بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

السبت, 22 أيلول/سبتمبر 2012 12:17

یہودی گستاخیاں

:مقرر/مصنف 

صہیونی گستاخیاں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم    اما بعد :

دورِ نبوی  صلی اللہ علیہ و سلم  میں بھی یہودی گستاخیاں اور مسلمانوں کیلئے رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ و سلم سے گفتگو کے آداب

 يٰٓا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكَافِرِيْنَ عَذَابٌ أَلِيْمٌ(104)

اے ایمان والو تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) ' راعنا ' نہ کہا کرو، بلکہ 'انظرنا ' کہو  یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔‏

رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلامُ علیکم کی بجائے السامُ علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالٰی نے فرمایا تم ـ ' اُنْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔

مِنَ الَّذِينَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيْلًا

بعض یہود کلمات کو ان کی ٹھیک جگہ سے ہیر پھیر کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور سن اس کے بغیر کہ تو سنا جائے اور ہماری رعایت کر (لیکن اس کہنے میں) اپنی زبان کو پیچ دیتے ہیں اور دین میں طعنہ دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرمانبرداری کی آپ سنئے ہمیں دیکھئے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا، لیکن اللہ تعالٰی نے ان کے کفر سے انہیں لعنت کی ہے پس یہ بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔(النساء46)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کی اپنی امت کے لئے خیر خواہی:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

‏ تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔

جس چیز سے تم کو تکلیف یا سختی پہنچے وہ ان پر بہت بھاری ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے آپ یہ ہی چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو اور دنیاوی و اخروی عذاب سے محفوظ رہے۔۔ تمہاری خیر خواہی اور نفع رسانی کی خاص تڑپ ان کے دل میں ہے۔ لوگ دوزخ کی طرف بھاگتے ہیں، آپ ان کی کمریں پکڑ پکڑ کر ادھر سے ہٹاتے ہیں۔ آپ کی بڑی کوشش اور آرزو یہ ہے کہ خدا کے بندے اصلی بھلائی اور حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔

ایسے مشفق پیغمبر سے کیسے برتاؤ کرنا ہے؟

يٰٓا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِه    ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۚ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo يٰٓا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَo إِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ أُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوٰى ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَّأَجْرٌ عَظِيمٌ

اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالٰی سننے والا، جاننے والا ہے۔‏ ‏ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔(الحجرات1تا3)

دین کے معاملے میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہ کرو نہ اپنی سمجھ اور رائے کو ترجیح دو، بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اپنی طرف سے دین میں اضافہ یا بد عات کی ایجاد، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی ناپاک جسارت ہے جو کسی بھی صاحب ایمان کے لائق نہیں۔ اسی طرح کوئی فتوٰی قرآن و حدیث میں غور و فکر کے بغیر نہ دیا جائے۔ مومن کی شان تو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے نہ کہ ان کے مقابلے میں اپنی بات پر یا کسی امام کی رائے پر اڑے رہنا۔

ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس ادب وتعظیم اور احترام وتکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے پہلا ادب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمہاری آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ ہو دوسرا ادب جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے کرو اس طرح اونچی اونچی آواز سے نہ کرو جس طرح تم آپس میں بےتکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا محمد یا احمد نہ کہو بلکہ ادب سے یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرو اگر ادب واحترام کے ان تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھو گے تو بے ادبی کا احتمال ہے جس سے بےشعوری میں تمہاے عمل برباد ہو سکتے ہیں اس آیت کی شان نزول کے لیے دیکھئے صحیح بخاری تفسیر سورۃ الحجرات تاہم حکم کے اعتبار سے یہ عام ہے ۔

جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تواضع اور ادب و تعظیم سے بولتے اور نبی کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کی تخم ریزی کے لیے پرکھ لیا اور مانجھ کر خالص تقویٰ و طہارت کے واسطے تیار کر دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ سے ہیں۔ قرآن، پیغمبر، کعبہ، نماز۔ ان کی تعظیم وہ ہی کرے گا جس کا دل تقویٰ سے مالا مال ہو۔

وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ۔

یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے((الحج آیت ٣٢))

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا خلاف ادب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ارشادات سننے کے بعد ان کے خلاف آواز اٹھانا کس درجہ کا گناہ ہوگا۔

ملاحظہ کیا گیا 3832 بار آخری تعدیل الإثنين, 23 كانون1/ديسمبر 2013 19:28

اسی سے ملتا جلتا

  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

صہیونی گستاخیاں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم    اما بعد :

دورِ نبوی  صلی اللہ علیہ و سلم  میں بھی یہودی گستاخیاں اور مسلمانوں کیلئے رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ و سلم سے گفتگو کے آداب

 يٰٓا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكَافِرِيْنَ عَذَابٌ أَلِيْمٌ(104)

اے ایمان والو تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) ' راعنا ' نہ کہا کرو، بلکہ 'انظرنا ' کہو  یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔‏

رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلامُ علیکم کی بجائے السامُ علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالٰی نے فرمایا تم ـ ' اُنْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔

مِنَ الَّذِينَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيْلًا

بعض یہود کلمات کو ان کی ٹھیک جگہ سے ہیر پھیر کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور سن اس کے بغیر کہ تو سنا جائے اور ہماری رعایت کر (لیکن اس کہنے میں) اپنی زبان کو پیچ دیتے ہیں اور دین میں طعنہ دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرمانبرداری کی آپ سنئے ہمیں دیکھئے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا، لیکن اللہ تعالٰی نے ان کے کفر سے انہیں لعنت کی ہے پس یہ بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔(النساء46)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کی اپنی امت کے لئے خیر خواہی:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

‏ تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔

جس چیز سے تم کو تکلیف یا سختی پہنچے وہ ان پر بہت بھاری ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے آپ یہ ہی چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو اور دنیاوی و اخروی عذاب سے محفوظ رہے۔۔ تمہاری خیر خواہی اور نفع رسانی کی خاص تڑپ ان کے دل میں ہے۔ لوگ دوزخ کی طرف بھاگتے ہیں، آپ ان کی کمریں پکڑ پکڑ کر ادھر سے ہٹاتے ہیں۔ آپ کی بڑی کوشش اور آرزو یہ ہے کہ خدا کے بندے اصلی بھلائی اور حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔

ایسے مشفق پیغمبر سے کیسے برتاؤ کرنا ہے؟

يٰٓا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِه    ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۚ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo يٰٓا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَo إِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ أُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوٰى ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَّأَجْرٌ عَظِيمٌ

اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالٰی سننے والا، جاننے والا ہے۔‏ ‏ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔(الحجرات1تا3)

دین کے معاملے میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہ کرو نہ اپنی سمجھ اور رائے کو ترجیح دو، بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اپنی طرف سے دین میں اضافہ یا بد عات کی ایجاد، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی ناپاک جسارت ہے جو کسی بھی صاحب ایمان کے لائق نہیں۔ اسی طرح کوئی فتوٰی قرآن و حدیث میں غور و فکر کے بغیر نہ دیا جائے۔ مومن کی شان تو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے نہ کہ ان کے مقابلے میں اپنی بات پر یا کسی امام کی رائے پر اڑے رہنا۔

ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس ادب وتعظیم اور احترام وتکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے پہلا ادب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمہاری آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ ہو دوسرا ادب جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے کرو اس طرح اونچی اونچی آواز سے نہ کرو جس طرح تم آپس میں بےتکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا محمد یا احمد نہ کہو بلکہ ادب سے یا رسول اللہ کہہ کر خطاب کرو اگر ادب واحترام کے ان تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھو گے تو بے ادبی کا احتمال ہے جس سے بےشعوری میں تمہاے عمل برباد ہو سکتے ہیں اس آیت کی شان نزول کے لیے دیکھئے صحیح بخاری تفسیر سورۃ الحجرات تاہم حکم کے اعتبار سے یہ عام ہے ۔

جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تواضع اور ادب و تعظیم سے بولتے اور نبی کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کی تخم ریزی کے لیے پرکھ لیا اور مانجھ کر خالص تقویٰ و طہارت کے واسطے تیار کر دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ سے ہیں۔ قرآن، پیغمبر، کعبہ، نماز۔ ان کی تعظیم وہ ہی کرے گا جس کا دل تقویٰ سے مالا مال ہو۔

وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ۔

یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے((الحج آیت ٣٢))

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا خلاف ادب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ارشادات سننے کے بعد ان کے خلاف آواز اٹھانا کس درجہ کا گناہ ہوگا۔