بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 19 تموز/يوليو 2014 00:00

لیلۃ القدر

:مقرر/مصنف 

لیلۃ القدر

اول :

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں بہت زيادہ عبادت کیا کرتے تھے ، اس میں نماز ، اورقرات قرآن اوردعا وغیرہ جیسے اعمال بہت ہی زيادہ بجالاتے تھے ۔

امام بخاری اورمسلم رحمہم اللہ نے اپنی کتاب میں سیدہ عائشۃ رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا ہے کہ :

 جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کوبیدار ہوتے اوراپنے گھروالوں کو بھی بیدار کرتے اورکمر کس لیتے تھے ۔

اورمسند احمد اورمسلم شریف میں ہے کہ :

رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی زیادہ کوشش کیا کرتے تھے جوکسی اورایام میں نہيں کرتے تھے ۔

دوم :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر میں اجروثواب حاصل کرنے کے لیے قیام کرنے پر ابھارا کرتے تھے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جوبھی لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اجروثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

یہ حدیث لیلۃ القدر میں قیام کی مشروعیت پر دلالت کررہی ہے ۔

سوم :

لیلۃ القدر میں سب سے بہتر اوراچھی دعا وہی ہے جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ نے سکھائي ہے ۔

امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائيں کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا علم ہوجائے تومجھے اس میں کیا کہنا چاہیۓ ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تم یہ کہنا : اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اورمعاف کرنا پسند فرماتا ہے لھذا مجھے معاف کردے ۔

چہارم :

رہا مسئلہ رمضان میں لیلۃ القدر کی تخصیص اورتحدید کا تویہ دلیل کا محتاج ہے جس میں اس کی تحدید کی گئي ہو ، لیکن یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ میں اورپھر اس کے طاق راتوں اورستائسویں رات بھی ہوسکتی ہے اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں ، ایک حدیث میں ہے کہ اسے آخری دس دنوں میں تلاش کرو ، لھذا اس کی تحدید نہیں ہوسکتی اتنا ہے کہ یہ آخری دس دنوں میں ہی گھومتی رہتی ہے ۔

پنجم :

بدعت تورمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ میں جائز نہیں توپھر رمضان کے مبارک ایام میں یہ کیسے جائز ہوسکتی ہے ، کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

جس نے بھی ہمارے اس دین میں کوئي نئی چيز پیدا کرلی جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔

اورایک روایت میں کچھ اس طرح ہے :

 جس نے بھی کوئي ایسا عمل کیا جس پرہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے ۔

توآج کل جورمضان کی بعض راتوں میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ہمیں تو اس کی کوئي دلیل نہیں ملتی ، اورسب سے بہتر اوراچھا و احسن طریقہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اورسنت ہی ہے اورسب سے برا طریقہ بدعات کی ایجاد اوراس پرعمل ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی صحیح اعمال کی توفیق بخشنے والا ہے ۔ 

 

ملاحظہ کیا گیا 1783 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 تموز/يوليو 2014 07:16
اسی زُمرے میں مزید : عقل و شعور اور اسلام »
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

لیلۃ القدر

اول :

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں بہت زيادہ عبادت کیا کرتے تھے ، اس میں نماز ، اورقرات قرآن اوردعا وغیرہ جیسے اعمال بہت ہی زيادہ بجالاتے تھے ۔

امام بخاری اورمسلم رحمہم اللہ نے اپنی کتاب میں سیدہ عائشۃ رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا ہے کہ :

 جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کوبیدار ہوتے اوراپنے گھروالوں کو بھی بیدار کرتے اورکمر کس لیتے تھے ۔

اورمسند احمد اورمسلم شریف میں ہے کہ :

رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی زیادہ کوشش کیا کرتے تھے جوکسی اورایام میں نہيں کرتے تھے ۔

دوم :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر میں اجروثواب حاصل کرنے کے لیے قیام کرنے پر ابھارا کرتے تھے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جوبھی لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اجروثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

یہ حدیث لیلۃ القدر میں قیام کی مشروعیت پر دلالت کررہی ہے ۔

سوم :

لیلۃ القدر میں سب سے بہتر اوراچھی دعا وہی ہے جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ نے سکھائي ہے ۔

امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائيں کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا علم ہوجائے تومجھے اس میں کیا کہنا چاہیۓ ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تم یہ کہنا : اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اورمعاف کرنا پسند فرماتا ہے لھذا مجھے معاف کردے ۔

چہارم :

رہا مسئلہ رمضان میں لیلۃ القدر کی تخصیص اورتحدید کا تویہ دلیل کا محتاج ہے جس میں اس کی تحدید کی گئي ہو ، لیکن یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ میں اورپھر اس کے طاق راتوں اورستائسویں رات بھی ہوسکتی ہے اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں ، ایک حدیث میں ہے کہ اسے آخری دس دنوں میں تلاش کرو ، لھذا اس کی تحدید نہیں ہوسکتی اتنا ہے کہ یہ آخری دس دنوں میں ہی گھومتی رہتی ہے ۔

پنجم :

بدعت تورمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ میں جائز نہیں توپھر رمضان کے مبارک ایام میں یہ کیسے جائز ہوسکتی ہے ، کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

جس نے بھی ہمارے اس دین میں کوئي نئی چيز پیدا کرلی جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔

اورایک روایت میں کچھ اس طرح ہے :

 جس نے بھی کوئي ایسا عمل کیا جس پرہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے ۔

توآج کل جورمضان کی بعض راتوں میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ہمیں تو اس کی کوئي دلیل نہیں ملتی ، اورسب سے بہتر اوراچھا و احسن طریقہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اورسنت ہی ہے اورسب سے برا طریقہ بدعات کی ایجاد اوراس پرعمل ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی صحیح اعمال کی توفیق بخشنے والا ہے ۔