بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 29 تشرين2/نوفمبر 2012 15:47

اسلامی اقتصادی نظام

مولف/مصنف/مقرر  ڈاکٹر زید بن محمد

islamic iqtsaad

اسلامی اقتصادی نظام

کچھ ماہرین اقتصاد، اخلاقیات سے اقتصادات کا ربط مشکل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علم الاقتصادایک غیر جانبدارانہ فن ہے جس کا اخلاقی مباحث سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسلامی اقتصاد میں اخلاقیات کو اسلامی عقیدے کا ایک جزء سمجھا جاتاہے اس لیے تجارتی اور اقتصادی معاملات کو شریعت اسلامی کے عام دائرے سے الگ نہیں کیا جاسکتاہے کیونکہ مسلمان دوسروں کے ساتھ اپنے دیگر تعامل کی طرح ایسے معاملے میں بھی اللہ کی نگرانی کا خیال رکھتاہے ۔ اقتصادی اخلاقیات کے کئی اسلامی اصول وضابطے ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں۔

۱۔ اسلامی اقتصاد ایمان وتقویٰ کا داعی ہے

تقویٰ اسلامی اقتصاد کے اصول وضوابط میں سے ایک اہم بنیادی ضابطہ ہے۔ بلکہ جملہ شعبہ حیات میں ہی وہ ایک بنیادی ضابطہ ہے کیونکہ زندگی بجائے خود اللہ کی امانت ، رضائے مولیٰ کی مشتاق اور اس کے عذاب سے خائف ہے۔ طریقہ ہائے تقویٰ میں سے چند ایک یہ ہیں۔

امانت:

عام لوگ امانت کو اس کے سب سے تنگ معنیٰ ومفہوم سونپے گئے سامان کی حفاظت میں ہی محصورکرتے ہیں جبکہ اس کے اور بھی دیگر معنیٰ مفہوم ہیں جیسے آدمی (فیکٹری ہو یا کھیت کھلیان یا پھر دوکان ،بازار کہیں بھی) کام میں اپنی مکمل ذمہ داری ادا کرنے کا خواہاں وکوشاں رہے اور لوگوں کے ان سبھی حقوق کا خیال رکھے جو اس پر عائد ہیں ، اسلامی اقتصاد میں امانت کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اپنے کسی ذاتی فائدے یا رشتہ دارکے مفاد کی خاطر اپنے منصب کا ناجائز استعمال نہ کرے۔

امانت کے ان معانی ومفاہیم کی کئی احادیث دلیل بھی ہیں ، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان :’’ لکل غادر لواء یرفع لہ بقدر غدرتہ إلا ولا غادر أعظم من أمیر عامۃ ۔‘‘ ہر فریبی کیلئے (قیامت کے دن) ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے دھوکہ وفریب کے حساب سے بلند رہے گا ۔ سنو! امیر عام کے بدعہدی کرنے والے سے بڑھ کر کوئی فریبی نہیں۔‘‘

اور یہ ارشاد :’’من استعملناہ علی عمل فرزقناہ رزقاً فما أخذ بعد ذلک فہو غلول ۔‘‘

’’ یعنی ہم نے کسی کو کسی کام کیلئے مزدوری پہ رکھا اور اسے اجرت بھی دے دی پھر اس کے بعد بھی وہ کچھ لے لیتا ہے تو یہ خیانت ہے بعثت سے قبل آپ کی سب سے ممتاز صفت یہی امانت تھی یہاں تک کہ آپ کو امین (امانت دار) کے لقب سے پکارا جاتاتھا۔

وفا:

اسلامی اقتصاد میں عقد اور عہد وپیمان کی بڑی اہمیت ہے اسی وجہ سے انسان کی وعدہ وفائی دنیا وآخرت میں اس کی عزت وسعادت کی بنیاد ہے اور اسلامی اقتصاد اسی عہد وعقد پر مبنی ہےجس کےاندرمالی معاملات ملحوظ ہوتےہیں بشرطیکہ وہ کتا ب وسنت کےمطابق شریعت کےمقاصدبروئےکارلانےوالےہوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ }(مائدۃ:۱) ’’ اے ایمان والو! عہد وپیمان پورے کرو۔‘‘ اور فرماتاہے:  {وَأَوْفُوا بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُولًا }(اسراء:۳۴) ’’ اور وعدے پورے کرو ، کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہوگی۔‘‘

۲۔ اسلامی اقتصاد خیر کی آفاقیت کا پیغام دیتاہے۔

 

 

اسلامی اقتصاد بذل وانفاق پر مبنی ہے اس لیے اسلام نے مسلمانوں کو ایثار وسخاوت وعطیہ وبخشش کی دعوت دی ہے اور نیکی واحسان کی طرف بڑھنے کی نصیحت کی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے: {وَیَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ }(بقرۃ:۲۱۹) ’’ اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ تو آپ فرما دیجئے کہ حاجت سے زائد چیز ۔‘‘

اور فرماتاہے: {یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ }(بقرۃ:۲۱۵) ’’ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تو آپ فرما دیں کہ جو مال تم خرچ کرو، وہ ماں باپ کیلئے ہے اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے۔

اور فرماتاہے: {وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آَمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآَخِرِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآَتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ}(البقرۃ:۱۷۷) ’’ بلکہ حقیقتاً اچھا شخص وہ ہے جو اللہ پر ، قیامت کے دن پر ، فرشتوں پر ، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو ، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں ،سوال کرنے والوں اور غلام آزاد کرانے میں دے ۔

اسلامی اقتصاد میں  ’’ بِر(نیکی)‘‘  کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس میں آپ ہر صحیح ودرست کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔

۳۔ اسلامی اقتصاد اعتدال ومیانہ روی کی دعوت دیتاہے۔

اسلامی اقتصاد لوگوں کے انفرادی ومعاشرتی اور اقتصادی مسائل منظم کرتاہے تاکہ مسلمان مہلک رہبانیت اور تباہ کن مادیت کی طرف مائل نہ ہو، وہ توسط ومیانہ روی ، صحیح راستہ کی پیروی اور اعتدال وتوازن کی بات کرتاہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے: {وَابْتَغِ فِیمَا آَتَاکَ اللَّہُ الدَّارَ الْآَخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیبَکَ مِنَ الدُّنْیَا }(القصص:۷۷) ’’ اور جو کچھ اللہ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول۔‘‘

اس لیے اسلامی اقتصاد کی اولین بات یہ ہے مسلمان شکم پرور نہیں ہو ، جس کی صرف یہی فکر ہوکہ اس کے دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے رہیں، اسراف وتبذیر اور عیشی کوشی کی ممانعت تواسی وجہ سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {یَا بَنِی آَدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ }(الاعراف:۳۱) ’’ اے آدم کے بیٹو! ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو، کھاؤ، پیو اور فضول خرچی مت کرو، بلاشبہ وہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتاہے۔

اور فرمایا:{وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیرًا٭إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ } (اسراء:۲۶۔۲۷) ’’ اور اسراف وبے جا خرچ سے بچو بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘

نیز فرمایا :{وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُہْلِکَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِیہَا فَفَسَقُوا فِیہَا }(اسراء:۱۶) ’’ اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں او روہ اس بستی میں کھلے عام نافرمانی کرنے لگتے ہیں اسی طرح بخل اور کنجوسی کی بھی ممانعت آئی ہے۔ {وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَۃً إِلَی عُنُقِکَ }(اسراء:۲۹) ’’ اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا مت رکھ۔‘‘

اور فرمایا: {فَمِنْکُمْ مَنْ یَبْخَلُ وَمَنْ یَبْخَلْ فَإِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَفْسِہِ }(محمد :۳۸) ’’ تم میں سے کچھ بخیلی کرتے ہیں اور جو بخل کرتاہے وہ دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتاہے ۔‘‘

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ ’’ ایّاکم والشح ‘‘ (ترمذی) (بخالت سے بچو)۔

اسراف وفضول خرچی اور بخالت وکنجوسی کی ممانعت اعتدال ومیانہ روی کی ہی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے {وَالَّذِینَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا }(فرقان:۶۷) ’’ اور جو خرچ کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی بخیلی ، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اقتصادی نقطئہ نظر سے بخالت لوگوں کو بربادی کی طرف بڑھنے کی راہ بتاتی ہے جبکہ اسراف وعیش کوشی تبذیر وغیر ضروری خرچ کی اور یہ دونوں ہی ناپسندیدہ ہیں اس لیے اعتدال ومیانہ روی کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ فرد اور معاشرے پر اس کے مثبت معاشرتی ، اخلاقی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اقتصادی عمل کے قرآنی طریقے

قرآنی آیات ، انسان اور حیات وکائنات سے متعلق بحث کرتی ہیں سبب ومسبب ، علت ومعلول کے مطابق مختلف واقعات کے مابین پائے جانے والے تعلقات کو بھی یقینی بتاتی ہیں۔

قرآنی آیات کا استقراء بتاتاہے کہ قرآن جن طریقوں کی وضاحت کرتاہے ، ان کے مختلف رنگ اور خاص مقاصد ہیں۔ اس لیے انسان کو بحث وتحقیق اور سنن واحکام کے جائزہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: {قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیرُوا فِی الْأَرْضِ }(آل عمران:۱۳۷) ’’ تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزرچکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔‘‘

مختلف قرآنی آیات ایسے کچھ طریقوں کی وضاحت کرتی ہیں جو تاریکی کے بیچ راہ یابی کے بنیادی ضابطے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے{وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَیْکُمْ آَیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظَۃً لِلْمُتَّقِینَ }(نور:۳۴) ’’ ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتاردی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیز گاروں کیلئے نصیحت ہے۔‘‘

 

آئندہ سطور میں ہم بہ اختصار کچھ ایسے قرآنی طریقے پیش کررہے ہیں، جن کا اقتصادی تقاضوں سے گہرا رشتہ ہے:

 

امت کی اصلاح اور اس کی اقتصادی حالت کے مابین ربط

اللہ تعالیٰ فرماتاہے: {وَلَوْ أَنَّہُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاۃَ وَالْإِنْجِیلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِمْ مِنْ رَبِّہِمْ لَأَکَلُوا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِہِمْ }(مائدۃ:۶۶) ’’ اور اگر یہ لوگ تورات انجیل اور ان کی طرف اللہ کے پاس سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر اور نیچے سے بھی روزی پاتے اورکھاتے۔‘‘

اور فرماتاہے: {وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُرَی آَمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ }(الاعراف:۹۶)’’ اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکتیں کھول دیتے۔

نیز فرماتاہے{وَمَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا ٭وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ }(طلاق:۲۔۳) ’’ اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کیلئے سبیل نکالے گا اور اسے اس طرح روزی دے گا کہ اس کو پتہ بھی نہیں چلے گا او جوشخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔‘‘

ان آیات میں اس بات کا اشارہ ہے کہ تقوی اور توکل علی اللہ کے فوراً یا بعد میں ایسے آثار ضرورنمایا ں ہوتے ہیں جو ربانی عنایت ، الٰہی حکمت اور اقتصادی ومعاشرتی زندگی میں مدد واصلاح کی تصویر ہوتے ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ فرماتاہے: { إِنَّ اللَّہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِہِمْ }(الرعد:۱۱) ’’ اللہ کسی قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل لیں۔‘‘

یہ آیت ہمارے سامنے فرد ومعاشرے کے بیچ کے گہرے رشتے کا معیار بتاتی ہے جو دونوں کی داخلی وخارجی حقیقت کے درمیان قائم رہتاہے ۔

{ذَلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَۃً أَنْعَمَہَا عَلَی قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِہِمْ }(الأنفال:۵۳) ’’ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے، جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل لیں۔‘‘

مذکورہ آیات ایسے حقیقی مضامین وتفاہیم بیان کرتی ہیں جن کو مروج وفروغ کا راز سمجھا جاتاہے یا پھر زوال وانحطاط کی تصویر۔ اور یہ بھی کا انجماد وانحطاط کے سلبی دور سے تب ہی نکلاجا سکتاہے جب کہ بنیادی مسائل معلوم ہوں ۔ علل واسباب کا پتہ چلے اور فرد وجماعت کی داخلی حالت سے پیدا ہم باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ مذکورہ بحث سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ اسلام تاریخی واجتماعی اور اقتصادی واقعات وحقائق کے طریقے وتفصیلی اصول بیان کرنے میں سب سے کامیاب ہے اس لیے کہ وہ سب الٰہی احکام وقوانین پر مبنی ہیں۔

۹۔  عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : مَثَلُ الْمُؤمِنِ فِی تَودِھِم وَ تَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ ، مَثْلَ الْجَسَدِ ، اِذَا اشْتَکَی مِنْہُ عُضْوٌ تُدَاعَی لَہُ سَائِرَ الْجَسَدِ بِا لسَّھْرِ وَالْحُمَّی ۔

’’سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا؛ کہ باہمی محبت ، رحمت اور شفقت کے اعتبار سے مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بیداری اور بخار سے بے قرار ہو جاتا ہے ‘‘

۱۰۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : الْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَالَّۃُ المُومِن ، فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَ أحَقُّ بِھَا۔ (جامع الترمذی ، حدیث :۶۶۸۷)

’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: حکیمانہ بات مومن کی گمشدہ متاع ہے ، وہ اسے جہاں بھی پائے ، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے ‘‘ (امام ترمذی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیاہے )

***

 

ملاحظہ کیا گیا 6803 بار آخری تعدیل الأحد, 30 آذار/مارس 2014 00:04