Login




جدید کتب ومضامین

حقیقتِ جمہوریت ’’تعریف و تجزیہ‘‘

 

حقیقتِ جمہوریت ’’تعریف و تجزیہ‘‘

تحریر: محمد انور الصابونی

مراجعه :حافظ حماد چاؤلہ

طرزہائے حکومت کا مطالعہ کریں تو ہمیں بہت سے نظام حکومت نظر آئیں گے دنیا میں اشرافیہ حکومت بھی رہی ہے۔پاکیزہ خلافت کا زمانہ بھی اہل دنیا نے دیکھا ہے۔ بادشاہت اور آمریت کا دور بھی گزر چکا ہے اگرچہ اب بھی بعض ممالک میں آخر الذکر دو نظام کسی نہ کسی صورت میں رائج ہیں تاہم موجودہ دور میں جمہوری نظام حکومت مقبولیت پاچکا ہے تقریباً سبھی ممالک میں جمہوریت رائج ہے جمہوریت کے بل بوتے پر قائم ہونے والی حکومت کو عرفِ عام میں عوامی حکومت تصور کیا جاتاہے لیکن دوسری طرف یونان کے مشہور سیاسی مفکر ارسطو جمہوریت کا شمار بُری حکومتوں کی فہرست میں کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت ’’ہجوم کی حکمرانی ‘‘ کا نام ہے۔

(زیرِ نظر مضمون میں شریعتِ مطہّرہ یعنی قرآن و سنت کے نظام کے مقابلہ  میں  اس نظامِ جمہوریت یعنی ’’ہجوم کی حکمرانی ‘‘  کاجائزہ پیش کیا گیا ہے ، اسی طرح موجودہ جمہوریت کی حقیقت ، منفی و باطل پہلو ،برے و بداثرات وخطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے،جس کے مطالعہ سے قارئین کےلئےاس  سوال کےجواب تک پہنچنا مشکل نہیں ہوگا کہ کیا اسلامی نظامِ حکومت کے علاوہ کسی بھی اور  نظام بالخصوص جمہوریت کے ذریعہ ، معاشرے میں امن و امان ، ترقی ، اعتدال اور اصلاح کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ حم)

جمہوریت کی تعریف:

لغوی اعتبار سے لفظ ’’جمہوریت ‘‘ کا اشتقاق دو پرانے یونانی جملوں سے ہوا ہے۔

پہلا: (دیوس)Demosجوکہ عوام کے معنی میں ہیں اور دوسرا حصہ (کراتوس)Cratos اختیار اور حکم کے معنی میں ہے چنانچہ ان دونوں کو ملا کر جمہوریت کا مطلب ’’عوامی اختیار‘‘ یا ’’عوامی حاکمیت ‘‘ ہے۔

ویسے تو جمہوریت کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں جن میں سے ابرہیم لنکن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سولہویں صدر کی تعریف زیادہ جامع قرار دی گئی ہے اور وہ یوں ہے۔

Government of the People, by the People, for the People

یعنی ’’عوام کی حکومت عوام کے لئے، عوام کی مرضی سے‘‘!

حکومت یا حاکمیت کی دو صورتیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک تو ملک کے قوانین اور نظام بنانے کی صورت ہے اور دوسری صورت ان کی عملاً تنفیذ کی ہے،جمہوریت کا حاصل یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ اور زاویئے پر پیش آنے والے ہر ہر مسئلے کے حل کے لیے قوانین لوگوں کی طرف سے وضع کیے جائیں اورحاکم بھی لوگوں کی طرف سے منتخب کیاجائے اور فیصلہ بھی لوگوں کی طرف سے منتخب شدہ نمائندہ کرے،دین ،وحی یا آسمانی رسالت کے لیے جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں۔

مندرجہ بالالغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے تناظر میں جمہوریت کی مکمل تعریف کی مندرجہ ذیل شکل حاصل ہوتی ہے:

جمہوریت زندگی گزارنے کے ایک ایسے سیاسی اور اجتماعی نظام کانام ہے جو ہر قسم کی دینی قید و بند سے آزاد ہو اور اس میں حاکمیت،تشریع اور فیصلے لوگوں کی طرف سے اور لوگوں کی اکثریت کے مفاد کے لیے انجام پاتے ہوں۔

جمہوریت کی نظریاتی بنیاد

عصری جمہوریت نے مغرب میں جنم لیا،یہ بات ایک حقیقت ہے کہ مغربی اقوام نے آج تک کوئی الٰہی دین سالم اور غیر تحریف شدہ حیثیت سے نہیں دیکھا،یہودیت صرف بنی اسرائیل کا دین تھا اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف دعوت دیں۔عیسائیت بھی اس وقت مغرب میں پہنچی کہ جب پاول کے ہاتھوں تحریف شدہ ہو چکی تھی اور توحید کی جگہ تثلیث نے لے لی تھی تحریف شدہ مسیحت انسان کے رابطے کے لیے کچھ ہدایات اپنے اندر رکھتی تھی لیکن انسانوں کے درمیان معاملات کے لیے کوئی شریعت اور قوانین ان کے پاس نہیں تھے چنانچہ اہل مغرب نے زندگی کے سیاسی، اجتماعی،اور اقتصادی معاملات کے لیے پرانے رومن اور یونانی قوانین اور رواجوں کو اپنایا ہوا تھا جس کی وجہ سے مغرب کے اکثر ذہنوں میں یہ بات پیدا ہوگئی کہ عملی زندگی کے معاملات میں دین بالکل دخل نہیں دیتا۔مسیحی دین میں عملی اور معاشرتی زندگی کے بارے میں قوانین نہ پائے جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو بادشاہوں، سرداروں اور سرمایہ داروں نے اپنی طرف سے قوانین وضع کر کے پُر کیا تھا۔انہوں نے ایسے قوانین بنائے تھے کہ مغربی عوام کی اکثریت کو چند بادشاہوں کی خدمت میں مختلف ناموں اور بہانوں سے مسخر کر دیاتھا۔ یہ بادشاہ لوگوں پر حاکمیت کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنا حق سمجھتے تھے،ملت اور قوم کی طرف سے کسی معاہدے یا بیعت کے تحت ان کو اقتدار نہیں ملا تھا کلیسا کے پاس ایک طرف تو زندگی کے معاملات کے لیے قانون اور شریعت نہیں تھی تو دوسری طرف علم، دین تفکر اور عقل کو بھی اپنے تک محدود رکھا ہوا تھا،نظریات کی بنیاد پر ظلم ایسے مرحلے میں پہنچا ہوا تھا کہ کوئی بھی شخص اگر ایسا نظریہ پیش کرتا جو کلیسا کو پسند نہیں ہوتا تو فوراً اس شخص کو کافر اور اللہ جل شانہ کی رحمت سے محروم شمار کیا جاتا اور دین سے بغاوت کے جرم میں اس سے معاشی بائیکاٹ کر دیا جاتا۔

کلیسا کی طرف سے دین کی تحریف شدہ اور غیر معقول تصور اور بادشاہوں کے جابرانہ نظام نے یورپ میں لوگوں کو دین رسالت اور ملوکیت(بادشاہت) سے متنفر کر دیا جنہوں نے دین کی بجائے لوگوں کی خواہشات کو قوانین کا ماخذ بنا لیا حق و ناحق اور جائز و ناجائز کامعیار وحی کی بجائے عقل کو بنایا۔

دین کے بارے میں اہل یورپ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے:

ایک گروہ نے دین،رسالت اور روحانیت سے بالکل ہی انکار کردیا،یہی انکار کا نظریہ بعدمیں لبرل ازم کمیونزم کی صورت میںظاہر ہوا اور دوسرے گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ کوئی دین اپنانا انسان کا اپنا ذاتی اور نجی معاملہ ہے جس میں اسے آزادی حاصل ہے کیونکہ دین انسان اور اللہ جل شانہ کے درمیان ایک رابطہ ہوتا ہے لیکن زندگی کے معاملات میں دین کا کوئی دخل نہیں، انسان اپنی زندگی کے لیے قوانین بنانے میں بالکل آزاد ہے۔ یہ نظریہ ’’سیکولرازم ‘‘ یا بالفاظ دیگر ’’دین سے زندگی اور امور سلطنت کے الگ ہونے‘‘ کے نام سے پہچانا گیا اور یہی نظریہ جمہوریت کے لیے نظریاتی بنیاد تشکیل دیتا ہے،جمہوریت کے مشہور فلسفیوں، توماس،ہوبز،جان لاک اور جاک روسو نے جمہوریت کے لیے اس بنیاد کو سماجی معاہدے کے فلسفے کی شکل میں پیش کیا جس کا خلاصہ درج ذیل سطور میں پیش خدمت ہے۔

’’انسان پچھلے زمانے میں فطری زندگی پر رہتے تھے، زندگی بالکل غیر منظم تھی قانون اورحکومت ان کے پاس نہ تھے کہ وہ معاملات کو منظم کریں بعد میں لوگوں نے قانون اور حکومت کے لیے ضرورت محسوس کی اور نظام اور قانون بنانے کے لیے اکٹھے ہو گئے اور اپنے درمیان ایک Social Contract (سماجی معاہدہ) کیا جس نے بعد میں حکومت اور قانون کی شکل اختیار کرلی، اس بنیاد پر قانون اور حکومت کا تصور لوگوں کے ارادے سے وجود میں آیا۔

مندرجہ بالانظریہ اللہ جل شانہ اور اس کے رسولوں اور الٰہی دینوں سے انکار پر مبنی ہے اور وہ اس طور پر کہ نعوذ باللہ نہ اللہ جل شانہ وجود رکھتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی نظام،قوانین اور رسول بھیجے یا پھر یہ کہ اللہ جل شانہ خالق تو ہیں مگر پیدا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا نہ رسولوں کو بھیجا ہے نہ ادیان کو نازل کیا اور نہ انسانوں کو زندگی کے معمولات کے نظم و ضبط سے آشنا کیا ہے کیونکہ اگر یہ سب کچھ ہوا ہوتا تو پھر فلاسفروں کے جمہوری Social Contract(سماجی معاہدہ) کی کیا ضرورت تھی؟

مزید پڑھیے۔۔۔

فضائل ماہِ رجب سے متعلقہ احادیث کی تحقیق

فضائل ماہِ رجب سے متعلقہ احادیث کی تحقیق

تحریر:حافظ محمد یونس اثری ؔ

مراجعه و توضيح: حافظ حماد چاؤلہ

ایک کتابچہ بنام’’کفن کی واپسی‘‘مؤلفہ جناب الیاس قادری (امیردعوت اسلامی) پڑھنے کا موقعہ ملا،جس میں ماہ رجب کے فضائل اور اس کے مخصوص اعمال کے متعلق احادیث ذکرکی گئیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ رسالہ میں تحریر کردہ تمام احادیث شدیدضعیف یاپھر موضوع و من گھڑت ہیں، عبادات اور دیگر اعمالِ صالحہ کی طرف عوام الناس کی ترغیب اچھی بات ہے لیکن اس کیلئے ضعیف وموضوع روایات کا سہارالینا انتہائی غلط بلکہ مجرمانہ فعل ہے، مؤلف کی دیگرکتب بھی اس کی طرح اسی باطل روش کا آئینہ دار ہیں، مذکورہ کتابچہ کے متعلق کچھ گذارشات پیشِ خدمت ہیں۔

v موصوف لکھتے ہیں :

’’رجب المرجب کے قدر دانو! تعلیم و تعلم اور کسب حلال میں رکاوٹ نہ ہو ،ماں باپ بھی منع نہ کریں تو جلدی جلدی اور بہت جلدی مسلسل تین ماہ کے یا جس سے جتنے بن پڑیں اتنے روزوں کیلئے کمربستہ ہوجائے۔‘‘ (کفن کی واپسی :صفحہ :2)

تبصرہ:

اس عبارت میں موصوف نے بہت زیادہ غلو سے کام لیا ہے، مسلسل تین ماہ کے روزے رکھنے کی ترغیب دلائی ہے ،جو کئی وجوہ سے غلط ہے :

اولاً: نبی ﷺ نے روزوں میں وصال کرنے سےمنع فرمایا۔(یعنی بغیر فاصلہ دئے روزانہ ،پےدرپہ روزے رکھنا)

(صحیح بخاری :1961 ،صحیح مسلم :1102 )

بلکہ نبی مکرّمﷺنے بھی کبھی تین مہینے کے روزے مسلسل نہیں رکھے، دلیل  یہ ہے کہ سیدہ ام سلمۃ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : کہ نبی ﷺ نے کبھی کسی  پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے ،البتہ رمضان کے ساتھ شعبان کو ملا لیا کرتے تھے ۔ (سنن ابوداؤد :2336  ،سنن نسائی: 2353، مسند احمد :26653  ،سنن دارمی : 1780 ،سنن الکبری :7966 )

اسی طرح سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺنے جب سے ہجرت کی آپ نے سوائے رمضان کے کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے ۔  (سنن نسائی :2183  ،مسند احمد :1998 ،شرح السنۃ :1809)

خلاصہ یہ ہےکہ نبی  مکرّم ﷺکا اپنا معمول بھی یہی تھا کہ آپ نے کبھی تین مہینے کے اکٹھے روزے نہیں رکھے ۔

ثانیاً:نبی مکرّمﷺنے تو شعبان کے بھی آخری ایام کے روزے رکھنے سےمنع فرمایا ہے یعنی شعبان و رمضان دو مہینوں کے لگاتارروزے رکھنے سے منع فرمایاہے۔

(سنن ابو داؤد :2337 ،ترمذی :738 ،مصنف عبدالرزق :7316،7325،مصنف ابن ابی شیبۃ :9026)

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  رمضان کے روزوں میں کسی قسم کی سستی یا ضعف(کمزوری) نہ آجائے۔

ثالثاً:اس کی کوئی صحیح صریح دلیل بھی نہیں ملتی ۔اور عبادات کی تعیین بغیر کسی صحیح صریح روایت کے کرنا، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ دیگر نصوص کے بھی خلاف ہو، یہ بہت بڑی جرأت ہوگی ،اسے نیکی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ چیز مستقبل میں بدعت کا روپ دھار سکتی ہے۔ مزید پڑھیے۔۔۔

انسانی فکروعمل میں قلب(دل) کا کردار اور اسلام

انسانی فکروعمل میں قلب(دل) کا کردار اور اسلام

تحریر:طالب ہاشمی

مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ


روزمرّہ گفتگو میں ہم کہتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا یا فلاں کام کو میرا جی چاہ رہا ہے۔ شروع سے مختلف تہذیبوں میں انسان کا یہی طرزِ تکلم چلا آرہا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کے متعدد فرامین اسی سیاق میں موجود ہیں مثلاً سورة الحج میں ہے کہ: آنکھیں اندھی نہیں ہوجاتیں بلکہ وہ دل (بصیرت سے) اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(الایۃ) ایک اور مقام پر یوں ہے ﴿لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِر‌ونَ بِها﴾( سورۃ الاعراف: 179) کہ'' اپنے دلوں سے وہ غوروفکر نہیں کرتے، اپنی آنکھوں سے وہ دیکھتے نہیں...''

قرآن وحدیث میں دلوں کو غور وفکر اور تدبر وبصیرت کی صلاحیت رکھنے والا قرار دیا گیا ہے، یہاں قرآنی الفاظ 'قلب' اور 'فواد' کے باہمی فرق کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس جدید سائنس دل کو محض خون پمپ کرنے والا ایک آلہ ہی قرار دیتی ہیں۔ چنانچہ سائنس کی مرعوبیت کا شکار ہوتے ہوئے بعض اہل علم نے قرآن وحدیث کے اس بیان کو صرف ایک انسانی روزمرہ محاورہ قرار دینے کی بھی جسارت کی ہے، لیکن آج سائنس قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق کررہی ہے کہ دلوں کے اندر بھی غور وفکر کرنے والا عصبی نظام پایا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون سے جہاں قرآن کریم کی حقانیت مترشح ہوتی ہے ، وہاں یہ بھی پتہ چلتاہے کہ ایک مسلمان کو اپنا اعتماد اوایقان قرآن وسنت کے بیانات پر ہی رکھنا چاہئے اور سائنس کے کسی موقف کو حرفِ آخر سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ ح م مزید پڑھیے۔۔۔

اپریل فول اور امت مسلمہ

اپریل فول اور امت مسلمہ

اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے،اور ہر سال نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوںپر فخرکرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔

آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاری کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباء کو بے وقوف بنانے کے لیے مناتے ہیں۔

اپریل فول کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور اسکی تاریخ کیا ہے اسکا اندازہ ذیل کی چند حکایتوں سے ہوسکتا ہے، گو کہ ان قصص کی کہیں سے تصدیق نہیں ہو سکی مگر ہمیں یہ اندازہ ہوجائےگا کہ بحیثیت مسلمان ہم کہاں کھڑے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی حکایت مبنی بر حقیقت ہے یا حقیقت سے کسی قدر قریب بھی ہے تب بھی اپریل فول منانا گویا خود کو طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے۔

کہا جاتا ہے کہ قدیم تہذیبوں کے زمانے میں جن میں ہندومت اورقدیم رومن تہذیب شامل ہے ،نئے سال کا آغاز یکم اپریل یا اسکے قرب وجوارکی تاریخوں میں منایا جاتا تھا،1582ءمیں پوپ جورج ہشتم نے پرانے جولین کیلنڈر کی جگہ ایک نئے جورجین کیلنڈرکے اجراءکا حکم دیا جس کی رو سے نئے سال کا آغاز یکم اپریل کی جگہ یکم جنوری سے ہونا قرارپایا۔ اس سال فرانس نے نیاجورجین کیلنڈر اختیار کرتے ہوئے نئے سال کا آغاز یکم جنوری سے کیا۔ متضاد روایا ت کے مطابق یا توایک کثیر تعداد میں عوام الناس نے اس نئے کیلنڈر کو مسترد کردیا یا بروایت دیگر اس نئے کیلنڈر کی تبدیلی کی اطلا ع بروقت دور دراز کے علاقے کے لوگوں تک نہ پہنچ سکی جس کی بناءپر وہ نیا سال پرانے کیلنڈر کے مطابق ہی یعنی یکم اپریل کو مناتے رہے۔ اس موقع پر جدت پسندوں نے قدامت پسندوں کا مذاق اڑانے کے لیے یکم اپریل کو انہیں بے وقوف بنانے اور جھوٹی باتوں پر انکا یقین پختہ کرنے کے لیے انہیں جھوٹے پیغامات اور نئے سال کی ایسی تقریبات کے دعوت نامے بھیجنا شروع کر دئے جنہیں سرے سے منعقد ہونا ہی نہیں تھا۔ اسطرح یہ رسم سارے یورپ میں یکم اپریل کو جھوٹ بول کر لوگوں کو بےوقوف بنانے کے حوالے سے پھیل گئی۔

اس سلسلے کا ایک دوسرا واقعہ مسلمانوں کے دورِ اسپین سے متعلق ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اسپین میںتقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی، اس دوران عیسائیوں نے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کرنے اور اسلام کی جڑوں کو اسپین سے اکھاڑ پھینکنے کی بےشمار کوششیں کیں مگر اپنی کسی بھی کوشش میں ان کو کامیابی نصیب نہ ہوئی،انہوں نے اپنی پے درپے ناکامیوں اور مسلمانوں کی طاقت اور قوت کے اسباب جاننے کے لیے اسپین میں اپنے جاسوسوں کو بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کے ناقابل شکست ہونے کا راز پا سکیں،انہوں نے اپنے آقاوں کو یہ رپورٹ دی کہ چونکہ مسلمانوں میں تقوی موجود ہے اور وہ قرآن اور سنت کی مکمل اتباع کرتے ہیں اور حرام اور منکرات سے بچتے ہیں اس لیے وہ ناقابل شکست ہیں۔ جب انہوں نے مسلمانوں کی طاقت کا راز پا لیا تو اپنی ساری ذہنی قوت اس بات پر خرچ کردی کہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو انکی اس روحانی طاقت سے محروم کردیا جائے، اس کے لیے انہوں نے یہ حکمتِ عملی وضع کی کہ شراب اور سگریٹ کی مفت ترسیل اسپین کو شروع کر دی، انکی یہ ترکیب کامیاب رہی اور ان اشیاءکے استعما ل کی وجہ سے مسلمانوں میں اخلاقی کمزوریا ں نمایاں ہونے لگیں خصوصاً مسلمانوں کی نوجوان نسل اس سازش کا سب سے زیادہ شکار ہوئی،مسلمان اخلاقی تنزلی کا شکار ہوکر کمزور پڑ گئے اور عیسائیوں کو انکے دیرینہ خواب کی تعبیر مسلمانوں کی اسپین سے بے دخلی کی صورت میںمل گئی، اسپین میں مسلمانوں کی طاقت کے آخری سرچشمے یعنی غرناطہ کا عیسائی افواج کے ہاتھوں زوال یکم اپریل کو ہوا اس لیے وہ اس دن کو اسپین کو مسلمانوں سے آزادی کا دن قرار دیتے ہیں اور چونکہ انکے خیال میں مسلمانوں کو شکست انکی چالاکی اور دھوکہ دہی کے نتیجے میں ہوئی تھی اس لیے وہ یکم اپریل کو فول ڈے کے طور پر مناتے ہیں۔

اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اپریل فول کاشکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہوکرہمیشہ کے لیے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہوجاتے ہیں ، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور کتنے خوش وخرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہوجاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے۔

مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔

جھوٹ نفاق کی نشانی ہے اور اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم  نے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ آپ صلى الله عليہ وسلم کے فرمان کے مطابق جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے یا خاموش رہے، مزید براں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے اس شخص پرخصوصی طور پر لعنت فرمائی ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں ہنساتا ہے۔ آج کل لوگ مزاح کے نام پر انتہائی جھوٹ گھڑتے ہیں اور لوگوں کو جھوٹے لطائف سنا کر ہنساتے ہیں ۔ آپ صلى الله عليہ وسلم  کے ان اقوال مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول جیسی باطل رسوم وروایات کو اپنانے اور ان کا حصہ بن کر لمحاتی مسرت حاصل کرنے والے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کر کے وہ غیر مسلم مغربی معاشرے کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں جس کی رو سے لوگوں کو ہنسانے،گدگدانے اور انکی تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے جھوٹ بولناانکے نزدیک جائز ہے جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم  کے فرمان کے مطابق جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں تفریح فراہم کرنااور ہنسانا سخت موجبِ گناہ ہے۔

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے لیے اپریل فول یا اس سے مشابہت رکھنے والے کسی بھی غیر اسلامی اور غیر شرعی تہوار اور مشرکانہ رسوم کا منانا ناجائز اور حرام ہے اور یہود و نصاری کی مشابہت اختیار کرنے کے مترادف ہے

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح اسلامی تعلیمات پر چلنے اور اسلامی شعائر کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہود و نصاری کی اندھی تقلید سے محفوظ ومامون رکھے۔ آمین

 

مزید پڑھیے۔۔۔

علامہ ظہیر ؒ …… فطری صلاحیتوں کا حامل لیڈر

علامہ ظہیر رحمہ اللہ …… فطری صلاحیتوں کا حامل لیڈر

تحریر: سید عامر نجیب

شہیدِ اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ

ایک ایسا لیڈر جس نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا اور بلند مقاصد سے آشنا کر کے قوم کے افراد کو گھروں سے نکال کر میدان میں لاکھڑا کیا۔

قوموں کی بد قسمتی کا نکتہ عروج ایسی قیادت کا مسلط ہونا ہو تا ہے جو اپنی کم ہمتی، بزدلی اور نا اہلی کے باعث قوموں کو سر بلندی کے خوابوں سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ احساس کمتری کی ماری ایسی قیادتیں اپنی بقا کے لیے صرف اس بات کی محتاج ہو تی ہیں کہ قوم انتشار کا شکار ہو، حقیر مقاصد کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو، شعورو آگہی کا کوئی دروازہ ان پر نہ کھلنے پائے، جرأت و بہادری کی کوئی آواز بلند نہ ہو سکے ، جماعت انکے گھر کی لونڈی بنی رہے اور وہ خود سیاست کے بازاروں میں قوم کا سودا کر کے اپنے مفادات سمیٹتے رہیں۔ نا اہل قیادت کبھی قوم کو جرأت و بہادری کا سبق نہیں دیتی اور نہ ہی بڑے مقاصد اور مشکل اہداف قوم کے سامنے رکھتی ہے۔ ڈھیلی قیادت کی کوشش ہو تی ہے کہ قوم اپنے عزائم ، ارادوں اور جدوجہد کے اعتبار سے ڈھیلی بنی رہے۔ ایسی قیادت سر گرم، فعال اور چوکس بھی ہو تی ہے لیکن قومی مقاصد کے لیے نہیں اپنی قیادت کے تحفظ کے لیے ۔ ایسی قیادتوں کو اگر اپنی بر قراری کا کوئی چیلنج در پیش آجائے پھر ان سے زیادہ ہو شیار، حالات کو سمجھنے والا، بر وقت اقدام کر نیوالا بڑے فیصلے کرنے والا اور قوم کے افراد کو میدان میں نکالنے والا بھی کوئی نہیں ہو تا۔ یہ اپنی قیادت کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف ترکش کے تمام تیروں کے ساتھ صف آراء ہوجاتے ہیں۔ جنھوں نے کبھی قومی مقاصد کے لیے بڑا جلسہ نہیں کیا ہو تا وہ بڑ ا جلسہ کر گزرتے ہیں۔ جنھوںنے کبھی جماعت کے لیے میڈیا سیل کی ضرورت محسوس نہیں کی ہوتی وہ میڈیا سیل کو فعال کرنے پر توجہ دینے لگتے ہیں جو کبھی فعال کارکنان کو منہ نہیں لگاتے تھے ان پر یکدم مہربان ہوجاتے ہیں جنھیں کبھی یہ فکر دامن گیر نہیں ہو تی تھی کہ قوم سوئی ہو ئی ہے علاقائی اور ضلعی نظم غیر فعال ہیں وہ یکدم تنظیمی و جماعتی دوروں پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کاش رد عمل کی یہ فعالیت بڑے نتیجے دے سکتی۔ قوم کے استحکام اور ترقی کا باعث بن سکتی۔ افسوس رد عمل کی فعالیت بد نیتی کے باعث نا پائیدار اور غیر مؤثر ہو تی ہے۔ ایسی فعالیت سے قوم میں کوئی استحکام نہیں آتا حقیقی بیداری کی کوئی لہر پیدا نہیں ہوتی۔ ایسی قیادتیں اپنے لیے خطرہ بننے والے فرد یا گروہ کے لیے انتہائی سفاک اور بے رحم بھی بن جاتی ہیں۔ جنھوں نے کبھی اپنی قوم کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی زحمت نہیں کی ہو تی وہ اپنی قیادت کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف اپنا تمام اثرو رسوخ استعمال کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ ایسی قیادتوں کو تاریخ اپنے صفحات میں جگہ نہیں دیتی ہاں تاریخ انھیں ایک صورت میں یاد رکھتی ہے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ جیسا کوئی ہیرو انکے دور میں جنم لے اور انھیں قیادت کے تحفظ کی کشمکش سے دو چار کر دے اور وہ تاریخ میں اس طور پر یاد رکھے جائیں کہ علامہ ظہیر ؒ جیسے شیر کو انھوںنے اپنے پنجرے میں قید کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ گویا تاریخ میں انکا حوالہ انکی اپنی شخصیت نہیں بلکہ علامہ ظہیر ؒ کی شخصیت بن جائے۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ نے جس دور میں آنکھ کھولی اس وقت جماعت اہلحدیث مولانا دائود غزنوی ؒ کی علمی، تحریکی اور سیاسی قیادت سے محروم ہو چکی تھی۔ برصغیر میں اہلحدیث کے عروج و ترقی کا جو سفر میاں نذیر حسین محدث دہلوی ؒ کی فروغ علم حدیث کی تحریک سے شروع ہوا تھا وہ زرا دھیما اور تھما ہوا محسوس ہو تا تھا۔ ماضی کی اہلحدیث قیادت انتہائی بابصیرت اور سخت جان واقع ہوئی تھی۔ انگریزوں نے ریاستی طاقت کے ذریعے اہلحدیث کو مسلمانوں میں اچھوت بنانے کی کوشش کی ایک ایسی سازش کا مقابلہ کرنا جسکی پشت پر ریاستی طاقت ہو کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اس دور میں اہلحدیث قیادت نے دعوت و تبلیغ سے لیکر سیاست تک تمام محاذوں پر بھر پور صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ مناظروں اور تبلیغی جلسوں کے اسٹیج پر علمائے اہلحدیث باطل مذاہب اور گمراہ فرقوں کے عقائد کے بخیے ادھیڑ تے تھے اور دوسری طرف سیاسی جلسوں کے میدان میں اہلحدیث سیاسی قیادت اپنے عوام کو منظم رکھنے کی سعی کر رہی تھی تصنیف و تالیف کا محاذ بھی گرم تھا اور گلی محلوں میں دعوت و تبلیغ بھی جاری تھی بہت سی کوتاہیوں کے باوجود مجموعی طور پر جماعت ترقی ہی کی طرف گامزن تھی اہلحدیث قیادت نے اس دور میں نہ صرف سازشوں کو ناکام بنایا بلکہ ہر میدان میں قابل ذکر کا ر کر دگی کا مظاہرہ کیا تاہم جب مولانا دائود غزنوی ؒ کی وفات کے بعد جماعت پر علمی رسوخ، تحریکی جوش اور سیاسی بصیرت رکھنے والی قیادت کی جگہ روایتی قیادت مسلط ہو گئی تو گویا شاہین کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں آگیا تحریک کی جگہ جمود نے لے لی تمام محاذ ٹھنڈے پڑنے لگے۔ انفرادی انفرادی طور پر اہلحدیث شہسوار اگر چہ مناظروں، خطابت، تصنیف و تالیف اور تعلیم و تدریس کے میدانوں میں سر گرم تھے لیکن جماعت کی مجموعی کار کر دگی اس قدر غیر اطمینان بخش تھی کہ کارکنان میں مایوسی انتشار اور بد دلی کا سبب بننے لگی۔ جماعت کی سیاسی شناخت بھی اس حد تک کمزور پڑ چکی تھی کہ قومی سطح کے اتحادوں میں اسے پوچھا نہیں جا تا تھا۔ پسماندگی اور تاریکی کے ایسے دور میں جماعت کے افق پر علامہ ظہیر ؒ جیسا روشن ستارہ نمو دار ہوا۔ جو نہ موروثی لیڈر تھا اور نہ مصنوعی اور خود ساختہ قائد بلکہ اسکی شخصیت فطری طور پر قائدانہ اوصاف کی حامل تھی۔ دینی غیرت و حمیت سے لبریز ، کام کے جنون میں مبتلا ء جوش اور جذبہ ٔ قربانی سے سر شار، سیاسی شعور و بصیرت کا حامل، ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے خواہشمند ، پُر اعتماد و پر عزم، سخت جان و مہم جو، گہرے دینی و دنیاوی علوم سے مسلح، مقناطیسی شخصیت کے حامل، بے داغ و مضبوط کر دار، جرأتمند و بہادر، سخی و فیاض مشاور ت پسند، حق گو مصلحت و مداہنت سے گریزاں، سیاسی و مذہبی خطابت کا بادشاہ اور تصنیف و تالیف کا شہسوار ، جسکی خطابت میں ادب کی چاشنی اور تحریر میں خطیبانہ جلال تھا۔ علامہ ظہیر ؒ ایسی ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت جو ایسے درجنوں شخصی اوصاف کی مالک تھی جو اگر کسی میں ایک آدھ بھی ہو تو اسے ممتاز بنا دیتا ہے۔

علامہ ظہیر ؒ نے اپنے آپ کو خود اپنے ارادے کے تحت نفاذ اسلام کی جدوجہد کی بھٹی میں اتارا جہاں خطرات و خدشات ، تکالیف ومصائب ، لالچ و دھمکیاں اور گھٹیا پروپیگنڈے اور الزام تراشیوں کی آگ بھڑک رہی تھی ۔ علامہ ظہیر ؒنے میدان عمل میں اپنی صلاحیتوں اور اعلیٰ اوصاف کو ثابت کیا۔ اہلحدیث کی سیاسی طاقت کی تشکیل سے لیکر نفاذ اسلام کی طاقتور تحریک تک، جماعتی سر گرمیوں میں عوام اہلحدیث کو سر گرم کرنے سے لیکر سیاسی جدوجہد کے میدان میں انھیں اتارنے تک علامہ ظہیر ؒ کی قائدانہ صلاحیتیں اظہر من الشمس ہیں۔ علامہ صاحب ملک کے صف اول کے رہنمائوں میں شمار کئے جاتے تھے اور علامہ کی جماعت ہم عصر تمام مذہبی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ کر سیاست کے میدان کی مقبول ترین مذہبی جماعت بن گئی تھی۔

علامہ ظہیر ؒ ایک ویژنری قائد تھے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا میں قرآن و سنت پر مبنی حقیقی اسلام کے فروغ اور فرقہ وارانہ اسلام جو شرک و بد عات اور گمراہی سے آلودہ تھا اسے پسپا اور مغلوب کرنے کے لیے کوشاں تھے انھوں نے اپنی تحریر و تقریر کو انھیں اہداف پر فوکس کیا اور اپنے تمام سیاسی قد کا ٹھ اور عالمی اثرو رسوخ کو انھیں مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ علامہ ظہیر ؒ دین اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنما سمجھتے تھے نہ وہ اسقدر تنگ نظر تھے کہ ’’چاندنی‘‘ کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں ‘‘ اور نہ اس قدر آزاد خیال کہ دین اسلام کی پابندیاں گراں گزر یں۔ وہ ایک راسخ العقیدہ ، با عمل اور با اخلاق مسلمان تھے۔ سیاست کی نیر نگیوں کے درمیان اپنے کر دار کو داغ دھبوں سے بچانا تقوے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ میں نے ملک کے ممتاز سیاستدان جناب جاوید ہاشمی صاحب سے علامہ صاحب کی شخصیت کے بارے میں انکی رائے جاننے کے لیے سوال کیا تو انھوں نے علامہ صاحب کے پاکیزہ کر دار کی گواہی دی۔

بد قسمتی سے علامہ صاحب پر لکھنے اور بولنے والے نا دانستگی میں انھیں انڈر ا سٹیمیٹ کر جاتے ہیں عام طور پر انھیں ایک بہت بڑے عالم اور عظیم خطیب کے طور پر پیش کیا جا تا ہے اور تحریروں اور تقریروں میں ان ہی اوصاف کو اجاگر کیا جا تا ہے حالانکہ علامہ صاحب نظریاتی و تحریکی لیڈر تھے آپ کی زندگی نفاذ اسلام کی سر گرم جدوجہد سے عبارت تھی آپ غلبہ اسلام کی عالمی تحریکوں کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھتے تھے۔ علامہ صاحب کے افکار و نظریات آج بھی منہج سلف پر کار بند جماعتوں کے لیے عصر حاضر میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ علامہ کی شخصیت میں قائدانہ اوصاف جمع تھے آپ ایک با کر دار سیاستدان اور بے داغ شخصیت کے مالک عظیم لیڈر تھے۔ علامہ صاحب کی جدوجہد اور افکار یہ وہ موضوعات ہیں کہ جن پر لکھا جانا اور بولا جانا چاہئے انکی سوانح محض ایک عالم اور خطیب کی سوانح نہیں ایک لیڈر اور اسلامی انقلاب کے ایک مجاہد کی سوانح ہے ایک ایسا لیڈر جس نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا اور جس نے بلند مقاصد سے آشنا کر کے قوم کے لوگوں کو گھروں سے نکال کر میدان میں لا کھڑا کیا۔ اب جبکہ جماعت کے با صلاحیت افراد مایوسی کے عالم میں میدانوں سے گھروں کا رخ کر رہے ہیں بہت ضروری ہے کہ علامہ ظہیر ؒ کی جدوجہد اور افکار کو اجاگر کیا جائے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔
Previous
اگلا

 

آج اگر امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی بات کی جائے تو وہ ذاتی زندگی سے متعلق بھی ہیں اور اجتماعی نظم سے بھی انفرادی زندگیوں میں بھی بے شمار کو تاہیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور معاشرتی سطح پر بھی کمزوریاں بڑھتی چلی جارہی ہیں عوام کو بھی اپنی اصلاح کی فکر کرنی ہے اور حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان امور کی نشاندہی کی جائے جو ہمارے مسائل ومشکلات ،بگاڑ وفساد اور زوال وانحطاط کا اصل سبب ہیں۔ جب عوام وخواص ،رعایا اور حکمران ،فرد اور معاشرہ سب اپنی کمزوریوں اور ذمہ داریوں کا احساس وادراک کر کے ان اسباب کے ازالے کی فکر کریں گے تب کہیں بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہوں گے۔ان شاءاللہ

ایمان محکم ،عمل ِ صالح ،خوف الٰہی اور فکرآخرت :

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے اپنے معاشرے کی اصلاح کی اور کن بنیادوں پر صحابہ کرام کو کھڑا کیا کہ وہ زمانے کے مقتداءوپیشوا بن گئے۔ایک ایسا معاشرہ جو جہالت اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،جہاں قتل و غارتگری کا رواج تھا ، وہ لوگ راہ راست سے اس حد تک بھٹکے ہوئے تھے کہ کو ئی ان پر حکمرانی کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے آقاﷺ نے اس معاشرے کا نقشہ ہی بدل دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاشرے کو ایمان محکم ،عمل صالح ، خوفِ الٰہی اور فکرآخرت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں کہ جن کی وجہ سے پورا معاشرہ یکسر بدل گیا وہ لوگ جو پہلے قاتل اور لٹیرے تھے وہ زمانے کے مقتداء اور پیشوا بن گئے۔ان کا معاشرہ جنت کا نمونہ بن گیا ،وہ قیصر وکسری ٰ جیسی عالمی طاقتوں سے ٹکرا کر فاتح ٹھہرے۔ ہمارے حکمرانوں کا معاملہ ہو یا عوام کا،انفرادی زندگیاں ہوں یا اجتماعی نظم یقین محکم کی قوت ،کردار وعمل کی طاقت، خوف الٰہی کا زاد ِ راہ اور فکرآخرت کی دولت سے ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر محروم ہوگئے۔جب ہمارے پاس ایمان ویقین کی بنیاد اور اخلاص پر مبنی جذبہ ہی نہیں ،کردار وعمل کے اعتبار سے ہم کمزور ہوگئے ، محاسبہ کی فکر سے آزاد ہوگئے ،مرنے کے بعد کی زندگی کو بھول بیٹھے تو یہ وہ پہلی اینٹ ہے جو غلط رکھ دی گئی اس اینٹ کو جب تک صحیح نہیں کیا جائے گا اور ان چار بنیادوں پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو لانے کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک اصلاحِ احوال کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

 وھن کی بیماری:
اس وقت امت مسلمہ مسائل و مشکلات کے جس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ،ہر طرف ظلم و ستم کی آندھیاں زوروں پر ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے ،ہر آنے والا دن گزرے دن سے زیادہ مصائب و آلام لے کر طلوع ہوتا ہے ۔دشمن اہل ایمان کو کاٹ کھانے اور صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کے لیے بھوکوں کی طرح امت مظلومہ پر ٹوٹا پڑ رہا ہے اس صورت حال سے نہ صرف یہ کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت پہلے خبردار کر دیا تھا بلکہ اس زوال و انحطاط کی وجہ بھی بتادی تھی کہ جب امت” وھن“ کی بیماری میں مبتلا ہو جائے گی یعنی دنیا سے محبت کرنے لگے گی اور موت کی ناپسندید گی کا شکار ہو جائے گی تو پھر اس قسم کے حالات سے دوچار ہو جائے گی اس وقت ہمیں امت مسلمہ میں یقین محکم ،عمل صالح ،خوفِ الہٰی اور فکر آخرت کا شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی نظم اور اپنے دل ودماغ سے وھن کی بیماری کو یعنی دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کو ختم کردیں کیونکہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، موت کی ناپسندیدگی بزدلی اور غیروں کی غلامی کا سبب بنتی ہے۔جب ہم اس بیماری سے نجات پاجائیں گے تو اس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ان شااللہ

 اتحادو اتفاق کا فقدان:
اس وقت امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی ایک بڑ ی وجہ اتحادواتفاق کا فقدان ہے۔ہمارے ہاں مذہبی بنیادوں پر ،مسلکی بنیادوں پر ،علاقائی بنیادوں پر اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کے ایسے بیج بوئے گئے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل تیار ہے۔دشمن نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ پالیسی کے تحت ہمیں یوں آپس میں دست وگریباں کیا کہ ہمارے مابین دوریوں کی خلیج حائل ہو گئی اور امت کا شیرازہ بری طرح بکھر کر رہ گیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کے جن کلموں کو بدبودار باتیں کہہ کر چھوڑنے کا حکم دیا تھا انہی چیزوں نے اس امت واحدہ کو بانٹ رکھا ہے۔ ہمارے مسلکی اختلافات مخالفت اور تشدد کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور پھر نہ ختم ہونے والے فساد اور انتشار کا دروازہ کھل جاتا ہے۔اگر آج مسلکی ہم آہنگی ،عصبیت کے خاتمے ،علاقائی اور لسانی تفریق کو مٹانے اور جدید و قدیم کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جائے کوئی وجہ نہیں کہ مسائل ومشکلات ہمیں یوں ہی گھیرے رکھیں اور اگر آج ہم نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک پھیلی ہوئی اسلامی دنیا کو اتحادو اتفاق کی لڑی میں پرونے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے پر آمادہ کر نے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارا مقدر یقیناً بدل سکتا ہے۔آج اگر یورپی یونین کی شکل میں یورپی ممالک کا بلاک موجود ہے ،افریقی ممالک آپس میں معاہدے کر کے ایک قوت بن سکتے ہیں ،سارک ممالک اکٹھے ہوسکتے ہیں تو اسلامی دنیا مشترکات پر اکھٹی ہو کر اپنا ایک بلاک بنا لینے کی ہمت کیوں نہیں کرتی ؟یا د رکھئے جب تک اس پہلو پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک ہماری پریشانیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی رہیں گی۔

 

مزید پڑھیے

By A Web Design

اسلامی بینکاری شرعی میزان

islamic banking

urdu-font