بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 
پیر, 10 ستمبر 2018 06:46

عقیدۂ ختم نبوت کے چار تقاضے

مقرر/مصنف  الشیخ میاں محمد جمیل

 مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا   (الاحزاب:40)

’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ‘‘

نبی کریم   کی ازواجِ مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں ان میں سے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ کی چاربیٹیاں ہوئیں جن کے اسمائے گرامی زینب ،رقیہ ،امّ کلثوم ،فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں اور بیٹے قاسم ، طیب ہیں۔ آپ کا تیسرا بیٹا آپ کی لونڈی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا  کے بطن سے پیدا ہوا جس کا نام ابراہیم تھا۔نبی   کے تینوں بیٹے اس آیتِ کریمہ کے نازل ہونے سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کے بعدآپ کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا ۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ محمد مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں آپ اللہ کے رسول اور خاتم المرسلین ہیں اللہ تعالیٰ ہر بات اور کام کو اچھی طرح جانتا ہے۔

·       اللہ تعالیٰ اس حکمت کوجانتا ہے کہ اس نے آپ  کے بیٹوں کو کیوں حیات نہیں رکھا۔

·       اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت محمد   خاتم المرسلین ہیں جو بہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے مگر تم نبی  کی شوکت و عظمت کو پوری طرح نہیں جانتے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حقیقت میں اس کے نبی کا کیا مقام ہے ۔

·       جب محمدرسول اللہ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں تو زید  رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ کی بہو کیسے بن گئی۔

نبی کریم کی بعثت سے پہلے نبوت کے چار بنیادی تقاضے پورے نہ ہوئے تھے اس لیے آپ سے پہلے سلسلہ نبوت جاری رکھا گیا۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کے حوالے سے تمام تقاضے اور ضرورتیں پوری ہو گئیں لہٰذا اب کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے نبی  کو خاتم النبیین کے عظیم الشان اور بے مثال اعزاز سے نوازا گیا۔

1جب پہلے نبی کو جھٹلادیا جاتا تو دوسرا نبی مبعوث کیا جاتا:

سلسلہ نبوت کو جاری رکھنے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ تھی کہ پہلے نبی کو کلّی طور پر جھٹلا دیا جاتا تو اس کی تائید اور تصدیق کے لیے دوسرے اور تیسرے نبی کو بھیجا جاتا جیساکہ سورۃ یٰسین میں ہے:

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ اِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُـوْٓا اِنَّآ اِلَيْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ   قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ   (یٰسٓ:13 تا 15)

’’انہیں بستی والوں کا واقعہ سنائیں جب اُس میں رسول آئے۔ ہم نے ان کی طرف دورسول بھیجے انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے ان کی تائید کے لیے تیسرا رسول بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔بستی والوں نے کہا تم کچھ بھی نہیں مگر ہم جیسے انسان ہو ،الرّحمان نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم جھوٹ بولتے ہو۔‘‘

اگرچہ کچھ لوگوں نے نبی کو جھٹلا دیا لیکن آپ کا کلمہ پڑھنے والے مکی دور سے لے کر اب تک رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے ۔آپ کی امت قیامت کے دن تمام امتوں سے زیادہ ہو گی۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ  الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ   يَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَايَسْتَرْقُوْنَ وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ (متفق علیہ)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ باہر نکلے اورارشاد فرمایا‘ مجھ پر اُمتیں پیش کی گئیں۔ ایک پیغمبر گزرا ‘اس کے ساتھ اس کا ایک پیروکار تھا۔کسی کے ساتھ دوآدمی تھے، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی اوربعض ایسے پیغمبر بھی آئے‘ جن کا کوئی پیروکار نہیں تھا۔ میں نے اپنے سامنے ایک بہت بڑااجتماع دیکھا‘ جو آسمان کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا‘ شاید یہ میری امت ہے لیکن بتایا گیا کہ یہ موسیٰ  علیہ السلام  کی امت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا‘ آپ نظر اٹھائیں، تو میں نے بہت بڑا اجتماع دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو بھرا ہواہے ۔مجھ سے دائیں اوربائیں جانب دیکھنے کے لیے کہا گیا۔میں نے دیکھا ادھر بھی بہت زیادہ لوگ آسمان کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مجھ سے کہا گیا‘ یہ سب آپ کے اُمتی ہیں اور ان کے ساتھ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ ایسے لوگ ہیں‘ جو نہ بدفالی اورنہ دم کراتے ہیں اور نہ گرم لوہے سے داغتے ہیں بلکہ صرف اپنے اللہ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ  نے کھڑے ہوکر کہا‘ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے۔ آپ   نے دعاکی‘ اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما۔ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا‘اس نے آپ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ مجھے بھی ان سے شامل کرے ۔ آپ  نے فرمایا‘ عکاشہ  تم سے سبقت لے گیا۔‘‘

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ۔۔۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كَشَعَرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ)) (رواہ البخاری: باب قصۃ یأجوج ومأجوج)

’’سيدناابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول  نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں تمہاری تعداد تیسرا حصہ ہوگی ہم نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں، کہ تم جنت والوں میں نصف ہو گے ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا تمہارا تناسب لوگوںمیں ایک سیاہ بال کی طرح ہے جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا سفید بال کی مانند جو سیا ہ رنگ کے بیل پر ہو۔ ‘‘

اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا  فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ   اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا (النصر)

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے اور اے نبی آپ دیکھ لیں کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ اپنے رب کا شکر اور اس کے حضور استغفار کیجئے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

2پہلے انبیاء کرام  علیہم السلام کی شریعتیں نامکمل تھیںآپ کا دین کامل اور اکمل ہے اس لیے آپ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں:

ابتدائی دور میں انسان کے شعور میں اتنا ارتقاء پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی انسان نے تمدن، سماج اور دیگر شعبہ جات میں اتنی ترقی کی تھی کیونکہ انسانی زندگی کا ارتقائی دور تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کی خاطر دین میں ارتقائی اور تدریجی عمل پسند فرمایا۔ نبی  کے دور میں انسان نے کافی حد تک شعور حاصل کر لیا تھا اس لیے ہمیشہ کے لیے دین یعنی دستور حیات کو مکمل کر دیا گیا اور اعلان ہوا:

 اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا   (المائدۃ:3)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے، میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو دین کے طورپر پسند کر لیا‘‘۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا قَالَ أَيُّ آيَةٍ قَالَ ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾ قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ  وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ)) (رواہ البخاری: باب زیادۃ الایمان ونقصانہٖ)

’’سيدنا عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے مجھے کہا اے امیر المؤمنین! تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے، میں نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ﴾ عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے وہ دن اور مقام یاد ہے جہاں نبی   پر یہ آیت  نازل ہوئی اس وقت آپ جمعہ کے دن عرفات میں کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔‘‘

3پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی کتب مسخ کر دی گئیں،اس لیے ایک مکمل کتاب، داعی اور نبی آخر الزمان کی ضرورت تھی لہٰذا آپﷺ مبعوث کیے گئے:

پہلی آسمانی کتابوں کو تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے نبوت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

 وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  (البقرہ:75)

’’حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کا کلام سن کر سمجھنے اور جاننے کے باوجود اسے بدل دیتے ہیں۔‘‘

دوسری کتابوں کے مقابلے اور حقیقت کے اعتبار سے قرآن مجید اپنی زبر، زیر کے ساتھ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا یہاں تک کہ آپ کی احادیث اور اس کے بیان کرنے والے راویوں کے نام اور کوائف بھی محفوظ کر لئے گئے ہیں۔لہٰذا اب کسی نبی کی ضرورت نہیں ۔

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ    (النحل: 44)

’’اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت نازل کی ،تا کہ آپ اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اُتارا گیا ہے اس لیے کہ وہ غوروفکر کریں ۔‘‘

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الحجر:9)

’’یقیناً ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ    اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ   ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (القیامۃ:16تا19)   

’’اے نبی وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں۔ اس کو جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے۔ لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو اس کی قرأت غور سے سنتے رہیں۔ یقیناً اس کا بیان کروانا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘‘

ان آیات میں قرآن مجید کو ’’اَلذِّکْرَ‘‘ قرار دے کرفرمایا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن مجید کی حفاظت کا بندوبست کر دیا ہے بلکہ قرآن مجید کی تشریح یعنی حدیث مبارکہ کو بھی قیامت تک کے لیے محفوظ فرما دیا گیا ہے۔عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ مذہبی‘ ثقافتی اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود مکہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بیس سے زیادہ نہ تھی اور یہ بھی معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ شدید علمی فقدان اور پڑھائی لکھائی کا رواج نہ ہونے کے باوجود نبی معظم  نے اس بات کا اہتمام فرمایا کہ جوں ہی قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ اسے اپنی نگرانی میں مرتب کرواتے۔ کاغذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے قرآن مجید کو کھال،لکڑی، پتھر یہاں تک کہ بعض درختوں کے پتے اس طریقے سے تیار کیے جاتے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا جیسا کہ پرانے زمانے کے کتبات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس طرح مکمل قرآن مجید مختلف کتبات کی شکل میں محفوظ کر لیا گیا۔

4پہلے انبیاء کرام علیہم السلام  خصوص قوم اور زمانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے لیکن آپ کو  قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا ہے لہٰذا اب کسی نبی کی ضرورت نہیں:

 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ   (الاعراف:158)

’’فرما دیں اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں جو زندہ کرتا اورمارتا ہے پس اللہ اور اس کے نبی امی پر ایمان لائو جو اللہ اور اس کی باتوں پرایمان رکھتا ہے۔ اور اس کی پیروی کروتاکہ تم ہدایت پائو۔‘‘

امام ابن کثیررحمہ اللہ  نے اس آیت سے آپ کی ختم نبوت کا استدلال کیا ہے کیونکہ آپ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں لہٰذا آپ کے بعد اب کسی نبی اور رسول کی گنجائش نہیں۔ آپ کی عالمگیر نبوت کا یہ بھی ثبوت ہے کہ جس طرح  اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بلا شرکت غیرے مالک اور معبود ہے اسی طرح کسی شراکت کے بغیر محمد  بھی قیامت تک کے لیے بنی نوع انسان کے لیے رسول ہیں ۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ  (سبا:28)

’’اے نبی  ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ  (الانبیاء: 107)

’’اے نبی ہم نے آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ الْأَنْصَارِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ   أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی کَانَ کُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَیْنَ یَدَیْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ)) (رواہ مسلم: کِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاۃَ )

’’سيدنا جابر tبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیںجو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔

1 پہلے انبیاء کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 

2 میرے لیے مال ِ غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا ۔

3 میرے لیے ساری زمین مسجد بنا دی گئی ہے ، جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے اُسی جگہ نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

4  ایک مہینے کی دوری پر ہونے کے باوجوددشمن مجھ سے ڈرتا ہے ۔

5 مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کا حق دیا جائے گا۔‘

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللہِ   قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ  بِسِتٍّ أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ (رواہ مسلم :کتاب المساجد ، و مواضع الصلاۃ )

’’سيدناابو ہریرہ tبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مجھے انبیاء پر چھ فضیلتیں عنایت کی گئی ہیں۔

1 مجھے جوامع الکلم کی صلاحیت عطا کی گئی ۔

 2 اللہ تعالیٰ نے خصوصی رعب اور دبدبہ سے میری مدد فرمائی ہے۔

3  مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ۔

4میرے لیے ساری زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا ۔

5 مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا اور مجھ پر سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا۔ ‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ  قَالَ إِنَّ  مَثَلِي وَ مَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَ أَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ))  (رواہ البخاری:  باب خاتم النبیین)

’’سيدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول  نے فرمایا: میری اور پہلے انبیاء کی مثال اس طرح ہےکہ جس طرح ایک آدمی نے بڑا خوبصورت گھر بنایا لیکن اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس کے حسن و جمال پر تعجب کرتے ہوئے سوچتے اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ فرمایا: میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘

عَنْ ثَوْبَانَ  رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ  لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي)) (رواہ الترمذی:باب ماجاء لاتقوم الساعۃ)

سيدناثوبان  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی  نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکوں سے مل جائیں گے اور بتوں کی عبادت کرنے لگیں گے، عنقریب میری امت میں تیس کذاب آئیں گے، ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہوگا حالانکہ آخری نبی میں ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

۔۔۔

Read 262 times Last modified on پیر, 10 ستمبر 2018 07:27
  • Image
  • Text
  • Additional info
  • Author

 مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا   (الاحزاب:40)

’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ‘‘

نبی کریم   کی ازواجِ مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں ان میں سے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ کی چاربیٹیاں ہوئیں جن کے اسمائے گرامی زینب ،رقیہ ،امّ کلثوم ،فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں اور بیٹے قاسم ، طیب ہیں۔ آپ کا تیسرا بیٹا آپ کی لونڈی ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا  کے بطن سے پیدا ہوا جس کا نام ابراہیم تھا۔نبی   کے تینوں بیٹے اس آیتِ کریمہ کے نازل ہونے سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کے بعدآپ کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا ۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ محمد مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں آپ اللہ کے رسول اور خاتم المرسلین ہیں اللہ تعالیٰ ہر بات اور کام کو اچھی طرح جانتا ہے۔

·       اللہ تعالیٰ اس حکمت کوجانتا ہے کہ اس نے آپ  کے بیٹوں کو کیوں حیات نہیں رکھا۔

·       اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت محمد   خاتم المرسلین ہیں جو بہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے مگر تم نبی  کی شوکت و عظمت کو پوری طرح نہیں جانتے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حقیقت میں اس کے نبی کا کیا مقام ہے ۔

·       جب محمدرسول اللہ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں تو زید  رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ کی بہو کیسے بن گئی۔

نبی کریم کی بعثت سے پہلے نبوت کے چار بنیادی تقاضے پورے نہ ہوئے تھے اس لیے آپ سے پہلے سلسلہ نبوت جاری رکھا گیا۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کے حوالے سے تمام تقاضے اور ضرورتیں پوری ہو گئیں لہٰذا اب کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اسی لیے نبی  کو خاتم النبیین کے عظیم الشان اور بے مثال اعزاز سے نوازا گیا۔

1جب پہلے نبی کو جھٹلادیا جاتا تو دوسرا نبی مبعوث کیا جاتا:

سلسلہ نبوت کو جاری رکھنے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ تھی کہ پہلے نبی کو کلّی طور پر جھٹلا دیا جاتا تو اس کی تائید اور تصدیق کے لیے دوسرے اور تیسرے نبی کو بھیجا جاتا جیساکہ سورۃ یٰسین میں ہے:

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ اِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُـوْٓا اِنَّآ اِلَيْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ   قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ   (یٰسٓ:13 تا 15)

’’انہیں بستی والوں کا واقعہ سنائیں جب اُس میں رسول آئے۔ ہم نے ان کی طرف دورسول بھیجے انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے ان کی تائید کے لیے تیسرا رسول بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔بستی والوں نے کہا تم کچھ بھی نہیں مگر ہم جیسے انسان ہو ،الرّحمان نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم جھوٹ بولتے ہو۔‘‘

اگرچہ کچھ لوگوں نے نبی کو جھٹلا دیا لیکن آپ کا کلمہ پڑھنے والے مکی دور سے لے کر اب تک رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے ۔آپ کی امت قیامت کے دن تمام امتوں سے زیادہ ہو گی۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ  الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ   يَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَايَسْتَرْقُوْنَ وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ (متفق علیہ)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ باہر نکلے اورارشاد فرمایا‘ مجھ پر اُمتیں پیش کی گئیں۔ ایک پیغمبر گزرا ‘اس کے ساتھ اس کا ایک پیروکار تھا۔کسی کے ساتھ دوآدمی تھے، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی اوربعض ایسے پیغمبر بھی آئے‘ جن کا کوئی پیروکار نہیں تھا۔ میں نے اپنے سامنے ایک بہت بڑااجتماع دیکھا‘ جو آسمان کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا‘ شاید یہ میری امت ہے لیکن بتایا گیا کہ یہ موسیٰ  علیہ السلام  کی امت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا‘ آپ نظر اٹھائیں، تو میں نے بہت بڑا اجتماع دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو بھرا ہواہے ۔مجھ سے دائیں اوربائیں جانب دیکھنے کے لیے کہا گیا۔میں نے دیکھا ادھر بھی بہت زیادہ لوگ آسمان کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مجھ سے کہا گیا‘ یہ سب آپ کے اُمتی ہیں اور ان کے ساتھ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ ایسے لوگ ہیں‘ جو نہ بدفالی اورنہ دم کراتے ہیں اور نہ گرم لوہے سے داغتے ہیں بلکہ صرف اپنے اللہ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ  نے کھڑے ہوکر کہا‘ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے۔ آپ   نے دعاکی‘ اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما۔ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا‘اس نے آپ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ مجھے بھی ان سے شامل کرے ۔ آپ  نے فرمایا‘ عکاشہ  تم سے سبقت لے گیا۔‘‘

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ۔۔۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كَشَعَرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ)) (رواہ البخاری: باب قصۃ یأجوج ومأجوج)

’’سيدناابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول  نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں چوتھائی تعداد تمہاری ہو گی ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں تمہاری تعداد تیسرا حصہ ہوگی ہم نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں، کہ تم جنت والوں میں نصف ہو گے ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا تمہارا تناسب لوگوںمیں ایک سیاہ بال کی طرح ہے جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا سفید بال کی مانند جو سیا ہ رنگ کے بیل پر ہو۔ ‘‘

اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا  فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ   اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا (النصر)

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے اور اے نبی آپ دیکھ لیں کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ اپنے رب کا شکر اور اس کے حضور استغفار کیجئے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

2پہلے انبیاء کرام  علیہم السلام کی شریعتیں نامکمل تھیںآپ کا دین کامل اور اکمل ہے اس لیے آپ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں:

ابتدائی دور میں انسان کے شعور میں اتنا ارتقاء پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی انسان نے تمدن، سماج اور دیگر شعبہ جات میں اتنی ترقی کی تھی کیونکہ انسانی زندگی کا ارتقائی دور تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کی خاطر دین میں ارتقائی اور تدریجی عمل پسند فرمایا۔ نبی  کے دور میں انسان نے کافی حد تک شعور حاصل کر لیا تھا اس لیے ہمیشہ کے لیے دین یعنی دستور حیات کو مکمل کر دیا گیا اور اعلان ہوا:

 اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا   (المائدۃ:3)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے، میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو دین کے طورپر پسند کر لیا‘‘۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا قَالَ أَيُّ آيَةٍ قَالَ ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾ قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ  وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ)) (رواہ البخاری: باب زیادۃ الایمان ونقصانہٖ)

’’سيدنا عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے مجھے کہا اے امیر المؤمنین! تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے، میں نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ﴾ عمر  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے وہ دن اور مقام یاد ہے جہاں نبی   پر یہ آیت  نازل ہوئی اس وقت آپ جمعہ کے دن عرفات میں کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔‘‘

3پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی کتب مسخ کر دی گئیں،اس لیے ایک مکمل کتاب، داعی اور نبی آخر الزمان کی ضرورت تھی لہٰذا آپﷺ مبعوث کیے گئے:

پہلی آسمانی کتابوں کو تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے نبوت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

 وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  (البقرہ:75)

’’حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کا کلام سن کر سمجھنے اور جاننے کے باوجود اسے بدل دیتے ہیں۔‘‘

دوسری کتابوں کے مقابلے اور حقیقت کے اعتبار سے قرآن مجید اپنی زبر، زیر کے ساتھ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا یہاں تک کہ آپ کی احادیث اور اس کے بیان کرنے والے راویوں کے نام اور کوائف بھی محفوظ کر لئے گئے ہیں۔لہٰذا اب کسی نبی کی ضرورت نہیں ۔

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ    (النحل: 44)

’’اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت نازل کی ،تا کہ آپ اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اُتارا گیا ہے اس لیے کہ وہ غوروفکر کریں ۔‘‘

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الحجر:9)

’’یقیناً ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ    اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ   ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (القیامۃ:16تا19)   

’’اے نبی وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں۔ اس کو جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے۔ لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو اس کی قرأت غور سے سنتے رہیں۔ یقیناً اس کا بیان کروانا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘‘

ان آیات میں قرآن مجید کو ’’اَلذِّکْرَ‘‘ قرار دے کرفرمایا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن مجید کی حفاظت کا بندوبست کر دیا ہے بلکہ قرآن مجید کی تشریح یعنی حدیث مبارکہ کو بھی قیامت تک کے لیے محفوظ فرما دیا گیا ہے۔عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ مذہبی‘ ثقافتی اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود مکہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بیس سے زیادہ نہ تھی اور یہ بھی معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ شدید علمی فقدان اور پڑھائی لکھائی کا رواج نہ ہونے کے باوجود نبی معظم  نے اس بات کا اہتمام فرمایا کہ جوں ہی قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ اسے اپنی نگرانی میں مرتب کرواتے۔ کاغذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے قرآن مجید کو کھال،لکڑی، پتھر یہاں تک کہ بعض درختوں کے پتے اس طریقے سے تیار کیے جاتے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا جیسا کہ پرانے زمانے کے کتبات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس طرح مکمل قرآن مجید مختلف کتبات کی شکل میں محفوظ کر لیا گیا۔

4پہلے انبیاء کرام علیہم السلام  خصوص قوم اور زمانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے لیکن آپ کو  قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا ہے لہٰذا اب کسی نبی کی ضرورت نہیں:

 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ   (الاعراف:158)

’’فرما دیں اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں جو زندہ کرتا اورمارتا ہے پس اللہ اور اس کے نبی امی پر ایمان لائو جو اللہ اور اس کی باتوں پرایمان رکھتا ہے۔ اور اس کی پیروی کروتاکہ تم ہدایت پائو۔‘‘

امام ابن کثیررحمہ اللہ  نے اس آیت سے آپ کی ختم نبوت کا استدلال کیا ہے کیونکہ آپ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں لہٰذا آپ کے بعد اب کسی نبی اور رسول کی گنجائش نہیں۔ آپ کی عالمگیر نبوت کا یہ بھی ثبوت ہے کہ جس طرح  اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بلا شرکت غیرے مالک اور معبود ہے اسی طرح کسی شراکت کے بغیر محمد  بھی قیامت تک کے لیے بنی نوع انسان کے لیے رسول ہیں ۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ  (سبا:28)

’’اے نبی  ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ  (الانبیاء: 107)

’’اے نبی ہم نے آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ الْأَنْصَارِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ   أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی کَانَ کُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَیْنَ یَدَیْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ)) (رواہ مسلم: کِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاۃَ )

’’سيدنا جابر tبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیںجو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔

1 پہلے انبیاء کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 

2 میرے لیے مال ِ غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا ۔

3 میرے لیے ساری زمین مسجد بنا دی گئی ہے ، جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے اُسی جگہ نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

4  ایک مہینے کی دوری پر ہونے کے باوجوددشمن مجھ سے ڈرتا ہے ۔

5 مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کا حق دیا جائے گا۔‘

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللہِ   قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ  بِسِتٍّ أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ (رواہ مسلم :کتاب المساجد ، و مواضع الصلاۃ )

’’سيدناابو ہریرہ tبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مجھے انبیاء پر چھ فضیلتیں عنایت کی گئی ہیں۔

1 مجھے جوامع الکلم کی صلاحیت عطا کی گئی ۔

 2 اللہ تعالیٰ نے خصوصی رعب اور دبدبہ سے میری مدد فرمائی ہے۔

3  مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ۔

4میرے لیے ساری زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا ۔

5 مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا اور مجھ پر سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا۔ ‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ  قَالَ إِنَّ  مَثَلِي وَ مَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَ أَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ))  (رواہ البخاری:  باب خاتم النبیین)

’’سيدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول  نے فرمایا: میری اور پہلے انبیاء کی مثال اس طرح ہےکہ جس طرح ایک آدمی نے بڑا خوبصورت گھر بنایا لیکن اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس کے حسن و جمال پر تعجب کرتے ہوئے سوچتے اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ فرمایا: میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘

عَنْ ثَوْبَانَ  رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ  لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي)) (رواہ الترمذی:باب ماجاء لاتقوم الساعۃ)

سيدناثوبان  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی  نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکوں سے مل جائیں گے اور بتوں کی عبادت کرنے لگیں گے، عنقریب میری امت میں تیس کذاب آئیں گے، ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہوگا حالانکہ آخری نبی میں ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

۔۔۔