بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

الخميس, 25 تشرين1/أكتوير 2012 17:33

قربانی کے فضائل و مسائل

مولف/مصنف/مقرر  حافظ محمد سلیم حفظہ اللہ

 

قربانی کے فضائل و مسائل

سوالاً و جواباً 

 حافظ محمد سلیم حفظہ اللہ   [1]

 

سوال:  اضحیہ کی تعریف کیا ہے ؟اور اس کا وقت کب شروع ہوتاہے؟  

سوال:   کیا قربانی کا حکم قرآن وسنت میں موجود ہے؟

سوال:     قربانی کاشرعی حکم کیا ہے؟

سوال :  کیا قربانی کے لیے صاحبِ نصاب ہونا شرط ہے؟

سوال :    قربانی قبل از نمازِ عید اگر کرلی جائے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

سوال :    قربانی کرنے والے پر شرعا کن امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟

سوال :    کیا  ایک قربانی ایک گھر کی طرف سے کفایت کرجائے گی؟

سوال:    کیا ہر حلال جانور کی قربانی درست ہے؟

سوال:     قربانی کے جانور میں کن عیوب سے بچنا ضروری ہے؟

سوال:   اونٹ اور گائے میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟

سوال:   قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت کن امور کا لحاظ رکھا جائے؟

سوال :    کیا قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا گناہ ہے؟

سوال:  کیا خواتین اپنے قربانی کے جانور پر چھری پھیر سکتی ہیں؟

سوال :  قربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کیا جائے؟

سوال:    سفر میں قربانی کرنا؟

سوال:      قربانی کی کھال کا مصرف؟

سوال:    قربانی کے جانور کا خون کپڑے پر لگ جائے تو نماز ہوجاتی ہے؟

الحمد للہ والصلوۃ واسلام علیٰ رسول اللہ وبعد !

سوال:     اضحیہ کی تعریف کیا ہے ؟اور اس کا وقت کب شروع ہوتاہے؟

ج:       عید الاضحیٰ کے موقعہ پر جن جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے انہیں’’ اضحیہ ‘‘کہتے ہیں اور اس کی جمع      ’’  اضاحی    ‘‘ ہے۔

اس کا وقت 10 ذوالحجہ کو عید کی نماز ادا کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے ۔

جیساکہ براء بن عازب   tسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا :   "إن أول ما نبدأ من  يومنا هذا أن  نصلي  ثم  نرجع   فننحر فمن فعل هذا   فقد   أصاب   سنتنا   "۔[2]

’’ آج کے دن کی ابتدا ہم نمازِ عید سے کریں گے، پھر فارغ ہوکر قربانی کریں گے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا‘‘۔

 

 

 

سوال:         کیا قربانی کا حکم قرآن وسنت میں موجود ہے؟

 

ج:       جی ہاں اس کی ترغیب قرآن وحدیث میں موجود ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے     :  ﴿ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ  [3]   ترجمہ : ’’پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘

سنن ابو داؤد اور ابن ماجہ میں روایت ہے مخنف بن سلیم فرماتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس عرفات کے میدان میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا :

"يا أيها الناس   إن علی کل أهل بيت في کل عام أضحية".[4]      ’’ اے لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ہے‘‘۔

 

سوال:     قربانی کاشرعی حکم کیا ہے؟

 

ج:     جمہورِ اہل علم کا یہی موقف ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے۔ یہی وجہ ہے امام ابن حزم   aفرماتے ہیں:

  ’’  قربانی کا واجب ہونا کسی ایک صحابی سے بھی ثابت نہیں ہے ،نبی اکرم ﷺ کا اس سنت پر ہمیشگی اختیار کرنا، سفر میں بھی قربانی کرنا، اور صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کرنا ان امور سے اس عمل کی تاکید ثابت ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک مؤکد سنت ہے۔[5]

اس بارے میں ایک مرفوع روایت ابو ہریر ہ   tسے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"من وجد سعة ولم يضح فلايقربن مصلانا".[6]

یعنی استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔

 

سوال :      کیا قربانی کے لیے صاحبِ نصاب ہونا شرط ہے؟

 

ج:      قربانی کے لیے صاحبِ نصاب ہونا ضروری نہیں اس کی دلیل جناب عبد اللہ بن عمر  tکی روایت ہے:  

  "   أقام رسول الله صلى الله عليه   وسلم  بالمدينة عشر سنين يضحي".[7]      ’’ یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی پوری زندگی میں قربانی کرتے رہے ۔ اور یہ امر محتاجِ بیان نہیں کہ آپ صاحبِ نصاب نہیں تھے‘‘۔

 

سوال :        قربانی قبل از نمازِ عید اگر کرلی جائے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

 

ج:     قربانی عید کے نماز سے پہلے کرنا  ٹھیک نہیں بلکہ اگر کسی نے ایسا کرلیا تو یہ ایک عام ذبیحہ ہوگا  قربانی نہیں ہوگی، اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے:"من ذبح قبل الصلاةفليعد".[8]

   ’’ یعنی جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کی (تو اس کی قربانی نہیں ہوئی) اسے چاہئے کہ وہ دوبارہ قربانی کرے‘‘۔

 

سوال :        قربانی کرنے والے پر شرعا کن امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟

 

ج:    قربانی کرنے والا ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد ناخن  نہ کتروائے اور حجامت وغیرہ نہ بنوائے یہاں تک کہ وہ قربانی کرے۔[9]

 

سوال :     کیا  ایک قربانی ایک گھر کی طرف سے کفایت کرجائے گی؟

 

ج:     جی ہاں! جناب ابو ایوب   tسے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ قربانیاں کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے جواباً      فرمایا:

  "کان الرجل يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته".[10]       ’’ یعنی ایک آدمی اپنے پورے گھر والوں کی طرف ایک بکری قربان کرتا تھا ‘‘۔

 

سوال:      کیا ہر حلال جانور کی قربانی درست ہے؟

 

ج:      ہر حلال جانور کی قربانی درست نہیں اس حوالے سے روایات مین جن جانوروں کا ذکر ہے اسی پر اکتفا کیا جائے۔ مثلا اونٹ ، گائے، بیل ، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ۔[11]

 

سوال:       قربانی کے جانور میں کن عیوب سے بچنا ضروری ہے؟

 

ج:        براء بن عازب   tفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:     "أربع لا تجوز في الأضاحي العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والکبيرة التي لا تنقي"۔[12]

’’ چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں، یک چشم جس کا یک چشم ہونا بالکل صاف طور پر معلوم ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو،اور ایسا بوڑھا کہ اس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو‘‘۔

 

سوال:     قربانی کے جانور میں پہلے عیب نہیں تھا خریدنے کے بعد عیب پیدا ہوگیا اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

 

ج:       سابقہ سوال کے جواب میں  مذکور حدیث میں بیان کردہ عیوب ذبح کے وقت  اگر پائے گئے تو قربانی نہیں ہوگی ۔

 

سوال:     اونٹ اور گائے میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟

 

ج:       عبد اللہ بن عباس   tسے رایت ہے:      "    کنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فی سفر فحضرالاضحی، فشترکنافی البقرةسبعةوفی البعيرعشرة     " .[13]

اونٹ میں دس افراد کے حوالے سے بعض روایات ہیں جو سنداً ضعیف ہیں ، لیکن شیخ البانی   aنے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ نیز بخاری(حدیث5498)کی روایت اس مضمون کی مؤید ہیں۔ جس سے حدیث کی صحت کی جانب قوی ہوجاتی ہے۔

 

سوال:        حلال وحرام ہونے کے اعتبار سے حاملہ جانور کے بچے کا کیا حکم ہے ؟

 

ج:      اس بارے میں  جناب ابو سعید خدری   tسے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "ذکاة الجنين ذکاةأمه".[14]   پیٹ میں موجود بچے کا حلال ہونا اس کی ماں کو ذبح کرنے سے حاصل  ہوگا۔   مذکورہ حدیث کی روشنی میں واضح ہوا پیٹ میں موجود بچہ ہر حال میں حلال ہے۔

 

سوال:        حاملہ جانور کی قربانی لا علمی میں صحیح ہے یا اس کے حاملہ ہونے کے علم کے بعد بھی صحیح ہے؟

 

ج:           اس کے حاملہ ہونے کا علم ہوجائے پھر بھی اس کی قربانی صحیح ہے۔ اس کی دلیل مذکورہ روایت کے الفاظ کی صراحتًا دلالت ہے یعنی "ذکاة الجنين ذکاةأمه".پیٹ میں موجود بچے کا حلال ہو   نا اس کی ماں کو ذبح کرنے سے حاصل  ہوگا۔

 

سوال:        کیا قربانی کے ایام میں قربانی صرف دن کو کی جاسکتی ہے یا رات کو بھی کی جاسکتی ہے؟

 

ج:     حدیث مبارکہ مں ایام ذبح کا جو ذکر آیا ہے اس میں دن اوررات دونوں کو شامل ہے رات کو قربانی نہ کرنے کے حوالے سے جو روایت "نهیٰ عن الذبح بالليل".’’ کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ‘‘۔

   یہ روایت سنداً صحیح نہ ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے۔ جیساکہ علامہ ہیثمی   aنے مجمع الزوائد میں وضاحت کی ہے۔

 

سوال:    خصی جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ بلا کراہت جائز ہے یا بمع کراہت ؟ ۔

 

ج:      جابر بن عبد اللہ    tسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو مینڈھے لائے گئے جو "أقرنين أملحين، عظيمين، موجوئين".[15]

’’یعنی مینڈھے سینگ دار چتکبرے اور خصی تھے۔ ثابت ہوا خصی جانور کی قربانی بلا کراہت جائز ہے‘‘۔

 

سوال:      اجتماعی قربانی کے معاملے کو اگر ایک کاروباری شکل میں رواج دینے کی کوشش کی جائے تو اس میں شرعاًً کوئی قباحت تو نہیں؟

 

ج: جس طرح جانور خرید کر بیچنا صحیح ہے اور منافع کمانا درست ہے اس طرح اس مسئلہ میں بھی لوگوں کو سہولت مہیا کرکے منافع کمانا گناہ نہیں البتہ ہر قسم کی دھوکہ دہی و کذب بیانی سے احتراز کرناضروری ہے ۔

 

سوال:     قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت کن امور کا لحاظ رکھا جائے؟

 

ج:          u   قربانی کے جانور کو گھسیٹ کر ذبح کرنے کی جگہ نہ لایا جائے۔   vاور اسے تیز چھری کے ساتھ ذبح کیا جائے۔  w   ذبح سے قبل اسے پانی پلانا۔  xجانور کو قبلہ رخ لٹا کر ذبح کرنا۔ یہ امور صحیح مسلم’’کتا ب الصيد والذبائح‘‘میں موجود روایت سے ثابت ہوتے ہیں۔ شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدکم شفرته فليرح ذبيحته".[16]’’  یعنی جب تم جانور کو ذبح کرو ت عمدگی سے ذبح کرو اور ذبح کرنے والا اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔

 

سوال:      اجتماعی قربانی کے حوالے سے اس کا اہتمام کرنے والے اداروں کو کن امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟

 

ج:      معاملہ انفرادی قربانی کا ہو یا اجتماعی قربانی کا مندرجہ ذیل  امور کا لحاظ رکھا جائے:

     uقربانی کرنے والا صحیح العقیدہ ہو۔

     v   نماز کا پابند ہو۔

     w   حرام کاروبار نہ کرتاہو یعنی اس کا کسبحلال ہو۔

 

سوال:        ذبح کرتے وقت اجتماعی قربانی میں شریک افراد کا نام لینا  اور ان کی حاضری ضروری ہے؟ یا نامزدگی کفایت کرجائے گی؟

 

ج:      ذبح کرتے وقت شریک افراد کا نام لینا ضروری نہیں نامزدگی ہی کافی ہے۔اور ان کی موجودگی بھی ضروری نہیں۔ اسسلسلہ میں ایک روایت جو نقل کی جاتی ہے کہ تمام شریک افراد ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور آخری ساتواں شخص چھری چلائے۔ یہ روایت  سنداً صحیح نہیں ہے۔ بلکہ کئی روایات میں گائے میں سات افراد اور اونٹ میں دس افراد کی شرکت کا ذکر آیا ہے۔ ان روایات کا تقاضہ یہ ہے کہ نامزدگی کفایت کرجائے گی البتہ نام لینا مستحب ہے۔ والله   أعلم بالصواب۔

 

سوال:     اجتماعی قربانی میں شریک افراد کو حصہ اس قربانی کے جانور سے دیا جائے جس میں اس کی نامزدگی تھی یا کسی دوسرے جانور سے اسے حصہ دیا جاسکتا ہے ؟ اس میں صحیح صورت کیا ہے؟

 

ج:        اجتماعی قربانی میں شریک افراد کو حصہ اس قربانی کے جانور سے دیاجائے جس میں اس کی نامزدگی تھی یہی بہتر اور زیادہ احواط ( احتیاط کے قریب تر )  ہے۔

 

سوال :       کیا قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا گناہ ہے؟

 

ج: قربانی کا گوشت ذخیر کرنا گناہ نہیں ۔  بلکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:" کلوا واطعموا وادخروا".[17] ’’یعنی کھاؤ کھلاؤ اور ذخیرہ کرو ‘‘ ۔ مزید آپ ﷺ کا فرمان ہے: "کنت نهيتکم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسکوا ما بدا لکم".[18]

’’یعنی میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا لیکن اب جتنا ذخیرہ کرنا چاہو کرسکتے ہو‘‘۔

 

سوال:       بعض لوگ معاشی تنگدستی کے سبب قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرکے بیچتے ہیں یا پکا کر بیچتے ہیں ایسا کرنا شرعا کیسا ہے؟

 

ج:      شرعا اس عمل میں کوئی قباحت نہیں ہے جب کوئی چیز کسی مسلمان کو ہدیۃً دی جاتی ہے تو پھر وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے پھر وہ اپنے اختیار سے اسے صرف کرسکتا ہے۔

 

سوال:      کیا خواتین اپنے قربانی کے جانور پر چھری پھیر سکتی ہیں؟

 

ج:        مسلمان خاتون کا اپنی قربانی کے جانور پر چھری پھیرنا صحیح ہے۔

امام بخاری   aنے ابو موسیٰ اشعری   tکے حوالے سے لکھا ہے کہ    :  "أمر أبو موسیٰ بناتهأن يضحين بايديهن". [19]

’’ یعنی ابو موسیٰ اشعری   tنے اپنی بیٹیوں کو حکم دیتے کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں‘‘۔

 

سوال:      قربانی سے قبل      [   بسم الله والله أکبر ]   پڑھنا بھول گئے تو قربانی ہوجائے گی یا نہیں ہوگی؟

 

ج:      جی ہاں! بھولنے کی صورت میں قربانی پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ البتہ بحکم باری تعالیٰ:"فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ ".[20]

نیز فرمایا:" وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ".[21]کے تحت ذبح کرتے وت قصداً بسم اللہ واللہ اکبر نہ پڑھنے سے قربانی نہیں ہوگی۔

 

سوال :      قربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کیا جائے؟

 

ج:      ارشادِ باری تعالیٰ ہے:      "فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ".[22]       یعنی تم خود بھی کھاؤ اور قانع جو طلب نہیں کرتا ضرورت مند نہیں ہے اس کو بھی دو اور معتر جو ضرورت مند ہے مانگنے والا ہے اس کو بھی دو۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "کلوا واطعموا وادخروا". یعنی کھاؤ کھلاؤ اور ذخیرہ کرو ۔

 

سوال:      سفر میں قربانی کرنا؟

 

ج: سفر میں قربانی کرنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ جیساکہ ثوبان   tسے رایت ہے کہ "ضحی رسول الله صلى الله عليه وسلم فی السفر".[23] ’’یعنی رسول اللہ ﷺ نے سفر میں قربانی کی‘‘۔ لہٰذا کوئی اس سنت پر مسافر ہونے کی   صورت میں عمل کرتا ہے تو صحیح ہے۔

ویسے قربانی کرنا اس حالت میں اس پر لازم نہیں ہے۔

 

سوال:        قربانی کی کھال کا مصرف؟

 

ج:      قربانی کی کھال قصاب کو اجرت میں دینا منع ہے، البتہ اسے ذاتی مصرف میں لانا صحیح ہے یعنی اس کا مصلی ، مشکیزہ یا جوتے بنانا صحیح ہے۔ اسی طرح دینی اداروں میں  دینا ، مساکین وبیواؤں کو دینا بھی صحیح ہے۔

 

سوال:     کیا    مأکول اللحم     ( وہ جانور جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ) جانور کی بعض چیزیں کھانے کے حوالے سے مکروہ ہیں؟

 

ج:      حنفیہ نے     مأکول اللحم   جانور کی بعض اشیا ء پر کراہت کا حکم لگایا ہے۔ مثلا بدائع الصنائع میں خصیتین ، پتہ، مثانہ، نر ومادہ کے پیشاب کی جگہ۔

   ان مذکورہ اشیاء میں سے کسی کی کراہت قرآن وصحیح حدیث سے ثابت نہیں اس بارے میں جو روایت نقل کی جاتی ہے وہ انتہائی ضعیف ہونے کے سبب قابل استدلال نہیں۔

 

سوال:      قربانی کے جانور کا خون کپڑے پر لگ جائے تو نماز ہوجاتی ہے؟

 

ج:         اس بارے میں وہ واقعہ جسے امام بخاری   aنے باب "إذا ألقی علی ظهر المصلي قذرٌ أو جيفةٌ" کے تحت ذکر کیا ہے ۔عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز ادا کررہے تھے اور ابو جہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور کہہ رہا تھا "أيكمي   جیء  بسلا بجزور بني فلان" کاش کوئی آج بنو فلاں کے جو اونٹ نحر ہوئے ہیں ان کی بچہ دانی لاکر محمد ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دے، بچہ دانی میں خون وغیرہ بھی ہوتا ہے لیکن آپ ﷺ نے نماز مکمل کی۔

عبد اللہ بن مسعود   tکا اثر مصنف ابن شیبہ، مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے منقول ہے کہ :"نحر جزورا فتلطخ بدمهاوفرثها ثم أقيمت الصلاة ولم يتوضأ". یعنی عبد اللہ بن مسعود و  tنے اونٹ نحر کیے اور اس کے خون وگوبر لگ جانے کے بعدبھی انہوں نے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔ اس حوالے سے یہ اثر موقوف ہے، راجح ہے۔

 

هذا ماعندي والله أعلم بالصواب

 

zzz

 



   [1]  مفتی المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

   [2]  صحيح بخاری:باب الذبح بعد الصلاۃ رقم الحديث5560،

صحيح مسلم:باب وقتهارقم الحديث:1961

   [3]  الکوثر : 2

[4]    سنن ابن ماجه:بابالاضاحي واجبةهيأم لا؟حديث رقم3125،سنن ابی داود :باب ما جا فی ايجاب الاضاحی رقم حديث2788۔

[5]     بحواله فتح الباری شرح بخاری ،المحلی بالآثار جلد 6/3۔

[6]    سنن ابن ماجه:باب  الاضاحی واجبةهيأم لا؟حديث رقم3125،مسند احمد:مسند ابی هريرة حديث رقم:8273۔

[7]    سنن الترمذی:باب الدليل علی ان الاضحیۃ سنۃ حديث رقم:1507،مسند احمد:مسند ابن عمر حديث رقم:4955

[8]    صحيح البخاری:باب من ذبح قبل صلاۃ العيد اعاد:حديث رقم:5561،صحيح مسلم:باب وقتھا حديث رقم:1960۔

     [9] صحيح مسلم:باب نهي من دخل عليه عشرۃ ذیالحجۃ حديث رقم:1977۔

  [10] سنن الترمذی:باب ما جاء ان الشاء الواحدۃ تجزی حديث رقم:1505۔

  [11] بحواله کتب سنن:والصحاح والمسانيد والکتب فقهية۔

  [12] سنن النسائی:باب مانهى عنه من الأضاحيالعوراء  حديث رقم:4369۔

   [13] مسند احمد:مسند عبدالله بن عباس رقم الحديث:2484

   [14] سنن الترمذی:باب ما جاء فی ذکاۃالجنين رقم الحديث:1476

   [15] بحواله مجمع الزوائد ابو داؤ د مسند احمد-سنن ابی داود:باب ما يستحب من الضحايا رقم الحديث:2795

   [16] صحيح مسلم:باب الامر باحسان الذبح والقتل رقم الحديث:1955۔

   [17] صحيح بخاری :باب ما يؤکل من لحوم الاضاحي وما يتزود رقم الحديث:5569۔

   [18] سنن ابن ماجه: باب ادخار لحوم الاضاحي رقم الحديث:3160۔

   [19] فتح الباری شرح صحيح بخاری :باب من ذبح ضحيةغيرہجلد10/24۔

   [20] الأنعام: 118

   [21] الأنعام: 121

   [22] الحج: 36

   [23] سنن ابی داود:باب في المسافر يضحی رقم الحديث:2814۔

ملاحظہ کیا گیا 4603 بار آخری تعدیل الجمعة, 30 أيار 2014 17:19