بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
الثلاثاء, 19 كانون1/ديسمبر 2017 13:59

علامات قیامت کی تفسیر وتطبیق کے شرعی اصول اورضابطے

مولف/مصنف/مقرر 

خالدحسین گورایہ[1]

علامت سے مرادوہ نشانیاں ہیں جن کے ظہور سےایک مومن قیامت کے قرب کا اندازہ کرسکتاہے ۔اور ان کے مشاہدے سے اسے اس یوم عظیم کے قیام کا پختہ یقین ہوجاتاہے کہ ایک دن اس نے رب تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا ہے ۔ اوراپنے کیے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔

شرعی نصوص میں وارد قیامت سے مراد اور اس کی قسام :

 شرعی نصوص میں تین طرح کی قیامت کا ذکر آیا ہے ۔

پہلی قسم : قیامتِ کبریٰ ( جسے الساعۃ الکبریٰ ) کہا جاتاہے ۔ جس میں تمام دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور کائنات میں موجود ہر چیز نیست ونابود اور ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، جس کے بارے میں قرآن مجید نے ان الفاظ میں تذکرہ کیا ہے۔

{ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ } [القمر: 46]

ترجمہ : ’’ اور قیامت بڑی دہشت ناک اور تلخ تر ہے‘‘۔

اور فرمایا :{كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ} [القصص: 88]

’’اللہ کی ذات کےعلاوہ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ‘‘۔

دوسری قسم ـ: ایک ہی صدی میں موجود تمام لوگوں کی موت کو بھی چند نصوص میں قیامت سے تعبیر کیا گیاہے ۔ جیسا کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان میں ہےجب آپ نے سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا  :

’’إن يطل عمر هذا الغلام لم يمت حتى تقوم الساعة‘‘۔[2]

’’ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کواگر دراز عمر دی تو اس کی موت تک تم پر قیامت قائم ہوچکی ہوگی ‘‘۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ كان رجال من الأعراب يأتون النبي صلى الله عليه وسلم فيسألونه عن الساعة فكان ينظر إلى أصغرهم فيقول إن يعش هذا لا يدركه الهرم حتى تقوم عليكم ساعتكم‘‘‘[3]

ترجمہ :’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی کریم (  صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خدمت میں آیا کرتے اور یہ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  یہ سن کر اس بچے کی طرف دیکھتے جو ان پوچھنے والوں کے ساتھ سب سے کم عمر  ہوتا تھا اور پھر فرماتے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو یہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے نہیں پائے گا کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی ‘‘۔

 تیسری قسم : کسی فرد کی موت کو بھی قیامت سے تعبیر کیا گیاہے ۔

ہر انسان کی قیامت اس کی موت کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا} [الانعام: 31]

ترجمہ :’’ بلاشبہ جن لوگوں نے اللہ سے ملاقات (کی حقیقت) کو جھٹلایا وہ نقصان میں رہے حتیٰ کہ جب قیامت اچانک انہیں آ لے گی تو کہیں گے،افسوس اس معاملہ میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی‘‘۔

یہ جو حسرت انسان کو لاحق ہوگی یہ حسرت موت کے وقت بھی ہوگی اور روز قیامت بھی ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

قال علماؤنا : و اعلم أن كل ميت مات فقدقامت قيامته و لكنھا قيامة صغرى و كبرى فالصغرى هي ما يقوم على كل إنسان في خاصته من خروج روحه و فراق أهله و انقطاع سعيه و حصوله على عمله إن كان خيراً فخير و إن كان شراً فشر و القيامة الكبرى هي التي تعم الناس و تأخذهم أخذة واحدة و الدليل على أن كل ميت يموت فقد قامت قيامته قول النبي صلى الله عليه و سلم لقوم من الأعراب و قد سألوه متى القيامة ؟ فنظر إلى أحدث إنسان منھم فقال: ( إن يعش هذا لم يدركه الهرم قامت عليكم ساعتكم ) [4][5]

اہل علم فرماتے ہیں : ’’جو شخص بھی فوت ہوجاتاہے اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے ۔ لیکن قیامت ایک قیامتِ صغریٰ ہے ، اور ایک کبریٰ، قیامت ِصغریٰ وہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ خاص ہے جس کاآغاز اس کی روح نکلنے، اہل وعیال کو داغِ مفارقت دینے ، عمل کا سلسہ منقطع ہونے اور اپنے عمل کی جزا پانے سے ہوتاہے کہ اگر خیر ہے تو خیر اور شر ہے تو شر ۔اور قیامتِ کبریٰ وہ قیامت ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لےگی اور یک لخت نظام زندگی کو درہم برہم کردےگی۔اور اس امرکی دلیل کہ ہر انسان کی موت سے اس کی قیامت بپا ہوجاتی ہے

آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان ہے جو آپ نے چند اعراب کے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا جب آ پ سے پوچھا گیا کہ قیام کب قائم ہوگی ؟ تو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں سے ایک نوخیز جوان کو دیکھا اور اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’ اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھے ہونے تک تم لوگوں پر قیامت قائم ہوچکی ہوگی ‘‘ ۔

علامات قیامت کی اقسام :

امام محمد السفارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"اعلم أن أشراط الساعة وأماراتھا تنقسم إلى ثلاثة أقسام: قسم ظھر وانقضى، وهي الأمارات البعيدة. وقسم ظھر ولم ينقض،بل لا يزال في زيادة حتى إذا بلغ الغاية ظھر القسم الثالث، وهي الأمارات القريبة الكبيرة التي تعقبھا الساعة،وأنھا متتابعة كنظام خرزات انقطع سلكھا‘‘.[6]

ترجمہ’’جان رکھو کہ قیامت کی علامات اور اس کی نشانیاں تین طرح کی ہیں :’’ایک قسم وہ جو ظاہر ہوکر گذر چکی ہیںاور یہ امارات بعیدۃ ہیں ۔ دوسری قسم وہ جو ظاہر تو ہوچکی ہیں لیکن ابھی وہ ختم نہیں ہوئیں ( بلکہ ان کا تسلسل ابھی جاری وساری ہے )اور یہ بڑھتی جاتی ہیں یہاں تک تک تیسری قسم کی علامات کا ظہور شروع ہوجائے گا۔اور تیسری قسم کی وہ علامات ہیں جو قیام قیامت کے عین قریب واقع ہوں گی اور ان کے متصل بعد قیامت قائم ہوجائے گی اور یہ علامات پے درپےظاہر ہو رہی ہیںایسے موتیوںکی طرح جن کی لڑی ٹوٹ چکی ہو (اور وہ)ایک ایک کر کے گررہے ہوں ‘‘۔

 علاماتِ صغریٰ : سے مراد وہ علامتیں ہیں جو واقع ہوچکی ہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کا زمانہ بھی کئی صدیاں پہلے گذر چکاہے ۔ ان علامات میں بطور مثال چند ایک یہ ہیں ۔

 

 

 (۱) نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’بعثت أنا والساعة كھاتين‘‘.[7]

’’ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ( شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی )کو ملاکر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح ایک ساتھ بھیجا گیاہے ’’ یعنی جتنا فاصلہ ان دو انگلیوں کے مابین کا بنتاہے اتنا ہی فاصلہ میرے اور قیامت کے درمیان ہے‘‘ ۔

(2) حجاز کی زمین سے آگ کا نکلنا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہ قائم ہو گی یہاں تک کہ نکلے گی ایک آگ حجاز کے ملک سے، روشن کر دے گی بصریٰ کے اونٹوں کی گردنوں کو۔“[8] (یعنی اس کی روشنی ایسی تیز ہو گی کہ عرب سے شام تک پہنچے گی، حجاز مکہ اور مدینہ کا ملک اور بصریٰ ایک شہر کا نام ہے)۔

(3) جھوٹے نبیوں کا ظہور ۔ یہ بھی تاریخ سے ثابت ہوچکا کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہے جو گاہے بگاہے نبوت کا دعویٰ کرتے رہے ۔

علامات ِ وسطیٰ : سے مراد وہ علامات ہیں جن میں سے بعض ظاہر ہوچکی ہیں اور ان کے ظہور کا سلسلہ متواتر جاری وساری ہے ۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔

(1)نااہل ، احمق اور کمینے لوگوں کا زمام حکومت سنبھالنا ۔

(2) لوگوں کا مساجد بنانے اور ان کی تزئین وآرائش کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ۔

(3)علم کا اٹھ جانا ، جہالت کا عام ہونا ، کثرت سے شراب کا پیا جانا ۔وغیرہ

اما م بخاری رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا :

’’لأحدثنكم حديثا سمعته من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يحدثكم به أحد غيري، سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "إن من أشراط الساعة أن

  يرفع العلم، ويكثر الجهل ويكثر الزنا، ويكثر شرب الخمر، ويقل الرجال، ويكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد‘‘.[9]

’’ انہوں نے (قتادہ) سے کہا (آج) میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی تم سے بیان نہیں کرے گا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے تھے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم کم ہوجائے اور جہل غالب آجائے اور زنا اعلانیہ ہونے لگے اور عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت ہوجائے گی، یہاں تک پہنچے کہ پچاس عورتوں کاکفیل صرف ایک مرد ہوگا‘‘۔

علامات کبریٰ : یعنی بڑی علامتیں ان کے ظہور کے بعد دنیا کا قیامت سے فاصلہ بہت کم رہ جائے گا۔ بلکہ چند علامات تو ایسی ہیں کہ عین انتہا پر نمودار ہوں گی ۔

ان علامات میں دجال کا ظہور ، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول،امام مہدی کا ظہور ، یاجوج ماجوج کانکلنا،زمین سےایک جانور  کانکلنا، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

علامات قیامت کی تفسیر کے حوالے سے قائم نظریات :

علامات قیامت تفسیر حوالے سے لوگوں میں بہت سی آراء اور نظریات پائے جاتے ہیں ۔

پہلا نظریہ : علامات قیامت کا کلیۃً انکار ہے ۔ اس باب میں بھی دوطرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو تمام علامات کے انکاری ہیں اور بعض وہ ہیں جو تمام علامات کا انکار تو نہیں کرتے لیکن چند علامات کا انکار کرتے ہیں ۔

جیسے بعض خوارج ، بعض جہمیہ اور بعض معتزلہ اور عقلانیوں کی اکثریت نے خروج دجال ، نزول عیسیٰ علیہ السلام ، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور زمین سے جانور کے نکلنے کا انکار کیاہے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’وَقَدْ خَالَفَ فِي ذَلِكَ بَعْض الْخَوَارِج وَالْمُعْتَزِلَة وَالْجَهْمِيَّة فَأَنْكَرُوا وُجُوده وَرَدُّواالأحَادِيث الصَّحِيحَة،وَذَهَبَ طَوَائِف مِنْھُمْ كَالْجُبَّائِيِّ

 إِلَى أَنَّهُ صَحِيح الْوُجُود، لَكِنْ كُلّ الَّذِي مَعَهُ مَخَارِيق وَخَيَالات لا حَقِيقَة لَهَا‘‘ .[10]

’’دجال کے مسئلے میں بعض خوارج اور معتزلہ اور جہمیہ نے اختلاف کیاہے جس کی بنا پر انہوں  نے اس کے ظہور کا انکار کیا ہے اور اس باب میں وارد صحیح احادیث کو رد کردیا ، ان میں سے چند گروہ جیسا کہ جبائی (معتزلی )ہے نے اس کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن اس کا یہ کہنا ہے کہ دجال کے ساتھ جو بھی خلاف عادت امور اور شعبدہ بازیاں ہوں گی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔

عصرِحاضرمیںعقل پرستوں میں سے جن نے خروج دجال وغیرہ کا انکار کیا ان میں سرفہرست مصر کے محمد عبدہ اوردیگر محمد فہیم ابو عبیہ،محمود أبوريه،محمد فريد وجدي، عبدالرزاق نوفل، أحمد أمين، انجینئر جواد عفانه اور اہل قرآن ( جن میں عبد اللہ چکڑالوی اور اس کے ہمنوا شامل ہیں ) ۔[11]

دوسرا نظریہ:علامات قیامت کے حوالے سے دوسرا گروہ وہ ہے جنہوں نے ان علامات کی اپنی من مانی تفسیر کی ہے جیسا کہ پرویزی فرقے کے نزدیک الساعۃ سے مراد یوم انقلاب ربوبیت ہے ۔ اور قیامت کے دن وزن اعمال کا مطلب یہ ہے کہ جب نظام ربوبیت قائم ہوجائےگاتو’’کسی مزدور کی محنت میں کوئی کمی نہیں کرسکے گا اور محنت کرنے والے کی محنت کا ذرہ ذرہ نتیجہ خیز ہوگا ۔ اس کا حساب زمیندار یا سرمایہ دار نہیںکیا کرے گا کہ محنت کش کا حصہ کیاہے اور اس کا حصہ کتنا ہے ؟ ‘‘[12]

بعض نے دجال سے مراد یہ لیا ہے کہ مغرب میں شر کی علامت دجال ہے اور خیر کی علامت عیسیٰ علیہ السلام ہے،یعنی ان کے نزدیک مہدی اور عیسیٰ علیہا السلام سے مراد خیرکا شر پر غالب آنا ہے اوردجال سے مراد فتنہ کا پروان چڑھنا اور ایک وقت میں گمراہی وشر کا بول بالا ہونے سے مرادجال ہے۔[13]

 

علامت قیامت سے متعلق اہل سنت والجماعت کا نظریہ :

اہل سنت والجماعت جنہیں اہل حدیث بھی کہا جاتاہے ان کا نظریہ جو علامات قیامت کے حوالے سے قائم ہے اسے چند نکات میں ذیل میں پیش کیا جاتاہے ۔

(1) علامات قیامت کا مصدر صرف اور صرف قرآن وحدیث ہےباب اجتہاد کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ باب اخبار پر قائم ہے جس کا مستند ترین ذریعہ صرف اور صرف کتاب وسنت ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ذریعہ چاہے وہ اسرائیلی روایات کی شکل میں ہویا فردی آراء ان کی  علامات قیامت کے ثبوت میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس منہج کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’فھذا كتاب الفتن والملاحم في آخر الزمان، مما أخبر به رسول الله، وذكر أشراط الساعة، والأمور العظام التي تكون قبل يوم القيامة،مما يجب الإيمان به؛ لإخبار الصادق المصدوق عنھا الذي لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى)[14]

’’ یہ آخری زمانے میں نمودار ہونے والےان فتنوں اورشروفساد کے بیان پر مشتمل کتاب ہے جن کے بارے میں نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں خبر دی ہے ۔ اس میں قیامت کی علامات اور ان امور عظام کا بیان بھی ہے جو قیامت سے قبل رونما ہوں گے ۔ جن پر ایمان لانا واجب ہے ،کیونکہ ہمیں اس کی خبر اس صادق ومصدوق ہستی نے دی ہے جو اپنی رائے سے کوئی بات نہیں کرتے بلکہ یہ سب وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے ‘‘۔

(2) علامات قیامت کے بیان کا مقصد لوگوں کو بری عاقبت سے ڈرانا اور اور انہیں غفلت سے بیدار کرنا ہے ۔ نہ کہ دیومالائی قصوں کی طرح انہیں پڑھنا اور پڑھانااور اپنی پوائنٹ سکورنگ کیلئے ان کی تطبیق بیان کرنا ہے ۔

 علامہ ابو عمرو الدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ ( قد بعثني ما أخذه الله عزوجل من الميثاق والعھد على أهل العلم والرواية في نشر ماعلموه، وأداء ماسمعوه، أن أجمع في هذا الكتاب جملة كافية من السنن الواردة في الفتن وغوائلها، والأزمنة وفسادها، والساعة وأشراطھا، لكي يتأدب بھا المؤمن العاقل، ويأخذ نفسه برعايتها ويجهدها في استعمالها، والتمسك بھا، ويتبين له بذلك عظيم ماحل بالإسلام وأهله، من سفك الدماء، ونھب الأموال،واستباحة الحرم وغير ذلك مما يذهب الدين، ويضعف الإيمان، فيعمل نفسه في إصلاح شأنه خوفاً منه على فساد دينه وذهابه )ك[15]

’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی کہ اس میثاق کی رو سے جو اس نے اہل علم وروایت سے لیا ہے کہ انہوں نےجو سیکھاہے اسے نشر کریں اور جو سنا ہے اسے آگے ادا کریں ۔اسی مشن کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اس کتاب میں فتنوں کے حوالے سے وارد احادیث،زمانہ کے فساد کےحوالے سےاخباراور قیامت اور اس کی علامات کے حوالے سے وارد سنن کی ایک کافی تعداد اس کتاب میں جمع کردوںتاکہ ایک عقل مند مومن خود کو ان واقعات کی روشنی میں سدھارے ، اور وہ اپنے نفس کی تہذیب واصلاح کرے اور ان نصوص کو سیکھنے میں محنت کرے، اور انہیں تھامنے واختیار کرنے کیلئے کاوش کرے ، اس سے اسے معلوم ہوگا کہ اسلام اور اہل اسلام پر کیسے مصائب وآلام گزرے ہیں ، جن میں خونریزی ،ڈاکہ زنی ،عزتوں کا داؤ پر لگنا وغیرہ شامل ہے ایسی چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور دین کے خاتمے کا باعث بنتی ہیں ۔ تو وہ انہیں پڑھ کر اپنے معاملات کو سدھارے گا اس ڈر سے کہ کہیں اس کا دین تباہ نہ ہوجائے اور اس کا ایمان کہیں ضائع نہ ہوجائے ۔ 

اور علامہ صدیق حسن خان رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :’’إن المراد من تأليف هذا الكتاب في هذا الزمان المملوء من الآفات، والأكدار بالشئ الكثير: حفظ جملة صالحة من الأحاديث

 

الواردة في أبواب الفتن وأسبابها على المسلمين، على طريق الاختصار، وضبط أشراط الساعة التي وردت في الآثار، وذَكرها عامة أهل الحديث في دواوينهم الكبار، تذكرة لأهل الغفلة والاغترار، وتبصرة لأولي البصائر والأبصار، فعسى أن ينتهوا عن بعض الذنوب، وينتبھوا عن سنة الغفلة، وتلين منھم قاسيات القلوب، ويغتنموا المهلة قبل الوهلة، كيف لا والدنيا قد ولت جداً وآذنت بالانصرام، ومرت بأهلها مر السحاب وهم نيام).[16]

’’آفات ومصائب اور فتنوں سے بھرپور اس دور میں اس کتاب  کی تالیف کامقصد یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں پر در آنے والے فتنوں اور ان کے اسباب کے حوالے سے وارد صحیح روایات کی وافر تعداد اختصاراجمع کردی جائے ،اور قیامت کی وہ علامات بھی بیان کردی جائیں جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں ،جنہیں اہل حدیث نے اپنے بڑے دواوین میں ذکر کیاہے ۔ اس کا مقصد ان لوگوں کو یاددہانی کرانا ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اور عقل وبصیرت رکھنے والے اس سے نصیحت پکڑیں ۔کاش کہ وہ ان کیو جہ سے بعض  گناہوں سے باز آجائیں ،اور غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں ، سخت دل نرم پڑ جائیں ، اور وہ لوگ اس مہلت کو غنیمت جانیں قبل اس کے کہ ان پر دھاوا بول دیا جائے ۔ اور یہ کیسے نہ ہو کہ دنیا تو پلٹ کر جارہی ہے اور رخصتی کا الارم بجا رہی ہے ، اور دنیا اہل دنیا پر سے  ایسے  کذر گئی ہے جیسے بادل گذر جاتے ہیں اور لوگ سوتے رہے ‘‘۔

(3)قیامت کے حوالے سے جو نصوص قرآن وحدیث میں ذکر ہوئی ہیں انہیں اپنی حقیقت پر محمول کرنا نہ کہ ان کا کوئی مجازی یا غیر حقیقی معنیٰ متعین کرنا ہے ۔ جیسا کہ دجال کا ظہور ہے اہل سنت اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دجال ایک فرد ہے اس کی ہیئت اور صفات بالکل حقیقی صفات ہیں ۔اسی طرح زمین سے جانورکا ظہور اور بندے کا اپنے جوتے کے تسمے سے بات کرنا اور درخت کا یہ پکار کر

 

 کہنا کہ میرے پیچھے یہودی ہے اسے قتل کرو ۔یہ سب حقیقت ہے اس میں کسی قسم کا بھی مجازی معنیٰ نہیں ہے ۔ جیسا کہ اہل سنت کے ائمہ نے اپنی کتب میں اس نظریے کو بالکل وضاحت سے بیان فرمادیاہے ۔ جن میں امام ابن کثیر ام قرطبی وغیرہم شامل ہیں ۔

(4)علامات قیامت کو سامنے رکھتے ہوئے انسان اپنے دین کی حفاظت کرسکتاہے اور خود کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکتاہے یہ بھی ان علامات کے بیان کے مقاصد میں سے ایک بنیادی مقصدہے ۔

اس نکتہ کو یوں سمجھا جائے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں دجال سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں ۔ ہمیں یہ بتایاہے کہ اس کی داہنی آنکھ کیسی ہوگی اور اس کی باہنی آنکھ کیسی ہوگی ؟ اس کی پیشانی پر کیا لکھا ہوگا ۔ پھر یہ بھی ہمیں بتایا کہ وہ کون کون سی شعبدہ بازیوں کا اظہار کرے گا ۔ آسمان سے کہے گا بارش برساؤ ، زمین سے کہے گا اناج اگاؤ ،مردوں کو زندہ کرنے ، بیماروں کو شفا دینے کے کرتب دکھائے گا ۔ ان تمام تفصیلات سے ہمیں اس لئے آگاہ کیا ہے تاکہ ہم اس کے اندھا کردینے والے فتنوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں اور اس کی چالوں سے خود کو بچا کر رکھیں ۔

اس کی ایک تطبیقی مثال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت میں ملاحظہ کریں ۔ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا :

’’يا عثمان إن الله مقمصك قميصًا، فإن أرادك المنافقون على خلعه، فلا تخلعه‘‘[17]

’’ اے عثمان اللہ تجھے ایک قمیص پہنائے گا ۔اگر منافق لوگ تجھ سے مطالبہ کریں کہ اسے اتار دو تو آپ اسے مت اتارنا ‘‘۔

اس قمیص سے مراد خلافت تھی ۔ رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اشارہ سے بتایا کہ اللہ آپ کو خلافت نصیب کرے گا اور اگر منافق لوگ آپ سے خلافت چھوڑنے کا کہیں تو مت چھوڑیے گا ۔ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کےاس نشانی اور علامت بتانے اور ہدایت دینے کے مطابق ہی سیدنا عثمان نے برتاؤ کیا لہٰذا ان کی

  خلافت کے آخری ایام میں جب باغیوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ خلافت سے مستعفی ہوجائیں تو سیدنا عثمان نے شہید ہونا منظور کرلیا لیکن مستعفی نہیں ہوئے ۔ انہوں نے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی گئی اس نصیحت پر عمل کیا ۔

اسی طرح علامات قیامت کا تفصیلاً بیان کیا جانا اپنے اندر یہ مقصد لئے ہوئے ہے کہ اس کی تفصیلات پڑھ کر ہم اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں ۔ والعلم عند اللہ

شرعی ضوابط کے بیان کا بنیادی مقصد :

ہم یہاں یہ بات واضح کرتے جائیں کہ ان ضوابط سے مراد یہ نہیں کہ کسی بھی حادثے کی تفسیر نہ کی جائے اور واقع ہونے والے حادثات سے کسی علامت قیامت کو بالکل میچ نہ کیا جائے ۔یہ مقصود نہیں بلکہ سلف جن میں صحابہ وتابعین شامل ہیں انہوں نے کئی علامات قیامت کی تفسیر وتطبیق بیان کی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے واضح کردیا کہ علامات قیامت تین طرح کی ہیں ایک وہ جو ظاہر ہوچکی ، دوسری وہ جو ہورہی ہیں اور تسلسل سے ہوتی رہیں گی ، اور تیسری وہ عظیم الشان علامات جن کے ظہور کا علم اللہ تعالیٰ کےسوا کسی کو نہیں جیسے ظہور دجال ، نزول مسیح وغیرہ ۔ بلکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ ان علامات کو مخصوص اور متعین افراد پر لاگو کرنا ، مخصوص حادثات کے ساتھ نتھی کرنا اور یہ کہنا فلاں ابن فلاں جو حدیث میں وارد ہوا ہے وہ یہ شخص ہے ۔یا یہ کہنا کہ یہ جو واقعہ رونما ہوا ہے یہ وہی ہے جو علامت قیامت کی شکل میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں بتایاہے ۔ اور اسی پر اڑے رہنا وغیرہ ۔ یا یہ کہ ان واقعات کی من مانی تفسیر بیان کرناکہ دجال سے مراد شر کا غلبہ یا امریکہ ہے۔ اور دجلہ وفرات کے خزانے اگل دینے سے مراد پیڑول کی کثرت وغیرہ ہے ۔ ذیل میں وہ شرعی ضوابط بیان کیے جاتے ہیں جنہیں علامت قیامت کی تفسیر و تطبیق کے وقت ملحوظ خاطر رکھاجانا چاہیے۔

پہلا ضابطہ : قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے ۔ قرآن وسنت کی نصوصِ کثیرہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں۔ جن میں سے چند ایک کی جھلک یہاں

 

ملاحظہ فرمائیں :

فرمان باری تعالیٰ ہے :{يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ } (الاعراف: 187)

ترجمہ :’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ ان سے کہیے: ’’یہ بات تو میرا پروردگار ہی جانتا ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا اور یہ آسمانوں اور زمین کا بڑا بھاری حادثہ ہوگا جو یکدم تم پر آن پڑے گا۔ لوگ آپ سے تو یوں پوچھتے ہیں جیسے آپ ہر وقت اس کی ٹوہ میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان سے کہئے کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے مگر اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے‘‘۔

لہٰذا جن نظریات کے تحت بھی دنیا کی عمریں مقرر کی گئی ہیں کہ کسی نے کہا کہ دنیا کی عمر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد پندرہ سو سال ہے ، اور ایک مایہ تہذیب[18] کی دنیا کے خاتمے کے نظریہ کی رسوائی تو 2012میں پوری دنیا نے دیکھی جن کا خیال تھا کہ 21 دسمبر 2012 کو  مایہ تہذیب کا کلینڈر ختم ہوتے ہی دنیا ختم ہوجائے گی ۔اسی طرح آج کی سائنس کی رو سے کچھ نظریات پیش کرکے دنیا کے خاتمے کا اندازہ لگایا جاتاہےاس حوالے سےچند دن قبل ایک اہم خبر جسے عالمی میڈیا نے کوریج دی جس میں عیسائی راہبوں کے کچھ حلقوں نے دعویٰ کیا کہ 23 ستمبر 2017ء کو دنیا تباہ ہوجائےگی ۔ایک عیسائی ریسرچر ڈیوڈ میڈی نے دعویٰ کیا کہ انجیل میں دی گئی باتوں اور ہندسوں کے کوڈز کے حوالے سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ان میں 33 کا ہندسہ نمایاں ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام 33 سال

  زندہ رہے ، انجیل میں خدا کا ذکر 33 بار آیا ، اکیس اگست کو مکمل سورج گرہن کے 33دن بعد یعنی 23ستمبر کو دنیا کو تباہ ہوناہے ‘‘[19]لیکن یہ 23 ستمبر بھی گذر گیا ۔ یہ سب بے بنیاد ، جھوٹ اور فریب پر مبنی باتیں اور نظریات ہیں ۔ کسی بھی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ ان نظریات کی تصدیق کرے یا اس پر تائیدی بحث ومباحثہ کرے ۔ ایسا کرنے سے قرآن مجید اور سنت رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کی نصوص کثیرہ پر قائم ایمان کی دیوار زمین بوس ہوجائے گی ۔

اس طرح کے جھوٹ پر مبنی بھونڈے دعوے اس سے قبل بھی بیشتر بار کئے جاچکے ہیں ۔

ایسے ہی نظریات پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف محدث ، مفسر ومؤرخ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’لم يثبت في حديث عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه حدد وقت الساعة بمدة محصورة، وإنما ذكر شيئًا من علاماتھا وأشراطھا وأمراتھا‘‘.[20]

’’رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی ایک بھی حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے قیامت کی کسی مدت کا تعین کیاہو ، بلکہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے تو محض اس کی چند علامات اور نشانیاں بیان کی ہیں ‘‘۔

مزید فرماتے ہیں:’’والذي في كتب الإسرائيلين، وأهل الكتاب من تحديد ما سلف بألوف ومئات من السنين، قد نص غير واحد من العلماء على تخطئتھم فيه، وتغليطهم‘‘[21]

’’ ہاں جو باتیں اسرائیلیوں اور اہل کتاب کی کتابوں میں دنیا کی عمر کے تعین کے بارے میں ہیں کہ وہ ہزار ہا سال یا سینکڑوں سال ہے ، تو اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان کے ان مفروضوں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیاہے ‘‘۔

لہٰذا اس ضابطے کی رو سے دنیا کی عمرکے تعین کے بارے قائم تمام مفروضوں اور نظریات کا انکار

 

 ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ اور جو بھی قیام قیامت کے وقت جاننے کا دعویٰ کرتاہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا ۔

(2)فرمان باری تعالیٰ ہے :’’{يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا} (الاحزاب: 63)

ترجمہ :’’لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ آپ ان سے کہئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور آپ کو کیا خبر، شاید وہ قریب ہی آپہنچی ہو‘‘۔

(3)جناب جبریل علیہ السلام نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’فأخبرني عن الساعة قال ما المسؤول عنھا بأعلم من السائل قال فأخبرني عن أماراتھا قال أن تلد الأمة ربتھا وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاة يتطاولون في البنيان قال ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي يا عمر أتدري من السائل قلت الله ورسوله أعلم قال فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم"[22]

ترجمہ :’’ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے آپ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ اس بات سے واقف نہیں ہے( یعنی سوال کرنے والے اورجواب دینے والے دونوں کو اس کے بارےمیں علم نہیں ہے ) اس نے عرض کیا اچھا قیامت کی علامات بتائیے رسول اللہ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں ننگے جسم تنگ دست چرواہے بڑی بڑی عمارتوں پر اترائیں گے اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا اے عمر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتےہیں آپ (  صلی اللہ علیہ وسلم )

نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے تھے‘‘۔

دوسرا ضابطہ : علامات قیامت کی تفسیر میں بردباری ، تحمل ، سے کام لیا جائے اور اس میں عجلت جلدبازی اور جذبات سے پرہیز کیاجائے ۔

رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمانِ مبارک ہے :’’التأني من الله، والعجلة من الشيطان‘‘ [23]

         ’’ بردباری وتحمل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ‘‘۔

لہٰذا علامات قیامت کی عجلت میں تفسیر کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اس معاملے کو اہل علم کی طرف لوٹایا جائے ۔ قرآن مجید نے ہمیں اس حوالے سے بہت واضح ضابطہ دیاہے ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :’’{وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا} [النساء: 83]

ترجمہ :’’ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنےاولی الامرکے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پراللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہو جاتے‘‘۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ "تشتبه مقبلة وتبين مدبرة" [24]

’’ جب فتنہ آتاہے تو اس کا امر مشتبہ ہوتاہے ( یعنی ہر کوئی اسے نہیں پہچان پاتا) مگر جب وہ چلا جاتاہے تو اس کی خطورت وتباہی واضح ہوچکی ہوتی ہے ‘‘۔

شمر رحمہ اللہ اس اثر کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ جب آتاہے تو اس کا معاملہ لوگوں پر مشتبہ ہوجاتاہے بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں حتی کہ وہ اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اور جب وہ تباہی پھیلاکر چلاجاتاہے تو جو بھی اس میں مبتلا ہوا ہوتاہے اس پر بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ غلطی پر تھا ‘‘۔

لیکن جب سب تباہ ہوگیا تو پھر پچھتانے کا اور اعترافِ جرم کا کیا فائدہ ۔

                 اب پچھتائے کیا ہوت          جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

سلف کی علاماتِ قیامت کی تفسیر میں احتیاط اس مثال سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے :حفص بن غیاث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"قلت: لسفيان الثوري يا أبا عبد الله إن الناس قد أكثروا في المهدي۔قال: "إن مر على بابك المهدي فلا تكن منه في شيء حتى يجتمع الناس عليه".[25]

ترجمہ :’’ میں نے سفیان ثوری سے کہا کہ اے ابا عبداللہ لوگوں نے امام مہدی سے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں (یعنی ہر کوئی کہتاہے کہ مہدی فلاں ہے فلاں ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟) سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا :’’اگر مہدی کا گذر آپ کے دروازے کے سامنے سے بھی ہوجائے تو تمہیں اس سے کوئی سروکا ر نہیں ہونا چاہئے جب تک کہ تمام لوگ اس پر جمع نہ ہوجائیں ‘‘  (یعنی جب تک سب لوگ اس کی بیعت نہ کرلیں تم اس معاملے میں جلدی نہ کرنا احتیاط کا دامن تھامے رہنا )۔

لہٰذا جب بھی کوئی ایسافتنہ یا علامت نظر آئے جس سے محسوس ہوتاہو کہ شاید یہ وہی علامت نہ ہو جس کے بارے میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی حدیث میں ہمیں خبر دی ہے تو اس معاملہ میں انتہائی محتاط رہنا چاہئے یہاں تک کہ تمام علامات مکمل طور پر ظاہر نہ ہوجائیں ۔ اور اس طرح کے معاملات

 میں اپنے اجتہاد وقیاس کے بجائے علمائے ربانیین کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

تیسرا ضابطہ : علامات قیامت میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا تعلق تسلسل زمانہ کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان حادثات کو بالترتیب ذکر فرمایاہے ہمیں بھی اس ترتیب زمنی ہی کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔

اس ضابطے کا مفہوم یہ ہے کہ علامات قیامت دو طرح کی ہیں ایک وہ جن کی شریعت نے ترتیب متعین کی ہےکہ پہلے یہ ہوگا پھر یہ ہوگا اور پھر یہ ہوگا ۔ اور دوسری قسم وہ ہے جو مطلق بیان کی گئی علامات ہیںان میں زمانہ کی ترتیب کا کوئی ذکر نہیں ۔ لہٰذا جب بھی علاماتِ قیامت کی تفسیر وتوضیح کی جائے تو اس تقسیم کو ملحوظ رکھا جائے اور دیکھا جائے کہ یہ کون سے علامات میں سے ہے ۔ آیا ان میں سے جو ترتیب وار مذکور ہیں یایہ مطلق علامت ہے ۔

اگرچہ اہل علم کے مابین قیامت کی بڑی علامات کی ترتیب کے بیان میں اختلا ف ہے جمہور اہل علم نےیہ ترتیب یوں بیان فرمائی ہے ۔ (1)چھوٹی علامات کا ظہور جن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت ، طاعون عمواس ، مساجد کا سجایا جانا ، عمارتوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا ، امانت کا اٹھ جانا ، جہالت عام ہونا ، شرک کا ظہور ، سنتوں میں لا پرواہی کرنا ، فحاشی اور آلات موسیقی کا عام ہونا، زلزلوں کی کثرت ، بارشوں کا زیادہ ہونا اور اناج کا کم ہوجانا ، اچانک موت واقع ہوجانا، جھوٹی گواہی کا عام ہوجانا، قتل ِعام کا بڑھ جانا ، کنجوسی کا عام ہونا ، لوگوں کا کثرت سے موت کی تمنا کرنا ، رومیوں کا بڑھ جانا اور ان سے مسلمانوں کی کثرت سے لڑائیاں ، شراب نوشی عام ہونا وغیرہ وغیرہ ۔(2) امام مہدی کا ظہور۔ان کا ظہور ظہور ِدجال اور نزول مسیح علیہ السلام سے قبل ہوگا ۔ اس کی دلیل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے فرماتے ہیں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ " ينزل عيسى بن مريم فيقول

أميرهم المهدي تعال صل بنا ، فيقول : لا إن بعضھم أمير بعض تكرمة الله لهذه الأمة " [26]

ترجمہ :’’ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تومسلمانوں کےا میر امام مہدی فرمائیں گے کہ آئیں نماز کی امامت کرائیں ۔ تو عیسی علیہ السلام فرمائیں گے نہیں تم ایک دوسرے کےامیر ہو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس اکرام اور اعزاز سے نوازا ہے ‘‘۔

لہٰذا روایات کی رو سے عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے ۔

(3) دجال کا نکلنا (4) عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ۔ آپ نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے ۔

(5) یاجوج ماجوج کا نکلنا ۔ یاجوج ماجوج کا ظہور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا ۔ اس کی دلیل نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا :ان النبى صلى الله عليه وسلم حدثھم حديثا عن الدجال وقال فيه :" فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز عبادي إلى الطور ، ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون ، فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيھا ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بھذه مرة ماء "[27]

ترجمہ’’پس اسی دوران جناب عیسی علیہ السلام پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائیں گے کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے ، ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائیںگے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا ‘‘۔

 اس کے بعد دیگر علامات ظاہر ہوں گی جن میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ۔ جانور کا زمین سے نکلنا ، وغیرہ شامل ہے۔

چوتھا ضابطہ : کئی علامات قیامت ایسی بھی ہیں جو روایات کے عین مطابق واقع ہوچکی ہیں اور کچھ جاری بھی ہیں لہذا کسی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں وہ تاویل کرتے ہوئے کہے کہ نہیں یہ تو وہ زمانہ نہیں جس کے بارے میں رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ اس میں ایسا ہوگا ایسا ہوگا ۔ بلکہ یہ زمانہ ابھی آئے گا ۔ جیسے زنا ، شراب نوشی ، گانے بجانے، جہالت کا عام ہونا ہے ۔وہ اس کے عام ہونے کا بھی انکار کرتا رہے ۔ یہ وطیرہ مناہج سلف کےخلاف ہے بلکہ جو عام علامتیں ظاہر ہوچکی ہیں ان کے ظہور کا اعتراف کرنا چاہیے۔

پانچواں ضابطہ : علامات قیامت سے متعلق محض صحیح احادیث پر اعتماد کرنا چاہئے ناکہ ضعیف اور موضوع روایات پر ۔

چھٹا ضابطہ : علامات قیامت کے باب میں وارد روایات حقیقی معنیٰ ومفہوم پر مبنی ہیں نہ کہ مجازی معنیٰ پر ۔ لہذا قیامت سے پہلے پیش آنے والے حالات وواقعات سے متعلقہ نبوی پیش گوئیوں میں من مانی تاویلات کرنا درست نہیں ۔ بلکہ انہیں من وعن قبول کرنا اور ظاہری معنیٰ پر ہی محمول کرنا منہج سلف ہے ۔

’’ چنانچہ اگر احادیث میں دجال یا امام مہدی کے ظہور کا ذکر ملتاہے توان سے حقیقی طور پر یہ شخصیات ہی مراد ہیں کوئی قوم ، قوت وطاقت یا کوئی بھی مجدد یا عادل ومنصف حکمران نہیں ۔ جیساکہ بعض حضرات نے دجال کی تاویل کرتے ہوئے اس سے امریکہ اور اسرائیل مراد لیاہے ،اسی طرح دجال کے ماتھے پر لکھے ہوئے ’’ک، ف، ر ‘‘ سے اسرائیل کا K-F-Rجنگی طیارہ مراد لیاہےاور کچھ نے دجال کی پیش گوئی سے ہر وہ طاقت مراد لی ہے جو دجل وفریب میں حد درجہ بڑھ کر ہو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح امام مہدی کی پیش گوئی کا انطباق کچھ حضرات ہر عادل ومنصف حکمران پر کرتے ہیں ، جبکہ بعض نے ہر تجدید دین کا کام کرنے والے پر اس کا انطباق کیاہے ۔

 حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امام مہدی سے بھی ایک خاص شخصیت مراد ہے جس کی چند علامات صحیح احادیث میں موجود ہیں ، اس کا خاص نام مذکور ہے ، اس کے والد کا نام مذکور ہے ، اس کی نسل کی وضاحت ہے ۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے ہر مجدد مراد لے لیا جائے ؟

بعض احادیث میں یہ پیش گوئی مذکور ہے کہ قیامت سے پہلے دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا ۔ تو اب پہاڑ سے مراد پہاڑ ہی لیا جائے گا اور ان الفاظ کو حقیقت پر ہی محمول کیا جائے گا کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کانوں میں سونا پیدا کرسکتے ہیں اسی طرح کسی دریا یا سمندر سے بھی ایسا خزانہ ظاہر فرماسکتے ہیں ۔ لیکن بعض حضرات نے یہاں بھی تاویل سے کام لیا اور کہا کہ سونے کے پہاڑ سے مراد پٹرول ہے ۔ حالانکہ اگر اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ اس پہاڑ کا ظہور مسلمانوں کے لیے ایک فتنہ ہوگا جبکہ اہل عرب پٹرول کو بطورِ نعمت استعمال کر رہے ہیں ، حدیث کے مطابق یہ پہاڑ دریائے فرات کے ساتھ ہی خاص ہوگا جبکہ پٹرول تو ہر دریا ، سمندر بلکہ خشکی سے بھی نکالا جا رہاہے ۔پھر فرمانِ نبوی کے مطابق اس خزانے پر بہت بڑی جنگ ہوگی جس میں 99فیصد لوگ قتل ہوجائیں گے جبکہ پٹرول ظاہر ہوئے ایک عرصہ ہوا لیکن کبھی کسی نے اس مقام پر اتنی بڑی جنگ نہیں دیکھی ۔ بہر حال یہ تاویل بھی درست نہیں اور اس کی تردید کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں ۔

اسی طرح حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے یہودیوں کے خلاف جنگ میں پتھر اور درخت پکار پکار کر یہودیوں کی نشاندہی کریں گے تو اس پر بھی تمام مسلمانوں کا ایمان ہونا چاہیے کہ گو پتھر اور درخت قوتِ گویائی نہیں رکھتے لیکن قیامت کے قریب اللہ کے حکم سے یہ بھی کلام کریں گے ۔ اسی طرح احادیث میں ذکر ہے کہ قبل از قیامت زمین سے ایک جانور’’دابۃ الارض‘‘ نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا تو اس سے بھی بلا تاویل وہ خاص جانور ہی مراد لیا جائے گا۔ اسی طرح کچھ نبوی پیش گوئیوں میں خاص علاقہ جات کا بھی ذکر ہے جیساکہ قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی کرنے والا پہلا اسلامی

 

لشکر جنتی ہے اور مکہ ومدینہ میں دجال داخل نہیں ہوسکے گا وغیرہ وغیرہ تو اس طرح کی پیش گوئیوں میں بھی وہی مخصوص علاقے مراد ہوں گے ۔[28]

ھذا ماعندی والعلم عنداللہ

نوٹ: اس مضمون کی تیار میں مندرجہ ذیل مراجع سے استفادہ کیا گیاہے ۔

(1)القرآن الکریم

(2)                                    کتب حدیث 

(3)                                    فقہ اشراط الساعۃ  تالیف محمد اسماعیل المقدّم

(4)                                    موقف أهل السنة والجماعة من تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الحوادث " السفياني أُنموذجاً " تالیف : زاهر بن محمد بن سعيد الشھري

(5)                                    ضوابط شرعیۃ فی فھم اشراط الساعۃ ۔ازمحمد صالح المنجد

(6)                                    تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الواقع المعاصر مقالہ:ڈاکٹر عبدالله بن حمود الفريح

(7)                                    آئینہ پرویزیت از مولانا عبد الرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ

(8)                                    دجال اور علاماتِ قیامت کی کتاب  از حافظ عمران ایوب لاہوری

(9)         اشراط الساعة  تالیف يوسف الوابل

 

 

 



[1] فاضل مدینہ یونیورسٹی،مدیر سہ ماہی البیان کراچی

[2] المقصد العلی فی زوائد أبی یعلیٰ الموصلی ،للھیثمی ۔ طبعہ دار الکتب العلمیۃ نیز دیکھئے :

 فتح الباری شرح صحیح البخاری ۔شرح حدیث نمبر 6511

[3] صحیح البخاری : کتاب الرقاق ، باب سکرات الموت ۔ حدیث 6511

[4] صحیح البخاری:کتاب الرقاق،باب سکرات الموت

[5] التذكرة للقرطبي (ص: 240)

[6] أهوال القيامة وعلاماتھا الكبرى، ص8.

[7] رواه مسلم والترمذي:صحیح مسلم ۔ کتاب الرقاق،باب قول النبی بعثت  انا والساعۃ وما أمر الساعۃ إلاکلمہ البصرلآیۃ۔

[8] صحیح مسلم:حدیث،7289 ترقیم فؤاد عبدالباقی

[9] صحیح البخاری: کتاب العلم باب رفع العلم وظھور الجھل رقم:81

[10] فتح الباری 13؍131

[11] موقف أهل السنة والجماعة من تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الحوادث  ، زاهر بن محمد بن سعيد الشھري ص 78

[12]  نظام ربوبیت : ص 265

[13] الغیبات فیضوء السنۃ،محمد ھمام ص191، نھایۃ العالم، منصور عبدالحکیم ص218

[14] النھاية في الفتن والملاحم 1/11.

[15] السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها 1/ 178.     

[16] الإذاعة لما كان وما يكون بين أشراط الساعةص15.

[17] رواه الحاكم في المستدرك: 4544، وصححه الألباني صحيح الجامع:7947

[18] مایہ ایک فرقہ اور تہذیب ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کا کلینڈر ختم ہوتے ہی دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ اور اس تہذیب کا کلینڈر 21 دسمبر 2012 کو ختم ہوگیا لیکن دنیا کی اینٹ بھی نہیں ہلی ۔ مایا کلینڈر کا آغاز 5125 سال قبل ہواتھا۔ اس عقیدے کے ماننے والوں کی اکثریت میکسیکومیں آباد ہے ۔دنیا میں اس عقیدے کے ماننے والے لوگوں نے جب دیکھا تھا کہ ان کے کلینڈر کے خاتمے کی تاریخ آرہی ہے تو یورپ میں کئی لوگوںنے قیامت سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب سفر شروع کردیا تھا۔

[19] http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/world/406489

[20] النھاية في الفتن والملاحم: 1/6

[21] النھاية في الفتن والملاحم: 1/16

[22] صحیح المسلم:کتاب الایمان باب الاسلام ماھو؟ بیان خصالہ حدیث :10

[23] سنن الترمذي: 2012، حسنه الألباني السلسلة الصحيحة: 1795

[24] مصنف ابن أبي شيبة: 38888

[25] سیر اعلام النبلاء للذھبی،الطبقۃ السادسہ ، ترجمۃ سفیان الثوری رحمہ اللہ

[26] المنار المنيف لابن القیم (1/147) إسناده جيّد . وأصلہ فی صحیح مسلم بدون تسمیۃ الأمیر

[27] صحیح  مسلم :حدیث ( 2937  )

[28] دجال اور علامات قیامت کی کتاب از حافظ عمران ایوب لاہوری صفحہ 18،19

ملاحظہ کیا گیا 2057 بار آخری تعدیل الأربعاء, 20 كانون1/ديسمبر 2017 15:42
اسی زُمرے میں مزید : لیلۃ القدر »
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

خالدحسین گورایہ[1]

علامت سے مرادوہ نشانیاں ہیں جن کے ظہور سےایک مومن قیامت کے قرب کا اندازہ کرسکتاہے ۔اور ان کے مشاہدے سے اسے اس یوم عظیم کے قیام کا پختہ یقین ہوجاتاہے کہ ایک دن اس نے رب تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا ہے ۔ اوراپنے کیے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔

شرعی نصوص میں وارد قیامت سے مراد اور اس کی قسام :

 شرعی نصوص میں تین طرح کی قیامت کا ذکر آیا ہے ۔

پہلی قسم : قیامتِ کبریٰ ( جسے الساعۃ الکبریٰ ) کہا جاتاہے ۔ جس میں تمام دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور کائنات میں موجود ہر چیز نیست ونابود اور ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، جس کے بارے میں قرآن مجید نے ان الفاظ میں تذکرہ کیا ہے۔

{ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ } [القمر: 46]

ترجمہ : ’’ اور قیامت بڑی دہشت ناک اور تلخ تر ہے‘‘۔

اور فرمایا :{كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ} [القصص: 88]

’’اللہ کی ذات کےعلاوہ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ‘‘۔

دوسری قسم ـ: ایک ہی صدی میں موجود تمام لوگوں کی موت کو بھی چند نصوص میں قیامت سے تعبیر کیا گیاہے ۔ جیسا کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فرمان میں ہےجب آپ نے سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا  :

’’إن يطل عمر هذا الغلام لم يمت حتى تقوم الساعة‘‘۔[2]

’’ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کواگر دراز عمر دی تو اس کی موت تک تم پر قیامت قائم ہوچکی ہوگی ‘‘۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ كان رجال من الأعراب يأتون النبي صلى الله عليه وسلم فيسألونه عن الساعة فكان ينظر إلى أصغرهم فيقول إن يعش هذا لا يدركه الهرم حتى تقوم عليكم ساعتكم‘‘‘[3]

ترجمہ :’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی کریم (  صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خدمت میں آیا کرتے اور یہ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  یہ سن کر اس بچے کی طرف دیکھتے جو ان پوچھنے والوں کے ساتھ سب سے کم عمر  ہوتا تھا اور پھر فرماتے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو یہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے نہیں پائے گا کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی ‘‘۔

 تیسری قسم : کسی فرد کی موت کو بھی قیامت سے تعبیر کیا گیاہے ۔

ہر انسان کی قیامت اس کی موت کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا} [الانعام: 31]

ترجمہ :’’ بلاشبہ جن لوگوں نے اللہ سے ملاقات (کی حقیقت) کو جھٹلایا وہ نقصان میں رہے حتیٰ کہ جب قیامت اچانک انہیں آ لے گی تو کہیں گے،افسوس اس معاملہ میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی‘‘۔

یہ جو حسرت انسان کو لاحق ہوگی یہ حسرت موت کے وقت بھی ہوگی اور روز قیامت بھی ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

قال علماؤنا : و اعلم أن كل ميت مات فقدقامت قيامته و لكنھا قيامة صغرى و كبرى فالصغرى هي ما يقوم على كل إنسان في خاصته من خروج روحه و فراق أهله و انقطاع سعيه و حصوله على عمله إن كان خيراً فخير و إن كان شراً فشر و القيامة الكبرى هي التي تعم الناس و تأخذهم أخذة واحدة و الدليل على أن كل ميت يموت فقد قامت قيامته قول النبي صلى الله عليه و سلم لقوم من الأعراب و قد سألوه متى القيامة ؟ فنظر إلى أحدث إنسان منھم فقال: ( إن يعش هذا لم يدركه الهرم قامت عليكم ساعتكم ) [4][5]

اہل علم فرماتے ہیں : ’’جو شخص بھی فوت ہوجاتاہے اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے ۔ لیکن قیامت ایک قیامتِ صغریٰ ہے ، اور ایک کبریٰ، قیامت ِصغریٰ وہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ خاص ہے جس کاآغاز اس کی روح نکلنے، اہل وعیال کو داغِ مفارقت دینے ، عمل کا سلسہ منقطع ہونے اور اپنے عمل کی جزا پانے سے ہوتاہے کہ اگر خیر ہے تو خیر اور شر ہے تو شر ۔اور قیامتِ کبریٰ وہ قیامت ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لےگی اور یک لخت نظام زندگی کو درہم برہم کردےگی۔اور اس امرکی دلیل کہ ہر انسان کی موت سے اس کی قیامت بپا ہوجاتی ہے

آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان ہے جو آپ نے چند اعراب کے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا جب آ پ سے پوچھا گیا کہ قیام کب قائم ہوگی ؟ تو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں سے ایک نوخیز جوان کو دیکھا اور اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ’’ اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھے ہونے تک تم لوگوں پر قیامت قائم ہوچکی ہوگی ‘‘ ۔

علامات قیامت کی اقسام :

امام محمد السفارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"اعلم أن أشراط الساعة وأماراتھا تنقسم إلى ثلاثة أقسام: قسم ظھر وانقضى، وهي الأمارات البعيدة. وقسم ظھر ولم ينقض،بل لا يزال في زيادة حتى إذا بلغ الغاية ظھر القسم الثالث، وهي الأمارات القريبة الكبيرة التي تعقبھا الساعة،وأنھا متتابعة كنظام خرزات انقطع سلكھا‘‘.[6]

ترجمہ’’جان رکھو کہ قیامت کی علامات اور اس کی نشانیاں تین طرح کی ہیں :’’ایک قسم وہ جو ظاہر ہوکر گذر چکی ہیںاور یہ امارات بعیدۃ ہیں ۔ دوسری قسم وہ جو ظاہر تو ہوچکی ہیں لیکن ابھی وہ ختم نہیں ہوئیں ( بلکہ ان کا تسلسل ابھی جاری وساری ہے )اور یہ بڑھتی جاتی ہیں یہاں تک تک تیسری قسم کی علامات کا ظہور شروع ہوجائے گا۔اور تیسری قسم کی وہ علامات ہیں جو قیام قیامت کے عین قریب واقع ہوں گی اور ان کے متصل بعد قیامت قائم ہوجائے گی اور یہ علامات پے درپےظاہر ہو رہی ہیںایسے موتیوںکی طرح جن کی لڑی ٹوٹ چکی ہو (اور وہ)ایک ایک کر کے گررہے ہوں ‘‘۔

 علاماتِ صغریٰ : سے مراد وہ علامتیں ہیں جو واقع ہوچکی ہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کا زمانہ بھی کئی صدیاں پہلے گذر چکاہے ۔ ان علامات میں بطور مثال چند ایک یہ ہیں ۔

 

 

 (۱) نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’بعثت أنا والساعة كھاتين‘‘.[7]

’’ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ( شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی )کو ملاکر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح ایک ساتھ بھیجا گیاہے ’’ یعنی جتنا فاصلہ ان دو انگلیوں کے مابین کا بنتاہے اتنا ہی فاصلہ میرے اور قیامت کے درمیان ہے‘‘ ۔

(2) حجاز کی زمین سے آگ کا نکلنا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہ قائم ہو گی یہاں تک کہ نکلے گی ایک آگ حجاز کے ملک سے، روشن کر دے گی بصریٰ کے اونٹوں کی گردنوں کو۔“[8] (یعنی اس کی روشنی ایسی تیز ہو گی کہ عرب سے شام تک پہنچے گی، حجاز مکہ اور مدینہ کا ملک اور بصریٰ ایک شہر کا نام ہے)۔

(3) جھوٹے نبیوں کا ظہور ۔ یہ بھی تاریخ سے ثابت ہوچکا کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہے جو گاہے بگاہے نبوت کا دعویٰ کرتے رہے ۔

علامات ِ وسطیٰ : سے مراد وہ علامات ہیں جن میں سے بعض ظاہر ہوچکی ہیں اور ان کے ظہور کا سلسلہ متواتر جاری وساری ہے ۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔

(1)نااہل ، احمق اور کمینے لوگوں کا زمام حکومت سنبھالنا ۔

(2) لوگوں کا مساجد بنانے اور ان کی تزئین وآرائش کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ۔

(3)علم کا اٹھ جانا ، جہالت کا عام ہونا ، کثرت سے شراب کا پیا جانا ۔وغیرہ

اما م بخاری رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا :

’’لأحدثنكم حديثا سمعته من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يحدثكم به أحد غيري، سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "إن من أشراط الساعة أن

  يرفع العلم، ويكثر الجهل ويكثر الزنا، ويكثر شرب الخمر، ويقل الرجال، ويكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد‘‘.[9]

’’ انہوں نے (قتادہ) سے کہا (آج) میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی تم سے بیان نہیں کرے گا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے تھے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم کم ہوجائے اور جہل غالب آجائے اور زنا اعلانیہ ہونے لگے اور عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت ہوجائے گی، یہاں تک پہنچے کہ پچاس عورتوں کاکفیل صرف ایک مرد ہوگا‘‘۔

علامات کبریٰ : یعنی بڑی علامتیں ان کے ظہور کے بعد دنیا کا قیامت سے فاصلہ بہت کم رہ جائے گا۔ بلکہ چند علامات تو ایسی ہیں کہ عین انتہا پر نمودار ہوں گی ۔

ان علامات میں دجال کا ظہور ، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول،امام مہدی کا ظہور ، یاجوج ماجوج کانکلنا،زمین سےایک جانور  کانکلنا، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

علامات قیامت کی تفسیر کے حوالے سے قائم نظریات :

علامات قیامت تفسیر حوالے سے لوگوں میں بہت سی آراء اور نظریات پائے جاتے ہیں ۔

پہلا نظریہ : علامات قیامت کا کلیۃً انکار ہے ۔ اس باب میں بھی دوطرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو تمام علامات کے انکاری ہیں اور بعض وہ ہیں جو تمام علامات کا انکار تو نہیں کرتے لیکن چند علامات کا انکار کرتے ہیں ۔

جیسے بعض خوارج ، بعض جہمیہ اور بعض معتزلہ اور عقلانیوں کی اکثریت نے خروج دجال ، نزول عیسیٰ علیہ السلام ، یاجوج ماجوج کا نکلنا اور زمین سے جانور کے نکلنے کا انکار کیاہے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’وَقَدْ خَالَفَ فِي ذَلِكَ بَعْض الْخَوَارِج وَالْمُعْتَزِلَة وَالْجَهْمِيَّة فَأَنْكَرُوا وُجُوده وَرَدُّواالأحَادِيث الصَّحِيحَة،وَذَهَبَ طَوَائِف مِنْھُمْ كَالْجُبَّائِيِّ

 إِلَى أَنَّهُ صَحِيح الْوُجُود، لَكِنْ كُلّ الَّذِي مَعَهُ مَخَارِيق وَخَيَالات لا حَقِيقَة لَهَا‘‘ .[10]

’’دجال کے مسئلے میں بعض خوارج اور معتزلہ اور جہمیہ نے اختلاف کیاہے جس کی بنا پر انہوں  نے اس کے ظہور کا انکار کیا ہے اور اس باب میں وارد صحیح احادیث کو رد کردیا ، ان میں سے چند گروہ جیسا کہ جبائی (معتزلی )ہے نے اس کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن اس کا یہ کہنا ہے کہ دجال کے ساتھ جو بھی خلاف عادت امور اور شعبدہ بازیاں ہوں گی ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔

عصرِحاضرمیںعقل پرستوں میں سے جن نے خروج دجال وغیرہ کا انکار کیا ان میں سرفہرست مصر کے محمد عبدہ اوردیگر محمد فہیم ابو عبیہ،محمود أبوريه،محمد فريد وجدي، عبدالرزاق نوفل، أحمد أمين، انجینئر جواد عفانه اور اہل قرآن ( جن میں عبد اللہ چکڑالوی اور اس کے ہمنوا شامل ہیں ) ۔[11]

دوسرا نظریہ:علامات قیامت کے حوالے سے دوسرا گروہ وہ ہے جنہوں نے ان علامات کی اپنی من مانی تفسیر کی ہے جیسا کہ پرویزی فرقے کے نزدیک الساعۃ سے مراد یوم انقلاب ربوبیت ہے ۔ اور قیامت کے دن وزن اعمال کا مطلب یہ ہے کہ جب نظام ربوبیت قائم ہوجائےگاتو’’کسی مزدور کی محنت میں کوئی کمی نہیں کرسکے گا اور محنت کرنے والے کی محنت کا ذرہ ذرہ نتیجہ خیز ہوگا ۔ اس کا حساب زمیندار یا سرمایہ دار نہیںکیا کرے گا کہ محنت کش کا حصہ کیاہے اور اس کا حصہ کتنا ہے ؟ ‘‘[12]

بعض نے دجال سے مراد یہ لیا ہے کہ مغرب میں شر کی علامت دجال ہے اور خیر کی علامت عیسیٰ علیہ السلام ہے،یعنی ان کے نزدیک مہدی اور عیسیٰ علیہا السلام سے مراد خیرکا شر پر غالب آنا ہے اوردجال سے مراد فتنہ کا پروان چڑھنا اور ایک وقت میں گمراہی وشر کا بول بالا ہونے سے مرادجال ہے۔[13]

 

علامت قیامت سے متعلق اہل سنت والجماعت کا نظریہ :

اہل سنت والجماعت جنہیں اہل حدیث بھی کہا جاتاہے ان کا نظریہ جو علامات قیامت کے حوالے سے قائم ہے اسے چند نکات میں ذیل میں پیش کیا جاتاہے ۔

(1) علامات قیامت کا مصدر صرف اور صرف قرآن وحدیث ہےباب اجتہاد کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ باب اخبار پر قائم ہے جس کا مستند ترین ذریعہ صرف اور صرف کتاب وسنت ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ذریعہ چاہے وہ اسرائیلی روایات کی شکل میں ہویا فردی آراء ان کی  علامات قیامت کے ثبوت میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس منہج کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’فھذا كتاب الفتن والملاحم في آخر الزمان، مما أخبر به رسول الله، وذكر أشراط الساعة، والأمور العظام التي تكون قبل يوم القيامة،مما يجب الإيمان به؛ لإخبار الصادق المصدوق عنھا الذي لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى)[14]

’’ یہ آخری زمانے میں نمودار ہونے والےان فتنوں اورشروفساد کے بیان پر مشتمل کتاب ہے جن کے بارے میں نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں خبر دی ہے ۔ اس میں قیامت کی علامات اور ان امور عظام کا بیان بھی ہے جو قیامت سے قبل رونما ہوں گے ۔ جن پر ایمان لانا واجب ہے ،کیونکہ ہمیں اس کی خبر اس صادق ومصدوق ہستی نے دی ہے جو اپنی رائے سے کوئی بات نہیں کرتے بلکہ یہ سب وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے ‘‘۔

(2) علامات قیامت کے بیان کا مقصد لوگوں کو بری عاقبت سے ڈرانا اور اور انہیں غفلت سے بیدار کرنا ہے ۔ نہ کہ دیومالائی قصوں کی طرح انہیں پڑھنا اور پڑھانااور اپنی پوائنٹ سکورنگ کیلئے ان کی تطبیق بیان کرنا ہے ۔

 علامہ ابو عمرو الدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ ( قد بعثني ما أخذه الله عزوجل من الميثاق والعھد على أهل العلم والرواية في نشر ماعلموه، وأداء ماسمعوه، أن أجمع في هذا الكتاب جملة كافية من السنن الواردة في الفتن وغوائلها، والأزمنة وفسادها، والساعة وأشراطھا، لكي يتأدب بھا المؤمن العاقل، ويأخذ نفسه برعايتها ويجهدها في استعمالها، والتمسك بھا، ويتبين له بذلك عظيم ماحل بالإسلام وأهله، من سفك الدماء، ونھب الأموال،واستباحة الحرم وغير ذلك مما يذهب الدين، ويضعف الإيمان، فيعمل نفسه في إصلاح شأنه خوفاً منه على فساد دينه وذهابه )ك[15]

’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی کہ اس میثاق کی رو سے جو اس نے اہل علم وروایت سے لیا ہے کہ انہوں نےجو سیکھاہے اسے نشر کریں اور جو سنا ہے اسے آگے ادا کریں ۔اسی مشن کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اس کتاب میں فتنوں کے حوالے سے وارد احادیث،زمانہ کے فساد کےحوالے سےاخباراور قیامت اور اس کی علامات کے حوالے سے وارد سنن کی ایک کافی تعداد اس کتاب میں جمع کردوںتاکہ ایک عقل مند مومن خود کو ان واقعات کی روشنی میں سدھارے ، اور وہ اپنے نفس کی تہذیب واصلاح کرے اور ان نصوص کو سیکھنے میں محنت کرے، اور انہیں تھامنے واختیار کرنے کیلئے کاوش کرے ، اس سے اسے معلوم ہوگا کہ اسلام اور اہل اسلام پر کیسے مصائب وآلام گزرے ہیں ، جن میں خونریزی ،ڈاکہ زنی ،عزتوں کا داؤ پر لگنا وغیرہ شامل ہے ایسی چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور دین کے خاتمے کا باعث بنتی ہیں ۔ تو وہ انہیں پڑھ کر اپنے معاملات کو سدھارے گا اس ڈر سے کہ کہیں اس کا دین تباہ نہ ہوجائے اور اس کا ایمان کہیں ضائع نہ ہوجائے ۔ 

اور علامہ صدیق حسن خان رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :’’إن المراد من تأليف هذا الكتاب في هذا الزمان المملوء من الآفات، والأكدار بالشئ الكثير: حفظ جملة صالحة من الأحاديث

 

الواردة في أبواب الفتن وأسبابها على المسلمين، على طريق الاختصار، وضبط أشراط الساعة التي وردت في الآثار، وذَكرها عامة أهل الحديث في دواوينهم الكبار، تذكرة لأهل الغفلة والاغترار، وتبصرة لأولي البصائر والأبصار، فعسى أن ينتهوا عن بعض الذنوب، وينتبھوا عن سنة الغفلة، وتلين منھم قاسيات القلوب، ويغتنموا المهلة قبل الوهلة، كيف لا والدنيا قد ولت جداً وآذنت بالانصرام، ومرت بأهلها مر السحاب وهم نيام).[16]

’’آفات ومصائب اور فتنوں سے بھرپور اس دور میں اس کتاب  کی تالیف کامقصد یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں پر در آنے والے فتنوں اور ان کے اسباب کے حوالے سے وارد صحیح روایات کی وافر تعداد اختصاراجمع کردی جائے ،اور قیامت کی وہ علامات بھی بیان کردی جائیں جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں ،جنہیں اہل حدیث نے اپنے بڑے دواوین میں ذکر کیاہے ۔ اس کا مقصد ان لوگوں کو یاددہانی کرانا ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اور عقل وبصیرت رکھنے والے اس سے نصیحت پکڑیں ۔کاش کہ وہ ان کیو جہ سے بعض  گناہوں سے باز آجائیں ،اور غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں ، سخت دل نرم پڑ جائیں ، اور وہ لوگ اس مہلت کو غنیمت جانیں قبل اس کے کہ ان پر دھاوا بول دیا جائے ۔ اور یہ کیسے نہ ہو کہ دنیا تو پلٹ کر جارہی ہے اور رخصتی کا الارم بجا رہی ہے ، اور دنیا اہل دنیا پر سے  ایسے  کذر گئی ہے جیسے بادل گذر جاتے ہیں اور لوگ سوتے رہے ‘‘۔

(3)قیامت کے حوالے سے جو نصوص قرآن وحدیث میں ذکر ہوئی ہیں انہیں اپنی حقیقت پر محمول کرنا نہ کہ ان کا کوئی مجازی یا غیر حقیقی معنیٰ متعین کرنا ہے ۔ جیسا کہ دجال کا ظہور ہے اہل سنت اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دجال ایک فرد ہے اس کی ہیئت اور صفات بالکل حقیقی صفات ہیں ۔اسی طرح زمین سے جانورکا ظہور اور بندے کا اپنے جوتے کے تسمے سے بات کرنا اور درخت کا یہ پکار کر

 

 کہنا کہ میرے پیچھے یہودی ہے اسے قتل کرو ۔یہ سب حقیقت ہے اس میں کسی قسم کا بھی مجازی معنیٰ نہیں ہے ۔ جیسا کہ اہل سنت کے ائمہ نے اپنی کتب میں اس نظریے کو بالکل وضاحت سے بیان فرمادیاہے ۔ جن میں امام ابن کثیر ام قرطبی وغیرہم شامل ہیں ۔

(4)علامات قیامت کو سامنے رکھتے ہوئے انسان اپنے دین کی حفاظت کرسکتاہے اور خود کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکتاہے یہ بھی ان علامات کے بیان کے مقاصد میں سے ایک بنیادی مقصدہے ۔

اس نکتہ کو یوں سمجھا جائے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں دجال سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں ۔ ہمیں یہ بتایاہے کہ اس کی داہنی آنکھ کیسی ہوگی اور اس کی باہنی آنکھ کیسی ہوگی ؟ اس کی پیشانی پر کیا لکھا ہوگا ۔ پھر یہ بھی ہمیں بتایا کہ وہ کون کون سی شعبدہ بازیوں کا اظہار کرے گا ۔ آسمان سے کہے گا بارش برساؤ ، زمین سے کہے گا اناج اگاؤ ،مردوں کو زندہ کرنے ، بیماروں کو شفا دینے کے کرتب دکھائے گا ۔ ان تمام تفصیلات سے ہمیں اس لئے آگاہ کیا ہے تاکہ ہم اس کے اندھا کردینے والے فتنوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں اور اس کی چالوں سے خود کو بچا کر رکھیں ۔

اس کی ایک تطبیقی مثال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت میں ملاحظہ کریں ۔ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا :

’’يا عثمان إن الله مقمصك قميصًا، فإن أرادك المنافقون على خلعه، فلا تخلعه‘‘[17]

’’ اے عثمان اللہ تجھے ایک قمیص پہنائے گا ۔اگر منافق لوگ تجھ سے مطالبہ کریں کہ اسے اتار دو تو آپ اسے مت اتارنا ‘‘۔

اس قمیص سے مراد خلافت تھی ۔ رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اشارہ سے بتایا کہ اللہ آپ کو خلافت نصیب کرے گا اور اگر منافق لوگ آپ سے خلافت چھوڑنے کا کہیں تو مت چھوڑیے گا ۔ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کےاس نشانی اور علامت بتانے اور ہدایت دینے کے مطابق ہی سیدنا عثمان نے برتاؤ کیا لہٰذا ان کی

  خلافت کے آخری ایام میں جب باغیوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ خلافت سے مستعفی ہوجائیں تو سیدنا عثمان نے شہید ہونا منظور کرلیا لیکن مستعفی نہیں ہوئے ۔ انہوں نے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  کی گئی اس نصیحت پر عمل کیا ۔

اسی طرح علامات قیامت کا تفصیلاً بیان کیا جانا اپنے اندر یہ مقصد لئے ہوئے ہے کہ اس کی تفصیلات پڑھ کر ہم اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں ۔ والعلم عند اللہ

شرعی ضوابط کے بیان کا بنیادی مقصد :

ہم یہاں یہ بات واضح کرتے جائیں کہ ان ضوابط سے مراد یہ نہیں کہ کسی بھی حادثے کی تفسیر نہ کی جائے اور واقع ہونے والے حادثات سے کسی علامت قیامت کو بالکل میچ نہ کیا جائے ۔یہ مقصود نہیں بلکہ سلف جن میں صحابہ وتابعین شامل ہیں انہوں نے کئی علامات قیامت کی تفسیر وتطبیق بیان کی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے واضح کردیا کہ علامات قیامت تین طرح کی ہیں ایک وہ جو ظاہر ہوچکی ، دوسری وہ جو ہورہی ہیں اور تسلسل سے ہوتی رہیں گی ، اور تیسری وہ عظیم الشان علامات جن کے ظہور کا علم اللہ تعالیٰ کےسوا کسی کو نہیں جیسے ظہور دجال ، نزول مسیح وغیرہ ۔ بلکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ ان علامات کو مخصوص اور متعین افراد پر لاگو کرنا ، مخصوص حادثات کے ساتھ نتھی کرنا اور یہ کہنا فلاں ابن فلاں جو حدیث میں وارد ہوا ہے وہ یہ شخص ہے ۔یا یہ کہنا کہ یہ جو واقعہ رونما ہوا ہے یہ وہی ہے جو علامت قیامت کی شکل میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں بتایاہے ۔ اور اسی پر اڑے رہنا وغیرہ ۔ یا یہ کہ ان واقعات کی من مانی تفسیر بیان کرناکہ دجال سے مراد شر کا غلبہ یا امریکہ ہے۔ اور دجلہ وفرات کے خزانے اگل دینے سے مراد پیڑول کی کثرت وغیرہ ہے ۔ ذیل میں وہ شرعی ضوابط بیان کیے جاتے ہیں جنہیں علامت قیامت کی تفسیر و تطبیق کے وقت ملحوظ خاطر رکھاجانا چاہیے۔

پہلا ضابطہ : قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے ۔ قرآن وسنت کی نصوصِ کثیرہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں۔ جن میں سے چند ایک کی جھلک یہاں

 

ملاحظہ فرمائیں :

فرمان باری تعالیٰ ہے :{يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ } (الاعراف: 187)

ترجمہ :’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ ان سے کہیے: ’’یہ بات تو میرا پروردگار ہی جانتا ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا اور یہ آسمانوں اور زمین کا بڑا بھاری حادثہ ہوگا جو یکدم تم پر آن پڑے گا۔ لوگ آپ سے تو یوں پوچھتے ہیں جیسے آپ ہر وقت اس کی ٹوہ میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان سے کہئے کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے مگر اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے‘‘۔

لہٰذا جن نظریات کے تحت بھی دنیا کی عمریں مقرر کی گئی ہیں کہ کسی نے کہا کہ دنیا کی عمر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد پندرہ سو سال ہے ، اور ایک مایہ تہذیب[18] کی دنیا کے خاتمے کے نظریہ کی رسوائی تو 2012میں پوری دنیا نے دیکھی جن کا خیال تھا کہ 21 دسمبر 2012 کو  مایہ تہذیب کا کلینڈر ختم ہوتے ہی دنیا ختم ہوجائے گی ۔اسی طرح آج کی سائنس کی رو سے کچھ نظریات پیش کرکے دنیا کے خاتمے کا اندازہ لگایا جاتاہےاس حوالے سےچند دن قبل ایک اہم خبر جسے عالمی میڈیا نے کوریج دی جس میں عیسائی راہبوں کے کچھ حلقوں نے دعویٰ کیا کہ 23 ستمبر 2017ء کو دنیا تباہ ہوجائےگی ۔ایک عیسائی ریسرچر ڈیوڈ میڈی نے دعویٰ کیا کہ انجیل میں دی گئی باتوں اور ہندسوں کے کوڈز کے حوالے سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ان میں 33 کا ہندسہ نمایاں ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام 33 سال

  زندہ رہے ، انجیل میں خدا کا ذکر 33 بار آیا ، اکیس اگست کو مکمل سورج گرہن کے 33دن بعد یعنی 23ستمبر کو دنیا کو تباہ ہوناہے ‘‘[19]لیکن یہ 23 ستمبر بھی گذر گیا ۔ یہ سب بے بنیاد ، جھوٹ اور فریب پر مبنی باتیں اور نظریات ہیں ۔ کسی بھی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ ان نظریات کی تصدیق کرے یا اس پر تائیدی بحث ومباحثہ کرے ۔ ایسا کرنے سے قرآن مجید اور سنت رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کی نصوص کثیرہ پر قائم ایمان کی دیوار زمین بوس ہوجائے گی ۔

اس طرح کے جھوٹ پر مبنی بھونڈے دعوے اس سے قبل بھی بیشتر بار کئے جاچکے ہیں ۔

ایسے ہی نظریات پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف محدث ، مفسر ومؤرخ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’لم يثبت في حديث عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه حدد وقت الساعة بمدة محصورة، وإنما ذكر شيئًا من علاماتھا وأشراطھا وأمراتھا‘‘.[20]

’’رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی ایک بھی حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے قیامت کی کسی مدت کا تعین کیاہو ، بلکہ آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے تو محض اس کی چند علامات اور نشانیاں بیان کی ہیں ‘‘۔

مزید فرماتے ہیں:’’والذي في كتب الإسرائيلين، وأهل الكتاب من تحديد ما سلف بألوف ومئات من السنين، قد نص غير واحد من العلماء على تخطئتھم فيه، وتغليطهم‘‘[21]

’’ ہاں جو باتیں اسرائیلیوں اور اہل کتاب کی کتابوں میں دنیا کی عمر کے تعین کے بارے میں ہیں کہ وہ ہزار ہا سال یا سینکڑوں سال ہے ، تو اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان کے ان مفروضوں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیاہے ‘‘۔

لہٰذا اس ضابطے کی رو سے دنیا کی عمرکے تعین کے بارے قائم تمام مفروضوں اور نظریات کا انکار

 

 ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ اور جو بھی قیام قیامت کے وقت جاننے کا دعویٰ کرتاہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا ۔

(2)فرمان باری تعالیٰ ہے :’’{يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا} (الاحزاب: 63)

ترجمہ :’’لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ آپ ان سے کہئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور آپ کو کیا خبر، شاید وہ قریب ہی آپہنچی ہو‘‘۔

(3)جناب جبریل علیہ السلام نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’فأخبرني عن الساعة قال ما المسؤول عنھا بأعلم من السائل قال فأخبرني عن أماراتھا قال أن تلد الأمة ربتھا وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاة يتطاولون في البنيان قال ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي يا عمر أتدري من السائل قلت الله ورسوله أعلم قال فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم"[22]

ترجمہ :’’ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے آپ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ اس بات سے واقف نہیں ہے( یعنی سوال کرنے والے اورجواب دینے والے دونوں کو اس کے بارےمیں علم نہیں ہے ) اس نے عرض کیا اچھا قیامت کی علامات بتائیے رسول اللہ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں ننگے جسم تنگ دست چرواہے بڑی بڑی عمارتوں پر اترائیں گے اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا اے عمر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتےہیں آپ (  صلی اللہ علیہ وسلم )

نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے تھے‘‘۔

دوسرا ضابطہ : علامات قیامت کی تفسیر میں بردباری ، تحمل ، سے کام لیا جائے اور اس میں عجلت جلدبازی اور جذبات سے پرہیز کیاجائے ۔

رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمانِ مبارک ہے :’’التأني من الله، والعجلة من الشيطان‘‘ [23]

         ’’ بردباری وتحمل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ‘‘۔

لہٰذا علامات قیامت کی عجلت میں تفسیر کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اس معاملے کو اہل علم کی طرف لوٹایا جائے ۔ قرآن مجید نے ہمیں اس حوالے سے بہت واضح ضابطہ دیاہے ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :’’{وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا} [النساء: 83]

ترجمہ :’’ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنےاولی الامرکے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پراللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہو جاتے‘‘۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ "تشتبه مقبلة وتبين مدبرة" [24]

’’ جب فتنہ آتاہے تو اس کا امر مشتبہ ہوتاہے ( یعنی ہر کوئی اسے نہیں پہچان پاتا) مگر جب وہ چلا جاتاہے تو اس کی خطورت وتباہی واضح ہوچکی ہوتی ہے ‘‘۔

شمر رحمہ اللہ اس اثر کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ جب آتاہے تو اس کا معاملہ لوگوں پر مشتبہ ہوجاتاہے بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں حتی کہ وہ اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اور جب وہ تباہی پھیلاکر چلاجاتاہے تو جو بھی اس میں مبتلا ہوا ہوتاہے اس پر بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ غلطی پر تھا ‘‘۔

لیکن جب سب تباہ ہوگیا تو پھر پچھتانے کا اور اعترافِ جرم کا کیا فائدہ ۔

                 اب پچھتائے کیا ہوت          جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

سلف کی علاماتِ قیامت کی تفسیر میں احتیاط اس مثال سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے :حفص بن غیاث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"قلت: لسفيان الثوري يا أبا عبد الله إن الناس قد أكثروا في المهدي۔قال: "إن مر على بابك المهدي فلا تكن منه في شيء حتى يجتمع الناس عليه".[25]

ترجمہ :’’ میں نے سفیان ثوری سے کہا کہ اے ابا عبداللہ لوگوں نے امام مہدی سے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں (یعنی ہر کوئی کہتاہے کہ مہدی فلاں ہے فلاں ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟) سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا :’’اگر مہدی کا گذر آپ کے دروازے کے سامنے سے بھی ہوجائے تو تمہیں اس سے کوئی سروکا ر نہیں ہونا چاہئے جب تک کہ تمام لوگ اس پر جمع نہ ہوجائیں ‘‘  (یعنی جب تک سب لوگ اس کی بیعت نہ کرلیں تم اس معاملے میں جلدی نہ کرنا احتیاط کا دامن تھامے رہنا )۔

لہٰذا جب بھی کوئی ایسافتنہ یا علامت نظر آئے جس سے محسوس ہوتاہو کہ شاید یہ وہی علامت نہ ہو جس کے بارے میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی حدیث میں ہمیں خبر دی ہے تو اس معاملہ میں انتہائی محتاط رہنا چاہئے یہاں تک کہ تمام علامات مکمل طور پر ظاہر نہ ہوجائیں ۔ اور اس طرح کے معاملات

 میں اپنے اجتہاد وقیاس کے بجائے علمائے ربانیین کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

تیسرا ضابطہ : علامات قیامت میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا تعلق تسلسل زمانہ کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان حادثات کو بالترتیب ذکر فرمایاہے ہمیں بھی اس ترتیب زمنی ہی کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔

اس ضابطے کا مفہوم یہ ہے کہ علامات قیامت دو طرح کی ہیں ایک وہ جن کی شریعت نے ترتیب متعین کی ہےکہ پہلے یہ ہوگا پھر یہ ہوگا اور پھر یہ ہوگا ۔ اور دوسری قسم وہ ہے جو مطلق بیان کی گئی علامات ہیںان میں زمانہ کی ترتیب کا کوئی ذکر نہیں ۔ لہٰذا جب بھی علاماتِ قیامت کی تفسیر وتوضیح کی جائے تو اس تقسیم کو ملحوظ رکھا جائے اور دیکھا جائے کہ یہ کون سے علامات میں سے ہے ۔ آیا ان میں سے جو ترتیب وار مذکور ہیں یایہ مطلق علامت ہے ۔

اگرچہ اہل علم کے مابین قیامت کی بڑی علامات کی ترتیب کے بیان میں اختلا ف ہے جمہور اہل علم نےیہ ترتیب یوں بیان فرمائی ہے ۔ (1)چھوٹی علامات کا ظہور جن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت ، طاعون عمواس ، مساجد کا سجایا جانا ، عمارتوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا ، امانت کا اٹھ جانا ، جہالت عام ہونا ، شرک کا ظہور ، سنتوں میں لا پرواہی کرنا ، فحاشی اور آلات موسیقی کا عام ہونا، زلزلوں کی کثرت ، بارشوں کا زیادہ ہونا اور اناج کا کم ہوجانا ، اچانک موت واقع ہوجانا، جھوٹی گواہی کا عام ہوجانا، قتل ِعام کا بڑھ جانا ، کنجوسی کا عام ہونا ، لوگوں کا کثرت سے موت کی تمنا کرنا ، رومیوں کا بڑھ جانا اور ان سے مسلمانوں کی کثرت سے لڑائیاں ، شراب نوشی عام ہونا وغیرہ وغیرہ ۔(2) امام مہدی کا ظہور۔ان کا ظہور ظہور ِدجال اور نزول مسیح علیہ السلام سے قبل ہوگا ۔ اس کی دلیل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے فرماتے ہیں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:’’ " ينزل عيسى بن مريم فيقول

أميرهم المهدي تعال صل بنا ، فيقول : لا إن بعضھم أمير بعض تكرمة الله لهذه الأمة " [26]

ترجمہ :’’ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تومسلمانوں کےا میر امام مہدی فرمائیں گے کہ آئیں نماز کی امامت کرائیں ۔ تو عیسی علیہ السلام فرمائیں گے نہیں تم ایک دوسرے کےامیر ہو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس اکرام اور اعزاز سے نوازا ہے ‘‘۔

لہٰذا روایات کی رو سے عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے ۔

(3) دجال کا نکلنا (4) عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ۔ آپ نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے ۔

(5) یاجوج ماجوج کا نکلنا ۔ یاجوج ماجوج کا ظہور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا ۔ اس کی دلیل نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا :ان النبى صلى الله عليه وسلم حدثھم حديثا عن الدجال وقال فيه :" فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز عبادي إلى الطور ، ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون ، فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيھا ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بھذه مرة ماء "[27]

ترجمہ’’پس اسی دوران جناب عیسی علیہ السلام پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائیں گے کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے ، ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائیںگے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا ‘‘۔

 اس کے بعد دیگر علامات ظاہر ہوں گی جن میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ۔ جانور کا زمین سے نکلنا ، وغیرہ شامل ہے۔

چوتھا ضابطہ : کئی علامات قیامت ایسی بھی ہیں جو روایات کے عین مطابق واقع ہوچکی ہیں اور کچھ جاری بھی ہیں لہذا کسی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں وہ تاویل کرتے ہوئے کہے کہ نہیں یہ تو وہ زمانہ نہیں جس کے بارے میں رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ اس میں ایسا ہوگا ایسا ہوگا ۔ بلکہ یہ زمانہ ابھی آئے گا ۔ جیسے زنا ، شراب نوشی ، گانے بجانے، جہالت کا عام ہونا ہے ۔وہ اس کے عام ہونے کا بھی انکار کرتا رہے ۔ یہ وطیرہ مناہج سلف کےخلاف ہے بلکہ جو عام علامتیں ظاہر ہوچکی ہیں ان کے ظہور کا اعتراف کرنا چاہیے۔

پانچواں ضابطہ : علامات قیامت سے متعلق محض صحیح احادیث پر اعتماد کرنا چاہئے ناکہ ضعیف اور موضوع روایات پر ۔

چھٹا ضابطہ : علامات قیامت کے باب میں وارد روایات حقیقی معنیٰ ومفہوم پر مبنی ہیں نہ کہ مجازی معنیٰ پر ۔ لہذا قیامت سے پہلے پیش آنے والے حالات وواقعات سے متعلقہ نبوی پیش گوئیوں میں من مانی تاویلات کرنا درست نہیں ۔ بلکہ انہیں من وعن قبول کرنا اور ظاہری معنیٰ پر ہی محمول کرنا منہج سلف ہے ۔

’’ چنانچہ اگر احادیث میں دجال یا امام مہدی کے ظہور کا ذکر ملتاہے توان سے حقیقی طور پر یہ شخصیات ہی مراد ہیں کوئی قوم ، قوت وطاقت یا کوئی بھی مجدد یا عادل ومنصف حکمران نہیں ۔ جیساکہ بعض حضرات نے دجال کی تاویل کرتے ہوئے اس سے امریکہ اور اسرائیل مراد لیاہے ،اسی طرح دجال کے ماتھے پر لکھے ہوئے ’’ک، ف، ر ‘‘ سے اسرائیل کا K-F-Rجنگی طیارہ مراد لیاہےاور کچھ نے دجال کی پیش گوئی سے ہر وہ طاقت مراد لی ہے جو دجل وفریب میں حد درجہ بڑھ کر ہو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح امام مہدی کی پیش گوئی کا انطباق کچھ حضرات ہر عادل ومنصف حکمران پر کرتے ہیں ، جبکہ بعض نے ہر تجدید دین کا کام کرنے والے پر اس کا انطباق کیاہے ۔

 حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امام مہدی سے بھی ایک خاص شخصیت مراد ہے جس کی چند علامات صحیح احادیث میں موجود ہیں ، اس کا خاص نام مذکور ہے ، اس کے والد کا نام مذکور ہے ، اس کی نسل کی وضاحت ہے ۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے ہر مجدد مراد لے لیا جائے ؟

بعض احادیث میں یہ پیش گوئی مذکور ہے کہ قیامت سے پہلے دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا ۔ تو اب پہاڑ سے مراد پہاڑ ہی لیا جائے گا اور ان الفاظ کو حقیقت پر ہی محمول کیا جائے گا کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کانوں میں سونا پیدا کرسکتے ہیں اسی طرح کسی دریا یا سمندر سے بھی ایسا خزانہ ظاہر فرماسکتے ہیں ۔ لیکن بعض حضرات نے یہاں بھی تاویل سے کام لیا اور کہا کہ سونے کے پہاڑ سے مراد پٹرول ہے ۔ حالانکہ اگر اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ اس پہاڑ کا ظہور مسلمانوں کے لیے ایک فتنہ ہوگا جبکہ اہل عرب پٹرول کو بطورِ نعمت استعمال کر رہے ہیں ، حدیث کے مطابق یہ پہاڑ دریائے فرات کے ساتھ ہی خاص ہوگا جبکہ پٹرول تو ہر دریا ، سمندر بلکہ خشکی سے بھی نکالا جا رہاہے ۔پھر فرمانِ نبوی کے مطابق اس خزانے پر بہت بڑی جنگ ہوگی جس میں 99فیصد لوگ قتل ہوجائیں گے جبکہ پٹرول ظاہر ہوئے ایک عرصہ ہوا لیکن کبھی کسی نے اس مقام پر اتنی بڑی جنگ نہیں دیکھی ۔ بہر حال یہ تاویل بھی درست نہیں اور اس کی تردید کے اور بھی بہت سے دلائل ہیں ۔

اسی طرح حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے یہودیوں کے خلاف جنگ میں پتھر اور درخت پکار پکار کر یہودیوں کی نشاندہی کریں گے تو اس پر بھی تمام مسلمانوں کا ایمان ہونا چاہیے کہ گو پتھر اور درخت قوتِ گویائی نہیں رکھتے لیکن قیامت کے قریب اللہ کے حکم سے یہ بھی کلام کریں گے ۔ اسی طرح احادیث میں ذکر ہے کہ قبل از قیامت زمین سے ایک جانور’’دابۃ الارض‘‘ نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا تو اس سے بھی بلا تاویل وہ خاص جانور ہی مراد لیا جائے گا۔ اسی طرح کچھ نبوی پیش گوئیوں میں خاص علاقہ جات کا بھی ذکر ہے جیساکہ قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی کرنے والا پہلا اسلامی

 

لشکر جنتی ہے اور مکہ ومدینہ میں دجال داخل نہیں ہوسکے گا وغیرہ وغیرہ تو اس طرح کی پیش گوئیوں میں بھی وہی مخصوص علاقے مراد ہوں گے ۔[28]

ھذا ماعندی والعلم عنداللہ

نوٹ: اس مضمون کی تیار میں مندرجہ ذیل مراجع سے استفادہ کیا گیاہے ۔

(1)القرآن الکریم

(2)                                    کتب حدیث 

(3)                                    فقہ اشراط الساعۃ  تالیف محمد اسماعیل المقدّم

(4)                                    موقف أهل السنة والجماعة من تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الحوادث " السفياني أُنموذجاً " تالیف : زاهر بن محمد بن سعيد الشھري

(5)                                    ضوابط شرعیۃ فی فھم اشراط الساعۃ ۔ازمحمد صالح المنجد

(6)                                    تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الواقع المعاصر مقالہ:ڈاکٹر عبدالله بن حمود الفريح

(7)                                    آئینہ پرویزیت از مولانا عبد الرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ

(8)                                    دجال اور علاماتِ قیامت کی کتاب  از حافظ عمران ایوب لاہوری

(9)         اشراط الساعة  تالیف يوسف الوابل

 

 

 



[1] فاضل مدینہ یونیورسٹی،مدیر سہ ماہی البیان کراچی

[2] المقصد العلی فی زوائد أبی یعلیٰ الموصلی ،للھیثمی ۔ طبعہ دار الکتب العلمیۃ نیز دیکھئے :

 فتح الباری شرح صحیح البخاری ۔شرح حدیث نمبر 6511

[3] صحیح البخاری : کتاب الرقاق ، باب سکرات الموت ۔ حدیث 6511

[4] صحیح البخاری:کتاب الرقاق،باب سکرات الموت

[5] التذكرة للقرطبي (ص: 240)

[6] أهوال القيامة وعلاماتھا الكبرى، ص8.

[7] رواه مسلم والترمذي:صحیح مسلم ۔ کتاب الرقاق،باب قول النبی بعثت  انا والساعۃ وما أمر الساعۃ إلاکلمہ البصرلآیۃ۔

[8] صحیح مسلم:حدیث،7289 ترقیم فؤاد عبدالباقی

[9] صحیح البخاری: کتاب العلم باب رفع العلم وظھور الجھل رقم:81

[10] فتح الباری 13؍131

[11] موقف أهل السنة والجماعة من تنزيل نصوص الفتن وأشراط الساعة على الحوادث  ، زاهر بن محمد بن سعيد الشھري ص 78

[12]  نظام ربوبیت : ص 265

[13] الغیبات فیضوء السنۃ،محمد ھمام ص191، نھایۃ العالم، منصور عبدالحکیم ص218

[14] النھاية في الفتن والملاحم 1/11.

[15] السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها 1/ 178.     

[16] الإذاعة لما كان وما يكون بين أشراط الساعةص15.

[17] رواه الحاكم في المستدرك: 4544، وصححه الألباني صحيح الجامع:7947

[18] مایہ ایک فرقہ اور تہذیب ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کا کلینڈر ختم ہوتے ہی دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ اور اس تہذیب کا کلینڈر 21 دسمبر 2012 کو ختم ہوگیا لیکن دنیا کی اینٹ بھی نہیں ہلی ۔ مایا کلینڈر کا آغاز 5125 سال قبل ہواتھا۔ اس عقیدے کے ماننے والوں کی اکثریت میکسیکومیں آباد ہے ۔دنیا میں اس عقیدے کے ماننے والے لوگوں نے جب دیکھا تھا کہ ان کے کلینڈر کے خاتمے کی تاریخ آرہی ہے تو یورپ میں کئی لوگوںنے قیامت سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب سفر شروع کردیا تھا۔

[19] http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/world/406489

[20] النھاية في الفتن والملاحم: 1/6

[21] النھاية في الفتن والملاحم: 1/16

[22] صحیح المسلم:کتاب الایمان باب الاسلام ماھو؟ بیان خصالہ حدیث :10

[23] سنن الترمذي: 2012، حسنه الألباني السلسلة الصحيحة: 1795

[24] مصنف ابن أبي شيبة: 38888

[25] سیر اعلام النبلاء للذھبی،الطبقۃ السادسہ ، ترجمۃ سفیان الثوری رحمہ اللہ

[26] المنار المنيف لابن القیم (1/147) إسناده جيّد . وأصلہ فی صحیح مسلم بدون تسمیۃ الأمیر

[27] صحیح  مسلم :حدیث ( 2937  )

[28] دجال اور علامات قیامت کی کتاب از حافظ عمران ایوب لاہوری صفحہ 18،19