے کنوؤں اور چشموں کا پانی پینا ۔

اہل یمن کی فضیلت :

آپ ﷺنے فرمایا : تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں جو نہایت نرم دل ، رقیق القلب لوگ ہیں ۔ ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے اور فقہ یمانی ہے ۔ اور کفر کا سر مشرق کی طرف ہے ۔ ( صحیح مسلم )

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے یمن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ الإيمان هاهنا‘‘ ایمان یہاں ہے ۔ جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک مرتبہ مکہ کے راستے میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تشریف لے جارہے تھے ۔ تو آپﷺ فرمانے لگے ’’ابھی تم پر اہل یمن نمودار ہونے والے ہیں جیسے کہ وہ بادل ہیں ۔ زمین میں بسنے والوں میں وہ بہترین لوگ ہیں‘‘ ۔

امام نووی نے صحیح مسلم میں اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے ’’ باب تفاضل أهل الایمان ورجحان أهل اليمن فيه ‘‘۔

اب ان تمام حقائق اور دلائل کے بعد بھی اگر کوئی شخص یمن جنگ میں سعودی اور یمن کی مظلوم عوام کی حمایت وتائید کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے تو پھر اس کیلئے یہی کہا جاسکتاہے ۔

آنکھیں اگر ہوں بند تو پھر دن بھی رات ہے اس میں بھلا قصور کیا ہے آفتاب کا

وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین