بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الأحد, 16 كانون1/ديسمبر 2012 02:09

مروّجہ اسلامی بینکاری اورمرابحہ (Murabaha)

مولف/مصنف/مقرر  حافظ ذوالفقار علی

 مروّجہ اسلامی بینکاری اورمرابحہ (Murabaha)

Muarbahaمروجہ اسلامی بینکوں نے فنانسنگ کے جو مختلف طریقے متعارف کرائے ہیں ان میں سر فہرست مرابحہ ہے۔ جس کو اسلامی بینکنگ کے نام پر وسیع پیمانے پر فروغ حاصل ہوا ہے۔

بیع مرابحہ کا مفہوم یہ ہے۔

’’فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ میں نے یہ اتنے میں خریدی ہے اور اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر تمہیں فروخت کرتا ہوں۔‘‘

چنانچہ علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ بن احمد بن محمد قدامہ حنبلی مقدسی فرماتے ہیں:

(معنی بیع المرابحۃ، ھو البیع براس المال وربح معلوم، ویشترط علمھما براس المال فیقول راس مالی فیہ او ھو علی بمائۃ بعتک بھا، وربح عشرۃ)[المغنی:۶ ص، ۲۶۶]

’’مرابحہ کا معنی ہے اصل لاگت اور متعین نفع کے ساتھ فروخت کرنا اس میں ضروری ہے کہ فروخت کنندہ اور مشتری کو اصل لاگت معلوم ہو، چنانچہ بیچنے والا یہ کہے کہ اس میں میرا اصل سرمایہ سو ہے یا یہ مجھے ایک سو کی پڑی ہے میں آپ کو دس نفع لے کراتنے میں بیچتا ہوں۔‘‘

لغت کی مشہور کتا ب’’المعجم الوسیط‘‘ میں ہے:

(ھو بیع براس المال مع زیادۃ معلومۃ)

اصل قیمت پر متعین نفع کے ساتھ فروخت کرنا بیع مرابحہ ہے۔ عام بیع اور مرابحہ میں یہ فرق ہے کہ عام بیع میں چیز کی اصل قیمت اور اپنا نفع بتانا ضروری نہیں ہوتا جبکہ مرابحہ میں مشتری کو اصل قیمت سے آگاہ کرنا لازمی شرط ہے۔

مرابحہ کی ضرورت اور اس کے بنیادی اصول:

مرابحہ ایک تمدنی اور معاشرتی ضرورت ہے کیونکہ ہر آدمی میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی چیز کو اس کی اصل قیمت پر مناسب نفع کے بدلے خرید سکے بعض دفعہ فروخت کنندہ اصل قیمت سے بھی کئی گنا زیادہ نفع مانگ لیتا ہے۔ اس بناء پر انسان سوچتا ہے کہ کوئی ایسا شخص مل جائے جو اپنی لاگت پر معقول نفع لے کر بیچنے پر تیار ہو۔ اس لحاظ سے بیع مرابحہ کی بنیاد امانت داری پر ہے لہذا اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ ہر قسم کی خیانت اور غلط بیانی سے مبرا ہوا اور مشتری کو اصل قیمت کا علم ہو جیسا کہ ’’الموسوعۃ الفقیۃ الکویتیۃ‘‘ میں ہے۔

(یشترط ان یکون الثمن الاول معلوما للمشتری الثانی لان العلم بالثمن شرط فی صحۃ البیوع فاذا لم یعلم الثمن الاول فسد العقد)

’’اس میں یہ شرط ہے کہ مشتری ثانی کو پہلی قیمت کا علم ہو۔ کیونکہ بیوع کے صحیح ہونے کے لیے قیمت کا علم شرط ہے۔ جب پہلی قیمت کا علم نہیں ہوگا تو عقد فاسد ہو جائے گا۔‘‘

مرابحہ کی مختلف قسمیں اور ان کا شرعی حکم:

نفع کے تعین کے اعتبار سے مرابحہ کی دو صورتیں ہیں:

۱۔پوری قیمت پر نفع کی ایک مخصوص مقدار مقرر کر لی جائے۔ مثلا یوں کہا جائے کہ اس قیمت سے اتنے روپے زائد میں بیچتا ہوں یہ صورت سب کے نزدیک جائز ہے۔ چنانچہ علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ بن احمد بن محمد قدامہ حنبلی مقدسی رقم طراز ہیں:

(فھذا جائز لا خلاف فی صحتہ، ولا نعلم فیہ عند احد کراھۃ) [الغنی:۶ص ۲۶۶]

’’یہ جائز اس کے صحیح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہمیں نہیں علم کہ اس کے متعلق کسی سے کراہت منقول ہو۔‘‘

۲۔دوسری صورت یہ ہے کہ نفع کا ایک خاص تناسب طے کر لیا جائے۔ مثلا یوں کہا جائے کہ اصل قیمت پر اتنے فیصد زائد نفع وصول کروں گا۔ صحابہ اور فقہاء کے ہاں یہ صورت بیع ’’دہ یاز دہ‘‘یا’’ دہ دواز دہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس چیز میں میرا اصل سرمایہ اتنے روپے ہے اور میں ہر دس کے بدلے ایک روپیہ یا ہر دس کے بدلے دو روپے نفع لوں گا اس کے جواز میں اختلاف ہے۔

قاضی شریح سعید بن مسیب اور ابراہیم نخعی ا سکے جائز ہونے کے قائل ہیں۔

چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہنقل فرماتے ہیں:

(عن شریح و سعید بن السیب و ابراہیم النخعی انھم کانوا یجیزون بیع دہ دوازدہ)[السنن الکبری: کتاب البیوع، باب المرابحہ]

’’شریح سعید بن مسیب اور ابراہیم نخعی بیع دہ دواز دہ جائز قرار دیتے ہیں۔‘‘

امام ابن سیرین رحمہ اللہسے منقول ہے:

(لا بأس ببیع دہ دوازدہ)[مصنف عبدالرزاق: کتاب البیوع، باب بیع دہ دوازدہ]

’’بیع دہ دوازدہ میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہکا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ چنانچہ انہوں نے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہکا یہ قول نقل کیا ہے:

(لا بأس العشرۃ باحد عشر، ویاخذ للنفقۃ ربحا)[صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب من اجری الامصار علی ما یتعارفون بینھم فی البیوع والا جازۃ]

’’اس میں کوئی حرج نہیں کہ دس کو گیارہ کے بدلے بیچے اور اخراجات پر بھی نفع وصول کریں۔‘‘

شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہاس کی تشریح میں لکھتے ہیں:

(ای لا باس ان یببع ما اشتراہ بمائۃ دینار مثلا کل عشرۃ منہ باحد عشر فیکون راس المال عشرۃ والربح دینارا۔)[فتح الباری]

’’یعنی اس میں کوئی حرج نہیں کہ جو چیز سو دینار کی خریدی ہے وہ اس طرح بیچے کہ ہر دس کے بدلے گیارہ دینار لوں گا تو اصل مال دس دینار ہوئے اور ایک دینار نفع۔‘‘

امام ثوری رحمہ اللہامام شافعی رحمہ اللہاہل الرائے اور ابن منذر کی رائے میں بھی یہ جائز ہے۔ [المغنی: ۶ ص ۲۶۶]

اس کے برعکس سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے میں مرابحہ کی یہ صورت ناجائز ہے۔ چنانچہ سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

(بیع دہ دوازدہ ربا)[مصنف عبدالرزاق: کتاب البیوع، باب بیع دہ دوازدہ]

’’بیع دہ دوازدہ سود ہے۔‘‘

اور عبداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں:

(سمعت ابن عباس یکرہ بیع دہ دوازدہ قال و ذلک بیع الا عاجم)[السنن الکبری للبیھقی و مصنف عبدالرزاق: کتاب البیوع، باب المرابحۃ]

’’ میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے سنا کہ وہ بیع دہ دوازدہ کو مکروہ سمجھتے تھے فرماتے تھے یہ عجمیوں کی بیع ہے۔‘‘ امام احمد نے بھی اس کو مکروہ کہا ہے اور امام اسحاق بن راہویہ کے خیال میں بھی یہ ناجائز ہے۔

راجح رائے:

اگر فریقین کے دلائل کا موازنہ کیا جائے تو حسب ذیل وجوہ کے باعث ان بزرگوں کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے جو اس کے حق میں ہیں۔

٭قرآن و حدیث میں کوئی ایسی نص نہیں جو اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہو۔ نیز اس سے کسی شرعی ضابطے کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوتی۔

٭پہلی قسم کی طرح اس میں بھی ہر چیز واضح ہے اصل لاگت بھی معلوم ہوتی ہے اور نفع بھی متعین ہے۔

٭جہاں تک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے آثار کا تعلق ہے ان کے بارے میں امام بیہقی رحمہ اللہفرماتے ہیں۔

(وھذا یحتمل ان یکون انما نھی عنہ اذا قال ھو لک بدہ یازدہ او قال بدہ دوازدہ لم یسم راس المال ثم سماہ عند النقد و کذلک ماروی عن ابن عمر فی ذلک)[السنن الکبری: کتاب البیوع، باب المرابحۃ]

’’اس کا مطلب ہے کہ یہ ممانعت تب ہے جب یہ کہے کہ یہ چیز میں تجھے اس طرح فروخت کرتا ہوں کہ ہر دس کے بدلے ایک یا ہر دس کے بدلے دو نفع لوں گا۔ اصل لاگت کا تذکرہ نہ کرے پھر ادائیگی کے وقت اس کی وضاحت کرے۔‘‘

سیدنا عبداللہ عمررضی اللہ عنہ کی روایت کا بھی یہی مطلب ہے۔ یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اثر سنداً بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کو سفیان بن عیینہ صیغہ عن سے بیان کر رہے ہیں اور مدلس ہیں۔

مرابحہ میں ضمنی اخراجات کا حکم:

یہاں یہ امر بھی قابل ملاحظہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز پر جو اخراجات آتے ہیں فروخت کنندہ ان کو بھی اصل لاگت میں شامل کر کے مجموعی لاگت پر نفع حاصل کر سکتا ہے۔ اوپر صحیح بخاری کے حوالے سے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہکا یہ قول نقل ہوا ہے کہ فروخت کنندہ اخراجات پر بھی نفع لے سکتا ہے۔ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہراقم طراز ہیں:

(للبائع ان یحسب فی المرابحۃ جمیع ماصرفہ ویقول قام علی بکذا)[فتح الباری]

’’مرابحہ میں بائع کو یہ بھی حق ہے کہ وہ تمام اخراجات کو شمار کر کے یہ کہے کہ مجھے یہ چیز اتنی رقم (قیمت) میں پڑی ہے۔

بیع مرابحہ اور بینکاری:

مذکورہ بالا تفصیل سے مرابحہ کا شرعی تصور اور اس کے اصول و مبادی نکھر کر سامنے آگئے ہیں اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اس کا بینکاری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ اسلامی بینکاری کے حامی مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:

’’ آج کل معاشی حلقوں میں ایک بینکاری کا طریقے کے طور پر مروج ہے۔ جبکہ مرابحہ کا اصل تصور اس خیال سے مختلف ہے۔ مرابحہ اصل میں اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے اور اس سے مراد ایک قسم کی بیع ہوتی ہے۔ جس کا اپنے اصل تصور کے اعتبار سے تمویل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘[اسلامی بینکاری کی بنیادیں:ص ۹۶]

دوسری وجہ لکھتے ہیں:

’’بنیادی طور پر مرابحہ طریقہ تمویل نہیں بلکہ بیع کی ایک خاص قسم ہے۔ شریعت کی رو سے تمویل کے مثالی طریقے ’’مشارکہ‘‘ اور ’’مضاربہ‘‘ ہیں۔

ٓآگے چل کر لکھتے ہیں:

’’ یہ بات کسی صورت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ مرابحہ اصل کے اعتبار سے طریقہ تمویل نہیں۔ یہ تو صرف سود سے بچنے کا ایک وسیلہ اور حیلہ ہے۔ ایسا مثالی ذریعہ تمویل نہیں جو اسلام کے معاشی مقصد کی تکمیل کرتا ہو۔‘‘[اسلامی بینکاری کی بنیادیں:۱۰۸]

اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ:

اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ اصل میں ’’المرابحۃ اللآ مر بالشراء یا المرابحۃ للواعد بالشراء یعنی خریدار کا آرڈر دینے یا خریدار کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ مرابحہ کا معاملہ کرنا ہے۔ اس کو مرابحہ مرکبہ بھی کہتے ہیں۔

اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کلائنٹ بینک سے درخواست کرتاہے کہ آپ میرے لیے اس کو الٹی کی فلاں فلاں چیز خرید لیں میں وہ مرابحہ کی بنیاد پر آپ سے خرید لوں گا۔ شرح منافع کا تعین پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ اور اس کا تعین شرح سود سے کیا جاتاہے۔ عام طور پر بینک کلائنٹ کی دلچسپی جانچنے کے لیے ٹوکن منی (الحامش الجدی) بھی وصول کرتا ہے پھر جب بینک حسب وعدہ مطلوبہ سامان خرید لیتا ہے تو باقاعدہ بیع کے ذریعے کلائنٹ کو فروخت کرتا ہے اور کلائنٹ عموما اپنے وعدے کے مطابق خریدنے کا پابند ہوتا ہے۔ بعض دفعہ بینک پر بھی وعدے کی پابندی لازم ہوتی ہے لیکن عموما بینک آزادہی ہوتاہے۔ اگر بینک کے سامان خریدنے کے بعد کلائنٹ حسب وعدہ خریدنے سے انکار کر دے تو بینک وہ سامان کسی دوسرے کو بیچ دیتا ہے اور اصل لاگت سے جتنا خسارہ ہوتا ہے وہ وعدہ کرنے والے سے وصول کرتا ہے۔ بینک چونکہ تجارتی ادارہ نہیں اس لیے وہ خود سامان خریدنے کے بجائے اس کلائنٹ کو ہی خریداری کے لیے وکیل مقرر کر دیتا ہے کہ آپ یہ سامان خود خرید لیں۔ اور اکثر کلائنٹ اپنا سپلائر بھی خود متعین کرتا ہے اور اس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ بینک اسی سے مطلوبہ سامان خرید کر اسے فروخت کرے۔ کلائنٹ کا بینک کے ساتھ یہ معاہدہ بھی ہوتا ہے کہ بیع کے بعد اگر اس نے وعدے کے مطابق ادائیگی نہ کی تو وہ اتنی رقم بینک کے زیر نگرانی قائم خیراتی فنڈ میں جمع کروائیگا۔

اس سے واضح ہوتاہے کہ اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ قطعا وہ نہیں جس کو ہمارے اسلام نے جائز قرار دیا ہے بلکہ اس میں اور شرعی مرابحہ میں کئیایک اعتبار سے فرق ہے۔مثلاً:

٭شرعی مرابحہ میں بیچا جانے والا سامان تاجر کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ہے اس کے برعکس اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ میں مطلوبہ سامان بینک کے پاس موجود نہیں ہوتا۔

٭شرعی مرابحہ میں چونکہ تاجر نے سامان خریداری کے آرڈر یا وعدے کے بغیر خریدا ہوتا ہے اس لیے وہ حالات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ممکن ہے گاہک فورا آجائے اور یہ فروخت ہو جائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کو طویل عرصہ تک انتظار کرنا پڑے اور یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں بازار میں اس چیز کی قیمت کم ہو جائے اور یہ نقصان اٹھا کر بیچنے پر مجبور ہو۔ اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ میں بینک کو یہ خطرات در پیش نہیں ہوتے۔

٭شرعی مرابحہ ایک ہی مرحلہ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف اسلامی بینکوں میں مروجہ مرابحہ دومختلف مرحلوں میں انجام پاتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں وعدہ ہوتا ہے اور دوسرے مرحلہ میں عقد کی رسم ادا ہوتی ہے۔

٭ شرعی مرابحہ میں ادائیگی نقد بھی ہو سکتی ہے اور ادھار بھی لیکن بینکاری مرابحہ موجل ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگ بینکوں میں جاتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کے پاس رقوم نہیں ہوتیں۔

٭شرعی مرابحہ کا معاملہ کرتے وقت سود فریقین کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتا جبکہ اسلامی بینکوں میں نفع کا تعین ہی شرح سود سے ہوتا ہے۔

٭شرعی مرابحہ میں صرف دو فریق ہوتے ہیں: (۱)بیچنے والا(۲)خریدنے والا۔

اس کے برعکس یہاں ایک تیسرا فریق بینک بھی ہوتا ہے۔

مروجہ مرابحہ کا شرعی حکم:

یہ صورت چونکہ شرعی مرابحہ سے بالکل مختلف ہے اس لیے اس کو شرعی مرابحہ کی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کا جواز اس بات پر موقوف ہے کہ یہ پوری طرح شرعی اصول سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟

جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان ہوا کہ مرابحہ کی بنیاد پر بیچی جانے والی چیز نہ تو پہلے سے بینک کے پاس موجود ہوتی ہے اور نہ ہی بینک براہ راست خریدتا ہے بلکہ وہ کلائنٹ سے کہتا ہے کہ آپ میرے ایجنٹ کی حیثیت سے یہ چیز خود خرید لیں۔ لہذا مناسب ہوگا کہ مرابحہ کی مختلف صورتوں کا الگ الگ حکم بیان کرنے سے قبل کلائنٹ کو وکیل بنانے کی شرعی حیثیت واضح کردی جائے۔

کلائنٹ کے ذریعے خریداری کی شرعی حیثیت:

اس امر پر سب متفق ہیں کہ مرابحہ ایک جائز طریقہ تجارت تو ہے مگر یہ طریقہ تمویل نہیں ہے۔ لہذا اسے اس طرح انجام دینا کہ یہ عام بیع کی بجائے سودی لین دین کا معاملہ نظر آئے درست نہیں۔ کلائنٹ کو خریداری کا ایجنٹ بنانے میں سودی لین دین کے ساتھ مشابہت بالکل واضح ہے اس لیے موجودہ اسلامی بینکوں کے حامی بھی اس کی اجازت نہیں دیتے۔ چنانچہ ’’المعاییر الشرعیۃ‘‘ میں ہے۔ ’’الاصل ان تشتری المئوسسۃ السلعۃ بنفسھا مباشرۃ من البائع ویجوزلھا تنفیذ ذلک عن طریق وکیل غیر الآمر بالشراء ولا تجعل لتوکیل العمیل (الآمر بالشراء) الاعند الحاجۃ الملحۃ)[ص۱۱۲]

’’اصل یہ ہے کہ بینک فروخت کنندہ سے براہ راست خود سامان خریدے۔ اور بینک ایجنٹ کے ذریعے بھی خرید سکتا ہے مگر وہ ایجنٹ کلائنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا ہونا چاہیے ناگزیر صورت کے علاوہ کلائنٹ کو ایجنٹ نہیں بنانا چاہیے۔‘‘

اسلامی بینکاری کے لیے سر گرم عمل مولانا تقی عثمانی dصاحب لکھتے ہیں:

’’کلائنٹ کو وکیل بنادینا تاکہ وہ تمویل کار کی طرف سے اس چیز کو خرید لے مرابحہ کو مشتبہ بنا دیتا ہے اس وجہ سے بعض شریعہ بورڈز نے اس تکنیک کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔‘‘ [اسلامی بینکاری کی بنیادیں:ص 164]

طرفہ تماشا یہ ہے کہ تقریبا تمام اسلامی بینک اسی تکنیک کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اب ذیل میں شرعی اصول کی روشنی میں اس کی مختلف صورتوں کا الگ الگ حکم بیان کیا جاتا ہے۔

پہلی صورت:

اس معاملہ کی پہلی صورت یہ ہے کہ بینک کیساتھ کیے ہوئے وعدہ کی پابندی فریقین کے لیے لازم ہو کہ بینک ہرصورت سامان دینے اور کلائنٹ خریدنے کا پابند ہو۔ یہ صورت عملًا بیع ہی کی ہے جو شرعی اصول سے متصادم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

چنانچہ ڈاکٹر محمد سلیمان الاشقر لکھتے ہیں:

’’واذا تم ھذا فان الاتفاق فی الحقیقۃ ھو عقد لان مافیہ من اتفاق اراد تین علی انشاء حق فھو عقد بلاریب ولوسمی وعدا فھو عقد ایضا فاذا جری الاتفاق علی ھذہ الطریقۃ فھوعقد باطل و حرام لاسباب‘‘ [بحوث فقہیۃ فی قضاء اقتصادیۃ معاصرۃ: ج ۱ ص ۸۲]

’’جب یہ معاملہ پورا ہو جائے تو یقینا یہ ایگریمنٹ در حقیقت عقد ہے۔ کیونکہ دو ارادوں کا ایک حق کو وجود میں لانے پر اتفاق بلاشبہ عقد ہے اگرچہ اسے وعدے کا نام بھی دیا جائے پھر بھی یہ عقد ہے جب ایگریمنٹ اس طریقے کے مطابق پورا ہو تو وہ چند اسباب کی بناء پر باطل اور حرام ہے۔‘‘

وہ کون سے شرعی اسباب ہیں جن کی بنیاد پر یہ عقد حرام قرار پاتا ہے اس کی وضاحت میں شیخ اشقر فرماتے ہیں:

٭اس کے حرام ہونے کا پہلا سبب یہ ہے کہ بینک کلائنٹ کو ایک ایسی چیز بیچ رہا ہے جو ابھی تک اس کی ملکیت نہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس چیز کی بیع کی ممانعت فرمائی ہے جو قبضے میں نہ ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بیع سے بھی منع فرمایا ہے کہ ایسی چیز آگے بیچی جائے جو انسان کے پاس موجود نہ ہو۔

٭بینک نے معلق (contingent) بیع کی ہے کیوں کہ کلائنٹ بینک سے یہ کہتا ہے کہ اگر تم اس کو خرید لو تو میں تم سے لے لوں گا جبکہ شرعی طور پر بیع معلق صحیح نہیں ہے۔

٭اس کی حرمت کا تیسرا سبب یہ ہے کہ یہ سود پر قرض دینے کا حیلہ ہے۔

٭اگر بیچی جانے والی چیز کا تعلق غذائی اشیاء سے ہو تو اس میں ممانعت کا چوتھا سبب بھی شامل ہو جاتا ہے۔ جس کی طرف امام ابن عبدالبر رحمہ اللہنے اشارہ کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طعام کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ تاجر اسے اٹھا کر اپنے ٹھکانوں پر لے جائیں۔ [بحوث فقیھۃ فی قضایا اقتصادیۃ معاصرۃ: ج۱]

علاوہ ازیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کے بھی مخالف ہے۔

(البیعان بالخیار مالم یتفرقا) [صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب کم یجوز الخیار]

’’الگ ہونے تک بائع و مشتری دونوں کو (فسخ بیع) اختیار ہوتا ہے۔‘‘

لیکن بینک میں مروجہ مرابحہ میں یہ اختیار سلب کر لیا جاتا ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہفرماتے ہیں:

’’واذا أری الرجل الرجل السعلۃ فقال اشتر ھذہ واربحک فیھا کذا فاشتراھا الرجل فالشراء جائز والذی قال اربحک فیھا بالخیار ان شاء أحدث فیھا بیعا وان شاء ترکہ وھکذا ان قال اشترلی متاعا ووصفہ لہ او متاعا ای متاع شئت وانا اربحک فیہ فکل ھذا سواء یجوز البیع الاول ویکون ھذا فیما اعطی من نفسہ بالخیار)[کتاب الام:ج ۳ ص ۳۹]

‘‘جب ایک شخص دوسرے کو کوئی چیز دکھا کر یہ کہے کہ یہ خرید لیں میں آپ کو اتنا منافع دوں گا اس پر وہ شخص وہ چیز خرید لے تو پھر یہ خریداری جائز ہوگی۔ تاہم جس نے یہ کہا تھا کہ میں اتنا نفع دے دوں گا اس کو اختیار ہے اگر چاہے تو بیع کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ اور اسی طرح اگر یہ کہے کہ میرے لیے فلاں قسم کا سامان خرید لو یا یہ کہے کہ جو سامان تم چاہو وہ خرید لو میں آپ کو اس میں اتنا نفع دوں گا تو پہلی بیع جائز ہو گی اور آرڈر دینے والے کو اختیار ہوگا۔‘‘

مزید لکھتے ہیں: (وان تبایعابہ علی ان الزما انفسھما الامر الاول فھو مفسوخ من قبل شیئین احدھما انہ تبایعاہ قبل یملکہ البائع والثانی انہ علی مخاطرۃاِن اشتریتہ علی ہذا اربحک فیہ کذا)

’’اگر دونوں اس چیز کی اس طرح بیع کریں کہ وہ دونوں پہلے آڈر کو لازم سمجھیں تو یہ دو وجہ سے فسخ ہو گی۔

۱) دونوں نے چیز ملکیت میں آنے سے پہلے بیع کی ہے۔

۲)اس میں غرر ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ اگر آپ اتنے کی خرید لیں تو میں آپ کو اتنا نفع دوں گا۔‘‘ [حوالہ مذکورہ]

نیز یہ بیع الکالی بالکلالی کی قبیل سے ہے۔ کیونکہ بینک نے سامان بعد میں دینا ہے اور کلائنٹ نے قیمت بعد میں ادا کرنی ہے۔ شرعی طور پر یہ بھی ممنوع ہے۔

(ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم نھی عن بیع الکالیء بالکالیء )[سنن دارقطنی: ۵۔۳۱]

’’بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ادھا ر کے بدل ادھار بیع سے منع فرمایا ہے۔‘‘

امام شوکانی رحمہ اللہفرماتے ہیں یہ روایت تو ضعیف ہے لیکن اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ ادھار کی ادھار کے بدلے بیع جائز نہیں۔ [نیل الاوطار: ج ۸، ص ۲۱۳]

مالکی فقہاء نے مکروہ بیع کی ایک صورت یہ بھی ذکر کی ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے یہ کہے

’’کیا آپ کے پاس فلاں فلاں چیز ہے جو آپ مجھے ادھار بیچ دیں۔‘‘ [الموسوعۃ الفقیھۃ الکویتیۃ بحوالہ مواجب الجلیل للخطاب البیان والتحصیل لابن رشد]

اسلامی بینک کاری کے ماہر ڈاکٹر رفیق یونس مصری لکھتے ہیں:

(فاذا لم یکن ھنالک خیار فانھا لا تجوز لان المواعدۃ الملزمۃ فی بیع المرابحۃ تشبہ البیع نفسہ حیث یشترط عندئذ ان یکون البائع مالکا للمبیع حتی لا تکون ھنالک مخالفۃ لنھی النبی صلی اللہ علیہ و سلم ان یبیع الانسان مالیس عندہ فالمرابحۃ ظاھر ھا البیع وباطنھا التمویل فانھا لاتجوز)[المصارف الاسلامیۃ: ص ۳۳]

’’جب اختیار نہ ہو تو معاملہ جائز نہیں کیونکہ بیع مرابحہ میں لازمی وعدہ نفس بیع کے مشابہہ ہے۔ جب بیع میں یہ شرط ہے کہ فروخت کنندہ بیچی جانے والی چیز کا مالک ہو تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کہ ’’جو انسان کے پاس نہیں وہ بیچنا منع ہے۔‘‘ کا ظاہری مطلب بیع ہو اور حقیقت میں فنانسنگ ہوتو یہ جائز نہیں۔‘‘

شیخ بکر بن عبداللہ ابو زید رحمہ اللہفرماتے ہیں:

’’فکیف یجوز للمصرف ان یبیع مالم یملک اصلا و یصافق ویربح فیہ فملکہ تقدیری لا حقیقی استیلاء ہ علیہ تقدیری لا حقیقی فالمنع من ھذا یکون وصف باب الاولی‘‘[فقہ النوازل: ج۲، ص ۹۳]

’’بینک کے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ ایک ایسی چیز بیچے کہ جس کا وہ بالکل ہی مالک نہیں ہے وہ سودا حاصل کر کے نفع حاصل کرتا ہے حالانکہ وہ چیز اسکی تقدیری ملکیت میں ہے نہ کہ حقیقی۔ چنانچہ اس کی ممانعت بدرجہ اولی ہونی چاہیے۔‘‘

ڈاکٹر احمد ریان لکھتے ہیں:

’’ھذا العقد تکتفہ مجموعۃ من المحاذیر الفقھیۃ التی من اھمھا: ان الوعد من العمیل بالشراء، وموافقۃ المصرف علی ذلک؛ ھو عقد حتی وان کتب فی الاوراق انہ وعد، لان العبرۃ بالمعانی ولیست بالمبانی کما یقول الفقھاء، وبما انہ عقد فیشترط لہ توفر کافۃ شروط عقد البیع، واکثرھا غیر متوفرۃ فیہ‘‘

[فقۃ البیوع المنھی عنھا مع تطبیقاتھا الحدیثۃ فی المصارف الاسلامیۃ]

’’اس معاملہ کو متعدد فقہی خرابیوں نے گھیرا ہوا ہے ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ کلائنٹ کی طرف سے خریداری کا وعدہ اور بینک کی اس پر موافقت معاہدہاگرچہ کاغذات میں اس کو وعدہ لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ فقہاء کے قول کے مطابق حقائق کا اعتبار کیا جاتا ہے نہ کہ الفاظ کا۔ اور جب یہ معاہدہ ہے تو اسمیں معاہدہ بیع کی تمام شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے اور ان میں سے اکثر یہاں نہیں پائی جاتیں۔

یہان یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ اس میں منافع کے لیے شرح سود کو معیار بنانے سے یہ معاملہ مزید مشکوک ہو جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی بینکاری کے حامی بھی اس کو پسندیدہ قرار نہیں دیتے چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ حلال منافع کے تعین کے لیے سود کی شرح کا استعمال پسندیدہ نہیں اور اس سے یہ معاملہ کم از کم ظاہری طور پر سودی قرض کے مشابہ بن جاتا ہے اور سود کی شدید حرمت کے پیش نظر اس ظاہری مشابہت سے بھی جہاں تک ہو سکے بچنا چاہیے۔‘‘ [اسلامی بینکاری کی بنیادیں: ص ۱۲۴]

مزید لکھتے ہیں:

’’البتہ یہ بات درست ہے کہ اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو جتنا جلدی ممکن ہو اس طریقہ کار سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اول تو اس میں شرح سود کو حلال کاروبار کے لیے مثالی اور معیاری سمجھ لیا جاتا ہے جو کہ پسندیدہ بات نہیں دوسرا اس لیے کہ اس سے اسلامی معیشت کے بنیادی فلسفے کو فروغ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ اس سے تقسیم دولت کے نظام پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔‘‘ [اسلامی بینکاری کی بنیادیں: ص:۱۲۵]

دوسری صورت:

اس معاملے کی دوسری صورت یہ ہے کہ وعدہ یک طرفہ ہو یعنی گاہک اپنے وعدے کا پابند ہو لیکن بینک آزاد ہو یہ صورت بھی درست نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد ’’البیعان باالخیار‘‘ میں بیچنے والے خریدنے والے دونوں کو اختیار دیا گیا ہے ایک کو پابند اور دوسرے کو مستثنی رکھنا اس تفریق کی کوئی اصل نہیں چنانچہ ڈاکٹر رفیق یونس مصری لکھتے ہیں:(انی اری ضرورۃ الخیار لکلا المتواعدین اماالخیار لا حدھما فقط فھو تحکم)

[تعلیق المصارف الاسلامیۃ: ص ۳۲]

’’میری رائے میں دونوں کو اختیار ضروری ہے فقط ایک کو اختیار سینہ زوری ہے۔‘‘

تیسری صورت:

اس معاملے کی تیسری صورت یہ ہے کہ کلائنٹ اور بینک دونوں پابند نہ ہوں۔ بینک کے چیز خریدنے کے بعد کلائنٹ کو بیع کرنے اور نہ کرنے دونوں کا اختیار ہو۔ اس طرح بینک بھی اپنے فیصلے میں آزاد ہو تو یہ صورت جائز ہوگی بشرطیکہ بینک نے وہ چیز کلائنٹ کے ذریعے نہ خریدی ہو اور نفع کے لیے شرح سود کو معیار بھی نہ بنایا گیا ہو کیونکہ اس طرح یہ معاملہ سودی قرض کے مشابہ بن جاتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر سلیمان الأشقر کے فتوی کا ذکر بھی مفید رہے گا۔

’’ نظام البیع المرابحۃ کما تجریہ بعض البنوک الاسلامیۃ فی الوقت الرھن نظام غیر جائزوھو تحایل علی الربا او ھو بیع السلعۃ من البنک قبل امتلا کھا وکلا ھما ممنوع شرعا والسنۃ النبویۃ تمنع ھذا البیع وان المذاھب الاربعۃ کلھا تقول بانہ محرم و خاصۃ مذھب المالکیۃ الذی ینص نصا صریحا علی منعہ والذین قالوا فی مئوتمر البنک الاسلامی بدبی بجوازہ غلطوا علی الفقہ الاسلامی غلطا کبیرا وانہ لا مستند لھم فی ماقالوا‘‘۔ [بحوث فقیھۃ فی قضایا اقتصادیۃ معاصرۃ: ج ۱ص ۱۱۳، ۱۱۵]

’’بیع مرابحہ کا نظم جس کو دور حاضر میں بعض اسلامی بینک جاری کیے ہوئے ہیں ناجائز ہے اور یہ سود کے حاصل کرنے کا حیلہ ہے یا یہ بینک کی طر ف سے ایسی چیز کی بیع ہے جو ابھی اس کی ملکیت میں نہیں آئی اور دونوں شرعا ممنوع ہیں اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اس بیع کی اجازت نہیں دیتی بلاشبہ مذاہب اربعہ اس کو حرام قرار دیتے ہیں خاص طور پر مالکیوں کا مذہب جس نے اس ممانعت کی واضح طور پر صراحت کی ہے اور جنہوں نے دوبئی میں اسلامی بینک کی کانفرنس میں اس کو جائز قرار دیا۔ انہوں نے فقہ اسلامی کے ذمے بہت بڑی غلطی لگائی اور ان کے پاس اپنی تائید میں کوئی دلیل نہیں ہے۔‘‘(جاری ہے)

ملاحظہ کیا گیا 8822 بار آخری تعدیل الثلاثاء, 12 شباط/فبراير 2013 06:13
اسی زُمرے میں مزید : اسلامی اقتصادی نظام »