بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الخميس, 12 آذار/مارس 2015 00:00

حدیث رسول علیہ السلام کا دفاع کیوں ضروری ہے؟

مولف/مصنف/مقرر  ابن بشیر الحسینوی

حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیوں ضروری ہے؟

قیامت تک کے انسان کے لئے مکمل ترین نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے تمام شعبہ ہائے زندگی کی مکمل رہنمائی قرآن مجید اور اس کی تفسیر و توضیح حدیث رسولﷺ میں ہے ۔بعض لوگ بنی نوع انسان کو صراط مستقیم سے ہٹانے کے لئے اور انھیں بے راہ روی کا شکار کرنے کے لئے حدیث مصطفی ﷺ سے متنفر کرتے رہتے ہیں اور حدیث رسول کی اہمیت سب پر واضح ہے ،اور یہ بجا ہے کہ حدیث کا دفاع اصل میں دین اسلام کا دفاع ہے  کیونکہ اسلام کی مکمل تفصیل قرآن مجید اور حدیث رسول ﷺ میں ہے جہاں قرآن کریم وحی ہے وہاں حدیث رسول ﷺ کو بھی وحی کہا گیا ہے۔جو حدیث پر حملہ کرتا ہے وہ گویا اسلام پر حملہ کرتا ہے۔ جو حدیث کا دشمن ہے وہ گویا اسلام کا دشمن ہے!! اور جو اسلام کا دشمن ہے وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن ہے ۔

حدیث رسول ﷺ پر کئے گئے  اعتراضات کی اجمالی صورتیں: احادیث پر اعتراضات کرنے والوں کی مختلف صورتیں ہیں جن پر ضروری تبصرہ پیش خدمت ہے ۔

اسلام سے دشمنی :

منکرین حدیث اور مستشرقین  اسلام سے دشمنی کی وجہ سے احادیث پر اعتراضات کرتے ہیں ان کے پیش نظر حدیث کی اہمیت کو کم کرنا ہوتا ہے اس لئے وہ دن رات احادیث رسول ﷺ پر بے جا تنقید کرتے ہیں حقیقت میں ان پر اللہ تعالی کی طرف سے لعنت پڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔

تقلید :

تقلید کی وجہ سے کئی لوگ اپنے امام کے قول کو ثابت کرنے کے لئے احادیث کا انکار کر جاتے ہیں۔ مقلدین کی کتب ان کی مثالوں سے بھری ہوئی ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیں شیخ الحدیث اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی کتاب(نگارشات)

معنوی تحریف:

بعض لوگ ظاہر میں حدیث کا دفاع کرتے ہیں لیکن اپنے مسلک کے مسئلے کو ثابت کرنے کے لئے وہ معنوی تحریف سے کام لیتے ہیں ۔معنوی تحریف کا حکم وہی ہے جولفظی تحریف کا حکم ہے یعنی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

 شیخ الحدیث غلام رسول سعیدی کی شرح صحیح مسلم اور شرح صحیح بخاری ،معنوی تحریف سے بھری پڑی ہیں ۔

لفظی تحریف :

بعض لوگ احادیث میں الفاظ کا اپنی طرف سے اضافہ کر کے یا کمی کرکے یہودو نصاری کی روش بد پر چلتے ہیں مولانا جابر دامانوی حفظہ اللہ کی کتاب تحریف النصوص میں بے شمار مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔

باطل تاویلیں:

بعض لوگ صحیح احادیث کی باطل تاویل کر جاتے ہیں جس سے حدیث کا صحیح مفہوم ہی بدل جاتا ہے اور وہ اس سے اپنی مرضی کا مفہوم نکالتے ہیں ۔کتب احناف میں اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں ۔ہمارے فاضل دوست ارشد کمال حفظہ اللہ کی کتاب (عذاب قبر )اس ضمن  میں اچھی کاوش ہے کہ منکرین عذاب قبر باطل تایلوں کا زبردست رد کیا ہے ۔

ثقہ راویوں کو ضعیف ثابت کرنا :

بعض لوگوں نے اپنے مذھب کو بچانے کی خاطر ایک نیا حیلہ نکالا ہو ا ہے کہ ثقہ راویوں کو ضعیف ثابت کرکے اپنے پیروکاروں کو خوش کرلیتے ہیں اس کی بے شمار مثالیں  دیکھنے کے لئے استاد محترم محدث العصر ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی کتب (مولانا سرفراز صفدر اپنی کتب کے آئینے میں اور اعلاء السنن فی المیزان )قابل تعریف ہیں۔ شیخ محترم نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔ اور راقم نے اس پر اپنی قیمتی کتاب (دفاع اسلام) میں بے شمار مثالیں جمع کر لی ہیں اور مزید اس پر کام باقی ہے۔

ذوق کے خلاف :

بعض لوگوں نے حدیث مصطفی ﷺ کو اپنے ذوق پر پرکھا !!!کس قدر دین کے خیر خواہ تھے یہ لوگ کہ وہ برملا کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے ذوق کے خلاف ہے !!! اس باطل نظریے کی مثالیں تفہیم القرآن میں ملتی ہیں ان کا زبر دست ردعبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب(احادیث اور مودودیت )میں کیا ہے

 مذہبی تعصب:

اپنے مذھبی تعصب کی وجہ سے احادیث رسول ﷺ کو نشانہ تنقید بنایا گیااس پر بے مثال تبصرہ پڑھنے کے لئے کوثری حنفی کے مذھبی تعصب پر علامہ معلمی یمانی کی لاجواب کتاب(التنکیل اور الکاشف )کا مطالعہ کافی ہے

جھوٹی روایات سے سہارا لینا:

صحیح احادیث کو چھوڑ کر جھوٹی،منکر اور ضعیف روایات سے سہارا لینا بھی حدیث دشمنی کی واضح مثال ہے، ابوالمؤید خوارزمی نے (مسانید امام ابی حنیفہ )کے نام سے ایک کتاب جمع کی ہے اس کے متعلق ولی اللہ شاہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:’’خوارزمی کی جمع کردہ مسانید امام ابی حنیفہ کا درجہ چوتھے طبقے کی ضعیف ،موضوع اور منکر احادیث پر مشتمل کتابوں کے قریب قریب ہے، جن سے بدعتی حضرات اپنے مذہب کی تائید کے لئے دلیلیں اکٹھا کرتے ہیں ‘‘(حجۃ اللہ البالغۃ :ج ۱ص ۱۳۵) کتب احناف جھوٹی اور غیر ثابت روایات سے بھری پڑی ہیں اور انھیں روایات سے اپنے مسائل کی بنیاد رکھتے ہیں ۔

وضعی علوم حدیث  :

بعض لوگوں نے انکار حدیث کے لئے علوم حدیث پر تنقید کی مثلا امین احسن اصلاحی ، ان کا تفصیلی رد مولانا محمد عزیر مبارکپوری نے اپنی کتاب(انکار حدیث کا نیا روپ )میں لیا ہے اور بعض منکرین نے فضول اصول حدیث وضع کرلئے مثلا جاوید احمد غامدی ،ان کے باطل اصول حدیث کی خبر شیخ محمد حسین میمن اور ابوالحسن علوی حفظہما اللہ نے لی ہے ۔

اور احناف نے بھی ایسے اصول حدیث لکھے جن سے صحیح احادیث کا انکار لازم آتا ہے مثلا قواعدعلوم الحدیث از ظفر احمد عثمانی دیوبندی ،اس کتاب میں حنفی اصول حدیث جمع کئے گئے ہیں ان کی خوب خبر شیخ العرب والعجم محمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (نقض قواعد علوم الحدیث )میں لی ہے ۔اور استاد محترم محدث العصر ارشادالحق اثری حفظہ اللہ نے اپنی کتب (توضیح الکلام ،اعلاء السنن فی المیزان وغیرہ )میں ان کے باطل اور وضعی اصول حدیث کا خوب رد کیا ہے۔ راقم نے(علوم حدیث اور احناف استاد محترم محدث العصر شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی نظر میں)مفصل کتاب لکھ رکھی ہے ۔جو کراچی میںزیر طبع ہے ۔

وضع حدیث:

بعض لوگوں نے صحیح احادیث سے دشمنی کرنے کی خاطر ایک نئی راہ نکالی کہ ان احادیث صحیحہ کے خلاف اپنی طرف سے جھوٹی روایات بنا ڈالیں اور عوام کاالانعام کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی ۔کتب احناف اور کتب دیوبندیہ اور کتب بریلویہ میں اس طرح کی کافی مثالیں ملتی ہیں اور فتنہ وضع حدیث بھی حدیث دشمنی میں آتا ہے کہ گمراہ لوگوں نے صحیح احادیث کے خلاف جھوٹی روایات بنانا شروع کر دیں اور دین اسلام کو نقصان پہنچایا ۔

منکرین حدیث کی ہم نوائی :

بعض لوگوں نے منکرین کا ساتھ دیتے ہوئے صحیح احادیث پر اس قدر حملے کئے ہیں کہ اگر مصنف کا نام معلوم نہ ہو تو پڑھنے ولا کہہ اٹھے گا کہ یہ کسی منکرین حدیث کی کتاب  ہے ۔اوراس طرح کے  حملے کرنے والے احناف سے تھے ان کے بے ہودہ حملوں کی تفصیل اور ان کے دفاع کی حقیقت کو جاننے کے لئے علامہ ابوالقاسم بنارسی رحمہ اللہ کی قیمتی سات کتابوں کا مجموعہ (دفاع صحیح بخاری )کا مطالعہ کافی ہے ۔یوسف بن موسی المطلی الحنفی (ت:۸۰۳ھ)اکثر کہا کرتا تھا: ’’من رای فی کتاب البخاری تزندق‘‘جس نے صحیح بخاری میں دیکھا وہ زندیق ہو گیا ۔(الضوء اللامع :ج ۱۰ص۳۳۵)

عقل پرستی:

بعض لوگوں محض عقل کی بنیاد پر انکار حدیث کیا اور ان لوگوں نے کتنی جرات کی وحی الہی پر اپنی ناقص عقل کے گھوڑے دوڑائے اور محدثین کی محنتوں اور علم حدیث کو ضائع کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔۔۔اس پر علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ کی کتاب’’عقل پرستی اور انکار معجزات ‘‘قابل دید ہے ۔

شبیر احمد صاحب عقل کے ذریعے انکار حدیث کرتے ہوئے لکھتا ہے :’’کیا یہ ممکن ہے ؟اگر کوئی کہے کہ یہ ممکن ہے تو محال و ناممکن ،بے معنی بات ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل عقل میں آنے والی نہیں ہے۔ ہرگز سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ‘‘(صحیح بخاری کا مطالعہ: ج۱ص148-151)

نو ٹ:مذکورہ تمام صورتوں پر بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جو ایک طویل ترین کتاب کی محتاج ہیں بس اس مختصر مضمون میں انھیں گزارشات پر اکتفا کرتا ہوں زندگی نے وفا کی اور اللہ تعالی کو منظور ہوا تو ’’دفاع اسلام‘‘کے موضوع پر ایک طویل کتاب لکھوں گا ان شاء اللہ اور اس پر کافی کام مکمل ہے اور کافی باقی ہے ۔ان تما م صورتوں کو ذکر کرنے سے یہ مقصد تھا کہ قارئین کو معلوم ہو کہ دفاع حدیث کی کتنی ضرورت ہے اور کس طرح مختلف لوگ مختلف روپ دھار کر احادیث مصطفی ﷺ سے اپنی دشمنیاں رکھے ہوئے ہیںجہاں اس میں منکرین حدیث ملوث ہیں وہاں دیگر رہنمائے امت بھی مقلدین کے روپ میں ملوث نظر آتے ہیں کوئی صریحا انکار کررہاہے تو کوئی خفیہ طریقے سے اپنے ترکش چلا رہا ہے، کوئی تقلید کی وجہ سے انکاری ہے تو کوئی مذھبی تعصب کی بنا پر ،کوئی الفاظ میں تحریف کی وجہ سے مجرم ہے تو کوئی معنوی تحریف کی ضد میں آتا ہے ۔ان تمام کا نوٹس لینا اہم ذمہ داری ہے، یہود ونصاری ،مستشرقین تو اعتراضات کرتے لیکن افسوس ان بعض نام نہاد مسلمانوں پر ہے جنھوں نے اپنی کم فہمی اور کج روی کا اظہار عداوت حدیث کی صورت میں کیا اوربعض نے تقلید کو آڑ بناکر اسلام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی ،الحمدللہ دین اسلام محفوظ تھا محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا جب بھی کسی نے اسلام پر اعتراضات کئے اسی وقت اللہ کے بندے قلم و قرطاس لے کر میدان میں اترتے ہیں اور دفاع اسلام کا حق ادا کرتے ہیں یہ ایک مستقل تاریخ ہے کہ کس صدی میں کس  نے اعتراضات کئے اور اسی صدی میں کس نے ا س کا جواب لکھا ، راقم نے اپنے(موسسۃالاثریۃ الخیریۃ) کے تحت ’’دفاع اسلام فورم‘‘قائم کر رکھا ہے اس کے تحت اسلام پر مستشرقین کے جوابات انگلش میں لکھے جا رہے ہیں اور حدیث سے مذاق کرنے والوں کے تعاقب میں اردو زبان میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مزید سلسلہ جاری ہے۔

فائدہ:

بعض اہل علم کا شمار محدثین کی صف میں ہوتا ہے اور خدمت حدیث پر ان کی زندگی وقف تھی لیکن اصول اور جرح وتعدیل میں انھیں بعض اجتھادی غلطیاں لگی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے انھوںنے کئی ایک صحیح احادیث کو ضعیف قرا ر دیااور اس کے برعکس ،ایسی غلطیوں کو اجتھادی غلطی سے تابیر کرنا چاہئے اس کی ضروری تفصیل کے لئے دیکھئے (مقالات اثریہ از شیخ خبیب احمد حفظہ اللہ)

------

ملاحظہ کیا گیا 6214 بار آخری تعدیل الإثنين, 21 أيلول/سبتمبر 2015 11:48