بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 09 تشرين1/أكتوير 2012 14:42

حج اور درسِ توحید

:مقرر/مصنف 

حج اور درسِ توحید

 

مسلمانو ! اے حجاج بیت اللہ ! میں آپ سب کو اور اپنے آپ کو اللہ عز وجل کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت و تاکید کرتا ہوں کیونکہ تقوی ہی نعمتوں کو لاتا اور مصیبتوں کو دور ہٹاتا ہے ، اعمال و نفوس کی اصلاح کرتا اور گنا ہوں خطاؤں کو بخشواتا ہے ـ  چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرا کرو اور سیدھی بات کہا کرو ، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا وہ بہت بڑی مراد و کامیابی پائی یگا ـ } ( الاحزاب 70 ــ 71 )

مناسک و عبادات کے دن

حجاج بیت اللہ ! اے اللہ کے مہمانو ! آپ ایام تشریق کے آخری دن ( 13 ذوالحج ) کو پہنچ گۓ ہیں ـ آپ نے احرام باندھا ، تلبیہ ( لبیک اللہم لبیک ) پکارا ، میدان عرفات میں وقوف کیا اور مزدلفہ میں رات بسر کی اور جمرات کو کنکریاں ماریں ـ بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا  و مروہ کے مابین سعی کی ـ آپ مقامات مقدسہ میں چلتے پھرتے شعائی ر دین و مناسک حج کو ادا کرتے  چلے آ رہے  ہیں اور اللہ تعالی سے اسکی رحمتوں اور کرموں کے جھونکے پا رہے ہیں ـ

اللہ اکبر ! کتنے آنسو بہائیے گئیے ، کتنی حاجات و ضروریات پوری کی گئی ہیں اور دعائی یں قبول کی  گئی ہیں اور لرزشیں معاف کی گئی ہیں ، اللہ سے دعاء ہے کہ وہ ہماری اور آپ کی عبادات قبول فرمائیے ـ

شکران نعمت :

مناسک کی ادائیگی بھی اللہ کی  ایک عظیم نعمت ہے جس پر توفیق سے نوازنے والے مالک کا شکر ادا کرنا واجب ہے  ـ اللہ کی ظاہری و باطنی تمام نعمتوں پر ہم اسکے شکر گزار ہیں ـ

اللہ میری اور آپ کی بخشش فرمائیے ، یہ بات ذھن میں رکھیں کہ اللہ رب العالمین کی حمد و  شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اسکے احکام کی پیروی کی جائیے اور اسکے منع کردہ امور سے احتناب کیا جائیے اور انعام کرنے والی ذات بابرکات کا ہمیشہ شکر ادا کیا جائیے اور اسکی حدود سے تجاوز کرنے سے ڈرا جائیے اور اسکے ساتھ ی بندہ جب جب اللہ کے احسانات کو یاد کرئیے اس سے حیاء کرے اور اللہ کا شکر زبان سے بھی ظاھر ھوتا ہے کہ بندہ اسکی نعمتوں کا اعتراف کرے اوران پر اسکی حمد و ثناء بیان کرے اور دل میں اللہ کی محبت اور اسکے سامنے انکساری کا جذبہ موجزن ھو ، اور جسم کے دیگر اعضاء پر اطاعت و فرمانبرداری کا رنگ نمایاں ھو اور یہ چیز ہر وقت واجب ہے اور ان ایام میں اسکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ دن شکر و ذکر کے اظہار کے دن ہیں ـ

ارشاد الہی ہے :

{ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرنے والو ھو ـ } ( النحل : 114 )

توحید و شرک

خبردار ! اللہ کے اوامر و احکام میں سے سب سے عظیم حکم اسکی توحید کو اپنانا اور اسکے منع کردہ امور میں سے سب سے بڑا گناہ شرک ہے ـ اللہ تعالی نے ایجاد و امداد کی نعمت پر اپنا احسان جتلایا ہے ـ تو پھر اسکے سوا کسی دوسرے کا شکر کیسے ادا کیا جائیے ؟ اور عبادت اسکے سوا کسی دوسرے کی کیسے کی جا سکتی ہے ؟

قرآن کریم میں ارشاد الہی ہے :

{ اے لوگو ! اللہ کے تم پر جو احسانات ہیں انھیں یاد کرو ، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ( اور رازق ) ہے ؟ جو تمھیں آسمان سے اور زمین سے رزق دے ـ اسکے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ھو ـ }

( فاطر : 3)

مدرسۂ حج

حج دروس و اسباق کا مدرسہ ہے اور اسکے دروس میں سے سب عظیم درس توحید ہے بلکہ اس مدرسے کا مقصد اور ثمرہ اللہ تعالی کے لئیے اسکی توحید کو ثابت کرنا اور اسے عبادت کیلئے  خالص کرنا ہے حتی کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں :

{ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کلمۂ توحید کے ساتھ تلبیہ کہنا شروع کیا ـ } ( صحیح مسلم )

تلبیہ اور درس توحید

تلبیہ سارے کا سارا ہی توحید ہے اور احرام کی دو چادروں کے سوا باقی تمام کپڑوں کو اتار پھینکنا اپنے اندر یہ معانی سموئیے ھوئیے ہے کہ بندہ اللہ واحد الاحد کے سوا کسی دوسرے کا ہر گز قصد نہ کرے اور مناسک و اعمال حج تمام کے تمام ہی توحید باری تعالی کا پتہ دینے والے ہیں ـ

چنانچہ خود اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

{ تاکہ اپنے فائی دے کے کاموں کیلئے  حاضر ہوں اور ( قربانی کے ) ایام معلوم میں مویشیوں ( کے ذبح کے وقت ) جو اللہ نے انھیں دیئیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیں ـ } ( الحج : 28 )

عرفہ اور توحید :

سنن ترمذی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

{ بہترین دعاء وہ ہے یوم عرفہ میں کی جائیے اور میں نے اور سابقہ انبیاء نے جو دعائی یں مانگی ہیں ان میں سے بہترین دعاء یہ ہے : { لا الہ الا اللہ  وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک و لہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر ـ }

اور حضرت عائی شہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا : { جمرات پر کنکریاں مارنا اور صفا و مروہ کے مابین سعی کرنا اللہ کا ذکر کرنے کیلئے  مشروع کی گئی ہیں ـ ( ترمذی ــ حسن صحیح )

بلکہ خانہ کعبہ تاسیس و تعمیر ہی توحید پر کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

{ اور ( ایک تھا ) ہم نے ابراھیم ( علیہ السلام ) کیلئے  خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا ( اور ارشاد فرمایا کہ ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیجیو ـ } ( الحج : 26 )

حج اور توحید

حج کے موقع پر انسانوں کی تمام جنسیں رنگا رنگ بولیاں ، الگ الگ مقامات اور مختلف رنگوں کے باوجود ایک ہی ہیئی ت و شکل اور ایک ہی عبادت کی ادائی یگی کیلئے  جمع ھوتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبان حال سے بھی کہیں کہ ہم سب ایک انتہائی اعلی مقصد کیلئے  جمع ھوئیے ہیں اور وہ مقصد ہے صرف اللہ تعالی کیلئے  عبادت کو خالص کرنا ، اسی واحد و حق کیلئے  عبادت کو مخصوص کرنا جسکی طرف ساری مخلوقات ہی پناہ لیتی ہیں اور ہر حال میں اسی کی طرف توجہ کرتی ہیں ـ

حج اور براءت

شرک اور مشرکین سے براءت وہ ازلی نداء ہے ، جیسے قرآن کریم نے حج کے موقع پر بلند کیا اور وہ نداء آج تک دہرائی جا رہی ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ اور حج اکبر کے دن ، اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے اور اسکا رسول بھی  ( ان سے دست بردار ہے ) ـ } ( التوبہ : 3)

محاسبۂ نفس

اے پوری روئیے زمین کے مسلمانو ! اے حجاج بیت اللہ ! ایسے مواقع پر امت اس بات کی کتنی حاجتمند ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملہ پر نظر ثانی کرے اور اپنے رب کے ساتھ تعلقات کی جانچ پڑتال کر کے انھیں استوار کرے ، اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور خلل و بگاڑ کو پہچانے تاکہ اسکی اصلاح کر سکے ـ خصوصا آج کل کے حالات میں جن میں امت اسلامیہ مبتلا ہے ـ

مقصد تخلیق کائی نات

اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کو اپنی عبادت کیلئے  پیدا فرمایا ہے اور ان پر یہ نعمت بھی فرمائی ہے کہ وہ تمام عبادات کو صرف اللہ کیلئے  خاص کریں ، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

{ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں ـ } ( الزاریات : 56 )

یہ عبادت ہی تمام قضایاکا سب سے بڑا قضیہ اور دین کی اصل و جڑ ہے اور جب لوگوں کے دلوں پر شرک کا زنگ چڑھ گیا اور زمین پر جاھلیت کا دور دورہ ھو گیا تو اللہ تعالی نے اسی مقدس سر زمین سے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم  کو کلمۂ توحید کے ساتھ مبعوث فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

{ اے لوگو ! یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے ـ اتنا کہہ دینے سے تم نجات و فلاح پا جاؤ گے ـ یہ کلمۂ توحید اگر چہ چند الفاظ پر مشتمل ہے لیکن اپنے مدلولات اور تقاضوں کے اعتبار سے ایک  بحر بے کنار ہے ـ جس نے اس کلمہ کا اختیار کر لیا ، اللہ نے اسکی سن لی ـ امت اسلامیہ کی مشکلات صرف اسے اپنانے سے ہی دور ھو نگی جسے اپنا کر بکریاں چرانے والے بڑے بڑے قائی دین اور امتوں کی رہبری کرنے والے لیڈر بن گئیے تھے ـ توحید کا نور چمک اٹھا تھا ـ اور ایمان و سلامتی کا پھریرا ( جھنڈا ) پوری روئیے زمین پر لہرانے لگا تھا ـ

البتہ بارگاہ الہی سے دھتکار ے گئیے ابلیس لعین نے قسم کھائی تھی کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا چنانچہ وہ اپنے گمان میں کافی حد تک کامیاب ھو گیا ـ اسی نے عیسائی یوں کو اس چیز پر لگائیے بغیر دم نہیں لیا کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو معبود بنا لیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انھیں حضرت مریم علیھا السلام کا قصد و ارادہ کرنے اور اسے پکارنے پر لگا دیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ ان پادریوں کا پکارنے پر بھی لگا دیا جنکے بارے میں وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے مقرب ہیں ، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ شیطان نے لوگوں کو اللہ تبارک و تعالی سے بدظن کر دیا  اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ اللہ بھی اس دنیا کے بادشا ہوں کی طرح ہی ہے اور وہ بھی واسطوں کے بغیر کسی کی ضرورتیں پوری نہیں کرتا بلکہ وہ  اسکے یہاں شفاعت و سفارش کرتے ہیں اور انھیں اللہ کے قریب کرتے ہیں ـ

دعاء : ایک عبادت :

ہاں ! اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی امت پر رحم فرمایا اور انھیں قرآن کریم سے نوازا اور قرآن نے پوری طرح واضح کر دیا جس سے زیادہ وضاحت ممکن ہی نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہے وہ اپنے بندوں کی دعاء و پکار کو سنتا ہے اور انکے تمام حال و احوال کو خوب جانتا ہے ، چنانچہ ارشاد الہی ہے :

{ اور ( اے نبی ! ) جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو ( کہہ دیں کہ ) میں تو ( تمہارے ) پاس ہوں ، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی دعاء قبول کرتا ہوں ـ } ( البقرہ 186)

بلکہ دعاء و پکار کو تو اللہ تعالی نے عبادت کا نام دیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

{ اور تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعاء کرو میں  تمھاری ( دعاء ) قبول کرونگا ـ جو لوگ میری عبادت سے از راہ تکبر کنی کتراتے ہیں عنقریب ذلیل ھو کر جہنم میں داخل ھو نگے } ( المومن : 6 )

دعاء : مظہر توحید :

قرآن کریم نے اس بات کو باربار پوری تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی سے دعاء کرنا صرف اسی کو پکارنا توحید اور غیر اللہ کو پکارنا اور انکی دہائی دینا شرک ہے چنانچہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مخاطب ھو کر فرمایا :

{ ( اے نبی ! ) کہہ دیں کہ میں تو اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اسکا شریک نہیں بناتا ـ ( یہ بھی کہہ دیں کہ ) میں تمہارے حق میں نفع و نقصان کا کوئی بھی اختیار نہیں رکھتا ـ }(الجن : 20 ــ 21 )

ایک جگہ فرمایا ہے :

{ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمھارا کچھ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے ، اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں سے ھو جاؤ گے ـ } ( یونس : 106 ) اور آگے ہی فرمایا :

{ اور اگر اللہ تعالی تمھیں کوئی تکلیف پہنچائیے تو اس کے سوا اسکا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اکر وہ تم سے بھلائی کرنا چاہیئیے تو اسکے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں ہے ـ } ( یونس : 107 )

ایک جگہ ارشاد ہے :

{ ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ! ) کہہ دیں کہ ( اے مشرکو ! ) جن لوگوں کی نسبت تمھیں ( معبود ھونے کا ) گمان ہے انھیں بلا دیکھو ، وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اسے بدل دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے ـ } ( بنی اسرائیل : 56 )

اور ایک مقام پر معبودان باطلہ کا عجز و درماندگی بیان کرتے ھوئیے فرمایا :

{ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمھاری بات کو قبول نہ کر سکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کر دینگے اور ( اللہ ) باخبر کی طرح تمھیں کوئی خبر نہیں دے گا ـ } (فاطر : 14)

ان تمام آیات کے واضح و صریح ھونے کے باوجود بعض جاھل مسلمانوں کے حال پر افسوس ھوتا ہے ، جو کہ ان شرکیہ بلاؤں میں مبتلا ھو چکے ہیں اور طرح طرح کی بدعتوں اور گمراہیوں کو ان ہوں نے اپنا رکھا ہے ، پتھروں اور عمارتوں ( مزاروں ) سے تعلقات جوڑ رکھے ہیں ، اپنی حاجتیں طلب کرنے اور مشکلات دور کروانے کیلئے  مزاروں درباروں کے فوت شدہ مردوں سے لو لگا رکھی ہے حتی کہ یہ فتنہ بکثرت اسلامی ممالک میں پھیل چکا ہے ، وہاں ایسی قبریں اور مزارات پائیے جاتے ہیں جنکی زیارت کے قصد سے ہزاروں لوگ جاتے ہیں اور ان قبرروں مزاروں میں مدفون مردوں سے وہ مطالبات کرتے ہیں جو صرف اللہ تعالی سے ہی کئیے جانے چاہییں ، ان پر جانوروں کے چڑھاوے چڑھائیے جاتے ہیں ، نذریں مانی جاتی ہیں ، نفع کے مطالبے کئیے جاتے ہیں اور نقصان دور کرنے کی درخواستیں کی جاتی ہیں ـ

شہادت توحید کے تقاضے :

اے مسلمان ! اے وہ شخص جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کو‏ئی معبود بر حق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول  ہیں ! اے وہ شخص جو اللہ پر اور قیامت پرایمان رکھتا ہے ! وہ چیز جسکا خاص اھتمام کرنا آپ پر واجب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تصورات و اعمال کو قران کریم سے صیقل کرو تاکہ آپ ان تمام تصورات و اعمال سے بری ھو جائی يں جو شہادت توحید کے تقاضوں کے منافی ہیں ـ

اے علماء کرام !اے انبیاء کے وارثو ! اگر عوام الناس کو جہالت کی بنا پر اور انھیں صحیح بصیرت بہم نہ پہنچانے والے میسر آنے کی بناء پر معذور مانا جائیے تو بتایئیے کہ آپ لوگوں کا اللہ کے یہاں کیا عذر ھو سکتا ہے جبکہ آپ نے بیان توحید کا حق ادا کرنے میں تقصیر و کوتاہی کی اور لوگوں کو دینی کی اہم اساس و بنیاد " توحید " پر آمادہ کرنے میں کمی کی ـ

توحید تفرقہ و نزاع :

خبردار رہیں ! امت اسلامیہ کا وہ مرض جس نے اسے کمزور کر رکھا ہے اور اسکی وہ بیماری جس نے اسے تھکا رکھا ہے اور اس پر اسکے دشمنوں کو مسلط کر رکھا ہے وہ مرض اس امت کا اپنے دین اور اسکی بھی اصل توحید میں تفرقہ و نزاع ہے اور اس امت کے آخر کے اصلاح بھی اس چیز سے ممکن ہے جس سے اسکے پہلے لوگوں کی اصلاح ھوئی تھی اور وہ کیا چیز ہے ؟ وہ وہی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کی اور فرمایا تھا :

{ ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے ، لھذا ہم جیسے بھی کسی دوسرے دین و طریقے سے عزت حاصل کرنے کی کوشش کریں اللہ ہمیں ذلیل ہی کرے گا ـ }

خالق سے بے تعلقی : جب امت اپنی قوت کے سرچشم میں کوتاہی ہی برتے گی اور اپنے خالق کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ھو جائیے گی اور اونٹوں کو انکے اصل چرواہے کی بجائیے ان کا حدی خوان کوئی دوسرا ھو گا تو وہ ضایع ھو جائیے گی اور بشری پیمانے کام کرنے لگیں گے اور غلبہ اسکا ھو  جائیے گا جو اسلحہ و قوت میں زیادہ ھو گا جیسا کہ آجکل کی حالت سب کے سامنے ہے ـ

معیار فتح و نصرت : ایمان

اس امت اسلامیہ کی تاریخ پر غور و فکر کرنے والا شخص بآسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس امت کا پیمانہ اور معیار کبھی بھی اسلحہ کی کثرت اور افرادی قوت کی زیادتی نہیں رہا بلکہ غزوہء حنین سے قطع نظر تاریخ شاھد ہے کہ مسلمانوں کو جن معرکوں میں فتح و نصرت نصیب ھوئی ان میں سے کسی میں بھی ان کا اسلحہ اور فوجی قوت مد مقابل سے زیادہ نہ تھی صرف غزوہ ء حنین میں مادی و افرادی قوت میں مسلمان زیادہ تھے مگر اسکےباوجو انھیں شکست سے دوچار ھونا پڑا کیونکہ انھیں انکی کثرت نے غرور و تکبر میں مبتلا کردیا تھا ، اور اللہ نے انھیں شکست سے دو چار کر کے یہ یاد دہانی کروائی کہ وہ میزان جس پر مسلمان اپنے آپ کو تولیں وہ مادی و فوجی کثرت نہیں  بلکہ ایمان ، اس دین اسلام سے تعلق و تمسک ، اللہ تعالی کے لئیے اخلاص توحید اور اسی کیلئے  اپنی زندگی تک کو قربان کرنا ہے ، جہاں تک معاملہ ہے اسلحہ اور سامان حرب ضرب یا جنگی تیاریوں کا تو اس کیلئے  جو استطاعت میں کافی ھوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

{ اور جہاں تک ھو سکے ( دشمن سے مقابلہ کیلئے  ) تیاری رکھیں ـ }

( الانفال : 60 )

اور پھر اللہ پر بھروسہ کریں وہ آپ لوگوں کیلئے  کافی ھو جائیے گا جیسا کہ اللہ کا وعدہ ہے :

{ اے نبی ! آپ کیلئے  اور آپ کے پیروکار مومنوں کیلئے  کافی ہے ـ }

( الانفال : 64 )

اپنی حالت آپ بدلنا

اے مسلم امہ ! اللہ کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپی حالت کے بدلنے کا خود خیال نہ ھو ، نبي اسرائی یل چالیس برس تک صحراء میں مارے مارے پھرتے رہے یہاں تک کہ ان ہوں نے اپنے اندر وہ صفات پیدانہ کر لیں جنکی بدولت وہ فتح و نصرت اور ارض مقدس میں داخل ھونے کے مستحق ھوئیے ، کیا اس امت اسلامیہ کیلئے  بھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ بھی تیہہ کے صحراؤں میں مارے مارے پھرنے سے باھر نکل آئی يں ؟ جبکہ یہ امت اللہ کی رحمتوں اور اسکی فتح و نصرت کے وعدوں والی امت ہے ، کیا اس امت پر نازل ھونے والے مصائی ب و مشکلات اسکے لئے  کافی نہیں کہ یہ اپنے رب کے دین کی طرف رجوع کریں ـ

مسلمانو ! رحمت اور فتح و نصرت اس وقت تک حاصل نہیں ھو سکتیں جب تک کہ اسکے اسباب مہیا نہ کریں اور اسباب کا خالق اللہ تعالی ہے ، اور وہی تمام حوادث کے اندازے  کرنے اور انھیں جاننے والا ہے ـ اپنے پروردگار اللہ کی طرف لوٹ آؤ ، اپنے ایمان کی تصحیح و اصلاح کر لو اور ہم سب سے ہر شخص کو چاہیئیے کہ وہ اپنے آپ کو جانچے ـ اپنے اھل و عیال کی پڑتال کرے ـ اور اپنے پورے ماحول کا جائی زہ لے تاکہ ہم سب اسی راہ پر چلیں جس پر چلنےکا اللہ تعالی نے ہمیں حکم فرمایا ہے ، کیونکہ کوئی جماعت اس وقت تک نہیں سدھرتی جب تک کہ اسکے افراد میں سدھار نہ آئیے اور یہی کیا کم ہے کہ امت خود اپنے آپ کیلئے  تو کافی ھو جائیے اگر ہم سب ایسا کر گزرے تو پھر فتح و نصرت کی بشارت یقینی ہے اور اللہ کے وعدوں پر وثوق و یقین کرنا ہی ھو گا ـ

اللہ پر عدم اعتماد

خبردار ! عقیدے کا خلل و بگاڑ جس میں امت کا ایک بہت بڑا گروہ مبتلا ھو چکا ہے اسی میں سے ایک یہ ہے کہ امت کا اللہ پر اعتماد کمزور اور اسکا اس پر یقین ضعیف ھو چکا ہے ـ غیر اللہ پر توکل و اعتماد کر چکے ہیں ، اور غیر اللہ کا ڈر انکے دلوں میں جاگزیں ھو چکا ہے اور لوگ عہد جاھلیت کے دعوے سے تمسک و تعلق جوڑ چکے ہیں اور اسکے ساتھ ہی اسلامی رشتہ و رابطہ کر چھوڑ کر دوسری نسبتوں میں بندھ گئیے ہیں حتی کہ بعض شکست خوردہ ذھنیت کے مالک لوگوں نے تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہمیں کئی مسائی ل میں اسلامی قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کرنی چاہیئیے اور یہ ذھنی غلام اللہ کا یہ ارشاد بھول بیٹھے ہیں ـ

" اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین ( ازم ) کا طالب ھوا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ھو گا ـ } ( آل عمران : 85 )

کتاب و سنت کی طرف رجوع

اللہ کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ اور اسکی طرف رجوع کر لو ، اس سے مغفرت و بخشش مانگو اور اسکی طرف چلنے کی اپنی ڈگر کو صحیح کر لو ، اپنے دین کی طرف رجوع کر لو اور دین میں کس مقام پر کھڑے ھو اسکی بھی جانچ پڑتال کر لو اور وحی صافی کے سرچشمہ سے آب شیریں حاصل کرو ، آپ کے سامنے وہ دونوں چیزیں موجود ہیں جنھیں اپنا لو گے تو ہر گز گمراہ نہ ھو گے اور وہ دونوں چیزیں کتاب اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہیں ، دین میں فقاہت حاصل کرو اور علم دین کو سیکھو   اللہ کی شریعت پر چلنے کی پابندی کرو ، سیدھے چلو ، اور سیدھے چلو اور ٹھیک راستہ اپناؤ اور میانہ روی اختیار کرو ( افراط و تفریط میں مبتلا نہ ھو جاؤ ) اللہ سے امیدیں قائی م رکھو اور بشارتیں پاؤ ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

{ تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائیے ہیں اور نیک اعمال کئیے ہیں ، اللہ تعالی وعدہ فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائیے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا انکے لئیے انکے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے انکے لئیے وہ پسند فرما چکا ہے اور انکے اس خوف و خطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے ، میرے ساتھ کسی کو بھی شریک  نہیں ٹھہرائی یں گے اور اسکے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقینا فاسق ہیں ـ  } ( النور : 55 )

اللہ کی صفات عالیہ

اللہ تبارک و تعالی نے اپنی ذات عالی کی قدرت کے بارے میں فرمایا ہے :

{ اور اللہ ہی کی ملک ہیں وہ سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے ـ }

( الانعام : 13) اور ارشاد ہے :

{ وہ وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے بر ترہے اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے ـ } ( الانعام : 18 ) اور فرمایا ہے :

" اور اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ( خزانے ) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے  ، اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہہیں ، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسکو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں ـ } ( الانعام : 59 )

لوح محفوظ اور قضاء و قدر

کتاب اللہ ایسی آیات سے بھری پڑی ہے جن میں یہی مفہوم بیان ھوا ہے اور وہ آیات اس حقیقت واجبہ کو ظاھر کرتی ہیں کہ اس روئیے زمین پر چھوٹا یا بڑا کوئی بھی حادثہ رونما ھو تو وہ لوح محفوظ میں قلم کی لکھی تقدیر کے عین مطابق ہی ھوتا ہے ، اور یہ چیز زمین اور آسمانوں کی تخلیق سے بھی پہلے کی لکھی ھوئی ہے اور وہ بہت ہی علم رکھنے والے بہت خبر رکھنے والے اللہ کے علم کے عین مطابق ہی ھوتا ہے ، اللہ وہ پاک ذات ہے جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور دنیا میں جو کچھ بھی روپذیر ھوتا ہے وہ اللہ کی طے کردہ اسی تقدیر کے مطابق ہی ھوتا ہے بندہ چاہے اسکا علم حاصل کرپائیے یا اس سے جاھل رہے اور اس پر رضا مند ھو یا ناراض رہے ـ

یہی مومنوں کی توحید کے کمال کا نقطہ ہے ـ ان کے دل قضاء و قدر کیلئے  خوب محکم ھوتے ہیں اور بلاء مصیبت پر صبر کرنا انکے لئیے ایک معمولی بات ھوتی ہے ، اور خوشی میسر آنے پر شکر کرنا بھی انکے لئیے ایک معمول کی بات ھوتی ہے ، ان ہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ کی سپرد کئیے ھوتے ہیں اور وہ اسی سے مغفرت و بخشش اور رحمت کا سوال کرتے ہیں ـ

قانون الہی :

مسلمانو ! کوئی امت اللہ کی سنت کونیہ سے خارج نہیں ھوتی چاہے زمانے کتنے ترقی کر جائی یں یا تنزلی میں مبتلا ہوں اور کوئی زمین میں چاہے کتنا ہی سرکش ھو جائیے اور اللہ کے احکام سے کتنا ہی باغی بن جائیے اور یہ تھذیبیں اسکے سوا کیا ہیں کہ یکے بعد دیگرے آتی صدیاں ہیں یا بستیاں ہیں جن میں سنت الہیہ ( اللہ کا قانون ) رواں دواں ہے ، جس میں کوئی تغیر و تبدیلی ھونے والی نہیں ہے ـ

مسلمان کی بے خبری

آپ کو اس بات پر تعجب ھو گا کہ بعض مسلمان اس بات سے بے خبر ھو چکے ہیں اور بکثرت لوگ اس سے غفلت میں مبتلا ہیں یہی وجہ ہے کہ ان ہوں نے غیر اللہ سے ڈرنا شروع کر رکھا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ھو بیٹھے ہیں ـ اور اللہ کے بندوں کو دہشت زدہ کرنے والے کافروں کی روش پر چل رہے ہیں ـ

اللہ سے حسن ظن

خبردار ! ان حالات میں واجب یہ ہے کہ ہم اللہ پر حسن ظن رکھیں اسکی طرف رجوع کریں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں ، اللہ سے گڑ گڑ کر دعائی یں مانگیں اور اللہ تعالی اپنی مخلوق کے ساتھ لوگوں کے وہم و گمان سے بھی زیادہ لطف و کرم کرنے والے ہے ـ

مسلمانو ! اللہ ہر پکارنے والے کی سننے والا ہے ، ہر مناجات و سرگوشی کرنے والے کے قریب ہے ـ اس نے اپنے بندوں کو دعاء کرنے کا حکم فرمایا ہے اور خود دعاء کو قبول کرنے کا عہد کیا ہے ـ اس نے بندوں کو اللہ پر توکل کرنے کا حکم دیا ہے اور خود اس نے انکے لئیے کافی ھونے کا وعدہ فرمایا ہے ـ

اللہ کے رسول اور انکی امتیں آزمائی گئی یں اور طرح طرح کے مصائی ب و مشکلات سے دوچار ھوئی یں اور اللہ کی طرف سے کشائی ش اور اسکی رحمت بہت ہی قریب ہے ، اور یہ چیزیں وہاں سے آتی ہیں جہاں سے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

{ اللہ اپنے امر و ارادہ پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ـ ـ}

( یوسف : 21 )

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

یہ امت اسلامیہ دوسری عام امتوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ برگزیدہ ، مرحومہ اور فتح و نصرت یافتہ امت ہے ، اس پر چاہے جتنی بھی مصیبتیں آئی یں اور ضعف و کمزوری کے چاہے کتنے ادوار گزریں بہرحال رحمتیں اور فتح و نصرت اسی کا مقدر ہے ـ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

{ اللہ تعالی نے میرے لئیے ساری زمین سمیٹ سکٹر دی اور میں نے اسکا مشرق و مغرب سب دیکھ لیئیے ـ } اسی حدیث میں آگے چل کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں " میرے رب نے فرمایا : اے محمد ! میں جب کوئی فیصلہ کر دیتا ہوں تو اسے کوئی نہیں بدل سکتا ، اور  میں نے آپ کی امت کو یہ انعام دے رکھا ہے کہ انھیں قحط سالی سے ھلاک نہیں کروں گا اور انکے اپنے آپ کے سوا دوسرے دشمنوں کو ان پر مسلط نہیں کروں گا جو کہ انکی عزتوں سے کھیلیں اگر چہ ساری دنیا کے لوگ بھی انکے خلاف ھو جائی يں ـ حتی کہ یہ خود ہی ایک دوسرے کو ھلاک کرنے لگیں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے ـ }  ( صحیح مسلم )

حسن انجام : امت کا مقدر

غرض جس امت کے اللہ تعالی نے یہ  اوصاف بیان کئیے ہیں اسے کسی بھی حالت میں مایوس نہیں ھونا چاہیئیے اور نہ ہی اسکے بارے میں کبھی بھی یہ سوچنا چاہیئیے کہ یہ امت مر چکی ہے ـ اسکا معاملہ ختم ھو چکا ہے یہ وہم و گمان صرف وہی کر سکتا ہے جو اللہ سے بدظنی رکھے اگر چہ اس امت کی تاریخ میں کئی مدو جزر اور اتار و چڑھاؤ آئیے ہیں لیکن یہ ایک ثابت و قائی م حقیقت ہے کہ برحال حسن انجام صرف امت مسلمہ ہی کے حق میں رہا ہے ، آپ دعائی یں کرتے رہیں کہ یہی وہ اسلحہ ہے جو شکست نہیں دیا جاتا اور یہی وہ تیر ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا ـ ارشاد الہی ہے : { تم لوگ اپنے رب سے دعاء کیا کرو گڑ گڑا کر بھی اور چپکے چپکے بھی ـ واقعی اللہ تعالی ان لوگوں ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائی یں اور دنیا میں اسکے بعد کہ اسکی درستی کر دی گئی ہے ، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو ، اس سے ڈرتے ھوئیے اور امید وار رہتے ھوئیے ـ بیشک اللہ تعالی کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے ـ } ( الاعراف : 55 ـــ 56 )

اللہ سے تعلق پیدا کرنا اور اسی کے ساتھ اطمینان پانا توحید کی حقیقت ہے ـ

{ سبحان ربک رب العزة عما یصفون و سلام علی المرسلین

والحمد  للہ رب العالمین }

 

 

ملاحظہ کیا گیا 7590 بار آخری تعدیل الجمعة, 06 أيلول/سبتمبر 2013 14:57