بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ 

جمعرات, 30 نومبر 2017 18:14

ایک مجلس کی تین طلاقیں شرعی ادلہ کی روشنی میں

مقرر/مصنف  حافظ محمد سلیم

ایک مجلس کی تین طلاقیں شرعی ادلہ کی روشنی میں!

-حافظ محمد سلیم[1]

ایک ہی وقت میں دی گئی تین طلاقیں تین شمار ہوتی ہیں یا ایک؟ یہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے، اس کو تین شمار کر کے نافذ کرنے والے بھی ہیں ۔اور یہ تینوں ایک ہی کے حکم میں ہیں،اس کے قائلین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔

اس حوالے سے کچھ تفصیل ہدیہ قارئین کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بعض اہل علم مذہبی تعصب میں اس قدر غلو کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کے نزدیک اس کا ثبوت نہ قرآن میں نہ حدیث میں،نہ آثار صحابہ کرام سے نہ ہی تابعین عظام سے،اور نہ ہی ائمہ کرام سے ہے،بلکہ یہ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہم اللہ کے خود تراشیدہ افکار و نظریات میں سے ہے۔جو انہوں نے امت میں داخل کئے۔حاشاللہ

اس قسم کے کلمات جہاں بعض متعصبین کے تعصب کو جو انہیں اہل الحدیث و اہل السنۃ سے  ہے،واضح کرتے ہیں۔وہاں ان کے کم علم اور بے بصیرت ہونے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اب ہم اختصاراً وہ دلائل قرآن و حدیث، آثار صحابہ اور اہل علم کے اقوال سے نقل کرتے ہیں ،جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر دلالت کرتےہیں۔

ایک مجلس کی تین طلاق قرآن کی روشنی میں

ارشاد باری تعالیٰ ہے :[اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ  فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ](البقرۃ : 229)

یعنی طلاق رجعی دو بار ہے۔

یعنی طلاق دے کر رجوع کرنے کا اختیار مرد کو دو مرتبہ ہے،اب یا تو اسے دوسری مرتبہ رجوع کرنے کے بعد معروف طریقہ سے اپنے عقد میں رکھو اور اگر بسانا نہیں چاہتے تو اسے تیسری مرتبہ طلاق دے کراچھے طریقہ سے چھوڑ دو، اس آیت کریمہ میں لفظ’’ مرّتان ‘‘قابل غور ہے،جو دونوں طلاقوں کے درمیان وقفہ کو چاہتا ہے،اس کی وضاحت قرآن مجید کی اس آیت کریمہ [سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ](التوبہ : 101)یعنی ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دینگے۔جس کا صاف واضح مفہوم یہی ہے کہ دونوں عذابوں کے درمیان وقفہ ہے ایک مرتبہ دنیا میں تو دوسری مرتبہ آخرت میں ۔

اسی طرح ایک ہی وقت کوئی عمل متعدد بار بھی کیا جائے،تواسے ایک ہی مرتبہ کہا جائے گا، مثلاً اگر کوئی شخص دس لقمے روٹی کے کھائے تو یوں نہیں کہا جائے گا کہ اس نے دس مرتبہ روٹی کھائی یاپانچ گھونٹ پانی کے پینے پر یوں نہیں کہا جائے گا کہ اس نے پانچ مرتبہ پانی پیا۔نیز میدان عرفات میں کچھ دیر وقوف کرلینا اصل حج ہے۔اب اگر کوئی شخص وقوف عرفہ والے دن دس پندرہ بار میدان عرفات میں آنا جانا کرے تو یوں نہیں کہا جائے گا کہ اس شخص نے پندرہ حج کرلئے، کیوں کہ یہ سب ایک مجلس /وقت کا عمل ہے جو ایک ہی شمارہوگا۔

مذکورہ آیت کریمہ کے تحت کئی ائمہ تفسیر نے یہی مفہوم ذکر کیا ہے،جیسا کہ ا حمد بن علي ابو بكر الرازي الجصاص الحنفي (المتوفى: 370ھ) فرماتے ہیں:

’’ الطَّلاقُ مَرَّتانِ وَذَلِكَ يَقْتَضِي التَّفْرِيقَ لَا مَحَالَةَ لِأَنَّهُ لَوْ طَلَّقَ اثْنَتَيْنِ مَعًا لَمَا جَازَ أَنْ يُقَالَ طلقها مرتين وكذلك لَوْ دَفَعَ رَجُلٌ إلَى آخَرَ دِرْهَمَيْنِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ أَعْطَاهُ مَرَّتَيْنِ حَتَّى يُفَرِّقَ الدَّفْعَ ‘‘

 

 

یعنی اس آیت کا تقاضہ یہ ہے کہ لازماًدو طلاقیں الگ الگ ہوں،کیونکہ اگر کسی نے بیک وقت دو اکٹھی طلاقیں دیں تو اس کے لئے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس نے دو مرتبہ طلاق دی ہے جس طرح کوئی آدمی دوسرے کوبیک وقت دودرھم دیتا ہے تو اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے دو مرتبہ درھم دئیے ہیں جب تک کہ دونوں الگ الگ نہ دے۔[2]

یہی بات تفسیر البحر المحیط (صفحہ نمبر 192۔193جلد 2)،تفسیر کشاف للزمخشری (صفحہ نمبر 283جلد نمبر1)، تفسیر المظھری مصنفہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (صفحہ نمبر 300جلد نمبر 1 )،التفسیر الاحمدیہ مصنفہ ملا جیون (صفحہ نمبر 143۔144 دیگرتفاسیر میں بھی موجود ہے۔

اگر ہم مختلف تفاسیر کی روشنی میں مذکورہ آیت (الطلاق مرتان )کا پس منظر زمانہ جاہلیت کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو وہ بھی کچھ اس طرح ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا اور عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع کر لیتا اور پھر دوبارہ طلاق دے دیتا اور عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا،یوں اس کا مقصد نہ بسانا ہوتا اور نہ ہی بسنے دینا ہوتا بلکہ اسے لٹکا کے رکھنا ہوتا تھا قرآن مجید میں عورتوں پر ہونے والے اس ظلم کا سد باب کیا گیا یہ کہہ کر کہ طلاق دیکر رجوع کرنے کا حق دومرتبہ ہے،اب یا تو اس کو اچھی طرح بسا کر رکھو یا تیسری طلاق دیکر فارغ کردو،یہ حقیقت بھی بیک بارگی کے بجائے طلاق کے لئے وقفہ ہونے کے معتبر ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

اس تفسیری بحث کو ہم امام شوکانی  رحمہ اللہ  کے ایک جامع تبصرہ پر ختم کرتے ہیں۔

 جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :

’’ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي إِرْسَالِ الثَّلَاثِ دُفْعَةً وَاحِدَةً: هَلْ يَقَعُ ثَلَاثًا، أَوْ وَاحِدَةً فَقَطْ. فَذَهَبَ إِلَى الْأَوَّلِ الْجُمْهُورُ، وَذَهَبَ إِلَى الثَّانِي مَنْ عَدَاهُمْ وَهُوَ الْحَقُّ.وَقَدْ قَرَّرْتُهُ فِي مُؤَلَّفَاتِي تَقْرِيرًا بَالِغًا، وَأَفْرَدْتُهُ بِرِسَالَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ‘‘      [3]

یعنی : اہل علم نے تین طلاقوں کو اکٹھا دینے میں اختلاف کیا ہے کہ وہ تین شمار ہوں گی یاایک جمہور

 

پہلے مؤقف کی طرف گئے ہیں اور دیگر اہل علم دوسرے مؤقف کی طرف گئے ہیں اور یہی حق ہے۔اور میں نے اس حوالے سے اپنی دیگر کتب میں گفتگو کی ہے اور اس موضوع پر مستقل رسالہ بھی لکھاہے۔

یہ تو وہ حقیقت ہے جو باختصار ہدیہ قارئین کی گئی تاکہ مجلس واحدہ کی تین طلاقوں کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرنے والے جان لیں کہ اس کا اثبات اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  سے لے کر آج تک ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ

 جس طرح مفسرین کی ایک جماعت کا مؤقف اختصاراً پیش کیا گیا،اسی طرح صحیح احادیث میں بھی یہ صراحت موجود ہے،جو ہدیہ قارئین کی جاتی ہے : 

ایک مجلس کی تین طلاقیں احادیث کی روشنی میں

حدیث نمبر 1

 یہ روایت ابن عباس  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :

[کانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً][4]

 یعنی ایک ہی وقت میں دی گئی تین طلاقیں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں،سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ابتدائی دو سال تک ایک ہی شمار کی جاتی تھیں۔

اس کے علاوہ یہ حدیث ایک اور سند سے اس طرح مروی ہے کہ ابوالصھباء ابن عباس  رضی اللہ عنہسے پوچھتے ہیں کہ

[ أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ][5]

یعنی کیا آپ کو معلوم ہے ؟ کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک کے حکم میں ہوتی تھیں۔ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد مبارک میں ابو بکر صدیق کے عہد مبارک میں اور عمر فاروق کے ابتدائی تین سالوںمیں ؟ ابن عباس نے جواب دیا جی ہاں ۔

اور تیسری روایت کے الفاظ ہیں :

[أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ]

یعنی ابوالصھباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ ایک مجلس کی تین طلاقیں نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  اور ابوبکر کے زمانے میں ایک نہیں ہوتی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی ہوتا تھا،لیکن جب عمر فاروق کے زمانے میں لوگوں نے کثرت سے اس طرح طلاقیں دینا شروع کر دیں تو انہوں نے ان پر یہ نافذ کردیں۔

مذکور ہ حدیث نبوی   صلی اللہ علیہ وسلم  پر وارد ہونے والے اعتراضات اور ان کا رد

بعض حضرات اس صحیح حدیث کو ایک مفروضہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خیال میں یہ حدیث محض وہم اور مفروضہ ہے ان کے خیال میں اس حدیث کا راوی ابوالصھباء غیر معروف ہے اور اس حدیث کی بنیاد اسی ابوالصھباء پر ہے۔لہٰذا یہ روایت ابن عباس سے درست نہیں ہے کیونکہ ثقہ راویوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کی ہے۔اس لئے یہ روایت منکر ہے نیز اگر ابن عباس کا یہ قول صحیح بھی مان لیں تو دوسرے صاحب علم صحابہ کرام کے مقابلہ میں حجت نہیں ہو سکتا۔

رد :

ہم کہتے ہیں کہ اس صحیح حدیث پرمذکورہ اعتراضات کا درست ہونا تو درکنار قابل التفات بھی نہیں ہیں۔

1-یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحیح میں وہی روایت نقل

 

کی ہے جو ائمہ محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔[6]

اس سے ظاہر ہوا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کے دور یا ان سے پہلے محدثین میں سے کسی نے بھی اس روایت پر اعتراض نہیں کیا۔   

2-ابوالصھباء غیر معروف نہیں بلکہ ثقہ راوی ہے۔

امام ابو زرعہ نے انہیں ثقہ کہا ہے۔

اور امام ابن حبان نے کتاب الثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ و ہ صدوق ہے۔ [7]

3-ابوالصھباءحدیث کے راوی نہیں ہیں، بلکہ وہ تو سائل ہیں۔راوی تو امام طاؤس ہیں جو بالاتفاق ثقہ ہیں۔

4- یہ کہنا کہ ثقہ راویوں نے اس کے خلاف روایت کی ہے درست نہیں، کیونکہ اس روایت کے خلاف کسی ثقہ راوی سے کوئی روایت نہیں آئی۔

5-یہ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذاتی قول نہیں کہ جس میں دیگر صحابہ ان کے معارض اور خلاف ہوں بلکہ یہ تو ایک معاملہ کی وضاحت ہے۔طلاق ثلاثہ کے معاملہ کو جیسے انہوں نے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  اور جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں پایا جاتاتھا ویسے ہی بیان کردیا۔جبکہ اس کے برعکس کسی صحابی نے یہ بیان نہیں کیاکہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  اور ابو بکر صدیق کے زمانہ میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار ہوتی تھیں۔

6-اس روایت پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ اس روایت کے خلاف فتوی دیتے تھے۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو ابن عباس اس کے خلاف فتوی کیوں دیتے ؟ یہ اعتراض بھی لا یعنی ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ راوی اگر اپنی مروی عنہ کے خلاف عمل کرتا ہے یا فتوی

 

دیتا ہے تو اس کی روایت مقبول ہے نہ کہ اس کا فتوی یا عمل ملاحظہ فرمائیے۔[8]

لہٰذا بالفرض جناب ابن عباس رضی اللہ سے اپنی روایت کے خلاف فتوی بھی اگر ہو تو ان کی روایت کو لیا جائے گا فتوی کو نہیں کیونکہ روایت مرفوع کے حکم میں ہے جوکسی غیر معصوم کے عمل نہ کرنے سے متروک نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ ان کا فتوی مذکورہ حدیث کے موافق بھی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (عون المعبود جلد نمبر صفحہ222  )

لہٰذا یہ تمام اعتراضات کم علمی کانتیجہ ہیں،جیسا کہ وضاحت کی جا چکی ہے۔

حدیث نمبر 2

(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو بَنِي الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟ " قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ: "فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَأَرْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ" قَالَ: فَرَجَعَهَا)  2

یعنی : ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں ایک ہی مجلس میں تو وہ اس پر شدید پریشان ہوئے ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کہ تم نے کیسے طلاق دی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دیں۔نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا کیا تم نے ایک ہی مجلس میں یہ تین طلاقیں دیں انہوں نے کہا : ہاں ! میں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقین دیں نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ یہ ایک واقع ہوئی ہے اگر تم چاہو تو رجوع کر لو ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہوں نے رجوع کرلیا۔

اس روایت کےحوالے سے حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ وَهَذَا الْحَدِيثُ نَصٌّ فِي الْمَسْأَلَةِ لَا يَقْبَلُ التَّأْوِيلَ‘‘ [9]

یعنی :’’یہ حدیث اس مسئلہ میں نص ہے اور کسی تاویل کو قبول نہیں کرتی۔ ‘‘

 مزیداس حدیث کی تصحیح مندرجہ ذیل ائمہ حدیث نے فرمائی ہے۔

علامہ احمد شاکر نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔2

اس حدیث کے حوالے سے دور حاضر کے عظیم محقق علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :

’’ هذا الإسناد صححه الإمام أحمد والحاكم والذهبى وحسنه الترمذى فى متن آخر تقدم برقم (1921) , وذكرنا هنالك اختلاف العلماء فى داود بن الحصين وأنه حجة فى غير عكرمة،ولولا ذلك لكان إسناد الحديث لذاته قويا، ولكن لا يمنع من الاعتبار بحديثه والاستشهاد بمتابعته لبعض بنى رافع، فلا أقل من أن يكون الحديث حسنا بمجموع الطريقين عن عكرمة، ومال ابن القيم إلى تصحيحه ‘‘ [10]

یعنی :اس سند کو امام احمد، حاکم اور ذھبی نے صحیح کہا ہے،اور امام ترمذی نے دوسرے متن میں اس سند کو حسن قرار دیا ہے،وہاں ہم نے اس سند کے ایک راوی داؤد بن حصین کی توثیق و جرح کے حوالے سے اقوال علماء پیش کردئیے ہیں،کیونکہ داؤد بن حصین عکرمہ سے روایت بیان کرنے میں قابل حجت نہیں۔اگر یہ علت نہ ہوتی، تو یہ روایت لذاتہ قوی ہو جاتی،لیکن پھر بھی اس روایت کوبعض بنی رافع کی متابعت کی وجہ سے استشہاد اور اعتبار کے طور پر پیش کرنے سے کوئی مانع نہیں۔لہذا جناب عکرمہ کے طریق سے یہ روایت حسن کے درجہ سے کم نہیں۔ امام ابن قیم بھی اس کی تصحیح کے قائل ہیں۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں یہ روایت جید الاسناد ہے۔(ایضاً)

مزید اس روایت کے متعلق حافظ ابن حجرفرماتے ہیں : ’’و یقوی حدیث ابن اسحاق المذکور ما اخرجہ مسلم‘‘[11]

یعنی : صحیح مسلم والی حدیث اس روایت کو قوی بناتی ہے۔

اعتراض

اس حدیث پریہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس حدیث میں اضطراب ہے۔ کیوں کہ بعض راویوں نے لفظ ’’بتہ ‘‘استعمال کیا ہے اور بعض نے’’طلاق ثلاثہ‘‘ کا ذکر کیا ہے۔لہٰذااس اضطراب کی وجہ سے حدیث قابل عمل نہیں رہی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر’’ بتہ ‘‘ کے الفاظ والی روایت حدیث کے معیار صحت پر پوری اترتی، تو اضطراب قابل التفات ہوتا، جبکہ اس روایت کے اکثر راوی محدثین کے نزدیک ضعیف اور مجہول ہیں۔

’’بتہ ‘‘والی حدیث کی سند اور راویوں سے متعلق ائمہ کرام کی آراء ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی سند

(حدثنا ابن السرح و ابراھیم بن خالد الکلبی فی آخرین قالوا حدثنا محمد بن ادریس الشافعی حدثنی عمی محمد بن علی بن السائب عن نافع بن عجیر بن یزید بن رکانۃ ان رکانۃ بن یزید طلق الٰی آخر)

دوسری سند

 (حدثنا محمد بن یونس النسائی ان عبداللہ بن الزبیر حدثھم عن محمد بن ادریس حدثنی محمد بن علی عن ابن السائب عن نافع بن عجیر عن رکانۃ بن عبد یزید عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھذا الحدیث)

ان دونوں سندوں میں ایک راوی نافع بن عجیر ہے جس کے متعلق ابن قیم فرماتے ہیں :

’’ھو مجھول لا یعرف حالہ البتۃ‘‘

 مجھول راوی ہے۔( اس کا حال بالکل معلوم نہیں ہے اور نہیں معلوم کہ یہ کون ہے اور کیسا ہے )

امام احمد بن حنبل امام بخاری ابو عبید اور ابو محمد بن حزم وغیرہ نے اس کو ضعیف کہا ہے، اور وضاحت کی ہے کہ  ( ان رواتہ قوم مجاھیل لم تعرف عدالتھم وضبطھم ) [12]

تیسری سند

(حدثنا سلیمان بن داؤد حدثنا جریر بن حازم عن الزبیر بن سعید عن عبداللہ بن علی یزید بن رکانۃ عن ابیہ عن جدہ)

اس سند میں ایک راوی زبیر بن سعید ہے جو کہ ضعیف ہے۔

  میزان میں ہے : لیس بشئی(یعنی یہ راوی کچھ بھی نہیں ) اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ ضعیف ہے اور تقریب میں ہے۔لین الحدیث

اسی طرح اس سند کا راوی عبداللہ بن علی بھی ضعیف ہے تقریب میں ہے ’’ھو لین الحدیث ‘‘

و قال العقیلی اسنادہ مضطرب لا یتابع علی حدیثہ[13]

لہذا ایسی ضعیف روایت کو بنیاد بنا نا صحیح نہیں ہے۔

ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اجماع صحابہ

ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی واقع ہوتی ہیں اس حوالے سے یہ اہل علم کی ایک جماعت کا یہی مؤقف ہے،چناچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’نقل عَن عَليّ وبن مَسْعُودٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ مِثْلُهُ نقل ذَلِك بن مُغِيثٍ فِي كِتَابِ الْوَثَائِقِ لَهُ وَعَزَاهُ لِمُحَمَّدِ بْنِ وَضَّاحٍ وَنَقَلَ الْغَنَوِيُّ ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ مَشَايِخِ قُرْطُبَةَ كَمُحَمَّدِ بْنِ تَقِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْخُشَنِيِّ وَغَيْرِهِمَا وَنَقله بن الْمُنْذر عَن أَصْحَاب بن عَبَّاسٍ كَعَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ‘‘

 

 

یعنی : سیدنا علی، ابن مسعود، عبدالرحمن بن عوف اور زبیراسی طرح محمد بن وضاح، مشائخ قرطبہ میں سے محمدبن تقی بن مخلد،محمد بن عبدالسلام الخشنی وغیرہ،اصحاب ابن عباس میں سے عطاء طاؤس، عمر و بن دینار وغیرہ کا یہی مؤقف ہے۔[14]

یہی مؤقف امام شوکانی کا ہے۔کما مر

نیز یہی مؤقف امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہم اللہ کا ہے۔

بلکہ اہل علم کی مناسب تعداد کے ساتھ ساتھ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس پر اجماع صحابہ تھا۔کیونکہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف کسی صحابی سے منقول نہ ہونا اس کی واضح دلیل ہے۔اسی لئے امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ‘‘ وأما أقوال الصحابة: فيكفى كون ذلك على عهد الصديق، ومعه جميع الصحابة، لم يختلف عليه منهم أحد، ولا حكى في زمانه القولان،حتى قال بعض أهل العلم: إن ذلك إجماع قديم وإنما حدث الخلاف فى زمن عمر رضى الله عنه، واستمر الخلاف فى المسألة إلى وقتنا هذا‘‘ [15]

یعنی : (ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں ) اس کے متعلق صحابہ رضی اللہ عنھم سے ثبوت کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ یہ فیصلہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھا اور سارے صحابہ رضی اللہ عنھم ان کے ساتھ تھے کسی نے اختلاف نہیں کیا نہ کسی سے کوئی دوسرا قول منقول ہے۔

حتٰی کہ بعض علماء کا تو یہ کہنا ہے کہ یہ پرانا اجماع ہے اور اختلاف بعد میں پیدا ہوا۔یعنی خلیفہ ثانی کے زمانے میں اور وہ اختلاف اب تک باقی ہے۔

نیز تعلیق المغنی میں ہے

’’ھذا حال کل صحابی من عھد الصدیق الی ثلاث سنین من خلافۃ عمر بن الخطاب  وھم یزیدون علی الالف قطعاً[16]

 یعنی : دور صدیق سے عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی تین سال تک تمام صحابہ کا یہی حال تھا (یعنی سب کے نزدیک تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں) اور ان صحابہ کی تعدادقطعی طور پر ایک ہزار سے زائد ہے۔

ایک مجلس میں تین طلاقوں کو طلاق مغلظہ قرار دینے والوں کے دلائل اور ان کی حقیقت

اب ہم ان احادیث کے حوالے سے بھی کچھ باتیں ہدیہ قارئین کرنا چاہتے ہیں،جنہیں پیش کر کے علماء احناف کے مفتیوں کی ایک خاصی تعداد بزعم خود یہ سمجھتی ہے کہ صحیح احادیث میں بھی ایک ہی مجلس /وقت میں دی گئی تین طلاقوں کو تین شمار کیا گیا ہے۔

دلیل نمبر 1

كانت عائشة الخثعمية عند الحسن بن علي فلما قتل علي قالت الخلافه قال بقتل    على تظهرين الشاةة اذهبي فأنت طالق يعني ثلاثاً[17]

ترجمہ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو ان کی اہلیہ عائشہ خثعمیہ نے انہیں مبار ک باد دی۔ اس پر حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا یہ مبارک باد سیدنا علی کی شہادت پر ہے۔تم اس پر خوشی کا اظہار کر رہی ہو، جاؤ! تمہیں تین طلاقیں ہیں۔ جب ان کی عدت ختم ہوگئی تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بقیہ مہر اور دس ہزار روپے صدقہ بھیجے جب عائشہ خثعمیہ کو یہ رقم ملی تو کہنے لگیں جدا ہونے والے حبیب سے یہ مال کم ہے،یہ سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا کہ اگر نانا کا یہ فرمان نہ ہوتا کہ ’’ جس نے اپنی بیوی کو ماہواری کے وقت یا مبھم تین طلاقیں دے دیں تو وہ عورت بغیر نکاح ثانی کہ اس کے لئے حلال نہیں ‘‘ تو میں رجوع کرلیتا۔

دلیل کا تجزیہ

اس روایت پر کوئی اور جرح کئے بغیر، ہم اس کی سند پر بحث کرتے ہیں۔اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن شمر ہے جس کے بارے میں ائمہ حدیث نے سخت جرح کر رکھی ہے۔مثلاً:

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ’’ منکر الحدیث ‘‘ ہے۔

امام نسائی رحمہ اللہ اسے ’’ متروک الحدیث ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔

 ابن حبان اسے رافضی،صحابہ کو برا بھلا کہنے والااور ثقہ راویوں سے موضوع روایات بیان کرنے والا بیان کرتے ہیں ۔

امام یحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی‘‘۔

وزجانی کے نزدیک یہ شخص ’’کذاب ‘‘ ہے۔[18]

اس کی ایک اور سند ہے جس میں محمد بن حمیدالرازی راوی ہے۔ اس کے متعلق بھی ائمہ حدیث نے سخت الفاظ میں جرح کی ہے۔

یعقوب القمی اور ابن مبارک کہتے ہیں یہ’’ ضعیف ‘‘ہے۔

یعقوب بن شیبہ فرماتے ہیں کہ یہ’’ کثیر المناکیر‘‘ ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ فیہ نظر ‘‘۔

ابو زرعہ کہتے ہیں یہ ’’ کذاب‘‘ ہے۔

 نیز امام  فضلک لازی رحمہ اللہ نے کہا میرے پاس اس کی پچاس ہزار حدیثیں ہیں لیکن میں ان میں سے ایک بھی نہیں لیتا۔ یہ تو اللہ پر بڑی جرأت کرتا ہے اور لوگوں کی احادیث لے کر الٹ پلٹ کردیتا ہے۔

امام خراز تو قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتا ہے۔

صالح جرزہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ میں بہت ماہر تھا۔[19]

دوسرا راوی سلمہ بن الفضل الابرش ہے۔

 اسحق بن راھویہ کہتے ہیں کہ ضعیف ہے۔

 امام بخاری فرماتے ہیں اس کی حدیث میں بعض منکر چیزیں ہیں۔

امام نسائی کہتے ہیں کہ ضعیف ہے۔

امام علی بن المدینی کہتے ہیں ہم نے شہر سے نکلنے سے پہلے اس کی تمام روایات کو پھینک دیا تھا۔

 

ابو حاتم کہتےہیں قابل صحت نہیں ہے۔[20]

دلیل نمبر2

"قال سمعت محمود بن لبید قال  اخبر رسول اللهﷺعن رجل طلق امراته ثلاث تطلیقات  جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب الله و انا بین اظهرکم حتی قام الرجل و قال یا رسول الله الا اقتله"

ترجمہ :راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمود بن لبید سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کو اطلاع ملی کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم  غصہ سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میری موجودگی میں اللہ تعالی کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو ا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کیا میں اسکو قتل نہ کردوں۔[21]

دلیل کا تجزیہ :

اس حدیث سے ان کے موقف کی با لکل تائید نہیں ہوتی،بلکہ ایسی طلاق پر اللہ کے نبی   صلی اللہ علیہ وسلم  نے ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس واقعہ کی تین طلاق کو ایک قرار نہیں دیا۔ سوال یہ کہ اگر اسے ایک قرار نہیں دیا تو تین قرار دینے کا تذکرہ کہاں ہے ؟؟

دلیل نمبر 3

(عن سهل بن سعد في هذا الخبر قال فطلقتها ثلاث تطليقات عند رسول الله ﷺ فانفذه رسول اللهﷺ  )[22]

ترجمہ:سیدنا سھل ابن سعدرضی اللہ عنہ سے سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کے قصہ میں منقول ہے کہ سیدنا

 

عویمر رضی اللہ عنہ  نے نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے اکٹھی تین طلاقیں اپنی بیوی کو دے دیں تو آپ نے تینوں طلاقیں نافذ کردیں۔

دلیل کا تجزیہ

 ہر صاحب علم اس بات سے آگاہ ہے کہ عویمرورضی اللہ عنہ کا واقعہ لعان کا ہے اور لعان کےاحکام طلاق سے با لکل الگ ہیں۔ لعان خود ابدی جدائی ہے اور اس میں طلاق دینا ضروری نہیں ہوتا۔اس کی تفصیل شروحات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ہم یہاں ابن قدامہ رحمہ اللہ کا ایک حوالہ نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں :

 (وَأَمَّا حَدِيثُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَغَيْرُ لَازِمٍ؛ لِأَنَّ الْفُرْقَةَ لَمْ تَقَعْ بِالطَّلَاقِ، فَإِنَّهَا وَقَعَتْ بِمُجَرَّدِ لِعَانِهِمَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ بِمُجَرَّدِ لِعَانِ الزَّوْجِ) [23]

یعنی : لعان والی حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کیونکہ جدائی طلاق سے نہیں بلکہ مجرد لعان سے ہوئی ہے۔

نیزامام شافعی کا بھی یہی موقف ہے۔ اورممالک اور ریاستیں جہاں آج بھی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا ہے اور اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔مثلاًسعود ی عرب،متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں میں،مصر،انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ میں اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔

طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں ان گزارشات کا مقصد حقائق کو واضح کرنا تھا۔

 

 

اللّٰھم ارنا الحق حقاًوارزقنا اتباعہ

 

 

 



[1] مفتی المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

[2] احکام القرآن،مذکورہ بالا آیت کے تحت

[3] فتح القدیر : 415/1

[4] صحیح مسلم، حدیث نمبر :1472

[5]  صحیح مسلم، ایضاً

[6] (مقدمہ صحیح مسلم )

[7] [تہذیب التہذیب:439/4،تقریب:154]

[8]

[9] الکفایہ صفحہ نمبر 114،حصول المامول صفحہ نمبر 59،دراسات فی الجرح والتعدیل صفحہ نمبر 234

[10] مسند احمد :2387                                                              

[11] فتح الباری : 450/9

[12] فتاوی ابن تیمیہ صفحہ نمبر 15جلد نمبر 33

[13] بحوالہ تحفۃ الاحوذی :42/4

[14] فتح الباری :450/9،و ایضاً فی عمدۃ القاری

[15] اغاثہ اللھفان

[16] تعلیق المغنی علی الدارقطنی :47/4

[17] سنن الكبرى ج7 ص336

[18] میزان الاعتدال :259/3

[19]  میزان الاعتدال  : 3/508       

[20] میزان الاعتدال: 151/2

[21]  سنن نسائی ج2ص538  

[22] سنن ابی داود 1ص 302

Read 146 times Last modified on جمعرات, 30 نومبر 2017 18:24