آج اگر امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی بات کی جائے تو وہ ذاتی زندگی سے متعلق بھی ہیں اور اجتماعی نظم سے بھی انفرادی زندگیوں میں بھی بے شمار کو تاہیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور معاشرتی سطح پر بھی کمزوریاں بڑھتی چلی جارہی ہیں عوام کو بھی اپنی اصلاح کی فکر کرنی ہے اور حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان امور کی نشاندہی کی جائے جو ہمارے مسائل ومشکلات ،بگاڑ وفساد اور زوال وانحطاط کا اصل سبب ہیں۔ جب عوام وخواص ،رعایا اور حکمران ،فرد اور معاشرہ سب اپنی کمزوریوں اور ذمہ داریوں کا احساس وادراک کر کے ان اسباب کے ازالے کی فکر کریں گے تب کہیں بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہوں گے۔ان شاءاللہ
ایمان محکم ،عمل ِ صالح ،خوف الٰہی اور فکرآخرت :
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے اپنے معاشرے کی اصلاح کی اور کن بنیادوں پر صحابہ کرام کو کھڑا کیا کہ وہ زمانے کے مقتداءوپیشوا بن گئے۔ایک ایسا معاشرہ جو جہالت اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،جہاں قتل و غارتگری کا رواج تھا ، وہ لوگ راہ راست سے اس حد تک بھٹکے ہوئے تھے کہ کو ئی ان پر حکمرانی کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے آقاﷺ نے اس معاشرے کا نقشہ ہی بدل دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاشرے کو ایمان محکم ،عمل صالح ، خوفِ الٰہی اور فکرآخرت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں کہ جن کی وجہ سے پورا معاشرہ یکسر بدل گیا وہ لوگ جو پہلے قاتل اور لٹیرے تھے وہ زمانے کے مقتداء اور پیشوا بن گئے۔ان کا معاشرہ جنت کا نمونہ بن گیا ،وہ قیصر وکسری ٰ جیسی عالمی طاقتوں سے ٹکرا کر فاتح ٹھہرے۔ ہمارے حکمرانوں کا معاملہ ہو یا عوام کا،انفرادی زندگیاں ہوں یا اجتماعی نظم یقین محکم کی قوت ،کردار وعمل کی طاقت، خوف الٰہی کا زاد ِ راہ اور فکرآخرت کی دولت سے ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر محروم ہوگئے۔جب ہمارے پاس ایمان ویقین کی بنیاد اور اخلاص پر مبنی جذبہ ہی نہیں ،کردار وعمل کے اعتبار سے ہم کمزور ہوگئے ، محاسبہ کی فکر سے آزاد ہوگئے ،مرنے کے بعد کی زندگی کو بھول بیٹھے تو یہ وہ پہلی اینٹ ہے جو غلط رکھ دی گئی اس اینٹ کو جب تک صحیح نہیں کیا جائے گا اور ان چار بنیادوں پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو لانے کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک اصلاحِ احوال کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
وھن کی بیماری:
اس وقت امت مسلمہ مسائل و مشکلات کے جس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ،ہر طرف ظلم و ستم کی آندھیاں زوروں پر ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے ،ہر آنے والا دن گزرے دن سے زیادہ مصائب و آلام لے کر طلوع ہوتا ہے ۔دشمن اہل ایمان کو کاٹ کھانے اور صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کے لیے بھوکوں کی طرح امت مظلومہ پر ٹوٹا پڑ رہا ہے اس صورت حال سے نہ صرف یہ کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت پہلے خبردار کر دیا تھا بلکہ اس زوال و انحطاط کی وجہ بھی بتادی تھی کہ جب امت” وھن“ کی بیماری میں مبتلا ہو جائے گی یعنی دنیا سے محبت کرنے لگے گی اور موت کی ناپسندید گی کا شکار ہو جائے گی تو پھر اس قسم کے حالات سے دوچار ہو جائے گی اس وقت ہمیں امت مسلمہ میں یقین محکم ،عمل صالح ،خوفِ الہٰی اور فکر آخرت کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی نظم اور اپنے دل ودماغ سے وھن کی بیماری کو یعنی دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کو ختم کردیں کیونکہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، موت کی ناپسندیدگی بزدلی اور غیروں کی غلامی کا سبب بنتی ہے۔جب ہم اس بیماری سے نجات پاجائیں گے تو اس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ان شااللہ
اتحادو اتفاق کا فقدان:
اس وقت امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی ایک بڑ ی وجہ اتحادواتفاق کا فقدان ہے۔ہمارے ہاں مذہبی بنیادوں پر ،مسلکی بنیادوں پر ،علاقائی بنیادوں پر اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کے ایسے بیج بوئے گئے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل تیار ہے۔دشمن نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ پالیسی کے تحت ہمیں یوں آپس میں دست وگریباں کیا کہ ہمارے مابین دوریوں کی خلیج حائل ہو گئی اور امت کا شیرازہ بری طرح بکھر کر رہ گیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کے جن کلموں کو بدبودار باتیں کہہ کر چھوڑنے کا حکم دیا تھا انہی چیزوں نے اس امت واحدہ کو بانٹ رکھا ہے۔ ہمارے مسلکی اختلافات مخالفت اور تشدد کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور پھر نہ ختم ہونے والے فساد اور انتشار کا دروازہ کھل جاتا ہے۔اگر آج مسلکی ہم آہنگی ،عصبیت کے خاتمے ،علاقائی اور لسانی تفریق کو مٹانے اور جدید و قدیم کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جائے کوئی وجہ نہیں کہ مسائل ومشکلات ہمیں یوں ہی گھیرے رکھیں اور اگر آج ہم نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک پھیلی ہوئی اسلامی دنیا کو اتحادو اتفاق کی لڑی میں پرونے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے پر آمادہ کر نے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارا مقدر یقیناً بدل سکتا ہے۔آج اگر یورپی یونین کی شکل میں یورپی ممالک کا بلاک موجود ہے ،افریقی ممالک آپس میں معاہدے کر کے ایک قوت بن سکتے ہیں ،سارک ممالک اکٹھے ہوسکتے ہیں تو اسلامی دنیا مشترکات پر اکھٹی ہو کر اپنا ایک بلاک بنا لینے کی ہمت کیوں نہیں کرتی ؟یا د رکھئے جب تک اس پہلو پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک ہماری پریشانیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی رہیں گی۔


